506.2K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khof Episode 18

زینب گھر میں اکیلی تھی جب گھر کے باہر گاڑی آکر رکی تھی زینب اپنے گیلے بال سلجھا رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی تھی

“کون ہے ؟؟”

احمر نے آہستہ سے اپنا نام لیا تھا

“جی ۔۔۔گھر میں کوئی نہیں ہے احمر ۔۔۔”

آج زینب کی آواز میں بہت عزت اور نرمی تھی

“زینب ۔۔۔۔؟؟”

“جی احمر ؟؟”

“میں ۔۔۔۔۔۔”

“جی احمر میں سن رہی ہوں “

احمر دروازہ پکڑ کر بیٹھ گیا تھا اس کی سانس سینے میں اٹک گئی تھی

وہ لمبے لمبے سانس لے رہا تھا

“احمر ؟؟؟آپکی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی؟؟میں آپکو اندر نہیں بلا سکتی آپ ڈاکٹر کے پاس چلے جائیں ۔۔۔پلیز “

زینب بند دروازے سے تڑپ کر بولی تھی

“میں ۔۔۔۔۔۔۔لمبی سانس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں زینب یہ جوڑا اور نکاح کی باقی چیزیں دروازے میں رکھ رہا ہوں تم یہی سب پہن کر تیار ہونا ۔۔۔۔۔”

زینب شرم سے لال ہوئی تھی

“ٹھیک ہے “

احمر۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟

احمر جانے کے لئے مڑا تھا جب زینب نے خلوص سے اسکا نام پکارا تھا

“ہاں ۔۔زینب ؟؟؟”

احمر نے اپنے سینے کو ہاتھ سے مسلتے ہوۓ خود کو پر سکون کرنے کی کوشش کی تھی

“پتہ ہے آپ امیر نہ بھی ہوتے تب بھی میں آپ سے ہی شادی کرتی ۔۔۔۔میں آپ کے انتظار میں ہی بوڑھی ہو جاتی مگر اپنا آپ کسی اور کو کبھی نہ سونپتی ۔۔۔۔۔زینب تو صرف احمر کے لئے بنی ہے ۔۔۔”

“آپ اپنی بہنوں کے لئے پریشان تھے نہ ۔۔۔میں نے تب سے تہجد پڑھنا شروع کردی تھی میں نے اللّه سے کہا یا اللّه کوئی معجزہ کر دے اور احمر کی ساری پریشانیاں ختم کر دے ۔۔۔۔”

“تہجد کی دعا تو اللّه کبھی رد نہیں کرتا نا احمر۔۔۔میں نے اللّه سے کہا ۔۔۔يا اللّه مجھ سے میری ہر خوشی لے لیں بدلے میں میرے احمر کی زندگی آسانیوں سے بھر دے ۔۔۔۔بس احمر کا نام میرے نام کے ساتھ جوڑ دے ۔۔۔۔اتنی سی خواہش ہے “

“مروں تو احمر کا نام میرے نام کے ساتھ میری قبر پر لکھا ہو”

“زینب زوجہ احمر علی”

زینب پر سکون سی احمر کو اپنی جیت کسی معرکے کی طرح بتا رہی تھی اور احمر کو لگ رہا تھا اس کے کانوں میں کوئی گرم سیسہ پگلا کر ڈال رہا ہے اس کے کانوں کی لویں گرم ہو کر لال ہوگئی تھیں

“زینب مجھے کام ہے میں جا رہا ہوں کل ملتے ہیں”

احمر بمشکل بول پایا تھا وہ زینب کا جواب سنے بنا وہاں سے بھاگ گیا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پنڈال مہمانوں سے بھرا ہوا تھا سونی اور ماهم بھی ایک جیسا جوڑا اور زیور پہنے وہاں لائی جا چکی تھیں دونوں بلا کی حسین لگ رہی تھیں ان کے بیٹھنے کا انتظام پنڈال میں دوسری جگہ کیا گیا تھا نکاح کے بعد ان کو علی کے ساتھ بیٹھایا جانا تھا

آمنہ اسٹیج کی بجاۓ ایک جگہ الگ تھلگ بیٹھی تھی جہاں اس پر زیادہ لوگوں کی نظر نہیں پڑ رہی تھی جبکہ باقی تینوں بہنیں اسٹیج پر علی اور ماں کے ساتھ ہی بیٹھی تھی

آمنہ کی نگاہ آج پہلی بار لوگوں کی بھیڑ میں حاشر کو ڈھونڈ رہی تھی مگر وہ کہیں نہیں نظر آیا آمنہ کا دل بے چین ہوا تھا اسے اس موقع پر وہاں نا پا کر۔۔۔

میوزک کے شور سے پنڈال اڑنے کو تھا

وہ اس کی تلاش میں اٹھ کر پنڈال سے باہر آئی تھی مگر وہ باہر بھی نہیں تھا کالے بادل زور سے گرجے تھے جس پر آمنہ نے اوپر دیکھا تھا ہر طرف گھپ اندھیرا تھا ۔۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں بارش کی رم جهم شروع ہوئی تھی

آمنہ کو وہ رات یاد آئی تھی دل میں ٹیس اٹھی تھی

اسی سوچ میں اسکی نظر جنگل کی طرف جانے والے راستے پر پڑی تھی جہاں حاشر کسی لڑکی کے ساتھ کھڑا بہت سنجیدگی سے محو گفتگو تھا

لڑکی خاموش تھی جب کہ حاشر ہاتھ ہلا ہلا کر کسی بات کی وضاحت دیتا نظر آرہا تھا

اب لڑکی کچھ بول رہی تھی مگر اس کی آواز اور لہجہ سمجھ سے باہر تھا

حاشر اب ہاتھ جوڑتا نظر آرہا تھا

بارش نے اب زور پکڑا تھا ہوا کی تیز آواز ماحول کو اور بھی پراسرار بنا رہی تھی

اب وہ لڑکی حاشر کے جڑے ہاتھوں کو پکڑے کھڑی تھی آمنہ بھاگ کر حاشر کے پاس جانا چاہتی تھی وہ اسکا منہ توڑنا چاہتی تھی اسے پوچھنا چاہتی تھی کہ آخر محبت کا نام لے کر نکاح جیسا دھوکہ دینے کی آخر ضرورت کیا تھی مگر بارش کی وجہ سے خنکی نے آمنہ کے پاؤں جام کر دئیے تھے ۔۔۔

وہ کانپنے لگی تھی حاشر اسکی محبت نہیں تھا مگر اب وہ جس رشتے میں بندھ گئےتھے اس میں کوئی بھی لڑکی شراکت برداشت نہیں کرتی ۔۔۔

وہ تیز بارش سے بے خبر ابھی بھی باتوں میں مصروف تھے آمنہ کے آنسو اسکا پورا منہ بهگو چکے تھے

وہ آنسو صاف کر کے واپس اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گئی تھی نظریں ہنوز پنڈال کے دروازے پر ہی تھیں تھوڑی دیر بعد حاشر اندر آیا تھا وہ بارش میں بری طرح بھیگا ہوا تھا وہ پریشانی سے علی کے پاس گیا تھا اسے کان میں کچھ کہا تھا جسے سن کر دونوں تیزی سے باہر گئے تھے

عافیہ بيگم حیران پریشان مسز همدانی کو کال ملانے لگی تھیں

“یار یہ کیسے ہو سکتا ہے بارش اتنی تیز تو نہیں جو

مولوی صاحب آنے سے عین موقع پر ہی انکار کر دیا ہے “

علی گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ بولا تھا

” یار فلو شو ۔۔۔۔تھا دو دن سے آج طبیعت اسی وجہ سے بگڑ گئی انکی بہت معذرت کر رہے تھے کوئی بات نہیں ادھر پاس ہی مسجد ہے ادھر سے کوئی مولوی لے آتے ہیں”

حاشر گاڑی سٹارٹ کرتے ہوۓ بولا تھا

مسجد زیادہ دور نہیں تھی اندر ایک آدمی قرآن پاک کی تلاوت کر رہا تھا

علی اور حاشر مزيد گيلے ہونے سے بچنے کے لئے بھاگ کر اندر گئے تھے

“مولوی صاحب ہمیں نکاح پڑھانا ہے سب تیار ہے جن مولوی صاحب نے آنا تھا وہ بیماری کی وجہ سے نہیں آسکے لڑکیوں کی عزت کا سوال ہے آپ جلدی ساتھ چلیں”

علی مودبانہ انداز میں بولا تھا

مولوی صاحب قرآن پاک بند کر کے شلف میں رکھ کر آرام سے گویا ہوۓ تھے

“کتنے نکاح ہیں ؟؟”

“مولوی صاحب ان کا نام علی ہے انکے دو نکاح ہیں دو لڑکیوں کے ساتھ ہمہ وقت ۔۔۔پنڈال میں ان کے والدین ہمارے منتظر بیٹھے ہیں آپ پلیز تھوڑا جلدی کریں”

“علی بیٹا آپ دو دو زندگیاں اپنے نام کے ساتھ جڑنے جا رہے ہیں آپ دو عورتوں میں انصاف کیسے رکھ پاؤگے ؟؟؟”

“عورت تو دوسری عورت کو کبھی برداشت نہیں کرتی پھر وہ ساس بہو ہو ،نند بھاوج یا دیورانی جھٹھانی ہو ،آپ دو عورتوں کو ہمہ وقت سوت کے رشتے میں باندھ کر اس برابری کے رشتے میں کیسے انصاف سے رکھ پاؤگے ؟؟؟”

“یہ محظ شوق والا معاملہ نہیں ہے بیٹا دو بیویوں کے بارے میں اللّه نے بہت سخت احکامات دے ہیں ۔۔۔

وہ نبھا پاؤں گے ؟؟؟

“جی انشااللہ ۔۔۔۔مولوی صاحب میں پوری کوشش کروں گا ایک انسان ہونے کی حیثیت سے میں دونوں کی طرف سے اپنے حقوق کی جتنی پابندی کر سکا وہ کروں گا باقی اللّه معاف کرنے والا ہے”

“ٹھیک ہے بیٹا اللّه آپ کو اپنے الفاظ پر قائم رہنے کی توفیق دے “

مولوی صاحب نکاح رجسٹر لے کر چھتری لئے ساتھ جانے کے لئے گاڑی میں بیٹھے تھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“مسز همدانی میں بہت پریشان ہوں آپ پلیز کچھ کریں بس علی کے نکاح بخیریت ہو جائیں زینب بہت رحم دل ہے وہ سونی اور ماهم دو دو لڑکیوں کا سہاگ کبھی نہیں اجاڑے گی مجھے پورا یقین ہے”

“مسز نعیم میں کچھ نہیں کر سکتی آپ کے لئے مزید بہتر ہوگا مجھے آپ آئندہ فون کرنے کی زحمت نہ کریں”

“آپ جتنا پیسہ مانگے گیں میں آپ کو ابھی اپنے مینیجر سے بھیجوا دیتی ہوں آپ پلیز میری حالت پر رحم کریں علی میں میری جان ہے میں جیتے جی مر جاؤں گی مسز همدانی ۔۔۔”

“رسی جل گئی مگر بل نہ گیا ۔۔۔۔مسز نعیم آپ آخر مجھے سمجھتی کیا ہیں ؟؟؟ہر کسی کو اپنی طرح لالچ میں اندھا مت سمجھا کریں ۔۔۔پیسہ پیسہ ۔۔۔۔۔۔میں ناک تک آگئی ہوں آپ کی اس گردان سے ۔۔۔آپ اس پیسے کے لئے سینکڑوں لوگوں کی زندگیاں کھا چکی ہیں بنا ڈکارے ۔۔آپ کس منہ سے رحم کی بات کر رہی ہیں مجھ سے ؟؟؟؟اس معصوم لڑکی کے ساتھ اتنا گھناؤنا گناہ کر کے بھی آپ اس سے رحم کی امید لگا کر مطمئن کر رہی ہیں خود کو؟؟؟”

“میرے کام میں بدترين سے بدترين لوگ آئے ہیں مگر آپ جیسا بےرحم ،خودغرض،متکبر اور خدا سے دوشمنی مول لینے والا انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا ۔۔۔بی بی کالے علم میں بھی برائی کی ایک حد ہے مگر آپ کی تو وہ بھی نہیں ہے ۔۔علم کوئی بھی ہو وہ بھی خدا کے حکم کے تابع ہی ہوتا ہے ،ہم اتنا ہی غلط کر سکتے ہیں جتنا میرے رب نے لکھ بھیجا ہے اس انسان کی تقدیر میں ورنہ کسی انسان کی کیا مجال جو وہ اس رب کے کاموں میں روکاوٹ ڈال سکے وہ ذات جس کا حکم نہ ہو تو ایک پتا بھی نہیں ہلا سکتا کوئی پھر تم کس عقیدہ کی عورت ہو آخر جو پیسے سے دوسری بات نہیں سمجھتی ؟؟؟”

“وہ جوان لڑکے جو اپنے بوڑھے والدین اور بہنوں کا آخری اور واحد سہارا تھے جو ان کو محظ دو وقت کی روٹی دینے کے لئے تمہارے پاس آتے تھے اور تم ان کی زندگی بیچ کر اپنے بنک بھرتی رہی کبھی سوچا ہے ان کے گھر والو کا کیا ہوا ہوگا وہ دکھ سے مرے ہو گے یا بھوک سے ؟؟؟؟”

“تم میں اور کسی جانور میں کوئی فرق نہیں ہے تمہیں صرف اپنا درد محسوس ہوتا ہے بلکہ تمہیں جانور کہنا بھی جانوروں كی توہین ہے کیوں کہ جانور بھی اپنے ساتھی جانوروں کی تکلیف پر تڑپتے دیکھے گئے ہیں مگر تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تف ۔۔۔۔۔۔۔تف ہے تم پر۔ ۔۔””

“مجھے افسوس ہے کہ میں نے تم جیسی بد ترين عورت کا بہت سے کاموں میں ساتھ دیا مگر اب نہیں ۔۔۔۔”

“میں کالا علم کرتی ہوں مگر اس سے کبھی میرا دل ایسے پریشان نہیں ہوا جیسے تمہاری کال سے مجھے گناہوں کا احساس گھیر لیتا ہے ۔۔۔۔”

“مسز همدانی میں ایک کروڑ بھیج دیتی ہوں پلیز ۔۔۔”

“عافیہ بيگم نے روتے ہوۓ کہا تھا

“چپ بلکل چپ ۔۔۔۔ایک لفظ اور نہیں لالچی عورت ۔۔۔لعنت بھیجتی ہوں میں تم پر اور تمہاری اس خون سے رنگی دولت پر ،کان کھول کر سن لو آئندہ اگر مجھے فون کر کے تنگ کیا میں پولیس کو تمہارے خلاف سارے ثبوت دے کر تمہیں اس ریت کے محل سے نكلوا کر جیل کی سلاخوں میں قيد کروا دو گی لالچی عورت “

“مسز همدانی “

“مسز همدانی “

“ہیلو؟؟؟؟”

“ہیلو؟؟؟”

کال کٹ چکی تھی اور دوبارہ ہو بھی نہیں رہی تھی مسز همدانی مسز نعیم کا نمبر بلاک لسٹ میں ڈال چکی تھیں ۔۔۔

“میری دھی “

شکورن کفن میں ملبوس ناک میں روئی ڈالے عافیہ بيگم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی

“آآآآپ ؟؟؟؟ ہاتھ مت لگائیں مجھے”

تازہ کافور کی خوشبو نے عافیہ بيگم کی ناک کو چڑھی تھی

“اچھا بھئ جیسے تمہاری مرضی “

شکورن اسٹیج پر جا کر بیٹھی تھی وہاں زینب کالےکام والے جوڑے میں سیاہ زیور پہنے شکورن سے پیار لے رہی تھی

عافیہ کا دل منہ کو آیا تھا

منظر بدل چکا تھا پورا پنڈال سیاہ چولے پہنے ان تمام مردوں ، عورتوں حتی کے چھوٹے بچے جو عافیہ کے موت کے کھیل کی نذر ہوۓ تھے ان سب سے بھرا ہوا تھا وہ سب اپنے جسم بری طرح کھروچ رہے تھے ۔۔۔

پورے پنڈال میں جلے ہوۓ گوشت کی بد بو بھر گئی تھی

عافیہ بيگم چکرا کر گرنے کو تھیں جب تیز آواز کانوں سے ٹکڑا کر ان کو ہوش میں لائی تھی اب سب عافیہ بيگم کے گرد گھیرا ڈال کر آگے آرہے تھے اور یک آواز میں چیخ کر بول رہے تھے

“ہمیں دفنا دو ،ہمیں دفنا دو”

پھر عافیہ بيگم نے دیکھا علی حاشر کے ساتھ پنڈال میں اندر آیا تھا ساتھ مولوی بھی تھا وہ بھاگ کر زینب کے ساتھ جا بیٹھا تھا شکورن کفن میں ملبوس علی کا ہاتھ پکڑے بیٹھی تھی اب نکاح پڑھایا جا رہا تھا

علی نے پہلی بار قبول ہے کہا تھا اب مولوی اپنا سوال دوبارہ دوہرا رہا تھا

عافیہ بيگم بجلی کی تیزی سے اسٹیج پر گئی تھیں اور چیخی تھیں

“علی یہ لڑکی ناپاک ہے غلیظ ہے تمہاری ماں کی دشمن ہے اس سے نکاح مت کرو یہ تمہیں مجھ سے تمہاری ماں سے دور لے جائے گی ۔۔۔خدا کے لئے علی یہاں سے بھاگ جاؤ یہ ایک دہاڑی دار کی بیٹی ہے اور تم عافیہ کے بیٹے ہو یہ کسی طرح بھی تمہارے جوڑ کی نہیں “

ایک زور دار تھپڑ عافیہ کے گالوں کو رنگ گیا تھا جس سے وہ ہوش میں آئی تھی

تھپڑ اسے علی نے مارا تھا جو کب سے ان کو جھنجوڑ جھنجوڑ کر چپ کروانے کی کوشش کر رہا تھا جو بھرے پنڈال میں سونی کی عزت کا جنازہ نکال رہی تھیں بے بنیاد باتیں کر کے ۔۔۔پہلے مولوی نے سونی سے نکاح کی اجازت طلب كی تھی

“امی بس کر دیں مت روسوا کریں مجھے نکل آئیں اس دولت کے خول سے ۔۔۔۔آپ اور کتنا گریں گیں اس دولت کے نشے میں دھت ہو کر ؟؟؟؟؟ عزت بےعزتی کی کوئی اہمیت نہیں آپ کے نزدیک ؟؟؟؟”

عافیہ بيگم منہ پی تھپڑ والی جگہ پر ہاتھ رکھے حیرانگی سے اپنے اس بیٹے کو دیکھ رہی تھیں جس کے لئے اس نے پوری انسانیت روند ڈالی تھی

وہ خاموش بت بنی کھڑی رہی علی واپس بیٹھ کر نکاح شروع کروا چکا تھا بنا یہ سوچیں کہ اس کی ماں اندر سے مر گئی ہے ۔۔۔

(احساس فطرتا بہت غیرت مند ہوا کرتا ہے جب ایک بار اس کو رد کر دیا جائے پھر وہ پوری زندگی میں کہیں نہ کہیں ہمارے آ گے آ کر بے رحمی ضرور دکھاتا ہے اپنا احساس کروانے )

فصل لگاتے ہوۓ بیج کی خصوصیت کا علم بہت ضروری ہوتا ہے پھر اس کو کاٹنا آسان ہوتا ہے یہی معملہ اس دنیاوی زندگی کا ہے بیشک انسان اولاد کی صورت میں اپنے عمل کی فصل کاٹتا ہے ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“نعیم میں نے ساری تحقیق کی ہے صرف ایک بڑا آفسر ہے جو اس کام کے خلاف ہے اور وہ صرف ڈر کے مارے بھتہ وصول کرتا ہے اس نے کہا ہے کہ وہ مضبوط ثبوت مل جانے پر سوشل میڈیا کا سہارا لے کر یہ موت کا گھناؤنہ کھیل رکوا سکتا ہے اب تم کسی طرح سارے ثبوت عافیہ کو اعتماد میں لے کر مجھے دو”

“میں نے بہت سمجھایا ہے عافیہ کو تنویر ۔۔۔۔۔وہ الٹا مجھے چھوڑنے کی بات کرتی ہے آگے سے وہ مجھے اپنی اولاد کے روشن مستقبل کا دشمن کہتی ہے “

نعیم نا امیدی اور دکھ کے ملے جلے جذبات لئے بولا تھا

“میری ایک عادت ہے نعیم بچپن سے ۔۔۔میں ہر روز چاہے کتنی ہی مصروفیت رہی ہو میں ڈائیری لکھتا ہوں روز سونے سے پہلے ۔۔۔۔اس میں ہر دن کی ہر نئی اور اہم بات ۔۔۔۔وہ سب جو مجھے خوش یا پریشان کر کے گزرا ہو ۔۔۔وہ لکھتا ہوں ۔۔۔۔”

“اگر کل میں نہ رہا تو تم میرے گھر والوں سے میری ڈائیری لے کر ثبوت کے طور پر پیش کر دینا مگر ان ظالموں کو ان کے کیفر ے کردار تک ضرور پوہنچانا ۔۔۔”

“میں نے اس میں وہ سب لکھا ہے جو میں نے یہاں دیکھا اور محسوس کیا ہے عافیہ ملی ہوئی ہے یہ بھی ۔۔۔۔”

“مجھے بہت دکھ ہوتا ہے تنویر کے میری بے پناں محبت بھی اسے اس جہنم سے نکال نہیں سکتی ۔۔۔”

اب نعیم نم انكهوں سے بولا تھا

آج ہماری ڈیوٹی اس تیزاب فیکٹری میں ہے چلو آج جو جو لوگ مارے جائے گیں جب سب چلے جائے گیں پھر میں قبر کھودوں گا اور تم جلدی جلدی وہ جلی ہوئی لاشیں ڈالتے جانا ۔۔۔”

تنویر تڑپ کر بولا تھا

“کاش ان کو کفن دفن کر کے ہم ان کا نماز جنازہ پڑھ سکتے ۔۔ “

“ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔کاش انکو کبھی احساس ہو اس بات کا کے بہرحال کفن تو غریب کا بھی حق ہے ایک اسی بات پر تو غریب امیر کی برابری پر دل کو تسلی دیتا ہے ۔۔۔ مگر افسوس۔۔”

“آپ دونوں کو عاصم صاحب نے آفس میں بلايا ہے آپ دس منٹ تک وہاں چلے جائیں ابھی سر میٹنگ میں ہیں”

پی اے نے عاصم کا پیغام نعیم اور تنویر تک پہنچایا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“عافیہ۔۔۔ احمر اگلے ہفتے نکاح کر کے اس لڑکی کو ۔۔کیا نام تھا ۔۔۔۔۔ہاں زینب۔۔۔۔زینب کو اسی ہوٹل میں لے کر آے گا وہاں تم موجود رہنا۔۔۔”

” باہر سے جو ٹیم آرہی ہے انسانی اعضاء کے سلسلے میں میں وہ میٹنگ اٹینڈ کر کے پھر اسے فیکٹری لے جاؤں گا وہاں سے پر سکون جگہ کوئی نہیں ہے ۔۔۔”

“عاصم اس تنویر کا بھی کچھ کرو بہت پر مار رہا ہے آج کل ۔۔۔دیکھ لو کہیں کوئی گڑ بڑ نہ کر دے”

عافیہ نے گہری سوچ میں کہا تھا

“اس کی بیوی بچے ہیں ؟؟”

عاصم نے دلچسپی سے پوچھا تھا

“ہاں دو بچے ہیں ایک بیٹا ایک بیٹی بیوی بھی جوان ہے بچے میرے بچوں کے ہم عمر ہو گیں ایک ادھ بار لایا ہے انہے میری طرف “

“بیوی بچے مار دوں گا میں اسکے خود ہی پر کٹ جائے گیں اڑنا بھول جائے گا”

“هاهاهاهاهاها” عاصم نے قہقہ لگا کر کہا تھا

“بیوی تو جوان بھی ہے”

عافیہ نے شیطانی انداز میں آنکھ مار کر کہا تھا

“قسم سے ہم مردوں کا تو نام بدنام ہے عافیہ ورنہ جتنی جلدی تم عورت کی عزت کی طرف مجھے مائل کر دیتی ہو اتنی جلدی تو میرے اندر کا شیطان مرد بھی نہیں کرتا”

“هاهاهاهاها”

دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر بلند قہقہ لگایا تھا

باہر تنویر یہ پوری بات سن کر وہاں سے گھر جا چکا تھا اس نے فون کر کے ساری بات نعیم کو بتائی تھی اب وہ جلدی جلدی بری طرح روتے ہوۓ ڈائیرئ لکھنے بیٹھا تھا جب اسکی بیوی پاس آئی تھی

“کیا ہوا ہے آپ اس طرح ؟؟؟؟؟؟”

“کیا ہوا ہے ؟؟؟؟”

“میری جان کو خطرہ ہے میں نے سب اس میں لکھ دیا ہے میں دلدل میں پھنس گیا ہوں میں اس میں اتنا دھنس گیا ہوں کہ اب جتنے ہاتھ پاؤں ماروں گا یہ مجھے اپنے اندر کھینچتی چلی جائی گی نہ میں یہ کام مزيد کر سکتا ہوں نہ ہی چھوڑ سکتا ہوں میں تم لوگوں سے الگ نہیں ہونا چاہتا ۔۔۔۔۔میں مرنا نہیں چاہتا”

اب تنویر اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑے کسی سہمے ہوۓ بچے کی طرح رو رہا تھا

“آپ عافیہ بھابھی سے بات کریں نہ وہ تو بہت اچھی ہیں”

بیوی نے روتے ہوۓ ڈوبتے کو تنکا پکڑانا چاہا تھا

“وہ اس سب میں ملی ہوئی ہے آج تک جو جو بھی ہوا ہے وہ اس میں 100% کی حصہ دار ہے “

دونوں بچے سہم کر اپنے والدین کو یو خوفزده روتے ہوۓ دیکھ کر بیڈ کے نیچے گھس گئے تھے جب گھر کے اندر بہت سے لوگوں کی چھلانگ مار کر بھاگ کر اندر آنے کی آواز آئی تھی

عاصم اور عافیہ جان چکے تھے کہ تنویر سب سن کر بھاگا ہے عاصم نے اسی وقت اپنے غنڈے اس کی پوری فیملی کی موت کا پروانہ دے کر اس کے گھر پر بھیجے تھے

جنہوں نے بے رحمی سے تنویر کے پیٹ میں خنجر کے وار کر کے تڑپتا چھوڑ کر۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بیوی کو اس کے شوہر اور دونوں معصوم بچوں کی آنکھوں کے سامنے پامال کیا پھر اسی حالت میں خنجر مار مار کر ابدی نیند سلا دیا ۔۔۔تنویر کو خنجر سے زیادہ بیوی کی عصمت لوٹنے کی تکلیف نے چوٹ پہنچائی تھی جس سے اس کی موت آسان ہوئی تھی۔۔۔

“بوس ادھر نیچے بچے بھی ہیں “

ایک آدمی ان کی طرف اشارہ کر کے بولا تھا

“رہنے دو انکو جو وہ دیکھ چکے ہیں اب انکو ہاتھ سے مارنا ضروری نہیں رہا”

تنویر کا آشیانہ تیز اندھی کی زد میں آ کر تنکا تنکا ہو چکا تھا

دونوں کی کفالت کرنے والے بہت سے رشتہ دار آگے آے تھے کیوں کہ کروڑوں كی جائیداد کا سوال تھا

دونوں بچے لمبے عرصے تک ذہنی اذیت کا شکار رہے بچی چونکہ چھوٹی تھی اس پر یہ واقعہ نہ مٹنے والی نقش چھوڑ چکا تھا وہ مستقل جسمانی کمزوری کا شکار ہو چکی تھی اس کی گروتھ رک چکی تھی وہ زہنی اور جسمانی دونوں طرح ہی پانچ سال کی تھی اب یہ منظر اس کی زندگی کے ساتھ ساتھ ہی تاحیات رہنا تھا ۔۔

حرام کی دولت اس گھر سے رشتوں کی صورت اپنی قیمت وصول چکی تھی ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علی کا نکاح ہو چکا تھا سونی اور ماهم کو اس کے ارد گرد بیٹھا دیا گیا تھا ثوبیہ,ملکہ اور فاطمہ ماں كی حرکت پر دکھی تھیں وہ اسٹیج سے اتر کر اب آمنہ کے پاس آ کر بیٹھ گئی تھیں

عافیہ بيگم نے دیکھا زینب علی کا ہاتھ پکڑے اسے کسی فاتح کی طرح دیکھ رہی تھی جب کہ شکورن علی کے گلے میں کالے پھولوں کا ہار ڈال رہی تھی جس پر علی اپنی دادی کے گلے لگ کر مسکرایا تھا عافیہ بيگم کا دل چاہ رہا تھا اٹھ کر منہ نوچ لے زینب اور شکورن کا مگر اپنے چہرے پر ہاتھ لگتے ہی علی کے تھپڑ کی ٹیس دل میں اٹھی تھی ایک آنسو آنکھوں سے آزاد ہو کر گال پر آیات اور احادیث کی روشنی میں نے اس تھا

علی سونی اور ماهم کا ہاتھ پکڑ کر ماں کو بھولے خوشی سے ہر رنگ میں کنورٹ ہو رہا تھا اپنی ذہن میں آنے والے خیالات کے مطابق ۔۔۔۔

وہ آج بہت خوش تھا آج اسکی دلی مراد پوری ہوئی تھی ۔۔۔۔دو دو بلا کی ایک سے بڑھ کر ایک حسین لڑکیاں مسز علی کا لیبل لگا کر اسکے پہلو میں براجمان تھیں ۔۔۔

وہاں موجود ہر انسان نے علی کو رشک کی نگاہ سے دیکھا تھا ۔۔۔

عافیہ بيگم نے گل خان کو فون کر کے یہاں کا ایڈریس دے کر گاڑی لانے اور علی کی شادیوں کا بتا کر شبو سے علی کا کمرہ اور ایک دوسرا کمرہ صاف کر کے سجانے کا کہا تھا

آج عافیہ بيگم کو اپنی ساس کی بے بسی کا احساس جی جان سے ہوا تھا اسے ہمیشہ اپنی ساس بیوقوف لگی تھی۔۔۔۔۔۔ مگر آج انہیں سمجھ آیا تھا کہ جب بیٹے میں جان بسی ہو پھر بری سی بری۔۔۔۔ خطرناک سی خطرناک۔۔۔۔ عورت بھی، اپنی بہو کی نظر میں کمزور اور بیوقوف ساس کا لقب پاتی ہے ۔۔۔

“آنٹی اگر اپکی اجازت ہو تو میں اپنی امانت کو لے جاؤں؟؟؟”

حاشر نے عافیہ بيگم کی سوچ کا سلسلہ منقطع کیا تھا

“ویسے بھی سب تو ختم ہو گیا ہے میں مزید یہاں رکنا نہیں چاہتا “

“آمنہ؟؟؟”

عافیہ بيگم نے حاشر کو بنا کوئی جواب دے بیٹی کو بلایا تھا

“جی امی ؟؟”

“اپنے شوہر کے ساتھ اپنے گھر چلی جاؤ میں تمہارا سامان الگ کر کے بیگ میں رکھ چکی ہوں وہ لے جاؤ “

عافیہ بيگم آمنہ کے سر پر بنا ہاتھ رکھے اسے جانے کا فرمان دے کر علی کو بتانے اسٹیج پر گئیں تھیں

علی اسٹیج سے اتر کر آمنہ سے ملا سر پر پیار دے کر حاشر کو اپنی بہن کی خاص کیئر کی تاکید کرنے لگا

آمنہ بہنوں سے مل کر ماں کو حیرت اور دکھ سے دیکھتی ہوئی گاڑی میں جا بیٹھی تھی

وہ آج بھی پیچھے ہے بیٹھی تھی ۔۔۔

آج بھی ڈرائیور ہی بنا دیا مجھے تم نے حاشر نے دل میں سوچا تھا

آج تو مجھے تم پر ہرحق حاصل ہےثبوت ڈیش بورڈ پر پڑا ہے آج تو آگے بیٹھ جاتی۔۔۔

حاشر میں ابھی کسی بھی قسم کے نئے تعلق یا نئے رشتے کے لئے تیار نہیں ہوں۔۔آپ پلیز میری ذہنی حالت کو سمجھیں ۔۔۔

آمنہ نے تڑپ کر کہا تھا

یار میری نئی نویلی دلہن ہو تم دلہن کے كپڑے بھی لے کر دوں گا بس کوئی اچھا سا مال آتا ہے تو میک اپ بھی کروانگا پارلر سے ساری تیاری کے ساتھ حاشر تمہیں اپنی زندگی میں ویلکم کرے گا پھر ماما پاپا کے سامنے لے کر جاؤں گا ۔۔۔۔

حاشر نے گرمجوشی سے کہا تھا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ڈاکٹر احمد ؟؟؟”

“اپ پلیز جلدی سے ہسپتال آجائیں “

ڈاکٹر فرقان نے پھولتی سانسوں سے اتنا کہہ کر کال کاٹ دی تھی

ڈاکٹر احمد فوری ڈرائیو کر کے ہسپتال پہنچے اور آئی سی یو کی طرف دوڑ لگائی۔۔۔

وہاں کومے والے مریض کا بیڈ خالی پا کر چیخ کر نرس کو پکارا۔۔۔

“سر ان کی سرجری چل رہی ہے برین کی تھوڑی دیر ہوئی ہے سٹارٹ ہوے”

“کیوں ؟؟؟؟وہ تو میرا مریض تھا اور میں کہہ چکا تھا سرجری موت ہے پھر کس کی اجازت سے یہ سب ہوا ہے ؟؟؟؟؟”

سر زیادہ میں نہیں جانتی بس صبح ہی ہاسپٹل کے مالک آئے تھے انہوں نے ہی فوری سرجری کا کہا ہے”

ڈاکٹر احمد ہاتھ میں موجود اپنا بیگ موبائل سب پھینک کر او۔ٹی کی طرف بھاگے تھے ۔۔۔۔