Khof by Jameela Nawab Readelle 50362 Khof Episode 3
Rate this Novel
Khof Episode 3
ڈاکٹر احمد کافی دیر سے اپنے كلینک میں کسی مریض کا انتظار کر رہے تھے جو اپائنٹمنٹ لسٹ میں لاسٹ پیشنٹ تھا ۔۔۔
رات کے 8بجے کا وقت تھا انکی ایوننگ پریکٹس 6سے 9ہوا کرتی تھی ۔۔۔
آج پھر کالے بادل آسمان پر قبضہ جماے بیٹھے تھے وہ دروازے میں آ کر اپنی آخری سانسیں لیتی ازداواجی زندگی کے بارے میں سوچنے لگے ۔۔۔
سب کچھ تو تھا اللّه کا دیا مگر ایک احساس جسے ہم سکون کے نام سے جانتے ہیں وہ زندگی میں کہیں نہیں تھا ۔۔۔
ہمیشہ سے زندگی اتنی ویران نہیں تھی ایک عرصہ لگا تھا اس ویرانی کو آنے میں ۔۔۔
دھیرے دھیرے بہت دبے پاؤں بے برکتی آئی اور ڈاکٹر احمد اور سارا کی زندگی ویران کر گئی انکو یہ پتہ ہی نہ چلا کے محبت ،اعتبار اور سب سے زیادہ لحاظ جو نہ ہونے کے برابر ہو چکا تھا ۔۔۔۔وہ تو چھت تھی انکے رشتے کی ۔۔۔ جب چھت نہ رہے پھر بنیاد میں پانی بھی جاتا ہے اور دھوپ کی گرمی بھی ناقص کرتی ہے ۔۔۔
اب بھی وہ ساتھ ضرور تھے مگر دو حریفوں کی طرح وجہ کوئی بھی نہیں ہوتی تھی مگر امن رکھنا بھی نہ ممکن تھا
احمد سارا کی پھوپھو کا بیٹا تھا دونوں کی پسند کی شادی تھی احمد جن دنوں اپنی ڈگری کے آخری مراحل میں تھا تب نکاح کر دیا گیا پھر جب كلینک چلانے لگا پھر رخصتی ۔۔
سب بہت اچھا جا رہا تھا۔۔۔پہلی بار والدین بننا دونوں کے لئے ہی بہت خوشی کی خبر تھی ۔۔۔۔
مگر خوشی کو گرہن تب لگنا سٹارٹ ہوا جب 5th ماہ کے scan سے ڈاکٹر نے بچے کی abnorml growth کا بتایا ۔۔۔
بات صرف یہاں تک ہوتی تو ٹھیک تھا مگر سارے ٹیسٹس کرنے پر پتہ چلا کزن میرج ہونے کی وجہ سے انکا تعلق ان ہزاروں لوگوں میں سے تھا جن کا ہر بچہ ابنارمل ہوتا کسی نہ کسی month میں پہنچتے ہی یہ ہونا ہی تھا ۔۔۔۔
وہ اس بچے کو رکھیں گےیا نہیں یہ فیصلہ اللّه نے خود ہی کردیا ۔۔۔۔
یہ صدمہ اتنا تکلیف ده نہ ہوتا اگر آگے کوئی اچھی امید ہوتی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی بھینس پر ہاتھ پهير رہا تھا جو بیچاری علی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔سب نوکر اپنے اپنے کاموں پر جا چکےتھےڈاکٹر فرقان علی اور بھینس کو بغور دیکھ رہے تھے فرقان کو یقین تھا بھینس نے علی کو بلانے کے لئے کسی میسنی بیوی والی حرکت کی ہے ۔۔۔
مگر وہ کوئی انسان ہوتی تو بات ہضم بھی ہو جاتی مگر علی اور بھینس ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر فرقان کو فلحال خود کسی ڈاکٹر کی اشد ضرورت محسوس ہوئی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آمنہ نے پیچھے دیکھا تو وہ رابی کی چھت پر تھی ہاں البتہ جنازے والے آدمی اب واپس جا رہے تھے ۔۔۔آمنہ یار قبرستان ہے یہ ۔۔۔۔یہ سب ہونا تو عام سی بات ہے
اچھا حاشر کو روکے بیٹھی ہوں موسم بھی خراب لگ رہا ہے اس کےساتھ چلی جاؤ پلیز ۔۔۔۔میں ساتھ نہیں جا سکتی تمہیں چھوڑ کر مجھے چھوڑنے آے گا تو بہت late ہو جائے گا گھر کے لئے اس موسم میں ۔۔۔
کالے بادل جم کر برسنے کے لیے تیار بیٹھے تھے ۔۔۔
اکتوبر کی شام کے 6 بجے کا وقت تھا کالی گھٹا نے رات کا منظر بنا دیا تھا آمنہ گم سم سی رابی کی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
جیسے ہی ہوش میں آئی حاشر کی بات پر اوچھل گئی ۔۔۔نہیں یار مجھے نہیں جانا اس عمران ہاشمی کے ساتھ ہر وقت گانے گاتا ہے ۔۔۔
لو جی آمنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔رابی نے بے زاری سے کہا
رابی میری امی پوری ہٹلر ہیں مجھے پھانسی چڑھا دیں گیں غلط بیانی پر ۔۔۔میں نے تمہارا اور ڈرائیور کا کہا تھا
ہممممم ۔۔۔ ۔۔۔آمنہ تم حاشر کو ڈرائیور بتا دینا نہ ۔۔ وہ کونسا id کارڈ چیک کریں گیں ۔۔
بارش جو کب سے انکی بحث فائنل ہونے کا ویٹ کر رہی تھی آخر تنگ آ کر بوندا باندی سے سٹارٹ ہو گئی ۔۔۔۔
جس کا اثر حاشر پر بھی ہوا اس نے ہارن پے ہارن دینا شروع کر دیا
آمنہ نے چادر لی اور بھاگ کر گاڑ ی کا پچھلا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی
رابی چھتری لئے گیٹ میں کھڑی تھی
او ہیلو ۔۔ . کدھر ؟؟؟
حاشر نے تیز آواز میں کہا
میڈم میں آپ کا ڈرائیور نہیں ہوں جو پیچھے بیٹھ گئی ہیں اگے آکر بیٹھیں میں کھا نہیں جاؤں گا آپکو ماں بہن والا ہوں
آمنہ ڈھیٹ بنی بیٹھی رہی حاشر نےسیٹ سے پیچھے دیکھتے ہوے اگلی سیٹ کی طرف اشارہ کیا مگر آمنہ نے اگنورکرتے ہوے جلدی چلنے کا کہا ۔۔۔
حاشر کو بہت غصہ آیا مگر برداشت کرنا پڑا ۔۔
حاشر نے حسبے عادت وہ غصہ میوزک پر نکالا فل ولیوم میں اب یہ گانا خراب موسم کی اچھے سے نمائندگی کر رہا تھا
“گرج برس ساون پھر آيو ۔۔۔۔۔۔۔”
آمنہ کا سارا ديهان ماں کی طرف تھا جن کو یقین دلانا آج کی تاریخ کا سب سے مشکل کام تھا حاشر کے ڈرائیور ہونے پر ۔۔۔۔
جو کے رج کے خوبرو ,خوبصورت اوربلند قد کھاٹ کا مالک تھا
اوپر سے نفیس اور مہنگے کپڑے ۔۔۔ ایک پل کے لئے آمنہ کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔۔۔۔
بارش زوروں پر تھی اب !!
عافیہ بيگم اپنی نگرانی میں کام چور شبو سے گھر کی صفائی کروا رہی تھیں کچھ ہدایات دے کر وہ لاونج میں صوفےپر سستانے کے لئے بیٹھ گئیں اور علی کے ساتھ ہونے والے واقعے کے بارے میں سوچنے لگیں ۔۔
انکی سوچ انکے چہرے پر بول رہی تھی ۔۔۔انکے چہرے کے بگڑتے اور سنبھلتے زاویے انکے چہرے کو بہت عجیب کر رہے تھے شبو کو پہلے ہی غصہ تھا کام کی وجہ سے انکو ایسے دیکھ کر وہ انکے چہرے کو پڑھتے ہوئے دل ہی دل میں سوال جواب کرنے لگ گئی ۔۔۔۔
لگتا ہے علی کا پیٹ گڑ بڑ تھا اس رات ۔۔۔۔۔کوئی خواب دیکھا ہوگا ۔۔۔۔ایک زاویہ بنا ۔۔۔
شبو کیا پکایا تھا ہم نے پرسوں ؟؟؟؟
شلجم گوشت ۔۔۔شبو نے تنک کر جواب دیا
لیکن وہ تو پہلے بھی پكتا رہتا ہے ۔۔۔
ایسا نہ ہو دوبارہ ایسا ہو علی کے ساتھ ۔۔۔۔اب چہرے پر فکرمندی بہت عیاں تھی ۔۔۔
بيگم صاحبہ ۔۔۔۔چھوٹا منہ بڑ ی بات ۔۔۔۔اجازت ہو تو کچھ کہوں۔۔۔۔
ہاں بولو ۔۔ عافیہ بيگم بولیں ۔۔۔
آپ علی بھائی کی شادی کیوں نہیں کر دیتیں ۔۔۔
عافیہ بيگم کو شبو کی بات میں اس مسئلے کا بہترین حل نظر آیا ۔۔۔۔
کیونکہ لوگ ایک کر کے ہی زندہ درگور ہو جاتے ہیں زندگی میں خوشی کا مطلب بھول جاتے ہیں اور علی کو تو دو کر کے” ہینگیڈ ان ٹل ڈیتھ” کی سزا ملنے والی تھی ۔۔۔۔
شادیاں کر دوں گی تو مستقل ڈر زندگی میں شامل ہو جائے گا زندگی کا وہ بھیانک روپ دیکھے گا کہ اس رات کے لوگوں کی شکلیں سب سے حسین لگے گیں ۔۔۔
عافیہ بيگم کے چہرے پر بنتا فائنل زاویہ بتا رہا تھا کہ وہ حتمی فیصلہ کر چکی ہیں ۔۔۔۔
بيگم صاحبہ گارڈ چاچا آۓ ہیں ساتھ کوئی پٹھان چاچا بھی ہیں کہہ رہے ہیں آپ نے ڈرائیور لانے کو کہا تھا ۔۔۔
ہاں میں نے کہا تھا اندر بھیج دو دونوں کو ۔۔۔عافیہ بيگم نے خود کو ارينج کرتے ہوے کہا ۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔بيگم صاحبہ یہ گل خان ہے اعتبار کا بندہ ہے ساری گاڑیاں چلا چکا ہے مجھے اس کے گھر کا بھی پتہ ہے ساری تسلی کر چکا ہوں ۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔۔جی گل خان بھائی اس سے پہلے آپ کہاں کام کرتے تھے اور وہاں سے کیوں چھوڑا ۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔گل خان نے بہت گرمجوشی سے کہا ۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔۔عافیہ بيگم نے متوجہ ہو کر کہا
باجی ۔۔۔۔۔۔
میں پہلے دوسرے شہر میں ایک صاحب کے پاس کام کرتا تھا وہ لوگ پاکستان سے باہر چلے گئے ہیں اسی لئے ہم وہاں سے ادھر آگیا ہے اب ہم ادھر اپنی فیملی کے ساتھ رہتا ہے اللّه نے بہت نوازا ہے میرے دس بچے ہیں گھر میں بہہہہہہہہہہہہہہہت رونق ہے ۔۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔میری چار جوان بچیاں ہیں انکو لانا لے جانا ہوگا اسکول کا لج ۔۔۔۔بتایا ہوگا گارڈ چاچا نے ۔۔۔
جی باجی ۔۔۔۔گل خان نے جواب دیا
ٹھیک ہے آپ کل سے کام پر آجائیں عافیہ بيگم نے اٹھتے ہوے کہا
باجی ۔۔۔۔گل خان بولا
جی ؟؟ کچھ اور بھی بتانا ہے آپ کو ؟؟ عافیہ بيگم نے پوچھا
جی باجی میری کچھ شرطیں ہیں وہ آپ کو ماننی پڑیں گیں
جی ؟؟؟عافیہ بيگم نے واپس بیٹھتے ہوۓ کہا
شرط نمبر 1
میں کسی بھی وقت نسوار ڈالے گا چاہے کوئی کچھ بھی کر رہا ہو یا کہیں بھی ہو
شرط نمبر 2
میں رات کو ادھر روکے گا تو جب بھی میرا دل ھوگا ہم دودھ پتی پیے گا
شرط نمبر 3 اور لاسسسسسٹ گل خان نے نسوار ڈالتے ہوۓ کہا
میں دم درود اور حساب کا کام بھی کرتا ہے اگر کوئی میرے فارغ وقت میں میرے پاس آے گا تو آپ کو اعتراض تو نہیں ہوگا ؟؟ ہونٹ کے نیچے نسوار کا ابھار بنا کر گل خان نے تسلی سے پوچھا
جی ٹھیک ہے ۔۔۔
گارڈ چاچا ۔۔۔۔آپ ان کو آمنہ لوگوں کی ٹائمنگز سمجھا دیں عافیہ بيگم نے وقت دیکھتے ہوۓ کہا بارش کا موسم بنا ہوا ہے آمنہ ابھی تک نہیں آئی شبو فون لانا میرا پوچھوں اس سے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علی نوکروں کو بھینس کی خاص کئیر کرنے کا کہہ کر ڈاکٹر فرقان کو لے کر جانے والا تھا کے اسکی نظر اپنی کلائی پر پڑی، اسکی گھڑی نہیں تھی ۔۔۔فرقان آپ روکیں میں گھڑی لے کر آتا ہوں بھینس کے پاس رہ گئی ہوگی ۔۔۔
فرقان نے برا سا منہ بنا کر سوچا یعنی آگ دونوں طرف برابر جل رہی ہے بہانہ تو دیکھو ۔۔۔
علی باڑے میں جا کر بھینس جہاں بیٹھی تھی وہاں اپنی گھڑی ڈھونڈنے لگ گیا ۔۔۔وہاں گھڑی تو تھی مگر وہ بھینس نہیں تھی علی نے تقریباً بھاگتے ہوۓ بھینس کو یہاں وہاں دیکھنا شروع کر دیا۔۔۔
چونکہ بارش آنے والی تھی نيم اندھیرے والا سماں تھا ۔۔۔ہر جگہ دیکھنے کے بعد جب علی برآمدے میں گیا وہاں تھوڑے فاصلے سے پلر کے پیچھے ہلکی سی بھینس کی دم نظر آرہی تھی علی کو تسلی سی ہوگئی ادھر فرقان کے ہارن دینے پر واپس چلا گیا مگر دل اس رات کی طرح بے چین ہو گیا تھا بائیک پر بیٹھ کر کک لگائی ہی تھی کے فرقان کو ابھی آتا ہوں کہہ کر بھاگ گیا برآ مدے کی طرف ۔۔۔
فرقان نے حیرانگی اور غصے کے ملے جلے اثرات سے بھاگتے ہوۓ علی کو دیکھا اور دونوں ہاتھوں سے پنجہ بنا دیا ۔۔۔
