Khof by Jameela Nawab Readelle 50362

Khof by Jameela Nawab Readelle 50362 Khof Episode 20 (Last Episode Part 2)

506.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khof Episode 20 (Last Episode Part 2)

“میں دن رات لگا کر اپنی محنت سے یہ سب تمہیں واپس لے دوں گا پلیز عافیہ میں تمہیں اور اپنے بچوں کو بہت چاہتا ہوں میں تم لوگوں کو اس جہنم سے نکالنا چاہتا ہوں “

عافیہ غصے سے سیخ پا ہوئی تھی مگر چپ رہی

“عافیہ اگر تو تم نے میری بات نہ مانی میں خود کو پولیس کے حوالے کر دوں گا اور سب بتا دوں گا”

“اگر تو تم نے ایسا کرنے کا سوچا بھی تو میں یہ بھول جاؤں گی کہ تم سے میرا رشتہ کیا ہے ۔۔۔تنویر کا انجام بھول گیا ہے تمہیں ؟؟؟؟”

عافیہ اپنے ازلی بے حس روپ میں آئی تھی

نعیم کافی دیر خاموش رہا پھرشکست خوردہ لہجے میں بولا عافیہ۔۔۔۔

“میرے بیٹے کو اسکی ڈگری مکمل کروانے کے بعد میرا وارث بنانا ۔۔۔میری بیٹیوں كی ان کی پسند سے عزت سے شادیاں کر دینا ۔۔آنے والے نئے بد نصیب کے لئے بھی یہی وصیت ہے میری ۔۔۔تم نے مجھے بھی اپنی لالچ کی نظر کر دیا ۔۔۔اب نعیم پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا

عافیہ سفاکی سے دیکھتی رہی ۔۔۔

“یاد رکھنا ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب تم بہت اکیلی پڑ جاؤ گی ۔۔۔پھر میری محبت تمہیں پاگل کر دے گی ۔۔۔دولت رشتوں کی جگہ کبھی نہیں لے سکتی ۔۔۔وہ کاغذ جو ہوا سے اڑنے لگتے ہیں وہ خدا کی بنائی اشرف المخلوقات کی جگہ کیسے ہو سکتے ہیں عافیہ ؟؟؟؟”

نعیم کا دل آج کرچی کرچی ہوا تھا ایک گناہ گار عورت کے ساتھ اتنا وقت گزارنے کا احساس اسکے ضمیر کا گریبان پکڑ کر بیٹھ گیا تھا

احساس ندامت سے نعیم کا سر مستقل درد کرنے لگا وہ پاگلوں کی طرح ہر وقت زینب اور باقی مظلوموں سے معافی مانگتا رہتا ۔۔۔۔وہ اپنے ضمیر کو سر درد کا نام دے کر جگہ جگہ ہسپتالوں میں بٹھکتا رہتا ۔۔۔عافیہ اسے اس کے حال پر چھوڑ کر اسلام آباد شفٹ ہو گئی تهی مگر وہ اس سے باخبر رہتی ۔۔۔اسی دوران اس نے مسز همدانی نامی ایک عورت سے رابطہ کیا تھا جو کالے جادو کی ماہر تھی اور اسی شہر میں رہتی تھی جہاں نعیم تھا وہ نعیم پر زبان بندی کا تعویذ کروانا چاہتی تھی

پھر مسز همدانی نے اس سے بہت چالاکی سے سارے راز لئے اور عافیہ کو لوٹنے کا منصوبہ بنایا وہ اکثر نعیم کے پاس ہسپتال جاتی اور کوئی شربت اسے پلاتی ۔۔۔پھر اس کا سامنا زینب كی روح سے ہوا جو واقعی نعیم کے ساتھ ساتھ رہتی تھی

زینب نے اپنی زندگی جو کہ خالص اللّه کی امانت تھی اسے حرام موت مارا تھا وہ ہر رات اسی خاص وقت پر تیزاب پیتی اور اس تکلیف سے دوبارہ سے گزرتی ۔۔۔اسے بدلہ لینے کے لئے عافیہ کی اولاد کے جوان ہونے کا انتظار کرنا تھا وہ بنا کسی انسان کی اجازت کے اسکے جسم پر قابض نہیں ھو سکتی تهی نعیم جو ہر وقت اس سے معافی مانگتا تھا اس نے اسے معاف کرنے کے بدلے اسکا جسم مانگا تھا نعیم اس سے اپنی موت کے بدلے اپنے بچوں کی زندگی مانگتا رہا مگر وہ نہ مانی وہ صرف نعیم کو معاف کرنے پر راضی ہوئی تھی اور نعیم کی اجازت سے اس کے جسم پر قابض ہوئی تھی جیسے ڈاکٹروں نے کومے کا نام دے دیا تھا

مسز همدانی کا کہنا تھا زینب كی روح فلحال نعیم کے جسم پر قابض ہے جس سے وہ کمزور پڑ گئی ہے اب جب تک نعیم زندہ ہے وہ اسے ادھر ہی قيد رکھے گی جس کا دارومدار نعیم كی چلتی سانسیں ہیں نعیم کا ٹھیک ہونا بہت ضروری ہے اگر وہ مر جاتا ہے تو زینب اسکے همزاد کی طاقت لے کر بہت طاقت میں آجائے گی پھر وہ سب برباد کر کے اپنا بدلہ پورا کر کے ہی واپس جائے گی ۔۔۔اور اگر وہ ہوش میں آکر اسے خود سے الگ کرتا ہے تو وہ اتنی کمزور پڑ جائے گی کہ پھر اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوگا ۔۔۔کیوں کہ روح جسم کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی اس دنیاوی زندگی میں ۔۔۔

پھر عافیہ نعیم کو مردہ قرار دے کر اس کے علاج کے لئے ہر ملک ہر ہسپتال میں بنا ظاہر ہوۓ کوششیں کرتی رہی اب زندگی روٹین پر آگئی تھی وہ مطمین ہو چکی تھی مسز همدانی کے کام سے ۔۔۔وہ ہر ماہ ہسپتال اور مسز همدانی کی طرف انکا پیسہ باقاعدگی سے بھجواتی رہی ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے دو بج رہے تھے جب گاڑی رکنے پر آمنہ کی آنکھ کھلی تھی

باہر آجاؤ حاشر کہہ کر باہر نکلا تھا

آمنہ نے باہر نکل کر آنکھیں ملتے ہوۓ ادھر ادھر دیکھا تھا

“قبرستان ؟؟؟؟؟؟؟؟؟”

آمنہ کی آنکھیں پھیلی تھیں

“آؤ میرے ساتھ”

حاشر آمنہ کا ہاتھ پکڑے تقریبا گھسیٹتا ہوا اسے قبرستان کے گیٹ کے اندر لے کر جا رہا تھا

آمنہ کی سانس پھول گئیں تھیں دل منہ کو آرہا تھا

“آپ ؟؟؟؟حاشر ؟؟؟یہ سب ؟؟؟؟”

وہ بمشکل بولی تھی

“چپ ایک دم چپ”

حاشر نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر سختی سے کہا تھا وہ دو قبروں کے پاس پہنچ کر رکا تھا اور آمنہ کو گھما کر اس طرف جا مارا تھا

وہ حیران پریشان كانپتے ہوۓ حاشر کو دیکھ رہی تھی

“امی ؟؟؟ابو ؟؟؟دیکھیں آج میں نے آپکا بدلہ لے لیا ہے اسی ظالم عورت کی بیٹی ہے یہ جس نے آپ دونوں کو بے رحمی سے مارا تھا اب جب میں اس کو پل پل تڑپاؤں گا تو مجھے سکون ملے گا”

“دل تو کرتا ہے جو اسکی ماں نے زینب کے ساتھ کیا وہ ہی کر گزروں بیچ آؤں اسے ہر پل ِسسکنے کے لیے ۔۔۔”

“مگر نہیں پھر سوچتا ہوں خود ہی پوری عمر بدلا لے لے کر اپنے اندر کےآتش فشاں کو ٹھنڈا کروں گا “

“حاشر آپ یہ کیا بات کر رہے ہیں؟؟؟؟”

“چلو میرے ساتھ سب بتاتا ہوں”

اب حاشر دوبارہ آمنہ کا ہاتھ پکڑے رات کے آخری پہر قبریستان میں اسے گھسیٹتے ہوۓ کار کی طرف لے کر جا رہا تھا

سارا راستہ خاموشی سے طے ہوا تھا گاڑی ایک بنگلے کے آگے آکر رکی تھی

حاشر نے ایک بار پھر اسے کھینچ کر اندر کمرے میں پھینکا تھا روم لاک کر کے وہ واش روم گیا تھا

آمنہ ڈری سہمی بیڈ پر حواس باختہ سی بیٹھی ہوئی تھی حاشر واش روم سے ب آ کر بیڈ سے دور کرسی پر منہ پر ہاتھ رکھے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ بیٹھ گیا ۔۔۔۔

وہ کسی ذہنی مریض کی طرح خود پر ضبط کیے آمنہ کو مسلسل دیکھ رہا تھا اسی طرح ایک گھنٹہ گزرا تھا پھر وہ اٹھ کر دراز سے ایک ڈائری نکال کر آمنہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا تھا

وہ سہم کر پیچھے ہوئی تھی

“حاشر ۔۔۔۔۔۔۔۔حاشر ۔۔میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔”

وہ ڈر ڈر کر آہستہ سے بولی تھی

“جانتا ہوں میں کھانا لاتا ہوں تم یہ ساری پڑھ لو تب تک”

وہ کہہ کر باہر نکلا تھا بنا دروازہ لاک کیے ۔۔

آمنہ نے تنویر کی ڈائری میں اپنی ماں اور عاصم کے تمام گناہوں کو پڑھا ۔۔۔جو جو زینب کے ساتھ ہونے کا پلان تھا وہ سب بھی ۔۔۔

اس کی سانس رک رہی تھی وہ حاشر سے بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئی تھی

اپنی ماں کے لئے دل میں شدید نفرت کا احساس ہوا تھا پھر وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی وہ بھاگنا چاہتی تھی

کمرے سے باہر نکل کر ٹی وی لاونج سے آگے باہر کی طرف کا دروازہ تھا جو مین گیٹ کی طرف جاتا تھا وہ ٹی وی لاؤنج میں پہنچی تھی جب ایک تصویر نے اس کے قدم روک دے تھے وہ گورکن تھا جو ایک عورت اور دو بچوں کے ساتھ مسکرا رہا تھا سب بہت خوش لگ رہے تھے ۔۔۔

“یہ میری فیملی تھی آمنہ جیسے تمہاری ماں نے ختم کر دیا”

اب حاشر دکھ سے بولا تھا

“آپ نے مجھ سے شادی میری ماں کے گناہوں کی سزا دینے کے لئے کی ہے؟؟؟”

“آپ مجھ سے محبت ؟؟؟؟”

آمنہ فرش پر نیچے ٹوٹ کر کسی موتیوں کی مالا کی طرح بکھر گئی تھی

حاشر اس کے ساتھ ہی نیچے بیٹھ گیا تھا

امی ابو کے جانے کے بعد میں بہت مشکل میں تھا میں خود کو ختم کر دینا چاہتا تھا مگر سعدیہ ۔۔۔میری چھوٹی بہن ۔۔۔۔جسکا واحد سہارا اب میں تھا ۔۔۔میں زندوں میں مردوں كی طرح رہتا رہا لوگ مجھ سے همدردی کرنے کی بجایے دور ہونے لگے ۔۔۔پھر میں نے اپنے اندر کے شور کو کم کرنے کا سوچا ۔۔۔اب میں بلا وجہ خوش رہتا ۔۔۔گانے گاتا ۔۔۔هنستا کھیلتا ۔۔۔اور پھر حاشر ہر محفل کی جان بن گیا ۔۔

جب رابی کے گھر سے تمہیں گھر چھوڑنے گیا تھا وہاں عافیہ بيگم کو دیکھ کر دل بےچین ہوا تھا اور واپسی پر مجھے زینب ملی تھی ۔۔۔اس نے مجھے بتایا وہ سب جو اسکی ماں نے اس کے ساتھ کیا ۔۔۔بس پھر ہم ایک ہو گئے ۔۔۔کیوں کہ ہمارا مقصد ایک تھا ۔۔۔”

“عافیہ سے بدترین انتقام”

پھر میں گل خان سے سعدیہ کو دم کروانے کے بہانے تمہارے گھر پر آیا تم مجھے دیکھ کر دوسری طرف مڑی تھی “

“اسی سلسلے میں گل خان کو فون کیا تو پتہ چلا تم لوگ کسی رشتہ دار کی طرف شادی کی تیاری میں ہو ۔۔۔زوہیب میرا یونی فیلو نکل آیا یہ محظ اتفاق تھا ۔۔۔میں نے اسکی شادی میں آنے کا مذاق مذاق میں کہا وہ مان گیا اور میں وہاں آگیا ۔۔۔فاریہ آنٹی مجھے اپنے بیٹے کے دوست کے تعارف سے جانتی تھیں بس ۔۔۔۔

زینب چاہتی تھی کہ میں تمہیں جلد از جلد بے آبرو کر دوں یہ موقع مجھے پہلے دن ہی مل گیا تھا جب لائٹ گئی تھی ۔۔۔مگر جب تمہارے پاس آیا تو جس طرح تم سہم کر سمٹ کر کھڑی ہوئی تھی میری تربیت نے یہ گوارہ نہیں کیا تھا کہ میں ایک کمزور لڑکی کو اپنی مردانگی کے زور پر زیر کروں ۔۔۔”

میں وہاں سے چلا گیا ۔۔۔

پھر اس رات میں نے تمہیں واقعی اپنے کمرے میں ہی بھیجا تھا مگر زینب نے اپنا داؤ کھیلا تھا میں سمجھ گیا تھا ۔۔۔

تمہیں وہ بیہوش کر کے جنگل میں لے گئی اور تمہارے کپڑے پھاڑ کر وہ تمہیں سب کی نظروں میں گرانے میں کامیاب ہوئی ۔۔۔

پھر میرے نکاح کے بعد وہ چاہتی تھی کہ میں بھی وہ ہی کروں جو احمر نے کیا ۔۔مگر اس رات میں نے اسے سمجھایا کہ میں تمہارے ساتھ ایسا نہیں کرسکتا ۔۔۔مجھے ہاتھ جوڑ جوڑ کر اسے منانا پڑا ۔۔۔اور علی کے نکاح ہونے دے ۔۔۔اس کے لئے بھی ۔۔۔۔سزاتو عافیہ بيگم کی قدرت تجویز کر چکی تھی پھر ہم کیا سزا دیتے ۔۔۔”

“ہم نے وہ سزا دی ہے عافیہ کو جس سے بڑی سزا ایک گناہگار کے لئے کوئی ہو ہی نہیں سکتی”

“معافی”

“ہم نے اپنا بدلا اوپر والے پر چھوڑ دیا ہے بیشک وہ ناانصافی نہیں کرتا وہ بہترین چال چلنے والا ہے”

“مجھے گھن آرہی ہے خود سے حاشر کے میں عافیہ جیسی گھناؤنی عورت کی بیٹی ہوں”

اب حاشر آمنہ کا ہاتھ پکڑ ے بہت پیار سے کمرے میں لے کر گیا تھا

دونوں بیڈ پر بیٹھ گئے تھے

“آمنہ میں ذہنی مریض بن چکا ہوں چاہ کر بھی میں یہ سب ٹھیک نہیں کر سکتا تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا ۔۔۔

میں پل میں هنستا ہوں پھر اسی لمحے اتنا شدید غصہ آجاتا ہے جو میری آنکھوں تک کو لال کر دیتا ہے ۔۔۔میرا معصوم بچپن ۔۔۔۔میرے ماں باپ کی موت ۔۔۔۔مجھے پاگل کرنے لگتی ہے ۔ ۔۔۔ہو سکتا ہے میں کبھی یہ سوچ کر تم پر ظلم کروں کسی لمحے ۔۔ مگر وہ میرے بس میں نہیں ہے ۔۔ میں ایک بیمار ذہن کا مالک انسان ہوں ۔۔۔۔”

حاشر سر جھکاۓ ایک ربط میں بول رہا تھا

“حاشر اگر اس رات میرے ساتھ کچھ غلط نہیں ہوا تھا پھر مجھے نشان کیوں دکھائی دیے تھے ؟؟؟

“وہ زینب نے محظ تمہیں دیکھائے تھے وہ چاہتی تھی کہ تم واویلا کرو ۔۔۔اور بات عافیہ بيگم تک پہنچے ۔۔۔۔۔مگر تم نے اپنی عزت کو بچائے رکھا ۔۔۔بلکل جیسے زینب خود کو بچتاتی رہی ۔۔۔۔اس سے بھی وہ کچھ نرم ہوئی تھی ۔۔۔”

“آپکی بہن ؟؟؟”

“وہ آنٹی کی طرف ہے میرے ابو کی کزن ہیں زیادہ تر ادھر ہی رہتی ہے وہ خود سے کچھ نہیں کر سکتی وہ معذور ہوگئی تھی اس رات کے حادثے کے بعد “

حاشر اب منہ پر ہاتھ رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا

“حاشر آپ صبح ہی اسے یہاں لے آے میں اسے ماں بن کر پالوں گی میری ماں کے دیے گھاؤ کا مرهم میں بنوں گی ۔۔۔”

آمنہ نے حاشر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر خلوص سے کہا تھا اب وہ حاشر کے آنسو صاف کر رہی تھی ۔۔۔

“میں کھانا لاتا ہوں”

حاشر کہہ کر اٹھ رہا تھا جب آمنہ نے ہاتھ پکڑ کر واپس بٹھایا تھا

“حاشر ؟؟؟”

حاشر نے بنا کوئی جواب دیے فقط آمنہ کی آنکھوں میں دیکھا تھا

“آپ مجھ سے محبت نہیں کرتے؟؟ میں محظ انتقام ہوں ؟؟”

حاشر کچھ دیر آمنہ کو دیکھتا رہا پھر اٹھ کر باہر نکل گیا اور دس منٹ بعد کھانے کی ٹرے لئے اندر آیا تھا

آمنہ ہاتھ دھونے کے لئے اٹھ رہی تھی جب حاشر نے ہاتھ کے اشارے سے بیٹھا رہنے کو کہا تھا

اس نے پہلا نوالہ بنایا اور آمنہ کو کھلا دیا

“میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے آمنہ میرا نکاح کسی انتقام کا حصہ نہیں ۔۔’

اب وہ دوسرا نوالہ آمنہ کو دے رہا تھا

“بس جب وہ منظر یاد آتا ہے تو بہت غصہ آتا ہے خود پر قابو نہیں رہتا ۔۔۔”

اب وہ تیسرا نوالہ دے کر بولا تھا

“آپ خود بھی کھائیں”

آمنہ نے نوالہ چباتے ہوۓ نرمی سے کہا تھا

“آمنہ میں ہمیشہ تم سے محبت کروں گا بس تم مجھے کبھی اکیلا مت چھوڑنا”

وہ اب آمنہ کے لئے دوبارہ نوالہ بنا رہا تھا

“میں کل ہی یہ ساری دولت کسی ٹرسٹ کے نام کر دوں گا یہ اس کالے کھیل کی بدولت میرے باپ نے انجانے میں کمائی تھی آج تک رکھنے کا مقصد محظ عافیہ بيگم سے بدلہ لینا تھا جو اب پورا ہوگیا ہے بس میں اب حلال کی روٹی سے اپنی زندگی کا آغاز کرنا چاہتا ہوں میں جاب دیکھ چکا ہوں بس جوائن کرنا باقی ہے تب تک میرے باپ کے گھر میں رہیں گیں جو میرے دادا نے دیا تھا غربت کاٹ لوگی ؟؟”

وہ نوالہ آمنہ كی طرف بڑھا کر پوچھ رہا تھا جسے آمنہ نے ہاتھ سے پیچھے کیا تھا وہ ہاتھ دھو کر دوبار ہ بیٹھی تھی حاشر سے کھانے کی ٹرے لے کر نوالہ بنا کر حاشر کو دے کر خلوص سے بولنا شروع ہوئی تھی

“حاشر میں صرف عافیہ کی بیٹی نہیں ہوں میں نعیم کا خون بھی ہوں جو باضمیر انسان تھا مجھے آپ کے ساتھ سے مطلب ہے بس پھر آپ روڈ پر بھی رہیں میرے ساتھ تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔۔”

اب وہ دوسرا نوالہ بنا رہی تھی

وہ دونوں بنا آواز روتے ہوۓ گيلے گالوں سے ایک دوسرے کو کھانا کھلا رہے تھے ۔۔۔

آنسو موتیوں كی طرح دونوں کے چہروں پر چمک رہے تھے ۔۔۔پردہ ہوا سے ہل کر اڑا تھا جہاں زینب کھڑی ان کو دیکھ کر آسودگی سے مسکراتی ہوئی رو رہی تھی ۔۔۔مگر یہ آنسو غصے کے نہیں تھے یہ آنسو تو اس جائز رشتے کی محبت کے لئے تھے جو اسکی قسمت میں نہیں لکھی گئی تھی ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر احمد بجلی کی تیزی سے او۔ٹی میں داخل ہوۓ تھے جہاں باقی کے سرجن آرام سے بیٹھے باتیں کر رہے تھے

“مار دیا اُسے ؟؟؟؟”

ڈاکٹر احمد جھک کر اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ کر پھولتی سانسوں کے ساتھ دکھ سے بولے تھے

“کس کی بات کر رہے ہیں آپ ڈاکٹر ؟؟؟” تین سرجریز ہوئی ہیں آج یہاں ؟؟؟”

“وہ ہی پیشینٹ جو دس سال سے کومہ میں ہے”

جواب فوری دیا گیا تھا

“انکی سرجری کی ضرورت ہی نہیں پڑی وہ ہوش میں آچکے ہیں”

“Where is he???”

ان کو روم میں شفٹ کیا گیا ہے تھوڑی کمزوری ہے لمبے عرصے سے لیٹا رہنے کی وجہ سے چلنے میں دقت ہو رہی ہے کھڑے ہو لیتے ہیں کسی کے سہارے مگر چل نہیں پا رہے ۔۔آپ مل لے ان سے جا کر”

ڈاکٹر احمد روم نمبر پوچھ کر اب اس طرف تیزی سے جا رہے تھے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“علی ؟؟؟”

“اٹھو آج واپسی ہے ہماری دو بج گئے ہیں دن کے ۔۔۔۔گھر پہنچتے پہننچتے رات ہو جانی ہے”

علی عافیہ بيگم کی بات پر آنکھیں ملتا ہوا بیٹھ گیا تھا

“امی میں بہت اچھا خواب دیکھ رہا تھا آپ نے اٹھا دیا”

“کیا دیکھ لیا اب میرے بیٹے نے ؟؟”

عافیہ بيگم بہت پیار سے بولی تھیں

“امی میں نے دیکھا سونی اور ماهم سے میرا نکاح ہو جاتا ہے میں گھر لے کر جانے والا تھا آپ نے اٹھا دیا”

“چلو جی کرلو بات “

عافیہ بيگم نے علی کے سر پر ہلکی سی چپت رسید کی تھی

“یہ تو رات میں حقیقت میں ہوا ہے بیٹا آج گھر لے کر جایئں گیں ان دونوں کو تبھی تو اٹھانے آئی ہوں”

“ہیں؟؟؟؟”

اب علی بیڈ پر الٹی قلابازیاں لگا رہا تھا وہ بہت خوش تھا

“امی چلیں میں ریڈی ہوتا ہوں پھر آپ کی بہوؤں کو ان کے اصل ٹھکانے لگاتے ہیں”

علی گرمجوشی سے اچھل کر بولا تھا

“گل خان صبح کا آیا بیٹھا ہے تم سونی اور ماهم کے ساتھ اپنی گاڑی میں جانا باقی میں بچیوں کو لے کر گل خان کے ساتھ آجاؤں گی”

“اوکے موم”

“ہممممممم ۔۔۔۔

دھیرے دھیرے سے میری زندگی میں تم دونوں آنا ۔۔۔۔

اور پھر کبھی واپس نہ جانا ۔۔۔۔۔۔۔”

میں نہ سنو گا کوئی بھی بہانہ ۔۔۔۔

او جانے جانا ۔۔۔۔۔۔۔

علی قہقہ لگا کر کمر کھجاتا ہوا واش روم گھسا تھا

سب تیاری ہو چکی تھی اب سب گاڑی میں بیٹھ رہے تھے شام کے پانچ بج رہے تھے

“گل چاچا ہم نے شادی منا لیا ہے ۔۔۔وہ بھی دو دو بار۔۔۔۔ ہم کو مبارک باد دیں”

علی شرماتے ہوۓ گردن پر ہاتھ پھیر کر بولا تھا

“بہت بہت مبارک ہو بیٹا تم کو ۔۔ خدائے پاک ہمیشہ خوش رکھے “

گل خان نے علی کو گلے لگا کر محبت سے کہا تھا

عافیہ بيگم وہاں فورا پہنچی تھیں

“علی بیٹا اپنی خوشی اپنے قد میں بانٹنا سیکھو نوکروں کو اتنا سر پر نہیں چڑھاتے “

وہ علی کو اپنی طرف کھینچ کر بولی تھی

“امی خوشی کسی کے ساتھ بھی بانٹو وہ بڑھ جاتی ہے لہذا ہمیں اپنی سوچ بھی اپنے قد کے برابر کرنے کی ضرورت ہے”

وہ ماں کا ہاتھ جھٹک کر بولا تھا

گل خان کو عافیہ کی بیٹے کے ہاتھوں سبکی ہونے پر افسوس تھا مگر وہ جانتا تھا یہ تو محظ شروعات ہے۔۔۔

سونی اور ماهم اپنے والدین کے ساتھ باہر آئی تھیں اب وہ ان سے گلے مل کر رو رہی تھیں

“آنٹی انکل کوئی ضرورت نہیں ہے آپ کو ذرا سا بھی پریشان ہونے کی میں مرتا مر جاؤں گا مگر ان دونوں کو گرم ہوا تک نہیں لگنے دوں گا”

‘؟؟ “جانتا ہوں بیٹا تبھی اپنی دو دو لخت جگر تمہیں سونپ دے ہیں”

سونی کے والد علی کو گلے لگا کر تھپکی دے کر بولے تھے

عافیہ بيگم کو بلاوجہ سب کو دیکھ دیکھ کر غصہ آرہا تھا وہ برا سا منہ بنا کر دیکھ رہی تھیں

وہ بے دلی سے سونی کے والدین کو اللّه حافظ کہہ کر گاڑی میں جا بیٹھی تھیں

“سونی ماهم تم دونوں پیچھے بیٹھوگی آگے کوئی نہیں بیٹھے گا کیوں کہ میں نہیں چاہتا کہ آج پہلے دن ہی میں ناانصافی کر گزروں اور دونوں کے دلوں میں نفرت کا بیج بو دوں”

وہ پیچھے کا دروازہ کھول کر بولا تھا

وہ دونوں اپنے والدین کو خوشی اور فخر کے ملے جلے تاثرات لئے دیکھ کر مسکراکر بیٹھ گئی تھیں علی کو لینڈ کروزر میں پیٹرول بھی ڈالوانا تھا پھر گھر کا روٹ پکڑنا تھا اس میں اسے کافی وقت لگا تھا کیوں کہ پیٹرول پمپ دائیں ہاتھ کافی آگے جا کر تھا اور گھر کا راستہ فارم ہاؤس سے بائیں جانب تھا

رات کافی ہو چکی تھی سونی اور ماهم آپس میں بول بول کر تھک کر کمبل اوڑھ کر سو چکیں تھیں آج پھر کالی لمبی رات علی کی منتظر تھی ۔۔۔

باہر بارش شروع ہو چکی تھی ہر طرف روڈ کر گرد محظ جھاڑیاں تھیں تیز ہوا بارش کو گاڑی پر پھینک رہی تھی

اچانک گاڑی بند ہوئی تھی علی گاڑی سے اتر کر اب انجن چیک کر رہا تھا سب تسلی کرنے کے بعد وہ تیزی سے بارش کے قطرے خود سے جھاڑتے ہوۓ بیٹھا تھا گاڑی میں ہیٹر کی گرمائش نے علی کو پر سکون کیا تھا وہ سلف لگا کر آنکھیں بند کیے باڈی کا درجہ حرارت برابر کر رہا تھا جب سٹیرنگ پر اپنے ہاتھ پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا تھا

علی نے فورا آنکھیں کھولی تھیں

وہ کالے مکمل لباس پہنے بڑی سی کالی چادر لئے ایک نہایت خوبصورت لڑکی تھی

بارش کا پانی جگہ جگہ اس کے چہرے پر موجود تھا علی اس پر سے نظریں ہٹانے سے قاصر تھا وہ دونوں ایک دوسرے کو بنا پلک جهپکے دیکھ رہے تھے اور اب اس کے ہاتھ پر علی اپنا دوسرا ہاتھ بھی رکھ چکا تھا

وقت وہیں تھم گیا تھا کسی فلم کی طرح عافیہ کی شادی سے اب تک کی تمام کہانی علی زینب كی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔پوری کہانی ۔۔۔۔جس میں احمر اور عاصم کا سچ بھی تھا ۔۔۔اور نعیم کا پچتاوا بھی ۔۔۔

وہ لڑکی اب علی کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے آزاد کر کےگاڑی سےاتری تھی علی دیوانوں کی مانند اس کے پیچھے اتر کر بھاگا تھا وہ ویران راستوں سے ہوتی ہوئی اس تیزاب کی فیکٹری میں جا گھسی تھی گیٹ اس کے لئے خود ہی کھل گیا تھا جیسے اس کا منتظر ہو ۔۔۔۔علی بھی بھاگ کر اندر گیا تھا اب وہ اسی کمرے میں گئی تھی جہاں اس نے اپنی جان لی تھی ۔۔۔۔

یہ وہ ہی وقت تھا جب زینب نے اپنی حلال زندگی کو حرام موت مارا تھا وہ دن تھا اور آج کا دن تھا وہ اس مخصوص گھڑی میں اپنا وہ حرام فيل دوہراتی اور اسی اذیت سے اپنی جان دیتی ۔۔۔

وہ ڈرم سے تیزاب کا گلاس بھر چکی تھی اور اب وہ پینے کو تھی جب علی نے پھرتی سے وہ گلاس اس کے ہاتھ سے گرایا تھا وہ دوبارہ گلاس بھرنے بھاگی تھی مگر علی اسے کمرے سے کھینچ کر زبردستی باہر لے آیا ۔۔۔

وہ خاص گھڑی گزر چکی تھی آج زینب اس حرام فعل سے بچ گئی تھی ۔۔۔

(اس خاص لمحے میں زینب كی روح نعیم سے نکل کر یہاں آتی تھی وہ رات کو اس وقت سو رہا ہوتا تھا جب ایک بار وہ احمد کو آئی۔سی ۔یو میں رات کو دیکھ رہا تھا تب بھی زینب اس حرام فعل کے لئے اس کو آزاد چھوڑ کر یہاں آئی تھی تب وہ جاگ رہا تھا مگر اس سے پہلے کہ وہ احمد سے کوئی بات کرتا زینب ایک بار پھر خود کو مار کر نعیم میں گھس گئی تھی مگر آج علی نے اسے روک کر وہ وقت گزار دیا تھا جس کے دوران وہ نعیم کے اندر واپس جاتی تھی یہی وجہ تھی کہ آج نعیم کا جسم زینب کی روح سے آزاد ہو گیا تھا اور مکمل حواس میں آنے کے بعد زینب بنا اس کی رضا کے دوبارہ اس پر قابض نہیں ہو سکتی تھی ۔۔۔۔)

“علی”

“تم جانتے ہو میں نے تمہیں اور تمہاری بہنوں کو کیوں عافیہ کے گناہ کی سزا نہیں دی ؟؟؟”

علی بس حیرانگی سے اسے دیکھتا رہا

“کیوں کہ میں بھی تو گناہگار ہوں نہ میں نے اللّه کی دی ہوئی آزمائش پر صبر نہیں کیا اور اس کی نافرمانی میں اسکی دی ہوئی امانت میں خیانت کردی ۔۔۔۔”

“جب یہ سب میری تقدیر میں لکھ دیا گیا تھا اور لکھنے والی بھی وہ ذات جس کی محبت پر شک کرنا بذات خود ایک گناہ ہے ۔۔۔۔پھر مجھے اس کی دی ہوئی آزمائش پر ۔۔۔۔کم از کم اسکی ناراضگی کا سوچنا چاہیے تھا بیشک کوئی کتنا بھی بڑا گناہگار تھا میں تو بہرحال روز قیامت اپنے عمل کی خود ذمہ دار ہوں “

“تاریخ گوا ہے جو اللّه کے جتنے قریب رہا ہے اسے اتنی ہی کڑی آزمائش سے گزارا گیا ہے ۔۔۔۔پھر میں اسکے بنائے ایک انسان كی محبت میں اس کی محبت کو جھٹلانے بیٹھ گئی مجھے یہ ڈر کہ اب احمر مجھے اپنانے سے انكاری ہو گا ۔۔۔یہ ڈر اتنا بڑا سمجھ لیا میں نے کہ اس ذات سے ڈرنا بھول گیا جو مجھے اس حال میں بھی اپنی رحمت میں لے لیتا ۔۔۔تب میں نے اپنے ماں باپ اور احمر کو یاد کیا مدد مانگی مگر جو میرے شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب تھا میں نے اسے ایک بار بھی نہیں پکارا”

اب زینب بری طرح رو رہی تھی

“جب میں اپنے سب سے بڑے خیرخواہ کے ساتھ وفاداری نہیں نبھا سکی پھر ۔۔۔۔میں کسی اور كو بےوفائی کی کیا سزا دوں ؟؟؟؟”

“ظلم میں نے بھی تو کیا ہے نہ اپنے ساتھ اپنی آخرت برباد کر کے؟؟؟پھر عافیہ کے ظلم پر میں کیا سزا دوں اسے؟؟؟”

“تم نے آج مجھے اس فعل سے روک کر مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے میری طرف سے تم اپنی زندگی میں آزاد ہو”

“ہاں مگر ان لوگوں کا حق ہے کہ ان کو کفن دفن سے جنازہ پڑھا کر دفنایا جائے”

زینب نے ہاتھ سے فیکٹری کے خالی میدان کی طرف اشارہ کیا تھا جہاں کالے چولے پہنے لوگ موجود تھے جن کے چہرے پہچان کے قابل نہیں تھے وہ محظ بھونے ہوۓ گوشت کے مکمل وجود کے لتڑھے تھے وہ بنا آنکھوں کے علی کی طرف دیکھ رہے تھے۔

“میں وعدہ کرتا ہوں میں تمام تر حرام کی دولت جگہ جگہ بانٹ کر ان سب کے ایصال ثواب کا انتظام کروں گا اور غائیبانہ نماز جنازہ بھی ۔۔۔”

ان سے نظر ہٹا کر علی زینب کی طرف مڑا تھا مگر وہ جا چکی تھی ۔۔۔وہ سب لوگ بھی غائب ہو گئے تھے ۔۔۔

علی نے ایک دم خود کو اس اندھیرے میں اکیلا پایا تھا

کالی رات۔۔۔بارش ۔۔۔تیز ہوا ۔۔۔۔بڑی بڑی جھاڑیاں ۔۔۔فیکٹری کی کالی دیواریں ۔۔۔۔۔

وہ پسینے میں بھیگ گیا تھا اس نے بنا وقت ضائع کئیے گاڑی کی طرف دوڑنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔وہ جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ پر کھول کر بیٹھا تھا ۔۔۔کچھ وقت سانس بحال کرنے کے بعد اسے سونی اور ماهم کا خیال آیا تھا فوری طور پر پیچھے دیکھا جہاں وہ اسی پوزیشن میں پر سکون سو رہی تھیں جس میں وہ چھوڑ کر گیا تھا

اسے دونوں کی بے فکر نیند پر جی جان سے غصہ آیا تھا

“ان کا اکلوتا نیا نویلا شوہر چاہے آج ڈر ڈر کر ادھر بیہوش ہو جاتا مگر ان دونوں ہڈحراموں کو یہ پتہ تک نہیں چلا کہ میں کب سے غائب ہوں”

علی کو غصے کے ساتھ رونا بھی آیا تھا

“دل تو کر رہا ہے نیچے اتار دوں دونوں کو ادھر ہی”

پھر خود پر کنٹرول کرتے ہوۓ اس نے دونوں پر باری باری دونوں ہاتھوں سے پنجا بنایا تھا جس سے علی کو ٹھنڈ پڑتی محسوس ہوئی تھی

“ویسے علی بنتا تو آج تم پر بھی ہے جو کوئی اہمیت ہی نہیں ملی شادی کی پہلی رات وہ بھی دو دو بیویوں سے”

علی نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوۓ سوچا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر احمد پیشنٹ احمر بہت تنگ کر رہے ہیں آپ زرا ان کو دیکھ لیں

نرس احمد کے پاس آکر بولی تھی جو کوئی کام کر رہے تھے ۔۔۔

“اچھا دس منٹ تک آتا ہوں”

احمر درد سے کراہ رہا تھا جب زینب اس کے پاس آئی تھی

“زینب ؟؟؟؟”

“مجھے معاف کردو میرا خدا جانتا ہے میں بہت مجبور تھا اس وقت ۔۔”

“میں پل پل مرا ہوں آج تک اس پچھتاوے میں۔۔۔میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں زینب”

زینب سپاٹ چہرہ لئے اسے دیکھ رہی تھی

“اپنی منکوحہ اپنی عزت کو کسی کے حوالے کرنا آسان نہیں تھا میرے لئے بھی زینب۔۔۔عزت میری تماشا بنی تھی ۔۔۔۔تمہیں خدا رسول کا نام لے کر میں نے اپنی زندگی میں شامل کیا تھا”

“مجھے معاف کردو مجھے کچھ نہیں چاہیے اس دنیا سے مجھے بس تمہارا ساتھ چاہیے”

احمر بری طرح گڑ گڑا کر رو رہا تھا

“زینب اللّه بھی معاف کر دیتا ہے نہ جب انسان توبہ کرتا ہے غلطی ہو گئی نہ مجھ سے میں کیا کروں کدھر جاؤں ؟؟؟؟؟؟؟؟”

وہ اونچی اونچی درد سے بھری آوازیں نکال رہا تھا

“اللّه ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟”

“غلطی ہو گئی مجھ سے . ۔۔۔۔اللّه ؟؟؟؟؟؟ معاف کر دے مجھے اللّه ؟؟؟؟؟”

پورے ہسپتال میں احمر کا احساس گناہ گونج رہا تھا

“احمر پہلی اور آخری فرمائش کی تھی آپ سے ۔۔۔افسوس آپ نے وہ بھی رد کردی ۔۔۔کس کس بات پر میں آپکو معاف کروں ؟؟؟؟؟”

“کونسی ؟؟؟؟؟؟؟”

“زینب زوجہ احمر علی “

میں اپنی قبر پر یہ تختی چاہتی تهی ۔۔۔۔

اب وہ احمر کا ہاتھ پکڑے رو رہی تهی

“احمر میں نے بہت کوشش کی آپ سے نفرت کرنے كی مگر میرا دل نہیں مانتا ۔۔۔”

“میں نے دل سے کبھی آپ کا برا نہیں چاہا ۔۔۔۔بس دکھ ہوا تھا مجھے اپنی محبت کی توہین پر ۔۔۔۔”

احمر سنا ہے جنت میں شوہر کا ساتھ ملتا ہے ۔۔۔

اب وہ احمر کا ہاتھ چہرے سے لگاۓ چیخ چیخ کر روئی تھی ۔۔۔

“افسوس میں نے خود پر وہ بھی حرام کر دی”

“مجھے وہاں بھی آپ کا ساتھ نہیں ملے گا”

اس بات پر زینب اپنا سینہ پیٹ رہی تھی

“میں آپ کو معاف کرتی ہوں کہ شاید میرا رب مجھے معاف کر دے”

ڈاکٹر احمد وارڈ میں آئے تھے وہاں مکمل سکوت تھا وہ احمر کے پاس جا کر کھڑے ہوۓ تھے

“اناللہ وانا الیہ راجعون “

ڈاکٹر احمد نے احمر کی کھلی آنکھیں بند کرتے ہوۓ کہا تھا

زینب اپنی محبت کو اپنے ہمرا لے جا چکی تهی ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علی نے اپنا وعدہ پورا کیا تھا وہ سب بیچ کر گاؤں والے گھر آچکا تھا عافیہ لاکھ منع کرتی رہی مگر اس کے لئے اب کسی بھی رشتے میں رحم اور احساس باقی نہیں رہا تھا گھر میں ہر بندہ اس کی ہر ضرورت پوری کرتا اس سے عزت سے بات کرتا مگر کوئی بھی دل سے اسے پسند نہیں کرتا تھا وہ اپنی ہی اولاد سے پورا پورا دن معافی مانگتی روتی رہتی ۔۔۔وہ ہر وقت پاگلوں کی طرح یہاں وہاں بھٹکتی رہتی اسے کسی لمحے سکون نہیں ملتا تھا ۔۔۔علی بہت کم ان سے بات کرتا زیادہ تر اس کے پاس آکر خاموش بیٹھا رہتا وہ اسے سامنے ہوتے ہوۓ بھی حسرت سے دیکھتی رہتی ۔۔۔

نعیم کے آنے کے بعد رہی سہی عزت بھی ختم ہو گئی تھی اس کے بچوں كی نظر میں اپنی ماں کی ۔۔۔۔(پہلے زینب نے ڈاکٹر احمد کو نعیم کی طرف مائل کرنے کے لیے سی۔ٹی سکین میں وہ ٹیومر شو کیا تھا تا کہ اس کی بات احمد تک پہنچ سکے ۔۔۔۔اور وہ اسے بے موت مرنے سے بچا سکے کیوں کہ جب سے علی کو رات ڈیرے پر وہ سب نظر آیا تھا اور فاطمہ پر زینب قابض ہوئی تھی عافیہ بيگم نے نعیم کو مارنے کی منصوبہ بندی تیار کر لی تھی وہ ہسپتال کے مالک سے مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش میں تھی مگر نمبر بند آرہا تھا ۔۔۔وہ نعیم کو مار کر زینب کو آزاد چھوڑ کر کسی حکمت عملی سے باز رکھ رہی تھی اور وہ اسی دوران علی اور آمنہ کی شادی کر دینا چاہتی تهی تا کہ زینب مزید کمزور ہو جائے وہ جانتی تھی اسکا بدلہ عافیہ کے بچوں سے تھا کسی کی بیوی یا شوہر سے نہیں ۔۔۔اور نکاح ھو جانے سے علی اور آمنہ دونوں کا سٹیٹس بدل جاتا ۔۔رہی بات ملکہ ،ثوبیہ اور فاطمہ کے تو وہ بھی زینب کے ہم عمر نہیں ہوئی تھیں)

نعیم نے اسے آتے ہی اپنے رشتے سے آزاد کیا تھا مگر بچوں کو خاص ہدایت دی تھی کہ اس کے ماں ہونے کا لحاظ رکھا جائے ۔۔۔

نعیم نے اپنی حلال کی سیونگز سے اپنے مکان کی مرمت کروا کہ اسے بہت اچھی شکل دے دی تھی سب بدل دیا تھا سواۓ اس چولہے والی جگہ کے جہاں وہ اپنی ماں کے ساتھ صبح اٹھ کر چاۓ پیتا تھا وہ روز صبح وہاں بیٹھ کر اپنی ماں کو وہاں محسوس کرتا اور دو کپ لئے چاۓ پیتا ۔۔۔۔

عافیہ پورا دن پورے گاؤں میں پھرتی رہتی ۔۔۔اپنے سب بچوں کے نام لیتی اور لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر انکا پتہ مانگتی ۔۔۔۔۔

“میرا علی نہیں مل رہا کوئی مجھے اس کے پاس لے جاؤ ۔۔۔۔میں نے بہت سے لوگوں کو مار کر اس کے لئے اتنی زیادہ دولت جمع کردی ہے ۔۔۔ “

اس کا حلیہ اور شکل عجیب سے بهیانک ہو چکی تھی لوگ خوفزد ہو کر بھاگ جاتے ۔۔۔وہ بچوں کے پاس سے گزرتی تو وہ ڈر کر پتھر اٹھا کر اس کے سر پر دے مارتے ۔۔۔

وہ اپنا خون چاٹنے لگ جاتی ۔۔۔کبھی قبرستان جا کر بیٹھی رہتی اور چپ چاپ پورا دن گزار دیتی ۔۔۔اب وہ اکثر علی کےڈیرے پر جانوروں کی غلاظت خود پر ملنے لگتی ۔۔۔

علی شام كو تھکا ہارا ماں کو جگہ جگہ سے ڈھونڈ کر گھر لاتا یا کبھی کوئی جاننے والا گھر چھوڑ جاتا ۔۔۔آخر تنگ آکر گھر کے صحن میں موجود درخت سے اسے لوہے کی زنجیر سے باندھ دیا گیا ۔۔۔وہ مٹی کو اپنے سر میں ڈال ڈال کر خوش ہوتی رہتی ۔۔۔ثوبیہ اور ماهم اس کو نہلاتی دھلاتی مگر اس کے چہرے پر آئی نحوست اسے گندہ اور پلید ہی دکھاتی ۔۔۔اب آہستہ آہستہ آہنی زنجیر پاؤں میں زخم بنا رہی تھی وہ پورا دن درد سے کراہتی رہتی ۔۔۔۔

نعیم کی حلال کی کمائی اتنی ضرور تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو شادی کے بعد پاکستان میں ہی ہنی مون پر بھیج سکے ۔۔

“یار تم دونوں کب سے آپس میں ہی ساری تصویریں بنا رہی ہو میرے ساتھ تو ایک بھی نہیں بنائی ابھی تک “

علی نے مصنوعی ناراضگی سے کہا تھا

“بس علی ایک اس پوز میں بھی بنا دیں ہماری پھر آپ کے ساتھ ہی بنائیں گیں باقی کی تصویریں۔۔۔”

دونوں میں سے ایک بولی تھی

یار اتر جاؤ اس پتھر سے گر جاؤ گی تم دونوں ۔۔۔

ان تصویروں کو دیکھ کر تو لوگ یہ ہی سمجھیں گیں تم دونوں اکیلے ہی ہنی مون پر گئی تھیں یہ رہا کیمرہ میں روم میں جا رہا ہوں ۔۔۔

کیا فائدہ ہوا دو دو بیویوں کا ۔۔۔۔

سوچا تھا میری توجہ کے لئے بےقرار ہو کر مجھ پر لڑیں گی ہر وقت۔۔۔۔ مگر یہاں تو میری ضرورت ہی نہیں ہے دونوں کو۔۔۔

سوتنوں والی تو بات ہی نہیں ہنہہ ۔۔۔۔۔۔

لگتا ہے مجھے اسلامی احکامات پر عمل کرتے ہوۓ تیسری شادی کرنی پڑے گی ۔۔

علی نے دونوں کو اب ساتھ میں سیلفی بناتے دیکھ کر جل کر کہا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو سال بعد ۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر احمد ابھی ابھی گھر پہنچے تھے پورا گھر آج پھر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔

“یا اللّه خیر ۔۔۔۔۔اب کیا کر دیا میں نے ؟؟؟”

“غلطی میری ہے جو روز روز ذلیل ہونے گھر آجاتا ہوں”

وہ بے دلی سے اندر گئے تھے جہاں زینب بھاگ کر باپ کے گلے لگی تھی ۔۔۔

“میری گڑیا ۔۔۔آپ کی ہٹلر ماما کدھر ہیں؟؟؟”

“زینب بیٹا میرے پاس آئیں”

وہ اسے کمرے میں کھیلونوں کے پاس بیٹھا کر واپس آئی تھی ۔۔۔۔

“کب سے فون کر رہی تھی میں اٹھایا کیوں نہیں”

“بزی تھا یار روز روز ایک بات نہ پوچھا کرو ۔۔۔”

اب سارہ کوئی اور بات ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔

“تم سوچو میں تب تک فریش ہو کر آتا ہوں “

ڈاکٹر احمد سارہ کے سر پر پیار دے کر کمرے میں گیا تھا ۔۔۔۔۔۔

مطلب کچھ نہیں تھا بدلہ صحت مند اولاد کے بعد بھی ۔۔۔

کچھ رشتے نوک جوک میں ہی اپنی خوبصورتی قائم رکھتے ہیں ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاطمہ کی ڈھولکی تھی ۔۔

شکورن کا صحن رنگ رنگ کے لوگوں سے بھرا ہوا تھا “ابو یہ زینب کو پکڑیں میں ذرا علی کو دیکھ لوں”

سونی نعیم کی گود میں اپنی دو سالہ زینب کو بیٹھا کر بولی تھی

“آجاؤ میلا بچہ”

نعیم نے زینب کو گال پر پیار کر تے ہوۓ کہا تھا

“ابو یہ سعدی کو پکڑیں میں علی کو دیکھ کر آتی ہوں”

اب ماهم اپنے دو سالہ بیٹے کو پکڑا کر گئی تھی

نعیم نے دونوں پوتا، پوتی کو خوشی سے پکڑلیا تھا

“ملکہ جو گودام میں کسی کام سے آئی تهی علی کو دیکھ کر چونک کر بولی تھی

“بھائی دونوں بھابھیاں آپ كو ڈھونڈ رہی ہیں اور آپ یہاں سو رہے ہیں وہ بھی اتنی تنگ جگہ میں “

“یار بتا تو نہیں دیا ان کو کہ میں یہاں ہوں ؟؟”

“نہیں مگر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟؟؟؟”

” ابھی ابھی ثوبیہ اپنے میاں کے ساتھ پہنچی ہے وہ اور میرے میاں بھی آپ کا پوچھ رہے تھے”

“یار میں صدیوں نہیں سویا بہت نیند آئی ہے کسی کو کچھ مت بتانا میں بہت سارا سونا چاہتا ہوں سارا دن ڈیرے پر بھینسوں کے ساتھ خجل ہوتا ہوں اور گھر آؤں تو دونوں آپس میں ایک ہو جاتی ہیں مجھ غریب کے لیے ۔۔۔ساری رات دونوں کو منانے میں گزرتی ہے ۔۔۔”

“ایسا لگتا ہے میں سوتن ہوں انکی ۔۔۔۔کیا خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں وہ جن کی بیویاں پورا پورا دن لڑتی ہیں رونق لگی رہتی ہے مگر یہاں ۔۔۔۔۔میری حسرت ہی رہ گئی ہے کہ ۔۔۔۔یہ آپس میں لڑ مر جائے اور میں سکون سے سوتا رہوں۔۔۔”

“بھائی ذرا رضائی سے منہ باہر نکال لیں ۔۔۔”

“نہیں جاؤ مجھے سونے دو اور میری دو رقیبوں کو مت بتانا”

سونی اور ماهم نے علی پر سے رضائی اٹھا کر اپنے غصے سے لال ہوتے چہرے دیکھائے تھے ۔۔۔

اب دونوں پیر پٹختی جا چکی تھیں

“آپ سب جو میری دو دو شادیوں کے لئے خوش تھے نہ ۔۔۔آپ سے یہی کہوں گا اب آپ سے کیا چھپانا

“قسم سے کتا بن کر رہ گیا ہوں بلکہ وہ بھی مجھ سے بہتر ہے کم از کم منتیں تو نہیں کرتا میری طرح “

علی اب بے دلی سے کمرے سے باہر نکلا تھا ۔۔۔۔

“آپ لوگ مجھے سینڈویچ بھی کہ سکتے ہیں “