Khof by Jameela Nawab Readelle 50362 Khof Episode 17
Rate this Novel
Khof Episode 17
“کتنے دنوں سے اس کی طبیعت خراب تھی ؟؟؟”
“سر جی جب سے بيگم صاحبہ لوگ شادی پر گیا تھا ہم زیادہ تر اپنے گھر پر ہی رہتا تھا ہمارے بچے اور گھر والی بیمار ہے والله خدایا ہم کو سمجھ نہیں آتا ان سب کو اچانک ہوا کیا ہے شبو باجی
نے ہم کو آج فون کر کے بلایا تھا تو ہم پھر آیا ہے”
گل خان ڈاکٹر احمد کو بتارہا تھا
“شبو کدھر ہے اسے بلائیں چاچا “
تھوڑی دیر میں شبو چاۓ لیئے حاضر ہوئی تھی
“شبو اسکی یہ حالت کب سے ہے ؟؟؟”
ڈاکٹر احمد نے اسے ركنے کا اشارہ کرتے ہوۓ پوچھا تھا
“ڈاکٹر صاب جس دن بيگم صاحبہ لوگ گئے ہیں اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی پہلے کھانا پینا چھوڑا پھر بخار رہنے لگا دو دن سے پانی مانگتا تھا جب میں دیتی تھی تو گلاس چلا کر پھینک دیتا تھا ایک گھونٹ لے کر کہتا تھا میری زبان جل گئی ہے یہ پانی نہیں ہے مجھے پانی دو آج تیسرا دن ہے پانی کو ترس رہا تھا پھر جگہ جگہ چھپنے لگا کہتا تھا وہ مجھے مار دے گی مجھے بچا لو اس کے ساتھ سب مل گئے ہیں ۔۔۔آج صبح کا غائب تھا شام میں میں لان میں کسی کام سے آئی تھی جب میں نے مٹی میں اس کا ہلتا ہوا ہاتھ دیکھا یہ باقی مٹی کے اندر بہت اچھے سے دفن تھا بس ہاتھ ہی باہر تھا پھر میں نے گل خان لالا کو بلایا وہ ہی ان کو نکا ل کر ادھر بستر پر لائے ہیں”
“باقی صورتحال آپ کے سامنے ہے”
شبو نے چاۓ کا کپ ڈاکٹر احمد کے آگے رکھتے ہوۓ کہا تھا
“شبو آپ کے گھر والے کدھر رهتے ہیں؟؟؟”
ڈاکٹر احمد کہ اچانک سوال پر گل خان اور شبو دونوں ہی حیران ہوۓ تھے
“میرا کوئی نہیں ہے”
“شبو مختصر جواب دے کر جانے کے لئے اٹھی تھی
“شبو رک جاؤ میری ہر بات کا جواب دو”
“شبو پریشان سی ہو کر واپس بیٹھ گئی تھی
“اپنے بارے میں بتاؤ”
ڈاکٹر احمد نے پوری توجہ شبو کی طرف کی تھی
“میں بیس سال سے ادھر کام کرتی ہوں”
“ماں باپ بہن بھائی شوہر بچے ؟؟؟؟؟؟؟”
ڈاکٹر احمد فورا بولے تھے
“کوئی نہیں ہے میرا ، کوئی بھی نہیں ۔۔۔۔۔”
شبو کی آواز میں دکھ تھا
“مجھے سب جاننا ہے پلیز مجھ سے کچھ مت چھپاؤ”
“بيگم عافیہ کو کیسے جانتی ہو؟؟؟”
“وہ محسن ہیں میری انہوں نے پناہ دی مجھے اپنے گھر میں گھر کا فرد بنا کر ۔۔۔۔۔جو دل میں ہو وہ ہی کرتی ہوں کبھی کوئی روک ٹوک نہیں کرتیں “
شبو کسی ٹرانس میں بولی تھی
“باجی ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب کی بات کا سیدھا سیدھا جواب دو تم کیا مکالمہ بازی کر رہا ہے ؟؟؟”
گل خان نے نسوار نکالنے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈال کر کہا تھا
“میرے والد کی انتقال کے بعد میرے بھائی نے مجھے جائیداد کی لالچ میں آ کر گھر سے نکال دیا تھا پھر بيگم صاحبہ نے مجھے اپنے گھر میں رکھ لیا”
“اچھا ۔۔۔ پھر تمہاری شادی کیوں نہیں کی تمہاری محسن نے ؟؟؟”
“میں شادی کے قابل نہیں ہوں اس لئے”
اب شبو باقاعدہ رونے لگی تھی
“کیا مطلب ؟؟؟”
“میرے بھائی کو یہ ڈر تھا کہ کہیں میں شادی نہ کر لوں اور میری اولاد نہ ہو جائے اس لئے اس نے میرا آپریشن کروا دیا تھا میری بچہ دانی نکلوا دی تھی مجھے ادھورا کر دیا میرے اپنے ہی بھائی نے ۔۔۔۔”
لمبی خاموشی ۔۔۔۔۔۔۔
۔کیوں کہ میرے باپ کی وصیت کے مطابق انکی ادھی جائیداد میرے نام تھی بھائی نے مجھے جیتے جی مار کر گھر سے باہر نکال دیا تا کہ بھوکی پیاسی مر كهپ کر میری کہانی ختم ہو جائے ۔۔۔اور وہ اس سونے کی کان کا اکیلا وارث بن جائے “
“تو اس نے تمہیں سیدھا سیدھا مارا کیوں نہی زندہ کیوں چھوڑا؟؟؟”
“کیوں کہ زنا قرض ہے ڈاکٹر صاحب “
ڈاکٹر احمد کا سر چکرایہ تھا
“کیا مطلب ؟؟؟”
“سمجھ کیوں نہیں آیا آپ کو؟؟؟”
“تم مرد دوسروں كی بہن بیٹی کی عزت سے اپنی ہوس پوری کرتے ہو کبھی سوچا ہے گھر میں جو بہن بیٹی بیٹھی ہے اسکا حساب اسے چکانا پڑے گا ؟؟؟؟”
“اللّه بہت بڑا منصف ہے ۔۔۔۔بیشک ۔۔۔۔۔۔اس نے انصاف کیا ۔۔۔۔۔میں لمبے عرصے تک پامال ہوتی رہی ۔۔۔۔”
“اللّه تو اللّه ہے نہ وہ میرے باپ کی اربوں کی جائیداد سے مرعوب تھوڑی تھا ۔۔۔۔ اس کا فیصلہ تو امیر غریب میں فرق نہیں کرتا ۔۔۔۔۔کسی کی عزت پر ہاتھ ڈالو گے تو اپنی عزت کی بچانے کی کوشش بے سود ہوجاتی ہے ۔۔۔۔”
“اللّه کے نزديک تو ایک جیسی عزت دار ہے نہ بیٹی ۔۔۔۔۔امیر کی بھی غریب کی بھی ۔۔۔۔مگر میرا باپ سیٹھ جبران اور بھائی تو یہ بھی جانتے ہی نہیں تھے ۔۔۔۔ان کے گناہوں کا کفارہ میں نے ادا کیا ہے “
اب شبو چیخ چیخ کر رو رہی تھی
“بھائی نے جیسے ہی بے گھر کیا میں ایک غلط عورت کے ہاتھ لگ گئی ۔۔۔لوگوں کی پہچان تو مجھے سیکھائی ہی نہیں گئی تھی ۔۔۔۔ماں تو میں نے دیکھی ہی نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔باپ نے بس پیسوں کی گنتی سیکھائی تھی ۔۔۔۔وہ مجھے غلط جگہ لے گئی جہاں لمبے عرصے تک ۔۔۔میں ۔۔۔۔۔باپ اور بھائی کے گناہوں کا حساب دیتی رہی ۔۔۔۔ پھر آخر میری آزمائش ختم ہوئی ۔۔۔۔میں ایک دن بھاگنے میں کامیاب ہو گئی ۔۔۔۔
“پھر میری ملاقات عافیہ بيگم سے ہوئی انہوں نے مجھے پہچان لیا تھا بس تب سے میں ادھر ہی رہتی ہوں بہت لمبی سزا کے بعد اس گھر کا سکون ملا ہے مجھے ۔۔۔۔۔”
ڈاکٹر احمد نے یک لمبی سانس لی تھی ۔۔۔۔
“اچھا یہ گارڈ کب سے ادھر کام پر ہے؟؟”
“یہ مجھے نہیں پتہ کیوں کہ یہ میرے آنے سے پہلے ہی یہاں موجود تھا ،زیادہ کبھی باپ چیت نہیں کی مرد ذات سے نفرت ہے مجھے ۔۔۔۔”
اب شبو اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی جانے کے لئے اٹھی تھی
“گارڈ زندہ ہے بس بیہوش ہے ان کو ہا سپٹل لے کر جانا پڑے گا میں امبیولينس منگواتا ہوں “
ڈاکٹر احمد اب فون پر تھے
شبو جا چکی تھی جب گل خان ڈاکٹر احمد کے پاس ہو کر بولا تھا
“ڈاکٹر سیب جب سے باجی کی تنخواہ گھر والی کو دی ہے بس تب سے سارے گھر والے بیمار ہو گئے ہیں مجھے تو چاولوں میں کچھ کالا لگ رہا ہے “
“ام یہ نوکری چھوڑر نے کا سوچ رہا ہے مگر فلحال کوئی کام بھی نہیں ہے پیسوں کی بھی ضرورت ہے ام کیا کرے گی اب تم ہی ہم کو بتا دو ؟؟؟”
“آپ کو کتنے پیسے دئیے ہیں بيگم صاحبہ نے ؟؟”
ابھی ام کو مہینہ پورا نہیں ہوا اس لئے بس باجی نے دس ہزار ہی اڈوانس دیا تھا “
“یہ لو دس ہزار اور جو پیسے انہوں نے دے ہیں وہ انکے آنے پر لوٹا دو اور یہاں سے جتنی جلدی ہو سکے کام چھوڑ دو”
“میرے گھر پر ڈرائیور کی ضرورت نہیں ہے ورنہ رکھ لیتا مگر میں کام ڈھونڈنے کی کوشش کروں گا آپ کے لئے گل خان چاچا”
احمد نے گل خان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا
“سر جی ایک بات بتانا چاہتا ہے ام آپکو۔۔۔”
“جی بتائیں”
“جو آپ جانتے ہیں وہ میں پہلے دن سے جانتا تھا “
“ککککککک۔۔کیا مطلب ؟؟؟؟؟”
ڈاکٹر احمد حیران ہوۓ تھے
“مجھے اللّه نے جو علم دیا ہے میں اس سے میں سب پہلی رات ہی جان گیا تھا بس ترس آتا ہے مجھے عافیہ بيگم کے بچوں پر صرف اس لئے ادھر رکا ہوں تا کہ کسی حد تک ان کی حفاظت کر سکوں بیشک اللّه کے کلام میں بہت برکت ہے”
“یہ گارڈ نہیں بچے گا یہ عافیہ بيگم کے ہر جرم میں شریک رہا ہے پہلے دن سے ۔۔۔۔۔وہ اس کو نہ مرنے دے گی نہ ہی زندہ رہنے دے گی ۔۔۔۔۔بس ہاسپٹل کے کسی بیڈ پر یہ موت کی بھیک مانگے گا”
“میں نے بيگم صاحبہ کی دی گئی رقم میں سے جب کچھ رقم استعمال کیا اور ہمارا پھیملی بیمار ہوئی ام سمجھ گیا تھا کہ یہ لعنت زدہ منحوس اور بد دعائیہ دولت ہے جو جس جگہ جائے گا بے برکتی ادھر کا مقدر بن جائے گا ۔۔۔۔۔بس ان چند پیسوں کا خمیازہ بهگت رہا ہے ہم ۔۔۔اب سوچتا ہے ام کو اگر اللّه نے علم دیا ہے تو اس مسئلے کو حل کرنا ہوگا ام کو ورنہ لوگوں کی نسلیں برباد ہو جائے گا عافیہ بيگم کی اس دولت سے اور ان کو پتہ بھی نہیں ہوگا ۔۔۔صرف اس لئے ان تمام مرے ہوۓ لوگوں کے ساتھ بات کر کے یہ مسئلہ حل کرنا چاہتا ہوں تا کہ تباہی کا یہ سلسلہ رک جائے”
“آپ بہت نیک کام کر رہے ہیں نیک سوچ کے ساتھ میں بھی یہی چاہتا ہوں گل چاچا ۔۔۔۔”
“میں بے اولاد رہا پانچ سال سے ۔۔۔۔محبوبہ سے بھڑ کر بیوی ملی مگر کبھی سوکھ نہیں ملا ہمیں ایک دوسرے سے ۔۔ میں وجہ ڈھونڈ نے سے قاصر رہا ۔۔۔”
“اللّه کرے اس بار میری اولاد خیر خیریت سے اس دنیا میں آجاے”
“آپ کو میں ایک تعویز دے گا آپ وہ ہماری بیٹی کو باندھ دینا اور ان کو کہنا پانچ وقت کی نماز پڑھ کر خود پر چار قل اور آیت الکرسی پڑھ کر اپنا حصار کھینچا کریں انشااللہ اللّه خیر رکھے گا اور آپ اندازہ لگا کر کہ اس پورے عرصے میں ادھر سے کتنی رقم ملا ہے آپکو ۔۔۔پھر ان تمام لوگوں کی طرف سے جو اس موت کے کھیل میں موت سے جا ملے ہیں اللّه کی راہ میں دینا شروع کر دیں”
“میرا علم بتاتا ہے سب ٹھیک ہو جائے گا انشاءلله “
اس سب کے دوران ایمبولنس کی آواز آئی تھی
گارڈ کو اس میں ڈال کر ہوسپٹل لے جایا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمر کو گئے ایک ہفتہ ہونے کو تھا زینب کی آنکھیں رو رو کر تهک چکی تھیں اب آنسو خشک ہو چکے تھے ۔۔۔
وہ گھر کا کام کر کے دھوپ میں لیٹی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی تھی
وہ بے دلی سے دروازے پر گئی تھی
سامنے احمر اپنے ماں باپ کے ساتھ کھڑا تھا زینب کا دل دھڑک کر باہر آ نے کو تھا
احمر تو احمر اس کے والدین بھی دولت کے رنگ میں رنگے بہت اچھے لگ رہے تھے ۔۔
احمر کی ماں کی گردن میں سريا آ چکا تھا وہ تكبر سے بولنا شروع ہوئی تھی
“تمہارے ماں باپ مزدوری سے کس وقت آے گیں ہمیں جلدی واپس جانا ہے کچھ بات کرنی ہے ان سے “
زینب اپنی خوش نصیبی پر حیران پریشان ان کو دیکھ رہی تھی
“خالہ آپ بیٹھ جائیں میں بچہ بھیج کر ان کو بلوا دیتی ہوں”
وہ مرعوب ہو کر بولی تھی
احمر زینب کو اتنے قریب سے دیکھ کر بے چین ہوا تھا
دل چیخ چیخ کر اپنی غلطی کا احساس دلا رہا تھا وہ اٹھ کر باہر نکل گیا تھا
زینب کسی معصوم بچے کی طرح خوشی سے کھل اٹھی تھی خوشی اس کے چہرے پر عیاں تھی ۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں مٹی میں آٹے ہوۓ وجود لئے زینب کے والدین…..
ممنون سے اندر آے تھے
“زینب پتر کوئی چاہ شاہ پوچھی کی نہی ؟؟؟”
بوڑھا باپ ہاتھ جھاڑتا ہوا بولا تھا
“میں ٹھنڈی بوتل لاتا ہوں “
“نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے ہم کھا پی کر آرہے ہیں بس تو دو منٹ بات کر لے ہم سے عقل دین “
احمر کا باپ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بولا تھا
“نہ جی سب ہو جائے گا میں بوتل لاتا ہوں”
وہ کہہ کر بوتل لینے گیا تھا
احمر کی ماں حقارت سے گھر کو دیکھ رہی تھی
احمر باہر گاڑی میں جا کر بیٹھا تھا وہ زینب کے لئے اپنے دل کی آواز پر بے چین ہوا تھا
اب سب کھا پی کر فارغ ہوۓ تھے
“عقل دین ہم زینب کا ہاتھ مانگنے آئے ہیں اپنے احمر کے لئے”
عقل دین اپنے جگر کے ٹکڑے زینب کی خوشی دیکھ کر اس کا جواب جان چکا تھا
زینب یہ بات سن کر کمرے میں دروازے کی اوٹ میں جا کھڑی ہوئی تھی
“اللّه اتنی جلدی دعا سن لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔بس فورا نفل پڑھوں گی جیسے ہی یہ لوگ جاتے ہیں”
زینب نے خوشی سے سوچا تھا
عقل دین نے اپنی بیوی کو دیکھا تھا جس کی آنکھوں میں رضامندی تھی
“جی ہمیں قبول ہے زینب آپ کی بیٹی ہے ہمارے گھر یہ اب آپکی امانت ہے بھائی صاحب”۔
عقل دین اب گلے مل رہا تھا احمر کے باپ سے
احمر کی ماں نے بے دلی سے زینب کی ماں کو گلے لگایا تھا
احمر اس معصوم لڑکی کے لئے جی جان سے تڑپا تھا دل کر رہا تھا سب کچھ جا کر عاصم کے منہ پر مار دے اور اس مخلص لڑکی کو اپنی عزت بنا کر پوری دنیا سے چھپا لے ۔۔۔۔۔
مگر وقت كمان سے نکلے تیر کی مانند تھا جو ہو گیا تھا وہ بھی اب واپس نہیں لیا جا سکتا تھا۔ ۔۔۔۔
نکاح کا دن بھی احمر کی مرضی کے مطابق رکھا گیا تھا
اب احمر کو اس کی ماں اندر لے آئی تھی زینب کو بھی کمرے سے بلا کر وہیں بیٹھا دیا گیا تھا
زینب گھونگھٹ کی حد تک دوپٹہ آگے کر کے بیٹھ گئی تھی دل خوشی سے بھنگڑے ڈال رہا تھا
احمر نظریں زمین پر گاڑےسپاٹ چہرہ لئے بیٹھ گیا تھا
زینب كی ماں رسم کے طور پر زینب کی شال سے لٹکتی ڈوری کھینچ کر لے آئی تھی جو اس نے بہت محبت سے احمر کی کلائی پر باندھی تھی
احمر کی ماں نے اپنے ہاتھوں سے ایک قیمتی چوڑی اتار کر زینب کو پہنائی تھی
سب بہت خوش تھے ۔۔۔۔
احمر نے جاتے جاتے ایک نظر زینب پر ڈالی تھی پھر وہ تقريبا بھاگ کر گاڑی میں بنا کسی سے ملے جا بیٹھا تھا
سانس رکنے کو تھی احمر نے پورا منہ کھول سانس لیتے ھوئے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔
اگلے ہفتے نکاح تھا ۔۔۔۔سادگی سے ہی اسی دن رخصتی طے پائی تھی
اس بیچ احمر عاصم کو بتانے فیکٹری گیا تھا
آفس میں عاصم اور عافیہ کسی بات پر پریشان بیٹھے تھے جب احمر کو اندر بلايا تھا
عاصم بنا کسی سلام جواب کے فورا بولنا شروع ہوا تھا
“وہ حسینہ کب میری دسترس میں دوگے تم آخر 20 دن ہو گئے ہیں تمہیں پیسے دیے ؟؟؟”
احمر جو کوئی درمیانی راہ نکالنا چاہتا تھا عاصم کی بات سے پزل ہوا تھا
“سر اگر میں ایسا نہ کر سکوں؟؟؟ میں ساری عمر آپ کے ہاں نوکری کر کے وہ ساری رقم لوٹا دوں گا مگر وہ لڑکی مجھ سے عشق کرتی ہے میں بہت چاہ کر بھی اسے دھوکہ نہیں دے پا رہا ۔۔۔”
اب احمر عاصم کے پیرپکڑ کر بیٹھ گیا تھا
“سر میں کبھی خود کو معاف نہیں کر پاؤں گا اس گناہ کے لئے ۔۔۔۔۔سر وہ جیتے جی مر جائے گی ۔۔۔
سر بچپن سے مجھے محبت کے باوجود آج تک مجھے اس کا ہاتھ تک پکڑنا نصیب نہیں ہوا وہ بہت حفاظت کرتی ہے اپنی عزت کی ۔۔۔۔
سر میں اس کی عزت کیسے پاش پاش کرنے دے سکتا ہوں ۔۔۔۔؟؟؟”
اب احمر دیوانہ وار رو رہا تھا
“یہ خیال تب کیوں نہیں آیا جب چیک لینے بھوکے کتے کی طرح میری طرف لپكے تھے ؟؟؟؟؟؟؟”
“بکواس مت کرو اتنی رقم سے میں ناک پونچھ کر پھینک دیتا ہوں بات رقم کی نہیں ہے جو چیز مجھے پسند آجائے میں وہ میں ہر قیمت پر حاصل کر کے ہی چھوڑتا ہوں”
عاصم احمر کو ٹانگ مار کر پیچھے دکھیل کر بولا تھا
“اتنی اچھی رقم تمہیں مل چکی ہے اور بھی دے رہا ہے عاصم تم کیوں کفرانے نعمت کر رہے ہو؟؟؟”
عافیہ سنجیدگی سے بولی تھی
“میڈم وہ بہت محبت کرتی ہے مجھ سے وہ پہاڑوں پر بہنے والی کسی ندی کی طرح شفاف اور پاک ہے اپنے نام کی طرح ۔۔۔۔۔۔اس نے اپنے نام کی لاج ہمیشہ رکھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔”
“زینب نام ہے اسکا “
احمر زمین پر بیٹھا تکلیف سے بولا تھا
میڈم آپ خود بھی عورت ہیں آپ تو سمجھ سکتی ہیں اسکی حالت ۔۔۔۔آپ پلیز سر کو سمجھائیں…”
احمر اب اٹھ کر عافیہ کے پاس پر امید ہو کر جا کھڑا ہوا تھا
“عقل سے کام لو لڑکے ساری عمر بیٹھ کر کھانا ،پیسہ ہو گا تو ایسی لاکھوں زینب مل جائے گیں تمہیں یہ مجنوں گیری چھوڑ دو میری بات مانو نہیں مرتی وہ ۔۔۔عاصم ایک ہفتے سے زیادہ کسی کو مہمان نہیں بناتا ۔۔۔”
عافیہ عاصم کو آنکھ مار کر بے رحمی سے بولی تھی
سر پلیز مجھ پر رحم کریں”
اب احمر پھر عاصم کے پیروں میں بیٹھ کر بولا تھا
“اچھا ساری رقم بھی دے دو اور اپنی چاروں بہنوں کو بھی لے آؤ ۔۔۔میں اتنا بھی بے رحم نہیں ۔۔۔۔”
کمرے میں عافیہ اور عاصم کا اجتمائی قہقہ گونجا تھا
احمر کی ریڑ کی ہڈی میں خوف کی سرد لہر دوڑی تھی
“سر میرا نکاح ہے زینب کے ساتھ اگلے ہفتے میں لے آؤں گا اسے اسی دن آپ جہاں بھی کہیں گیں”
مجھے نکاح پر کوئی اعتراض نہیں مگر اگر تم نے ہاتھ بھی لگایا اسے تو میں وہی کروں گا جو ابھی کہہ چکا ہوں”
احمر آنسو صاف کرتا ہوا باہر نکلا تھا
دل کی دھڑکن بے لگام ہوئی تھی ۔۔۔دل بند ہونے کو تھا وہ بس اب جلدی سب ختم کرنا چاہتا تھا دماغ مزيد اس بوجھ کو اٹھانے سے انكاری تھا اس نے سانس کی بحالی کے لئے شرٹ کے بٹن کھولے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولیمہ کی تقريب کے بعد عافیہ بيگم ،زبیدہ بيگم اور ان کے میاں کے پاس رشتے کی بات کرنے آئی تھیں علی کو ہمرا لئیے ۔۔۔۔
“دیکھیں بھائی صاحب ہمارا کیا حساب کتاب ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے سب کھلی کتاب کی طرح ہے آپ سب کے سامنے ۔۔۔۔۔
سیاہ سفید جو بھی ہے میرے بیٹے علی کا ہے ۔۔۔۔
اس کی شروع سے ہی دو شادیوں کی خواہش رہی ہے جس پر میں نے کبھی اعتراض نہیں کیا ۔۔۔۔
کیوں کہ میں خود بھی یہی چاہتی ہوں ۔۔۔۔
اللّه کا دیا سب ہے آپکی دونوں بیٹیوں کو کسی بھی لحاظ سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔
سونی کے والد خاموشی سے سب سن رہے تھے چہرے پر ایک طرف ہاتھ رکھے ۔۔۔۔
“میں یہاں سے سونی اور ماهم کو نکاح کر کے ساتھ ہی لے کر جانا چاہتی ہوں باقی ولیمہ میں دھوم دهام سے کروں گی ادھر گھر جا کر ۔۔۔۔۔آپکی اجازت سے ۔۔۔”
“عافیہ بہن میں دولت میں آپ کے شایان شان نہیں ہوں مگر دو لوگوں میں میری عزت ضرور ہے ۔۔۔۔”
“مجھے کوئی اعتراض نہیں آپ کی بات سے اور میری دونوں بیٹیوں کو بھی یقینا نہیں ہوگا کیوں کہ مجھے اپنی اور اپنی بیوی کی تربیت پر پورا بھروسہ ہے ۔۔۔”
“مگر میں اس رشتے سے انکار کرتا ہوں “
علی پریشانی سے کھڑا ہوا تھا
عافیہ بيگم نے ہاتھ پکڑ کر دوبارہ صوفے پر بیٹھایا تھا
“میں وجہ پوچھ سکتی ہوں بھائی صاحب ؟؟؟”
“بہن رشتہ ہمیشہ اپنے قد کے حساب کرنا چاہیے میں ہمیشہ اپنے بچوں کے سر پر نہیں رہوں گا میں نہیں چاہتا کہ سٹیٹس کا یہ کلیش کل میرے بچوں کی زندگی اجیرن کر دے ,آپ نے ہم غریبوں کی بیٹیوں کو عزت دی اس کے لئے بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔آپ اپنی دولت کے حساب سے رشتہ دیکھ لیں ۔۔۔”
عافیہ جو اکڑ کر رشتہ مانگنے آئی تھی اس بات سے ہکی بکی رہ گئی تھی ۔۔۔۔وہ تو احسان کر رہی تھی رشتہ مانگ کر مگر یہاں تو معملہ ہی الٹا پڑ گیا تھا
“انکل میں کچھ کہنا چاہتا ہوں آپ سے “
علی نیہا یت ادب سے بولا تھا
“جی بیٹا ضرور ۔۔۔”
“میں سونی اور ماهم کا اپنی زندگی کی آخری سانس تک خیال رکھوں گا میں وعدہ کرتا ہوں آپ پلیز رشتے سے انکار مت کریں ۔۔۔۔”
“میں اگر امیر ہوں تو اس میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے یہ سب میرے باپ کا ہے آپ پلیز اس کو میرے ساتھ مت تولیں ۔۔۔۔۔”
“اگر روکاوٹ یہ دولت ہے تو میں ابھی اور اسی وقت اس ساری جائیداد سے دستبردار ہوتا ہوں”
“میں پڑھا لکھا ہوں دودھ اور جانوروں کا کاروبار کرتا ہوں اس سب سے میں اتنا کما لیتا ہوں کہ اپکی بیٹیوں کو دو وقت کی روٹی عزت سے کھلا سکتا ہوں”
عافیہ بيگم بیٹے کو گھٹنے ٹیکے دیکھ کر گنگ رہ گئی تھی
“آپ جس طرح کی گارنٹی چاھتے ہیں میں دینے کے لئے تیار ہوں”
اب علی سونی کے باپ کے پاس نیچے بیٹھ گیا تھا انہوں نے فورا علی کو اٹھا کر گلے لگایا تھا
عافیہ بيگم علی کی اس حرکت پر زمین میں گڑ گئی تھیں ان کو اپنا غرور مٹی میں ملتا محسوس ہوا تھا
علی کی سونی اور ماهم کے لئے اتنی لگاوٹ کے ہر چیز سے دستبرداری ۔۔۔۔۔عافیہ بيگم کو ٹھنڈے پسینے آئے تھے ۔۔۔
کل رات کو نکاح رکھ لیا گیا تھا
گھر پہلے ہی مہمانوں سے بھرا ہوا تھا عافیہ بيگم نے سب کو اسپیشل جا جا کر نکاح کا پیغام دے کر مدعو کیا تھا اسی پنڈال میں نکاح متوقع تھا
اس کام کے بعدعافیہ علی کو لے کر نکاح کا جوڑا اور باقی لوازمات لینے گئیں تھیں
علی بہت خوش تھا جب سے آمنہ کا نکاح ہوا تھا سر درد بھی قدرے بہتر تھا
علی شیروانی میں کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا عافیہ بيگم بھی نفاست سے ساڑھی پہنے ہوئی تھیں
ملکہ،ثوبی،فاطمہ اور آمنہ بہت اچھے سے تیار ہوئی تھیں ۔۔۔
حاشر آمنہ کے آس پاس پھر رہا تھا مگر رخصتی والی کل والی بات کی وجہ سےپاس نہیں آیا تھا اس نے دور سے ہی آنکھوں سے آمنہ کی تیاری کو سراہا تھا
موسم کے تیور بگڑے ہوۓ لگ رہے تھے بادل کسی بھی وقت برسنے کو تیار تھے ۔۔۔۔
