Khof by Jameela Nawab Readelle 50362 Khof Episode 15
Rate this Novel
Khof Episode 15
ہر گزرتا دن نعیم کی دولت میں اضافہ لا رہا تھا سیٹھ جبران کی طرف سے خاص ہدایت تھی کہ پیسہ مختلف بنکوں میں مختلف ناموں پر جمع کروایا جائے ۔۔
نعیم کو بہت حد تک اس دھن کے کالے ہونے کا اندازہ ہو چکا تھا مگر اب لہو منہ لگ گیا تھا اب اس کے بغیر گزارا نہ ممکن تھا
ماں کے ساتھ ساتھ ماں کی تربیت بھی مٹی ہوئی تھی
نعیم کو دولت کے انبار مزہ دینے لگے تھے وہ دن رات ایک کیے رکھتا اپنا شکار ڈھونڈنے میں ۔۔۔
طریقہ واردات اتنا پیچیدہ تھا کہ عام سادہ روزگار سےپریشان انسان کو سمجھنے کا موقع تک نہ ملتا اور وہ لقمہ اجل بن جاتا ۔۔۔۔
نعیم کے خیال میں انکی ایجنسی لوگوں کو غیرقانونی طریقے سے ملک سے باہر بھیجتی تھی اور وہاں موجود کمپنیز کو کنٹریکٹ بیس پر سستا لیبر فراہم کر کے بھاری رقم لینے کی وجہ سے ان کو بڑی بڑی رقم تنخوا کے طور پر دی جاتی تھی
وقت گزرتا گیا اب ثوبیہ اور ملکہ کی پیدایش بھی ہو چکی تھی
نعیم نے کسی مشین کی طرح اس عرصے میں نوٹ چھاپے تھے ۔۔۔اب پیسے بنکوں سے بھی باہر نکل رہے تھے لہذا سیٹھ جبران نے اب سویز بنک میں کالا دھن سنبھالنے کا راستہ دیکھایا تھا ۔۔۔۔
آج پھر تنویر عافیہ اور نعیم کے پاس آیا تھا
“میں مزید اپنے ضمیر کی آواز نہیں مار سکتا نعیم میں بہت پریشان ہوں “
“کیا مطلب ہے ؟؟”
نعیم نے حیرانگی سے پوچھا تھا
“تم نہیں جانتے ہم کس مصیبت میں پھنسے ہوۓ ہیں پچھلے پانچ چھ سال سے؟؟”
تنویر نے اپنا منہ نوچتے ہوۓ اٹھ کر دوبارہ بیٹھتے ہوۓ کہا تھا
“ہاں مگر یہ بات ایسی بھی ناقابل اعتراض نہیں میرے حساب سے”
نعیم نے اپنی پریشانی کو غلط کرتے ہوۓ کہا تھا
“نعیم ہم قاتل ہیں قاتل ۔۔۔۔۔۔۔”
معصوم روزگار کے لئے پریشان حال افراد کو مار کر انکی لاشوں کو بیچ کر بنک بھرنا ناقابل معافی جرم ہے نعیم دنیا کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنی آخرت بھی داوُ پر لگا دی ہے ۔۔۔”
اب تنویر باقاعدہ رورہا تھا
“کبھی سوچا ہے تم نے یہ جو لوگ ہم اتنے عرصہ سے باہر بھیج رہے ہیں یہ کبھی اپنی منزل پر پہنچے بھی ہیں ؟؟؟”
“کیا مطلب یہ کہاں جا رہے ہیں ؟؟؟”
نعیم نے پسینے کی آتی بوندوں کو صاف کرتے ہوۓ کہا تھا
“سیٹھ جبران انسانی اعضاء کی سمگلینگ کا کام کرتا ہے نعیم”
“وہ تمام جوان لڑکے لڑکیاں جو اپنی زندگی بدلنے کا خواب لےکر ہماری ایجنسی سے رابطہ کرتی ہیں انکو کوئی بھی ڈیٹیل نہیں دی جاتی جب تک وہ رضامندی کا اظہار نہیں کر دیتےاس کے ساتھ ہی انکو خاص تاکید کی جاتی ہے کہ وہ کوئی بھی بات اس حوالے سے کسی سے بھی نہیں کرے گے کیوں کہ ان کم پیسوں میں بھیجنے کے لئےجو غیر قانونی راستہ اپنایا جانا ہے وہ انکی شیئرنگ کی وجہ سے ان کے لئے بھی مسئلہ بن سکتا ہے ۔۔۔۔”
زیادہ تر جو لوگ اس طرح کی ایجنسی کے پاس اس مقصد کے لئے آتے ہیں۔۔۔۔ ان کے پاس اس سے دوسری آپشن خود کشی ہوتی ہے”
ان کو ہوٹل میں سب سے پہلے اس جھانسے میں ٹھرایا جاتا ہے کہ یہاں سے سیدھا ایئر پورٹ لے کر جایا جائے گا مگر وہ ہوٹل ہی انکی آخری آرام گاہ بنا دی جاتی ہے”
“وہاں انکو نشہ آور کھانا کھلا کر ہوش کی دنیا سےبیگانہ کر دیا جاتا ہے پھر وہاں سے کچھ فاصلے پر موجود جگہ پر لے جا کر ان کے جسم کے تمام کارآمد اعضاء کو نکال کر خاص حفاظت میں یہاں سے باہر بھیج دیا جاتا ہے”
“پھر ؟؟؟؟”
ان کی لاش کو کیا کرتے ہیں ؟؟؟”
نعیم نے تیزدھڑکن کو سمبھالتے ہوۓ مشکل سے کہا تھا
“اسکو تیزاب ڈال کر مسخ کر دیا جاتا ہے”
تنویر چیخ چیخ کر رونے لگے تھا
“میں نے ظالموں کو بہت کہا دفنا دیا کرو میں خود دفنا دیا کروں گا مگر تمہاری بے رحم بیوی کا مشورہ زیادہ اچھا لگا انکو۔۔۔”
“کیا ۔۔۔عا عا ۔۔۔۔عافیہ؟؟”
“عافیہ یہ سب جانتی تھی ؟؟؟”
نعیم نے غصے سے لال ہوتے چہرے سے کہا تھا
“کیا مطلب کیا تم نہیں جانتے تھے یہ سب ؟؟”
“تمہاری بیوی پہلے دن سے یہ جانتی تھی بہت سی ترقی۔۔۔۔۔ اس موت کے کھیل میں تمہاری بیوی کے شاطرانہ مشوروں کی بدولت ہی ہوئی۔۔۔”
نعیم سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا
“مجھے چند دن پہلے ہی یہ سب پتہ چلا ہے میں یہ سب پولیس کو بتانا چاہتا ہوں مجھے تمہاری گواہی کی ضرورت ہے نعیم۔۔”
تنویر نے لاچارگی سے کہا تھا
“یہ سب بہت سوچ سمجھ کر کرنا پڑے گا تنویر”
عافیہ دور کھڑی یہ سب سن رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج زینب کی زندگی کا بہت بڑا دن تھا آج اسے اس کی بچپن کی محبت کے ساتھ نکاح کے بندهن میں باندھا جانا تھا
“احمر “
یہ دنیا کے لئے محض چند حروف سے ملا ایک لفظ تھا مگر زینب کی دل کی دھڑکن ان حروف کی محتاج تھی
زینب 23 سال کی نہایت ہی خوبصورت لڑکی تھی وہ جس جگہ بھی ہوتی اس کا حسن کیا مرد کیا عورت کیا بوڑھا کیا جوان ہر کسی کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ۔۔۔
اسکی خوبصورتی بہت خاص تھی وہ ان لوگوں میں سے تھی
جن کا ستارا خاص کشش کا رکھتا ہے
(نکاح سے ایک ماہ پہلے شام کے پانچ بجے )
زینب آنکھوں میں كاجل لگا رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی تھی
کون ہے ؟؟؟
زینب نے سر پر دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوۓ آہستہ سے پوچھا تھا
“احمر “
زینب کا دل زور سے دھڑکا تھا وہ دروازے سے دور جا کھڑی ہوئی تھی
“آپ بعد میں آئیے گا گھر پر کوئی نہیں ہے”
زینب نے کمرےکی طرف بھاگتے ہوۓ کہا تھا
“کیا یار پاگل تو نہیں ہو تم ؟؟”
احمر نے تنک کر دوبارہ دستک دے کر کہا تھا
“پاگل تو میں ہوں آپ کے پیار میں”
زینب نے دوپٹہ مڑورتے ہوۓ کہا تھا
“یہ کیسا پیار ہے زینب تمہارا جو میں باہر کھڑا ہوں اور تم دروازہ بند کیے بیٹھی ہو اور اپر سے ڈائیلاگ بولے جا رہی ہو؟؟”
“بس ۔۔۔۔۔۔میں نے نہیں کھولنا دروازہ آپ چلیں جائیں”
“اس کا مطلب تو یہ ہی ہوا نہ کے تم بس خالی خولی محبت کا دم ہی بھرتی ہو محبت کرتی نہیں ہو مجھ سے”
احمر نے نارضگی سے کہا تھا
“آپ سے محبت اپنی جگہ احمر ۔۔ آپ کا یقین آپ کی مرضی ہے ۔۔۔مگر میرے بوڑھے باپ کا اعتبار میرے باپ کی زندگی کا سوال ہے وہ میں کسی قیمت پر داؤ پر نہیں لگا سکتی”
“نہ آپ بچے ہیں نہ ہی میں ، دو لوگوں میں تیسرا شیطان ہوتا ہے چاہے جنس کوئی بھی ہو”
” جب سے ہوش سنبھالا ہے میں نے ۔۔۔۔
،جب سے یہ جانا ہے کہ جسم میں ایک عضو دل نام کا بھی ہوتا ہے،۔۔۔۔۔۔
جب سے اس کی دھڑکن سنی ہے،جب سے اپنے وجود۔۔۔۔ اپنی ذات کو پہچانا ہے۔۔۔۔۔۔
،جب سے لفظ محبت سنا ہے تب سے لفظ محبت کو سمجھا ہے ۔۔۔۔
احمر جب سے یہ جانا ہے کہ میرا نام زینب ہے ۔۔۔۔
تب سے اس دل نے آپ کے نام پر دھڑک کر آپ سے محبت کا اقرار کیا ہے ۔۔۔۔”
“میں سانس لئے بغیر تو رہ سکتی ہوں مگر آپ سے محبت نہ کرنا یہ زینب کے بس سے باہر کی بات ہے “
اب زینب نے آبدیدہ آواز میں بولی تھی
“اچھا ۔۔۔مجھے اندر آنے دو نہ پھر میں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں یہ سب سن کر تو اب تمہیں ملنا اور بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے”
احمر بے چینی سے بولا تھا
“نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
زینب اب کمرے کے اندر جا کر بیٹھ گئی تھی نظریں ہنوز دروازے پر اٹکی تھی
دل کہہ رہا تھا جا کر دیکھو چلا تو نہیں گیا آج پھر ناراض ہو کر مگر باپ کا چہرہ قدم روک رہا تھا وہ اسی کشمکش میں تھی جب دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی تھی
زینب کمرے کے دروازے سے باہر آ کر کچھ کہنے والی تھیں جب ماں کی آواز آئی تھی جو زینب کے باپ سے کسی بات پر بحث کر رہی تھی
زینب کی مشکل آسان ہوئی تھی وہ بھاگ کر دروازہ کھولنے آئی تھی
“زینب کے ابا میں دشمن نہیں ہوں آپکی بیٹی کی مجھے وہ لوگ ٹھیک نہیں لگتے میرا دل نہیں مانتا آپ انکار کر دیں”
“السلام علیکم ابا”
زینب نے دوپٹہ سر پر ٹھیک کرتے ہوۓ کہا تھا
ابا نے زینب کو ایسے سر پے پیار کیا تھا جیسے وہ صبح کی بجاۓ کافی دنوں بعد بیٹی کو ملا ہو
“زینب کی ماں میری بیٹی بوجھ نہیں ہے مجھ پر یہ تو میری حیاتی ہے حیاتی ۔۔۔۔۔میں اچھے سے جانچ پڑتال کر کے ہی کوئی فیصلہ کروں گا”
“ابا کھانا تیار ہے آپ دونوں ہاتھ منہ دھو لو میں کھانا گرم کرتی ہوں”
آج کی رات زینب کے لئے بہت لمبی تھی نیند آنکھوں سے میلوں کی مسافت پر تھی
بوڑھا باپ بیٹی کی پریشانی سمجھ گیا تھا اس نے بیوی کو اٹھا کر زینب کے پاس بھیجا تھا
“زینب کیا بات ہے سو کیوں نہیں رہی تم آدھی رات گزرنے کو ہے؟؟کیوں باپ کو پریشان کر رکھا ہے؟؟”
“اماں کس نے رشتہ مانگا ہے میرا ؟؟”
زینب نے بھاری آواز میں کہا تھا جو اس بات کا ثبوت تھا کہ اس نے رات رو کر کاٹی ہے
“ہے کوئی برادری میں تیرے ابے کا دوست ہے مگر جهلیے اس میں سیاپا ڈالنے کی کیا لوڑ ہے ہم نے کونسا ہاں بول دی ہے چل نہیں کرتے ادھر چل سو جا تا کہ تیرا ابا سوۓ اور مجھے بھی سونے دے صبح فصل کی کٹائی پر سواختے کم پے جانا ہے ہم نے”
زینب نے ماں کا ہاتھ چوم کر آنسو پونچھے تھے
احمر سے رشتہ داری نہیں تھی بس محلے داری تھی زینب اور احمر کا بچپن ساتھ کھیل کر گزرا تھا
زینب کا بچپن بہت مختصر رہا تھا وہ لاپروائی سے کہیں بھی نکل جانا بے خبر قہقے ۔۔۔۔۔
یہ بہت کم نصیب ہوا تھا
وہ دس کی حد پار کرتے ہی خوبصورتی کی ہر حد ٹاپے بیٹھی تھی
طرح طرح کے لوگوں کی گندی نظریں اس نے بہت جلد بھانپ لی تھیں دوسری طرف ماں باپ کی بےپناہ محبت اور اعتبار تھا اس نے خود ہی خود پر پردے کی حد لگائی تھی۔۔۔
احمر نے کبھی اس کو اس نظر سے نہیں دیکھا تھا اس کے لئے وہ صرف ایک خوبصورت همسائی تھی بس ۔۔۔
زینب کے ماں باپ ہم سب کے والدین کی طرح معصوم اور سادہ تھے دونوں سارا دن کھیتوں میں کام کرتے پھر جو پیسے ملتے اس سے گھر چلارہے تھے
زینب اكلوتی اولاد نہیں تھی وہ ان دونوں کے جینے کی اكلوتی وجہ تھی
دس سال کی زینب سے 23 کی زینب میں ایک بات نہیں بدلی تھی وہ تھی احمر سے محبت ۔۔۔
یہ محبت وقت کے ساتھ ساتھ اور مضبوط ہوئی تھی ۔۔۔
احمر کا تعلق ایک متوسط طبقے سے تھا وہ چار بہنوں کا ایک ہی بھائی تھا
اس پر ہر وقت ماں باپ کی طرف سے روزگار کا پریشر رہتا تھا
بہنیں شادی کی عمر کو پہنچ چکی تھیں باپ کی کمائی گھر چلانے کے لئے تو کافی تھی مگر بیٹیوں کے لئے انہیں جہیز کی لعنت دینے کے لئے ٹھیک ٹھاک رقم درکار تھی
زینب کے لئے احمر کے دل میں نرم گوشہ تو تھا مگر اسے شدید محبت کا نام نہیں دیا جا سکتا تھا
گلی کے لڑکے جب برقعہ پہنے زینب کو دیکھ کر آہیں بھرتے ادھر احمر کا دل اس بات سے سرشار ہو جاتا کہ وہ صرف اسکی ہے اور اس سے بےپناہ محبت کرتی ہے
دل زینب کی محبت سے کسی قیمت پر دستبردار بھی نہیں ہونا چاہتا تھا مگر بہنوں کو دیکھ کر یہ خواہش دم توڑ دیتی جو جہیز لئے بغیر اپنا گھر نہیں بسا سکتی تھیں اور روزگار کا کوئی وسیلہ فلحال ہاتھ آتا نظر نہیں آرہا تھا جبکہ زینب کی خوبصورتی،شرافت اور سگھڑاپے کے چرچے ہر زبان پر تھے
آئے دن کوئی نا کوئی امیدوار زینب کے باپ کے پاس پہنچا ہوتا تھا
احمر پر ایک طرف روزگار کا پریشر تھا تو دوسری طرف زینب کی اپنی باپ سے بےپناہ محبت کا ۔۔۔
اسے ڈر تھا کہ وہ باپ کی محبت میں کہیں ہار نہ مان لے وہ اپنی بہنوں کی ذمہ داری پوری ہونے تک اسے اپنا منتظر رکھنا چاہتا تھا
یہی وجہ آج کل اسے بار بار زینب کے دروازے پر لے جا رہی تھی مگر زینب ایسی کوئی غلطی نہیں کر رہی تھی جو بدنصیب لڑکیاں کر کے خود کو عبرت کا نشاں بنا دیتی ہیں وہ ماں باپ اور محبوب دونوں محبتوں میں بہت خالص اور محتاط تھی ۔۔۔
آج پھر احمر گلی میں کسی کے نہ ہونے کی تسلی کرنے کے بعد زینب کے دروازے پر آیا تھا
دونوں کا گھر ایک ہی گلی میں ہونے کی وجہ سے کسی کے آجانے پر بھی شک کی گنجائش نہیں نکلتی تھی
زینب باپ کے کپڑے دھو کر ڈال رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی تھی
“کون ہے ؟”
زینب نے ایک حد تک بلند آواز میں پوچھا تھا
“میں ہوں زینب تمہارا احمر دروازہ کھولو “
“گھر میں کوئی نہیں ہے آپ چلیں جائے “
زینب کا لہجہ اٹل تھا
“پلیز زینب صرف ایک بار مل لو جب سے بچپن ختم ہوا ہے رج کے دیکھا ہی نہیں ہے تمہیں ہر وقت یہی سوچتا ہوں تم کیسی لگتی ہوگی”
زینب کی ٹانگیں کانپی تھیں اس بات پر
“ااا حححححمرررر ۔۔۔۔”
“آپ ایسی بتائیں کر کے میری پاک محبت کو ناپاک مت کریں خدارا “
“آپ رشتہ بھیجوا دیں ابا ہاں کر دے گا میرا وعدہ ہے آپ سے”
شکستہ آواز میں زینب نے آنسوؤں کو گلے میں دبايا تھا
“زینب میرے گھر والے بہنوں کی شادی سے پہلے میری اس فرمائش پر مجھے سو چتھر ماریں گیں کوئی نہیں سمجھے گا میرے دل کو”
احمر نے چالاکی سے اداس آواز میں کہا تھا
“تو جب تک مجھے زندگی نے مہلت دی میں آپکا انتظار کروں گی اگر تب تک موت نے آلیا مجھے تو پھر بھی ممکن ہوا تو آپ مجھے اپنا ہی منتظر پاۓگیں زینب نے آنسو کو اب گالوں پر آنے دیا تھا
“یار ایک بار مل لو کھا نہیں جاؤں گا تمہیں۔۔۔۔کام کے لیے شہر جا رہا تھا سوچا تمہیں مل لوں گا تو وقت اچھا کٹ جائے گا ادھر مگر نہیں یہاں تودرس شروع ہو جاتا ہے جب بھی ملنے کی بات کرو بہت ہی عجیب محبت ہے ہماری ۔۔ ایک لمحے کی قربت بھی ميسر نہیں ہوئی۔۔۔۔ آج تک تم سے زینب”
احمر نے آخری تیر چلایا تھا
” احمر میرا نام لیں”
اب یہ کیا بات ہوئی ؟؟
احمر نے کوفت سے کہا تھا
“آپ پکاریں میرا نام”
“زینب”
“آپ کی ہر ناجائیز خواہش کا جواب ہے میرا نام ۔۔۔”
زینب نے فخر سے میں کہا تھا
“اب اس بات کا کیا مطلب ہوا ؟؟میرا بھی دماغ خراب تھا جو سارے کام چھوڑ کر تم سے خود کو ذلیل کروانے آگیا ہوں”
“جس ہستی کے نام پر میرا نام ہے مجھے یہ بیہودہ کام زیب نہیں دیتے آپ سے محبت اللّه نے مجھے سونپی ہے اس میں بھی کبھی میرا دل جسمانی تعلق کا خواہش مند نہیں ہوا میں آپکی محرم بننا چاہتی ہوں اور اس بات کی اجازت میرا اللّه بھی مجھے دیتا ہے”
“اچھا یار محرم بھی بنا لوں گا بس ہاتھ ہی چھونے دے دو کوئی تو سوہانی یاد دو”
“ایک منٹ میں آتی ہوں”
زینب کہہ کر فورا ہی واپس آئی تھی
“خدا کو حاضر ناظر جان کر وعدہ کریں آپ مجھ سے نکاح کریں گیں “
“ہاں میں وعدہ کرتا ہوں کروں گا نکاح بھی اب اندر آنے دو پلیز “
“یہ لیں یہ میری تصویر ہے آپ یہ دیکھ لیا کریں جب بھی میری یاد آے”
تصویر میں زینب اماں ابا کے درمیان میں کھڑی ہنس رہی تھی سر پر دوپٹہ لئے”
احمر نے بے دلی سے تصویر لے کر جیب میں ڈالی اور چلتا بنا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے دو بج رہے تھے آمنہ کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا سب پریشان یہاں وہاں ڈھونڈ رہے تھے جب آمنہ آ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔کا شور بلند ہوا تھا
وہ جنگل کی طرف سے شکستہ قدم چلتی ہوئی آ رہی تھی
سب بھاگ کر ادھر پہنچے تھے
عافیہ بيگم پورے قد سے نیچے ڈھیر ہوئی تھیں آمنہ کیحالت دیکھ کر ۔۔۔
آمنہ کے کپڑے جا بجا پھٹے ہوۓ تھے وہ ہاتھوں سے خود کو ڈھانپ رہی تھی
علی نے فورا اپنا کوٹ اتار کر اسے ڈھانپا تھا
حاشر مھٹیاں بھینچے یہ سب دیکھ رہا تھا
وہ بھائی کے گلے لگ کر دیوانہ وار چلا رہی تھی
“بھائی میں آج بھی پاک ہوں بات وہ نہیں ہے جو آپ لوگ سمجھ رہے ہیں میں بلکل ویسی ہی ہوں جیسے شام تک تھی خدا کے لئے میرا یقین کریں”
علی خاموش آنسو بہاۓ بہن کو چپ کروا رہا تھا
“ہاں مجھے یقین ہے آمنہ پلیز چپ کر جاؤ میرا دل پھٹ جائے گا پلیز ۔۔۔”
علی تڑپ کر چلایا تھا
آمنہ عافیہ بيگم کے پاس بھاگی تھی
“امی امی آپ کو تو یقین ہے نہ مجھ پر ؟؟اپنی آمنہ پر ؟؟”
عافیہ بيگم اب چیخ چیخ کر رو رہی تھیں
“امی کم از کم آپ تو میرا یقین کریں امی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
آمنہ چیخی تھی
فاریہ بيگم نے آمنہ کے منہ پر تھپڑ جڑا تھا
“چپ کر جا بد بخت میرا گھر ہی ملا تھا تمہیں یہ رنگ رلیاں منانے کو بندہ موقع محل تو دیکھتا ہے گھر مہمانوں سے بھرا پڑا ہے اور تم نکل گئی گل کھلانے”
“واہ۔۔۔۔۔۔۔واہ عافیہ بھابھی یہ تربیت کی ہے آپ نے میرے نعیم کی اولاد کی واہ آفرین ہے بھئ ۔۔۔۔۔قبر میں بھی منہ کالا کر دیا ہے میرے بھائی کا تف ہے تم پر اور تمہاری اس بد چلن بیٹی پر”
علی کے سر کے درد نے اور شدت پکڑی تھی وہ اٹھ کر فاریہ پھپھو کو منہ توڑ جواب دینا چاہتا تھا مگر سر کا درد اندھا کر رہا تھا اسے ۔۔وہ سر پکڑ کر بیٹھ چکا تھا
عافیہ بيگم اب اپنا سر پیٹ پیٹ کر رو رہی تھیں
آمنہ حیران پریشان ان خونی رشتوں کو دیکھ رہی تھی جو پل میں بدلے تھے
فاریہ بيگم کو سنہری موقع ملا تھا اپنی بھاوج سے اپنی ازلی فطری نفرت نکالنے کا وہ دوبارہ آمنہ کی طرف بڑھی تھی
وہ اب دوبارہ آمنہ کا منہ رنگنے کو تھیں جب حاشر نے ان کا ہاتھ پکڑ کر زور سے جھٹکا تھا
“کیا ثبوت ہے آپ کے پاس اس بات کا جو سمجھ کر آپ آمنہ کو مار رہی ہیں ؟؟؟؟”
“دوسری بات اگر ویسا ہی ہوا ہے تو اس بات کا بھی کیا ثبوت ہے کہ وہ آمنہ کی رضا سے ہوا تھا ؟؟؟؟؟”
“تیسری اور آخری بات اگر دونوں صورتوں میں آمنہ قصور وار ہے بھی تو آپ ہوتی کون ہیں اس کے بھائی اور ماں کے سر پر ہوتے ہوۓ اس کی سزا تجویز کرنے والی ؟؟؟؟؟”
“یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے ۔۔۔۔۔میرے مرحوم نعیم کی بیٹی”
اب فاریہ بيگم مگرمچھ کے آنسو رو رہی تھیں جس میں آنسو کم مگر سوں ۔۔۔سوں کی آواز زیادہ تھی
“آپکے منہ بولے بھائی کی بیٹی”
حاشر نے تلخی سے کہا تھا
“ارے مرے ہوۓ بھائی کا ہی لحاظ کر لیتی آپ جو اس کی عدم موجودگی میں بھی اسکی اولاد کے سر پر ہاتھ رکھنے کی بجاے آپ نے خود کو جج بنا کے فیصلہ بھی سنا دیا بنا کوئی سوال جواب کیے ۔۔۔”
“یہ کیسا حق ہے رشتہ جتانے کا جو اپنی ہی نسل کی روسوائی پر اکسا رہا ہے ؟؟؟؟”
“مجھ سے رشتوں اور ثبوتوں کی بات مت کرو تم کس رشتے کی بنیاد پر اس کے حق میں بول رہے ہو؟؟؟؟”
“تمہارے پاس کیا ثبوت ہے اسکی بے گناہی کا ؟؟؟”
فاریہ بيگم اس جرح کو جیتتا ہوا محسوس کر رہی تھیں
“ان پھٹے کپڑوں پر مت جائیں یہ ۔۔۔۔”
حاشر نے آمنہ کو بنا دیکھے فقط ہاتھ کے اشارے سے بات ختم کرنے کا کہا تھا اور فاریہ بيگم پر نظریں گاڑ کر بولا تھا
“یہ پاکدامن ہے اور اس بات کا ثبوت میں اس سے نکاح کر کے دے دوں گا اسکی والدہ اور بھائی کی اجازت سے پھر رشتہ بھی بن جائے گا اور کچھ ؟؟؟؟”
حاشر کی بات سے پوری فضا میں خاموشی کا راج ہوا تھا
آمنہ کو اپنی بےبسی پر بےپناہ رونا آیا تھا حاشر کی بات پر سر چکرایا تھا اور وہ ہوش کی دنیا سے بےگانی ہوئی تھی ۔۔۔
صبح کے 12بج رہے تھے سب آمنہ کے کمرے میں جمع تھے
آنکھیں کھولی تو علی اور بہنوں کو اپنے گرد پایا تھا
عافیہ بيگم دور سوجی آنکھیں لئے خاموش کھڑی تھیں ۔۔
آمنہ کے ہوش میں آتے ہی بہنیں گلے مل کر چیخیں تھیں ان کی حالت بھی خراب لگ رہی تھی ہر بندہ رات کے میک اپ میں تھا جو رونے کی وجہ سے پھیل کر ہر کسی کے چہرے کو اتنا ہی بھیانک دیکھا رہا تھا
آمنہ نے گم سم علی کو دیکھا تھا جو آنکھیں نیچے کیے آمنہ کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھا ہوا تھا
“بھائی “
آمنہ نے بیٹھی آواز میں آہستہ سے کہا تھا
علی نے بنا کچھ بولے آمنہ کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگا کر سر پر پیار دیا تھا
اتنی دیر میں فاریہ بيگم مولوی کے ساتھ اندر آئیں تھیں
آمنہ نے معصومیت سے زخم زدہ چہرے سے ماں کو تڑپ کر دیکھا تھا
“امی ۔۔۔۔۔۔۔۔امی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟”
علی نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر جھنجوڑا تھا
“امی مجھے یقین ہے آمنہ پر میں ساری عمر اس کو اپنے پاس رکھ لوں گا مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں
پڑتا
وہ چیخا تھا نظر کامحور فاریہ بيگم تھیں
“مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اس بات سے کہ کوئی میری بہن کو عزت بناتا ہے یا نہیں میں عزت دیتا ہوں اپنی بہن کو چاہے وہ بد چلن بھی ہے”
بد چلن لفظ علی نے کرب سے ادا کیا تھا اب وہ پھوٹ پھوٹ کر رودیا تھا
علی کی حالت دیکھ کر وہاں موجود ہر آنکھ اشک بار ہوئی تھی
عافیہ بيگم نے اپنی بچی کچی توانائی جمع کی تھی وہ علی سے ہاتھ چھوڑوا کر آمنہ کے سر پر چادر اڑا کر بولی تھیں
“مولوی صاحب نکاح شروع کر دیں “
آمنہ کچھ دیر پتھر بنی ماں کو دیکھتی رہی پھر گھٹنوں کے بل سر پکڑے روتے ہوۓ بھائی کو دیکھ کر قبول ہے بولی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر احمد اپنے پرائیویٹ مریض آج کافی دنوں بعد دیکھ رہے تھے جب گل خان کی کال آئی تھی
السلام علیکم سر جی آپ ڈاکٹر احمد بات کرتا ہے ؟؟؟
وعلیکم السلام جی آپ جو بھی ہیں کچھ دیر میں رنگ کر لیں ابھی مصروف ہوں میں ڈاکٹر احمد فون کاٹنے کو تھے جب وہ دوبارہ بولا تھا
“سر جی ہماری بات سن لو پہلے وہ زیادہ ضروری ہے ہم کو تمہارا نمبر شبو باجی نے دیا ہےہم عافیہ بيگم کے گھر سے اس باجی کا ڈرائیور گل خان بات کر رہا ہے”
گل خان نے جلدی سے وضاحت کی تھی
“آپ باہر جائیں میں کچھ دیر میں اندر بلاتا ہوں “
ڈاکٹر احمد نے پاس بیٹھے مریض سے کہا تھا
“جی کیا بات ہےگل خان چاچا؟؟”
“سر جی ہمارے گھر کے گارڈ کا تو آپ کا معلوم ہوگا؟؟”
“جی میں جانتا ہوں انکو آگے بولیں”
“سر وہ عجیب عجیب حرکتیں کر رہا ہے”
“کیسی عجیب حرکتیں؟؟”
“سر جی وہ پہلے تو بار بار پانی مانگتا تھا پھر وہ گرا کر اور مانگتا تھا۔ پئیے بغیر ۔۔۔۔ پھر پورے گھر میں چھپنے لگا پتہ نہیں کس سے چھپ رہا تھا اس کا تو بیوی بھی نہیں ہے ہم کو تو سمجھ نہیں آتا پھر اس کو ڈر کسکا ہے آخر؟؟”
“ہممممم ۔۔۔۔اب مسلا کیا ہے مجھے کیوں فون کیا ہے میں کیا کر سکتا ہوں اس حوالے سے ؟؟”
ڈاکٹر احمد نے تنگ آ کر کر کہا تھا
“سر جی صبح کا غائب تھا ابھی اس کی ادھ مری باڈی ملی ہے لان میں مٹی میں دفن تھا آپ آ کر اسکی موت يہ زندگی کی
تصدیق کر دیں”
