Khof by Jameela Nawab Readelle 50362 Khof Episode 11
Rate this Novel
Khof Episode 11
شام کے چھ بج رہے تھے ڈاکٹر احمد گھر جانے کی تیاری میں تھے جب نرس ان کے پاس آئی تھی
سر ڈاکٹر فاروق نے کہا ہے آپ آج رات بھی یہی روک جائیں اگر آپ کے لئے پاسیبل ہو ۔۔۔
وہ بچی اور احمر دونوں مریضوں کی حالت اچھی نہیں ہے فلحال کوئی بھی ڈاکٹر رات کے لئے ایمرجنسی میں موجود نہیں ہیں ۔۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔آپ جائیں میں بات کرلیتا ہوں ڈاکٹر فاروق سے
ڈاکٹر احمد نے موبائل پر ڈاکٹر فاروق کا نمبر ملاتے ہوۓ کہا تھا
السلام علیکم ۔۔۔۔ڈاکٹر فاروق نرس سے آپکا میسج ملا ۔۔۔
جی جی میں سمجھ سکتا ہوں لیکن میرا گھر جانا بھی ضروری ہے ۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے میں پھر ایسا کرتا ہوں ابھی جا رہا ہوں آٹھ بجے تک آجاؤں گا ۔۔۔
ڈاکٹر احمد نے فون بند کیا اور گھر کے لئے نکل گئے
گاڑی میں بیٹھ کر حسب عادت Fm لگایا تھا ۔۔
گاڑی گھر سے پانچ منٹ کے فاصلے پر تھی جب گاڑی ایک دم بند ہوئی تھی
یہ کیا ہوا ؟؟
ڈاکٹر احمد نے خود سے ہی سوال کیا تھا
شاید کافی دنوں سے maintaince نہیں رکھی تبھی کام بن گیا ہے ۔۔۔
کسی نے سچ ہی کہا ہے
،”گاڑی خریدنا اور شادی کرنا دونوں کام کرنا مشکل نہیں ہیں مگر انکی maintaince میں پوری عمر لگ جاتی ہے “
ڈاکٹر احمد نے سوچا تھا
ایک بار اورسلف لگائی جس سے گاڑی سٹارٹ ہوگئی ۔۔۔
یا اللّه تیرا شکر ۔۔ڈاکٹر احمد نے کہا
گاڑی سٹارٹ ہوتے ہی Fm سٹارٹ ہوا تھا
ڈاکٹر ۔۔۔۔۔
بلکل فاطمہ کی طرح پکارہ گیا تھا پہلے تو ڈاکٹر احمد کو لگا کوئی پروگرام چل رہا ہے ریڈیو پر
مگر دوبارہ ڈاکٹر کہنے پر انہوں نے گاڑی گھر کر گیٹ پر ہی روک دی اور گاڑی میں موجود ریڈیو کو دیکھنے لگے ۔۔۔
کککککک ۔۔۔کون ؟؟
ڈاکٹر آپ میری مدد کر سکتے ہیں ؟؟؟
دکھ بھری آواز میں پوچھا گیا
کیسی مدد ؟؟ ڈاکٹر احمد نے پوچھا
آپ ہاں بول دیں بس باقی سب وقت آنے پر …..
سب پتہ چل جائے گا ….
جی میں بلکل آپکی مدد کرونگا بشرط کے آپ ہی حق پر ہوئی ۔۔۔۔
ڈاکٹر احمد نے بہت سکون سے جواب دیا تھا
پھر اس آواز کی جگہ تیز میوزک بجنے لگا
ڈاکٹر احمد گھر کے اندر داخل ہوۓ
شام کے سات بجنے کو تھے آٹھ بجے تک دوبارہ ہسپتال پہنچنا تھا
سارہ ٹی وی پر کوئی ڈرامہ دیکھ رہی تھی احمد کو دیکھ کر ایک محبت بھرا تاثر چہرے پر آیا تھا
پھر کیا کیا پورا دن احمد کی جان نے ؟؟ احمد نے سارہ کے ساتھ بیٹھتے بیٹھتے پوچھا تھا
آپ کو یاد کیا ۔۔۔۔۔بس اسی میں صبح سے رات اور گئی مجھے تو فرصت ہی نہ ملی کچھ اور کرنے کی ۔۔۔۔۔
سارہ نے اپنا سر ڈاکٹر احمد کے سینے پر رکھتے ہوۓ کہا تھا
ارے واہ میری بیوی اتنی رومانٹک باتیں بھی کر سکتی ہے ؟؟ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا ۔۔۔۔ڈاکٹر احمد نے اپنی تھوڑی کو سارہ کے بالوں پر رگڑتے ہوۓ کہا تھا
اچھا میں کھانا لگاتی ہوں پھر مووی دیکھیں گے سارہ نے اٹھتے ہوۓ کہا تھا
ہاں کھانا لگاؤ بہت بھوک لگی ہے میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں ڈاکٹر احمد نے کہا
پہلے چینج تو کر لیں ۔۔۔سارہ نے رک کر کہا تھا
نہیں 8بجے دوبارہ جاؤں گا کوئی ڈاکٹر نہیں ہے ایمرجنسی میں آج ۔۔۔
کل صبح 12بجے تک گھر واپسی ہوگی تھوڑا سو کر آؤں گا پھر ہم دوپہر کا کھانا کھاۓ گے پھر ڈاکٹر شمائلہ آپکی گائنا کالوجسٹ کے پاس آپکی آپائنمنٹ ہے وہاں چلیں گے ڈاکٹر احمد نے اٹھتے ہوۓ کہا تھا
اوکے ڈن ۔۔۔۔
سارہ نے خوشدلی سے خلافت توقع کہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آمنہ,ثوبیہ,ملكہ,فاطمہ اور عافیہ بيگم کو ایک کمرہ دیا گیا جبکہ علی کے سونے کا بندوبست خاندان کے اور لڑكوں کے ساتھ کیا گیا تھا لیکن اسکا سامان سب کے سامان کے ساتھ عافیہ بيگم کے کمرے میں ہی تھا ۔۔۔۔
اچھا سا ناشتہ کرنے کے بعد سب نے ہی آرام کیا تھا
باقی سب ابھی سو رہے تھے جب آمنہ کی آنکھ کھلی تھی دن کے دو بج رہے تھے انکو کسی نے دوپہر کے کھانے کے لئے بھی اسی لئے نہیں بلایا تھا تاکہ نیند میں خلل نہ پڑے ۔۔۔
آمنہ نے اٹھ کر وضو کیا اور ظہر پڑھی پھر وہ کمرے سے باہر آگئی ۔۔
فارم ہاؤس واقعی قابل تعریف تھا رہائشی ایریا سے تھوڑا فاصلے پر بہت بڑی جگہ پر پنڈال لگایا گیا تھا جہاں مختلف خوبصورت رنگ رنگ کے پھولوں کے ساتھ اسے سجايا گیا تھا
ڈانس فلور کے ساتھ ساتھ لوڈی ڈالنے کے لئے بھی بہت خوبصورت جگہ بنائی گئی تھی خاندان کے بڑے بوڑھوں کے بیٹھنے کے لئے آرام ده صوفے رکھے گئے تھے ۔۔۔۔
پنڈال میں ہزار لوگوں تک کے بیٹھنے کی گنجائش تھی
فارم ہاؤس کے گرد خوبصورت پہاڑ تھے اور ایک سائیڈ پر جنگل تھا جگہ جگہ جنگلی حیات سے دور رہنے اور خاص کر بندروں کو غیر نامیاتی خوراک نہ دینے کی ترغیب کی گئی تھی ..
آمنہ نے آسمان کی طرف دیکھا تھا موسم کے تيور آج بھی اچھے نہیں تھے کسی بھی وقت بارش آ سکتی تھی
آمنہ نے سر پر شال کو ٹھیک کرتے ہوۓ جنگل والے راستے پر جانا شروع کیا تھا
وہ بندروں کو دیکھنا چاہتی تھی ۔۔۔جب پیچھے سے کسی کی آواز نے اس کے قدم روکے تھے ۔۔
ہیلو میڈم ادھر کدھر ؟؟؟؟
کیا آپ نےاتنا بڑا بورڈ نہی پڑھا ؟؟؟؟
پھولتی سانسوں میں پوچھا گیا تھا
آمنہ نے مڑ کر دیکھا تو وہ حاشر تھا
آمنہ آپ یہاں ؟؟؟
حاشر آپ ؟؟؟
دونوں نے یکے بعد دیگرے حیرانگی سے کہا تھا
جی ثروت اور زوہیب وہ جن دو لوگوں کی شادی خانہ آبادی ہے نہ وہ میرے چاچو کے بچے ہیں انوار انکل میرے ابو کر کزن ہیں تو اس حساب سے میرے چاچو ہیں
حاشر نے پھولتی ہوئی سانس کے ساتھ گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوۓ کہا تھا
کیا یار دور سے بھاگا بھاگا آیا ہوں تمہیں موت کے منہ سے بچانے کے لئے ۔۔۔حاشر نے مزید کہا تھا یہ اتنی بڑی لکھی عبارت آپکو نظرکیسے نہیں آئی ؟؟
” اس جنگل میں خونخوار جانور ہیں بتائی گئی حدود سے آگے جانا جان ليوا ثابت ہو سکتا ہے محکمہ جنگلات “
بس دھیان نہیں رہا آمنہ نے شرمندہ ہوتے ہوۓ کہا تھا باقی فاریہ میری پھپھو ہیں ابو کی منہ بولی بہن ۔۔۔
آمنہ نے حاشر کے ساتھ ساتھ آتے ہوۓ کہا تھا
سامنے عافیہ بيگم کھڑی تھیں جو شاید آمنہ کو کمرے میں نا پا کر باہر آئی تھیں
السلام علیکم آنٹی ۔۔۔حاشر نے عافیہ بيگم کو دیکھ کر کہا تھا
وعلیکم السلام ۔۔۔آپ یہاں ؟؟عافیہ بيگم نے پوچھا
جس کے جواب میں حاشر نے آمنہ کو بتائی ہوئی بات دوہرائی تھی ۔۔۔
جیتے رہیں بیٹا آپ کی مما کہاں ہیں ان سے ضرور ملوائیں مجھے عافیہ بيگم نے رسماً کہا تھا
جی آنٹی یہاں تو ممکن نہیں ہے اصل میں وہ میری سسٹر کے پاس کینیڈا گئی ہیں پاپا کے ساتھ پھر کرونا کی وجہ سے لاک ڈان لگ گیا سو وہ اس شادی کے لئے نہیں آ سکتے تھے پھر مجھے بھیج دیا میں بھی آمنہ کی طرح فری ہوں فلحال سٹڈیز سے سو بس پاپا کا بزنس دیکھ لیتا ہوں تھوڑا بہت باقی پاپا خود ہی آنلائن دیکھ رہے ہیں ۔۔۔
اصل میں آپی کے ہاں پہلا بےبی تھا بس اسی خوشی میں دونوں ہی چلے گئے کینیڈا ۔۔۔
حاشر نے خوشدلی سے پوری ڈیٹیل بتائی تھی
بھابھی بچے اٹھ گئے ہیں ؟؟ چلیں آ جائیں میں کھا نا لگواتی ہوں حاشر بیٹا آپ میرے ساتھ آئیں ایک کام بتاتی ہوں فاریہ بيگم نے ایک جملے میں ہی ساری بات کی تھی
جی آپا میں آتی ہوں بچوں کے ساتھ
عافیہ بيگم نے آمنہ کو جانے کا اشارہ کرکے پیچھے جاتے ہوۓ کہا تھا
پھر وہ علی کو اٹھانے گئی تھیں جو اکیلا ہی سو رہا تھا کمرے میں آڑھا ترچھا ۔۔۔
علی ۔۔۔۔۔
علی ۔۔۔۔چلو اٹھو نہا دھو لو پھر کھانا کھاتے ہیں
علی آنکھیں ملتا ہوا آٹھ بیٹھا تھا اسے کچھ وقت لگا تھا سب یاد آنے میں ۔۔۔جیسے ہی یاد آیا کے شادی والے گھر ہیں وہ ماں کو فورأ بولا ۔۔
امی بہو دیکھی ؟؟
نہیں بیٹا دکھ جائے گی وہ بھی آپ فلحال اٹھو میں انتظار کر رہی ہوں بس دس منٹ ہیں
عافیہ بيگم نے موبائل میں وقت دیکھتے ہوۓ بولا تھا
اوکے باس ۔۔۔علی کہہ کر واش روم گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاطمہ دیکھو میں ٹھیک لگ رہی ہوں ؟؟میک اپ زیادہ اوور تو نہیں لگ رہا ؟؟
آمنہ نے خود کو فائنل لک میں دیکھ کر فاطمہ سے پوچھا تھا
ارے واہ ۔۔۔۔۔۔
آپی آپ تو اس سلور كلر کی منی فراک کے ساتھ ہم رنگ ہائی ہیلز میں کمال لگ رہی ہیں
اور یہ پنکش میک اپ تو بہت ہی سج رہا ہے آپ کو ذرا بھی اوور نہیں کچھ بھی سب ایک دم
“P E R F E C T”
فاطمہ نے مادھوری کے انداز میں ہںستے ہوۓ کہا تھا
اچھا ٹھیک ہے تم بھی بہت اچھی لگ رہی ہو جوتی پہنو نکلتے ہیں وہ پڑی ہے تمہاری میچنگ سینڈل ۔۔۔
آمنہ نے اشارہ کرتے ہوۓ کہا تھا
ملكہ اور ثوبیہ پہلے ہی تیار ہو کر پنڈال میں جا چکی تھیں جبکہ علی تیار ہو کر زوہیب (دولہا ) کے ساتھ کسی کام سے گیا تھا
آمنہ اور فاطمہ پنڈال کے قریب ہی تھیں جب علی نے آمنہ کو کال کی
آمنہ میری جیکٹ بھی لیتی آؤ میرے بیگ میں پڑی ہوگی میں بس گھر پہنچ رہا ہوں سیدھا پنڈال میں ہی آؤں گا
علی نے ڈرائیونگ کرتے ہوۓ فون پر کہا تھا
ٹھیک ہے بھائی ۔۔۔۔۔آمنہ نے کہہ کر کال کاٹ دی
فاطمہ تم جاؤ میں آتی ہوں
آمنہ کہہ کر واپس مڑی تھی
کمرے میں جا کر بیگ کھول کر جیکٹ نکالی وہ اٹھ کر جانے کو تھی جب لائٹ غائب ہوئی تھی گھپ اندھیرا ہوگیا تھا ۔۔۔میوزک کی آواز بھی غائب ہوئی ہوگئی تھی جس سے لگ رہا تھا ساری لائٹ ہی بند ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
آمنہ موبائل کی لائٹ آن کرنے کو تھی جب کوئی وجود بہت زور سے اس سے ٹکڑایا تھا اور موبائل دور جا گرا ۔۔۔۔
آمنہ کو اس وجود کی خوشبو اپنے بہت پاس محسوس ہو رہی تھی وہ جو بھی تھا اب اس کے اتنے قریب کھڑا تھا کہ اس کے سانس کی آواز بھی آمنہ سن سکتی تھی ۔۔۔
ککککککون ہے ؟؟؟؟ کون ہے یہاں ؟؟؟ مجھے میری امی کے پاس جانا ہے پلیز مجھے جانے دو ۔۔۔
آمنہ نے کانپتے ہونٹوں سے التجاءکی تھی
وہ وجود چہرے کے بہت پاس ہوا تھا کچھ وقت ایسے ہی گزر گیا آمنہ نے آنکھیں بند کر لی تھیں پھر دروازہ کھلنے اور پھر بند ہونے کی آواز آئی تھی ۔۔
اتنے میں موبائل پر علی کی کال آنے لگی تھی جس سے کمرہ کچھ حد تک روشن ہوا تھا
اس نے بھاگ کر فون اٹھایا
ع ع ع ۔۔علی بھائی؟؟؟
کیا یار میں آگیا ہوں گیٹ پر کہاں ہو تم گھبرائی گھبرائی کیوں ہو؟؟ علی نے پوچھا تھا
بھائی ۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔۔آمنہ بمشکل بول پائی تھی
بندہ لینے گئے تھے جنریٹر ٹھیک کروانے کے لئے دو دن سے خراب تھا ابھی تم جہاں بھی ہو رکو میں لائٹ ان کرواتا ہوں پھر پنڈال میں آجانا ۔۔علی نے کال کاٹ دی ۔۔
آمنہ نے آؤ دیکھا نہ تاؤ کمرے سے نکل کر بھاگنا شروع کر دیا
پورا گھر تاریکی میں ڈوبا ہواتھا اوپر سے بارش بھی برسنے کو تیار تھے
وہ بھاگتی چلی گئی یہ دیکھے بغیر کہ وہ کدھر جا رہی ہے جب کسی نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا
حد کرتی ہو یار تمہیں دن میں پوری کہانی سنائی اور سمجھائی بھی تھی پھر بھی ادھر ہی جا رہی ہو کیوں جنگلی جانوروں کی خوراک بننے کا شوق ہے ؟؟؟
حاشر نے اسکا ہاتھ چھوڑتے ہوۓ کہا تھا
حاشر میں بہت ڈری ہوئی ہوں مجھے نہیں پتہ چلا کہ میں اس طرف جا رہی ہوں آپ پلیز مجھے میری امی کے پاس لے چلیں
گهبراؤ مت چلو میں ساتھ ہوں
حاشر نے اسکی حالت کو سمجھتے ہوۓ نرمی سے کہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی جنریٹر ٹھیک کروا رہا تھا جبکہ زوہیب چینج کرنے اپنے کمرے میں گیا تھا جب علی کے کانوں میں آواز آئی تھی
سونی یہ کیا پہن رکھا ہے اس ڈریس میں کون شادی پر آتا ہے یار ؟؟؟ سوال بہت تنگ ہو کر کیا گیا تھا
آنٹی دیکھیں گیں تو مجھے ڈانٹیں گیں ۔۔۔
تم فکر مت کرو ماہم میں بتا دوں گی ممی کو کے تمہارا کوئی قصور نہیں ہے اس میں ۔۔۔اور ویسے بھی تم نے تو ان کا من پسند ڈریس ہی پہنا ہے بلیک لونگ فراک ۔۔۔۔اندھیرے میں بھی اس پر موجود کام لشکارے مار رہا ہے ۔۔۔
سونی نے ستائشی لہجے میں کہا تھا
علی کے کانوں کو مدہوشی نے آگھیرا تھا ۔۔۔
چلو واپس روم میں چلتے ہیں تم یہ ویسٹرن ڈریس اتارو اور کچھ پاکستانی پہنو۔۔۔۔
ذرا مزہ نہیں آنا ان کپڑوں میں لڈی ڈالنے کا ۔۔۔۔پھر وہ دونوں آوازیں دور ہوتی گئی ۔۔۔
علی نے مزید کان کھڑے کر کے سننے کی کوشش کی مگر وہ جو بھی تھیں وہ جا چکی تھیں
“یہ لیں علی بھائی ہوگیا کام “
اتنے میں ہر طرف روشنی پھیلی تھی ۔۔۔۔پورا گھر جگ مگا کر روشنی میں نہا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی بی شیرینی کا بلکل شروع کا میوزک(ہو سکے تو سن کر یہ سین فیل کریں ) چل رہا تھا جب آمنہ اور حاشر روشن پھولوں سے سجے پنڈال میں ایک ساتھ داخل ہوۓ تھے ۔۔۔
حاشر نے براؤن کُرتے پر چسلور كلر کا دوپٹہ گلے میں ڈالا ہوا تھا دونوں کسی جوڑے کی طرح لگ رہے تھے جیسے سوچ کر كلر سکیم رکھی گئی ہو ۔۔
سب سے پہلی نظر فاریہ بيگم کی پڑی تھی جو خاندان کی ان عورتوں کے ساتھ بیٹھی تھیں جن کا واحد کام شادیوں میں اپنے بچوں کو کھلی چھٹی دے کر دوسروں کی بیٹیوں اور بیٹوں پر نظر رکھنا اور ہر کسی کو بتا کر ساتھ ہی کسی کو نہ بتانے کی خاص تلقین کرنا ہوتا ہے ۔۔۔
بہت اچھی لگ رہے ہو دونوں ۔۔۔۔فاریہ بيگم نے طنزیہ لہجے میں کہا تھا
پھپھو امی کدھر ہیں ؟؟؟
آمنہ نے خود کی نارمل کرتے ہوۓ کہا تھا
وہ رہی۔۔۔۔۔فاریہ بيگم اشارہ کر کے دوبارہ بیٹھ گئی تھیں اب ہاٹ ٹا پک آمنہ تھی اس محفل کا ۔۔۔
لڑکیاں خوب ہلاگلہ کر رہی تھیں مصنوئی خوبصورتی سے لدھے ہوۓ چہرے ۔۔۔
علی بیچارے کو تیز بارش میں بھیگ کر پنڈال میں جانا پڑا تھا اس کے نفاست سے جیل لگا کر سیٹ کیے ہوۓ بال بارش نے بیٹھا دے تھے
وہ جیسے ہے اندر آیا کچھ لڑکیاں اسے دیکھ کر ہنسی تھیں ۔۔۔
مگر ایک لڑکی جس کا چہرہ کسی بھی قسم کی مصنوئی دکھاوے سے پاک تھا اس کی طرف بڑی تھی
وہ کچھ دیر اسے ٹکٹی باندھے دیکھتی رہی پھر اس تیز بارش میں پنڈال سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر احمد ابھی ابھی ہسپتال پہنچے تھے ڈریسنگ روم میں چینج کر کے آئی سی یو میں آۓ تھے
وہ دس سالہ بچی احمر کے بیڈ پر کھڑی انکا گلہ دبا رہی تھی وہ کومے والا مریض بیٹھ کر یہ سب دیکھ رہا تھا
ایسا مت کرو وہ مر جائے گا باپ ہے تمہارا اس کو مت مارو ۔۔۔
ڈاکٹر احمد نے بھاگ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر چلاتے ہوۓ کہا تھا
یہ مجرم ہے میرا میری زندگی برباد کردی اس نے ۔۔۔۔
اسکو بھی جینے کا کوئی حق نہیں ہے وہ غصے سے چلائی تھی ۔۔۔۔
تماشا بنا دیا اس نے میرا۔۔۔ بیچ کھایا مجھے ۔۔۔۔
یا اللّه ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے دل کو بھی نہیں دیکھا جو صرف اس کا تھا ۔۔۔۔۔۔
مجھ سے زندگی چھین کر یہ کیسے زندہ رہ سکتا ہے میں نہیں چھوڑں گی اس کو ۔۔۔۔۔
سر ۔۔۔۔
نرس کی آواز پر ڈاکٹر احمد نے پیچھے دیکھا تھا
سر احمر خطرے سے باہر ہیں اب بس سو رہے ہیں آرام کی دوا کا اثر ہے ۔۔۔۔۔
مگر انکی بیٹی کی کچھ دیر پہلے ڈیتھ ہو گئی ہے ۔۔۔۔
نرس کے الفاظ کسی بم کی طرح ڈاکٹر احمد پر گرے تھے ۔۔۔۔
وہ لڑکی سفید چادر تلے بے جان پڑی تھی ۔۔۔۔
ڈاکٹر احمد سر پکڑ کر بیٹھ گئے
یہ کیا ہو رہا ہے؟؟؟ جو نظر آرہا ہے وہ سچ ہے یا جو جو میں محسوس کر رہا ہوں وہ سچ ہے ؟؟؟ وارڈ بواۓ بچی کی میت کو لینے آیا تھا وہ اسے سٹریچر پر ڈال چکا تھا اب وہ اسے کھینچ کر لفٹ کے باہر کھڑا تھا جب نرس نے اسے کسی کام پر بھیجا تھا
ڈاکٹر وارڈ سے باہر نکلے اور میت کے پاس جا کر کھڑے ہوگئے ۔۔۔
ارد گرد کوئی نہیں تھا اور خاموشی اتنی کے یہاں وہاں جاتی نرسز کی قدموں کی چاپ سنی جا سکتی تھی
ڈاکٹر احمد نے میت کے چہرے سے كپڑا اٹھایا تھا اسکی پلس دیکھی جو بند تھی ہاتھ برف کی طرح ٹھنڈے تھے ۔۔۔دوبارہ اس پر كپڑا ڈال کر جانے لگے پھر دل کی آواز پر مڑ کر میت پر سے ایک بار پھر سفید كپڑا اٹھایا تھا
اس دس سالہ بچی کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور وہ قہقہ لگا کر ہنس رہی تھی اس کے قہقے پورے وارڈ میں گونج رہے تھے ڈاکٹر احمد نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر نبض چیک کی تھی جو اب بھی بند تھی ۔۔۔یخ بستہ وجود ۔۔۔
روتی آنکھیں۔۔۔
اور لبوں پر قہقے ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر ۔۔۔۔۔اس نے ڈاکٹر احمد کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ کہا تھا
آج ایک بار پھر دل ٹوٹا ہے میرا ۔۔۔
وہ انسان جسے میں نے مر کر بھی چاہا تھا اس کی حقیقت آج کھلی ہے مجھ پر وہ ہی تو تھا میرا سوداگر ۔۔۔۔
وہ انسان جسکی قربت کے لئے میں 18 سال سے بے چین تھی جو مجھے مر کر بھی زندہ رکھے ہوۓ تھی آج مجھ مری ہوئی کو اس کے سچ نے دوبارہ مار دیا ہے ۔۔۔۔
اب وہ ہچکیوں کے ساتھ باقاعدہ رو رہی تھی ۔۔۔
آپ مجھے بتائیں پوری بات میں بہت الجھ گیا ہوں مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر احمد نے اسکے آنسو صاف کرتے ہوۓ تڑپ کر پوچھا تھا
