Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٩
۔

پتھر ہی رہو ، شیشہ نہ بنو
شیشوں کی ابھی رُت آئی نہیں
اِس شہرمیں خالی چہروں پر
آنکھیں تو اُبھرآئی ہیں مگر
آنکھوں میں ابھی بینائی نہیں
خاموش رہو ، آواز نہ دو
۔
جس طرح وہ گئی تھی اسی آہستگی سے اپنے کمرے میں داخل ہوتی دروازہ اندر سے بند کر کے وہ بیٹھتی چلی گئی۔۔ آنکھیں ساکت تھیں۔۔
کتنی ہی دیر وہ یونہی ساکت نظروں سے چھت پر چلتے پنکھے کو گھورتی رہی۔۔
۔
“بیلا لیٹ می ایکسپلین دس۔۔
اسکا التجائیہ لہجہ۔۔ اسکی التجاء کرتی نگاہیں۔۔ وہ کرب سے مسکرائی۔۔
۔
“آج وہ سب سے محبت کرتی ہیں سوائے میرے۔۔ انھیں ہر انسان محسن لگتا ہے میرے علاوہ۔۔
اسکی بھاری آواز سماعت سے تک ٹکرائی۔۔
جھٹکے سے اٹھتی وہ ڈریسنگ پر رکھی ساری چیزیں اٹھا اٹھا کر دیوار پر مارنے لگی۔۔ پرفیوم۔۔ باڈی سپرے۔۔ لوشنز۔۔ ڈیکوریشن پیسز۔۔
وہ ایک ایک کر ساری چیزیں دیوار پر مار رہی تھی۔۔
۔
“جب یہ بات شروع سے میرے علم میں تھی تو بیلا کو بھی معلوم ہونی چاہئیے تھی بابا “۔۔
اسکا ایک اور جملہ۔۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھی تصویر بھی دیوار کا نشانہ بنی۔۔
۔
“بیلا کیا کر رہی ہو۔۔ دروازہ کھولو۔۔
یہ زوار کی آواز تھی۔۔
بیلا دروازہ کھولو میری جان۔۔
شیریں بری طرح روتی ہوئی اسے پکار رہی تھی۔۔
اس کے کمرے سے آتی توڑ پھوڑ کی آواز پر وہ سب وہاں آگئے تھے۔۔
پورے کمرے کی حالت قابل رحم بنانے کے بعد وہ اب تیزی سے کوئی چیز ڈھونڈھ رہی تھی۔۔
“بیلا بیٹا دروازہ کھولو۔۔ میری گڑیا۔۔ بابا سے بات کرو میری جان۔۔
سائیڈ ٹیبل کی ڈرول کارپیٹ پر الٹ کر وہ اندر موجود سامان کا جائزہ لینے لگی۔۔
۔
“سچ سنیں اور برداشت کریں۔۔ کسی اور کے کمرے میں نہیں اپنی بیوی کے کمرے میں آیا ہوں “بیلا ابراھیم ملک “۔۔
اسکی بھاری آواز سماعت میں ہتھوڑے برسا رہی تھی۔۔
تیز دھار چھوری ہاتھوں میں لیتی وہ طنزیہ انداز میں مسکرائی۔۔
۔
“بیلا دروازہ کھولیں۔۔
انکی آواز پر ابراھیم اور اطہر ملک بھی کمرے سے نکل آئے تھے۔۔
۔
“بیلا پلیز دروازہ کھولیں۔۔ ہم بات کر لینگے اس سے متعلق۔۔
اسے یوں کمرہ بند کئے دیکھ وہ کچھ گھنٹوں پہلے ہوا تماشا سرے سے فراموش کر گیا تھا۔۔ اس وقت صرف اسکی فکر تھی۔۔
“بیلا پلیز دروازہ کھولیں۔۔
وہ بری طرح دروازہ پیٹتا بےبسی سے چیخ رہا تھا۔۔
“یہ چابی لو اس سے کھولو۔۔
سدرہ بیگم نے ڈبلیکیٹ چابی اسکی جانب بڑھائی۔۔
کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولتے دل مسلسل اسکی سلامتی کی دعائیں کر رہا تھا۔۔
“بیلا۔۔
دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتے کمرے کی حالت دیکھ کر وہ بےبسی سے اسے پکارتا اسکی جانب آیا تھا۔۔
۔
“دد دور۔۔ دور رہنا مجھ سے۔۔ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔
سرخ ہوتی نگاہوں سے پیچھے کی جانب ہٹتی وہ لڑکھڑائی آواز میں بولی تھی۔۔
ابراھیم کے ساتھ شیریں نے بھی اسے حیرانی سے دیکھا۔۔ ایک ہاتھ پیچھے کی جانب کئے وہ مسلسل بہتی نگاہوں سے انہیں تکتی بامشکل آنکھیں کھولے کھڑی تھی۔۔
۔
“بیلا میری جان۔۔ بات سنیں میری۔۔ جو بھی ہوا اس میں میری غلطی تھی۔۔ میں تسلیم کر رہا ہوں اپنی غلطی۔۔ پلیز ایک بار تحمل سے میری بات سن لیں۔۔
نرم لہجے میں کہتا وہ آہستہ سے اسکے قریب آنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
۔
“میں نے کہا نا دور رہیں مجھ سے ابراھیم ملک۔۔ قریب نہیں آنا میرے۔۔ دد دور۔۔ دور ہٹو۔۔ ساری پوشیدہ محبتوں کے لئے بیلا کی ہی ذات رہ گئی ہے۔۔ ایک وہ ہیں ہیں جنہوں نے آج تک نا بیٹی سمجھا نا بیٹی کہا۔۔ اور اور اب یہ میرے شوہر نامدار کہیں سے اپنی محبت لئے نمودار ہو گئے ہیں۔۔ اتنی محبت تھی تو اس وقت کیوں نہیں آئے جب مجھے محبت کی۔۔ کسی کے سہارے کی ضرورت تھی۔۔
دوسرے ہاتھ میں پکڑی چھوری اسکی جانب کرتی وہ بامشکل بول رہی تھی۔۔
وہ اب بھی اپنے مخصوص شب خوابی کے لباس میں ملبوس تھی۔۔ جسکی پوری آستین سے اسکی کلائی چھپی ہوئی تھی۔۔ سرخ ہوتی آنکھوں سے پانی مسلسل پانی بہ رہا تھا۔۔ تکلیف سے اسکے لب کپکپا رہے تھے۔۔
۔
اشکوں سے کہو جم جائیں وہیں
جس چشمہء غم سے پھوٹے ہیں
آہوں سے کہو تھم جائیں وہیں
یہ جذبے شاید جھوٹے ہیں
مت ہاتھ بڑھاؤ چاہت کا
انجان بنو ، انجان رہو۔۔
۔
“خو۔۔ خون۔۔ بیلا کیا کیا ہے آپ نے۔۔
چھوری میں سے بوند بوند بہتا خون دیکھ کر ابراھیم تیر کی سی تیزی سے اسکی جانب آیا۔۔
“چھ چھوڑیں مم مجھے۔۔ نن نہیں ہوں میں آپ کی بیوی۔۔
وہ بند ہوتی آنکھوں۔۔ شل پڑھتے وجود کے ساتھ بھی مزاہمت کر رہی تھی۔۔
اسکی دوسری کلائی اپنی آگے کرتے وہ ساکت رہ گیا تھا۔۔
اسکی کلائی سے بھل بھل بہتا خون ایک لمحے کے لئے ان سب کو ساکت کر گیا تھا۔۔
۔
“بیلا۔۔ یہ کیا کیا آپ نے ۔۔
اسے اپنی آواز کسی گہری کھائی سے آتی محسوس ہوئی تھی۔۔
شیریں رو رہی تھی۔۔ روتے ہوئے اسے پکار رہی تھی۔۔ زوار بیلا کو ہسپتال لے کر جانے کہ رہا تھا۔۔ اطہر صاحب آوازیں دے رہے تھے۔۔
وہ ساکت ہو گیا تھا۔۔ اسے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا سوائے اپنے بازوؤں میں جھولتے اسکے وجود کے۔۔
“مم میں نے کہا تھا نا۔۔ مم میرے قریب نہیں آنا”۔۔
وہ فاتحانہ مسکراہٹ لبوں پر لئے بول رہی تھی۔۔ اسے صرف اسکی آواز آ رہی تھی۔۔ صرف انا کی جنگ جیتنے کے لئے اس لڑکی نے اپنی رگیں کاٹ لی تھیں۔۔
اسکے لبوں پر فاتح کی مسکراہٹ تھی۔۔ ابراھیم کی آنکھوں سے دو آنسوں ٹوٹ کر اسکے چہرے پر گرتے اسکی تھوڑی کے گڑھے میں گم ہوئے تھے۔۔
اپنی انا کے لئے وہ اپنی ذات کو فنا کرنے پر تیار تھی۔۔
۔
یہ رسم گراں ہے لوگوں پر۔
مشکل نہ بنو ، آسان رہو
جو بھول چکے ہومدت سے
اُس درد کو پھر آغاز نہ دو
جانے دو انہیں ، آواز نہ دو
آواز نہ دو ، آواز نہ دو
(ظہیر احمد)
۔
“ابراھیم بھائی۔۔ پپ پلیز میری بیلا۔۔ اسے بچا لیں۔۔ پلیز اٹھیں۔۔
شیریں بری طرح روتی اسے جھنجھوڑ رہی تھی۔۔
۔
“بیلا۔۔
وہ زیر لب بولا۔۔ ہاں بیلا اسکی بیوی۔۔ اسکی محبت جو اس وقت بےسدھ سی اسکے بازوؤں میں جھول رہی تھی۔۔
اسکی کلائی سے بہتا خون دیکھ کر وہ ہوش میں آیا۔۔
“گاڑی۔۔ گاڑی نکالو زوار۔۔
اسے بازوؤں میں اٹھایا وہ سرعت سے اٹھ کھڑا ہوا،۔
اسکا خون تیزی سے بہ رہا تھا۔۔ گاڑی میں بیٹھ کر اس نے اپنا رومال کس کر اسکی کلائی میں باندھ کر خون روکنے کی کوشش کی۔۔
۔
“جو کہے کے آف شولڈز پہننا چاہتی ہو ضرور پہنو”
“جسے کوئی فرق نہیں پڑھے کے میں دوپٹہ لیتی ہوں یا نہیں لیتی۔۔
“اور میں اس سے عشق کرونگی۔۔ اپنی ذات کی تمام محبتیں اس ایک شخص کے حوالے کر دونگی “۔۔
آج ہی کے دن چند گھنٹے پہلے پڑھی اسکی تمام خواہشیں اسکے ذہن کے پردوں پر ابھر رہی تھیں۔۔ اسکی کلائی نرمی سے تھامے اسے لبوں سے لگاتے وہ زیر لب سورتیں پڑھ کر اس پر پھونک رہا تھا۔۔
وہ اسکی حرکتوں پر غصّہ کرتا تھا۔۔اس پر سختی کرتا تھا۔۔ کہیں نا کہیں اسکی حرکتیں اس پر سختی پر مجبور کرتی تھیں۔۔
وہ کتنی عزیز تھی اسے آج انداز ہو رہا تھا۔۔
۔
ہسپتال پہنچتے ہی خون زیادہ بہ جانے کی وجہ سے اسے ایمرجینسی میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔۔ وہ چہرہ ہاتھوں میں گرائے پلر سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔ سدرہ بیگم تسبیح پر ورد کر رہی تھیں۔۔
آج کی رات ان پر ہی بہت بھاری گزر رہی تھی۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہسپتال سے باہر پارک کے بینچ پر آ بیٹھا۔۔
سر بینچ کی پشت سے ٹکائے آنکھوں کے گلابی کنارے آہستہ آہستہ بھیگ رہے تھے ۔۔ اتنے سالوں سے سینت سینت کر رکھی محبت کو اسکی ایک غلطی نے کس دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا۔۔
وہ لڑکی جسکی آنکھوں میں ہمیشہ اپنے لئے محبت دیکھنے کی خواہش کی تھی وہی لڑکی اس سے اس حد تک نفرت کرتی تھی۔۔ اسکی دسترس میں آنے سے اسے خود کشی کرنا بہتر لگا۔۔
۔
رات کی تاریکی صبح کے اجالے تلے چھپ گئی تھی۔۔ اذان کی میٹھی آواز حد سے زیادہ تھکے اعصاب کو الگ ہی طرح کی تسکین بخش رہی تھی۔۔
“اَللّهُ اَكْبَر ۔۔
(اللہ‎ سب سے بڑا ہے )
کتنا واضح علان تھا یہ سمجھنے والوں کے لئے۔۔ عقل رکھنے والوں کے لئے۔۔ وہ رب جو دل کا اصل میکن ہے وہ کیسے اسے ٹوٹتے دیکھ سکتا تھا۔۔ کتنے پیار سے اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔۔
۔
اَللّهُ اَكْبَر
اسکے لب سرگوشی کی سی آواز میں واں ہوئے۔۔ وہ اعتراف کر رہا تھا۔۔
“” اللہ‎ سب سے بڑا ہے “”
اس پریشانی سے بڑا جس میں وہ گھرا ہوا ہے۔۔
بیلا کی بدگمانی سے بڑا۔۔
اسکی نفرت سے بڑا۔۔
وہ تو ساری چیزوں پر قادر ہے۔۔وہ اسکا دل پھیر سکتا ہے۔۔
اسکی آنکھوں میں چمک بڑھ سی گئی تھی۔۔
“آپ تو واقف ہیں۔۔ آپ تو دلوں کے بھید جانتے ہیں۔۔ آپ بدل سکتے ہیں انکا دل میرے لئے۔۔ آپ قادر ہیں نفرتوں پر محبتوں کو حاوی کرنے پر۔۔ کر دیں میرے مولا۔۔ انکا دل میرے لئے پھیر دیں۔۔ انکی بدگمانی ختم کر دے میرے رب۔۔
اسکے لب ساکت تھے۔۔ آنکھیں بند تھیں۔۔ بند آنکھوں سے بوند بوند اسکی داڑھی میں جذب ہوتے آنسوں اسکی اندرونی تکلیف کو واضح کر رہے تھے ۔۔
۔
“بھائی۔۔
زوار کی آواز پر وہ چہرے پر ہاتھ پھیرتا خود کو کمپوز کرنے لگا۔۔
“وہ ہوش میں آ گئی ہے۔۔
وہ تھکے تھکے انداز میں کہتا اسکے ساتھ بیٹھ گیا۔۔ اپنے بھائی کو اس سے پہلے اس نے اس طرح بکھرتے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔
“وہ کہ رہی ہے۔۔ اسے آپ سے طلاق چاہئیے۔۔ ورنہ وہ بار بار یہی کرے گی۔۔
۔
وہ ضبط سے آنکھیں میچ گیا۔۔ یہ لڑکی اسکی دھڑکنوں کو روکنے کی وجہ بنے گی اسے یقین ہو گیا تھا۔۔
“ابھی میری دسترس میں بھی نہیں آئیں۔۔ انھیں مجھ سے رہائی چاہئے انھیں۔۔
وہ کرب سے مسکرایا۔۔ زوار تاصف سے اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔ جو کچھ بھی ہو رہا تھا اسکے اختیار میں کچھ نہیں رہا تھا۔۔ ایک طرف بیلا تھی جو اسے چھوٹی بہنوں کی طرح عزیز تھی۔۔
ایک طرف ابراھیم تھا اسکا جان سے پیارا بھائی۔۔
۔
“ٹھیک ہیں وہ ؟
کافی دیر کی خاموشی کے بعد وہ آہستہ سے بولا۔۔
زوار اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔ کون کہتا تھا بیلا کو محبت نہیں ملتی۔۔ کل رات سے وہ گھر کے ایک ایک فرد کو جس طرح تڑپتے دیکھ رہا تھا وہ دیکھ لیتی تو شاید خود پر رشک کرتی۔۔
۔
“ویکنیس ہے۔۔
اس نے پرسوچ انداز میں جواب دیا۔۔ اماں جان اور شیریں کو گھر لے جاؤ۔۔ وہ فریش ہو جائیں تو لے آنا۔۔ بیلا کو کل تک ڈسچارج کرینگے۔۔ میں نماز ادا کر کے آتا ہوں۔۔ چاچو کو بھی کہو گھر جا کر فریش ہوجائے میں اور بابا یہاں ہیں بیلا کے پاس ۔۔
وہ سنجیدگی سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔


“پوگو۔۔ پوگو۔۔ میری بات تو سنو۔۔
اپنے ڈرپ لگے ہاتھ سے وہ مسلسل اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتی اسے پکار رہی تھی۔۔
جو اسکے بستر میں منہ چھپائے بری طرح رو رہا تھا۔۔
صبح کیفے نا کھلنے پر اس نے اطہر صاحب کو کال کی تھی تو انہوں نے مختصراً اسے بیلا کی ہسپتال میں موجودگی سے متعلق اطلاع دی تھی۔۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے وہ انکی گڑیا کا سیکرٹ پارٹنر تھا۔۔ اس سے یونہی بھی کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی تھی۔۔
۔
“پوگو۔۔ اٹھو فورا۔۔ مری نہیں ہوں زندہ ہوں میں۔۔ میرے مرنے پر اس طرح رونق لگا لینا تم۔۔
اسے کسی طور نہیں اٹھتا دیکھ اس نے مصنوعی خفگی سے کہا۔۔
وہ نفی میں گردن ہلاتا مزید بری طرح رونے لگا۔۔
۔
“پوگو۔۔ اٹھ جاؤ میرے بچے۔۔ کچھ نہیں ہوا یار۔۔
وہ مسکراتی ہوئی ایک ہاتھ سے اسکا سر اونچا کرنے لگی۔۔
۔
“پوگو مجھے درد ہو رہا ہے۔۔
اس نے آخری حربہ آزمایا۔۔
۔
“کہاں درد ہو رہا ہے باجی۔۔ زیادہ درد ہو رہا ہے نا۔۔ میں ڈاکٹر۔۔ زوار بھیا کو کہتا ہوں ڈاکٹر کو بلا دیں۔۔
وہ بھرائی آواز میں کہتا پریشانی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ بیلا کھل کر مسکرا اٹھی۔۔
“بیوقوف۔۔
۔
“آپ نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ باجی۔۔ اب ایسا کچھ کرنا ہو تو پہلے پوگو کو زہر دے دیجیے گا۔۔
اس نے ایک بار پھر روتے ہوئے کہا۔۔ رو رو اسکی سفید رنگت سرخ ہو چکی تھی۔۔
جب سے اس نے بیلا کے ہسپتال میں موجود ہونے کی خبر سنی تھی وہ جب سے ہی رو رہا تھا ۔۔
۔
“رونے منع کیا ہے نا تمہیں۔۔ پہلے بھی کہا ہے مرد ہو تم روتے نہیں ہیں اس طرح۔
آنسوں صاف کرنے کا اشارہ کرتی وہ اپنے مخصوص انداز میں ڈپٹ رہی تھی۔۔
خود سے اسکی اٹیچمنٹ کا اسے اچھی طرح اندازہ تھا۔۔
۔
“مرد ہوں تو کیا دل نکال کر فریزر میں رکھ دوں۔۔ تکلیف ہو رہی ہے مجھے تو رو رہا ہوں نا۔۔
بیلا کی بات پر وہ تنک کر بولا۔۔ اسے یوں بھی آج بیلا پر محبت غصّہ تھا۔۔
۔
“میں سچ کہ رہا ہوں اب آپ نے ایسی کوئی حرکت کی نا میں کیفے کی نوکری چھوڑ کر دور چلا جاؤنگا۔۔
وہ دور پر پورا زور دیتے آنکھیں نکال کر اسے دیکھتا گویا دھمکا رہا تھا۔۔
۔
“اچھا سنو۔۔ اس باکس میں پھول تھے آج ؟
اس نے رازداری سے سوال کیا۔۔
“وہ مسٹری باکس۔۔
لب گول گھماتے وہ سرعت سے اسکی جانب گھوما۔۔ بیلا نے جلدی سے اثبات میں گردن ہلائی۔
اندر داخل ہوتا ابراھیم دروازے پر ہی ٹھہر گیا۔۔
“تم دیکھنا رات تک وہاں پھول ضرور آئینگے۔۔ وہ مجھے بھول ہی نہیں سکتا ایک دن بھی نہیں۔۔ اسے میں یاد رہتی ہوں پوگو۔۔ وہ میری ساری تکلیفیں جان جاتا ہے۔۔
کتنی محبت سے ذکر کر رہی تھی وہ اس انجان شخص کا۔۔
ابراھیم کو انجانے میں خود سے جلن محسوس ہونے لگی تھی۔۔
۔
“زندگی سارے مذاق میرے ہی ساتھ کیوں کرتی ہے پوگو۔۔
ابھی دن ہی کتنے ہوئے تھے پوگو اپنی زندگی خوبصورت لگنے لگی تھی۔۔ چاہے جانے کا خوبصورت احساس محسوس کرتے ابھی دن ہی کتنے ہوئے تھے۔۔ کوئی ہے جو میری ذات سے واقف تھا۔۔ اس بیلا سے واقف تھا جسے کسی نے دیکھا ہی نہیں۔۔ یہی تو میں چاہتی تھی۔۔ جو کوئی بھی میری زندگی میں آئے وہ میری ذات کے پرتوں سے ہٹ کر میری روح کو دیکھے۔۔ ان پر لگے زخموں پر مرہم رکھے۔۔ اور وہ ایسا ہی ہے۔۔ اسے مجھ سے کوئی غرض نہیں۔۔ اسے محبت سے غرض ہے۔۔ اور مجھے اس سے۔۔ اب جب سب ٹھیک لگنے لگا تھا تو اب یہ نئی مصیبت۔۔ جس شخص نے ہر لمحے اپنے ہر عمل سے مجھے اذیت میں مبتلا رکھا وہ میرا شوہر نکل آیا۔۔
تم بتاؤ میں کیا کرتی۔۔ میرا دل چاہ رہا تھا اسی چھوری سے خود کو بری طرح کاٹ ڈالوں۔۔ بےرحمی سے اپنی رگوں میں پھیرتی چلی جاؤں۔۔
۔
باہر کھڑا ابراھیم ساکت رہ گیا۔۔ وہ اذیت پسندی کی انتہا پر تھی۔۔ صرف اس لئے کے وہ اسکی بیوی تھی۔۔؟ یہ جانے بغیر کی جس شخص کی محبت میں وہ اس سے دور جانا چاہتی ہے۔۔ اس دور جانے کے بعد بھی اپنی محبت کے خاطر اسے اسکے پاس ہی لوٹنا ہے۔۔
“اگر بیلا کو پتہ چل گیا کے جس سے وہ اتنی محبت کرتی ہیں وہ وہی شخص ہے جسکی وہ شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی تو وہ کیا کرے گی۔۔
وہ دراب سے بھی نفرت کرنے لگے گی ۔۔
اسکے دل سے جیسے آواز آئی تھی۔۔
۔
“نہیں مجھے بیلا کی محبت چاہئیے ابراھیم سے وہ نفرت کرتی ہیں۔۔ میں اپنی حقیقت بتا کر انکی محبت نہیں کھو سکتا۔۔ میں انھیں نہیں پتہ چلنے دونگا۔۔
اس نے دل ہی دل میں ارادہ کیا تھا۔۔
۔


۔
“شیریں بیلا ٹھیک ہے۔۔ اسے ہوش بھی آ گیا ہے۔۔ آپ مل کر آئیں ہیں نا اس سے پھر کیوں اس طرح رو رہی ہیں۔۔
اسے چھت پر اکیلے کھڑے روتے دیکھ کر اسکا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔۔
۔
“تم نے دیکھا نہیں اسکا ہاتھ۔۔ کتنا گہرا گھاؤ ہے۔۔ وہ وہ کتنی تکلیف میں تھی۔۔ تم نے دیکھا اس سے ہاتھ نہیں اٹھایا جا رہا تھا۔۔
وہ مزید بری طرح روتی اسے بیلا کی کیفیت بتانے لگی۔۔
۔
“زخم گہرا ہے نا شیریں اس لئے تکلیف ہو رہی ہے اسے۔۔ ٹھیک ہو جائے گی وہ۔۔ کل تک ڈسچارج بھی ہو جائے گی۔۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کن لفظوں میں اسے دلاسہ دے کے وہ رونا بند کر دے۔۔ اسے یوں روتے دیکھ کر دل کی جو کیفیت ہو رہی تھی وہ اسے بتا بھی نہیں سکتا تھا۔۔ ایک بار اظہار کر کے نتیجہ دیکھ چکا تھا۔۔
۔
“مم میں اسے اب اکیلے رہنے نہیں دونگی۔۔ اس اسے اپنے کمرے میں اپنے ساتھ رکھونگی۔۔ اس نے ایک بار میرا نہیں سوچا زوار۔۔ اس اسے کچھ ہو جاتا تو۔۔
۔
“اللہ‎ کا کرم ہے کچھ نہیں ہوا اسے آپ اللہ‎ کا شکر ادا کریں نا روئیں تو نہیں اس طرح۔۔
وہ اثبات میں سر ہلا کر آنسوں صاف کرتی سسکیاں روکنے کی کوشش کرنے لگی۔
۔
” آپ فریش ہو جائیں۔۔ میں آپ کو پھر ہسپتال لے جاؤنگا۔۔ لیکن رونا نہیں ہے دوبارہ پلیز۔۔
اس نے نرم لہجے میں نا رونے کی تاکید کی۔۔


۔
“پوگو۔۔ باہر جاؤ بیٹا۔۔
اسکی بھاری آواز کمرے میں گونجی۔۔ پوگو شرافت سے بیلا کے قریب سے اٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔۔
وہ آنکھیں موندھ کر رخ موڑھ گئی۔۔
اسکے انداز پر وہ زخمی سا مسکرایا۔۔
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا وہ اسکے بلکل سامنے آ کھڑا ہوا۔۔ اسکے کلون کی خوشبو بیلا کو اپنے نتھوں میں گھستی محسوس ہو رہی تھی۔۔ دھڑکنیں بلا وجہ ہی شور کرنے لگیں تھیں۔۔
کتنے ہی لمحے خاموشی سے وہ اسکی پلکوں کی لرزش دیکھتا رہا۔۔
وہ لب بھینج کر لیٹی خود پر اسکی نظروں کی تپش باخوبی محسوس کر سکتی تھی۔۔
دل کے ہزار شور کرنے کے باوجود بھی وہ خود کو روک نہیں سکا۔۔ محبت اس نے کی تھی جھکنا بھی اسے ہی تھا۔۔ وہ تو سرے سے ہی محبت سے انکاری تھی۔۔۔
اپنے عمل سے اس نے ثابت بھی کر دیا تھا۔۔
اسکی پیشانی پر لب رکھتے وہ اپنی تمام تر شدّت۔۔ ساری تکلیفیں۔۔ اپنے ایک لمس کے ذریعے اسے محسوس کرواتے وہ خود بھی کرب سے آنکھیں میچ گیا تھا۔۔
اسکے لمس میں اتنی شدّت تھی کے ایک پل کو وہ سن سی ہو کر رہ گئی ۔۔وہ چاہ کر بھی اسے دھتکار نہیں پائی تھی۔۔اسکی گرم سانسوں سے اسے چہرہ جھلستا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔ اس نے چادر مٹھیوں میں بھینج لی تھیں۔۔
کتنی ہی دیر وہ اسکے ماتھے پر لب رکھے کھڑا رہا۔۔ آہستہ سے پیچھے ہو کر اسے دیکھتے وہ اسکے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا جہاں کچھ دیر پہلے پوگو بیٹھا ہوا تھا۔۔
وہ اب بھی آنکھیں بند کئے لیٹی ہوئی تھی۔۔ بھینجی ہوئی مٹھیاں۔۔ کانپتے لب۔۔
وہ سراپا امتحان تھی۔۔
دائیں ہاتھ کی کلائی میں سفید پٹی بندھی ہوئی تھی جو شاید سٹیچز لگانے کے بعد کی گئی تھی۔۔ دوسرے ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی۔۔
۔
“کیوں کیا یہ بیلا۔۔
وہ آرزردگی سے پوچھ رہا تھا۔۔
۔
“میں آپ کو جواب دہ نہیں ہوں۔۔
وہ دھیرے سے بولی۔۔
“کیا واقعی۔۔
وہ ہلکا سا ہنسا۔۔
۔
“جج جی۔۔ نہیں ہوں آپ کو جواب دہ۔۔
وہ بھرائے لہجے میں بولی۔۔ جتنا وہ ضبط کی کوشش کر رہی تھی اتنا ہی اتنے ہی آنسوں امڈ امڈ کر آنکھوں میں آ رہے تھے۔۔
نرس اندر داخل ہوئی تو وہ کچھ پیچھے ہوا۔۔
“ویکنیس ابھی زیادہ ہے۔۔ آپ زیادہ باتیں نہیں کریں۔۔
اسکے بازو میں انجکشن پیوست کرتی وہ پیشہ وارانہ انداز میں ھدایت بھی کر رہی تھی۔۔
وہ ہلکا سا سسکی۔۔
ابراھیم فورا اسکی جانب جھکا تھا۔۔ نرس حیران نظروں سے انھیں تکتی باہر چلی گئی۔۔
“کیا ہوا زیادہ درد ہے۔۔
وہ فکر مندی سے اسکی جانب دیکھتا پوچھ رہا تھا۔۔
بیلا نے اس پورے عرصے میں پہلی بار اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ شرٹ کی آستین پر خون کے نشانات تھے جو مدھم پڑھ گئے تھے شاید نماز پڑھنے کے لئے اسے واش کیا تھا ۔۔
“ابراھیم بھائی ایک لمحے کے لئے تمہارے قریب سے نہیں ہٹے”
اسے شیریں کی کچھ دیر پہلے کہی بات یاد آئی۔۔
بکھرے بال۔۔ سرخ آنکھیں اور آنکھوں کے سوجے پپوٹے جو خبر اسے سنانا چاہ رہے تھے فلحال وہ یقین نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔
اسکی یہ حالت اس کے لئے تھی۔۔ اسکے لئے یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔
۔
“آپ رخصتی نہیں چاہتی ابھی ؟
دوبارہ اپنی جگہ پر بیٹھتے اس نے نرمی سے سوال کیا۔۔ وہ دھیرے سے سر نفی میں ہلا گئی۔۔
۔
“کب کبھی نہیں۔۔ کبھی بھی نہیں چاہتی۔۔
جلدی سے تصحیح کی گئی۔۔ مبادہ وہ کچھ غلط ہی نا سمجھ لے۔۔
۔
“دو چیزوں عشق میں کہیں گنجائش نہیں ہوتی بیلا۔۔
انا اور شرک کی۔۔انا جب تک، فنا کے هاتھ په بیعت نہیں کرتی، انسان کا عشق سچا نہیں ہو سکتا۔۔ میں آپ کو اپنی انا سونپ رہا ہوں بیلا۔۔ جانتی ہیں نا ایک مرد اپنی انا کی جنگ کس سے ہارتا ہے۔۔
اس کے بازو کو غیر محسوس انداز میں سہلاتے وہ نرمی سے سوال کر رہا تھا۔۔
اسکی آواز کہیں گم ہو گئی تھی۔۔ وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں سر نفی میں ہلا رہی تھی۔۔ جیسے وہ اور کچھ سننا چاہتی ہو۔۔ یہی نرم لہجہ۔۔ یہی محبت بھرا انداز تو نہیں تھا اسکی زندگی میں۔۔
۔
“جس سے وہ عشق کرتا ہے۔۔ مرد ہو یا عورت انا کی جنگ انسان اسی ایک شخص سے ہارتا ہے جس پر دل ہار گیا ہو۔۔ میں تو آپ پر دل ہار گیا ہوں بیلا۔۔ آپ سے مقابلہ ہی نہیں کرنا چاہتا۔
۔
“نگاہیں اگر کسی ایک چہرے پر نا ٹکیں تو پھر عشق کی عطا چھین لی جاتی ہے۔۔ عشق کا در بند کر دیا جاتا ہے۔۔ وہ پھر کبھی نہیں کھلتا۔۔ میری نگاہیں آپ کے سوا کسی پر ٹکی ہی نہیں بیلا۔۔ کسی منظر پر نہیں۔۔ کسی چہرے پر نہیں ۔۔ آپ نے ایک پہلو دیکھا کے آپ کے انجان ہونے کے باوجود میں آپ کی اجازت کے بغیر آپ کے قریب آیا۔۔ میری غلطی ہے۔۔ لیکن یہ گناہ نہیں ہے بیلا۔۔
آپ نے دوسرا پہلو نہیں دیکھا کے آپ کے انجان ہونے کے باوجود میں نے اپنی ذات فقط آپ کے لئے مختص رکھی۔۔ آپ کے علاوہ نا کسی کو دیکھا نا کسی کو سوچا۔۔
آپ نے اس حرکت سے واضح کر دیا آپ کے لئے رشتے نہیں آپ کی انا اہم ہے اور اب میں اپنے فیصلے سے واضح کر رہا ہوں میرے لئے آپ اہم ہیں۔۔ میرا عشق اہم ہے۔۔ جب تک آپ اپنی رضامندی سے رخصتی کے آمادگی ظاہر نہیں کرینگی میری طرف سے کوئی دباؤ نہیں ہوگا۔۔ جو غلطی میں نے آپ کی اجازت کے بغیر آپ کے قریب آ کر اسکی یہ بہت بڑی سزا خود کے تجویز کی ہے میں نے بیلا۔۔ اس سے بڑی سزا آپ مجھے دینگی تو میری سانسیں تھم جائینگی۔۔
آپ جتنا وقت چاہیں لے لیں۔۔ ساری زندگی لے لیں۔۔ لیکن لوٹ کر آپ کو میرے پاس آنا ہے بیلا۔۔ آپکا نام میرے نام کے ساتھ جڑا رہے گا تاعمر۔۔ یا جب تک میری زندگی ہے جب تک۔۔ اسکے بعد آپ آزاد ہیں۔۔
اسکی کلائی پر بندھی پٹی پر پوری شدّت سے لب رکھتے وہ روم سے نکل گیا۔۔


جاری ہے۔۔
آپ کی تعریف یا تنقید قابل احترام ہوگی۔۔
خوش رہیں پیارے لوگوں۔۔❤