Khof by Jameela Nawab Readelle 50362 Khof Episode 9
Rate this Novel
Khof Episode 9
گل خان لالہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شبو سر كهجاتی ہوئی گیٹ پر آئی تھی
جی باجی ۔۔۔۔گل خان گاڑی کا ٹائر بدل رہا تھا وہ گندے ہاتھ ہوا میں کئیے کھڑا ہوا تھا
بيگم صاحبہ نے تینوں گاڑياں تیار رکھنے کو کہا ہے آج ہسپتال جانا ہے اور فاطمہ بی بی کی طبیعت ٹھیک ہوتی ہے تو ان سب کو شادی پر بھی جانا ہے اگر تو کسی گاڑی میں کوئی کام وغیرہ ہے تو ٹائم سے کروا لیں تا کہ جب جانا ہو تو کوئی روکاوٹ نہ ہو
شبو نے ایک ہی سانس میں پوری بات پہنچائی تھی
جی ٹھیک ہے شبو باجی ۔۔۔۔۔ہم دیکھ لے گا سب
گل خان نے جواب میں حامی بھری تھی
شبو اندر جا رہی تھی جب علی اور عافیہ بيگم ڈاکٹر احمد کے ساتھ گیٹ پر آۓ تھے
یہ کافی دیر سکون سے سوئی رہے گی اب شام تک ہی جاگے گی
آپ کل انکو ہاسپٹل لے آئیےگا ٹیسٹس میں نے لکھ دئیے ہیں ڈاکٹر احمد نے گاڑی میں بیٹھتے بیٹھتے کہا تھا
جی الله حافظ ۔۔۔علی نے کہا تھا
علی بہنوں کے کمرے میں چلا گیا شادی کی ڈسکشنز کرنے عافیہ بيگم کچن میں چلی گئی تھیں کھانا بنانے جبکہ آمنہ فاطمہ کے ساتھ کمرے میں ہے تھی
ڈاکٹر احمد نے تھوڑی آگے جا کر کوٹ کی جیب سے موبائل نکالنے کے لئے ہاتھ ڈالا تو موبائل نہیں تھا انہو ں نے گاڑ ی روک دی ہر جگہ موبائل دیکھا مگر نہیں ملا پھر انکو یاد آیا کے سارہ کو میسج کر کے موبائل ٹیبل سے وہ اٹھانا بھول گئے ہیں گاڑی واپس موڑ کر گیٹ کے آگے کھڑی کر کے وہ اندر چلے گئے گارڈ گل خان کے ساتھ گاڑی کا ٹائر لگوا رہا تھا
گارڈ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا ڈاکٹر احمد کو۔۔۔۔
میرا موبائل عافیہ بيگم کے کمرے میں رہ گیا ہے وہ منگوا دیں ڈاکٹر احمد نے فوری وضاحت دی تھی وہ
سر آپ خود لے آئیں کوئی مسئلہ نہیں ہے گارڈ نے اپنے گندے ہاتھ دیکھاتے ہوۓ کہا تھا
ڈاکٹر احمد عافیہ بيگم کے کمرے میں گئے فاطمہ گہری نیند سو رہی تھی آمنہ شاید واش روم میں تھی پانی کی آواز آرہی تھی
موبائل سامنے ٹیبل پر ہی موجود تھا
ڈاکٹر احمد نے موبائل اٹھایا اور جانے کو تھے جب فاطمہ نے انکو مخاطب کیا تھا
ڈاکٹر ۔۔۔۔۔صرف ڈاکٹر پکارنا تھوڑا عجیب محسوس ہوا تھا ڈاکٹر احمد کو وہ بنا کوئی جواب دیے فاطمہ کی طرف دیکھنے لگے وہ بیٹھی ہوئی تھی
ڈاکٹر آپ کیوں تباہ کر رہے ہیں خود کو ان لوگوں کی حرام کی دولت سے ؟؟؟
آپ بہت محنت سے روزی کمارہے ہیں مگر انکی حرام کی کمائی آپ کی ساری محنت کو خاک کے رہی ہے پچھلے پانچ سالوں سے ۔۔۔۔
غلاظت کا محض ایک قطرہ ہی پانی کی پوری ٹنکی کو پلید کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے ۔۔۔
جتنی جلدی ہو سکے ان لوگوں سے تعلق ختم کر دیں سکون کی مکمل زندگی آپ کی راہ دیکھ رہی ہے ۔۔۔
فاطمہ بند آنکھوں سے یہ سب کہتی چلی گئی ۔۔
ڈاکٹر احمد کی دل کی دھڑکن انکو اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی
مطلب ؟؟؟ ڈاکٹر احمد اتنا ہی بول پاۓ تھے
اس سے پہلے کے فاطمہ کوئی جواب دیتی واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز پر ڈاکٹر احمد نے ادھر دیکھا تھا آمنہ باہر آئی تھی جو ڈاکٹر احمد کو وہاں دیکھ کر پریشان ہوئی تھی
وہ میں ۔۔۔۔ڈاکٹر احمد نے وضاحت دینے کے لیے لب کھولے ہے تھے جب فاطمہ کو دوبارہ گہری نیند میں لیٹے دیکھ کر وہ حیران ہوۓ تھے
جی ڈاکٹر احمد آپ تو چلے گئے تھے نہ پھر دوبارہ ؟؟آمنہ نے اپنے ہاتھ دوپٹے سے خشک کرتے ہوۓ پوچھا
جی جی وہ موبائل رہ گیا تھا میرا وہ ہی لینے آیا تھا چلتا ہوں ڈاکٹر احمد یہ کہہ تقریباً بھاگتے ہوۓ گاڑی میں جا کر بیٹھے تھے
یا میرے خدایا ۔۔۔۔یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ ۔۔۔
وہ خوف اور حیرانی کے ملے جلے تاثرات لئے ہاتھ مل رہے تھے جس سے مل رہا ہوں وہ ہی حیران کن حرکتیں کر رہا ہے یا اللّه مجھے ہمت دے ۔۔۔۔
ڈاکٹر احمد اب جلد از جلد سارہ کی پیشی بخیر و عافيت گزار کر سلیپنگ پلز لے کر لمبی نیند سونا چاھتے تھے اعصابی کمزوری سے سر اور گردن میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں
ایک بار نیند پوری کر لوں ایک ایک کو دیکھ لوں گا ڈاکٹر احمد نے خود کو حوصلہ دیا تھا اور گھر کی راہ لی ۔۔۔۔
سارہ دروازے پر نہیں آئی تھی گارڈ نے دروازہ کھولا تھا
ڈاکٹر احمد کی نظریں سارہ کی متلاشی تھیں وہ آج اس کے کسی پنگے کی جوابی کاروائی کی پوزیشن میں نہیں تھے
آج تو اسکی ہر بات پر ایمان لے اؤ گا تا کہ آرام سے سوجانے دے ۔۔۔۔
ڈاکٹر احمد نے بیڈ روم کا دروازہ کھولتے ہوۓ لمبی جمائی لیتے ہوۓ بیچارگی سے سوچا تھا
کمرے میں بھی سارہ نہیں تھی
ڈاکٹر احمد نے چینج کیا اور سارہ کو فون کیا مگر وہ کمرے میں ہی موجود تھا
اس کا مطلب ہے کچن میں ہے چلو آجاۓ گی ڈاکٹر احمد نے نیند کی گولی کھاتے ہوۓ سوچا تھا
تھوڑی دیر مزید انتظار کیا مگر سارہ نہ آئی ۔۔
کیا یار آج اگر تم نہ پریشان کرو تو کوئی قیامت تھوڑی آجانی ہے
پاگل کر دیں گے یہ سب لوگ ملے ہوۓ ہیں اففففف میرے اللّه ۔۔۔۔
یہ سب کے سب ملے ہوۓ ہیں کسی کو مجھ پر ترس نہیں آتا ۔۔۔
فون پے لگ رہا تھا بدل گئی ہے مگر اب اگر ایسے ہی سو گیا پھر جینا حرام کر دے گی ۔۔۔۔
مجھے تو ہںستے کھیلتے علی پے رحم آرہا ہے پتہ نہیں کیوں وہ یہ مصیبت اپنے گلے ڈالنا چاہتا ہے جیسے عرف عام میں
“بیوی “
کہتے ہیں اپر سے دو دو ۔۔۔۔۔۔اففففف
میرے اللّه ۔۔۔۔
“Rip Ali”
ڈاکٹر احمد ایک کہ بعد ایک ہونے والے پراسرار واقعا ت سے پاگل ہونے کو تھے اوپر سے مسلسل نیند کی کمی اور بے آرامی سونے پے سہاگہ ثابت ہو رہی تھی
سارہ کمرے میں آئی تھی تھکے تھکے قدموں سے آکر ڈاکٹر احمد کے پاس بیٹھی تھی
یار کہاں تھی ؟؟؟
فون پر بھی کہا تھا تمہیں تھکا ہوا ہوں مجھے تمہاری گود میں سر رکھ کر سونا ہےاور اگر تمھیں لگا کہ وہ محض مذاق تھا تو نہی جناب۔۔۔۔۔میں نے سچ میں سونا ھے
ڈاکٹر احمد نے چاپلوسی کے انداز میں کہا تھا تا کہ آج سارہ جس مدعے پر بھی لڑنے آئی ہے وہ ترک کر دے اور سونے دے ۔۔۔
احمد ۔۔۔۔۔
سارہ نے اپنی انگلیاں مڑورتے ہوۓ کہا ۔۔۔
جی میری جان ۔۔۔
ڈاکٹر احمد نے حفاظتی بند باندھا تھا
“I am pregnant “
سارا نے ساری گولیاں ایک ساتھ ڈاکٹر احمد پر چلا دی تھیں
……………………………………..
شام کے چار بج رہے تھے جب فاطمہ جاگی تھی طبیعت بلکل ہشاش بشاش تھی وہ پہلے والی فاطمہ لگ رہی تھی آج کافی دنوں بعد ۔۔۔۔
وہ لاؤنچ میں آئی تھی جہاں سب شام کی چاۓ کا مزہ لیتے ہوۓ خوش گپیوں میں مشغول تھے
امی ۔۔وہ عافیہ بيگم کے گلے لگ کر بولی تھی جی میرے جان کیسی طبیعت ہے اب ؟؟؟
عافیہ بيگم نے ماتھا چومتے ہوۓ پوچھا تھا
بلکل فٹ فاٹ ہوں امی ۔۔۔۔
فاطمہ کی باڈی کے ریڈ نشان بھی غائب تھے
امی شوپنگ پر چلنا ہے میں نے چلیں سب ریڈی ہو جائے فٹافٹ فاطمہ اپنی ازلی جلد باز طبیعت میں بولی تھی
سب کو اسے ایسے دیکھ کر سکون ہوا تھا کہ وہ زندگی کی طرف دوبارہ لوٹ رہی ہے
جیسے میری بیٹی بولے گی ویسا ہی ہوگا چلو بھئ میں گاڑی سٹارٹ کر رہا ہوں سارے آجاؤ علی نے چاۓ کو ایک ہی گھونٹ میں اپنے اندر انڈیلتے ہوۓ کہا تھا
چلو فاطمہ آؤ آپ کو کپڑے دوں چینج کرلو پھر نکلتے ہیں
آمنہ نے فاطمہ کو چاۓ کے برتن اٹھاتے ہوۓ بولا تھا
خریداری کے لئے علی نے سنٹورس (اسلام آباد کا مشہور شوپنگ مال ) کا انتخاب کیا تھا
سب نے دل کھول کر اپنی اپنی پسند کی شوپنگ کی تھی
جب وقت مہربان ہوتا ہے پھر کوئی آپ کے بارے میں کیا بولتا اور سمجھتا ہے فرق کسے پڑتا ہے فرق تو تب پڑتا ہے جب وقت آپ کے ساتھ دشمنی پر اتر آیا ہو ۔۔۔۔
اور مسز نعیم(عافیہ بيگم ) کے خاندان کا وقت ابھی اچھا چل رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تینوں سمجھاں واں کی ۔۔۔۔
نہ تیرے بینا لگدا جی ۔۔۔۔۔۔
توں کی جانے پیار میرا ۔۔۔۔۔۔
میں کراں انتظار تیرا ۔۔۔
تو جند تو ہی جان میری ۔۔۔۔
جب گنتی کے دسوی بار علی نے یہ گانا لگایا تھا ملکہ چپ نہ رہ سکی
علی اب اگر تم نے یہ گانا لگایا میں یا تو گاڑی سے كود جاؤنگی یا تمہارا سر پھاڑ دوں گی
جب تمہاری بھابھیاں روٹھ جایا کرے گیں تو یہ گانا سنایا کروں گا یار مجھے یاد کرنے دو
علی نے درخواستانہ انداز سے کہا تھا
چلو جی مطلب رن مریدی کی پریکٹس ابھی اور آج سے ہے شروع کردی ہے واہ سائیں واہ ….
ملکہ نے ہاتھ سے شاباشی دیتے ہوۓ کہا تھا
تو اور کیا ۔۔۔ابھی سے کیا مطلب ہے ہم جیسے ہی شادی سے آیں گے امی میری شادی کر دیں گیں ہیں نہ امی ؟؟؟
علی نے عافیہ بيگم کو دیکھا تھا جو کسی گہری سوچ میں تھیں
امی ؟؟؟ بتائیں نہ
علی نے عافیہ بيگم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا تھا جو علی کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھیں
جی میری جان بلکل
عافیہ بيگم نے کچھ سوچتے ہوۓ جواب دیا تھا
امی ریسٹ ہاؤس کدھر ہے اب کدھر ٹرن لینا ہے آگے دو راستے ہیں
علی نے لینڈ کروزر کو روک کر پوچھا تھا
امی اچھے سے سوچ کر بتائیں يا پوچھ لیں ابو کی منہ بولی بہن فاریہ آنٹی سے رات کے دس بج رہے ہیں آپی ، فاطمہ اور ثوبیہ کب کی سو رہی ہیں
موسم بھی خراب لگ رہا ہے ٹھنڈ بھی لگنے لگی ہے مجھے تو
ملکہ نے خود کو سکیڑتے ہوۓ کہا تھا
علی میں پوچھتی ہوں فاریہ سے تم ذرا پیچھے سے بہن کو كمبل نکال کر دو
علی نیچے اترا تھا آسمان سیاہ بادلوں سے بھرا ہوا تھا تیز ہوا چل رہی تھی بارش کسی بھی وقت سٹارٹ ہو سکتی تھی
سڑک بلکل سنسان اور خستہ حال تھی
علی نے كمبل نکال کر ملکہ کو دیا تھا تو اس نے اپنے ساتھ آمنہ ثوبیہ اور فاطمہ کو بھی اڑایا تھا
ملکہ بھی تھوڑی دیر میں اونگھنے لگی تھی
عافیہ بيگم کو فاریہ نے گوگل میپ پر لوکیشن بھیجی تھی مگر موسم کی خرابی اور علاقہ شہر سے دور ہونے کی وجہ سے وہ میسج عافیہ بيگم کو نہیں ملا تھا
علی نیٹ ورک نہیں ہے میرا خیال ہے یہ راستہ ٹھیک ھوگا گاڑی اس طرف لے لو عافیہ بيگم نے علی کو کہا
یہ نسبتأ زیادہ کچا راستہ تھا سڑک کے دونوں طرف جھاڑیاں تھیں
علی بہت محتاط ہو کر آرام آرام سے گاڑی چلا رہا تھا
عافیہ بيگم کی بھی آنکھ لگ گئی تھی اب علی کے علاوہ سب سو چکے تھے
علی مسلسل دو گھنٹے اس سڑ ک پر گاڑی دوڑا رہا تھا مگر وہ روڈ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
بادل زور سے گرجے تھے اب بارش کسی بھی وقت شروع ہو سکتی تھی
علی کو حاجت محسوس ہوئی تھی اس نے گاڑی روک دی جس سے عافیہ بيگم کی آنکھ بھی کھلی تھی
کیا ہوا علی ؟؟
عافیہ بيگم نے چادر کو خود پر لپیٹتے ہوۓ کہا تھا
گاڑ ی کا ہیٹر چل رہا تھا پھر بارش کی متوقع آمد نے ٹھنڈ بناے رکھی تھی
امی دو منٹ میں آتا ہوں
علی نے چھوٹی انگلی سے واش روم جانے کا سائن بنایا تھا
عافیہ بيگم نے پیچھے دیکھا جہاں ان کی چاروں بیٹیاں ہر بات سے بے خبر سو رہی تھیں
علی کو گئے دس منٹ ہو چکے تھے مگر وہ واپس نہیں آیا تھا ابھی
عافیہ بيگم نے علی کو فون کرنا چاہا جو کہ ڈیش بورڈ پر ہی موجود تھا
مزید دس منٹ گزر گئے مگر علی نہ آیا
اب ہلکی ہلکی بارش بھی شروع ہو چکی تھی
رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے چار جوان بیٹیاں کے ساتھ سنسان سڑک پر وہ بھی اس خراب موسم میں ۔۔۔
عافیہ بيگم کی ریڑ کی ہڈی میں خوف کی سرد لہر محسوس ہوئی تھی
عافیہ بيگم نے گاڑی کی چابی نکالی اور باہر نکل کر گاڑی لاک کر دی
اب وہ اپنے سر پے ہاتھ رکھ کر بارش کے یخ بستہ قطروں سے بچنے کی کوشش میں علی کو ڈھونڈ رہی تھیں
علی ڈرائیور سیٹ والی سائیڈ پر جھاڑیوں میں گھسا تھا
رات کے اس پہر سناٹے کا شور کسی بھی بہادر انسان کو خوفزدہ کرنے کے لئے کافی تھا
علی ۔۔۔۔۔۔
علی ۔۔۔۔۔ بیٹا کہاں ہو تم ؟؟؟
عافیہ بيگم بلند آواز سے پکار رہی تھیں مگر ہوا ان کی آواز کو اپنے ساتھ مكس کر کے ختم کر دیتی تھی
کہیں دور کتوں کے ایک ساتھ بھوکنے کی آواز آئی تھی
عافیہ بيگم نے آپنا منہ کتوں کی آواز کی سمت موڑ کر دیکھا تھا مگر دھند کی سفیدی نے ہر شے کو اپنی پناہ میں لے رکھا تھا
تبھی ایک چیل ان کے سر کے اپر اپنی خاص آواز نکالتے ہوۓ گزری تھی
عافیہ بيگم کا دل حلق میں آیا تھا
وہ علی علی کرتی تیزی سے آگے بھڑی تھیں
جب چمگاڈروں کا ایک غول ان کے اپر چکر کاٹنے لگا عافیہ بيگم کو آج اپنی زندگی کا آخری دن لگا تھا
اس شدید سردی میں بھی ان کا جسم پسینے میں بھیگ رہا تھا
اب وہ واپس بھاگنے لگی تھیں جس طرف سے آئی تھیں
مگر دھند اور بوکھلا ہٹ میں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ان کو وہ اندھا دهند بھاگنے لگیں
رات کے اس پہر چار جوان بیٹیوں کی عزت اور علی کی زندگی کی فکر ان کی دل کی دھڑکن بند کرنے کو تھی
اب بارش بھی تیز ہو چکی تھی چمکاڈروں کا غول ان کے ساتھ ساتھ ان کے سر پر موجود تھا
وہ نیچے بیٹھ کر اب ٹھنڈ سے ٹھیٹھر رہی تھیں
آمنہ………….. ,ملکہ ……….ثوبیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری فاطمہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی ۔۔۔۔۔۔۔وہ دیوانہ وار چلاتی ہوئی اپنے بچوں کے نام دہرا رہی تھیں
بیٹیاں اکیلی ہیں گاڑی میں اس خیال نے زور پکڑا تھا
وہ اپنی بچی کچی توانائی جمع کر کے اب دوبارہ بھاگنے لگ گئی تھیں
بھاگتے بھاگتے ان کے پاؤں کیچڑ لگنے کی وجہ من من کے محسوس ہونے لگے تھے ۔۔۔۔
آخر جھاڑیاں ختم ہوئی تھیں
سامنے ایک عمارت تھی جسے تیز بارش اور دھند میں بھی وہ پہچان سکتی تھیں
علی اس عمارت کے گیٹ میں موجود تھا عافیہ بيگم کی جان میں جان آئی تھی مگر یہ عمارت یہاں ہوگی یہ حیران کن تھا
اس سے پہلے کے علی کو وہ آواز دیتیں علی اندر جا چکا تھا
عافیہ بيگم بھی اندر چلی گئیں
اندر کا منظر بہت خوفناک تھا جگہ جگہ انسانی ڈھانچے تھے عجیب بونے پورا ماحول آلودہ کر رکھا تھا
کہیں ابھی بھی تیزاب میں ابلتے مرے ہوۓ وجود موجود تھے جن سے دھواں اٹھ رہا تھا
عافیہ بيگم نے دیکھا تیزاب کے ڈرم سے علی گلاس بھر تھا
نہیں علی نہیں یہ مت کرو یہ پانی نہیں ہے یہ مت پیو علی ۔۔۔۔
عافیہ بيگم کو اپنی آواز غائب ہوتی محسوس ہوئی تھی
علی نے گلاس میں ابلتا ہوا تیزاب بھر کر عافیہ بيگم کو ہنستے ہوۓ دیکھا تھا
وہ کسی میٹھے مشروب کی طرح اسے غٹاغٹ پی گیا تھا
عافیہ بيگم کو وہ تیزاب اپنے گلے میں چھبتا ہوا محسوس ہوا تھا
وہ اپنا گلہ پکڑ کر چیخنے لگی تھیں جب کسی نے انکو جھنجھوڑا تھا
امی ؟؟؟
امی ہوش میں آئیں امی آپ خواب دیکھ رہی ہیں
عافیہ بيگم نے دیکھا ان کی چاروں بیٹیاں پریشانی سے انکو دیکھ رہی تھیں آمنہ نے آگے ہو کر ان کو بیدار کیا تھا
علی ۔۔۔۔
علی کدھر ہے ؟؟
میرا علی وہ گاڑی سے نکلنے کو تھیں جب آمنہ نے انکو پکڑ کر بیٹھایا تھا
امی باہر بارش ہو رہی ہے بھائی وہ دیکھیں آرہے ہیں آمنہ نے سامنے اشارہ کیا تھا
جہاں علی بارش کی وجہ سے سر پر ہاتھ رکھے تیزی سے آ رہا تھا
عافیہ بيگم کی اٹکی سانس بحال ہوئی تھی
امی سوری تھوڑی دیر ہوگئی چابی گر گئی تھی گاڑی کی۔۔۔۔ اندھیرا بہت زیادہ تھا
موبائل بھی نہیں تھا ڈھونڈنے میں وقت لگ گیا
علی نے وضاحت دے کر گاڑی سٹارٹ کردی جب فاریہ کا پینڈنگ میسج عافیہ بيگم کے موبائل پر موصول ہوا تھا
علی ہم غلط جا رہے ہیں گاڑی واپس لو عافیہ بيگم نے حکم دیا تھا جس کی تعمیل علی نے فوری کی تھی
