820.8K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Love You Zindagi Seson 2 (Episode 13)

Love You Zindagi Seson 2 By Angel Arooj

ہمیں فہد خان سے ملنا ہے کیا وہ گھر پہ موجود ہیں۔۔۔ ابتسام نے باہر کھڑے گارڈ سے پوچھا۔

جی صاحب گھر پے ہی موجود ہیں۔۔۔ آپ لوگ کون۔۔۔ گارڈ نے فہد کا بتاتے پوچھا۔

میں ابتسام ہوں فہد کا دوست۔۔۔ ابتسام نے سنجیدگی سے کہا۔

ایک منٹ آپ رکیں میں پہلے صاحب کو بتادوں۔۔۔ گارڈ کہتا اندر جانے لگا جب ابتسام نے اسے روک دیا۔

نہیں اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے ہم پہلے ہی اسے بتا چکے ہیں۔۔۔ آپ بس دروازہ کھول دیں ہمیں اندازہ جانا ہے۔۔۔ ابتسام نے بہانا بنایا لیکن اس گارڈ کی شکل سے کہیں سے یہ نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اسکی بات پہ عمل کرے گا

دیکھیں سر مجھے صاحب سے پوچھنا ہوگا پہلے میں ایسے ہی آپ لوگوں کو اندر نہیں جانے دے سکتا۔۔۔۔ گارڈ کے انکار کرنے پہ انمول کا تو جیسے خون کھول اٹھا۔

ارے ارے ایسے کیسے اندر نہیں جانے دو گے۔۔۔ دیکھو اگر تم نے ہمیں اندر نہیں جانے دیا تو میں فہد کو کہہ کے تمہیں نوکری سے نکل وادوں گی۔۔. تم جانتے نہیں ہو مجھے بہت خاص مہمان ہوں میں فہد کی۔۔۔ انمول نے اسے گھورتے دھمکی دیتے آخر میں گردن اکڑا کے کہا۔۔۔۔ جب کے نوکری جانے کی بات سنتے ہی گارڈ کا رنگ سفید ہوا تھا۔

میڈم پلیز ایسا نہیں کرے گا میرے بوڑھے ماں باپ ہیں آگر میری نوکری چلی گئی تو ہم کیا کریں گے۔۔۔ وہ بیچارا تو فورن ڈر گیا تھا۔

ٹھیک ہے ٹھیک ہے نہیں کروں گی لیکن اسکے لیئے تمہیں پہلے ہمیں اندر جانے دینا ہوگا۔۔۔ انمول نے احسان کرنے والے انداز میں کہا تو وہ گارڈ فورن راستے سے ہٹ گیا۔۔۔ تو وہ شاہانہ چال چلتی اندر داخل ہوئی اسکے پیچھے باقی سب بھی اسے داد دیتی نظروں سے دیکھتے اندر بڑھے۔

وہ لوگ پھولوں سے سجی راہداری سے چلتے لاؤنچ میں داخل ہوئے۔۔۔ لاؤنچ کے دائیں جانب دیوار پہ فہد کی فیملی فوٹو لگی ہوئی تھی جب کے بائیں جانب دامل اور فہد کی بڑی بڑی دو تصویریں لگی ہوئی تھیں۔

ہمم تو یہ ہے فہد کا بیٹا ۔۔۔ اچھا ہے کافی۔۔۔ انمول دامل کی تصویر دیکھتی بولی تو سب کا دھیان اس طرف گیا۔

ہمم ہے تو کافی گڈ لوکنگ۔۔۔ حماد نے دل سے تعریف کی۔

تم لوگ یہاں۔۔۔ وہ سب تصویر دیکھ رہے تھے جب فہد کی آواز نے انہیں اسکی جانب متوجہ کیا۔

دیکھا ہو گئے نا سرپرائز۔۔۔ انمول نے چہک کے کہا تو وہ مسکرا دیا۔

ہمممم بہت۔۔۔۔ وہ اسکے چہرے کی چمک دیکھتے دھیرے سے بولا۔

بیٹھنے کا نہیں بولو گے۔۔۔ ابتسام نے انمول کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے اسے جتلاتی نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو اپنی نظریں سمبھال کے رکھو یہ میری ہے۔

ہاں۔۔۔۔ کیوں نہیں آؤ بیٹھو۔۔۔ وہ اسکا اشارہ سمجھتے شرمندہ ہوتے نظروں کا رخ بدل گیا۔

بہت خاموشی ہے گھر میں کیا سب کہیں گئے ہوئے ہیں۔۔۔حماد نے خالی گھر دیکھتے کہا۔۔۔ اسے سوائے نوکر چاکر کے اور کوئی نہیں دیکھ رہا تھا۔

یہاں ہوتا ہی کون ہے صرف میں اور میرا بیٹا یا دو چار ملازم بس۔۔۔۔ فہد نے مسکرا کے بتایا۔

اور آپ کے بابا۔۔۔ میشا نے پوچھا۔

وہ لندن میں ہوتے ہیں ۔۔۔فہد نے مختصر بتایا۔۔۔ وہ انکے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔

انہیں ابھی آئے دیر ہی کتنی ہوئی تھی کہ ملازمہ نے انکے سامنے لوازمات سجا دیئے تھے۔

تم سوچ رہے ہوں گے ہم یہاں اچانک کیسے آگئے ۔۔۔ اصل میں ہم نے سوچا کیوں نا خود جا کے ایک بار لڑکے سے مل لیا جائے۔۔۔ اچھا ہے نا تھوڑی معلومات ملے گی۔۔۔ ویسے ہم تصویر میں دیکھ چکے ہیں ماشاءاللہ کافی اچھا ہے تمہارا بیٹا لیکن سامنے سے دیکھنے میں تو الگ ہی بات ہوتی ہے۔۔۔ ابتسام نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے سکون سے کہا۔

آگر تم دامل سے ملنے آئے ہو تو پھر تم لوگوں کا آنا رائگا گیا کیوں کے دامل تو پچھلے چار دنوں سے کسی گیس کے سلسلے میں شہر سے باہر گیا ہوا ہے۔۔۔ فہد نے چائے کا کپ اٹھاتے کہا۔

چلو کوئی بات نہیں جب وہ آجائے تو تم اسے گھر لے کے آجانا وہاں مل لیں گے اس سے اور پھر بچے بھی ایک دوسرے سے مل لیں گے تو فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔۔۔ ابتسام نے سنجیدگی سے کہا۔

آپ کس فیصلے کی بات کر رہے ہیں مسٹر ڈریگن۔۔۔ فیصلہ تو ہو چکا ہے۔۔۔ انمول نے ابتسام کی بات پہ اچھمبے سے اسے دیکھا۔

کیسا فیصلہ۔۔۔ فہد نے ناسمجھی سے پوچھا۔

یہی کہ ہمیں اس رشتے پہ کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔ اور اب تو وردہ بھی راضی ہے اس لیئے ہم دیر نہیں کرنا چاہتے بس میں تو جلد ہی وردہ اور بسام دونوں کی شادی کر دینا چاہتی ہوں۔۔۔ انمول نے خوشی سے چہک کے کہا۔۔۔

اسکی بات سنتے جہاں ابتسام نے گھور کے اسے دیکھا تھا وہیں فہد کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانا ہی نہیں رہا تھا۔

انو پہلے بچوں کو ایک دوسرے سے ملنے دو ۔۔۔ انہیں دیکھ دوسرے کو دیکھ لینے دو پھر ہم بات پکی کریں گے نا۔۔۔ ابتسام نے دانت پیستے اسے سمجھانا چاہا لیکن شاید جیسے آج انمول کان لپیٹ کے آئی تھی جو کسی کی بھی سنے کے موڈ میں نہیں تھی۔

میں وردہ سے بات کرچکی ہوں اسے لڑکے سے ملنے میں کوئی انٹرس نہیں ہے ۔۔۔ اسنے کہا ہے جیسا بھی ہمیں ٹھیک لگے ہم ویسا کریں اور آگر آپ کو اتنا ہی لگتا ہے کہ اسنے لڑکا کو دیکھا نہیں ہے یا دامل نے ہماری بیٹی کو نہیں دیکھا تو یہ رہی وردہ کہ تصویر یہ تم دامل کو دیکھا دینا اور مجھے دامل کی تصویر دے دینا میں وردہ کو دیکھا دوں گی۔۔۔ انمول نے اپنے بیگ سے ایک لفافہ ٹیبل پہ رکھتے کہا تو سب نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔ مطلب وہ پوری تیاری کے ساتھ یہاں آئی تھی۔

ہاں میں نے دامل سے بھی بات کی تھی اس کا بھی یہی کہنا ہے کے جیسے میری مرضی۔۔۔ باقی میں دامل کی تصویر تمہیں دے دوں گا۔۔۔ فہد نے بھی اطمینان سے کہا۔

جب تم دونوں نے سب طے کیا ہوا ہے تو پھر مجھے سیدھے شادی کا کارڈ ہی دے دیتے۔۔۔ ابتسام لب بھیجے جل کے بولا لیکن وہاں پروا کسے تھی۔

مسٹر ڈریگن کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔۔۔ آپکی اپنی سگی بیٹی کی شادی ہے ایسے کیسے آپ کو صرف کارڈ دے سکتے تھے ۔۔۔ انمول کے سیریس ہو کے کہنے پہ ابتسام نے اسے گھورا ۔۔۔ جیسے کہہ رہا ہو وہ کون سا سیریس بات کررہا ہے جو انمول ایسے بول رہی ہے۔

اچھا چلیں چھوڑیں۔۔۔ منہ میٹھا کریں سب آخر میری بیٹی کا رشتہ پکاہ ہوا ہے۔۔۔ انمول نے ٹیبل سے میٹھائی کی پلیٹ اٹھائی۔۔۔

ہاں کیوں نہیں تم لوگ کھاؤ میں زرا دامل کی تصویر لے آؤ۔۔۔۔ فہد پلیٹ سے میٹھائی اٹھاتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

مسٹر ڈریگن آپ کو پریشان ہونے کی بلکل ضرورت نہیں ہے۔۔۔ وردہ نے سب کچھ ہم پہ چھوڑ دیا ہے۔۔۔ اسنے کہا ہے اسے لڑکے سے کوئی مطلب نہیں ہے بس وہ لڑکا ہنڈسم ہونا چاہیئے ۔۔۔۔ اور دامل کی تصویر تو آپ دیکھ چکے ہیں ماشاءاللہ سے کرنا ہنڈسم ہے وہ۔۔۔ باقی ہم تصویر لے کے جا رہے ہیں نا تو آگر وردہ کو کچھ سمجھ نا آیا تو ہم پھر آکے بات کر لیں گے فہد کوئی غیر تھوڑی ہے اپنا ہی ہے وہ سمجھے کا ہماری بات کو۔۔۔۔ انمول نے بہت پیار سے اسکی طرف مٹھائی بڑھاتے کہا تھا جس پہ ابتسام نے بغیر کچھ بولے خاموشی سے اسکے ہاتھ سے میٹھائی کھا لی تھی جس پہ انمول کے چہرے پہ ایک بڑی سی مسکان آگئی تھی۔

لو بھئی اب تم دونوں بھی کھالو۔۔۔ ہاتھ کی آدھی بچی میٹھائی خود کھاتی پلیٹ حماد اور میشا کی طرف بڑھا گئی۔

یہ لو۔۔۔ فہد نے بھی تصویر والا لفافہ لا کے اسکے سامنے ٹیبل پہ رکھا۔

ایک اور بات میں دامل کی شادی جلدی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ تقریباً ڈیڑھ​ سے دو ماہ کے اندر اندر۔۔۔ تم لوگ دیکھ سکتے ہو میرے گھر کی خاموشی۔۔۔ میں خاموش گھر سے تنگ آگیا ہوں ۔۔۔ اب یہ خاموشی مجھے کاٹنے کو دوڑتی ہے۔۔۔ اس وجہ سے جتنی جلدی ہو سکے میں دامل کی شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ فہد نے سرد آہ بھرے کہا۔

ہممم جب رشتہ پکاہ ہو گیا ہے تو ہمیں بھی جلدی شادی سے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔ بس ہم گھر میں اور دائم سے بات کر کے پھر بتا دیں گے کہ کب شادی کرنی ہے۔۔۔ ابتسام جانتا تھا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا انمول نے طے کر لیا ہے کہ وہ وردہ کی شادی دامل سے ہی کرے گی تو اسے کتنا بھی منا کرلو وہ کسی کی نہیں سنے گی اور اب تو وردہ بھی راضی ہوگئی تھی اس لیئے اب سوائے ان سب کی بات ماننے کے ابتسام کے پاس کچھ نہیں بچا تھا۔

چلو ٹھیک ہے میں انتظار کروں گا۔۔۔ فہد نے مسکرا کے کہا۔

وہ لوگ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد ٹیبل پہ رکھے دو لفافوں میں سے ایک لفافہ اٹھاتے گھر کے لیئے نکل گئے۔

۔🌺🌺🌺

مما بابا۔۔۔ وردہ ابتسام اور انمول کے کمرے میں بےدھڑک داخل ہوئی تو وہ جو دونوں صوفے پہ بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے ایک دم اچھل پڑے۔

وردہ یہ کیا طریقہ ہے کسی کے کمرے میں آنے کا اور یہ کون سا وقت ہے گھر آنے کا ٹائم دیکھا ہے تم نے رات کے بارہ بجنے والے ہیں۔۔۔ انمول نے اسے گھورتے ہوئے کلاس لی۔

وردہ آج کافی دن بعد اپنی یونی کی دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے نکلی تھی اور واپسی میں وہ لوگ کار ریس لگانے نکل گئیں​ تھیں جس کی وجہ سے اسے گھر آتے دیر ہوگئی تھی ۔

مما میں نے بتایا تو تھا کہ میں دیر سے آؤگی۔۔۔ وردہ ابتسام کے اشارے پہ اسکے حصار میں بیٹھتی بولی۔

آج میرا موڈ بہت اچھا ہے اس لیئے تمہیں چھوڑ رہی ہوں ورنا اچھے سے بتاتی۔۔۔ انمول نے اچھے پہ زور دے کے کہا۔

موڈ کیوں اچھا ہے۔۔۔ وردہ نے تجسس سے پوچھا۔

تمہاری ماں تمہاری شادی پکی کر آئی ہے۔۔۔ ابتسام اپنی مسکراہٹ رو کے بولا جانتا تھا ابھی اسے جھٹکا لگے گا۔

کیا!!!! مگر کیوں،،،، میرا مطلب اتنی جلدی کیوں۔۔۔ وردہ ایک دم سیدھی ہوئی۔

یہ لو یہ لڑکے کی تصویر ہے دیکھ لو اور آگر ملنا ہے تو بتا دینا میں فہد سے کہہ دوں گی کہ جب دامل شہر واپس آئے تو کسی دن دامل کو ہمارے گھر بھیج دے۔۔۔ انمول اسکی بات کا اثر لیئے بغیر بیگ سے تصویر نکالتی اسکی طرف بڑھا گئی۔

مما مجھے تصویر دیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔۔۔ آپ لوگوں نے دیکھ لیا اور آپ لوگوں کو پسند آگیا میرے لیے یہی بہت ہے لیکن اتنی جلدی شادی نہیں۔۔۔ وردہ نے رونی صورت بنائی۔

اتنی جلدی کہاں ہے ایک ڈیڑھ ماہ ہے ابھی۔۔۔ انمول نے سکون سے کہا تو وردہ کا منہ کھلا۔

یہ تو کچھ بھی نہیں اگر تمہاری ماں کا بس چلتا تو وہ تمہیں کل ہی رخصت کر دیتی۔۔۔ ابتسام نے اسکا کھلا منہ بند کرتے مسکرا کے کہا تو وردہ سے صدمے کے مارے کچھ بولا ہی نہیں گیا لیکن پھر اچانک ایک خیال کے آتے اسکی آنکھیں چمکیں تھیں۔

ٹھیک ہے میں اتنی جلدی شادی کرنے کے لیئے تیار ہوں لیکن آپ کو میری ایک بات ماننی ہوگی۔۔۔ وردہ نے آنکھیں گماتے کہا۔

تم سے کسی نے پوچھا بھی نہیں ہے کے شادی جلدی کرنی ہے یا نہیں۔۔۔ میں جو طے کر کے آگئی ہوں بس وہی ہوگا۔۔۔ انمول نے اسکی سوچ پہ پانی پھیرا لیکن وردہ بھی اسہی کی بیٹی تھی کیسے اس سے پیچھے رہ سکتی تھی۔

ٹھیک ہے پھر آپ کریں شادی کی تیاری اور میں عین نکاح کے وقت گھر سے بھاگ جاؤ گی پھر دیکھتی ہوں کیسے ہوگی شادی۔۔۔ وردہ نے بھی مزے سے دھمکی دی جانتی تھی جو بات وہ منوانا چاہتی تھی وہ انمول کبھی نہیں مانتی اس لیئے اسے بس یہی ایک راستہ دیکھا تھا۔

کیا بات ماننی ہے۔۔۔ انمول جانتی تھی اپنی بیٹی کو کے وہ بھی اسکی ہی طرح سرپھری ہے۔۔۔ جو کہہ رہی ہے وہ کر بھی سکتی ہے اس لیئے اسے گھورتے ہوئے بات پوچھنے لگی۔۔۔ جب کے ابتسام تو دونوں ماں بیٹی کی تکرار سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

میری ساری فرینڈز ہولیڈیز کے لیئے ایبروڈ جا رہی ہیں تو مجھے بھی انکے ساتھ جانا ہے۔۔۔ میں جانتی ہوں بابا کو تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا لیکن آپ منا کر دیں گی اگر تو آپ میری یہ بات مانتی ہیں تو میں بھی آپکی بات مان لوں گی ۔۔۔ وردہ نے بہت ہوشیاری سے اپنی بات کہی تھی جس پہ انمول اسے سوائے گھورنے کے اور کیا کر سکتی تھی۔

ٹھیک ہے میں بسام کو کہتی ہوں وہ تمہارے ساتھ جائے گا۔۔۔ انمول نے سنجیدگی سے کہا۔

مما میں بچی نہیں ہوں جو بسام میرے ساتھ جائے گا ۔۔۔بڑی ہو گئی ہوں اور ویسے بھی ہمارے گرپ میں صرف لڑکیاں ہوں گی وہ ایک لڑکا جاتا اچھا لگے کا کیا۔۔۔ وردہ نے سمجھانا۔

وردہ میں نے کبھی تمہیں اکیلے کراچی سے لاہور نہیں جانے دیا اور تم کہہ رہی ہو،،، تمہیں ایبروڈ جانا ہے وہ بھی دوستوں کے ساتھ۔۔۔ انمول ایک ماں تھی اور اسکا دل بلکل وردہ کو اکیلے بھیجنے پہ راضی نہیں ہو رہا تھا۔

مما بس پندرہ بیس دن کی بات ہے۔۔۔ جب تک آپ یہاں شادی کی شوپنگ کرے گا جب تک میں آبھی جاؤں گی۔۔۔ اپکو کو پتہ بھی نہیں چلے گا ٹائم کا۔۔۔ وردہ اٹھتی انمول کے پاس آتی لاڈ سے اسکے گلے میں باہیں ڈال گئی۔

انو پریشان نہیں ہو اور بےفکر ہو کے جانے دو وردہ کو۔۔۔ اللہ ہماری بچی کی حفاظت کرے گا۔۔۔ انمول کے چہرے پہ بےچینی اور فکرمندی دیکھ ابتسام نے کہا تو انمول نے دل پہ پتھر رکھتے اسے جانے کی اجازت دے دی۔

اچھا ٹھیک ہے چلی جانا۔۔۔ انمول کے اجازت دیتے ہی جیسے وردہ کھل اٹھی تھی۔

تھینک یو مما تھینک یو بابا۔۔۔ وہ انمول کا گال چومتی خوشی سے بولی تو وہ دونوں بھی مسکرا دیئے۔

چلو اب جاؤ سو جاؤ۔۔۔ اور ہاں لڑکے کی تصدیر یاد سے دیکھ لینا بہت ہنڈسم ہے۔۔۔ انمول نے شرارت سے کہا تو وہ جی کہتی تصویر والا لفافہ لیئے کمرے سے نکل گئی۔

پریشان نہیں ہو انو ہماری وردہ اب بڑی ہوگئی ہے وہ اپنا خیال اب خود رکھ سکتی ہے۔۔۔ باقی اللہ ہے نا تم دعا کرنا انشاءاللہ سب اچھا ہوگا۔۔۔ انمول کے چہرے پہ ایک عجیب سی فکر دیکھ ابتسام نے اسے اپنے ساتھ لگاتے اسکے سر پہ بوسہ دیتے سمجھایا تو وہ مسکرا کے ہاں میں سر ہلاتی اسکے سینے پہ سر رکھے سکون سے آنکھیں موند گئی۔

۔🌺🌺🌺

یار تم لوگ یقین نہیں کرو گی۔۔۔ مجھے میری مما نے جانے کی پرمیشن دے دی ہے۔۔۔ وردہ نے کمرے میں آتے ہی سب سے پہلے اپنی دوستوں کو فون کیا تھا۔

ہاں ہاں تم فکر نہیں کرو میں پہلے سے ہی جانتی تھی کہ میں مما کو منا لوں گی اس لیئے میں نے ساری تیاری پہلے سے ہی کی ہوئی ہے۔۔۔۔ دوسری طرف سے کچھ بولا گیا تھا جس پہ وردہ نے سب کو تسلی دی تھی۔

وہ کافی دنوں سے ہی پلان کر رہے تھے جانے کی ۔۔۔ اس لیئے وردہ نے پہلے سے ہی ساری تیاری مکمل کر لی تھی۔۔۔

ہاں بابا میں ٹائم پہ پہنچ جاؤ گی۔۔۔ اچھا اب میں فون رکھتی ہوں مجھے پیکنگ بھی کرنی ہے۔۔۔ اوکے کے بائے۔۔۔ فون بند کرتے ہی وہ بیڈ پہ سکون سے پیچھے کی طرف گری ۔۔۔ اسکے چہرے پہ آج ایک الگ ہی خوشی تھی وہ کافی آکسائیڈڈ تھی گھومنے پھرنے کے لیئے۔

اففف وردہ اٹھو اور پیکنگ کرو۔۔۔ وہ خود سے بڑبڑاتی ماتھے پہ ہاتھ مارتی جلدی سے اٹھی۔

وہ ابھی الماری کی طرف بڑھتی کہ اسے بیڈ پہ لفافہ دیکھ گیا جو انمول نے اسے دیا تھا۔

ہممم دیکھیں تو زرا یہ دامل صاحب کیسے دکھتے ہیں،،، جس کی مما اتنی تعریف کر رہی تھیں۔۔۔ وردہ نے لفافہ کھولتے کہا۔

لیکن یہ کیا لفافے کے اندر تو اسکی اپنی تصویر تھی۔۔۔

ہائیںںںں کیا وہ میری طرح دیکھتا ہے۔۔۔ وہ تصویر دیکھتی سوچ میں پڑھ گئی۔

سیم لفافے ہونے کی وجہ سے انمول فہد کے گھر سے ہی غلط لفافہ لے آئی تھی۔۔۔ وہ جب گھر آئے تھے جب گھر پہ بھی کوئی موجود نہیں تھا خاندان میں کسی کی فوتگی کی وجہ سے شگفتہ اور نسرین بیگم دونوں بلال صاحب کے ساتھ وہاں گئی ہوئیں تھی جہاں انہوں نے رات بھی رکنا تھی جس کی وجہ سے اسنے تصویر بیگ سے نکالی ہی نہیں تھی کہ کسی کو جب دکھانا ہی نہیں تھی تو وہ کیوں نکالتی۔۔۔ بسام نے اس سے ایک بار تصویر مانگی تھی جس پہ وہ اسے دکھانے بھی لگی تھی کہ اسکے کسی دوست کا فون آنے پہ وہ وہاں سے چلا گیا تو جب بھی وہ لوگ تصویر نہیں دیکھ پائے تھے۔۔۔

نہیں نہیں یہ تو میں ہی ہوں۔۔۔ پر میری تصویر اس میں کیسے آئی اس میں تو دامل کی تصویر تھی ۔۔۔۔ لگتا ہے مما نے مجھے غلطی سے غلط لفافہ دے دیا ہے،،، چلو کوئی نہیں صبح سہی لفافہ لے لوں گی۔۔۔ مجھے کون سا جلدی ہے دامل خان کو دیکھنے کی مجھے تو بس دنیا دیکھنے کی جلدی ہے۔۔۔ چلو وردہ جلدی سے کام پہ لگ جاؤں۔۔۔ وہ خود سے مسکرا کے کہتی اپنی تصویر وہیں سائڈ کورنر پہ رکھتی الماری کی جانب بڑھ گئی۔

۔🌺🌺🌺