342.8K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khof Episode 5

ثوبیہ ۔۔۔۔۔۔ملكہ لیپ ٹاپ ہاتھ میں لئے اسے آوازیں دے رہی تھی جلدی لے کر آؤ چپس بارش ختم ہوجاۓگی اور فاطمہ کو بھی بلاؤ میں مووی لگانے لگی ہوں اتنے عرصے بعد کوئی ہارر مووی آئی ہے ۔۔۔

فاطمہ جلدی سے آ کر بیٹھ گئی آپی کونسی مووی ہے؟

تامل ہے کوئی لوگوں نے کافی اچھی ریٹنگ دی ہے ۔۔۔آپی میں بیچ میں لیٹوں گی پھر بعد میں ڈر لگتا ہے مجھے ۔۔۔فاطمہ نے معصوم سا منہ بنا کر کہا ۔

اچھا اچھا جاؤ دیکھو ثوبی کہاں رہ گئی ہے

میں نہیں جا رہی خود دیکھ لیں جا کر ۔۔۔۔آپ نے اچھا کام پکڑا ہوا ہے حکم چلانے کا سب پر ۔۔۔فاطمہ نے غصے سے کہا ۔۔۔۔۔

ویسے فاطمہ بندہ کچھ تو لحاظ کر لیتا ہے بولنے سے پہلے بڑی بہن ہوں میں تمہاری ۔۔۔۔

توبہ کرو ملکہ شرم تو بیچ کھائی ہے ہماری فاطمہ نے۔۔۔۔ دن میں موسم کی وجہ سے لائٹ نہیں تھی اس نے میرے ساتھ نیٹ بھی شئر نہیں کیا اتنا کہا فیلنگ اوسم کی پوسٹ لگانی ہے ۔۔۔نہ جی نہ فاطمہ جی نے صاف انکار کر دیا ۔۔۔۔

ثوبی جو ابھی ابھی چپس کا گرم تھال ود کیچپ لے کر اندر آئی تھی اس نے لقمہ دیا ۔۔

ہاں تو سارے wifi یوز کرتے ہو چوبیس سو گھنٹے وہ ؟؟؟

میرے موبائل میں نہیں چلتا wifi اتنی سخت شرائط رکھوا کر امی نے نیٹ کا پیکیج کروا کے دیا ہے تو وہ آپ لوگوں پر لوٹا دوں؟؟؟ فاطمہ نے مجبور لہجے میں وضاحت دی

ثوبی؟؟ ملکہ نے ليپ ٹاپ رکھ کر ایک گرم چپس کو کیچپ میں ڈوبکی لگاتے ہوۓ کہا ۔۔۔

یار پلیز کوئی اور کام نہ بتا دینا فاطمہ کی بات اتنی کو غلط بھی نہیں تھی حکم چلانے والی ۔۔۔ملکہ نے صاف گوئی سے کہا ۔۔۔

نہیں یار مرو مت کوئی کام نہیں بتا رہی ۔۔۔

یہ “اوسم” تم کس وقت فیل کر رہی تھی بلا وجہ ؟ ثوبیہ بیڈ پر سیدھی ہوتی ہوئی بولی یار جب کالے بادل آگئے تھے اور تیز اندھی چلی تھی تب ۔۔۔

اہاں ۔۔۔۔اچھا جنر یٹر کا کیا بنا ٹھیک کروا لیا ہے بھائی نے ؟؟ ملکہ نے پوچھا

نہیں بھائی تو صبح کے ڈیرے سے واپس ہی نہیں آۓ۔۔۔آمنہ آپی آگئی ہیں کیا ؟؟؟

فاطمہ نے پریشانی سے پوچھا

نہیں امی بتا رہی تھیں رابی آپی کا ڈرائیور کسی وجہ سے نہیں ہے تو آپی کے یونی فیلو آپی کو لے کر آرہے ہیں بس پہنچنے والے ہو گے ۔۔۔ثوبیہ نے لحاف اوڑھتے ہوۓ جواب دیا ۔۔۔

اچھا فاطمہ اٹھ کر پردے بند کردو لائٹس بھی اف کردو مووی لگانے لگی ہوں صبح سنڈے ہے دو دو موویز دیکھیں گے پھر رج کے سوۓ گے ۔۔۔۔۔

ملكہ نے خوشی سے انگڑائی لیتے ہوۓ کہا

آپی میں ایڈجسٹ ہو گئی ہوں آپ کی طرف کھڑکی ہے آپ خود ہی کر لیں ۔۔۔فاطمہ نے دو ٹکے کا جواب سکون سے دیا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔

حاشر کو دس منٹ لگے صورتحال سمجھنے میں ۔۔۔

آمنہ کو ٹھٹرتی سردی میں بھی پسینہ کمر سے پهیسلتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔۔حاشر نے آمنہ کو دیکھتے ہوے پوچھا کیا دیکھ لیا تھا چیخی کیوں ہیں آپ ؟؟؟

کچھ نہیں وہ میری آنکھ لگ گئی تھی بس ایسے ہی ڈر گئی ہوں آمنہ نے پسینے سے بهیگتے چہرے کو چادر سے صاف کرتے ہوۓ جھوٹ بولا ۔۔۔

حد ہے یار میں تو پریشان ہو گیا تھا حاشر نے گاڑی اگین سٹارٹ کردی تھوڑی ہی دیر میں اب وہ آمنہ کے گیٹ کے آگے کھڑے تھے ۔۔۔

گیٹ فورأ کھولا گیا تھا عافیہ بيگم مین ڈور پر ہی موجود تھیں

حاشر نے اتر کر انکو سلام کیا جس کا جواب عافیہ بيگم نے بہت پیار سے دیا تھا ۔۔۔آجاؤ بیٹا اندر آجاؤ ۔۔۔

نہیں آنٹی پھر کبھی سہی ۔۔۔ابھی اجازت دیں ۔۔۔

حاشر الله حافظ کہتا ہوا روکا نہیں تھا ۔۔۔

آمنہ بیٹا تم ٹھیک ہو ؟؟

گھبرائی گهبرائی کیوں ہو ؟؟ عافیہ بيگم نے فکرمندی سے پوچھا ۔۔

نہیں امی ۔۔میں بلکل ٹھیک ہوں بس تھک گئی ہوں ۔۔۔آرام کرنا چاہتی ہوں آمنہ ماں کو ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ اندر چلی گئی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علی بھی اسی وقت اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔

امی آپ ادھر کیوں کھڑی ہیں ؟؟

بیٹا آمنہ بھی ابھی آئی ہے رابی کی طرف گئی تھی اچھا تم آؤ کھانا دیتی ہوں عافیہ بيگم نے پیار سے کہا

دونوں اندر چلے گئے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آمنہ آتے ہی سو گئی تھی ۔۔

ثوبیہ مووی دیکھتے دیکھتے سو گئی تھی ملکہ اور فاطمہ بہت دھیان سے فلم دیکھنے میں مشغول تھیں جب لائٹ چلی گئی ۔۔۔

آپی موبائل کی لائٹ تو آن کریں کتنا اندھیرا ہوگیا ہے ۔۔۔فاطمہ نے سرگوشی میں کہا

یار سونے لگی ہوں تم بھی سو جاؤ ملكہ نے بات ہی ختم کردی اور دو منٹ میں ہی اونگھنے لگی ۔۔۔

فاطمہ نے ليپ ٹاپ سائیڈ پر رکھا اور واشروم چلی گئی ۔۔۔

واشروم میں عجیب سی سمیل تھی جو ناک کو چڑ رہی تھی فاطمہ کو ابکائی آتے آتے رکی ۔۔۔

بارش تھم چکی تھی اب تیز ہوا چل رہی تھی لگ رہا تھا دور دور تک بجلی منقطع ہوئی تھی اندھیرا بہت گہرا تھا

ہاتھ دھونے کے لئے وہ واش بيسن کے آگے کھڑی تھی موبائل پاس ہی رکھا تھا اس کا چہرہ مدهم مدهم سا سامنے شیشے میں دکھائی دے رہا تھا

اچانک کسی بلی کی دلخراش آواز پر وہ چونکی تھی

فاطمہ نے روشن دان کی طرف دیکھا اور آواز کی سمت کا تعين کرنے کی کوشش کی ۔۔۔خوف کی ایک سرد لہر کمر میں محسوس ہوئی تھی ۔۔۔سر میں درد ہونے لگا تھا اچانک ۔۔۔فاطمہ نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ۔۔۔جیسے ہی آئینہ پر نظر پڑھی وہاں جو چہرہ تھا وہ اس کا اپنا نہیں تھا ۔۔۔

فاطمہ منہ پر لگاتار پانی ڈالنے لگی اسے لگا نیند کے اثرات ہیں خوب سارا پانی ڈالنے کے بعد جب دوبارہ آئینہ دیکھا وہاں موجود چہرہ اب بھی اسکا نہیں تھا فاطمہ نے دیکھا وہ نہایت ہی خوبصورت لڑکی تھی جو آمنہ کو دیکھ کر ہنس رہی تھی مگر ایک دم اس کے چہرے کے تاثرات غصے میں بدل گئے اسکی خوبصورتی بدصورتی میں بدلنے لگی اس کے چہرے پر جگہ جگہ زخم نظر آنے لگے پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گئی ۔۔۔فاطمہ یہ سب سانس روک کر دیکھتی رہی ۔۔۔

پھر وہ لڑکی غائب ہوگئی فاطمہ نے اب اپنی رکی نبض کو دوبارہ چلتے ہوۓ محسوس کیا ۔۔۔

ایک جھٹکا لگا اور وہ بیہوش ہوگئی ۔۔۔ثوبی جو فلم کے دوران سب سے پہلے سوئی تھی آنکھیں ملتے ہوۓ اٹھی اور فاطمہ کے ساتھ ہونے کا اطمینان کیا اور دوبارہ سو گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علی کھانا کھا کر کمرے میں آ کے لیٹ گیا اور اس لڑکی کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔

وہ لڑکی کون ہو سکتی ہے میں نے تو آج تک کسی لڑکی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا بس ڈائریکٹ شادی کی خواہش کی ہے ۔۔۔

مگر وہ تو انسان ہی نہیں ہے اسے اپناؤں بھی تو کیسے مگر لگ بڑی حسین رہی تھی اتنے لمبے بال ۔۔۔قد بھی اچھا تھا ۔۔۔۔۔صبح امی سے کرونگا بات کے ڈھونڈ لیں اپنی بہویں مجھے جلد از جلد شادی کرنی ہے تا کہ وہ جو بھی ہے میرا پیچھا چھوڑ دے باقی میری بیویاں خود ہی نیپٹ لے گیں اس سے ۔۔۔

کتنا مزہ آےگا دونوں کو بائیک پر بیٹھا کر ڈیرے لے کر جاؤنگا ۔۔۔گاڑی میں دونوں ساتھ میں آگے نہیں بیٹھ سکے گیں تو مزہ نہیں آے گا اگر ایک پیچھے ہوگی تو بائیک ہی ٹھیک رہے گی ۔۔۔علی گهپ اندھیرا میں اپنے روشن مستقبل کے بارے میں سوچتا سوچتا نیند کی وادی میں چلا گیا ۔۔۔رات کے تین بجے کا وقت تھا لائٹ ابھی تک نہیں آئی تھی علی کی آنکھ شدید پیاس کی وجہ سے کھل گئی ۔۔۔موبائل کی لائٹ آن کر کے وقت دیکھا اور پانی کا جگ دیکھا جو کے خالی تھا وہ کچن میں پانی پینے گیا پانی پی کر دوبارہ آ کر لیٹ گیا موبائل کی لائٹ بند کرکے کروٹ لی اسے اپنے ساتھ کوئی لیٹا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔۔

اسکی کمر پر کسی کا ہاتھ تھا اور وہ وجود اتنا پاس تھا کے وہ اس کے سانسوں کی آواز سن سکتا تھا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹراحمد ناشتے کی ٹیبل پر چاۓ کا کپ لئے سارہ کی رات والی بات کے متعلق سوچ رہے تھے ۔۔۔سارہ خاموشی سے ناشتہ کر رہی تھی ۔۔۔

سارہ کیا سوچا ہے پھر ؟؟؟

کس بارے میں ؟سارہ نے فوری جواب دیا

بچوں کے ڈھیر کے بارے میں ۔۔۔۔۔احمد نے چاۓکا سپ لیتے ہوۓ لطف اندوز ہوۓ پوچھا ۔۔۔

سارہ نے ناراض سی نظر ڈالتے ہوۓ دوبارہ ناشتہ شروع کر دیا ۔۔۔میں تیار ہوں ڈھونڈتی ہوں کوئی لڑکی آپ کی لئے ۔۔۔۔جملہ بہت کرب سے ادا ہوا تھا ۔

مجھے جلدی ہے یہ کام جتنی جلدی ہو بہتر ہوگا ۔۔۔

سارا نے حیرت سے احمد کو دیکھا تھا ۔۔۔

سارہ نے ناشتہ ختم کیا اور ہاتھ دھو کر دوبارہ سے آ کر بیٹھ گئی ۔۔۔

دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر بولنا شروع کیا ۔۔۔

تو ڈاکٹر احمد آپ راضی ہیں ؟؟؟

انفیکٹ آپ راضی تھےےےے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس میرے منہ سے سننا چاھتے تھے ؟؟؟ ہیں نہ ؟؟؟؟

ڈاکٹر احمد آرام سے چاۓ کی چسسکیاں ليتے رہے کوئی جواب نہ دیا ۔۔

کون ہے وہ ؟؟؟

میں پوچھتی ہوں کون ہے وہ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

چبا چبا کر پوچھا گیا ۔۔۔

مجھے پہلے ہی شک تھا تم پر ۔۔۔۔۔تمہارا جو دل بھر گیا ہے مجھ سے ضرور کوئی دوسری عورت آگئی ہے ہمارے بیچ ۔۔۔۔وہ روتی رہی کچھ دیر پھر خود ہی آنسو صاف کر کے بولی ۔۔۔۔

تو اب بتائیے….. ڈاکٹر احمد اب آپ کیا چاھتے ہیں ؟؟

بچے وہ بھی ڈھیر سارے ۔۔۔۔بہت آرام سے جواب دیا گیا ۔۔۔ساری میں چاہتا ہوں کے تم کوئی لڑکی ڈھونڈو میرے لئے میں واقعی شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔

میں تیار ہونے جا رہا ہوں پھر ہسپتال جاؤں گا آج ایک پیشنٹ کی سرجری ہے نائٹ میں آج آئ سی یو میں میری ڈیوٹی ہے گھر نہیں آؤں گا ۔۔۔

اب حیران ہونے کی باری سارہ کی تھی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گل خان کی آنکھ کھلی تو گهپ اندھیرا تھا اس نے باہر آ کر بجلی نہ ہونے کی وجہ جاننی چاہی موسم ٹھیک تھا آس پاس کے گهروں میں بجلی بھی تھی مگر انکا گھر ہی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔

گل خان نے نسوار نکالی اور ڈالنے کی تیاری کرنے لگا ساتھ ساتھ وہ صورتحال کا جا ئیزہ لینے لگا اسکو لان میں کوئی چلتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔

اس نے آنکھیں ملیں اور دوبارہ دیکھا لان میں پانچ عورتیں دائرے کی شکل میں چکر کاٹ رہی تھیں گل خان نے گارڈ کو بھاگ کر اٹھایا اور دیکھنے کو کہا گارڈ آنکھیں ملتا ہوا بیزاری سے اٹھا

کیا دیکھوں لالا رات کے اس اندھیرے میں ؟؟

گل خان نے اسے اپنے پیچھے آنے کو کہا

گل خان بھاگتا ہوا کمرے سے باہر آیا لان میں اب بھی پانچوں عورتیں موجود تھیں مگر اس دائرےمیں کوئی اور بھی تھا جو درمیان میں بیٹھا ہوا تھا گل خان نے غور سے دیکھا مگر کچھ نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔اپر سے وہ جو بھی تھا اپنا سر ٹانگوں میں رکھ کے بیٹھا تھا اتنے میں گارڈ کی آواز آئی جی لالا کیا دیکھوں؟؟؟

گل خان نے ہاتھ سے اشارہ کیا اب وہ دائرے کے درمیان شخص صاف دیکھائی دے رہا تھا ۔۔۔وہ گارڈ تھا جو خوفناک مسکراہٹ لئے گل خان کو دیکھ رہا تھا ۔۔