Khof by Jameela Nawab Readelle 50362 Khof Episode 16
Rate this Novel
Khof Episode 16
احمر شہر آ چکا تھا وہاں کافی دن جگہ جگہ کی خاک چھاننے کے بعد اس کی قسمت اسے اسی گارمنٹس فیکٹری میں لے آئی تھی جہاں سے نعیم کی بربادی کا آغاز ہوا تھا
امیدوار زیادہ نہیں تھے چند نوجوان ہی اپنی باری کے منتظر تھے جن میں احمر بھی شامل تھا
احمر نے جیب میں سے زینب کی تصویر نکال کر ہاتھ میں پکڑی ہی تھی جب اس کی باری آئی تھی
آج سیٹھ جبران کی جگہ اس کا بیٹا عاصم بیٹھا ہوا تھا
“السلام علیکم “
عاصم نے کوئی جواب دیئے بغیر محض ہاتھ سے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا
“جی آپ کی تعلیمی قابلیت تو کوئی خاص نہیں ہے اپنے بارے میں کچھ بتائیں آپ ہمارے لئے کیا کر سکتے ہیں اور آپ ہم سے کیا چاھتے ہیں ؟؟”
عاصم کا انداز نہایت ہی حقارت آمیز تھا
“میں جو آپ کہیں گے کر لوں گا آپ بس مجھے نوکری پر رکھ لیں میں چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ہوں سب کی عمر شادی کی ہے میرے بوڑھے والدین بہت پریشان ہیں”
احمر نے لاچارگی سے کہا تھا
“همممممممممم ۔۔۔۔۔۔۔”
“باہر جانا چاھتے ہو؟؟”
عاصم نے بہت دلچسپی سے پوچھا تھا
احمر کی آنکھوں کے آگے زینب کی معصوم صورت آئی تھی
“کیا سوچ رہے ہو ؟؟ جلدی بولو اتنا وقت نہیں ہے میرے پاس”
عاصم جھنجھلا کر بولا تھا
“نہیں آپ ادھر ہی کام دے دیں مجھے میں واحد سہارا ہوں اپنے گھر کا صرف پیسہ بھیج کر میرا فرض ادا نہیں ہو سکتا میرا یہاں ہونا بھی ضروری ہے”
“ویسے اگر باہر چلے جاتے تو جلدی تمہارے گھر کر مسائل حل ہو جاتے،خیر پیسہ کمانے کا شوق ہے؟؟”
“جی وہ شوق کس مرد کو نہیں ہوتا؟؟”
احمر كھسيانی ہنسی ہنسا تھا
اتنے میں عافیہ وہاں آئی تھی
“عاصم۔۔۔۔۔۔ سر کیسے ہیں اب ؟؟”
“وہ ٹھیک نہیں ہیں یہ لاسٹ لاٹ فائنل ہو جائے تو انکو ملک سے باہر لے کر جا رہا ہوں بس اسی ویک میں یہاں کے ڈاکٹرز ان کی بیماری کے علاج سے قاصر ہیں”
عاصم نے لا پروائی سے کہا تھا
“اب انکی طبیعت کیسی ہے؟؟”
“یار ٹھیک نہیں ہیں وہ کالے چھالے اب منہ میں پھٹنے لگے ہیں کھانا منہ کے راستے نہیں دے سکتے اب انجی سے صرف لیکویڈ ہی ڈالتے ہیں ۔۔۔۔۔اب کروٹ دلانے پر چھالے پھٹ کر بستر کالے خون سے بھر دیتے ہیں ایک سائیڈ پہ ہی لٹاۓ رکھیں تو جسم گلنے لگتا ہے بہت تکلیف میں ہیں ابو”
عاصم یہ سب ایسی بے حسی سے بتا رہا تھا جیسے بہت ہی معمولی بات ہو کسی بہت ہی معمولی انسان کے بارے میں ۔۔۔
سچ کہتے ہیں حرام کی کمائی اولاد کو فقط جسمانی طور پر پروان چڑھاتی ہے۔۔۔۔
ایک لفظ جیسے ہم تربیت کہتے ہیں اس کا تو پہلے نوالے سے ہی جنازہ نکل جاتا ہے ۔۔۔
حرام کی پیسے سے پلی ہوئی اولاد کی آخرت والدین خود برباد کرتے ہیں کیوں کہ والدین کے اعمال کی سزا کے طور پر وہ اولاد اپنے والدین کی نافرمانی کر کے خود کو جہنم کا ایندھن بنا لیتے ہیں بہرحال والدین کافر بھی ہو تو اللّه نے اولاد پر انکی اطاعت فرض کی ہے مگر والدین انکی پرورش میں جب حلال و حرام نوالے کی پروا نہیں کرتے تو ایسی اولاد کے دل سے والدین کی پروا بھی ختم ہو جاتی ہے ۔۔۔
وہ بے حس اپنی مرضی یا فطرت کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس حرام کے ناپاک نوالے نے اسکی اچھائی کو نیست و نابود کر دیا ہوتا ہے ۔۔۔مگر افسوس اکثر والدین یہ بات نہیں سوچتے اور اپنی اولاد کو دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل و رسوا کر دیتے ہیں ۔۔۔
جب انسان کسی انسان کے لئے خدا کی بنائی ہوئی حدود کو توڑتا ہے تو تاریخ گوا ہے وہ انسان اسی انسان کے ہاتھوں کڑی آزمائش سے گزرتا ہے اور وہ ہی انسان اسے ایسا سبق سکھاتا ہے کہ وہ انسان دوبارہ خدا سے جا ملتا ہے ۔۔۔
ہم والدین بھی جب جب اولاد کی خواہشات کے آگے مجبور ہو کر انکے لئے روزی کمانے میں خدا کی بنائی ہوئی حد پار کرتے ہیں ایسی اولاد کروڑوں کی مالک بن کر بھی دو وقت کی روٹی کے لئے اپنے والدین کو ایسا ذلیل کرتی ہے کہ وہ نشان عبرت بن جاتی ہے ۔۔۔سو باتوں کی ایک بات۔۔۔۔۔۔ پیسہ فطرتأ حاکمیت پسند کرتا ہے اور یہ ہر رشتہ کاٹنے والی کینچی ہے ۔۔۔
یہی حال سیٹھ جبران کے بیٹے عاصم کا تھا ۔۔۔اسے فرض سے زیادہ باپ کی حالت کا کوئی احساس نہیں تھا وہ باپ جس نے سینکڑوں لوگوں کو موت کی نیند سلا کر عاصم کے لئے اسکی سات نسلیں پالنے کا بندوبست کر رکھا تھا وہ پھر بھی اپنے بیٹے کی اس محبت اوراس احساس سے محروم تھا جو دو وقت کی حلال کی کمائی کھلانے والے ایک دہاڑی دار مزدور كو بیماری میں اپنی اولاد سے نصیب ہوتا ہے
(میں یہاں والدین کے ساتھ لفظ “آج کل کے والدین” نہیں لگاؤں گی کیوں کہ والدین اپنی اولاد کے لئے ازل سے ہی خودغرض ہی رہے ہیں)
“آپ باہر انتظار کریں میں کچھ دیر میں بتاتا ہوں آپ کو “
عاصم احمر کو کہہ کر عافیہ کے پاس جا کھڑا ہوا تھا
“عافیہ میں ابو کی وجہ سے بہت سٹریسڈ ہوں روز روز ہسپتال کے چکر لائف میں کوئی تھرل نہیں رہا “
“عاصم میں نے ایک ضروری بات کرنی تھی “
“میں بہت پریشان ہوں”
“اب کیا ہوا تم کیوں پریشان ہو عافیہ؟؟؟”
“نعیم اور تنویر کو سب پتہ چل گیا ہے وہ بہت جلد پولیس کے پاس جانے والے ہیں”
عافیہ نے عاصم کو بیٹھنے کا اشارہ کر کے کہا تھا
“تو تم کیا سمجھتی ہو پولیس نہیں جانتی یہ سب ؟؟؟ هاهاهاهاها ۔۔۔۔”
“حصہ جاتا ہے پولیس کو آئی۔ جی سے لے کر وہاں کے چپڑاسی تک کو ۔۔۔”
“کوئی نہیں سنے گا ان دونوں کی بس بے موت مارے جائے گے یہ میرے ہاتھوں”
عافیہ کا رنگ اڑا تھا عاصم کی اس بات سے
“عاصم نعیم میرے بچوں کا باپ ہے یہ مت بھولو”
عافیہ نے ڈرتے ڈرتے کہا تھا
“جانتا ہوں کچھ نہیں کروں گا یار فکر مت کرو”
عاصم عافیہ کے پاس بےتکلفی سے آیا تھا جہاں سے احمر اٹھ کر گیا تھا عافیہ اپنا ایک ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر بیٹھی تھی
عاصم نے عافیہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا جیسے اس نے زور سے پیچھے جھٹکا تھا
“اپنی حد میں رہو عاصم میں لاکھ بری ہوں مگر بدکردار نہیں ہوں یہ بات آپ کے والد کو بھی بتائی تھی آپ کو بھی بتا رہی ہوں دوبارہ یہ غلطی نہ ہو”
عافیہ غصے سے دهاڑی اور پير پٹختی باہر چلی گئی
عاصم کی نظر ٹیبل پر پڑی جہاں زینب کی تصویر احمر جلدی میں چھوڑ گیا تھا
زینب کو دیکھتے ہی عاصم جیسے شیطان فطرت انسان کی آنکھیں چمکی تھیں
اس نے احمر کو دوبارہ اندر بلایا تھا
مسٹر احمر بیٹھئیے ۔۔۔
عاصم کی آواز میں اس بار عزت کا عنصر موجود تھا
“یہ تصویر میں موجود لڑکی کون ہے”
عاصم نے زینب کی تصویر احمر کو دیکھاتے ہوۓ کہا
“یہ یہ ۔۔۔۔آپ کے پاس؟؟؟”
“جی تم بھول گئے تھے ادھر اب کوئی بھائی اپنی بہن کی تصویر کو ہاتھ میں پکڑے نہیں گھومتا کم از کم بہن تو نہیں ہے یہ تمہاری ہے نا؟؟؟”
“جی بہن نہیں ہے،محبت کرتی ہے مجھ سے بس نوکری لگ جائے پھر شادی کروں گا”
احمر نے کچھ سوچتے ہوۓ جواب دیا تھا
“تم نہیں کرتے ؟؟”
عاصم نے طنزیہ کہا تھا
“کیا ؟؟”
احمر نے نہ سمجھتے ہوۓ کہا تھا
“هاهاهاهاها ۔۔۔۔وہ ہی جو تم غریب خالی جیب لئے کرتے ہو”
“محبت”
“هاهاهاهاها”
“محبت نہیں کرتا مگر اس کا ساتھ ضرور چاہتا ہوں مستقبل میں”
“اتنی دولت دوں گا کہ ساری عمر بیٹھ کر کھانا بس یہ لڑکی کچھ دن کے لئے مجھے دے دو پھر بھلے کر لینا شادی”
احمر نے کوئی جواب نہ دیا
“ابھی جاؤ کل تک کا وقت ہے تمہارے پاس منظور ہوا تو آجانا بلینک چیک دوں گا جتنی دولت چاہے بھر لینا مگر اس لڑکی کو بھول جانا اس کے ساتھ دل بھر جانے پر میں نے کیا کرنا ہے یہ میں ڈیسائیڈ کروں گا”
احمر کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا
جس کو اپنا بنانے کی جلدی میں وہ شہر نوکری کے لئے آیا تھا اسی کو کھو کر وہ کچھ لمحوں میں زندگی کی ہر نعمت پا سکتا تھا
وہ اٹھ کر باہر آگیا تھا اسکا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا گاڑیوں کا شور۔۔۔۔۔۔ وہ بیہوش ہونے کو تھا
ایک پارک میں جا بیٹھا تھا
ابا کی تھکی صورت , ماں کاجھریوں زدہ پریشان چہرہ ،اور بہنوں کے بالوں میں آتی چاندی ۔۔۔۔۔۔۔احمر کے کندھے اس بوجھ سے بوجھل ہورہے تھے ۔۔۔
“بلیک چیک دوں گا اپنی مرضی کی رقم بھر لینا”
یہ جملہ اس اندھیرے میں روشنی کی طرح محسوس ہوا تھا
“میں آپ سے محبت کرتی ہوں احمر بہت زیادہ”
زینب کی آواز بہت مدھم سے کانوں میں رس گھول رہی تھی
“میں آپ کے علاوہ کسی کا تصور بھی نہیں کر سکتی ۔۔۔۔جب تک میری سانس نے اجازت دی آپ کا انتظار کروں گی”
“تیری آپا 38کی ہوگئی ہے چھوٹی بھی 30کی ہونے والی ہے لوگ جہیز مانگتے ہیں کہاں سے لاؤں میں جہیز؟؟؟”
باپ جھولی پھیلاۓ نم آواز میں آنکھوں کے آگے آیا تھا
چاروں بہنوں کے اداس چہرے خالی آنکھیں ۔۔۔زینب کی آواز پر بھاری ہو چکے تھے وہ اٹھ کر دوبارہ عاصم کے پاس آگیا تھا
“مجھے منظور ہے مگر میں اسے یہاں کیسے لاؤں؟؟مطلب وہ میری کچھ نہیں لگتی اور کوئی اپنی جوان بیٹی میرے ساتھ کیوں آنے دیگا ؟؟”
“یہ رقم رکھو فلحال اپنی بہنوں کی شادیاں کرو اپنی حالت درست کرو”
عاصم نے بیس لاکھ کا لکھ کر دیا تھا
“باقی وہ یہاں کیسے آۓگی یہ سوچنا تمہارا کام ہے “
عاصم نے جانے کا اشارہ کرتے ہوۓ کہا تھا
احمر نے پہلی فرصت میں چیک کیش کروایا تھا پھر اس نے ایک بہت اچھا گھر رینٹ پر اوکے کیا اس میں فرنیچر ڈالا ضرورت کا ہر سامان رکھا اور رینٹ پر ایک کار لے کر گاؤں کے گھر چلا آیا
پورا گاؤں حیرت زدہ تھا اس کی اس فوری ترقی پر ۔…
بوڑھا باپ ذمہ داری سے اتنا اکتایا ہوا تھا کہ اسے یہ جاننے میں کوئی خاص شوق نہیں ہوا کہ ایسا کونسا اعلی دین کا چراغ رگڑا ہے جو نوٹ برس رہے ہیں ماں تو ازل کی سادگی لئے ہر آۓ گئے کے آگے بیٹے کی قابلیت کے گن گاتی نہیں تهک رہی تھی
بہنوں کو اپنے گھر بسنے کی امید نظر آئی تھی سب بہت خوش تھے محلے والے ان کے شفٹ ہونے پر بہت اداسی سے ،گاؤں آتے رہنے اور انکو یاد رکھنے وعدے لے رہے تھے
بیروزگار بیٹا اب گھر کا سربراہ بن گیا تھا باپ نے ہر فیصلے کی ڈور اسکے ہاتھ میں تهما دی تھی
یہ خبر زینب تک بھی پہنچی تھی اسے تو مانو پر لگ گئے تھے اس خبر سے ۔۔۔
احمر کی مالی حالات واحد روکاوٹ تھی جو اب نہیں رہی تھی
زینب بہت دیر تک دروازے پر احمر کی منتظر رہی مگر نہ اسے آنا تھا نہ ہی وہ آیا ۔۔۔
ہاں وہ شہر جا رہے ہیں یہ خبر ضرور زینب کو مل گئی تھی
دل کو اندھیروں نے آگھیرا تھا معصوم محبت نے آنکھوں کو شکایت کی تھی جس کا جواب آنکھوں نے آنسووں کی صورت دیا تھا
شام کا وقت تھا جب زینب نے سامان سے بھرا ٹرک اپنے گھر سے گزرتے دیکھا تھا
وہ جا چکا تھا اسے بنا ملے ۔۔۔۔اسے بنا دیکھے ۔۔۔۔
زینب کے پاس آج طبیعت خرابی کا بہانہ بنا کر جلدی سونے اور تكیہ بھگونے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا
دسمبر شاید ہی کسی کو راس آتا ہو ۔۔۔۔
دسمبر کا دوسرا نام جدائی بھی تو ہے ۔۔
دسمبر کی اداس رات بیشک بہت اذیت ناک ہوا کرتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج فاریہ بيگم کے بچوں کی شادی کا مین فنکشن تھا عافیہ بيگم کی فیملی کے علاوہ باقی سب اس میں مصروف ہو چکے تھے
آمنہ اسی حالت میں کمرے میں لیٹی خود کو یقین دلا رہی تھی جو کھیل قسمت نے اس کے ساتھ کھیلا تھا ۔۔۔۔۔۔جب دروازے پر دستک ہوئی تھی
“آجاؤ جو بھی ہو”
آمنہ نے تلخی سے کہا تھا
حاشر اندر آیا تھا جسے دیکھ کر وہ خود کو كمبل میں مزید ڈنھاپ کر لیٹی تھی
“وہ بیڈ کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھا تھا
“کیسی ہو مسز حاشر ؟؟؟”
آمنہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی
“مسز حاشر ؟؟؟ کچھ پوچھ رہا ہوں ؟؟؟”
آمنہ کی آنکھوں سے بے آواز آنسوں بہے تھے
حاشر فورا اٹھ کر آمنہ کا ہاتھ پکڑ کر بیڈ پر پاس آکر بیٹھا تھا
“کیا ہوا میری پالی بیوی کو ؟؟؟”
آمنہ نے اپنا دوسرا ہاتھ حاشر کے ہاتھ پر رکھا اور کسی معصوم بچے کی طرح بلک بلک کر رونے لگی
حاشر آمنہ کی حالت دیکھ کر تڑپا تھا
“یار مت کرو پلیز ایسے مجھے تکلیف دے رہا ہے یہ”
“حاشر ۔۔۔۔۔۔۔
حاشر میں بدچلن نہیں ہوں”
آمنہ کے رونے میں شدت آئی تھی
“یار پلیز ایسے مت بولو یہ لفظ تمہارے لئےنہیں بنا تم میری عزت ہو حاشر کی عزت ۔۔۔۔”
نکاح میں بعد میں بھی کر سکتا تھا ابھی اسی لئے کیا تا کہ تم خود کو اکیلا مت سمجھو پھر اگر ابھی بھی تم یہ سوچوگی تو کیا فا ئدہ ہوا ابھی یہ کرنے کا مجھے ؟؟؟”
آمنہ اب اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر رو رہی تھی
“حاشر میری ماں نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا میں پوری عمر یہ بات کیسے بھولونگی کہ میرا آپ سے نکاح اس وجہ سے ہوا؟؟؟”
“آمنہ اب تم میرے ساتھ زیادتی کر رہی ہو اس سب سے بہت پہلے بھی میں تم سے اپنی محبت کا اظہار کر چکا تھا اور شادی کا بھی پہلے ہی کہہ دیا تھا پھر اگر اللّه نے یہ وقت لکھا تھا نکاح کا تو اس میں میرا کیا قصور ہے ؟؟؟”
“میرے ساتھ کو کیوں مشکوک کر رہی ہو؟؟؟”
“حاشر امی نے میرا اعتبار نہیں کیا”
اب تک مجھ سے نہیں پوچھا کہ آخر اس دن ہوا کیا تھا”
آمنہ اب آنسو صاف کرتے ہوۓ دونوں ہاتھوں میں حاشر کا ہاتھ پکڑ کر بول رہی تھی
“میں جیسے ہے پنڈال سے نکلی ۔۔۔۔”
“یار پوری عمر پڑی ہے یہ بات جاننے کے لئے ابھی فلحال مجھے نہیں جاننا یہ سب۔۔۔۔۔ تم بس بھول جاؤ جو بھی ہوا تھا تم حاشر کی منكوحہ ہو بس یہ بات یاد رکھو ۔۔”
حاشر نے آمنہ کے سر پر دوپٹہ اڑاتے ہوۓ خلوص سے کہا تھا
“میں جا رہا ہوں تم نہا دھو لو یہ جوڑا لایا ہوں اپنی ساسو ماں سے تمہارا آج کے فنکشن والا یہ پہن کر باہر آؤ سب شادی کے لئے تیار ہو چکے ہیں تھوڑی دیر میں بارات جائے گی اور میں چاہتا ہوں کہ تم مسز حاشر بن کر میرے ساتھ یہ باقی کی تقریب اٹینڈ کروکل ولیمہ ہے پرسوں اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا تمہیں اپنے گھر کی مالكن بنا کردل پر تو قبضہ پہلے ہی جناب کا ہے “
حاشر نے آنکھ مار کر کہا تھا
“اچھا آپ اب جائیں میں آتی ہوں تیار ہو کر “
آمنہ نے حاشر کا ہاتھ چھوڑ کر كمبل میں منہ دے کر بولا تھا
“اوکے جا رہا ہوں یاد رکھنا مجھے باہر عافیہ آنٹی کی بیٹی نہیں بلکہ مسز حاشر چاہیے”
وہ کہہ کر کمرے سے نکل چکا تھا
آمنہ کمرے کی کنڈی لگا کر واش روم نہانے چلی گئی تھی
اس نے دیکھا پورے جسم پر جگہ جگہ دانتوں اور سگریٹ کے نشان تھے اس کا دل منہ میں آیا تھا کیا واقعی میرے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے؟؟؟
حاشر تو مجھے چھوڑ دے گا یا اللّه میں کیا کروں میں کہاں جاؤں؟؟؟؟”
میں حاشر سے بات کروں گی کہ میں کچھ بھی غلط محسوس نہیں کر رہی یہ نشان کسی سازش کا حصہ ہیں میں پاک ہوں”
وہ ایک بار پھر رو دی تھی
“یا اللّه میں نے تو ہمیشہ آپ کی بنائی حدوں کا پاس رکھا ہے یا اللّه یہ کیوں ہوا ہے میرے ساتھ “
آمنہ جلدی سے نہا کر فنکشن کا ڈریس پہن کر شیشے کے آگے بیٹھی تھی
“مسز حاشر بن کر باہر آنا”
حاشر کی آواز کانوں میں گونجی تھی وہ ہلکا پھلکا تیار ہو کر جیولری پہن رہی تھی جب شیشے میں نظر آنے والی آمنہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوئی تھی تم کیا سمجھ رہی ہو تم منكوحہ بن گئی ہو تو اب سب ٹھیک ہو جائے گا؟؟؟؟؟
“نکاح جتنا کمزور رشتہ کوئی بھی نہیں ہوتا آمنہ تین لفظ عورت کو بے گھر کر دیتے ہیں ۔۔۔”
پھر وہ باپ کے گھر میں بھی بوجھ سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی اور کچھ عورتیں تو نکاح کے نام پر بیچ دی جاتی ہیں قسمت میں بربادی ہو تو نکاح سے بھی تحفظ نہیں ملتا “
اور تم تو کفارہ ہو کفارہ ۔۔۔۔اپنی ماں کی کالی کرتوتوں کا۔۔۔۔۔ تم کبھی نہیں بس سکو گی ۔۔۔حاشر چھوڑ دے گا تمہیں یاد رکھنا میری بات”
آمنہ بیہوش ہونے کو تھی جب دروازے پر دستک سے وہ حوصلے میں آئی تھی
دروازے پر علی تھا جو بہن کو لینے آیا تھا
میری بہن میری پیاری بہن وہ آمنہ کے سر پر پیار دے کر بولا تھا
“بھائی میں تیار ہوں”
“دیکھو آمنہ میں حاشر کو زیادہ نہیں جانتا مگر جتنا جانا ہے وہ برا نہیں ہے تمہیں خوش رکھے گا انشاءلله بس اللّه کی رضا سمجھ کر یہ رشتہ نبھانے پر توجہ دو جو ہوگیا ہے اس پر مت سوچو,جس نے آج اس برے وقت میں رشتہ توڑنے کی بجاے تمہیں عزت سے ڈھانپا ہے وہ اس رشتے کے بعد تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا بس تم مخلص رہنا ہر حد تک جانا اسکی خوشی پوری کرنے کے لئے جیسے آج اس نے اس پتھر مارتے مجمعے میں تمہاری ڈھال بن کر تمہیں عزت دی ہے تم بھی ہمیشہ اس کی عزت کا پاس رکھنا “
ہم میں سے کوئی بھی شادی اٹینڈ کرنے یہاں مزيد رکنا نہیں چاہتا تھا مگر حاشر نے ہی ہم سب کو نارملی باقی کی تقريب کے لئے راضی کیا ہے
آمنہ اب سکون سے بھائی کی بات سن رہی تھی جب حاشر وہاں آیا تھا
“علی آپ کی اجازت ہو تو کیا میں اپنی وائف کو اپنی گاڑی میں اپنے ساتھ بیٹھا سکتا ہوں؟؟؟”
“نہیں مجھے نہیں بیٹھنا بھائی ان کے ساتھ لوگ کیا کہیں گیں جب رخصتی ہو جائے گی پھر یہ جیسا کہیں گیں وہ ہی کروں گی”
آمنہ نے علی کے ہاں بولنے سے پہلے ہی جلدی سے کہا تھا
حاشر کندھے اچکا کر وہاں سے جا چکا تھا
آج کی ساری تقریب ختم ہوئی تھی سب اپنی اپنی آرام گاہ میں سونے جا چکے تھے
عافیہ بيگم آمنہ سے نظریں ملانے سے قاصر تھیں وہ بیٹیوں کے سونے کا اطمینان کر کے کمرے سے باہر آئی تھیں
اب وہ مسز همدانی کا نمبر ملا رہی تھیں
“السلام علیکم مسز همدانی”
پھر وہ آمنہ والا پورا واقعہ سنا کر علی کے سر درد کا بتانے لگی تھیں
“دیکھو عافیہ۔۔۔۔ زینب اب میرے ہاتھ سے نکل گئی ہے وہ۔۔۔۔۔ وہ سب کرے گی جو جو تم نے اس معصوم اور باقی بے گناہ لوگوں کے ساتھ کیا ہے میں اپنے علم سے جو جو کر سکتی تھی میں نے 18سال سے وہ کیا تمہاری لائف پر سکون رہے اس کے لئے میں نے بہت سے ناجائز کام بھی کئیے ہیں
مگر ۔۔۔۔
مجھے تو اب پتہ چلا ہے وہ خود ہی تب تمہارا نقصان نہیں کرنا چاہتی تھی اس نے اس وقت کا تعین خود کیا تھا میں محض خوش فہمی کا شکار تھی کہ سب میں نے روک رکھا ہے”
آمنہ کا نکاح کر کے اچھا کیا ہے تم نے اب یہاں سے جانے سے پہلے پہلے علی کی بھی شادی کردو جدهر کہتا ہے کردو شاید سر درد چلا جائے اس کا اس روح کا زور کچھ کم ہو جائے میں صرف امید ہی کر سکتی ہوں “
مسز همدانی کال کاٹ چکی تھیں جبکہ عافیہ بيگم کا پریشانی سے بی پی ہائی ہو رہا تھا
وہ علی کے کمرے میں گئی تھیں جو بیچارہ شال اوڑھے دروازے کے باہر بیٹھا ہوا تھا
“علی بیٹا تم ابھی تک جاگ رہے ہو سر درد کیسا ہے اب ؟؟؟”
“امی فلحال سر درد نہیں ہے بس بی چینی ہے نیند نہیں آرہی”
“بیٹا کل ولیمہ رات میں ہے پرسوں ہم یہاں سے چلے جائے گیں میں چاہتی ہوں کل دن میں زبیدہ باجی سے سونی اور ماہم کا رشتہ مانگ لو اور نکاح کا بھی کہہ دوں باقی وہاں جا کر ریسیپشن رکھ لے گیں اور سب کو بلا لیں گیں کیسا رہے گا یہ ؟؟؟”
“امی وہ بھلا کیوں ایسے نکاح کرنے لگے اپنی بیٹیوں کا وہ ہماری طرح مجبور تھوڑی ہیں”
علی نے تڑپ کر سنجیدگی سے کہا تھا
“بیٹا برا مت ماننا مگر ساری بات پیسے کی ہے وہ تمہیں محسوس نہیں ہوتا مگر لوگ تمہاری دولت سے بہت مرعوب ہیں وہ متوسط سے لوگ ہیں یہ کسی خواب سے کم نہیں ان کے لئے کہ تم جیسا خوبصورت،مالدار پڑھا لکھا داماد ان کو نصیب ہو جائے تم ان کی فکر مت کرو بس اجازت دو مجھے یہ سب کر نے کی “
“ٹھیک ہے امی آپ کو جو مناسب لگے آپ کر لیں مگر پلیز انکی غربت کا یہ احساس ان کو نہیں دلانا کیوں کہ میں رشتوں كو دولت کے ترازو میں نہیں تولتا”
آج عافیہ کو نعیم نظر آیا تھا علی کی سوچ میں آج نعیم کی محبت دل میں کسی زخم کی طرح خون رستی محسوس ہوئی تھی
آج زندگی میں پہلی بار اس کے ساتھ نہ ہونے کا خالی پن شدت سے محسوس ہوا تھا
“میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں عافیہ یہ مت کرو میرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔میرے بیٹے کو اس کمائی کا محتاج مت رکھنا جب تک وہ اپنی ڈگری پوری نہیں کرتا اسے میرا وارث مت بنانا ۔۔۔۔۔میری بیٹیوں کی عزت سے انکی پسند کی شادی کرنا ۔۔۔۔اور ہمارا جو بچہ اس دنیا میں ہی نہیں آیا وہ لڑکا ہوا تو وہ ہی کرنا جو جو علی کے لئے کہہ چکا ہوں بیٹی ہوئی تو اس یتیم کو ماں اور باپ دونوں کا پیار دینا “
“کاش تمہارا لالچ ختم ہو جاتا عافیہ۔۔۔۔تم نے مجھے بھی اپنی لالچ کی نذر کر دیا ۔۔۔۔”۔
“ایک دن ایسا آے گا تم بہت اکیلی رہ جاؤ گی عافیہ ۔۔۔”۔
اب نعیم کے پھوٹ پھوٹ کر رونے کی آواز عافیہ کے کان کے پردے پھاڑ رہی تھی
