Khof by Jameela Nawab Readelle 50362 Khof Episode 12
Rate this Novel
Khof Episode 12
دل کھو گیا ہو گیا کسی کا ۔۔۔۔
اب راستہ مل گیا خوشی کا ۔۔۔
آنکھوں میں ہے خواب کسی کا ۔۔۔
اب راستہ مل گیا خوشی کا ۔۔۔۔
رشتہ نیا ربا دل چھو رہا ہے ۔۔۔
کھینچے مجھے کوئی ڈور تیری اور ۔۔۔۔
تیری اور تیری اور تیری اور تیری اور ہاۓ ربا ۔۔ تیری اور تیری اور تیری اور ۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ لڑکیاں پیچھے اور ایک بیاہتہ جوڑا فرنٹ پہ اس گانے پر خوبصورت سولو سٹیپس پر پرفارمنس دے رہا تھا ۔۔۔
باہر تیز بارش اب ہلکی ہو چکی تھی مگر ہوا میں تیزی آ چکی تھی پنڈال میں موجودہ ماحول باہر کے ماحول سے اور بھی حسین ہو چکا تھا ہر پیار کرنے والا دل اس بارش اور رنگ برنگے دل کو چھو لینے والے سنگیت میں اپنے محبوب کو دیکھ رہا تھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں سوال جواب ہو رہے تھے ۔۔
جن کے محبوب وہاں اس محفل کا حصہ نہیں تھے وہ انکو واٹس اپ پر میسجز کر کے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے تھے ۔۔۔
آمنہ کچھ دیر پہلے ہونے والے واقعے کے متعلق سوچوں میں غرق تھی
آپی وہ دیکھیں یہ لوگ کتنا پیارا ڈانس کر رہے ہیں
فاطمہ نے آمنہ کی سوچوں میں رکاوٹ ڈالی تھی
دو لڑکیاں بنا کسی لڑکے کے بھرپور انرجی سے مزاحیہ مگر ٹو دا پوائنٹ سٹیپس میں اس گانے پر پوری محفل کو اپنے طرف متوجہ کیے ہوۓ تھیں
کالا ڈوریاں کنڈی نال اڑیا ای اوئے ۔۔۔۔
او چھوٹا دیورا بھاابھی نال لڑیا ای اوئے ۔۔۔
ککڑی او لینی جیڑی کڑ کڑ کردی اے سورے نئی جانا سس بُڑ بُڑ کر دی اے ۔۔۔۔
ایک لڑکی سونی تھی جو پینٹ کے ساتھ شارٹ شرٹ پہنے ہوۓ تھی گلے میں مفلر نمہ دوپٹہ تھا دراز قد کمر تک آتے ہوۓ خوبصورت ریشمی گولڈن بال اسکی پنک كهلتی رنگت میں چار چاند لگا رہے تھے ۔۔۔
انداز لباس مغربی ضرور تھا مگر انداز رقص بہت محتاط, مناسب اور کسی بھی قسم کی بے باکی سے پاک تھا
دوسری لڑکی ماهم تھی جو پٹھانی گوری رنگت پر بلیک لونگ فرا سےک میں کمر سے نیچے کالے لمبے کھلے بالوں میں بلا کی حسین لگ رہی تھی
وہاں پر موجود ہر بندہ ان کے ڈانس سے زیادہ اس کشمكش اور سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ دونوں میں سے زیادہ حسین کونسی ہے ۔۔۔
سونی کو ووٹ دیتا تو ماهم پر نظر پڑتے ہی وہ ووٹ ماهم کا ہو جاتا ۔۔۔۔یہی معملہ سونی کو لے کر تھا ۔۔۔
علی شاید دنیا کا واحد انسان تھا ادھر جو جہاں دو لڑکیاں ساتھ کھڑی ملتی ان کو اپنے مستقبل میں فٹ کرنے کی سوچ میں تھا ۔۔
ہمارے علی کو کسی پالتو جانور کی طرح بیویوں کا بھی جوڑا درکار تھا ۔۔۔
اس کی نظر تو سونی اور ماهم کے جوڑے پر پڑنے کی دیر تھی وہ سب سے آگے جا کر کھڑا ہوا تھا علی کا دل کر رہا تھا ڈانس فلورمیں کود جائے اور لڑکے والے لیریکس سنبھال لے ۔۔۔
“سورے نئی جانا سس بُڑ بُڑ کردی اے ۔۔۔”
یہ جملہ ہر بار وہاں موجود جوان بیٹوں والی خواتین کے منہ میں زہر گھول دیتا وہ اوور میک اپ کے باوجود بھی اتنی بری شکلیں بناتیں کے اللّه اللّه ۔۔۔۔
وہ لڑکیاں وہاں موجود لڑكوں کو جتنی حسین لگ رہی تھیں وہاں موجود خواتین کو وہ ڈائینیں اور چڑیلیں لگ رہی تھیں ۔۔۔
عافیہ بيگم جو اپنے بیٹے کے دلی کیفیت سے واقف تھیں ان کو شادی پر آنا بدترین غلطی لگ رہی تھی
ان کی نظریں علی کو ڈھونڈ رہی تھیں اسے کہیں نہ پا کر وہ مطمین ہوئی تھی سکون کی لمبی آہ کے ساتھ ان کی نظر اسٹیج پر پڑی تھی جہاں علی ان دونوں کے در میان میں نگینے کی طرح فٹ ہو گئے تھے ۔۔۔
پورا ہال تالیاں پیٹ پیٹ کر تھک نہیں رہا تھا ونس مور ۔۔۔۔۔ونس مور ۔۔۔۔کی آوازیں بلند ہوئی تھیں ۔۔۔
سونی اور ماهم علی کی بہادری پر حیران تھیں دونوں اسٹیج سے علی کے ساتھ ہی اتری تھیں جسے دی فاریہ پھپھو گینگ نے بھی نوٹ کیا تھا ۔۔۔
Who are you Mr??
ویسے جو بھی ہو ۔۔۔۔
I will must say… ۔۔
بہت بہادر ھو۔۔۔۔
۔سونی نے مفلر کو گلے سے نکال کر دوبارہ گلے کے گرد لپیٹتے ہوۓ کہا تھا
“مجھے علی کہتے ہیں نام تو سنا ہوگا ۔۔۔”
لیکن آپ کو علی کیوں کہتے ہیں کچھ اور کیوں نہیں کہتے ؟؟؟
هاهاهاهاها ۔۔۔۔سونی نے ماهم کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہا تھا دونوں کا قہقہ بلند ہوا تھا
علی نے زندگی میں پہلی بار خود کو پزل محسوس کیا تھا وہ بھی دو لڑکیوں کے آگے ۔۔۔۔
ارے ماهم علی کو تو پسینہ آرہا ہے ٹشو ہوگا تمہارے پاس ؟؟؟
سونی نے ہںنستے ہوۓ کہا تھا
اسی وقت عافیہ بيگم اس طرف آئی تھیں
علی بیٹا ۔۔۔آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟؟
سوال بہت سنجیدگی سے کیا گیا تھا
امی یہ ماهم ہیں اور یہ سونی ہیں ۔۔۔
علی نے گرم جوشی سے کہا تھا
السلام علیکم ۔۔۔ دونوں نے بہت عزت سے سلام کیا تھا
وعلیکم السلام ۔۔۔۔آپ دونوں نے بہت اچھا پرفارم کیا دیکھا میں نے ۔۔۔۔عافیہ بيگم نے بہت پر زور دے کر کہا تھا
جس پر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔۔۔
آپ دونوں خدا نخواستہ آپس میں بہنیں تو نہیں ہیں نہ ؟؟؟
علی نے بے چینی سے پوچھا تھا
نہیں ماهم میرے چاچو کی بیٹی ہے
اور میرا نام سونیا ہے مگر میرے بہت اپنے مجھے سونی کہہ کر پکارتے ہیں ۔۔۔
ماهم اینڈ سونی دلی خوشی ہوئی ہے آپ دونوں سے مل کر ۔۔۔علی نے فورأ کہا تھا
علی بیٹا سونیا ۔۔۔۔۔۔۔سونیا نام ہے انکا ۔۔۔۔
عافیہ بيگم نے دانت پيس کر کہا تھا
وہ علی کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے چلتی بنی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر احمد میت کا ہاتھ پکڑ کر لفٹ کے پاس کھڑے تھے جب وارڈ بواۓ نے ان کو مخاطب کیا تھا
سر میں انکو سرد خانے میں شفٹ کر رہا تھا پھر نرس نے کسی کام سے اسٹور بھیج دیا بس اسی لئے انکو یہاں ایسے چھوڑنے کی غلطی ہو گئی مجھ سے ۔۔۔۔وہ شرمندگی سے گویا ہوا تھا
ہاں ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر احمد ہوش کی دنیا میں واپس آۓ تھے
سر لے جاؤں ؟؟؟
ہاں ۔۔۔۔انکو لے جاؤ ۔۔۔۔ڈاکٹر احمد نے میت کے چہرے پر كپڑا ڈالا تھا
وہ شکستہ قدم آئی سی یو جا رہے تھے جب نرس بھاگتی ہوئی آئی تھی
سر کومے والے مریض کی سی ٹی کی رپورٹ آگئی ہے ڈاکٹر فاروق نے آپکو فوری طور پر اپنے آفس میں بلایا ہے بہت ضروری بات پتہ چلی ہے ۔۔۔
ڈاکٹر احمد کے بے جان قدموں میں بجلی کی سی تیزی آئی تھی
جی ڈاکٹر فاروق ؟؟؟
کیا ہے رپورٹ میں ؟؟؟
“Calm down….
Just sit down and take a long breath….just relax….Dr. Ahmad”
ڈاکٹر فاروق نے ڈاکٹر احمد کی کمر کو سہلاتے ہوۓ کہا تھا
یہ پانی پیئں۔۔۔۔
دس منٹ تک خاموشی رہی ۔۔۔۔
وہ ہی خاموشی جو کسی بھی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہے
آپ ٹھیک کہہ رہے تھے ڈاکٹر احمد ۔۔۔۔
انکو واقعی کسی سرجری کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
“He is perfectly fine”
یہ سی ٹی کی رپورٹ دیکھ لیں آپ ۔۔۔
ڈاکٹر احمد نے رپورٹ پڑھی اور کہا میں بہت تهک گیا ہوں فاروق ۔۔۔۔
“I need to go home for rest…”
ٹھیک ہے آپ چلیں جائیں میں رک جاتا ہوں آج یہاں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مسز همدانی کالنگ”
عافیہ بيگم کا موبائل روشن ہوا تھا
السلام علیکم ۔۔۔۔مسز همدانی خیریت ؟؟؟
وعلیکم السلام ۔۔۔عافیہ وہ میری قيد سے آزاد ہو گئی ہے میں اسے مزید نہیں روک سکوں گی ۔۔۔
علی اور آمنہ دونوں کی جتنی جلدی ہو شادی کر دو ۔۔۔
وہ بدلہ لئے بغیر نہیں جائے گی وہ مشتعل ہو چکی ہے ۔۔۔
عافیہ بيگم نے ایک نظر سوئی ہوئی بیٹیوں پر ڈالی پھر باہر نکل آئی ۔۔۔
رات کے دو بج رہے تھے بارش تھم چکی تھی ہر طرف اندھیرے کا راج تھا بس سٹریٹ لائٹس آن تھیں سب لوگ تھک کر سو چکے تھے ۔۔۔
مسز همدانی پلیز کچھ بھی کر کے اسے روکیں میں فوری بچوں کی شادیاں کیسے کردوں لوگ کیا کہیں گیں ؟؟؟
“وہ آپکا مسئلہ ہے عافیہ میرا کام تھا آپ کو آگاہ کر دینا جو میں نے کر دیا ۔۔۔”
“وہ بہت طاقتور میں ہو گئی ہے اس نے احمر کی بیٹی کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا ہے”
“میں نہیں جانتی اس نے اب تک آپ کے بچوں کو کوئی نقصان کیوں نہیں پہنچایا”
طویل خاموشی ۔۔۔۔
“عافیہ اپنا اصل مہرہ استعمال میں لاؤ ۔۔۔”
کیا مطلب مسز همدانی ؟؟
“مطلب اسے ختم کردو اب ہمیں اسکی ضرورت نہیں”
سفاکی سے کہا گیا تھا
کوئی سایا تھا جو عافیہ بيگم کے پیچھے کھڑا ان کی ساری باتیں سن کر جا چکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر احمد تھکے ہوۓ گھر آۓتھے
گارڈ نے گیٹ کھولا
کمرے میں گئے سارہ سو رہی تھی
آج دماغ اتنا الجھا تھا کہ پھٹ رہا تھا
سلیپنگ پیلز کے بغیر سونا نہ ممکن تھا لہذا وہ کھا کر لیٹ گئے
ڈاکٹر احمد نے دنیا جہاں سے بے خبر سکون سے سوتی ہوئی سارہ کو محبت سے دیکھا تھا
وہ اسکے چہرے کی معصومیت کو دیکھ رہے تھے جب سارہ نے اچانک آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔
ڈاکٹر ۔۔۔۔بہت محبت کرتے ہو نہ اپنی بیوی سے؟؟؟
ڈاکٹر احمد اٹھ کر دور ہوۓ تھے
پلیز میری بیوی ماں بننے والی ہے ایسا مت کرو ۔۔۔
وہ بہت کمزور ہے یہ سب برداشت نہیں کر پاۓ گی ڈاکٹر احمد نے ہاتھ جوڑے تھے
تم عافیہ بيگم کے ٹکڑوں پر نہ رهتے پانچ سال سے تو آج یو بے اولاد نہ ہوتے وہ عورت ڈائن ہے ۔۔
خون پیا ہے اس نے انسانوں کا پھر جا کر یہ دولت پائی ہے ۔۔۔
سارہ چلائی تھی
“تم انسان نہیں ہو ہر حد سے آزاد ہو پھر مجھ سے کیا چاہتی ہو ؟؟؟؟”
“میں اپنے ہر مجرم کو موت کی گھاٹ اتار سکتی ہوں بس ۔۔۔۔”
” اور موت سزا تو نہیں ۔۔۔۔۔”
“میں پوری دنیا میں ان کو ذلیل کرنا چاہتی ہوں “
“اور میری سزا کا نام ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“زندگی “
ہے ۔۔۔۔
“میں آپکی مدد کروں گا آخری حد تک جا کر “
ڈاکٹر احمد اب دوبارہ سارہ کے ساتھ لیٹ گئے تھے پر سکون ہو کر ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج نیند کوسوں دور تھی
دن بھر کی تھکاوٹ کے باوجود عافیہ بيگم سونے سے قاصر تھیں مگر آج بھی کاش کا لفظ ان کو نصیب نہیں تھا ۔۔
وہ اٹھ کر بیٹھ گئیں تھیں مستقبل کے مسائل کا حل جب نکلتا محسوس نہ ہوا پھر ماضی کی خاک چھاننا ضروری لگا آج ۔۔۔۔۔
اس سب کی شروعات عافیہ بيگم کی لالچ سے ہی تو ہوئی تھی ۔۔۔
عافیہ بيگم کو آج بھی یاد تھا شادی کا وہ پہلا دن ۔۔
نعیم کمرے میں آیا تھا مگر حسِبِ روایت اسکی نئی نویلی دلہن حیا کے رنگ لئے اس کے انتظار میں بیڈ پر موجود نہیں تھی ہاں البتہ شادی کا جوڑا وہاں ضرور موجود تھا
دروازے کی دستک پر وہ چونکا تھا
وہ عافیہ تھی
“حد ہے بھئ واش روم بھی کوئی اتنی دور بناتا ہے
کمرہ پاکستان میں اور واش روم وہ امریکا میں ۔۔ “
وہ بلند آواز میں بولی تھی
نعیم حیران پریشان اس عورت کو دیکھ رہا تھا جو اپنی مرضی سے سب جانے بوجھتے اس کی زندگی میں آئی تھی
شادی کی پہلی رات ہے گھر میں ابھی بھی چند مہمان موجود ہیں اور تم یو اس حلیے میں ؟؟
“عافیہ میری ماں جیتے جی مر جائے گی ادھر کھڑی ہو کر ایسی باتیں نہ کرو اس نے بہت ارمانوں سے میرا گھر بسایا ہے ۔۔۔”
“بھئی غلط کیا کہہ دیا میں نے اس میں؟؟؟”
اچھا اندر آؤ ۔۔۔
نعیم نے محبت سے بھرے ہوۓ لہجے میں ہاتھ پکڑ کر کہا تھا
عافیہ اندر آ کر بیٹھ گئی تھی
نعیم نے انگوٹھی نکال کر پہنانا چاہی تھی مگر عافیہ بيگم نے ہاتھ جھٹک کر پیچھے کیا تھا
“یہ کسی عجائب گھر سے لاۓ ہو کیا یہ کسی انگوٹھی ہے اتنی پرانے ڈیزائن کی ؟؟”
” میری ماں کی ہے انکو ابا نے منہ دکھائی میں دی تھی انہوں نے اپنی اکلوتی اولاد کی بیوی کے لئے تب سے سمبھال کر رکھی تھی
“بیوگی کی زندگی میں اس کو بیچنے کی نوبت بہت بار آئی تھی مگر میری محبت میں اس کو سنبھالے رکھا “
نعیم کی آواز میں وضاحت سے زیادہ بے بسی اور دکھ تھا
“نعیم میری ایک بات یاد رکھنا میں نے تمہاری محبت میں یہ رشتہ بنا تو لیا ہے مگر اس کو قائم رکھنا اب صرف اور صرف تمہارے ہاتھ میں ہے “
“مجھے یوں ایک کمرے میں پوری زندگی نہیں گزارنی مجھے پیسہ چاہیے وہ بھی بہت سارا “
“میں پوری کوشش کروں گا عافیہ تمہارے ہر خواب کو پورا کر پاؤں”
