506.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khof Episode 4

ڈاکٹر احمد گھر میں داخل ہوۓ تو پورا گھر تاريكی میں ڈوبا ہوا تھا گارڈ نے گیٹ کھولا ۔۔

گھر میں لائٹ نہیں ہے ؟؟؟ گاڑی سے اترتے ہوۓ گارڈ سے پوچھا ۔۔۔۔

لائٹ ہے ڈاکٹر جی ۔۔۔۔وہ بيگم صاحبہ ۔۔۔۔۔

جی ٹھیک ہے آپ گیٹ بند کر دیں اور سو جائیں جا کر ٹھنڈ زیادہ ہوگئی ہے آج بارش کی وجہ سے ڈاکٹر احمد نے بظاہر پرسکون انداز میں کہا اور اندر چلے گئے ۔۔۔

ڈاکٹر احمد کا دماغ درد کرنے لگا تھا وہ ایک اور جھگڑا وہ بھی ایک دن کے بعد ۔۔۔۔۔سارہ نے جب بھی جھگڑا کرنا ہوتا تھا وہ لائٹس بند کر پہلے سے احمد کو سگنل دیتی تھی ۔۔۔۔

ڈاکٹر احمد لاونچ میں ہی دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ پکڑ کر بیٹھ گئے ۔۔۔اف الله ۔۔۔۔۔

ایک دم پورا جسم تھکاوٹ سے چور محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔

یا اللّه کیا کروں؟؟ کہاں جاؤں ؟؟

اپنا ہی گھر بیگانہ لگتا ہے مجھے ۔۔۔۔

رات کے دس بج رہے تھے بارش تھم چکی تھی ٹھنڈی ہوا نے خنکی بڑھا دی تھی ۔۔۔۔ڈاکٹر احمد کپڑے تبدیل کر کے پرسکون نیند سونا چاھتے تھے مگر اپنے کمرے میں جانا شیر کی کچھار میں جانے کے مترادف تھا ۔۔۔۔۔۔

کیسے سمجھاؤں سارہ کو ۔۔۔۔۔

احمد ۔۔۔۔۔آواز کچن سے آئی تھی سارہ وہاں تھی ۔۔۔

احمد نے محض ہوں کہنے پر اکتفا کیا ۔۔۔۔

آپ روم میں جا کر سو جائیں ۔۔۔

احمد بنا کچھ کہے اپنا بیگ لئے اپنے بیڈروم کی طرف چلے گئے ۔۔۔

وہ چینج کر کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر لیٹ گئے ۔۔۔

سارہ خاموشی سے ساتھ آکر لیٹ گئی ۔۔۔

احمد ۔۔۔۔

آپ بہت کامیاب ڈاکٹر ہیں آپ ایک مکمل گھر مکمل زندگی اور ایک مکمل عورت کا ساتھ ڈیزرو کرتے ہیں ۔۔۔

تم مکمل عورت ہو سارہ ۔۔

تم بھول رہی ہو صرف میرے ساتھ نے تمہیں ادھورا کر رکھا ہے ۔۔۔احمد نے تھکے تھکے لہجے میں کہا

احمد میں تھک گئی ہوں آپ سے بلا وجہ لڑ لڑ کر ۔۔۔

مت لڑا کرو نا احمد نے سارہ کی طرف كروٹ لیتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔۔

احمد میں اکثر بلاوجہ آپ سے لڑتی ہوں مجھے خود بھی احساس ہے اس بات کا ۔۔۔۔

احمد آپ مجھ سے تنگ ہیں میں یہ بھی جانتی ہوں پھر آپ مجھے چھوڑتے کیوں نہیں ہیں ؟؟؟؟

سارا تم میرے ماموں کی بیٹی ہو میرے مرحوم ماموں کی بیٹی ۔۔۔۔۔

میں تمہیں کیسے چھوڑ سکتا ہوں ؟؟؟؟؟؟

کون سمبھالے گا تمہیں ؟؟؟؟

اور تمہارا قصور کیا ہے ؟؟؟

اولاد تو مرد کا نصیب ہوتی ہے نہ ؟؟؟

تم ہی کہا کرتی تھی پھر سزا تمہیں کیوں دوں ؟؟؟

تم کیوں فرشتہ بننا چاہتی ہو مجھے ظالم مرد ثابت کر کے؟؟؟

مت مشورہ دیا کرو مجھے خدا کے لئے ۔۔۔۔

میں خودخوشی کر لونگا مگر تمھیں چھوڑ نہیں سکتا ۔۔۔۔بس تم مجھے بزدل مرد سمجھ لو ۔۔۔۔

احمد دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گیا ۔۔۔

احمد آپ کا دل نہیں کرتا آپ کو کوئی پاپا کہنے والا ہو ۔۔۔۔بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا گیا ۔۔۔

احمد اٹھ کر بیٹھ گیا لائٹ بھی ان کردی ۔۔۔

مجھے لگا آج رحم آگیا ہے مجھ پر لڑنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے تم نے مگر نہیں تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی نہیں بدلو گی ۔۔۔

چلو لڑو ۔۔۔۔

احمد ہمارے بچے ہوتے تو آج ابھی ہم یوں بچوں کی طرح لڑ نہ رہے ہوتے ۔۔۔۔

تو جب اللّه نے نہیں لکھے میری قسمت میں بچے تو کیا کر سکتا ہوں میں اس رب کے اگے بتاؤمجھے ؟؟؟؟؟ کہاں سے لاؤں بچے ؟؟؟کس کا سر پھاڑ نا ہے بتاؤ مجھے ؟؟

ہاں کرتا ہے دل بہت خیال آتے ہیں مگر۔۔۔۔ اگر میں خوش ہوں اللّه کی تقسیم پر تو تم کیوں مجھے خوش نہیں دیکھ سکتی ؟؟؟

یوں روز روز ایک ہی بات دوہراتی ہو ؟؟؟

آخر چاہتی کیا ہو مجھ سے ؟؟

یار خدا رسول کا واسطہ ہے مجھے الله کی رضا سے ہی موت آنے کا انتظار کرنے دو مجھے حرام موت مرنے پر مجبور مت کرو ۔۔۔ میرے دل کو مرے عرصہ بیت گیا ہے میرا دماغ بھی پھٹ جائے گا بہت جلد تمہاری ان روز روز کی بےتكی تکراروں سے ۔۔۔۔

مگر میں خوش نہیں ہوں مجھے بچے چاہیے وہ بھی ڈھیر سارے ۔۔۔۔۔سارہ کسی ٹرانس میں بولی ۔۔۔۔

چلو جی ۔۔۔۔مطلب تم کسی اور سے شادی کرنا چاہتی ہو ؟؟ اور وہ بھی بچوں کا ڈھیر لگانے کے لئے ؟؟؟

نہیں ۔۔۔۔

سارہ کی آواز بہت مدهم تھی خلاف توقع ۔۔۔۔۔

احمد ۔۔۔۔۔

ہاں جی کیا تکليف ہے ؟؟؟ احمد نے تنک کر پوچھا

آپ دوسری شادی کر لیں ۔۔

کسی کنویں سے سارہ کی آواز آئی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علی جیسے ہی برآمدے میں پہنچا بارش سٹارٹ ہو گئی ۔۔۔برآمدے میں اندھیرا تھا باہر بارش آہستہ آہستہ زور پکڑ رہی تھی ۔۔۔۔

پلر کے پیچھے ایک عورت کی لمبی چوٹی صاف دیکھی جا سکتی تھی ۔۔۔۔

کون ہو تم ؟؟کیا چاہتی ہو مجھ سے ؟؟یہ سب کرنے کی وجہ ؟؟ علی جواب کا منتظر اس کی کمر کو دیکھتا رہا ۔۔۔۔میں نے پوچھا ہے تم سے کچھ ۔۔۔۔

جواب میں بہت حسین قہقہ لگایا گیا ۔۔۔سارے سوال جواب آج ہی کر لوگے تو باقی ملاقاتوں کا مزہ نہیں آے گا علی ۔۔۔۔

علی آج کے لیے بس اتنا جان لو کے وہ لوگ چاھتے ہیں کے تم مجھے اپنا لوکون لوگ ؟؟؟

اور تم کون ہو اور تمہیں اپنا کر میں کیا کروں گا مطلب تم انسان نہیں لگتی مجھے ۔۔۔۔

تم انسان ہو ؟؟؟

ایک دلنشیں قہقہہ ۔۔۔۔

تو تم انسان خود کو کیا واقعی انسان سمجھتے ہو ؟؟

واہ ۔۔۔۔اگر یہ غلط فہمی ہے تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔

اگر تم واقعی انسان کے بچے ہوتے تو آج یہ لوگ یو خارش نہ کر رہے ہوتے ۔۔۔

علی نے اس کے ہاتھ کے اشارے کی طرف دیکھا تو اس رات والے لوگ بری طرح اپنے جسم کو کھرچ رہے تھے ۔۔۔

تم کون ہو اور ۔۔۔۔۔

اور یہ لوگ کون ہیں مطلب میرا کیا تعلق ہے اس سب سے ؟؟؟

ابھی بارش تھم رہی ہے گھر جاؤ اور یاد رکھنا صرف انسان جیسے دکھنے والوں کے گھر پیدا ہو جانا ہی انسان کہلوانے کے لئے کافی نہیں ہوتا ۔۔۔

علی ۔۔۔۔۔فرقان بارش میں بھیگتا ہوا خود کو صاف کرتا ہوا اندر داخل ہوا ۔۔۔

تمہیں بھی ابھی آنا تھا فرقان ۔۔ علی نے جھنجلاتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔

دیکھو علی تمہارا اس بھینس کے ساتھ جو بھی سین ہے مجھے صاف صاف بتا دے ۔۔۔

فرقان جانوروں کے ساتھ رہ رہ کر تم جانور ہی بن رہے ہو ۔۔۔حد ہے یار ۔۔۔چلو گھر چلتے ہیں اس سے پہلے کے بارش تیز ہو ۔۔۔

علی بھاگتے ہوۓ بائیک سٹارٹ کرنے لگا ۔۔۔

فرقان کو اپنی بات پر شر مندگی محسوس ہوئی مگر برآمدے میں بھینس کو دیکھ کر ایک بار پھر اپنی بات میں دم محسوس ہوا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارش بہت تیز تھی حاشر کو گاڑی کی سپیڈ بہت کم رکھنے پڑی ۔۔۔

آمنہ آپ مجھ سے بات کریں میں خاموش نہیں رہ سکتا ۔۔۔اٹس مائی پرابلم ۔۔۔۔۔

حاشر ۔۔۔آپ پلیز جلدی سے مجھے گھر چھوڑ دیں میں بہت پریشان ہوں ۔۔۔آمنہ نے جواب دیا

میڈم وہ ہی کر رہا ہوں ۔۔۔ویسے آپ پریشان کیوں ہیں ؟

مے آئ نو ؟

امی غصے ہونگی آپ کے ساتھ یو اکیلے آنے پر وہ بھی رات کے اس پہر ۔۔۔۔۔

یار کم ان ۔۔۔۔۔

میں سمجھا دونگا انٹی کو ۔۔۔۔۔

ٹھنڈ ۔۔۔۔۔آمنہ نے منہ میں ہی کہا

جی کیا کہا آپ نے ؟

کچھ نہیں ۔۔ آمنہ بولی ۔۔۔

حاشر نے اپنی لیدر کی جیکٹ آمنہ کی طرف کردی ۔۔۔

یہ پہن لیں ۔۔۔

آمنہ نے سہو لت سے انکار کر دیا ۔۔۔

حاشر نے آمنہ کی ساتھ والی سیٹ پر جیکٹ رکھ دی ۔۔۔

آمنہ آنکھیں بند کر کے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کر لیٹ گئی ۔۔۔۔

باہر بارش کا شور کانوں کے پردے پھاڑ رہا تھا حاشر بہت احتیاط سے گاڑی چلانے میں مصروف تھا ۔۔۔۔

آمنہ نے آنکھیں کھولی تو کار میں گهپ اندھیرا تھا باہر بارش تھم چکی تھی ۔۔۔

حاشر لائٹ ان کرو میرا دل گهبرا رہا ہے ۔۔۔

کوئی جواب نہ آیا مگر لائٹ ان ہوگئی ۔۔۔

آمنہ نے دیکھا ڈرائیونگ سیٹ پر حاشر نہیں تھا بلکے وہ ہی گوركن تھا ۔۔۔

آمنہ چلائی ککککوکو کون ہو تم ؟

اس نے آمنہ کی طرف منہ کیا اس سے پہلے کے وہ اسکا چہرہ دیکھتی اپنی ہی چیخ سے آمنہ کی آنکھ کھل گئی ۔۔۔

حاشر نے گھبرا کر تیزی سے گاڑی کو بریک لگائی گاڑی ایکسیڈنٹ سے بال بال بچی ۔۔۔گاڑی کی فرنٹ لائٹس آن تھیں اور جس بورڈ پر لائٹ پڑ رہی تھی وہاں یہ عبارت لکھی تھی ۔۔۔

“ہمارے ہاں کفن دستیاب ہیں “