Khof by Jameela Nawab Readelle 50362 Khof Episode 10
Rate this Novel
Khof Episode 10
شام کے 6بج رہے تھے جب ڈاکٹر احمد کی آنکھ کھلی تھی کافی دنوں بعد بھرپور نیند سے انکے دماغ پر بہت اچھا اثر پڑا تھا وہ بہت ہیلتھی اور ہلکا پھلکا محسوس کر رہے تھے
موبائل اٹھا کر وقت دیکھا پھر شاور لینے چلے گئے
سارہ کمرے میں آئی تھی انہیں جاگتا دیکھ کر چاۓ رکھنے چلی گئی
ڈاکٹر احمد نے چینج کیا اور موبائل اٹھا کر کچن ایریا میں آگئے جہاں سارہ چاۓ کے ساتھ سموسے ٹرے میں رکھ رہی تھی
ڈاکٹر احمد صوفے پر بیٹھ کر کسی کو کال ملانے لگے
فون شاید پہلی رنگ پر ہی اٹھا لیا گیا تھا اور ساتھ ہی سلام بھی آیا تھا۔۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔۔جی ڈاکٹر فاروق
یس
یس
میں نے کہا تھا نہ سرجری کی ضرورت نہیں ہے
ڈاکٹر احمد نے جوش سے جواب دیا تھا
جی میں آٹھ بجے تک آجاؤں گا جی آپ ایسا کریں ایمرجنسی میں میری ڈیوٹی لگا دیں وہاں سے آئی سی یو بھی قریب پڑے گا مجھے ۔۔۔۔۔۔
جی جی آپ اس پیشنٹ کے ساتھ میری ڈیوٹی نہیں لگا سکتے نائٹ میں کیوں کے ہاسپٹل ایڈمنسٹریشن کی طرف سے اس کی اجازت نہیں ہے
As according to the administration its unnecessary
جی جی تبھی کہہ رہا ہوں ایمرجنسی میں لگا دیں
بہت بہت شکریہ ڈاکٹر فاروق ۔۔۔
چلیں پھر ملتے ہیں الله حافظ
فون بند کر کے وہ ایک اور کال ملانے لگے ۔۔۔
اسلام و علیکم۔۔۔جی تنویر آپ میرے پرائیویٹ كلینك پیشنٹ کو آیندہ میرے موجادہ ہسپتال ایڈریس پر آنے کا کہیں اب سے ان لمیٹڈ ٹائم کے لئے كلینك بند ہوگا لیکن اس ہاسپٹل میں وہ اسی پرانے وقت پر آ کر اپنا فالو اپ کروا سکتے ہیں ۔۔۔۔
جی ٹھیک ہے آپ مجھے ڈیلی کی اپائنٹمنٹ لسٹ ٹیکسٹ کر دیا کریں
اب وہ موبائل ٹیبل پر رکھ کر سارہ کی طرف متوجہ ہوۓ تھے جو ماں بننے کی احساس کی خوشی میں ہی بہت حسین لگ رہی تھی
سچ کہتے ہیں عورت کو خوبصورت لگنے کے لئے صرف خوشی کی ضرورت ہوتی ہے اگر وہ خوش ہے تو پھر خوبصورت دکھنے کے ساتھ ساتھ خوبصورت بولے گی بھی ۔۔۔۔
بیشک خاص کر عورت کے لئے۔۔۔۔ خوبصورت بولنا خوبصورت نظر آنے سے زیادہ ضروری ہوتا ہے کیوں کے تاریخ گواہ ہے جب بھی گھر بسے ہیں اس کے پیچھے عورت کی خوش اخلاقی ,برداشت اور صبر ہوتا تھا ہوتا ہے اور رہے گا ۔۔۔۔
عورت محض اپنی خوش شکلی کی بنیاد پر آج تک گھر نہیں بسا پائی ۔۔۔۔
عورت وہ ہی خوبصورت ہے جو اپنے شوہر کی نظر میں خوبصورت ہے
یہ ہی حال سارہ کا تھا وہ ڈاکٹر احمد کو آج دنیا کی حسین ترین عورت لگ رہی تھی کیوں کے وہ چپ تھی ۔۔۔
اور بہت پر سکون سی ۔۔۔۔
پوری دنیا سے بےخبر اپنے کام میں مگن تھی آج اسے کوئی سوال کوئی وضاحت درکار نہیں تھی وہ آج بے نیاز تھی ۔۔۔
سارہ کام ہوگیا ہو تو ادھر آ کر بیٹھو میرے پاس ڈاکٹر احمد نے بہت پیار سے کہا تھا
سارہ کے چہرے کی لالی اور گہری ہوئی تھی وہ سارے لوازمات کے ساتھ ٹرے ٹیبل پر لے کر بیٹھی تھی
وہ لڑتی جھگڑتی پریشان چہرے والی سارہ نہیں تھی وہ تو کوئی اور ہی لگ رہی تھی
چند دن کی اولاد کی امید نے محض چند گھڑیوں میں اسکی فطرت کو بدل ڈالا تھا
وہ انگلیاں مڑورتے ۔۔۔۔نظریں جھکاۓ ….
بنا کوئی جواب دیے ۔۔۔۔
شرماتی ہوئی احمد کو چا ۓ دینے لگی تھی
سارہ ادھر آکر میرے پاس بیٹھو ۔۔
ڈاکٹر احمد نے اپنے ساتھ صوفے پر ہاتھ رکھ کر اشارہ کرتے ہوۓ کہا تھا
سارہ بہت آرام آرام سے قبل اٹھاتی ہوئی احمد کے پہلو میں آ بیٹھی تھی
احمد میں بہت خوش ہوں ۔۔
سارہ نے آہستہ سے کہا تھا
میں بھی ۔۔۔۔۔احمد نے سارہ کو اپنے حصار میں لے کر کہا تھا
احمد میں اپنا بہت خیال رکھوں گی ۔۔سارہ نے گرمجوشی سے کہا
میں تمہارا بہت خیال رکھوں گا
احمد نے سارہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا
وہ جیسا بھی ہوگا یا ہوگی ہم اس کا آخری سانس تک ساتھ دے گے ۔۔۔
سارہ کی آواز میں بے بسی بولی تھی
اس بات پر احمد نے بنا کچھ کہے سارہ کا ماتھا چوما تھا
احمد ۔۔۔۔۔سارہ کی آواز میں دکھ تھا
جی احمد کی جان
ڈاکٹر احمد نے سارہ کے ہاتھ کو دباتے ہوۓ کہا تھا
اللّه ۔۔۔۔۔۔
اللّه پہلے کی طرح واپس تو نہیں لے لے گا نہ ؟؟؟
سارہ نے اپنے ہاتھ کو اپنے پیٹ پر رکھتے ہوۓ کہا تھا
احمد خاموشی سے سارہ کو دیکھ رہا تھا جب فاطمہ کی آواز کانوں میں گونجی تھی ۔۔۔
“جتنی جلدی ہو سکے ان لوگوں سے اپنا ہر تعلق ختم کردو ایک مکمل اور پر سکون زندگی تمہاری راہ دیکھ رہی ہے “
نہیں ۔۔۔۔
احمد نے اپنے ہاتھ کو سارہ کے ہاتھ پر رکھتے ہوۓ یقین سے کہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی رات کے ایک بج رہے ہیں آپ پہلے ہی فاریہ پھوپھو سے مکمل پتہ معلوم کر لیتی نہ اب اس خراب موسم میں اس ویران سڑک پر کب تک گاڑی چلاؤں علی نے تنگ ہوتے ہوۓ کہا تھا
بیٹا بس جو غلطی گئی ھے وہ کوور ہو جائے باقی تو راستہ سیدھا ہے اور راستے میں کہیں کوئی ریسٹورنٹ بھی ہوں گے سٹے کر لے گے رات کے لئے عافیہ بيگم نے علی کا موڈ اچھا کرنے کی کوشش کی تھی
امی ایک تو بج گیا ہے
باقی رات بچی ہی کتنی ہے جو کہیں سٹے کریں گے بس اب جلدی جلدی پہنچنا ہے مجھے اپنے مستقبل کے پاس ۔۔۔۔
علی نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ شرارتی انداز میں کہا تھا
توبہ توبہ ۔۔۔۔
علی پیچھے چار جوان بہنیں بیٹھی ہیں کچھ تو شرم کرو
ثوبیہ نے كمبل میں سے ذرا سا منہ باہر نکال کر کہا تھا
بس بن جاؤ نند تم چاروں ابھی سے ہی ۔۔۔۔
علی نے قہقہ لگا کر کہا تھا
پہلے سے بتا رہا ہوں امی میری بیویاں صرف میری خدمت کریں گیں اور گھر کے کسی کام سے ان کا کوئی سروکار نہیں ہوگا ۔۔۔۔
هاهاهاهاهاها ۔۔۔۔۔۔علی خوشی سے اچھلتا ہوا گاڑی کی چھت سے ٹکڑانے کو تھا
امی ۔۔۔۔ایک بھابھی میرا ناشتہ بنائیں گیں اور ایک میرا یونیفارم پریس کریں گیں اور وہ بھی صبح صبح ۔۔۔۔۔دونوں کام تازہ تازہ ۔۔۔۔
فاطمہ نے بھی لقمہ دیا تھا
اور بھائی ہنی مون پر ہمیں نہ بھول جانا آپکو پتہ ہے نہ مجھے سیروسیاحت کا بچپن سے کتنا شدید شوق ہے
ملكہ كمبل ہٹا کر علی کے سیٹ پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی
علی كو یہ بات برداشت سے باہر لگی تھی اس نے گاڑی روک دی
امی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھینچ کر علی نے کہا تھا
یہ کیا باتیں ہو رہی ہیں ؟؟؟ میں صاف بتا رہا ہوں وہ صرف میرا کام کریں گیں باقی گھر جیسے چل رہا تھا ویسے ہے چلے گا اور نہ ہی کوئی میرے ۔۔۔۔
ہمارے ساتھ ہںنی مون پر جائے گا
سب نےعلی کی حرکت پر دل کھول کر قہقے لگاے تھے
اچھا بھئ ….جیسا میرا علی کہے گا ویسا ہی ہوگا
عافیہ بيگم نے ہنسی بمشکل روک کر کہا تھا اب چلو بیٹا لیٹ ہو رہے ہیں
آمنہ اور تمہاری شادی ایک ساتھ ہی کروں گی بہت جلد عافیہ بيگم نے دل میں سوچا تھا
باہر کی تیز بارش اور سنسان سڑک بلاشبہ خوفناک تھے مگر گاڑی میں موجود ماحول اس سب سے یکسر مختلف تھا جہاں بس معصوم معصوم سی خوشیاں تھیں ۔۔۔۔
امی مجھے واش روم جانا ہے کوئی پیٹرول پمپ آتا ہے تو رکوادیں گاڑی ۔۔۔۔۔۔
آمنہ نے کہا
آمنہ پیٹرول پمپ تو مشکل ہے مگر یہ آگے ایک سراۓ شو ہو رہا ہے میں ادھر روک دوں گا کچھ کھا پی بھی لے گے
مگر رات کے 2بجے ادھر بچا کچا ہی ملے گا یا پھر چاۓ کافی بنوا لے گیں۔۔۔۔
علی نے گھڑی پر وقت دیکھتے دیکھتے کہا تھا
گاڑی کے اندر پتہ نہیں چل رہا تھا مگر گاڑی سے نکل کر بارش کی تیز آواز کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی
وہ سب اس سراۓ میں بھاگ کر اندر گئے تھے
اندر کوئی بھی نہیں تھا مگر مزے مزے کے کھانوں کی خوشبو پاگل کر رہی تھی اس تیز بارش میں ۔۔
علی بیٹا دیکھو واش رومز کدھر ہیں ؟؟
عافیہ بيگم نے خود سے پانی کو جھاڑتے ہوۓ کہا تھا جی امی وہ ہی ڈھونڈ رہا ہوں
علی نے لمبی گلی نما راہداری کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا تھا یہ کھانے کی خوشبو تو مار ڈالے گی علی نے خودکلامی میں کہا تھا
آمنہ وہ رہے واش روم علی نے ہاتھ سے اشارہ کیا تھا
آمنہ ساری ایک ساتھ جاؤ میں ادھر بیٹھ رہی ہوں
عافیہ بيگم نے بینچ پر بیٹھ کر کہا تھا
امی میں دیکھتا ہوں کوئی ملتا ہے تو کھانا آرڈر کرتے ہیں
علی کہتا ہوا گیا تھا
پورا سراۓ نہا یت پرانے طرز کا تھا
دیواروں پر بڑی بڑی تصویریں آویزہ تھیں مگر ان کو چادروں سے ڈھانپہ گیا تھا
علی اس گلی نما راہداری میں موجود کمروں کو کھول کر چیک کر رہا تھا سارے کمرے لاک تھے یہ کمرے دس کے لگ بھگ تھے ۔۔۔پانچ ایک طرف پانچ ایک طرف ۔۔۔۔ علی جیسے جیسے آگے جا رہا تھا کھانوں کی خوشبو قریب ہو رہی تھی
آگے کچن تھا جہاں ایک آدمی نہایت سنجیدگی سے برتن دھو رہا تھا
علی نے اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے دروازے پر دستک دی
جس کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا ۔۔۔
سنیے ۔۔۔۔۔بھائی صاحب ؟؟؟؟
کھانے کو کچھ ملے گا ؟؟؟
وہ آدمی علی کی طرف مڑا تھا
جی ۔۔۔۔۔۔بہت بھاری آواز میں جواب دیا گیا تھا
آپ سب جا کر ہال میں بیٹھ جائے کھانا آرہا ہے
علی خوشی سے جانے کے لئے مڑا تھا جب اسے اسکے سب کہنے پر حیرت ہوئی تھی
سب سے کیا مطلب ہے آپ کا ؟
گیٹ اور ریسیپشن پر تو کوئی نہیں تھا نہ آپ بھی نہیں پھر کیسے پتہ چلا ؟؟؟
جواب میں اس آدمی نے سی سی ٹی وی کی طرف اشارہ کیا تھا جہاں ہر جگہ پر کیمرہ اپنا کام کر رہا تھا
وہ آدمی دوبارہ برتن دھونے لگا تھا
كيمرے میں گیٹ پر بہت سے لوگ آتے ہوۓ دیکھے جا سکتے تھے ان کے پاس بڑے بڑے سفری بیگ بھی تھے
بینچ پر عافیہ بيگم کے ساتھ بھی دو عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں
پھر علی نے آمنہ ،ثوبیہ اور ملكہ کو دیکھا جو واش روم کے باہر فاطمہ کا انتظار کر رہی تھیں
ان کے ساتھ ایک اور خاتون بھی تھیں جو اپنے چھوٹے سے بچے کو گود میں لے کر کھڑی تھیں اس خاتون نے سیاہ رنگ کا ٹوپی والا برقعہ پہنا ہوا تھا پھر اس عورت نے سائیڈ چینج کی اب بچے کا منہ علی کی طرف مطلب کیمرہ سکرین کی طرف تھا بچہ شاید سو چکا تھا
اب علی کی نظر راہدری میں لگےکیمرے پر پڑی جہاں دس کمرے تھے وہاں ایک لڑکی چلتی ہوئی نظر آرہی تھی اس کا چہرہ نہیں نظر آرہا تھا
مگر قد کھاٹ میں اچھی لگ رہی تھی تھوڑی دیر بعد ایک بوڑھی عورت اور بوڑھا آدمی آئے تھے وہ ان دونوں سے ملی پھر ایک کمرے کا دروازہ بنا کسی محنت کے کھول کر وہ تینوں اندر چلے گئے جو کہ علی کی زور آزمائی سے کھولنے پر بھی نہیں کھلا تھا
اسی وقت عورت کی گود میں موجود بچے نے آنکھیں کھولی تھیں جو علی کو گھور رہی تھیں
علی کی بھوک اڑ گئی تھی علی بھاگتا ہوا واش روم کی طرف گیا جہاں سے چاروں آرہی تھیں
علی ان کو نظر انداز کرتا اس برقعے والی عورت کو دیکھنے آ گے گیا تھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا
پھر علی راہدری والے اسی کمرے کی طرف بھاگا اس کا دروازہ ہاتھ لگتے ہی کھلتا چلا گیا ۔۔۔
اندر بوسیدہ فرنیچر اور جالوں سے تنی ہوئی دیواریں تھیں اس کمرے میں کسی انسان کے رہنے کا تصور بھی مشکل تھا رہنا تو دور کنار ۔۔۔۔
علی کی چھٹی حس نے کسی خطرے کی گھنٹی بجائی تھی
وہ بھاگ کر دوبارہ کچن میں گیا جہاں اب نہ تو کھانے تھے نہ ہی انکی خوشبو اور نہ ہی وہ آدمی جو برتن دھو رہا تھا کچن کسی مٹی کے ڈھیر سے زیادہ نہیں تھا ایسا لگتا تھا کافی لمبے عرصے سے اسے استعمال میں نہیں لایا گیا ۔۔۔
علی بھاگ کر عافیہ بيگم کے پاس آیا جہاں آمنہ لوگ بھی کھڑی تھیں وہ پاگلوں کی طرح یہاں وہاں دیکھ رہا تھا
کیا ڈھونڈ رہے ہو علی ؟؟؟
یہاں واش روم میں پانی تک نہیں آرہا نل مٹی میں اٹے ہوۓ ہیں مٹی کے ڈھیر نے سارا سسٹم بلاک کر رکھا ہے میں تو بجلی ہونے پر بھی حیرت میں ہوں
تمیں کوئی باورچی نہیں ملنے لگا یہاں چلو چلتے ہیں کچھ دیر میں تو فجر بھی ہو جائے گی روشنی ہوجائے گی تو تگڑا سا چاۓناشتہ بھی کر لیں گے کسی اچھی جگہ سے ۔۔
آمنہ نے علی کی تلاش کو ختم کرنے کی سعی کی تھی
علی نے بنا کوئی جواب دئیے چابی نکال کر جانے کا اشارہ کیا تھا اور گیٹ پر جا کر چابی سے ہی گاڑی انلاک کی
بارش اب بھی زوروں پر تھی سب نے تیزی سے گاڑی کی طرف جا کر بیٹھنے کی کوشش کی تھی
علی نے ہوٹل کا سائن بورڈ اٹھا کر پڑھا جو اکھڑ کر لٹک رہا تھا جس پر
“سراۓ ہوٹل “
لکھا ہوا تھا جو بمشکل قابل فہم تھا
علی نے گاڑی سٹارٹ کی وہ سائیڈ ویو مرر میں اس باورچی کو اس سائن بورڈ کو اپر لٹکاتے ہوۓ دیکھ سکتا تھا جو اب ہوٹل کا کھٹہ پھٹہ شور کرتا دروازہ اندر کی طرف بند کر رہا تھا اور دن کی طرح روشن ہوٹل اب گهپ اندھیرے میں غرق ہو چکا تھا
علی نے بارش کی پرواہ کیے بنا اب گاڑی دوڑا دی تھی
عافیہ بيگم اور باقی چاروں بھی بیٹھتے ہے كمبل میں گھس کر سو چکی تھیں
ایک گھنٹہ مسلسل گاڑی چلانے کے بعد آبادی شروع ہوئی تھی اور دور کہیں اللّه کا کوئی خاص بندہ کامیابی اور فلاح کا راستہ دکھا رہا تھا
بیشک” اللّه اکبر” کی صدا بہت بڑا سہارا ہے ۔۔ .
سب ڈر دل سے رفع ہو جاتے ہیں جب اس پاک پروردیگار کے ڈر کو دل میں آنے دیا جائے ۔۔۔
کوئی موذن علی کو اس بات پر قائل کر رہا تھا کے بیشک اللّه ہی سب سے بڑا ہے ۔۔۔
آو کامیابی کی طرف
آو فلاح کی طرف
علی کے دل میں سکون اترا تھا اس نے ایک مسجد کے باہر گاڑی کھڑی کی اور اپنے ڈر کو اللّه کر ڈر کے حوالے کر دیا ۔۔۔۔
بیشک صبح کے چار رکعت میں اللّه نے بہت سکون رکھا ہے پوری رات کی تھکاوٹ ان چار رکعت کے ہاتھوں بے گھر ہوئی تھی
علی نے ہشاش بشاش موڈ میں گاڑی دوبارہ سٹارٹ کر دی تھی ۔۔۔۔
رات بہت بد نصیب ہوتی ہے کتنی ہی لمبی اور کالی ہو جائے صبح کی روشنی اسکا مقدر لکھ دی گئی ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔سر جلدی جائیں اندر ایک بہت برا ایکسیڈنٹ کیس ہے ایک مسافر بس مری جاتے ہوۓ کھائی میں گر گئی ہے جس میں دس کیجولٹیز ہو چکی ہیں یہ لوگ موقعے پر ہی دم توڑ چکے تھے پانچ کی حالت کافی تشویشناک ہے انکو آئی سی یو میں رکھا گیا ہے جن میں سے ایک دس سال کی بچی بھی ہے
ڈاکٹر فاروق نے ڈاکٹر احمد کو آتے ہی ساری صورتحال بتائی تھی
ڈاکٹر احمد نے فورأ خاص یونیفارم پہنا تھا
دس سٹریچرز پر خون کے دھبے لگی سفید چادروں میں لاشیں موجود تھیں جن کو ابھی سرد کھانے میں نہیں بھیجا گیا تھا
زیادہ تر کے چہرے شناخت کے قابل نہیں رہے تھے
پولیس کو بلایا جا چکا تھا جو اپنا کام کر رہی تھی
بس کے کچھ حصے کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لیا تھا جس سے مسافروں کا سامان بھی جل چکا تھا کچھ مسافر اس آگ کے آلاؤ کی لپیٹ میں آجانے کی وجہ سے بھن گئے تھے
ہسپتال کی ایمرجنسی میں جلے ہوۓ جسموں کی بدبو بہت ہولناک تھی
ڈاکٹر احمد کا سر ایک بارچکرایا ضرور تھا
وہ بھاگتے ہوۓ آئی سی یو کے ویری کریٹیکل یونٹ میں گئے جہاں ڈے ڈیوٹی والے دو ڈاکٹرز صورتحال سنبھالنے میں مصروف تھے
ایک پیشنٹ جس کی عمر پچاس کے لگ بھگ تھی درد سے کراہ رہاتھا
اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ چکی تھیں بس گوشت نے آپس میں جوڑا ہوا تھا
اس کے جسم کے باقی حصے میں کوئی خراش تک نہیں آئی تھی
مجھے مار دو ڈاکٹر ۔۔۔۔
خدا کا واسطہ ہے تم لوگوں کو مجھے زہر کا انجیکشن لگا دو یہ درد میری برداشت سے باہر ہے
وہ مریض ہاتھ جوڑے ڈاکٹر احمد کو دیکھتے ہوۓ بول رہا تھا
ڈاکٹر احمد نے اس کے جسم سے کپڑا اٹھا کر دیکھا تھا جہاں فوری طور پر پٹیاں باندھ کر خون روکا گیا تھا
نرس ان کو پین کا انجیکشن لگا دیں ڈاکٹر احمد کہہ کر آگے بڑھے تھے
سر انکو پچھلے دو گھنٹوں میں تین بار انجیکشن دیا جا چکا ہے مزید نہیں لگا سکتی مگر ان کا پین ہے کہ قابو میں ہی نہیں آرہا ۔۔۔
نرس نے برا سا منہ بنا کر وضاحت دی تھی
اچھا انکی سرجری کے لئے تیاری کریں انکا فوری اپریشن ہوگا اسی سے ہی پین ختم ہوگا ڈاکٹر احمد نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا تھا
اب وہ دس سالہ بچی کے پاس کھڑے تھے جو بظاہر بلکل ٹھیک لگ رہی تھی مگر ہیڈ اینجری کی وجہ سے بیہوش تھی
نرس انکا کیا سٹیٹس ہے ؟؟
ڈاکٹر احمد نے پوچھا تھا
سر انکی ساری رپورٹس کچھ دیر میں آجائیں گیں جس میں انکی سٹی سكين کی رپورٹ بھی شامل ہے پھر انکی فائل بنے گی نرس نے جواب دیا تھا
یہ نہیں بچے گی ڈاکٹر یہ مجھے اپنے باپ کو چھوڑ کر چلی جائے گی اس کی ماں نے بھی مجھے دھوکا دیا تھا وہ بھی چپ چاپ اسے میری گود میں ڈال کر چلی گئی تھی
وہ آدمی چلایا تھا
اب ڈاکٹر احمد کو سمجھ آگیا تھا کہ انکا درد پين کلر سے کیوں ختم نہیں ہوا ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر احمد کے پاس دونوں ڈیوٹی ڈاکٹرز آکر کھڑے ہوۓ تھے
جی کیا حالت ہے ان تین پیشنٹس کی ؟؟؟
They look stable
بہت پر سکون ہیں ڈاکٹر احمد نے کہا تھا
No sir they are no more
وارد بوائز ان کی میتوں کو اب باقی کی لاشوں کے پاس شفٹ کر رہے تھے
جس طرح کا ایکسیڈنٹ تھا ان سب کا مرنا حیران کن نہیں ہے بلکہ ان دو مریضوں کا بچ جانا حیرت میں ڈال رہا ہے مجھے ۔۔۔
ایک ڈاکٹر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا
چلیں جو اللّه کو منظور ۔۔۔۔
اس پیشنٹ کی سرجری آج رات کو ہی ہوگی جبکہ اس بچی کے ساتھ کیا کرنا ہے یہ انکی رپورٹس آجانے کے بعد ڈیسائیڈ کریں گیں ۔۔۔
ڈاکٹر احمد نے کہا تھا
رات ہی اس مریض کی دونوں ٹانگوں کو دھڑ سے الگ کر دیاگیا اور اسے اور اسکی بیٹی کو آئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا صبح کے 6بج رہے تھے ۔۔۔۔
آج شام تک واپس آؤں گا سارہ کو میسج کر کے ڈاکٹر احمد ریسٹ روم میں آ گئے تھے
دن کے ایک بج رہے تھے جب ڈاکٹر احمد نے کھانا منگوا کر کھایا پھر فریش ہو کر وہ آئی سی یو میں آۓ تھے ۔۔۔
سب سے پہلے وہ بچی کے پاس آۓ تھے جن کی سٹی سکین کی رپورٹ نے کوئی اچھی خبر نہیں دی تھی
وہ چند گھڑیوں کی مہمان تھی کیوں ان کا برین سویلڈ ہو چکا تھا اور کسی بھی وقت اپنا کام چھوڑ سکتا تھا
یہ کس کی فائل ہے ؟؟؟
ڈاکٹر احمد نے سرجری والے مریض کی ٹیبل پر موجود فائل اٹھا کر نرس سے پوچھا تھا
سر یہ انکی ہی فائل ہے کل سرجری سے پہلے جب ان کو چینج کروایا تھا تب ان کے جیب سے جو سامان نکلا تھا اس میں موجود آئی ڈی کارڈ سے دیکھ کر ان کا نام فائل پر لکھا ہے اور ان سے بھی كنفرم کیا تھا
نرس نے تفصیل سے جواب دیا تھا
احمر علی ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر احمد نے یہ نام فائل پر دوبارہ پڑھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت خوبصورت جگہ ہے یہ تو امی۔۔۔۔
یہاں تو رہنے کا بہت زیادہ مزہ آۓگا ۔۔۔
گاڑی فارم ہاؤس کی حدود میں داخل ہوئی تھی جب فاطمہ نےخوشی سے اچھل کر کہا تھا
علی تم جاتے ہی سو جانا سارے فنکشنز رات کے ہیں تم نیند پوری کر لو ۔۔۔۔۔
عافیہ بيگم نے کہا تھا
اب گاڑی فارم ہاؤس کے اندر داخل ہوئی تھی جہاں بلند آواز میں موسیقی نے ماحول کو گرمایا ہوا تھا
علی کا چہرہ خوشی سے دھمک رہا تھا اسے دیکھ کر کہیں سے نہیں لگ رہا تھا اس نے بے آرامی میں رات گزاری ہے ۔۔۔۔
امی ۔۔۔
آمنہ ,ثوبی ,ملکہ, فاطمہ دیکھو مجھے ٹھیک لگ رہا ہوں نہ کیا پتہ جاتے ہی پہلی ملاقات ہو جائے مستقبل کی ایک بیوی سے ۔۔۔۔
علی نے ہنںستے ہنںستے کہا تھا
تم عافیہ کے اکلوتے وارث ہو ۔۔۔تمہیں ظاہری خوبصورتی کے لئے یہ تعارف ہی کافی ہے میری جان ۔۔۔۔
عافیہ بیگم کی گردن میں سریا آگیا تھا
امی سیدھا سیدھا بتا دیں کیسا لگ رہا ہوں ؟؟
علی نے ناراض ہوتے ہوۓ کہا تھا
اچھے لگ رہے ہو ۔۔۔
عافیہ بيگم نے سر پر پیار دے کر کہا تھا
فاریہ بيگم استقبال کے لئے پہلے سے موجود تھیں
ہاۓ میرا نعیم ۔۔۔۔۔۔
مجھ بد نصیب کو تو آخری ديدار بھی نصیب نہیں ہوا اپنے منہ بولے اکلوتے بھائی کا ۔۔۔۔
فاریہ بيگم عافیہ بيگم کے گلے لگ کر باقاعدہ روتے ہوۓ کہہ رہی تھیں
انکا ایکسیڈنٹ ہی اتنا شدید ہوا تھا پھر لاش بھی پورے ہفتے بعد ملی تھی جھاڑیوں سے ۔۔۔
حالت ایسی نہیں تھی کے رکھتی انکو ۔۔۔۔بس ان کو مرے ہوۓ کو مزید رسواہ نہیں کر سکتی تھی آپ تو جانتی ہیں لوگوں کو ۔۔۔۔۔
میت پر بھی رحم نہیں کرتے۔۔۔۔
جتنا منہ اتنی بات ۔۔۔۔
میت کی حالت دیکھ کر طرح طرح کے گناہ جوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔
بس اسی لئے جب دفنا دیا تو سب کو خبر کی ۔۔۔میرا اللّه جانتا ہے باجی مجھ پر کیسا قیامت کا دن تھا وہ ۔۔۔
عافیہ بيگم پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھیں ۔۔۔
یہ چاروں چھوٹے تھے اور فاطمہ سے میں امید سے تھی جب یہ ظلم ہوا مجھ پر ۔۔ .
امی ۔۔۔علی نے ماں کو گلے لگایا تھا
آمنہ ثوبیہ ملكہ اور فاطمہ بھی ماں کے ساتھ رو رہی تھیں
فاریہ بيگم کا دل ٹھنڈا ہوگیا تھا اس بات سے سب کو رلا کر سو اب وہ بس رونے کی آواز نکال کر ہی اپنی موجودگی جتلا رہی تھیں
پھر وہ پانچوں کو ایک ساتھ اکھٹا کر کے میرے نعیم کے بچے کہہ کر بین ڈالنے لگیں ۔۔۔
پھوپھو پھر پھوپھو ہی ہے چاہے سگی ہو یا سوتیلی غریب ہو یا امیر ۔۔۔
رنگ میں بهنگ ڈالنا ۔۔۔۔۔
خوشی کے ماحول کو محض چند لمحوں میں اداسی میں بدلنا اس کے با ئیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔۔۔
عافیہ بيگم نے فاریہ بيگم کو دیکھ کر سوچا تھا ۔۔۔
