342.8K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khof Episode 8

ڈاکٹر احمد سر پکڑے پیشنٹ کے پاس چیئر پر آئی سی یو میں بیٹھے ہوۓ تھے سرجری کینسل کی جا چکی تھی شام کے 6بج رہے تھے جب ڈاکٹر فرقان انکے پاس آکر بیٹھے ۔۔۔۔۔

ڈاکٹر احمد جو سب آپ نے کہا وہ اس فائل میں کہیں بھی درج نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔طویل خاموشی ۔۔۔۔

پھر آپ نے یہ سب خود سے بنا کر سرجری کیوں کینسل کروائی ہے ؟؟؟

برین کی سرجری کتنی میجر سرجری ہوتی ہے یہ آپ اور میں بہت اچھے سے جانتے ہیں اس میں تین سرجن آبروڈ سے بلاۓ گئے تھے اس میجر سرجری کے لیے مگر آپ نے سب خراب کر دیا۔۔۔۔۔۔

Can you sense that exactly what have you done????

میں نہیں جانتا آپ کو کیا ذہنی تناؤ ہے جس کی وجہ سے آپ کنفیوز تھے مگر آپ نے ایسا کر کے نہ صرف ہمارے ہاسپٹل کی ریپوٹیشن بلکہ اپنے مستقبل کو بھی داؤ پر لگایا ہے ۔۔۔

ڈاکٹر احمد خاموشی سے بات سنتے رہے کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔

ڈاکٹر فاروق نے مزید کہا ۔۔۔

ڈاکٹر احمد اب یہ کیس مکمل طور پر آپ کے سپرد ہے اب کیا کرنا ہے یہ آپ ڈیسائیڈ کریں گے ۔۔۔

ڈاکٹر فاروق جانے کے لئے کھڑے ہو کر ڈاکٹر احمد کے جواب کا انتظار کررہے تھے جب ڈاکٹر احمد گویا ہوۓ ۔۔۔

ڈاکٹر فاروق میں چاہتا ہوں کے انکا سی ٹی سكين دوبارہ ہو آج ابھی اسی وقت ۔۔۔

ڈاکٹر فاروق فلحال ایسا ممکن نہیں ہوگا سٹاف 8بجے تک اویل ایبل ہوگا پھر یہ کام ہو سکتا ہے میں بھی ابھی جا رہا ہوں

آج یہ پیشنٹ اکیلا ہے ادھر۔۔۔۔ آپ چاہے تو آپ بھی گھر چلے جائیں

You have to take some rest Dr Ahmad

Badly…….

رات کو کون ہوتا ہے ان کے ساتھ ؟؟ ڈاکٹر احمد نے پوچھا

زیادہ تر کوئی بھی نہیں ہوتا کیوں کے ان کو رات میں ایک ڈرپ ہی لگنی ہوتی ہے جو کے دس بجے تک ختم ہو جاتی ہے پھر اگر کوئی اور پیشنٹ نہ ہو تو خاص ان کے لئے کسی ڈاکٹر کی ڈیوٹی نہیں لگائی جاتی کیوں کے کومے میں جانے کے بعد ایسی کوئی ضرورت نہیں پڑی آج تک ۔۔۔

انکو ہمارے ہسپتال میں لاۓ ہوۓ دو سال ہونے کو ہیں اس پورے عرصے میں صرف تین بار انکی باڈی نے انفیکشن پکڑا تھا انکا جسم لال ہو جاتا تھا جیسے بہت زیادہ کھرچنے سے باڈی ری ایکٹ کرتی ہے ۔۔۔

اس کے لئے انکو انٹی بائیوٹک لگانی ہوتی تھیں یہ سلسلہ اتنا ورسٹ صورت اختیار کر جاتا تھا انکی ہارٹ بیٹ بہت بڑھ جاتی تھی بلڈ پریشر بھی ۔۔۔

یہ اس خارش کی تکلیف محسوس کر سکتے تھے ۔۔۔

صرف تب 24 گھنٹے ایک نہ ایک ڈاکٹر ہر وقت انکے پاس موجود ہوتا تھا کیوں کہ سب بہت تیزی سے ہوتا تھا جو کے کسی ڈاکٹر کے علاوہ کوئی سٹاف ممبر ہینڈل نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔مگر اب ۔۔۔۔

چو نکہ یہ ٹھیک ہیں لہذ ا ان کے پاس کسی ڈاکٹر کے ركنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔

اس پورے عرصہ میں انہوں نے کبھی بھی جسم کے کسی حصے کو حرکت نہیں دی ؟؟؟

ذرا سی بھی کبھی کوئی فینگر ہی ہلائی ہو ؟؟؟ اچھی طرح سوچ کر بتائیں…..

ڈاکٹر احمد نے پوچھا

ڈاکٹر فاروق گہری سوچ میں چلے گئے ۔۔۔۔

نہیں مگر ایک بار ایک فی میل یہاں بہت کریٹکل حالت میں لائی گئی تھیں ان پر تیزاب ڈالا گیا تھا انکا پورا جسم بری طرح جهلس گیا تھا انکو سرجری کے بعد یہاں شفٹ کیا گیا تھا وہ سٹیبل نہیں تھیں ۔۔۔اس رات جب انکی ڈیتھ ہوئی تھی انکی آنکھوں سے مسلسل آنسوں نکلے تھے ۔۔۔

تبھی تو ہمیں پتہ چلا تھا کے انکی ساری سینسیز ایکٹو ہیں ۔۔۔۔

ڈاکٹر فاروق

Can you give me a favour please…..

ڈاکٹر احمد کا لہجہ بہت تھکا تھکا تھا

۔۔۔۔

جی بولیں ۔۔۔ڈاکٹر فاروق دوبارہ بیٹھ گئے تھے ۔۔۔

آپ میری ڈیوٹی مستقل اس پیشنٹ کے ساتھ لگوا دیں ۔۔۔۔میں بہت خود کو مجبور محسوس کر رہا ہوں ۔۔۔

وہ سب جو میں نے بتایا ہے میں نے سچ میں اسی فائل میں ہی پڑھا ہے وہ سب اب کیوں نہیں لکھا میں نہیں جانتا مگر ۔۔۔۔

کچھ ہے جو مجھ سے بھی جڑ ا ہے اس پوری کہانی میں ۔۔۔

ٹھیک ہے آپ پریشان نہ ہوں

Take your time

آپ یہاں آج رکنا چاھتے ہیں ڈاکٹر احمد ؟؟

ڈاکٹر فاروق نے اٹھتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔

ڈاکٹر احمد نے شکستہ آواز میں جی کہا تھا ۔۔۔

رات کے بارہ بج رہے تھے ڈاکٹر احمد چیئر پر آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے ۔۔۔جب انکو اپنے چہرے پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی تھی ۔۔۔انہوں نے فورأ پورے آئی سی یو کا جائزہ لیا تھا وہاں کوئی نہیں تھا وارڈ بوائے دروازے کے باہر موجود بینچ پر سو رہا تھا ۔۔۔۔

پیشنٹ سیدھا لیٹا تھا دونوں ہاتھ بھی سیدھے تھے پاؤں کو آپس میں باندھا ہوا تھا جیسے مردے کے باندھتے ہیں ڈاکٹر احمد نے انکی ساری ریڈنگز چیک کی جو بلکل نارمل تھیں آنکھیں بھی کھول کر چیک کی تھیں ۔۔۔۔

ڈاکٹر احمد دوبارہ چیئر آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئے تھے ۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد انکو وہ ہی تپش دوبارہ محسوس ہوئی تھی ۔۔۔۔ڈاکٹر احمد نے مریض کی طرف جیسے ہی دیکھا ۔۔۔

وہ اپنا سر ڈاکٹر احمد کی طرف موڑ کر انکو دیکھ رہا تھا۔۔۔

آمنہ ٹیرس میں کھڑی کافی پی رہی تھی ۔۔۔

اسکے ذہن میں فاطمہ کی بات مسلسل آرہی تھی ۔۔دل عجیب سی پریشانی میں مبتلا تھا ۔۔

وہ اس رات کے بعد سے بہت کچھ ایسا کہہ چکی ہے جس کا کوئی وجود نہیں ہے یہ بات بھی تو ان باتوں جیسی ہو سکتی ہے ۔۔۔

ابو کی قبر پر میں بہت بار گئی ہوں امی کے ساتھ پھر فاطمہ یہ بات کیسے کہہ سکتی ہے

آمنہ نے کافی کا سپ لیتے لیتے سوچا تھا

گیٹ پر آج بہت سے لوگ تھے وہ گل خان سے دم کروانے آے تھے ۔۔۔سب لوگ دو لائنز میں تھے ایک لائن میں آنے والے اور دوسرے میں جانے والے ۔۔۔

آمنہ ان کو دیکھنے لگی شام کی اذان ہونے میں ابھی بہت ٹائم تھا اچھی خاصی روشنی تھی ان لوگوں کو آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا

ان تمام لوگوں میں ایک آدمی نے اوپر کی طرف منہ کر کے آمنہ کو دیکھا تھا وہ باہر جانے والی لائن میں تھا

آمنہ اس کے دیکھنے پر منہ پیچھے کی طرف کر کے کھڑی ہو گئی مگر کچھ تھا جو بے سکون کر رہا تھا

آمنہ نے مڑ کر دوبارہ غور سے دیکھا اب منظر بدلا تھا

شام ڈھل چکی تھی نيم اندھیرا ہو چکا تھا وہاں سب لوگ ہنوز موجود تھے لائن میں آتے اور جاتے ہوۓ ۔۔

گارڈ کے ساتھ وہی گورکن موجود تھا سیاہ چولا نمہ لباس میں ملبوس ۔۔۔ ہاتھ میں بیلچہ تھا دونوں بہت مصروف انداز میں کوئی بات کر رہے تھے پھر گارڈ نےلان کی طرف اشارہ کیا دونوں وہاں گئے اور ایک جگہ پر جو گارڈ نے بتائی گورکن نے وہاں کھودائی شروع کردی ۔۔۔

آمنہ کبھی لائن میں موجود آتے جاتے لوگوں کو دیکھتی کبھی گورکن اور گارڈ کو ۔۔۔۔کبھی وہ آسمان کو دیکھتی جو روشن تھا مگر انکا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا

آمنہ نے آسمان سے نظر ہٹا کر نیچے دیکھا وہاں لائن میں موجود سب لوگ اب سیاہ لباس میں تھے مرد عورت سب کے سب ۔۔۔۔

آمنہ نے لان کی طرف دیکھا وہاں گورکن قبر کھودنے میں مصروف تھا اسکی کھودائی کی ہر ضرب آمنہ کو اپنے کانوں میں محسوس ہوئی تھی ۔۔۔

گورکن نے اچانک نظر اٹھا کر آمنہ کو دیکھا تھا وہ کوئی انجان چہرہ تھا ۔۔۔

اسکا دماغ اسے پہچاننے سے انکاری تھا مگر دل اسکو پہچاننے کا دعویدار تھا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھر کے سب افراد عافیہ بيگم کے کمرے میں جمع تھے عافیہ بيگم نے اپنی کل کائنات اپنے سارے بچوں کو دیکھا پھر بات شروع کی ۔۔۔

بچوں گھر میں کافی دنوں سے پریشانی کا سماں ہے میں چاہتی ہوں کے یہ ماحول ختم ہو ۔۔۔

آپ کے مرحوم والد کی منہ بولی بہن کے دو بچوں کی شادی ہے ہم سب کو بھی مدعو کیا گیا ہے ۔۔۔

بہت بڑا خاندان ہونے کی وجہ سے انہوں نے مہمانوں کے ٹھہرنےکے انتظامات اپنے فارم ہاؤس میں کیئے ہیں شادی کے مین فنکشنز تو تین ہی ہیں مہندی ,بارات اور ولیمہ مگر پہلےاور آخری دو بچوں کی شادی ہونے کی وجہ سے انہوں نے تمام مہمانوں کو مہندی سے ایک ہفتے پہلے بلایا ہے وہ بہت خوشی کرنا چاھتے ہیں اپنے پہلے اور آخری دونوں بیٹا اور بیٹی کی ۔۔۔۔

ابھی کچھ دیر میں ہم سب کے سب ایک ساتھ مال جائیں گے اور اپنی تمام شاپنگ آج ہے مکمل کریں گے ۔۔۔آمنہ آپ بہنوں کے ساتھ مل کر لسٹ بنا لیں ۔۔۔

علی کی شاپنگ میں خود کرونگی آخر بہو بھی وہیں ہو گی میری ۔۔۔۔۔

علی اس بات پر لال ہوا تھا ۔۔۔

جی امی میں اور آپ مل کر شاپنگ کریں گے ۔۔۔علی نے خوشی سے پھٹتے ہوۓ کہا تھا

فاطمہ علی کو یک ٹک دیکھ رہی تھی اسکی آنکھوں میں حسرت تھی ۔۔۔

عافیہ بيگم کی نظر فاطمہ پر پڑنے کی دیر تھی وہ ہڑ بڑاتے ہوۓ کھڑی ہو گئی اور آمنہ سے کہا جاؤ آپ لوگ اب۔۔۔

ایک گھنٹہ ہے لسٹ بناو پھر نکلیں گے مال کے لئے ۔۔ ۔۔۔

علی بھی خوشی سے کھلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔

عافیہ بيگم نے سب کے نکلتے ہی کال ملائی تھی

جی کیا بنا ؟؟

اچھا ۔۔۔۔۔۔۔تو آپ کو پیمنٹ کرنے کا کیا فائدہ ہوا ؟؟

میں کچھ نہیں جانتی یہ کام جلد از جلد ہو جانا چاہیے ۔۔۔اگر مگر میں نہیں جانتی ۔۔۔

عافیہ بيگم نے کال کاٹ دی تھی اب وہ ایک اور نمبر ملا رہی تھیں ۔۔

السلام علیکم ۔۔۔۔۔جی مسز همدانی ۔۔۔۔آپ کیسی ہیں ؟؟

میں کب آ سکتی ہوں آپ سے ملنے ؟؟؟

جی ۔۔۔ جی ۔۔۔۔۔میں تو خاک ہوں آپ کے پاؤں كی ۔۔۔۔جی ۔۔۔ جی ۔۔۔۔۔بندہ بھیج دوں گی ۔۔۔۔اپکی مطلوبہ چیز دے کر ۔۔

میں بہت پریشان ہوں۔۔۔میں دس دنوں کے لئے بچوں کو یہاں سے لیکر جانا چاہتی ہوں ۔۔۔۔

جواب بہت توجہ سے سنا گیا ۔۔۔۔

جی ٹھیک ہے میں دو دن سے آپ کا نمبر ٹرائی کر رہی تھی ۔۔

عافیہ بيگم نے پوری بات اتنی فرمانبرداری سے کی جیسے کال پر موجود بندہ ان کے سامنے ہو ۔۔۔

جیسے ہی کال بند کی کال پر موجود بندی کو باقاعدہ موٹی گالی سے نوازا ۔۔،

گالی ۔۔ پتہ نہیں سمجھتی کیا ہے خود کو ۔۔۔

بس جیسے ہی یہ چیپٹر کلوز ہوتا ہے سب سے پہلے اس کا بندوبست کرونگی ۔۔۔۔

اتنے میں فاطمہ کمرے میں آئی تھی ۔۔۔

امی مجھے کچھ خاص چیزیں لینی ہیں وہ آپی کو نہیں بتا سکتی ۔۔۔

کیا لینا ہے میری شہزادی نے ؟؟؟

عافیہ بيگم نے فاطمہ کو سینے سے لگاتے ہوۓ پوچھا تھا ۔۔۔۔

شادی کا جوڑا ۔۔۔۔۔

فاطمہ نے کان میں سرگوشی کی تھی

عافیہ بيگم نے فاطمہ کو پیچھے دکھیلا تھا

زہر آلود قہقہ ۔۔۔

کتنا برا لگتا ہے نہ تمہیں جب میں علی کا نام لیتی ہوں تب مجھ پر کیوں ترس نہیں آیا تھا ؟؟؟؟؟؟

جب تم نے مجھے میرے احمر سے چھن جانے دیا کتنا روئی تھی میں گڑ گڑائی تھی تم مجھے بچا سکتی تھی مگر تم لالچ میں اتنی اندھی ہو گئی تھی کے عورت ہو کر بھی تمہیں میرا درد محسوس نہیں ہوا ۔۔۔

ارے تف ہے تمہارے عورت ہونے پر ۔۔۔۔۔تف ۔۔۔۔تف ۔۔

فاطمہ نے عافیہ بيگم کے چہرے پر باقاعدہ تھوکا تھا ۔۔۔۔

اس مردہ خانے کو تم اپنا گھر سمجھتی ہو ؟؟؟؟

یہاں تو لاشیں ہی لاشیں ہیں ۔۔۔۔ چلتی پھرتی لاشیں ۔۔

بہت جلد تم سب بھی انہی لاشوں کا حصہ بن جاؤ گے مگر میں یہ سب اتنی جلدی نہیں کرنا چاہتی تڑپا تڑپا کر ایک ایک بدلہ لونگی ۔۔۔۔بہت انتظار کیا ہے میں نے تمہاری اولاد کو اپنے ہم عمر ہوجانے کا ۔۔۔۔

میں بھی تمارے بچوں کی طرح معصوم تھی لیکن مجھے بے رحم بنانے والی تم ہو صرف تم ۔۔۔۔۔

فاطمہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔

عافیہ بيگم کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔

امی ۔۔۔۔آمنہ کمرے میں آئی تھی سب کی لسٹ بنا لی ہے میں نے ۔۔۔۔۔آمنہ کی نظر جیسے ہی فاطمہ پر پڑی اس نے بات بیچ میں ہی چھوڑ دی ۔۔

فاطمہ کی آنکھیں لال ہو رہی تھیں ۔۔آمنہ نے فاطمہ کے سر پر ہاتھ رکھا وہ بخار میں تپ رہی تھی ۔ .

کیا ہوا میری گڑیا کو ؟؟آمنہ بہت پیار سے فاطمہ کے چہرے پر بوسہ لے کر پوچھ رہی تھی

تیز ہوا کھڑ کی کا پردہ ہلاتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔

آپی باڈی میں بہت درد ہے گلے میں چھبن ہے ۔۔۔

عافیہ بيگم فاطمہ کو گلے لگا کر پیار کرنے لگیں چلو علی کو کہو فاطمہ کو ابھی ہوسپٹل لے کر چلتے ہیں آمنہ جاؤ بھائی کو بولو ۔۔۔

اس سے پہلے کے آمنہ عافیہ بيگم کا کوئی جواب دیتی فاطمہ بولی تھی

نہیں امی میں ہسپتال نہیں جا سکتی دل اور جسم میں زور نہیں ہے جانے کا آپ ڈاکٹر احمد کو گھر پر ہی بلا دیں ۔۔ فاطمہ نے بند ہوتی انکھوں سے بہت آہستہ آہستہ کہا تھا

عافیہ بيگم نے ڈاکٹر احمد کو فون کیا

جی جی وعلیکم السلام ۔۔۔۔

احمد بیٹا فاطمہ کی طبیعت خراب ہے آپ پلیز گھر آ کر دیکھ جائے ۔۔۔

جی ٹھیک ہے میں آپ کا انتظار کر رہی ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح کے 8بج رہے تھے ڈاکٹر احمد بے یقینی سے ریسٹ روم میں لیٹے ہوۓ تھے وہ خواب اور حقیقت کے بیچ میں فرق کرنے سے قاصر تھے ۔۔۔

وہ مریض جو ہر قسم کے ٹریٹمنٹ ہو جانے کے باوجود بھی دس سال سے کومے میں ہے کبھی انگلی تک نہیں ہلائی وہ مجھے باقاعدہ اپنا سر موڑ کر دیکھ رہا تھا اس بات پر کون یقین کرے گا ۔۔۔

یا اللّه میں بہت بے بس ہوں میری مدد فرما یا اللّه ۔۔۔۔

ڈاکٹر احمد دعا کے انداز میں دونوں ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گئے تھے ۔۔۔

جب انکا فون بجا تھا

سارہ کالنگ سکرین پر روشن ہوا تھا

ڈاکٹر احمد نے فون اٹھا کر کان سے لگالیا

سارہ۔۔۔۔

کیسی ہو ؟؟

سارہ جو لڑائی تیار کر کے فون ملا کر بیٹھی تھی ڈاکٹر احمد کی تھکی آواز پر برف کی طرح پگلی تھی

کیا ہوا آپ کو آپ ٹھیک ہیں احمد ؟؟؟

سارہ کی آواز میں پریشانی اور فکر نمایاں تھی

ہاں ٹھیک ہوں سارہ تمہاری ضرورت ہے مجھے میں بہت تھک گیا ہوں مجھے تمہاری گود میں سر رکھ کر سونا ہے میں بہت اکیلا پڑ گیا ہوں مجھے تم چاہیے ہو ۔۔۔۔۔مجھے سکون کی ضرورت ہے ساری ۔۔۔

ڈاکٹر احمد بولتے چلے گئے ۔۔۔

احمد میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں سارہ نے بهرائی آواز میں کہا تھا

میں آپ کو بانٹ نہیں سکتی احمد ۔۔۔

اب وہ باقاعدہ رونے لگی تھی

سارہ میں پورا کا پورا صرف تمہارا ہوں اور تمہارا ہی رہوں گا ۔۔۔احمد کے دل میں سکون اترا تھا

آپ گھر آجاۓ….میں آپکی راہ دیکھ رہی ہوں

سارہ سیڑھیوں میں فون پکڑ ے آنسو صاف کرتے ہوۓ بولی

آتا ہوں ۔۔۔ڈاکٹر احمد نے کال کاٹ دی اور جانے کی تیاری کرنے لگے پیشنٹ کی فائل کی ایک کاپی جو ڈاکٹر فاروق سے خاص ریکویسٹ کر کے بنوائی تھی وہ لی اور پارکنگ میں آ کر گاڑی سٹارٹ کی جب عافیہ بيگم کی کال آئی تھی

جی میں آتا ہوں کہہ کر علی کے گھر کی طرف گاڑی موڑی تھی

ڈاکٹر احمد کو آج گیٹ کے اندر جاتے ہے عجیب سے احساس نے آگھیرہ تھا کوئی احساس جو بہت اجنبی تھا

ڈاکٹر احمد پچھلے پانچ سال سے انکے فیملی ڈاکٹر تھے جب انکی شادی کو محض ایک ہفتہ ہوا تھا

بہت بار ادھر آنا ہوا تھا مگر آج وہ گھر بیگانہ لگ رہا تھا

شبو ڈاکٹر احمد کو عافیہ بيگم کی کمرے میں لے گئی تھی

اندر عافیہ بيگم اور آمنہ فاطمہ کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں

آمنہ فاطمہ کو برف کی پٹیاں کر رہی تھی مگر بخار تھا کے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا

ڈاکٹر احمد نے فاطمہ کا چیک اپ کیا بخار 104 تھا

باڈی پر ریڈ كلر کے ڈاٹس تھے

جو جسم میں انفیکشن کی وجہ سے بن سکتے ہیں

بخار تیز ہونے کی وجہ سے فوری طور پر کوئی بھی ٹریٹمنٹ نہیں دیا جا سکتا پہلے بخار کو کم کرنا ہوگا باقی انکی طبیعت کچھ سمبھلتی ہے تو انکو ہسپتال لے جائے انکے کچھ ٹیسٹس ہونا بہت ضروری ہیں

ڈاکٹر احمد نے عافیہ بيگم کو وضاحت دی

ڈاکٹر احمد نے فاطمہ کو ڈرپ لگا دی اور پاس ہی کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھ گئے موبائل نکال کر سارہ کو میسج میں دو گھنٹے تک آنے کا کہا تھا

عافیہ بيگم ڈاکٹر احمد کے لئے کچھ کھانے کا بندوست کرنے چلی گئی آمنہ فاطمہ کے پاس ہی بیٹھی تھی جب علی کمرے میں آیا تھا

السلام علیکم احمد صاحب ۔۔۔

کیسے ہیں آپ ؟؟

علی نے خوشدلی سے کہا تھا

وعلیکم السلام بلکل ٹھیک ٹھاک ۔۔۔۔

تم سناؤ کیا ہو رہا ہے آج کل ؟ڈاکٹر احمد نے پوچھا

کچھ نہیں بس بہت جلد آپ کی بھابھیاں لا رہا ہوں علی نے ہںستے ہوۓ کہا

اچھا میں پھر کہتا ہوں سنگین نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہو گے پھر نہ کہئیے گا بتایا نہیں ہم نے ۔۔۔۔

ڈاکٹر احمد نے وارننگ دیتے ہوۓ کہا

“ہوش اڑ لینے دیں ہمارے بھی بہت رہ لیا ہوش میں “

علی نے شاعرانہ انداز میں کہا

ڈاکٹر احمد نے جواب میں قہقہ لگایا اور پوچھا اپکی بات سے یاد آیا اس دن کیا ہوا تھا آپکو ؟؟؟

ڈاکٹر احمد کی بات سے علی کی خوشی چھوں منتر ہوئی تھی علی بلکل خاموش ہوگیا اور رنگ ہلدی ہوا تھا ۔۔

علی آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟

جی احمد بھائی آئ ایم اوکے ۔۔۔

علی نے پھیکی ہنسی کے ساتھ جواب دیا تھا پھر مختلف باتوں پر ہنسی مذاق کرتے رہے ۔۔

کچھ دیر میں فاطمہ کی ڈرپ ختم ہوئی تھی جس سے بخار کم ہوا تھا ڈاکٹر احمد نے ایک انجیکشن لگایا پيناڈول دی باقی ٹیسٹس کروانے کے بعد پر چھوڑ دیا

شبو کے ہاتھ عافیہ بيگم چاے کے ساتھ کچھ لوازمات لائی تھیں

ڈاکٹر احمد فاطمہ کو کس ہسپتال لے کر جائیں آپ کہاں ہوتے ہیں آجکل ؟؟؟ علی نے نمکو کا پھکا مارتے ہوۓ پوچھا تھا

ڈاکٹر احمد نے ہاسپٹل کا نام بتایا جسے سن کر عافیہ بيگم کا رنگ اڑا تھا