Khof by Jameela Nawab Readelle 50362 Khof Episode 6
Rate this Novel
Khof Episode 6
علی کو اپنی سانس رکتی محسوس ہورہی تھی دس منٹ تک وہ اس ہاتھ کے اپنی کمر پر ہونے کو جھٹلاتا رہا مگر دماغ کسی انجانے خطرے کی نشاندہی کر رہا تھا ۔۔۔۔
علی نے اپنی تمام تر ہمت جمع کی اور کمر پر موجود ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا وہ ہاتھ کا لمس بہت اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔۔اگلا مرحلہ کروٹ بدل کر اس کا چہرہ دیکھنے کا تھا ۔۔۔علی نے آرام آرام سے کروٹ بدلی مگر وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔۔علی کو ایک دم سے شدید خوف نے گھیر لیا تھا اتنے میں بجلی آگئی پورا گھر روشنی میں نہا گیا جس سے علی کا دل بند ہونے سے بچ گیا ۔۔۔۔علی کا دل کر رہا تھا رضائی میں سے روئی نکال کر خود گھس جائے ۔۔۔
لائٹ آن ہی چھوڑ کر علی سونے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گارڈ انکل۔۔۔۔۔۔ گل خان انکل کدھر ہیں انکو بتا دیں دوپہر میں ہم چاروں اور ماما نے مارکیٹ جانا ہے ۔۔۔۔
ثوبیہ سرونٹ كوا ئٹر میں آئی تھی ۔۔۔
جی بٹیا انکی رات طبیعت خراب ہو گئی تھی وہ گھر گئے ہیں آتے ہیں تو میں بتا دونگا ۔۔۔گارڈ نے جواب دیا
عافیہ بيگم ناشتہ بنا کر سب کو بلا نے چلی گئی ۔۔۔
علی کا کمرا سب سے پہلے آتا تھا ۔۔۔علی کے کمرے کی لائٹ ان دیکھ کر وہ فورأ اندر چلی گئی ۔۔۔علی بیٹھا ہوا تھا ہاتھ میں موبائل پکڑے ۔۔۔
عافیہ بيگم نے بس سر اندر کر کے ہی ناشتہ کرنے کو کہا مگر علی خاموش رہا ۔۔۔
امی ۔۔۔۔۔علی نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔۔۔
جی بیٹا جی ؟؟ عافیہ بيگم اسکے ہی پاس بیٹھ گئیں ۔۔۔
امی مجھے شادی کرنی ہے ۔۔۔آپ لڑکیاں دیکھ لیں۔۔۔۔اور انکو آگاہ بھی کر دیں میری خواہش سے ۔۔۔۔
بیٹا ۔۔۔۔میری جان دو دو بیویا ں ہینڈل کر لوگے وہ بھی ایک ساتھ ؟؟؟
جی امی ۔۔۔۔آپ دوسرا کمرہ بھی صاف کروا دیں ہمارے لئے ۔۔۔علی ہمیشہ یہ بات بہت شرما کر کرتا تھا مگر آج بہت سنجیدگی سے یہ بات کر رہا تھا جو کہ عجیب لگا تھا عافیہ بيگم کو ۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا میں آج ہی سوچتی ہوں اس بارے میں کیسی دلہنیں چاھتے ہو ؟؟؟ کیا ڈیمانڈ ہے تمہاری ؟؟؟
عافیہ بيگم نے بہت دلچسپی سے پوچھا
کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے بس انکی زندگی کا پہلا مرد۔۔۔۔۔میں ہونا چاہیے ہوں۔۔۔ایسے ھی جیسے میں نے کبھی کسی لڑکی کو آج تک آنکھ اٹھا کر نہی دیکھا۔۔۔۔۔
اور تعلیم ؟؟؟ عافیہ بيگم نے مزید کریدنا چاہا ۔۔۔
دونوں کی ایک جتنی ہو کم از کم گریجویشن ۔۔۔۔۔
عافیہ بيگم بیٹے کو خوش دیکھنا چاہتی تھیں مگر علی کا ہر جواب ان کو پریشان کر رہا تھا ۔۔۔
بیٹا کیابات ہے آپ ٹھیک ہو ؟؟؟کسی چیز کا پریشانی ہے ؟؟۔
جی امی ٹھیک ہوں بس آپ آج ہی ہوم ورک کریں میری شادی کے حوالے سے پھر آگاہ کریں مجھے ۔۔۔
میں شاور لے کر آتا ہوں ناشتے کے لئیے ۔۔۔۔
علی یہ کہہ کر باتھ روم میں گھس گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیشنٹ پچھلے دس سال سے کومے میں ہے ہر ٹیسٹ کر کے دیکھا ہے کوئی بھی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی حلانکہ امریکہ تک انکی رپورٹس بھیجی ہیں وہاں کے ڈاکٹرز بھی وجہ ڈوھنڈنے سے قاصر ہیں کیونکہ انکی ساری رپورٹس بلکل نارمل ہیں یہ میرے اور آپ کی طرح ایک تندرست انسان ہیں اگر محض رپورٹس کو دیکھا جائے ۔۔۔۔
ان کی باڈی کا ہر آرگن اپنا کام بخوبی سر انجام دے رہا ہے مگر یہ کومے میں ہیں یہ سوچ سکتے ہیں سن سکتے ہیں اپنا جسم بھی ہلا سکتے ہیں مگر یہ ایسا کیوں نہیں کرتے یہ سمجھ سے باہر ہے ۔۔۔۔پچھلے دس سال سے یہ iv ( جب صرف ڈرپ واحد سورس ہوتا ہے مریض کو خوراک دینے کا )پر ہیں ۔۔۔
بتایا یہ جاتا ہے انکی فیملی نے بھی پچھلے 8سال سے انکو آ کر نہیں دیکھا کوئی رابط نہیں رکھا ان سے کسی بھی قسم کا ۔۔۔۔۔
ہاں البتہ انکے اخراجات کی رقم ہر ماہ ہسپتال کے اکاونٹ میں بھر دی جاتی ہے ۔۔
ڈاکٹر فاروق ڈاکٹر احمد کو سرجری پیشنٹ کے متعلق سرجری سے پہلے بریف کر رہے تھے ۔۔۔
هممم ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر احمد نے طویل بات پر سرہلاتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔
ایک ہفتے پہلے ہی ان کے سٹی سکین میں ایک چھوٹی سی رسولی شو ہوئی ہے جو دماغ کے بہت سینٹیٹو جگہ پر ہے ان کی جان جانے کے چانسز %95 ہیں ۔۔۔یہ سر اسی دن کی بات ہے جس دن ہمارے ہوسپٹل میں آپکی ہائیرنگ کا پہلا دن تھا ۔۔۔
ٹیومر ہے ؟؟؟ ڈاکٹر احمد نے مریض کی فائل کو اٹھاتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔
نہیں سر یہ فیصلہ کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا ۔۔۔
یہ بھی ہو سکتا ہے طویل عرصہ سے ایک پوزیشن میں رہنے کی وجہ سے برین میں کہیں بلڈ کی cloting ہو گئی ہو جو باول لوپ کی شکل اختیار کر گئی ہو ۔۔۔ جو رسولی شو ہو رہی ہو ۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر احمد نے لفظ کو کھینچتے ہوۓ کہا ۔۔۔
ڈاکٹر فاروق جب کوئی ریزن نہیں تھی تب بھی یہ کومہ میں ہی تھے پھر ابھی جب سرجری سے ان کے مرنے کے چانسز ہی ہیں پھر اسکو کرنے کا مقصد ؟؟؟
سر ۔۔۔ڈاکٹر فاروق نے ڈاکٹر احمد کو اشارے سے آفس کی طرف آنے کا کہا اور بات جاری رکھی ۔۔۔
در اصل یہ پاکستان کے ہر بہترين ہسپتال میں زیر علاج رھے ہیں
ان میں ہمارا نمبر کونسا ہے یہ پتہ لگانا بھی شاید نا
ممکن ہو ۔۔۔
He is here just for an experiment Dr. Ahmad
We just want to know the reason we have no concern with his survival …
As you can see here….at the attendent place…..
انہوں نے لواحقین والے خانے پر انگلی رکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔ جو کہ خالی تھا ۔۔۔
There is nobody in this world who cares about him …nobody needs him….
ڈاکٹر فاروق نے needs پر زور دیتے ہوۓ کہا ۔۔۔
ڈاکٹر احمد نے حیرانگی سے دیکھا
مطلب جس کا کوئی انسان پوچھنے والا نہ ہو اسے مارتے ہوۓ اللّه سے بھی نہیں ڈرنا چاہیے ۔۔۔
By all this discussion you meant that???
نہیں نہیں ڈاکٹر احمد آپ غلط سمجھ رہے ہیں یہ اتنے عرصے سے وینٹی لیٹر پر ہیں جس کا خرچ کروڑوں میں بنتا ہے اور ان کے ٹھیک ہونے کی بھی کوئی امید نہیں ہے ابھی جب کوئی وجہ ہمیں ملی ہے تو اس کا سدباب کرنا ہی عقلمندی ہے اگر یہ بچ جاتے ہیں تو بھی، نہیں بچتے تو بھی ،کوئی نہ کوئی نتیجہ تو نکلے گا ۔۔۔۔
“آر یا پار “
جی ٹھیک ہے مگر جو بندہ انکے بل کلیر کرتا ہے وہ کون ہے ؟؟؟ ڈاکٹر احمد نے تفتیشی انداز میں پوچھا ۔۔۔
وہ جو بھی ہے کبھی سامنے نہیں آیا نہ ہی کبھی ڈائریکٹ بات کی ہے بل دینے والا کوئی سادہ سا بندہ ہے جو بھینسوں کا کام کرتا ہے اس کا کہنا ہے ہر ماہ ایک خط کے ساتھ یہ رقم گھر یا ڈیرے پر پوھنچا دی جاتی ہے ۔۔
خط میں کیا لکھا ہوتا ہے ؟؟؟
ڈاکٹر احمد نے پوچھا
رقم وقت پر جمع کروانے کی تاکید ۔۔۔
انکار کی صورت میں پوری فیملی کی جان لینے کی دهمكی ۔۔۔۔
ہسپتال کا اڈریس۔۔۔۔
اورا کاونٹ نمبر کی معلومات وغیرہ ۔۔۔ڈاکٹر فاروق نے وضاحت دی ۔۔۔
اوکے سرجری کی تمام تیاریاں ڈن ہیں ؟؟
ڈاکٹر احمد نے پوچھا
جی سر ۔۔۔۔آپ کے ساتھ چار سرجن اور ہوں گے جو آپ کو اسسٹ کریں گے ابھی دن کے دس بج رہے ہیں ٹھیک 4بجے سرجری سٹارٹ کی جائے گی ۔۔۔
باقی سرجنز یہ سب جانتے ہیں انکی بریفنگ کل کی جا چکی ہے ۔۔۔یہ فائل آپ اسٹڈی کر لیں ۔۔۔
آپ آج کوئی بھی مریض نہیں دیکھیں گے۔۔۔
ڈاکٹر فاروق نے مزید کہا ۔۔۔
جی ٹھیک ہے ۔۔۔ڈاکٹر احمد نے سر کو جنبش دیتے ہوۓ کہا اور فائل کھول لی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم سب تو آگئی ہو یہ فاطمہ کیوں نہیں آئی ناشتہ پر ؟؟؟ عافیہ بيگم نے پراٹھے سب کو سرو کرتے ہوۓ فکرمندی سے پوچھا
امی وہ سو رہی ہے ابھی اٹھی تو بہکی بہکی باتیں کر کے دوبارہ سو گئی ہے
ملكہ نے لاپروائی سے جواب دیا
کیسی باتیں ؟؟عافیہ بيگم نے پوچھا
کہہ رہی تھی مجھے گھر جانے دو میری ماں میرے انتظار میں دروازے پر ہی بیٹھی ہوگی
میرا باپ زندہ درگور ہو جائے گا مجھے جانے دو ۔۔
آمنہ اور عافیہ بيگم نے کھانے سے ہاتھ روک دیے ۔۔
کیا مطلب وہ ایسا کیوں کہہ رہی تھی ؟؟
آمنہ نے تیزی سے پوچھا
کچھ نہیں آپی رات ہارر مووی دیکھی تھی نہ اس کا اثر ہے ۔۔۔ملکہ نے مزاح کے انداز میں کہا
مگر ملکہ تم تو سو گئی تھی نہ تھوڑی سی ہی دیکھی تھی تم نے مووی ۔۔۔
ثوبیہ نے لقمہ دیا
پھر کچھ یاد آنے پر ماں کی طرف دیکھا ۔۔
امی مووی میں تو ایسا کوئی بھی ڈائیلاگ نہیں تھا
آمنہ نے بھاگتے ہوۓ فاطمہ کے کمرے کا رخ کیا باقی سب بھی پیچھے پیچھے ہو لیے ۔۔۔۔
کمرے میں اندھیرا تھا لائٹ جیسے ہی لگائی فاطمہ بیڈ پر بیٹھی اپنے دونوں ہاتھوں سے خود کو ڈھانپنے لگی اور خوفزدہ لال آنکھوں سے چلانے لگی ۔۔۔۔
مجھے کپڑے دے دو کوئی تمہیں اللّه رسول کا واسطہ ہے مجھے ایسے برہنہ مت چھوڑو ۔۔۔۔۔
وہ بری طرح اپنے ہاتھوں سے خود کو چھپا رہی تھی عافیہ بيگم چپ چاپ کھڑی یہ سب دم سادھے دیکھ رہی تھیں آمنہ ثوبیہ اور ملکہ نے فاطمہ کو اپنے ہاتھوں کے گھیرے میں لے لیا جس سے وہ کچھ مطمین ہوئی تھی ۔۔۔۔
عافیہ بيگم جیسے ہوش میں آئی تھیں آمنہ۔۔۔۔
چیخ کر نام لیا گیا ۔۔۔
جی امی ؟؟؟آمنہ نے فوری جواب دیا
جاؤ یہاں سے اور بہنوں کو بھی لے کر جاؤ فاطمہ کے پاس میں ہوں
فاطمہ سہمی سہمی ماں کو دیکھ رہی تھی جب وہ تینوں جا رہی تھیں کمرے سے ۔۔۔۔
دروازہ بند کردو اور اندر کوئی نہ آۓ…ایک اور فرمان عافیہ بيگم نے سنایا ۔۔۔
جیسے ہی دروازہ بند ہوا فاطمہ بلکل نارمل ہو کر بیٹھ گئی ۔۔۔
تم واپس کیوں آئی ہو ؟؟؟
عافیہ بيگم نے نرمی سے پوچھا ۔۔۔
فاطمہ نے ایک زہرآلود قہقہ لگایا ۔۔۔۔میں گئی کب تھی ؟؟؟ میں تو یہی تھی بس مجھے سامنے آنے کی اجازت اب ملی ہے ۔۔۔
کیا چاہتی ہو ؟؟؟عافیہ بيگم کا لہجہ بہت مودبانہ تھا
انتقام ,بدلہ ،سکون ۔۔۔۔۔۔۔اور تمہارا بیٹا ۔۔۔۔
عافیہ بيگم کو اپنے پیروں میں سے زمین سرکتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔
علی نہیں دے سکتی تمہیں میں اس کے علاوہ قیمت بتاؤ اپنی یہاں سے دفع ۔۔۔میرا مطلب ہے یہاں سے جانے کی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔۔۔۔
ہر لفظ چبا چبا کر بولا گیا ۔۔۔
