Khof by Jameela Nawab Readelle 50362

Khof by Jameela Nawab Readelle 50362 Khof Episode 19 (Last Episode Part 1)

506.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khof Episode 19 (Last Episode Part 1)

آج زینب کا نکاح تھا جس کے ساتھ ہی رخصتی طے پائی تھی

وہ نکاح کا جوڑا پہنے بےحد حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔۔ محلے کی تمام عورتیں اسکی نظر اتار اتار نہیں تهک رہی تھیں خوبصورت تو وہ تھی ہی مگر اصل رنگ تو اس پہ احمر کی سنگت کا آیا تھا اور احمر کی ماں اور بہنیں اس بات پر گردن اکڑائے وہاں لوگوں سے مبارک باد سمیٹ رہی تھیں ۔۔ ہر زبان اسکے حسن پر قصیدے پڑھنے میں مشغول تھی جب زینب کا باپ مولوی صاحب کو اندر لے کر آیا تھا زینب کو ماں نے سفید چادر اڑا دی تھی ۔۔۔

نکاح ہو چکا تھا زینب کا باپ منہ پر سافہ رکھے بے آواز کھڑا رو رہا تھا جبکہ ماں خوش تھی کہ بیٹی کی دلی خواہش پوری ہوئی ہے اور اچھے گھر میں جا رہی ہے ۔۔۔

زینب نے منہ سے چادر ہٹائی اور باپ کو ڈھونڈنے لگی وہ سب کے پیچھے بستروں کے ڈھیر پر منہ رکھے ہچکیوں سے رو رہا تھا زینب اٹھ کر باپ کے پیچھے کھڑی ہو کر بولی تھی

“ابا؟؟”

“ابا تو ایسے کرے گا تو تیری زینب جا نہیں پاے گی “

زینب نے بهرائی آواز میں کہا تھا

“میرا پتر”

اب دونوں گلے لگ کر دیوانہ وار رو رہے تھے وہاں موجود سب لوگ باپ بیٹی کی محبت پر اشک بار ہوۓ تھے

زینب کی ماں نے بھی آکر اپنا دل ٹھنڈا کیا جو کب سے اپنا غم غلط کیے پھر رہی تھی کھل کر بلند آواز سے رونے لگی ۔۔۔

“ہاے میری دھی ۔۔۔۔۔زینب کے ابا ہم کیسے رہے گے اپنی بیٹی کے بغیر ؟؟؟”

“زینب کی ماں دل ڈوب رہا ہے میرا۔۔۔۔ میں مر جانا اپنی زینب کے بغیر ۔۔۔”

وہ بیٹی کو سینے سے لگاے روتے ہوۓ کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔اس بات پر احمر کی ماں نے زینب کو باپ سے الگ کیا اور بولی ۔۔۔۔

“لے عقل دین تو تو ایسے رو رہا ہے جیسے تیری دھی خدانخواستہ مار دینی ہم نے ۔۔۔۔ہیں ۔۔۔۔جیسے تو آج کے بعد کبھی دیکھ ہی نہی پاۓگا ؟؟؟”

ہمارہ گھر زیادہ دور نہیں ہے تیرا جب دل کیا ملنے آجانا اپنی دھی سے باقی میری اپنی چار چار بیٹیاں ہے میں نے بھی ٹورنی ہیں پرایا دھن ہیں ۔۔۔اللّه رسول کا حکم ہے ۔۔۔ہم کیا کر سکتے ہیں ۔۔۔”

“تیری بیٹی اچھی عمر میں اپنے گھر کی ہو رہی ہے تیرا رونا بنتا نہیں ہے کوئی ہم میاں بیوی کے دل سے پوچھے اپنی بیٹیوں کے ِسروں میں چیٹے وال دیکھ دیکھ کے کیسے جیتے ہیں ہم “

“توں تو خوش نصیب ہے شکر کر اس سوھنے رب دا تجھے بوہا نہیں دیکھنا پڑا ہماری طرح دن رات ۔۔۔کہ کوئی آے تے ساڈی دھی دے ِسر تے عزت والی چادر پا کے لے جاوے”

اب احمر کی ماں باقاعدہ رونے بیٹھی تھی اور بیٹیوں نے ماں کا رونے میں ساتھ دیا تھا ۔۔

کچھ دیر بعد زینب کو عورتوں نے واپس بیٹھایا تھا

احمر کو بھی اندر لا کر زینب کے ساتھ بیٹھا دیا گیا تھا کچھ رسموں کے بعد اب رخصتی کی اجازت مانگی گئی تھی ۔۔۔

شام کا وقت تھا اذان ہونے میں کچھ ہی وقت رہتا تھا جب زینب کو احمر کے ہمراہ رخصت کیا جا رہا تھا ۔۔۔یہ منظر دیکھنے والوں کے دل دہلا رہا تھا زینب کے والدین ایسے رو رہے تھے جیسے زینب کا جنازہ اٹھانے کا وقت ہو گیا ہو دونوں زمین پر مٹی میں بیٹھ کر بچوں کی طرح رو رہے تھے زینب دلہن بنی ان کو چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی مگر ان کو صبر آج آۓ، نہیں آ رہا تھا

احمر کا دل بھرا ہوا تھا وہ بھی نم آنکھیں لئے بے آواز رو رہا تھا سب لوگ حیران تھے کہ عقل دین جیسا مضبوط انسان آج یہ کیا کر رہا ہے ۔۔۔محلے کے کچھ اس کے دوست اندر بلاے گئے جو عقل دین کے ہاتھ سے زینب کا ہاتھ چھڑا کر اسے سنبھال سکیں ۔۔۔

“عقل دین یار تو سیانا بیانا ہو کر یہ کیا بچہ بن گیا ہے ؟؟؟ہم سب نے بھی تو ٹوری ہیں نہ اپنی دل کے قریب دِھیاں ۔۔۔۔؟؟پھر توں کیوں ایسا بے صبرا ہو گیا ہے ؟شام دا تنگ وقت اے اس ویلے انج بین ڈال ڈال کے رونا اچھا نہیں ہوندا عقل دیناں ؟؟؟”

“نہیں آرہا صبر مجھے میرا دل ڈوب رہا ہے آج کے سورج کے ساتھ ہی “

عقل دین نے غروب ہوتے سورج کی طرف اشارہ کر کے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا “

وہ آدمی جو عقل دین کو چپ کروانے آیا تھا وہ بھی اپنے چہرے پر اپنی چادر رکھ کر رونے لگ گیا تھا

زینب روتی ہوئی اپنے بوڑھے ماں باپ کو باری باری چپ کروا رہی تھی

“احمر چل اگے ہو کے زینب کے والدین کو حوصلہ دے کہ انکی بیٹی کو بہت خوش رکھے گا چل میرا پتر”

احمر کا باپ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے نیچے زینب کے والدین کے پاس بیٹھا کر بولا تھا

احمر بنا کچھ بولے پنچوں کے بل بیٹھ کر زینب کے باپ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دوسرے ہاتھ سے اپنی آنکھیں مل رہا تھا

“میں نے بہت پیار سے اپنی دھی کو پالا ہے احمر پتر کبھی کچھ غلط کرے، تو،،، تو اسکو معاف کر دینا اس پہ غصے نہ کرنا ۔۔۔۔کبھی ہتھ نہ اٹھانا”

زینب کے باپ نے ہاتھ جوڑ کر روتے ہوۓ کہا تھا جس پر زینب اور وہاں موجود سب عورتیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں تھیں

“پتر بول نا۔۔۔۔۔ کیوں چپ ہے کہہ نا کہ فکر نہ کر چاچا”

احمر کے باپ نے بیٹے کو سختی سے کہا تھا جس پر احمر نم آنکھوں سے محظ سر ہلایا تھا ۔۔

وہ گھر کہیں سے بھی شادی والا گھر نہیں لگ رہا تھا وہاں موجود ہر انسان اپنی اپنی بیٹیوں کے دکھ تازہ کر کے رو رہا تھا ۔۔۔

ڈھلتا سورج تو اکثر بنا کسی پریشانی کے بھی بہت اداس کر دیتا ہے کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے زندگی ڈھل رہی ہو ۔۔۔۔وہ وقت بہت مختصر ہوتا ہے مگر پھر بھی پورے دن کی تھکاوٹ ایک ساتھ آ گھیرتی ہے دل بنا کوئی وجہ بتائے ۔۔۔۔۔گھبرانے لگتا ہے ۔۔۔۔مچلنے لگتا ہے ۔۔۔۔۔پھر آج تو زینب کی زندگی کا آخری سورج ڈھل رہا تھا آج تو یہ سب بنتا تھا۔۔۔وہ گھر میت والا گھر ہی تو تھا ۔۔۔زینب کو تو دنیا چھوڑنی تھی پھر عقل دین کا مٹی میں لت پت ہو کر رونا تو بنتا تھا ۔۔۔۔باپ تھا نہ اس کا دل آنے والے دن پر بے چین تھا ۔۔۔۔۔۔

زینب ماں باپ کو روتا دھوتا چھوڑ کر احمر کے ہمراہ گاڑی میں بٹھا دی گئی تھی ۔۔۔

احمر ڈرائیونگ کر رہا تھا وہ اپنے دوستوں کی گاڑیاں چلاتا تھا مگر آج اپنی نیو کار چلا رہا تھا زینب کو فرنٹ سیٹ پر ساتھ ہی بیٹھایا تھا یہ احمر کی فرمائش ہی تھی کہ وہ پہلے زینب کو اپنی کمپنی کے استقبالیہ عشائیے میں لے کر جائے گا پھر گھر لے کر آے گا ۔۔۔

زینب کے ماں باپ مٹی سے اٹے کپڑوں میں زینب کو روتے ہوۓ ہاتھ ہلا کر الوداع کر رہے تھے یہ وہ آخری نظارہ تھا جو زینب نے اپنے گھر کا۔۔۔۔ گاڑی کے سائیڈ مرر میں دیکھا تھا ۔۔۔

احمر کے والدین اور بہنیں دوسری گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ گھر کے لئے روانہ ہوۓ تھے

احمر زینب کو بنا دیکھے ڈرائیونگ کر رہا تھا وہ کچھ دیر رو کر چپ کر گئی تھی ۔۔۔

بیٹی کو وہ دکھ کبھی محسوس نہیں ہوتا جو ماں باپ کو اسے رخصت کرتے ہوۓ ہوتا ہے اسے نئی زندگی کی خوشی فلحال خود میں مگن کر لیتی ہے مگر والدین بیٹی کو کبھی کچن ،میں کبھی کمرے، میں کبھی صحن، میں کبھی قہقہہ لگاتے کبھی کسی بات پر ناراض ہوتے، کبھی کسی خوشی پر جھومتے، ہوۓ گھر میں تلاش کرتے ہیں جب وہ نہیں ملتی پھر انکا دل بند ہونے لگتا ہے ۔۔۔۔۔یہی حال عقل دین کا تھا وہ اندر آ کر زینب کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر روتا رہا۔۔۔۔ماں بیہوش ہو گئی تھی عورتیں اسے سنبھال رہیں تھیں

“احمر میں آج بہت خوش ہوں میں آپ سے ۔۔۔۔”

“جانتا ہوں”

احمر نے فورا زینب کو جملہ مکمل کرنے سے روکا تھا “ہم کہاں جا رہے ہیں احمر؟؟؟”

“سراے ہوٹل”

“وہاں کیوں “

زینب نے معصومیت سے پوچھا تھا

“وہاں مجھے ایک کام ہے میں وہ پورا کروں گا تم تب تک کمرے میں رہنا میرا انتظار کرنا”

“جی ٹھیک”

ہوٹل لوگوں سے بھرا ہوا تھا طرح طرح کے لذیز کھانوں کی خوشبوئیں بھوک بڑھا رہی تھیں وہ دونوں راہ داری میں پہنچے تھے جب ایک بچے کی رونے کی آواز سے زینب اسکی طرف متوجہ ہوئی تھی

واش رومز کے باہر ایک عورت ٹوپی والا برقعہ پہنے اپنے بچے کو چپ کروا رہی تھی

“احمر یہ سب لوگ ۔۔۔؟؟؟

“یہ سب باہر جا رہے ہیں آج رات کی فلائٹ ہے ان سب کی یہ سب کھانا کھانے رکے ہیں ادھر ہماری ایجنسی ہی بھیج رہی ہے انکو”

احمر نے راہ داری میں موجود پہلا کمرہ کھول کر زینب کو اندر آنے کا اشارہ کرتے ہوۓ کہا تھا

زینب اندر جا کر کمرے کو خوشی سے دیکھ رہی تھی احمر واش روم میں گھس گیا تھا

نل کھول کر وہ کافی دیر پھوٹ پھوٹ کر روتا رہا اللّه سے معافیاں مانگتا ۔۔۔۔۔

ہمت جمع کر کے باہر آیا تو زینب کو بیڈ پر گھونگھٹ ڈالے دیکھ کر دل میں ایک بار پھر غبار جمع ہوا تھا وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا زینب کے پاس جا کر کھڑا ہوا تھا

“احمر میرا گھونگھٹ اٹھائیں میری بہت سی دعاؤں کے بعد یہ وقت آیا ہے”

احمر بیٹھا اب اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا دل بغاوت کا کہہ رہا تھا ۔۔۔۔دل اپنے نکاح کا واسطہ دے دے کر اپنی محبت جتانے پر اکسا رہا تھا ۔۔۔۔وہ بچپن سے جس ہاتھ کو چھونے ان گنت بار دروازے پر گیا تھا آج وہ ہاتھ تھام کر بھی وہ اسے چھونے سے قاصر تھا ۔۔۔۔

“لعنت بھیجو سب پر ٹکٹ کروا کے زینب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس ملک سے لے جاؤ اس معصوم لڑکی کو جی جان سے عزت اور محبت سے ہر دکھ سے دور لے جاؤ ۔۔۔”

دل نے ہولے سے احمر کے کان میں سرگوشی کی تھی ۔۔۔پھر چاروں بہنوں کے چہرے آنکھوں کے آگے آئے تھے جو عاصم کے ہاتھوں زندہ درگور ہو جاتیں ۔۔۔اس سوچ کے آنے کی دیر تھی احمر بنا گھونگھٹ اٹھاے اٹھ کر کھڑا ہوا تھا

“احمر ؟؟؟”جلدی کریں نہ، مجھے دیکھیں”

احمر نے کھڑے کھڑے گھونگھٹ اٹھا کر زینب کے سر پر ہاتھ رکھا تھا وہ ضبط کی انتہا تھی ۔۔۔

زینب میں ایک کام سے جا رہا ہوں وہ کر لوں پھر گھر چلیں گیں ۔۔وہ بنا زینب کا جواب سنے باہر جا چکا تھا ۔۔۔

زینب شرم سے لال ہوئی تھی ۔۔۔۔وہ بیوقوفوں کی جنت میں رہ رہی تھی ۔۔۔

تھوڑی دیر بعد عافیہ نوک کر کے کمرے میں آئی تھی

“زینب مجھے احمر نے بھیجا ہے تمہیں ایک دوسری جگہ لے جانے کو وہ بھی ادھر ہی ہے ہماری فیکٹری ہے آج رات ہم سب ادھر ہی گزارے گیں فارن ڈیلیگیشن آیا ہے تم اپنی چادر لو اور آؤ میرے ساتھ ۔۔۔

“مگر مجھے تو انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا “

“ہاں ابھی ابھی فون کیا تھا مجھے کہہ رہا تھا میں فیکٹری آگیا ہوں آپ میٹنگ کے لئیے آتے ہوۓ میری زینب کو بھی لے آنا”

زینب ان الفاظ پر فورا چادر اوڑھ کر کمرے سے نکل آئی تھی پورا ہوٹل خالی تھا جبکہ پہلے وہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا جو سفری بیگ گھسیٹتے یہاں وہاں دکھائی دے رہے تھے مگر اب صورت حال يكسر مختلف تھی پورا ہوٹل سائیں سائیں کر رہا تھا

“یہ ہوٹل خالی کیسے ہوگیا اتنی جلدی؟؟”

“وہ ایئر پورٹ چلے گئے ہیں ان کی ٹکٹ كنفرم تھی آج کی”

عافیہ نے ہنستے ہوۓ کہا تھا

اب عافیہ ڈرائیو کر رہی تھی وہ بار بار زینب کو دیکھتی اور سوچتی کوئی اتنا حسین کیسے ہو سکتا ہے ؟؟احمر نے چند گھنٹوں کی اتنی خوبصورت اور معصوم دلہن کو کیسے کسی اور کے حوالے کر دیا ہے؟؟وہ عورت ہو کر اس پر سے اپنی نظر ہٹانے سے قاصر تھی

“آپ کا کیا نام ہے ؟؟”

“عافیہ نعیم”

“عافیہ نعیم ہے میرا نام”

“زینب احمر سے محبت کرتی ہو؟؟”

“یہ بھی بھلا پوچھنے والی بات ہے آپ تو خود عورت ہو نہ آپ کو نظر نہیں آتا میں پوری کی پوری اس كی محبت میں رنگی ہوئی ہوں”

“عورت كی محبت اور نفرت دونوں ہی چھپ نہیں سکتی کیونکہ دونوں میں شدت کا عنصر بہت نمایاں ہوتا ہے “

“هاهاهاهاهاها”

عافیہ نے قہقہ لگاتے ہوۓ کہا تھا

“آپ کرتی ہیں محبت اپنے شوہر سے ؟؟”

زینب نے باہر کی روشنیوں کو دیکھتے ہوۓ ہوۓ کہا جو اب مدھم نظر آرہی تھیں کیونکہ اب فیکٹری کی حدود کا آغاز ہوا تھا جو آبادی سے قدرے دور ویرانے میں تھی ۔۔۔

زینب کآ سوال عافیہ کو طمانچے کی طرح منہ پر لگا تھا جسكا جواب دے بغیر اس نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی تھی

فیکٹری کے اندر بہت سی گاڑیاں کھڑی تھیں اور گوشت جلنے کی تیز بو ناک کو چڑ رہی تھی عافیہ سائیڈ پر بنے ایک خوبصورت کمرے میں زینب کو لے گئی تھی اور اسے آرام سے سونے کی ترغیب بھی ۔۔۔

“دروازہ لاک نہ کرنا بس احمر کو بھیج رہی ہوں ابھی آفس سے”

عافیہ نے آخری داؤ کھیلا تھا

زینب دلہن کے جوڑے میں احمر کے ساتھ اپنی شادی پر اللّه کا شکر ادا کرنے میں مشغول تھی جب دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی عاصم اندر آیا تھا دروازے کو لاک کرتا ہوا

زینب کا دل منہ کو آیا تھا وہ ہکی بكی یہ سب دیکھ کر بیڈ کی چادر کھینچ کر خود پر لپیٹ کر کھڑی ہوئی تھی

“ككككككككون ہیں آپ بھائی؟؟؟؟؟؟؟”

“میرا ااااححححمررررر ؟؟؟

“وہ کدھررررررررر !؟؟؟؟؟؟”

زینب نے بمشکل اپنے حواس قابوکیے تھے وہ اس ایک لمحے میں پسینے سے شرابور ہوئی تھی اوپر سے کام والا بھاری جوڑا جس کا وزن یک دم اسے بہت زیادہ لگا تھا

عاصم زینب کی خوبصورتی پے بیہوش ہونے کو تھا وہ اپنی قسمت پر رشک کر رہا تھا ۔۔۔

وہ معصوم لڑکی اسکے آگے بڑھنے پر بے دم سی ہوئی تھی ۔۔

“آگے مت آئیے پلیز میں احمر کی امانت ہوں ہمارا آج ہی نکاح ہوا ہے”

زینب کسی چڑیا کی طرح پھڑپھڑاتی ہوئی رک رک کر ڈرتی ڈرتی بولی تھی جس کا عاصم پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا ۔۔۔

“میرا نام زینب ہے میرے نام کی لاج رکھ لیں پلیز بھائی میرے قريب مت آئیں آپ کے گھر میں بھی بہن ہوگی آپ کو اس كی عزت کا واسطہ ہے”

عاصم میں اور ایک بھوکے بھڑیے میں اس وقت فقط دو ٹانگوں کا فرق تھا

“آپ کو اللّه رسول کا واسطہ “

اب زینب کی آواز کمزور پڑ گئی تھی

عاصم زینب کی عصمت پاش پاش کر کے کمرے سے چلا گیا دروازہ باہر سے لاک کر کے۔۔۔۔

زینب کسی بے جان بت کی طرح کافی دیر اسی حالت میں پڑی رہی دل دماغ سن ہو چکا تھا آنسو آنکھوں میں رک چکے تھے پھر وہ درد سے بھرا وجود لیئے اٹھی ایک نظر خود پر ڈالی جگہ جگہ دانتوں اور سگریٹ کے نشانوں نے اسکا وجود بد صورت بنا دیا تھا

“احمر ۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”

وہ اسکا نام لے کر چیخ کر روئی تھی

“تم ہمیشہ میرا ہاتھ پکڑنے کے لئے ترستے رہے میں نے کتنا بچا کر رکھاخود کو ۔۔۔۔آنسو کسی سیلاب کی طرح بہہ رہے تھے ۔۔۔

جس عمر میں میں تم سے محبت کا گناہ کر بیٹھی تھی اس میں خود کو خدا کی حدود تک رکھنا صراط مستقیم کی رسی پر چلنا تھا میرے لئے۔۔۔۔۔۔ احمر مگر آج تمہارے نکاح میں ہوتے ہوۓ میں ۔۔۔میں اپنی عزت نہیں بچا پائی ۔۔۔۔

وہ خود کو ہاتھوں سے جھاڑتی ہوئی دیوانہ وار چیخ رہی تھی

“ریسٹ کرو میں دوبارہ آؤں گا”

عاصم کی بات یاد آئی تھی وہ بجلی کی تیزی سے اٹھ کر کمرے میں موجود الماری کی طرف گئی تھی جہاں عاصم کے علاوہ عورتوں کے چند کپڑے بھی موجود تھے جو لڑکیاں اپنی مرضی سے یہاں پیسوں کے لئے آتی ہیں یہ ان کے تھے اس نے ایک جوڑا نکالا اور اپنا ہلیہ دروست کیا دروازہ باہر سے لاک تھا

نعیم جسے آج خاص طور پر ہوٹل اور فیکٹری سے دور کسی کام سے بھیجا گیا تھا وہ تنویر كی دو دن پہلے کی کال کی وجہ سے بے چین تھا اس کے بعد تنویر سے کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا وہ پریشانی الگ سے تھی

وہ جانتا تھا زینب اسی کمرے میں ہے وہ اسے بچانے فورا ادھر آیا تھا

دروازہ کھلنے کی آواز پر زینب محتاط ہوئی تھی

“تم کون ہو؟؟؟”

وہ دھاڑی تھی

آفس میں عاصم اور عافیہ موجود تھے وہ ان کو دیکھ کر آرہا تھا نعیم اس ڈر سے دروازہ بند کر رہا تھا تا کہ ان كو آواز نہ جائے کیونکہ رات کے 12بج رہے تھے ہر طرف خاموشی کا راج تھا مگر وہ کہتے ہیں نہ

“دودھ کا جلا چھاج بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے”

زینب کو نعیم اپنا اگلا شکاری لگا اس حرکت کی وجہ سے اس نے باہر کی طرف سلائڈ والی بڑی سی کھڑکھی کھولی اور باہر بھاگ گئی

رات کا وقت گہرا اندھیرا کالے بادل اوپر سے فیکٹری بہت ویرانے میں بنائی گئی تھی چاروں طرف جھاڑیاں اور جنگل نما درخت تھے کتوں کے بھونكنے كی مسلسل آوازیں سارے منظر کو اور بھی بھیانک بنا رہی تھیں

“یا اللّه کیسے جاؤں یہاں سے کتے کاٹ لے گیں مجھے میری بوٹی بوٹی نوچ لے گے

“ابا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”

“ابا؟؟؟؟؟؟؟؟؟”

“مجھے بچا لے ابا ۔۔۔۔۔۔۔تیری زینب لٹ گئی ہے ابا۔۔۔”

“جس کے سہارے توں نے مجھے بھیجا تھا وہ تیری بیٹی کی وہ حفاظت نہ کر سکا جو 23سال تیری بوڑھی ہڈیوں نے کی ابا”

وہ آسمان کی طرف منہ کر کے چلائی تھی

آسمان اس کی آواز پر اس کے ساتھ رو رہا تھا اب ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی ۔۔

“اماں؟؟؟؟؟؟؟”

“مجھے اپنی گود کی گرمی دے دے اماں مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے اماں میرا جسم ٹوٹ رہا ہے تم تو جانتی ہو نہ تمہاری زینب کو بہت سردی لگتی ہے “

“کاش ابا کاش آج تمہارے رونے کو دیکھ کر میں گھر سے نہ آتی کاش ابا ۔۔۔۔۔۔۔۔ابا احمر مجھے قبول نہیں کرے گا اب ۔۔۔۔۔۔ابا تیری زینب کہیں کی نہیں رہی ۔۔۔”

وہ روتے روتے مدھم آواز سے یہ سب بول رہی تھی جب اسکی نظر اپنے پیچھے بھاگتے ہوۓ نعیم پر پڑی وہ تیزی سے اٹھی اور فیکٹری کے اندر کام والی جگہ کی طرف بھاگ گئی

وہاں بہت سے لوگوں كی جلی ہوئی لاشیں تھیں لا تعداد کمرے تھے ہر کمرہ لوگوں کی بدبو دار جسموں سے بھرا پڑا تھا

ان میں اکثر وہ لوگ تھے جن پر ہوٹل میں زینب کی نظر پڑی تھی ان میں وہ ٹوپی والے برقعے والی عورت بھی تھی اور وہ بچہ بھی ۔۔۔دونوں برہنہ حالت میں تھے سر سے پاؤں تک ان کو چیر کر اعضاء نکالے گئے تھے اس کمرے میں موجود لوگوں کو ابھی مسخ کرنا باقی تھا کمرے میں بہت سے تیزاب سے بھرے ہوۓ ڈرم تھے ایک کولر بھی پڑا تھا جس کے ڈھکن پر گلاس موجود تھا

نعیم وہاں پہنچا تھا

“دیکھومیری بات سنو میں نعیم ہوں میں عاصم کا ۔۔۔”

“میں جانتی ہوں تم عافیہ نعیم کے شوہر ہو وہ ہی مجھے یہاں لائی تھی مجھے میرے احمر نے کہا تھا ہوٹل میں ہی رہنا مگر تمہاری مکار بیوی نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا میں تم دونوں کو کبھی معاف نہیں کرونگی”

“لیکن اب مزید میں خود کو تم لوگوں کے ہاتھ میں کھلونا نہیں بننے دوں گی ۔۔”

زینب اسکی بات پوری ہوۓ بغیر بولی تھی

نعیم اس کی طرف لپكا تھا وہ اس کا منہ بند کے کے ساری بات سمجھا کر اسے بنا کوئی شور کیے وہاں سے لے کر جانا چاہتا تھا کیونکہ پرویز جو کہ خاص بندہ تھا عافیہ اور عاصم کا وہ کسی بھی وقت وہاں آ سکتا تھا

جس کا کام اعضاء نکالنے کے بعد ان کو تیزاب سے جلانے کا تھا وہ اکثر لوگوں کو تڑپاتا جو ہوٹل کے کھانے میں ملے نشے کے باوجود وقت سے پہلے ہوش میں آجاتے وہ نيم بیہوش میں پانی مانگتے یہ پانی دینے کی بجاے تیزاب ملا پانی دے کر ان کی تکلیف کا مزہ لیتا وہ وہ پانی گرا کر ہاتھ جوڑ جوڑ کر پانی مانگتے اکثر لوگوں کو وہ پیاسا رکھ رکھ کر مار دیتا ۔۔۔

وہ اس کھیل میں سائیکو ہو چکا تھا اس کو اس حرکت پر کسی نشے پر ملنے والے سکون کی طرح مزہ محسوس ہوتا ۔۔۔

وہ تیزی سے بھاگی کولر سے گلاس اٹھا کر ڈرم سے تیزاب بھرا اور منہ کو لگا لیا

اس خالص تیزاب نے اسکے گلے میں آتش فشاں کا کام کیا تھا وہ گلتی چلی گئی نعیم پتھر کا ہو ا تھا اس کی اس جلدبازی پر ۔۔۔

آنکھیں بند ہو رہی تھیں ۔۔۔۔دماغ جسم کو اپنے حال پر چھوڑ چکا تھا ۔۔۔۔

عقل دین اور اسکی بیوی مٹی سے اٹے ہوۓ کپڑوں میں جھریوں زدہ بوڑھی آنکھوں میں معصوم بچوں کی طرح سچائی اور کسی بھی قسم کی ملاوٹ سے پاک محبت سے زینب کو ہاتھ ہلا کر الوداع کر رہے تھے ۔۔۔۔یہ وہ آخری منظر تھا جو زینب کے دل نے۔۔۔۔۔ مرتے مرتے زینب كی آنکھوں کو دکھایا تھا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنے میں عافیہ وہاں آئی تھی نعیم اپنا سر گھٹنوں میں دیے رو رہا تھا

“چلو گھر چلتے ہیں بچے پریشان ہو رہے ہونگیں اسے تو بہت ہی جلدی تھی گلنے سڑنے کی”

“خس کم جہاں پاک”

“عاصم ۔۔۔کہاں ہے وہ غلیظ؟؟؟؟ میں زندہ نہیں چھوڑوں گا اسے”

نعیم غصے میں دھاڑا تھا

“اس کے باپ کی ڈیتھ ہو گئی ہے چلا گیا ہے وہ”

“اور تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے پرائی لڑائی سر لینے کی تم نے کچھ نہیں دیکھا اٹھو اب”

“میں پرویز کو کہتی ہوں کہ ان لاشوں کے ساتھ اس کو بھی پانی کر دے تیزاب میں”

اس نے زینب کی طرف دیکھا تھا جو کھلی آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احمر زینب کو ہوٹل چھوڑ کر گھر پہنچا جہاں لوگوں کا رش لگا ہوا تھا

وہ بھاگ کر اندر گیا تھا اندر چھ چارپائیاں تھیں جن پر میتیں تھیں

وہ تیزی سے ان لہولہان چادروں کو اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگا

اس کی چاروں بہنیں اور ماں باپ گھر آتے ہوۓ گنوں سے لدھے ہوۓ ٹرک سے تصادم میں موقعے پر ہے ہلاک ہو چکے تھے جبکہ ڈرائیور معجزاتی طور پر ابھی تک تشویش ناک حالت میں ضرور تھا مگر زندہ تھا ۔۔۔

احمر سکتے میں تھا ۔۔۔۔زینب کی آہ اسکے گھر آنے سے پہلے یہاں پہنچی تھی ۔۔۔۔۔۔

اس نے جیب میں سے بلینک چیک نکالا اور چیخ چیخ کر رونے لگا ۔۔۔

اگلی صبح احمر میتوں كو اپنے اور زینب کے آبائی گاؤں دفنانے کے لئے قبرستان میں موجود تھا ۔۔۔

ایک زینب کی زندگی چھ انسانوں کی زندگی کے برابر ہوئی تھی ۔۔۔۔زینب کے دامن کو ناپاک کرنے کا جرم زینب کا پلڑا وزن دار کر چکا تھا

وہ کفن دفن سے فارغ ہو کر قبرستان سے جانے کے لئے اٹھا تھا جب ایک اور جنازہ پاس آتا دکھائی دیا تھا

“زینب کہاں ہے پتر اسکو بلا دے اسکے باپ کا چہرہ اس کے آخری دیدار کا منتظر ہے “

ایک آدمی احمر کے پاس آکرمنہ پر ہاتھ رکھ کر روتے ہوۓ بولا تھا

“یہ ۔۔۔۔۔۔۔یہ سب کیسے؟؟؟؟؟

احمر کو اپنی آواز کنویں میں سے آتی محسوس ہوئی تھی

“پتر ہم سب محلے دار رات بہت ویلے تک زینب کے گھر پر ہی رہے كملا دھی کا دکھ دل پر لگا کر رونے بیٹھا رہا کہہ رہا تھا میری زینب جیسے مر گئی ہو ایسے دل بتا رہا ہے۔۔۔۔ صبر نہیں آرہا تھا ۔۔۔ بہت سمجھایا کہ صبح سویرے ھی لے جائے گیں بیٹی کے پاس بس رات گزرنے دے دو مگر شودے کا دماغ اپنا کم چھڈ گیا تھا کہہ رہا تھا اس کو نہیں دیکھ سکوں گا اب ۔۔۔۔میری دھی مر گئی ہے مجھے رونے سے مت روکو ۔۔۔۔۔روتا رہا ۔۔۔۔۔بس پھر دل نے جواب دے دیا”

“بہت کوشش کی تھی تم لوگوں سے رابطہ کرنے کی پر کوئی صورت نئی بنی پھر لے آئے ابھی دفنانے ۔۔”

“زینب کو بلا دے کدھر ہے وہ؟؟؟”

“عقل دین چاچا کا غم کھا گیا اسے رات ایکسیڈنٹ میں میرے سارے گھر والے اور وہ بد نصیب بھی ختم ہو گئی ہے”

اب احمر نیچے بیٹھ کر مٹی اپنے سر میں ڈال ڈال کر رو رہا تھا جب زینب کی ماں دوپٹہ نیچے اپنے پیچھے ساتھ گھیسیٹی ہوئی مٹی میں لت پت وہاں آئی تھی

“زینب کے ابا چل زینب بیٹھ گئی ہے تو بھی اب آجا روٹی پے دونوں بہت ستاتے ہو مجھے ناراضگی اپس میں ہے دو گھنٹے سے روٹی لے کر میں کلی بیٹھی ہوں”

“جتنا تم دونوں عاشق معشوق بن کر مجھے ستاتے ہو میرا ابا زندہ ہوتا تو میں پیکے چلی جاتی”

وہ کبھی ہنستی کبھی روتی ۔۔۔۔۔۔وہ اس دنیا کے غموں سے بےگانی ہو چکی تھی ۔۔۔۔

احمر کو اب اس لمحے پر پوری عمر پچھتانا تھا جس میں اس نے زینب کا نہیں اپنے گھر والوں اور اسکے ماں باپ کی زندگی کا سودا کیا تھا ۔۔۔

پھر کہوں گی پیسہ حاکمیت چاہتا ہے ۔۔۔وہ رشتوں کو نگلنے والا اژدھا ہے ۔۔۔

یہاں بھی یہ ہی ہوا ۔۔۔پیسہ احمر کے سارے رشتے نگل کے حاکمیت میں آچکا تھا ۔۔۔

کافی عرصے تک احمر اکیلا سزا کاٹتا رہا پھر اس نے زینب نام کی ایک بہت غریب لڑکی سے شادی کر لی جو بیٹی جھولی میں ڈال کر ایک بار پھر اسے اس بےتحاشہ دولت میں اکیلا چھوڑ کر اللّه کے پاس چلی گئی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب سے زینب والا واقعہ ہوا تھا نعیم سب سے کٹ کر رہ گیا تھا وہ پورا پورا دن الگ تھلگ کمرے میں بند رہتا ۔۔۔آج کافی مہینوں بعد وہ دوپہر کے کھانے پر ڈائینگ پر آکر بیٹھا تھا سب کھانا کھا کر اٹھ چکے تھے وہ گہری سوچ میں بیٹھا ہوا تھا

پھر وہ اٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگا جہاں عاصم کی گارمنٹس فیکٹری اور تیزاب والی فیکٹری کو سیل کرنے کی خبرچل رہی تھی کسی اندر کے بندے نے ثبوت فراہم کر کے مخبری کی تھی بہت سے پولیس کے لوگوں کی پشت پناہی کی وجہ سے معاملہ سیل کر کے ہی ختم کیا جا رہا تھا کیوں کہ پولیس کی اپنی پشت عیاں ہونے کو تھی ۔۔۔

“عاصم کی طبیعت خراب ہے کافی مہینوں سے بس اسی کا نمک حرام لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے”

عافیہ چاۓ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولی تھی

“کیا ہوا ہے اسے؟؟”

نعیم حیرت سے گویا ہوا تھا

“وہ ہی جو باپ کو تھا”

“ایڈز”

عافیہ پرسکون سی بولی تھی

“شادی طے ہو چکی تھی مگر اچانک طبیعت خراب ہوئی اور پھر بگڑرتی چلی گئی”

“اب جسم گل رہا ہے عاصم کا مگر ٹیسٹ میں ایڈز کی پہلی اسٹیج ہی آرہی ہے ۔۔۔پورا پورا دن درد اور جسم کی جلن سے چیختا رہتا ہے سب چھوڑ گئے ہیں اسے بہن کو خود نکال دیا تھا ۔۔۔اب بد بو اٹھتی ہے اس کے وجود سے”

“كل گئی تھی میں”

عافیہ کپ سے سپ لیتے ہوۓ بولی تھی

“تو وہ تو دنیا خرید سکتا ہے اتنا مالدار ہے پھر اب یوں اکیلا کیوں پڑا ہے؟؟؟؟؟؟”

“تم ہی کہتی ہو نہ دولت سے ہر رشتہ خریدا جا سکتا ہے پھر وہ کیوں نہیں خرید رہا اب ؟؟؟”

عافیہ نعیم سے اس حملے کی توقع نہیں کر رہی تھی وہ پزل سی اسے دیکھ رہی تھی

“ابھی بھی وقت ہے عافیہ سدھر جاؤ تم بھی بیٹیوں والی ہو اور دوبارہ سے پریگنٹ بھی ۔۔۔یہ ساری دولت سب کچھ کسی ٹرسٹ کو دے کر ہم اپنے گاؤں والے گھر میں چلے جاتے ہیں