820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 15)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

انمول اور ابتسام رات کے دس بجے دائم کے گھر موجود تھے۔۔۔ وہ لوگ دائم کے یہاں شادی کی بات کرنے آئے تھے۔

دائم فہد ایک ڈیڑھ ماہ میں شادی کرنا چاہتا ہے اور انمول بھی۔۔۔ ابتسام نے دائم کو مخاطب کرتے کہا۔

مگر یہ کچھ زیادہ ہی جلدی نہیں ہے۔۔۔ دائم نے حیرت سے استفسار کیا۔

کوئی جلدی نہیں ہے۔۔۔ انمول نے سکون سے کہا۔

کیا تم لوگ لڑکے سے مل چکے ہو۔۔۔ ماہی چائے کی ٹرے ٹیبل پہ رکھتی پوچھنے لگی۔

نہیں۔۔۔ انمول نے چائے کا کپ اٹھاتے پھر سے سکون سے کہا۔

بغیر لڑکے سے ملے شادی کیسے پکی کر سکے ہیں۔۔۔ ماہی جتنا حیران ہوتی انکا کم تھا۔۔۔ مطلب وہ لوگ لڑکے سے ملے بھی نہیں تھی اور اسے اپنی لڑکی دینے کو تیار ہوگئی تھی۔

یہ کافی نہیں ہے کہ وہ فہد کا بیٹا۔۔۔ اور ویسے بھی ہم جب اسکے گھر گئے تھے جب لڑکے کو تصویر میں دیکھ لیا تھا بہت اچھا تھا ۔۔۔ اور وہ پولیس والا بھی ہے تو یقیناً اس میں کوئی برائی بھی نہیں گی۔۔۔ انمول چائے کا سپ لیتی انہیں بتانے لگی۔

مگر پھر بھی۔۔۔ ماہی ابھی تک صدمے میں تھی۔

میں نے لڑکے کے بارے میں پتہ کروایا ہے۔۔۔ اسکا سارا ریکاڈ بلکل صاف ستھرا ہے۔۔۔ مجھے بھی لڑکے میں کوئی برائی نہیں دیکھی ۔۔۔ باقی تم لوگ اتوار کو آجانا میں فہد کو بھی بول دوں گا وہ اپنے بیٹے کو بھی ساتھ لے آئے گا ۔۔۔ پھر سب ساتھ بیٹھ کے شادی کی تاریخ رکھ لیں گے۔۔۔ ابتسام نے رسان سے کہا تو دائم نے اسکی بات سے اتفاق کیا تھا۔

شادی چاہے جلدی ہو یا دیر سے شادی تو کرنی ہی تھی اس لیئے دائم اور ماہی کو بھی جلدی شادی پہ کوئی اعتراض نا تھا۔

۔🌺🌺🌺

(دو دن بعد)

دامل۔۔۔۔ فہد دامل کے کمرے میں داخل ہوتے اسے صوفے پہ لیپ ٹاپ لیئے بیٹھے دیکھ اسکے ساتھ ہی آ بیٹھا۔

جی ڈیڈ۔۔۔ وہ لیپ ٹاپ سے ایک نظر ہٹا کے اسے دیکھتا واپس نظریں لیپ ٹاپ پہ مرکوز کرگیا۔

تمہارے سسر کا فون آیا تھا انہوں نے ہمیں آج بلایا ہے گھر پہ شادی کی تاریخ رکھنے کے لیئے۔۔۔ فہد نے آرام سے بتایا۔

آپ چلے جائیں ڈیڈ مجھے تو کام ہے۔۔۔ وہ مصروف انداز میں بولا۔

بیٹا اسنے تمہیں بھی بلایا ہے وہ لوگ تم سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔ فہد نے پیار سے سمجھایا تو وہ انکار نا کر سکا۔

اوکے لیکن ہم زیادہ دیر نہیں رکھیں گے۔۔۔ دامل نے ہامی بھرتے کہا تو فہد نے مسکراتے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔

شاباش!!!! اب جلدی سے پھر تیار ہو جاؤ کچھ دیر تک نکلتے ہیں۔۔۔ فہد کے کہنے پہ وہ ہاں میں سر ہلا گیا تو فہد کمرے سے نکلنے کے لیئے کھڑا ہوگیا۔

ڈیڈ۔۔۔ دامل نے لیپ ٹاپ بند کرتے اسے پکاہ تو وہ جاتے جاتے رکا۔

ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ نے دادا جان کو بتایا کہ آپ میری شادی کر رہے ہیں۔۔۔ دامل جانتا تھا کہ اسکا باپ اپنے باپ سے بات نہیں کرتا ۔۔۔ اسنے بہت بار پوچھنے کی بھی کوشش کی تھی فہد سے کہ ایسا کیا ہوا ہے جو وہ دلاور خان سے بات نہیں کرتا لیکن فہد نے اسے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔۔۔ اسنے اپنے دادا سے بھی پوچھنا چاہا لیکن وہ بھی اس بات کو نظر انداز کر دیتے تھے۔۔۔ جس کے بعد دامل نے بھی پوچھنا چھوڑ دیا تھا۔۔۔ لیکن اب تو اسکی شادی ہو رہی تھی تو کیا اب بھی اسنے اپنے باپ کو بتایا تھا یا نہیں یہ دامل کو جاننا تھا۔

میں نے انہیں کچھ نہیں بتایا ہے اور شادی ہو جانے تک تم بھی انہیں کچھ نہیں بتاؤ گے۔۔۔ فہد نے سنجیدگی سے کہا۔

تو کیا آپ انہیں میری شادی میں نہیں بلائیں گے۔۔۔ دامل نے چونک کے پوچھا۔

نہیں۔۔۔ سرد لہجے میں اک لفظی جواب آیا۔

مگر کیوں وہ آپ کے بابا ہیں اور میرے دادا ۔۔۔ کیا آپ ایک دادا کو انکے پوتے کی شادی میں نہیں بلائیں گے۔۔۔ دامل لیپ ٹاپ صوفے پہ رکھتے اسکے سامنے آتے پریشانی سے بولا۔

دامل میں نے جتنا کہنا تھا کہہ دیا ہے اب تم جاؤ تیار ہو جاؤ ہمیں نکلنا ہے وردہ کے گھر کے لیئے۔۔۔۔ فہد بات ختم کرتے جانے لگا لیکن دامل کی اگلی بات سنتے اسکے قدم پھر رکے۔

ڈیڈ آخر ایسی کیا بات ہے جو آپ دادا جان کو ایسے ٹریٹ کرتے ہیں۔۔۔ آپ انہیں میری شادی میں نہیں بلانا چاہتے ۔۔۔ انہیں میری شادی کا نہیں بتانا چاہتے ۔۔۔ زرا سوچیں آگر انہیں بعد میں میری شادی کا پتہ چلے گا تو انہیں کتنا دکھ ہوگا۔۔۔ دامل نے ایک آخری کوشش کی اسے سمجھانے کی۔

دکھ دینے والوں کو کبھی دکھ نہیں ہوتا۔۔۔ خیر تم یہ ساری باتیں چھوڑو اور تیار ہو جاؤ۔۔۔ فہد گہری سانس بھر کے کہتا لمبے لمبے قدم اٹھاتے کمرے سے نکل گیا جب کے دامل اب لاتعداد سوچوں میں چلا گیا تھا۔۔۔

وہ آخر کہنا کیا چاہتے تھے ۔۔۔ انکی بات کا کیا مطلب تھا ۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔ اور نا ہی وہ کچھ کر سکتا تھا اس لیئے سر جھٹکتے الماری کی جانب بڑھ گیا۔

۔🌺🌺🌺

انمول کے گھر پہ آج کافی رونق میلا لگا ہوا تھا۔۔۔۔ آج بسام اور وردہ کی شادی کی ڈیٹ فکس ہورہی تھی تو انمول نے سب کو ہی بلا لیا تھا۔

اس وقت اسکے گھر پہ حماد اور دائم دونوں اپنی اپنی فیملیز کے ساتھ موجود تھے۔۔۔ سوائے تحریم کے جو طبیعت کا بہانا بنا کے گھر پہ ہی رکھ گئی تھی۔۔۔ جب کہ اصل وجہ تو یہ تھی کہ اسے شرم آرہی تھی اب یہاں آنے سے۔

سیف بسام اور حنان نیچے کارپیٹ پہ بیٹھے لوڈو کھیل رہے تھے جب کے باقی سب اوپر صوفے پہ بیٹھے باتوں میں مگن تھے۔

نور کے گھر والوں کا فون آیا۔۔۔ ابتسام نے باتوں کے دمیان پوچھا۔

نہیں ابھی تک تو نہیں آیا ۔۔۔ اور شاید ان لوگوں کے یہاں کسی کا انتقال ہو گیا ہے نور بھی کچھ دنوں کی چھٹی لے کے گئی ہے۔۔۔ دو تین دن گزر جائیں پھر سوچ رہا ہوں میں خود ہی فون کر کے پوچھ لوں۔۔۔۔ حماد نے تفصیل سے بتایا۔

اسلام و علیکم۔۔۔ کوئی کچھ اور کہتا اس سے پہلے ہی فہد اور دامل سلام کرتے کاؤنچ میں داخل ہوئے۔

وعلیکم اسلام۔۔۔ ہم لوگ تمہارا ہی انتظار کررہے تھے۔۔۔ انمول انکے استقبال کے لیئے فورن کھڑی ہوئی۔

دامل نے جیسے ہی انمول کو دیکھا اسے لگا جیسے اسنے پہلے بھی انمول کو کہیں دیکھا ہے لیکن پھر اپنا وہم سمجھ کے سر جھٹک گیا۔۔۔۔ جب کہ اسے روبرو دیکھ کہ انمول کا بھی یہی حال تھا لیکن خوشی کے مارے اسے کچھ یاد کرنے کا ٹائم ہی نہیں مل رہا تھا۔

بس تھوڑی سی دیر ہوگئی خیر آپ سب اس سے ملیں یہ میرا بیٹا A.S.P دامل خان۔۔۔ فہد نے مسکراتے ہوئے فخر سے دامل کا تعارف کروایا۔

ماشاءاللہ یہ تو تصویر سے زیادہ پیارا ہے۔۔۔ انمول نے کھلے دل سے تعریف کی۔

ہائے میں بسام ہوں آپ کا سالا۔۔۔۔ بسام نے کھڑے ہوتے اس سے ہاتھ ملاتے اپنا تعارف کروایا تو اسنے دھیرے سے مسکرا کے سر ہلا دیا۔

باری باری سب نے دامل اور فہد سے ہاتھ ملاتے اپنا اپنا تعارف کروایا۔

آؤ بیٹھو۔۔۔ ابتسام نے بیٹھنے کا کہا تو وہ لوگ دائم کے برابر والے صوفے پہ بیٹھے گئے۔

اور بیٹا کیا چل رہا ہے آج کل۔۔۔۔ ابتسام نے مسکرا کے پوچھا۔

کچھ نہیں انکل۔۔۔ بس ہم پولیس والوں کی لائف میں کیس ہی ہوتے ہیں جنہیں ہم حل کرتے رہتے ہیں۔۔۔ دامل نے بھی رسان سے جواب دیا۔

وردہ نظر نہیں آرہی۔۔۔ وردہ کی غیر موجودگی محسوس کرتے فہد نے پوچھا۔

وہ اپنی دوستوں کے ساتھ ملک سے باہر گھومنے پھرنے گئی ہے۔۔۔ انمول نے بتایا تو اسنے سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا۔

اب شادی کی تاریخ ڈیسائڈ کر لیتے ہیں۔۔۔۔ انمول نے اکسائٹمنٹ سے کہا۔۔۔تو اسکا جوش دیکھتے سب مسکرا دیئے۔

اگلے ماہ کی بارہ تاریخ رکھ لیتے ہیں۔۔۔ اچھا ہے بیچ میں ایک مہینہ مل جائے گا اچھے سے شوپنگ بھی ہو جائے گی۔۔۔ دائم نے مشورہ دیا۔۔۔ جو سب کو ہی ٹھیک لگا تھا۔

نہیں انکل اصل میں مجھے اگلے مہینے دس سے پندرہ تاریخ تک ایک ضروری کیس کے سلسلے میں شہر سے باہر جانا ہے تو یا تو آپ لوگ شادی دس تاریخ سے پہلے رکھ لیں یا پندرہ تاریخ کے بعد۔۔۔ دامل نے اپنا مسئلہ سامنے رکھتے حل بھی بتایا۔۔۔ وہ آج کل شیرخان کے کیس پہ کام کر رہا تھا جس کے سلسلے میں اسے اکثر ہی کہیں نا کہیں جانا پڑ رہا تھا۔

تو پھر ہم پندرہ کے بعد کی کوئی تاریخ رکھ لیتے ہیں۔۔۔ ابتسام نے کہا تو انمول نے فورن نا میں سر ہلایا۔

کیا آپ لوگوں نے سنا نہیں ہے کل کرے سو آج کر، آج کرے سو اب، اور اب کرے سو ابھی ابھی۔۔۔ انمول نے کہاوت کہی ۔

انو ابھی ابھی شادی کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔ حماد نے حیرت سے استفسار کیا۔

اففف حماد بھائی میں کب کہہ رہی ہوں کے ابھی کرنی ہے۔۔۔ انمول نے ماتھے پہ ہاتھ مارا۔

ابھی تو کہا آج کرے سو ابھی ابھی۔۔۔ حماد نے اسے اسکی کہی بات یاد دلائی

میرے کہنے کا مطلب ہے ہم پندرہ بیس دن کے بعد شادی کر لیتے ہیں مطلب آج تاریخ ہے چار اور ہم مہینے کے آخر مطلب پچیس چھبیس کی رکھ لیتے ہیں شادی اس میں کون سا مسئلہ ہے۔۔۔ انمول نے فون میں تاریخیں دیکھتے مسئلے کا حل نکالا۔

مگر اتنی جلدی تیاریاں کیسے ہوں گیں۔۔۔۔ ماہی نے فکرمندی سے ہوچھا۔

فہد کیا تم ہم سے جہیز لو گے۔۔۔ انمول نے فہد کو دیکھتے پوچھا جس نے فورن نا میں سر ہلادیا۔۔۔ جب کے ابتسام نے تو اپنا سر پکڑ لیا تھا مطلب ایسے کون پوچھتا ہے۔۔

لو فہد نے منا کر دیا وہ ہم سے جہیز نہیں لے گا اور ہم تم لوگوں سے نہیں لیں گے۔۔۔رہ گئے کپڑے وغیرہ اسکی تیاری تو دس دن میں بھی ہو سکتی ہے۔۔۔ اس لیئے ہم شادی میری بتائی ہوئی تاریخ پہ ہی کریں گے۔۔۔ انمول نے اپنی بات پہ زور دیتے سب کو قائل کرنا چاہا۔

مجھے انو کی بات ٹھیک لگ رہی ہے باقی آپ لوگ کیا کہتے ہو۔۔۔۔ فہد نے انمول کی بات سے اتفاق کرتے دائم اور ابتسام سے پوچھا۔

دائم تو شروع سے ہی انمول کی کوئی بات ٹال نہیں سکتا تھا اور اب تو ابتسام بھی اسہی لائن​ میں آتا تھا اس لیئے وہ دونوں بھی راضی ہوگئے۔

اب جو ہماری بیگم نے کہہ دیا ہے تو پھر وہی ہوگا۔۔۔ ابتسام نے گہرا سانس بھرتے کہا تو انمول خوش ہوگئی۔

سب نے مل کے مشورہ کر کے بیس دن بعد کی تاریخ رکھ لی تھی۔۔۔

دامل بیٹا آپ نے وردہ کو تو نہیں دیکھا نا ایک منٹ میں ابھی آپ کو اسکی تصویر دیکھاتی ہوں۔۔۔ انمول اپنا فون کھولتے بولی لیکن اس سے پہلے وہ تصویر دیکھاتی دامل کا فون بج گیا۔

وہ سب سے اکسکیوز کرتا فون سننے کے لیئے سب سے تھوڑا دور چلا گیا۔

اوکے میں آرہا ہو ابھی۔۔۔ چند منٹ بعد فون بند کرتے وہ پریشانی سے واپس آیا۔

ڈیڈ مجھے ایک بہت ضروری کام کے لیئے ابھی جانا ہوگا۔۔۔ میں ڈرائیور سے کہہ دوں کا وہ آپ کو یہاں سے پک کر لے گا لیکن مجھے ابھی جانا ہے ارجنٹ۔۔۔ دامل نے فہد کو دیکھتے کہا ۔

بیٹا کھانا کھا کے جانا ۔۔۔ ابتسام نے اسے روکنا چاہا۔

پھر کبھی انکل ابھی ایک بہت ضروری کام آگیا ہے اس لیئے مجھے جانا ہوگا۔۔۔ دامل نے معزرت خواہ لہجے میں کہا۔

ٹھیک ہے دامل تم جاؤ میں ڈرائیور کو خود فون کر کے یہاں بلا لوں گا تم پریشان نہیں ہو۔۔۔ فہد نے کہا تو وہ اوکے کہتا سب کو خدا حافظ کہتے جلدی سے باہر نکل گیا۔

پولیس کی جاب میں یہی ہوتا ہے کبھی بھی کوئی بھی کام نکل سکتا ہے۔۔۔ حماد نے کہا تو سب اسکی بات سے اگری کرتے ہاں میں سر ہلاگئے۔

۔🌺🌺🌺

دن گزرتے جا رہے تھے شادی میں بس پندرہ دن بچے تھے۔۔۔ انمول وردہ کو فون کر کے شادی کی تاریخ بتا چکی تھی۔۔۔ ہر کوئی اپنی تیاری مکمل کرنے میں مصروف ہو گیا تھا لیکن ایک شخص تھا جو کافی بےچین تھا اور اسکی بےچینی کی وجہ تھی نور جو تین دن کی چھٹی کی درخواست دے کے گئی تھی اور آج سات دن ہوگئے تھے ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔۔

سیف نے کئی بار اسے فون بھی کیا لیکن اسکا فون بند جارہا تھا۔۔۔ وہ کافی پریشان ہو گیا تھا۔۔۔ اسنے اس کے گھر جا کے بھی پتہ کیا لیکن وہاں بھی تالا لگا ہوا تھا جس سے اسکی پریشانی اور بڑھ گئی تھی۔

وہ اپنے آفس روم میں بیٹھا پین انگلیوں میں گھماتے انہیں سب سوچوں میں گم تھا جب اسکے روم کا دروازے نوک کرتے کوئی اندر آیا۔

بابا۔۔۔۔ماما آپ یہاں۔۔۔ حماد کے پیچھے مشی کو اندر داخل ہوتے دیکھ وہ اپنی جگہ سے اٹھا۔

کیوں میں یہاں نہیں آ سکتی کیا۔۔۔ مشی اسکے سامنے ہاتھ باندھ کے کھڑی ہوتی خفگی سے بولی۔

بھلا آپ کو آپ کے ہی آفس میں آنے سے کون منا کر سکتا ہے۔۔۔ سیف نے اسکا ہاتھ پکڑتے اسے اپنی کرسی پہ بیٹھایا اور خود اسکے سامنے حماد کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھ گیا۔

یہ لو میٹھائی کھاؤ۔۔۔ حماد نے اسکے آگے میٹھائی کا ڈبا کیا۔

کس خوشی میں۔۔۔ وہ اس میں سے ایک میٹھائی اٹھاتے ایبرو اچکائے پوچھنے لگا۔

ہم ابھی نور کے گھر سے ہو کے آرہے ہیں۔۔۔انہوں نے تمہارے اور نور کے رشتے کے لیئے ہاں کردی ہے۔۔۔ میشا نے خوشی سے اسے یہ خوشخبری سنائی جیسے سنتے سیف کو تو اپنے کانوں پہ یقین نہیں ہوا۔

آپ سچ کہہ رہی ہیں۔۔۔ اسکی آنکھوں میں ابھی تک بےیقینی تھی۔

ایک دم سچ۔۔۔ مشی نے ڈبے سے ایک میٹھائی اٹھاتے اسکے منہ میں رکھتے کہا تو سیف کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نا رہا۔

مگر ماما نور لوگوں کے گھر پہ تو دو دن پہلے تالا لگا ہوا تھا ۔۔۔ کہاں گئے تھے وہ لوگ کچھ بتایا۔۔۔

نور کے دادا کا انتقال ہو گیا تھا اس لیئے وہ لوگ لاہور گئے ہوئے تھے کل ہی واپس آئے ہیں۔۔۔ حماد نے بتایا تو سیف کو سن کے افسوس ہوا۔

میں تو ان لوگوں سے کہہ آئی ہوں کے جیسے ہی بسام اور وردہ کی شادی ختم ہوتی ہے ویسے ہی میں تمہاری بارات لے کے پہنچ جاؤ گی انکے گھر۔۔۔ مشی نے جوش سے کہا تو وہ دونوں ہنس دیئے۔

یہ تو آپ نے بہت اچھی بات کی ہے۔۔۔ سیف کا دل باقائدہ بھگڑے ڈالنے کا چاہ رہا تھا لیکن خود پہ قابو کیئے بیٹھا رہا ۔

ایسی خوشی میں کہیں باہر چلتے ہیں۔۔۔ پوری فیملی مل کے اس خوشی کو سیلیبریٹ کریں گے۔۔۔ حماد کے کہنے پہ وہ دونوں بھی فورن کھڑے ہوتے روم سے نکل گئے۔

سیف کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا ۔۔۔ وہ دل میں اللہ کا کتنی بار ہی شکر ادا کر چکا تھا یہ تو بس وہ یا اسکا اللہ ہی جانتا تھا۔

۔🌺🌺🌺