506.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khof Episode 7

ڈاکٹر فاروق ڈاکٹر احمد کو او ٹی میں بلانے آۓ تھے ساڑھے تین بج چکے تھے سارے سرجن لاسٹ میٹنگ میں سرجری کی ڈسکشنز فائنلائز کرنا چاہتے تھے ۔۔۔

ڈاکٹر احمد ان کے ساتھ چلے گئے جہاں ایک بڑی ٹیبل کے اردگرد تمام سرجنز اور کچھ اور سینئر سٹاف بھی موجود تھا

ڈاکٹر احمد چونکہ وہاں نئے تھے لہذا سب سے ان کا انٹروڈکشن کروایا گیا ۔ ۔۔

رسمی باتوں کے بعد سرجری کے حوالے سے سب نے اپنی پنی راۓ رکھی ۔۔۔۔

ڈاکٹر احمد اس پوری گفتگو میں بلکل خاموش رہے ۔۔۔

جب سب بول چکے اب آخری راۓ ڈاکٹر احمد کی تھی سب ان کی طرف متوجہ ہو کر دیکھ رہے تھے جب ڈاکٹر احمد کی بات نے سب کو حیران کر دیا ۔۔۔

میرے خیال سے یہ سرجری بلکل غیر ضروری ہے نہ میں یہ خود کروں گا اور نہ ہی آپ لوگوں کو کرنے دونگا ۔۔۔

اس سے پہلے کے کوئی سوال کرتا ڈاکٹر احمد نے بات جاری رکھی ۔۔۔

اور میں یہ بات ثابت کرونگا کب ۔۔۔

اور کیسے۔۔۔ یہ میں نہیں جانتا مگر میں کروں گا ۔۔۔

ڈاکٹر احمد ہم بہت قدر کرتے ہیں آپ کی قابلیت کی آپ ہمارے ملک کے بہت بڑے سرجن ہیں مگر میں بتاتا چلوں یہاں موجود سرجنز اور سٹاف بھی کوئی معمولی قابلیت کا حامل نہیں ہے ۔۔۔ڈاکٹر فاروق کا انداز نہایت پیشہ وارانہ تھا

ڈاکٹر احمد کھڑے ہو کر باقاعدہ پریزینٹیشن دینے لگے ۔۔۔۔۔

میں نے اس فائل کو شروع سے پڑھا ہے یہاں لکھا ہے جب آج سے دس سال پہلے پیشنٹ کسی ایکس وائے ذی ہوسپٹل میں خود چل کر آیا تھا تب یہ پروپرلی بول سکتے تھے انکو بس شدید سر درد کی دوا درکار تھی انکو پین کلر ٹیبلٹس اور بعد میں پین کلر انجکشن لگاۓ گئے مگر مریض کو اس سے ایک لمحہ بھی سکون میسر نہیں ہوا ۔۔۔

نوبت یہاں تک آگئی تھی کہ یہ سر پکڑ کر دیواروں میں مارنے لگے تھے

کومے میں جانے سے کچھ دن پہلے کی بات ہے یہ ہاتھ جوڑ جوڑ کر پوری رات کسی سے معافی مانگتے تھے اور پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ چیخنے چلانے لگتے تھے جیسے معافی دینے والے نے انکار کر دیا ہو ۔۔۔

شروع میں ایک خاتون کو ان کے بیڈ کے چکر کاٹتے دیکھا گیا مگر پھر اس نے بھی آنا بند کردیا

ان خاتون سے انکا کیا رشتہ تھا یہ کوئی نہیں جانتا ہاں مگر وہ جتنے دن بھی آئی اس کو ایک خاص مشروب پلاتی اور اس کے بستر کے گرد چکر کاٹتی بہت بار وہاں موجود دیکھنے والے وجہ پوچتے تھے مگر وہ کسی سے بات نہیں کرتی تھی ایک خاص وقت میں آتی اپنا عمل دوہراتی اور چاپ چلی جاتی ۔۔۔۔۔۔پیشنٹ خاتون سے کوئی بات نہیں کرتے تھے بس وہ مشروب پی لیتے تھے

اس پورے عرصے میں کسی بھی نام کا ذکر نہیں آتا اس پوری فائل میں سواے ایک نام ۔۔۔۔۔

زینب ۔۔۔۔۔۔۔

کومے کی رات اسی نام کو مریض مسلسل دوہرا رہا تھا مجھے مار دو مگر میرے ساتھ ایسا مت کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔

زینب ۔۔۔۔۔۔

اسکے بعد مریض خاموش ہوگیا اور آج تک ہے ۔۔۔۔۔۔میں اس سائینسی دور میں تہم پرستی کی بات نہیں مانتا ۔۔۔مگر اس کیس میں۔۔۔۔۔

میں یہ بات ماننے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتا ۔۔۔

کچھ ہے جو ہم ڈاکٹرز کو نہیں بتایا گیا بس اس کو ہی ڈھونڈنا ہے مجھے۔۔۔۔ آپ سب معزز ساتھیوں کی اجازت سے ۔۔۔

ہال میں موجود سب لوگ منہ کھولے کسی دلچسپ کہانی کی طرح ڈاکٹر احمد کی بات سن رہے تھے ۔۔۔

اگلا سوال ڈاکٹر احمد کی بجاے ڈاکٹر فاروق سے کيا گیا تھا پينل میں موجود ایک سرجن کی طرف سے ۔۔۔۔

ڈاکٹر فاروق جو ڈیٹا ہمیں دیا گیا تھا آپ پیشنٹ کی فائل میں اس میں تو ان سب باتوں کا کوئی ذکر نہیں تھا یہ ڈاکٹر احمد کیا بات کر رہے ہیں ؟؟؟

ڈاکٹر احمد نے فائل کھول کر سب کے سامنے رکھی تھی مگر وہاں موجود سب لوگ سوالیہ نظروں سے ڈاکٹر احمد کو دیکھنے لگے تھے ۔۔۔۔۔

کیونکہ فائل میں ان کی بتائی ہوئی باتوں میں سے ایک بھی بات موجود نہیں تھی وہ وہی فائل تھی جسے سب الریڈی اسٹڈی کر چکے تھے ۔۔۔۔۔۔

اب حیران ہونے کی باری ڈاکٹر احمد کی تھی ۔۔۔۔

———————

عافیہ بيگم اپنے کمرے میں مسلسل کسی کا نمبر ڈائل کر رہیں تھیں وہ نمبر بند ملنے کی وجہ سے سخت کوفت اور پریشانی کا شکار تھیں جب شبو نے آکر گل خان کے آنے کا بتایا تھا ۔۔۔۔۔۔تو کیا کروں یہ تم مجھے کیوں بتا رہی ہو ؟؟ عافیہ بيگم نے سارا غصہ شبو پے نکالا تھا

بيگم صاحبہ وہ کہہ ہے آپ سے ضروری بات کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔

اچھا جاؤ میں آتی ہوں ۔۔عافیہ بيگم کا انداز جان چھڑانے والا تھا ۔۔۔وہ ایک بار پھر نمبر ملانے لگیں ۔۔۔۔

گل خان عافیہ بيگم کے آنے پر کھڑا ہوگیا اور سلام کیا ۔۔۔

جس کا جواب عافیہ بيگم نے محض بیٹھ جانے کے اشارے کے ساتھ سر ہلا کر دیا ۔۔۔

باجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کل ہمارا طبیعت خراب ہوگیا تھا رات کو ہم کو گھر جانا پڑا ۔۔۔۔ہممممم ۔۔۔۔۔۔عافیہ بيگم نے کہا

اصل میں ڈر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔یہ بات کر کے گل خان نسوار ڈالنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔

عافیہ بيگم کو سخت تپ چڑ رہی تھی یہ دیکھ کر ۔۔۔۔۔

۔

باجی۔۔۔۔ ماجرہ کیا ہے یہ اب آپ ہم کو خود ہی بتا دو تو زیادہ بہتر ہو گا ۔۔۔۔

عافیہ بيگم کو ایک دم دھچکا لگا تھا وہ ایسا کوئی سوال سننے کے لئے تیار نہیں تھیں ۔۔۔

ككکک ۔۔۔ ۔۔۔۔کیا مطلب ہے تمہارا ؟؟؟؟ عافیہ بيگم کھڑی ہوگئی تھیں ۔۔۔

باجی آپ بیٹھ جائیں ۔۔۔۔پریشان نہ ہو ۔۔۔۔۔ اپکی چھوٹی بیٹی فاطمہ کی طبیعت خراب ہے شبو باجی نے بتایا ہے ہم کو اسی کا پوچھ رہا ہے ہم ۔۔۔۔شاید ہمارے دم سے وہ بہتر ہو جائیں ۔۔۔۔۔گل خان نے تھوک سے بھرے ہوۓ منہ سے کہا ۔۔۔

نہیں وہ ٹھیک ہے اب ۔۔۔ اسکی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔آپ کا شکریہ ۔۔۔عافیہ بيگم کی جان میں جان آئی تھی ۔۔

ٹھیک ہے باجی اگر ہمارا ضرورت ہوگا تو بتانا ہم حاضر ہوں ۔۔۔۔گل خان نے ادب سے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔

جی ضرور ۔۔۔۔یہ کہہ کر عافیہ بيگم اٹھ کر چل پڑیں ۔۔۔

———————————

فاطمہ کمرے میں سو رہی تھی جب آمنہ اس کو دوپہر کا کھانا کھلانے کمرے میں آئی تھی ۔۔۔۔۔آمنہ نے کھانا رکھا اور فاطمہ کو پیار سے پچکارہ ۔۔۔۔فاطمہ گہری نیند میں لگ رہی تھی ۔۔۔۔آمنہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر کھانا اٹھا کر جانے کو تھی جب فاطمہ کی آواز کانوں سے ٹکڑائی تھی ۔۔۔۔

آپی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جی میری جان آمنہ فورأ پلٹی تھی ۔۔۔

ابو کی قبر کدھر ہے ؟؟کبھی گئی ہیں آپ اس پر ؟؟؟

آمنہ کو سوال بہت عجیب اور غیر متوقع لگا تھا ۔۔۔

ہاں بہت بار گئی ہوں کیوں کیا ہوا ؟؟؟آمنہ نے پاس بیٹھ کر اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔۔۔

آپی وہ قبر ابو کی تو نہیں ہے۔۔۔۔

فاطمہ کی آنکھوں سے نکلا آنسو گال پر آ رکا تھا

———————————

علی باہر جانے کے لئے چینج کر کے تیار ہوا پھر عافیہ بيگم کے کمرے میں چلا گیا جو سر پکڑ کر بیٹھی تھیں ۔۔۔

امی ۔۔۔۔کیسی ہے فاطمہ کیا ہوا ہے اسکو ؟؟؟کچھ بھی نہیں ہوا ۔۔۔۔کچھ ۔۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہوا ۔۔۔ عافیہ بيگم کھڑی ہو گئی تھیں ۔۔۔بیٹا آپ کو کس نے بتایا ہے ؟؟؟

ملکہ اور ثوبیہ کو جب آپ نے کمرے سے نکالا تھا تب وہ میرے پاس آئی تھیں وہ بتا رہی تھیں ۔۔۔علی نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھاتے ہوۓ کہا

اچھا امی بتائیں کیا سوچا ہے پھر میری شادی کا ؟؟؟

بہت دھوم دھام سے کرونگی ۔۔۔۔عافیہ بيگم نے خوشدلی سے کہا ۔ ۔ . ۔۔۔

جی امی مگر کریں گیں کس کے ساتھ خاندان میں ہے کوئی آپکی نظر میں ؟؟

بیٹا ابھی نیکسٹ ویک فیملی میں ایک شادی ہے وہاں ہم سب بھی انوائٹیڈ ہیں وہاں پورا خاندان شرکت کرے گا ادھر آپ بھی دیکھنا میں بھی دیکھ لوں گی کوئی لڑکی۔۔۔۔ شاید میرے بیٹے کی تلاش ختم ہو جائے ۔۔۔فیصلہ تو ہم نے ہی کرنا ہے آخر خاندانی رائیس جو ٹھہرے ۔۔۔ عافیہ بيگم نے تکبرانہ انداز میں کہا ۔۔۔