506.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khof Episode 13

“آپکی مسز کی 42 ڈیز کی پریگننسی ہے ابھی تک تو ٹھیک جا رہی ہے باقی 7 ویکس پر انکا الٹراساونڈ ہوگا آپ انکا بہت سا خیال رکھیں اور یہ سپلیمنٹس ریگولر یوز کروائیں “

“جی بہتر ڈاکٹر شمائلہ”

سارہ اور ڈاکٹر احمد كلینک سے باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھے تھے

“اوہو سارہ فائل ادھر ہی بھول آیا ہوں تم ادھر بیٹھو میں لے کر آتا ہوں”

ڈاکٹر احمد كلینک میں دوبارہ گئے تھے جہاں ڈاکٹر شمائلہ انکی منتظر تھیں

کیا لگتا ہے آپکو

“Will she be able to carry this child??”

“ڈاکٹر احمد فلحال وہ جس اسٹیج پر ہیں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔۔۔آپ دعا کریں انکا خاص خیال رکھیں ان سے اچھی اچھی پازیٹو باتیں کریں اللّه بے نیاز ہے “

“سائنس کی ترقی اپنی جگہ مگر خدا کی قدرت اور رضا کے آگے سائنس کی یہ ترقی بھی گھٹنے ٹیک دیتی ہے “

اس ذات کے لئے کچھ بھی مشکل نہی اس رب کے بھروسے اس کو چلنے دیں ۔۔۔۔

ڈاکٹر شمائلہ نے آسمان کی طرف شہادت کی انگلی اٹھ کر کہا تھا

“تھنکس الاٹ ڈاکٹر شمائلا “

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“عافیہ؟؟؟”

میری دھی ۔۔۔۔۔

“آجاؤ میں صدقے میں واری میرے چاند کی چاندنی”

“نعیم پتر باہر آ جاؤ میرے گھر دی رونق نو وی لے کے بار آ۔۔۔۔ گرم گرم پراٹھے بنائیں نے “

شکورن نے ایک ہاتھ سے کمر پکڑ کر دروازہ پر ہلکی سی دستک دے کر محبت سے لبریز جذبات میں کہا تھا

کوئی جواب نہ پا کر وہ دیوار پکڑے چولہے پر جا کر دوبارہ بیٹھ گئی تھی

تو بھی کمال کرتی ہے شکورن نوا نوا ویا ہوا ہے انکا تیرے پراٹھوں سے کیا لگے انکو وہ تو روز ہی بنتے ہیں ۔۔۔

شکورن نے خود کلامی میں کہا تھا

رشتے کے سب مہمان صبح ہی چاۓ کا کپ چڑھا کر جا چکے تھے اب دن کے سات بج رہے تھے

یہ ان وقتوں كی بات ہے جب لوگوں کی صبح فجر کے وقت ہوتی تھی اور سات بجے دوپہر کے کھانے کی تیاری ہوا کرتی تھی ۔۔

اب وہ چولھے میں بیٹھی تیلی مار رہی تھی نظر ہنوز نعیم کے دروازے پر جمعی ہوئی تھی ۔۔۔

عافیہ ۔۔۔۔

“عافیہ ۔۔۔یار اماں کب سے ہماری راہ تک رہی ہیں اٹھو باہر چلتے ہیں وہ میرے بغیر ایک گھونٹ بھی نہیں بھریں گیں چاۓ کا ۔۔۔”

ہمممممممم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“سونے دو مجھے ۔۔۔۔۔۔نہیں پینی مجھے چاۓ واۓ تم پی لو جا کر اور پلیز اب مجھے مت اٹھانا میں خود ہی آجاؤ گی باہر جب نیند پوری ہو جائے گی “

“اچھا میری رانی دوپہر کا کھانا تمہارے امی ابو کی طرف ہے کم از کم تب تک ضرور تیار رہنا “

“ہمممممممم ۔۔۔۔۔”

نعیم باہر ماں کے پاس آ کر بیٹھا تھا

“بہو رانی کو بھی لے آتا گرم پراٹھے کھا لیتی “

شکورن نے سر كھجا کر دوپٹہ کانوں کے پیچھے کرتے ہوۓ کہا تھا

“اماں ۔۔شہر میں رہتی تھی پڑھائی کے لئے ہاسٹل میں وہاں دیر سے اٹھنے کی عادت پال لی ہے تیری نوں نے۔۔۔۔ تو جانے دے اسے چل مجھے کھلا ناشتہ اپنے ان پیارے ہاتھوں سے “

نعیم نے کسی بچے کی طرح بوڑھی ماں کو بہلایا تھا

“وہ تو ٹھیک ہے پتر مگر یہ ہاسٹل کیا ہوتا ہے ؟؟”

“اماں اگر میں بھی روزانہ شہر آنے جانے کی بجاے وہی ایک کمرہ کراۓپر لے کر رہتا ….اس مقصد کے لئے بہت سی لڑکیاں کالج کے فراہم کردہ کمروں میں ہر ماہ ایک خاص رقم دے کر رہتی ہیں اسے ہاسٹل کہتے ہیں “

بوڑھی شکورن نے اس بات پر اپنی بہو کی غائبانہ بلائیں لی تھیں ۔۔۔چلو یہاں رج کے کرے پوری نیندیں شکورن نے خلوص سے سوچا تھا

دن کے دو بج رہے تھے جب عافیہ اجڑی حالت میں سو کر اٹھی تھی پہلے دن کی دلہن تو وہ کسی بھی رخ سے نہیں لگ رہی تھی نہ نزاکت نہ کوئی جھجک ۔۔۔۔

“میری شہزادی اٹھ گئی ہے ؟؟؟”

“جی ۔۔۔۔اٹھ گئی ہوں اب میں تیار ہو جاؤں امی کی طرف جانا ہے ہم نے ؟؟”

“ہاں کیوں نہیں سدا وسدی رہو میری دھی”

شکورن نے سر پر پیار دے کر دس کا نوٹ عافیہ کی مٹھی میں دبایا تھا جبکہ عافیہ نے برا سا منہ بنا کر غسل خانے کا رخ کیا تھا

عافیہ بہت زیادہ حسین نہیں تھی مگر ایسی معمولی بھی نہیں تھی کہ تیار ہو جانے پر شوہر نظر انداز کر پاتا ۔۔۔

نعیم عافیہ کو بہت محبت سے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے شیشے میں بال سنوارتے ہوۓ دیکھ رہا تھا جب شکورن اندر آئی تھی

“ماشاءالله ،ماشاءالله میری نوں تو پورے پنڈ میں پیاری ہے چن کا ٹوٹا لگ رہی ہے ان کپڑوں میں”

شکورن نے عافیہ کو دیکھتے ہے محبت سے کہا تھا جس پر عافیہ نے اترا کر نعیم کو دیکھا تھا

“اماں یہ کیا آپ تیار نہیں ہوئی ابھی تک ؟”

“نہ پتر مجھ بوڑھی کا کیا کام مجھے نہیں بننا کباب میں ہڈی تو لے جا میری دھی نو۔۔۔۔۔ پہلے باپ کے گھر پھر کھیتوں میں گھما لانا یا جدهر بھی دل ہوا اس شودی کا ۔۔۔۔میری دھی نو بس کوئی وی شکایت نہیں ہونی چاہئے”

عافیہ کو سر پر پیار دے کر کہا تھا

دونوں پرانی سی سائیکل پر عافیہ کے باپ کے گھر گئے تھے جو زیادہ دور نہیں تھا

نعیم اپنے سسر کے ساتھ یہاں وہاں کی باتوں میں مصروف تھا جبکہ عافیہ ماں کےپاس کچن میں آئی تھی

جو کچے صحن میں ایک طرف چھوٹی چھوٹی چار دیواری بنا کر بنایا گیا تھا

“عافیہ بیٹا آپا کو کیوں نہیں لائے ساتھ میں ؟”

“امی وہ خود ہی نہیں آنا چاہ رہی تھیں ۔۔۔”

“دیکھ بیٹا میں تجھے اچھی طرح جانتی ہوں تبھی آج آخری بار دوبارہ سمجھا رہی ہوں ہمارے شریکے میں دور دور تک بیٹیوں کو شہر بھیج یوں اکیلے اتنا زیادہ پڑھانے کا رواج نہیں ہے تیرے باپ کی یہ خواہش تھی جس کی وجہ سے میں نے ہر آۓ گئے کی باتیں سنی لمبے عرصے تک مگر تیرے باپ تک وہ سب کنو کن نہیں پہچنے دی “

“وہاں تو نے کیسے دن رات گزارے یہ تو جانتی ہے یا میرا رب ۔۔۔

مگر جب سے تو یہاں واپس آئی ہے یہ جو تجھے اپنا ہی گھر بار معمولی اور گاؤں کا ہر انسان جاہل اور کمتر لگتا ہے میں سب سمجھ گئی ہوں “

“تجھے شہر کی تتی ہوا لگ گئی ہے وہاں کی امیر زادی سہیلیوں کی صحبت نے تجھے اپنی اوقات سے بار کڈ دیا ہے تو یہ سچ بھول گئی ہے ۔۔۔کہ ہمارا سچ ہی مقدر ہے ہمارا اور اسی میں رب سوھنے کی رضا “

“امی پلیز ۔۔۔۔بس کر دیں شادی تک تو آپ دونوں کی مرضی سے کر لی ہے اس كنگلے سے، اور اب کیا کروں وہ کافی نہیں ہے اپنی اوقات یاد رکھنے کے لئے ؟؟؟”

“دیکھ بیٹا میں ہمیشہ تجھے سمجھانے کے لئے تیرے سر پر نہیں رہوں گی کل تو بال بچوں والی ہوگی تیرا یہ ناشکرا پن تیری زندگی تنگ کر دے گا میرے رب سوھنے کو نا شکرا بندہ پسند نہیں ہے ۔۔۔”

“وہ نہ دے وہ بڑی آزمائش نہیں ۔۔۔۔۔۔۔مگر وہ انسان کو اسکے ظرف سے بڑھ کے دے دے وہ آزمائش انسان کے لئے دنیا میں ہی صراط مستقیم کی رسی پر چلنے کے مترادف ہے اور بیشک یہ کام ہم گناہگاروں کے وس کا کام نہی “

“ساری عمر کی جمع پونجی یہ عزت ہی ہے جو اب تیرے ہاتھ میں ہے اپنا گھر وسالے یہ ناشکری زبان آج ادھر ہی چھڈ جا میری عافیہ ۔۔۔۔میری دھی ۔۔۔۔”

نعیم پورے پینڈ میں پہلا منڈا ہے جو تیرے جوڑ کا ہے پڑھائی میں بھی قد کاٹ میں بھی ,وہ بن باپ کا بچہ شکورن کی عمر بھر کی کمائی ہے بہت ہی شریف لوگ ہیں عزت دینا اور رشتے نبھانا ان سے زیادہ کسی کو نہیں آتا “

“امی میں اس گھر میں اس پنڈ میں پيدا ہوئی ہوں یہ میری غلطی نہیں ۔۔۔۔

مگر اسی غربت میں کل مر جاؤں یہ میری ہی غلطی ہوگی اور میں یہ غلطی ہرگز کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی “

وہ تلخی سے مزيد بولی تھی

“اور امی ۔۔۔۔۔۔میں یہ سب کرنے کے لئے ہر حد تک جاؤں گی ۔۔اب تم دونوں مجھے کسی کی بیوی بنا چکے ہو لہذا اب وہ جانے اور میں ۔۔۔۔”

عافیہ کی بات اور تيور دیکھ کر عافیہ کی ماں کا دل منہ میں آیا تھا ۔۔۔

“بیٹا ہم ساتھ نسلوں سے غریب ہیں تم ایڑھی چوٹی کا زور بھی لگا لو تو ہمارے حالت بہتر ضرور ہو سکتے ہیں مگر جو تم سوچے بیٹھی ہو وہ نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔”

“امی ۔۔۔۔۔۔۔تم میری ہمت بننے کی بجائے الٹا مجھے کمزور کر رہی ہو”

“بیٹا اپنی حقیقت سے فرار چاہنے والا مضبوط نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔میں تجھے کمزور پڑتا دیکھ رہی ہوں “

“میں بہت بری بیٹی ہوں جان چھوڑا تو لی ہے مجھ سے آج گھڑی کے لئے اگر واپس آ ہی گئی تھی تو دل ہی رکھ لیتی میرا امی ۔۔۔۔”

عافیہ نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا تھا

“عافیہ میری جان ہے تو ہمارا کوئی نہیں ہے تیرے علاوہ ۔۔۔۔تیرے ساں میں ساں ہے تیرے باپ کا ۔۔ مگر جس راستے پر تو جانے کا سوچے بیٹھی ہے وہ تجھے کہیں کا نہی چھوڑے گا تو پوری دنیا میں اکیلی پڑ جائے گی ۔۔۔۔ پیسہ بہت بے رحم طبیعت کا مالک ہوتا ہے یہ رشتے مار دیتا ہے ۔۔۔۔ حرام کا پیسہ عزت کا سب سے بڑا دشمن ہے ۔۔۔ کل میری اک اک گل تجھے بہت یاد آے گی ۔۔۔۔اگر اج تو نے اپنی ماں کو غلط سمجھا ۔۔۔۔”

وہ ان پڑھ ماں اسے زندگی کا نچوڑ بتا گئی تھی جو اس پڑھی لکھی بیٹی کو پڑھ لکھ کے بھی نصیب نہیں تھا ۔۔۔۔

وقت گزرتا گیا عافیہ نے کبھی بھی شکورن کو عزت نہیں دی تھی

شکورن کو اسکی ضرورت بھی نہیں تھی وہ ان ماؤں میں سے تھی جنہیں بہو اپنے بیٹے کی خوشی کے لئے چاہیے تھی اپنی محرومیوں کی تسکین کے لئے نہیں ۔۔۔ وہ اپنے سارے کام چپ چاپ بوڑھے ہاتھوں سے کر لیا کرتی ۔۔۔

نعیم خوش تھا اور اس ماں کے لئے یہ ہی کافی تھا

پھر علی کی ولادت ہوئی تھی

شکورن کو تو مانو دنیا جہاں کی خوشیاں مل گئی تھیں سارا دن علی کو وہ ہی سمبھالتی اور اس کے چھوٹے بڑے کام بھی کرتی ۔۔۔وہ علی کی مالش کرتی اور کہتی دو دو بیویاں لاؤ گی میں اپنے علی کی جب ایک میکے جائے گی تو دوسری ہوگی میرے علی کے پاس ۔۔۔۔

دونوں ایک دوسرے کے بال پکڑ کے نوچیں گیں ۔۔۔

ایک کہے گی علی میرا ہے تو دوسری کہے گی علی میرا ہے ۔۔۔

علی یہ بات شروع ہوتے ہی لہک لہک کر مالش کرواتا اور قہقے لگاتا ۔۔۔

جب بھی ماں سے چپ نہ ہوتا دادی اٹھا کر جیسے ہی کہتی۔۔۔

دونوں بال پکڑ کر لڑیں گیں ۔۔۔علی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہوۓ بھی قہقہ لگانے لگ جاتا۔۔۔اس کے چہرے پر رونق آجاتی وہ چند ماہ کا بچہ جو ان باتوں کے مطلب سے نہ آشنا تھا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“نعیم اب ہمارا بیٹا بھی ہے اب تو کم از کم اس کنویں سے نکلنے کا سوچو۔۔۔”

عافیہ علی کو سلا کر نعیم کے پاس ہو کر بیٹھی تھی

“عافیہ میں بہت پریشان ہوں “

“کیوں؟؟؟”

“یار کام ٹھیک نہیں چل رہا سیٹھ سارا سیٹ اپ باہر لگا رہا ہے یہاں سے جانے کی تیاریوں میں ہے “

“نعیم تم پڑھے لکھے ہو شہر چلتے ہیں دونوں مل کر کمائیں گیں پھر ہی حالات بدلے گے “

“اماں گاؤں چھوڑنے کے لئے کبھی بھی راضی نہیں ہو گیں ۔۔۔ان کو اکیلا کس کے سہارے چھوڑوں ؟؟”

“اماں رہیں یہاں ہم خرچ بھیج دیا کریں گیں اب ان کی وجہ سے ہم اپنے بچے کا مستقبل نہ دیکھیں نعیم ؟؟؟”

“سب لوگوں نے ابا کےگزر جانے کے بعد ان کو دوسری

شادی کا کہا مگر انہوں نے اپنی جوانی مجھ پر لٹا دی ۔۔۔گاؤں میں کھیتوں میں مزدوری کر کر کے مجھے پڑھایا لکھایا اس قابل بنایا اس غربت کے باوجود ۔۔۔سب کہتے ہیں میرا باپ زندہ ہوتا تو شاید مجھے اتنا نہ پڑھاتا مگر میری ان پڑھ ماں نے ۔۔۔۔”

آواز نعیم کے گلے آنسووں کی وجہ سے میں گھٹ گئی تھی ۔۔۔

“لو جی ۔۔۔جب بھی کوئی کام کی بات کرو یہاں رونا دھونا شروع ۔۔۔۔”

عافیہ علی کے پاس واپس جا کر لیٹ گئی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس دن کے بعد سے نعیم کی جنت عافیہ کو اور بھی چھبنے لگی تھی وہ بات بات پر الجھنے لگی تھی مگر وہ پھر بھی لڑنے کا کوئی موقع نہ دیتی عافیہ نوکروں سے بدتر سلوک کرنے لگی تھی ۔۔۔

اب وہ اوچھے ہتھ کھنڈوں پر اتر آئی تھی سارا دن بات بات پر شکورن کی عزت افزائی کرتی ۔۔۔وہ ہر حکم بجالانے کے بعد جب آہستہ آہستہ چلتی ہوئی بستر پر سستانے کے لئے جاتی یہ علی پکڑا دیتی جو اسکا آرام کا سارا وقت لے لیتا ۔۔۔

اس حرکت کو بھی کافی ہفتوں گزرنے کو تھے مگر شکورن کا صبر نہ ٹوٹا وہ نہ بیٹے کو بتاتی نہ ہی عافیہ کی کسی بات پر کوئی جوابی کاروائی کرتی ۔۔

علی سال کا ہونے والا تھا عافیہ کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا اپنی ناکامی کا احساس شدت پکڑ رہا تھا ۔۔۔۔

شکورن گھر کے سارے کام نپٹا کے علی کو دھوپ میں لے کر بیٹھی تھی جبکہ عافیہ اسے مسلسل گھور رہی تھی ۔۔۔ اسے اپنی پریشانی کو جڑ سے اکھاڑنے کا آخری حل نظر آیا تھا ۔۔۔

وہ علی کو لے کر کمرے میں چلی گئی بوڑھی شکورن فجر کی اٹھی آہستہ آہستہ حسب معمول اکیلے ہی سارے کام نپٹاتی اب تھکن سے چور بوڑھا وجود لئے دھوپ میں سونے لیٹ گئی عافیہ نے جب یقین کر لیا کہ وہ گہری نیند میں جا چکی ہے وہ آہستہ سے ہاتھ میں سرہانہ لئے آئی اور اس کے منہ پر رکھ دیا وہ بوڑھی جان جو پہلے ہی چار دن سے تیز بخار میں مبتلا تھی پھر سارا دن انسانیت سے بد تر سلوک بے آرامی۔۔۔۔

اسے مارنے میں تو اتنا ہی وقت لگا جتنا جلتی موم بتی کی لو بجھانے میں لگتا ہے ایک پھونک ہی کافی ثابت ہوئی ۔۔۔

پھر وہ ہی ڈرامہ جو عافیہ بيگم کا خاصہ تھا وہ سب کیا گیا نعیم کی جنت جا چکی تھی اب کوئی نہیں تھا جو صبح کمرے سے نکلنے پر چولھے پر بیٹھا چاۓ کا گھونٹ بھرنے کے لئے اسکا منتظر ہوتا ۔۔۔وہ بوڑھی آنکھیں جو رات کو محض بیٹے کی ایک جهلک دیکھنے کے لئے پورا دن عافیہ کی گالیاں سنتیں ۔۔۔اب نہیں رہی تھیں ۔۔۔۔

نعیم کی تباہی کا وہ پہلا دن تھا اور عافیہ کے حساب سے وہ اسکی کامیابی کی پہلی سیڑھی تھی جو بہت آسانی سے پار ہوئی تھی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(حال )

علی زوہیب کے ساتھ باتیں کر رہا تھا جب ماهم وہاں سے گزری تھی

“زوہیب اس لڑکی کا کیا حساب کتاب ہے ؟؟”

“کس لڑکی کا ؟؟”

“یار یہ جو جا رہی ہے ماهم نام ہے اس کا رات تک تو یہی تھا “

علی نے معصومیت سے کہا

هاهاهاهاها ۔۔۔۔ہاں ماهم ہے یہ بہت چھوٹی سی تھی جب اس کے والدین پلین کراش میں انتقال کر گئے تھے تب سے یہ اپنے تایا کے گھر ہی رہتی ہے سونی اسکی کزن ہے دونوں میں جان ہے ایک دوسرے کی ۔۔۔

یار زوہیب ۔۔۔”اگر ان میں سے ایک کی شادی ہو جاتی ہے تو دوسری سچ میں مر جائے گی کیا ؟؟”

“نہیں ایسا نہیں ہوگا کیوں کہ زبیدہ آنٹی نے کہا ہے جہاں دو بھائی ساتھ ہو گیں ادھر کروں گی دونوں کا رشتہ ایک ہی گھر میں “

“یہ بچپن میں بھی بیمار ہو جاتی تھیں جب کوئی ایک کہیں چلی جاتی تھی لہذا یہی کہلوایا ہے سب کو زبیدہ آنٹی نے کوئی ایسا رشتہ ہو تو تو ہی رابطہ کیا جائے “

علی نے سر پر ہاتھ پھیراتھا ۔۔۔

رات کے دس بجے کا وقت تھا آج لاسٹ ہلا گلہ تھا کل مہندی کا فنکشن تھا

سونی اور ماهم پنڈال سے باہر گپ شپ میں مصروف تھیں جب علی آ کر بیٹھا تھا

“Hi girls”

دونوں نے ہیلو کہا تھا

“کیسی ہو آپ دونوں؟؟”

“Well we are good”

سونی نے کہا تھا

“میں لڑکا لڑکی کی pre-marriage affairs کا قائل نہیں ہوں میرا مائنڈ شروع سے یہ ہی تھا کہ جیسے ہی کوئی اچھا لگے گا ڈائریکٹ اسے اپنی عزت بناؤں گا باقی کے جذبات کا اظہار اس کا محرم بن کر کروں گا “

“ہو سکتا ہے میری سوچ آپ دونوں کو بیک ورڈ یا بہت بوسیدہ لگے مگر میں ایسا ہی ہوں “

آپکی سوچ تو قابل تعریف ہے ,کسی بھی مرد کو ایسا ہی سوچنا چاہیے “

ماهم نے علی کو سراہتے ہوۓ انداز میں کہا تھا

جبکہ سونی نے بھی حامی بھری تھی

“آپ مجھے پہلی نظر میں ہی بھاہ گئی تھیں میں شادی کرنا چاہتا ہوں آپ سے “

علی نے دونوں کو باری باری دیکھ کر کہا تھا

ماهم کو لگا سونی کو کہا ہے اور سونی نے ماهم کا سمجھا

آپ کس کو کہہ رہے ہیں یہ ؟؟

سونی نے پوچھا تھا

“آپ دونوں کو , میں آپ دونوں سے ایک ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں یہ حق مجھے شریعت نے بھی دیا ہے اور مالی طور پر میں یہ آفورڈ بھی کر سکتا ہوں باقی بات میری امی آپ کی امی سے کریں گیں “

علی یہ کہہ کر اٹھ کر چلا گیا تھا جبکہ وہ دونوں لڑکیاں ہکی بکی ایک دوسرے کو دیکھتی رہ گئی تھیں ۔۔۔

علی کسی فاتح کی طرح اپنے کمرے میں جا رہا تھا باقی سب لوگ ابھی پنڈال میں تھے ۔۔۔

کمرے میں آ کر واش روم میں چینج کرنے چلا گیا باہر نکلا تو بیڈ پر ایک لڑکی سیاہ گھونگھٹ ڈالے بیٹھی تھی

علی پریشانی سے کھڑا ہو کر دیکھتا رہا

“علی”

“میرا چہرہ نہیں دیکھوگے ؟؟”

“نہیں ۔۔۔۔کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہی ہو ؟”

“چہرہ دیکھ لو نہ میرا پتہ چل جائے گا “

علی نے ڈرتے ڈرتے گھونگھٹ اٹھایا

وہاں ایک جلا ہوا جسم تھا جس کی ناک میں روئی تھی آنکھیں مکمل کالی تھیں سفید حصہ غائب تھا اور جسم کفن میں تھا

علی کو ہوش کی دنیا سے بیگانہ کرنے کے لئے یہ کافی سے زیادہ تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آمنہ ۔۔۔

حاشر اس کے ساتھ آ کر بیٹھا تھا

“آپ اس طرح مت بیٹھیں لوگ باتیں بناتے ہیں پھر “

“چھوڑو لوگوں کو وہ کچھ نہ کچھ تو کرتے اور کہتے ہیں “

“میں نہیں چھوڑ سکتی آپ پلیز جائے یہاں سے “

اس بات پر حاشر نے آمنہ کا ہاتھ پکڑا تھا

“حاشر آپ ہوش میں تو ہیں یہ کیا بدتميزی ہے ؟؟”

حاشر کی گرفت آمنہ کے ہاتھ پر سخت ہوتی جا رہی تھی آمنہ کو خون رکتا ہوا محسوس ہونے لگا تھا

“حاشر ۔۔۔۔۔حاشر “

حاشر نے آمنہ کو دیکھا تھا اسکی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا لال ہو رہی تھیں

“آمنہ رشتہ بھیجواؤں گا ہاں بول دینا “

ہر طرف شور ہی شور تھا گانوں کا، باتوں کا اور خاموشی کا ۔۔۔۔۔۔۔

اسی وقت راحت فتح کی آواز نے آمنہ اور حاشر کی صورتحال کو آسان کیا تھا

“دهاگے توڑ لاؤ چاندنی سے نور کے ۔۔۔۔

گھونگھٹ ہی بنا لو روشنی سے نور کے

شرما گئی تو آغوش میں لو سانسوں سے الجھی رہیں میری سانسیں ۔۔۔۔

بول نہ ہلکے ہلکے ۔۔۔۔بول نہ ہلکے ہلکے ۔۔۔۔۔بول نہ ہلکے ہلکے ۔۔۔۔۔۔بول نا ہلکے ۔۔۔۔”