506.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khof Episode 2

آمنہ عافیہ بيگم کے پاس کچن میں آئی جو کے علی کے لئے دیسی مرغے کی یخنی بنا رہی تھیں ۔۔۔

امی جی ۔۔۔آمنہ منمنائی ۔۔۔۔۔

جس کا جواب ماں نے محض گھور کے دیا ۔۔۔

امی جی ۔۔۔۔میری پیاری امی میری اکلوتی امی ۔۔۔۔

آمنہ کو اپنی بات منوا نے کے لئے پہلے ماں کا موڈ ٹھیک کرنا تھا جو کے صبح علی کی خدمت نہ کرنے پر سخت بگڑا ہوا تھا ۔۔۔

آمنہ جاؤ یہاں سے ورنہ علی کو آج تمہاری بھی یخنی پلا دونگی ۔۔۔۔

امی ۔۔۔۔۔۔۔ایسے نہ کیا کریں میں 23 کی ہو گئی ہوں کوئی چھوٹی بچی تھوڑی ہوں جو ایسے ہی کچھ بھی کہہ سنا دیتی ہیں ۔۔۔

عافیہ بيگم علی کی وجہ سے پریشان نہ ہوتيں تو یقیناً آمنہ کی طبیعت صاف کر دیتیں ۔۔۔۔

اچھا بولو کیا بات ہے ؟؟؟

امی میں اپنی دوست رابی کے گھر جانا چاہ رہی ہوں کل پورے دن کے لئے سب uni فرینڈز اکھٹے ہو رہے ہیں ۔۔۔۔

اچھا واپسی ؟؟؟جاؤ گی کس کے ساتھ اور چھوڑ کر کون جائے گا ؟؟؟علی تو سدھ بدھ ہی کھو گیا ہے ۔۔۔

ہاۓ میرا علی ۔۔۔۔۔

عافیہ بيگم باقاعدہ رونے لگیں۔۔

تبھی تو دو دو بیویوں کا کہتا ہے جانتا ہے نا۔۔۔۔۔ ماں نہ رہی تو بہنوں کو تو احساس ہی نہیں اسکا ۔۔۔

امی ۔۔۔۔اب ایسا تو مت کہیں نا۔۔۔۔

بھائی ٹھیک ہو جائے گے۔۔۔بہت جلد انشااللہ ۔۔۔۔

عافیہ بيگم لال آنکھوں سے یخنی میں چمچہ ہلاتی رہیں ۔۔۔

امی وہ رابی ڈرائیور کے ساتھ آجاۓگی مجھے لینے اور شام میں چھوڑ بھی جاۓگی ۔۔۔

اچھا چلی جانا ۔۔۔ابھی جاؤ دیکھو علی کو ہوش آیا کے نہیں ۔۔۔۔عافیہ بيگم نے اپنی بھری ہوئی ناک کو بہت نفاست سے اپنے دوپٹے سے صاف کیا اور یخنی کو تلی میں ڈال کے نمک برابر ہونے کی تسلی کی ۔۔۔۔

آمنہ علی کے کمرے کے قریب پہنچی تو کچھ آوازوں نے اس کے قدم روک دیے ۔۔۔

وہ آوازيں بہت سے لوگوں کے ایک ساتھ بولنے کی تھیں متن سمجھ سے باہر تھا شدید تیز آوازیں ۔۔۔۔

آمنہ نے جیسے ہی دروازہ کھولا علی بےسد پڑھا تھا ۔۔۔آمنہ پریشان کھڑی علی اور پورے کمرے کو دیکھ رہی تھی اتنے میں عافیہ بيگم یخنی کا کٹورہ لے کر آ گئی ۔۔علی ۔۔۔۔علی ۔۔۔۔علی ۔۔۔۔اٹھ جاؤ نا عصر ہونے والی ہے ۔۔۔۔۔

آمنہ کو معاملہ خراب لگنے لگا تھا وہ ماں کو بتا کر وضو کرنے چلی گئی نماز پڑھی پھر قرآن پاک علی کے سرہانے بیٹھ کر پڑھنے لگی سورہ بقرہ کی تلاوت شروع کرنے کی دیر تھی کے علی نے کروٹ بدل کر ہوش میں آنے کی نشاندہی کر دی ۔۔۔

علی جیسے ہی ہوش میں آیا ماں کے گلے لگ کر بے آواز رونے لگا ۔۔۔عافیہ بيگم نے اسے رونے دیا کوئی سوال نہ کیا ۔۔۔

آمنہ نے تلاوت جاری رکھی ۔۔

امی ۔۔۔۔جو میں نے کل دیکھا وہ جھوٹ تھا نا سب ؟؟؟؟؟

عافیہ بيگم نے نہ سمجھی سے علی کو دیکھا ۔۔۔

بیٹا کیا دیکھا ہے تم نے کل اور بے ہوش کیوں ہوۓ تھے ؟؟

علی دوبارہ گزشتہ رات کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔

اس کی حالت سے لگ رہا تھا وہ خود کو ادھر ہی محسوس کر رہا ہے ۔۔۔

امی ۔۔۔۔میں جیسے ہی دروازے میں گیا بھینسوں کا باڑہ ۔۔۔۔۔امی وہ ساری بھینسیں میری طرف ایک ساتھ دیکھ رہی تھیں ۔۔۔ مجھے ان کا دیکھنا عجیب نہیں لگا مگر ۔۔۔۔

امی میں جب سو کر دوبارہ انکو دیکھنے گیا وہاں کوئی بھی بھینس نہیں تھی بلکے کالے کپڑوں میں ملبوس میں نے وہاں بہت سے لوگوں کو دیکھا جو ایک ساتھ میری طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔

وہ مسلسل اپنے جسم کو کھروچ رہے تھےیہ سب اتنی تیزی سے ہو رہا تھا اور اس سےپیدا ہونے والا شور اس تیز ہوا میں بھی سنائی دے رہا تھا

انکی خالی آنکھیں مجھ پر جمی ہوئی تھیں

امی ۔۔۔وہ کالی رات ۔۔۔۔چمکتی بجلی ۔۔۔بے رنگ ہوا ۔۔۔۔

امی ان لوگوں کی کالی آنکھیں ۔۔۔

امی سفیدی نام کا کچھ نہیں تھا وہاں ۔۔

بس کردو بیٹا میں مزید نہیں سن پاؤگی ۔۔۔

عافیہ بيگم کانپنے لگ گئی ۔۔۔آمنہ نے سورہ الناس کی تلاوات بلند آواز میں شروع کردی جس سے علی بہتر ہونے لگا ۔۔

اتنے میں شبو کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔۔

بيگم صاحبہ نہانے کے لئے سر میں تیل ڈالا تھا سوچا كنگی بھی کر لونگی باریک كنگی ۔۔۔

مگر کمرے کا ماحول دیکھتے ہوۓ اس نے بات بیچ میں ہی چھوڑ دی ۔۔۔

ثوبیہ اور ملكہ کالج سے آ چکی تھیں دونوں کا بھوک سے برا حال تھا ۔۔۔

ثوبی ۔۔۔کیا بنا ہے کھا نے میں؟؟؟دیکھو ذرا

آج صبح امی نے لنچ میں بھی کچھ نہیں تھا دیا(عافیہ بيگم نے شروع ہی سے پانچوں بچوں کو گھر کے کھانے کی عادت ڈالی تھی جو اب تک قائم تھی ) بھائی کی وجہ سے سارا دن بھوکے گزارا اوپر سے ڈرائیور انکل نے بھی ٹائر کو آج ہی پنکچر کرنا تھا ۔۔۔

ملكہ۔۔۔ بھائی سے یاد آیا کیا ہوا ہوگا انکو جو بیہوش ہی ہو گئے ؟؟؟

کیا پتہ مستقبل کی بھابھیاں ایک ساتھ مل گئی ہو کہیں ۔۔۔ اور بھائی کو دبوچ لیا ہو گا ۔۔۔۔

ویسے کتنا مزہ آے گا نا دو دو بھابھیاں جب مل کر بھائی کو ماریں گیں ۔۔۔ہاہاہا ۔۔

دونوں نے اجتماعی قہقہ لگایا ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاطمہ جو ٹیسٹ کی تیاری کی وجہ سے آج گھر پر ہی تھی ان دونوں کے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔۔

ثوبیہ نے نوالے سے منہ بھرتے ہوے بھاری آواز میں پوچھا کیا ہوا کاکی بارہ کیوں بج رہے ہیں منہ پر ؟؟

فاطمہ آہستہ آہستہ آواز میں بولی ۔۔۔۔

آپی وہ تیاری نہیں اچھی میری ٹیسٹ کی ۔۔۔

ملكہ نے تقريبا چلاتے ہوے کہا کیوں ؟؟؟؟

آپی وہ ۔۔

میں منام پڑھ رہی تھی ۔۔۔ پتہ ہی نہیں چلا وقت کا ۔۔۔۔آج ہی 34 قسطیں پڑھ لیں ہیں ۔۔ پرجوش انداز میں بولی

فاطمہ نے اس خبر کے ساتھ ایسے دیکھا جیسے کوئی میڈل کی حق دار ہو منام پڑھنے پر ۔۔۔

ملكہ نے وہ میڈل پنجے کی شکل میں اسے نواز دیا ۔۔۔

چلو ٹھیک ہے اب کل پھر ٹیسٹ میں یہ ہی لکھ دینا جو کیا ہے آج ۔۔۔

آپی ۔۔۔آپ ریسٹ کر لیں پھر مجھے تیاری کروا دیں پلیز ۔۔۔ اب کی بار ٹیسٹس میں مارکس کم اے تو امی نےصاف کہا ہے شبو کو فارغ کر کے اس کے سارے کام مجھے دے دیں گیں ۔۔۔

اچھا اچھا ۔۔۔ابھی چار بج رہے ہیں عشاء کے بعد آنا میرے پاس ابھی جا کر میرا یونیفارم دھو کے ڈال دو ۔۔ملكہ نے حکمیہ انداز میں کہا ۔۔

فاطمہ کا دل کیا ڈائننگ الٹا دے ملكہ پر مگر پھر نعمان (زید ذولفقار کے مشہور ناول منام کا کردار کا نام ہے )کا صبر یاد کر کے ضبط کر لیا ۔۔۔

کھانا کھانے کے بعد تینوں علی کے کمرے میں گئیں جہاں علی کو عافیہ بيگم یخنی پلا رہی تھیں علی نے مسکرا کر بہنوں کو دیکھا کمرے کا ماحول قدر ے نارمل تھا

بھائی کیا ہوا تھا ؟؟؟ فاطمہ نے معصومیت سے پوچھا

کچھ نہیں بیٹا بس پهسل گیا تھا بارش میں ۔۔

سر لگ گیا تھا جس سے بیہوش ہوگیا ۔۔۔

بھائی بس جلدی سے ٹھیک ہو جائیں ۔۔۔فاطمہ نے لاڈ سے کہا ۔۔۔

اگلی صبح ۔۔۔

امی رابی آگئی ہے میں نکل رہی ہوں آمنہ نے ماں کو کچن میں جاتے جاتے بتایا ۔۔۔

جلدی آجانا ۔۔۔

کوئی ڈرائیور بھی رکھنا پڑے گا کرتی ہوں بات گارڈ چاچا سے عافیہ بيگم بڑبڑاتے ہوۓ خود سے بولیں ۔۔۔

امی ڈیرے پر جا رہا ہوں ایک بھینس بیمار تھی ابھی عبدالله کا فون آیا ہے طبیعت زیادہ خراب ہوگئی ہے اسکی ڈاکٹر کو لیتا جاؤں گا ۔۔

عافیہ بيگم نے بیٹے کو نارمل دیکھ کے سکون کا سانس لیا ۔۔۔

علی نے گاڑ ی کی بجاۓ بائیک نکالی اور ڈاکٹر کے كلینك کی طرف راستہ لیا ۔۔۔جہاں ڈاکٹر فرقان پہلے ہی ان کے منتظر تھے ۔۔۔

ڈیرے پر جاتے جاتے ڈیڑھ گھنٹہ لگ گیا ۔۔۔

سارے نوکر بھینس کے گرد جمع تھے جو نیچے لیٹی ہوئی تھی اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی اور عجیب فلک شگاف آوازیں ۔۔۔

علی کے آنے کی دیر تھی بھینس اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور علی کو دیکھنے لگ گئی بھینس کی انکھوں سے پانی موتیوں کی طرح گرنے لگا جیسے رو رہی ہو اب ڈاکٹر فرقان بھینس کا چیک اپ کرنے لگ گئے جو دل ہی دل میں بھینس کی حالت پر حیران تھے مگر بظاہر اسے کچھ جانورں کی مخصوص دوائی دینے کو کہا اور دو انجکشن لگا دیے ۔۔۔

رابی کے گھر سارے گروپ کے فرینڈز فیلوز جمع تھے خوب ہنسی مذاق چل رہا تھا ۔۔

رابی کا گھر اسلام آباد H8میں ایک پوش علاقےمیں تھا جہاں مشہور قبرستان ہے جہاں پروین شاکر بھی ابدی نیند سو رہی ہیں ۔۔۔

حاشر کو ہر گیدرنگ میں آنے کے لئے گروپ کا ہر ممبر خاص فون کر کے مدعو کرتا تھا ۔۔۔

محفل کی جان کا لقب حاشر کے حصے میں آیا تھا ۔۔۔

پرانی یادیں تازہ کرکر کے سب خوب منہ کھول کھول کر ہنستے رہے ۔۔۔

آمنہ کچن میں پانی پینے گئی وہاں حاشر پہلے سے موجود تھا ۔۔۔

پانی ۔۔۔

پانی پینے آئی تھی ۔۔ آمنہ نے پزل ہوتے ہوے کہا ۔۔

تو پی لیں جناب ۔۔۔کس نے روکا ہے ۔۔۔

حاشر نے کند ھے اچکاتے ہوے جواب دیا ۔۔۔

گلابی آنکھیں جو تیری دیکھیں ۔۔۔۔

دیوانہ یہ دل ہوگیا ۔۔۔۔

گنگنا تے ہوے حاشر وہاں سےچلا گیا ۔۔۔۔

آمنہ نے شکر کیا اور پانی پی کر وہاں سے چلتی بنی ۔۔۔سب لوگ جا چکے تھے پارٹی ختم کر کے آمنہ سب سے اپر منزل پر کھڑی سب کو جاتا دیکھ رہی تھی ۔۔

اس سب کے دوران آمنہ کی نظر قبرستان کی طرف جاتے ہوے ایک جنازے پر پڑی جنازے میں زیادہ لوگ نہیں تھے محض 20 سے 30 لوگ ہونگے ۔۔۔

جنازہ کسی بچے کا تھا کیوں کے میت دور سے چھوٹی لگ رہی تھی شاید لوگ کم ہونے کی یہی وجہ تھی ۔۔۔

آمنہ نے ایک سر سری سی نظر ڈالی پھر اندر جانے کو مڑی ۔۔۔دو قدم ہی چلی کے کھودائی کرنے کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی….پیچھے مڑنے کی دیر تھی وہ قبرستان میں کھڑی تھی جہاں قبر کھودی جا رہی تھی گورکن کالے لباس میں ملبوس تھا اس کا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا کیوں کے اس کے سر پر گھونگھٹ نما کالی چادر تھی ۔۔۔آمنہ ۔۔۔

رابی کی آواز پر وہ چونکی ۔۔۔۔

آمنہ یار وہ ڈرائیور کے والد کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی تھی وہ جب سے تمہیں لے کر آیا تھا تب سے ہی غائب ہے ابھی فون کرنے پر اس نے آنے سے معذرت کر لی ہے ۔۔۔بادل زور سے گرجا تھا ۔۔۔آمنہ نے خوفزدہ انداز میں پوچھا ۔۔۔رابی یہ قبر کس کی کھود رہی ہے ۔۔

ہیں ؟؟؟؟؟؟

رابی نے حیرانگی سے کہا ۔۔۔۔کونسی قبر ؟؟

میرے پیچھے دیکھو ۔۔۔۔آمنہ نے انکھوں سے اشارہ کیا