Dil Karaye Ke Liye Khali Nahin By Readelle50048 Episode 24 (part 1)
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24 (part 1)
“” دل کرائے لے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٢۴ (پارٹ ١)
آسمان پر تاروں کی اک دنیا بسی تھی۔۔ رات کا اندھیرا بھی آج دلکش تھا۔۔ روشن ،حسین اور پر کشش۔۔ کچھ دیر پہلے ہی افضل ملک اسے اسکے کمرے تک چھوڑ کر گئے تھے۔۔ اس کمرے میں وہ کبھی نہیں آئی تھی۔۔ بلیک اور براؤن کے کومبینیشن میں سیٹ وہ کمرہ اپنے مکین کی نفاست پسند طبیعت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔ اسکے کمرے میں فرنیچر زیادہ نہیں تھے۔۔ جہازی سائز پلنگ۔۔ وارڈراپ۔۔ اور ڈریسنگ کے علاوہ بیڈ کے سائیڈ ٹیبل۔۔ وہ کمرہ سادہ مگر خوبصورت تھا۔۔ وہ حیرانی سے سائیڈ ٹیبل پر رکھی اپنی تصویر کی جانب بڑھی۔۔ وہ اسکی تصویر تھی۔۔ ابراھیم کے کمرے میں اپنی تصویر کی موجودگی اسے حیرت میں مبتلا کر رہی تھی۔۔ ارد گرد گھوم کر پورے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی۔۔
کمرے کے اندر داخل ہوتے ابراھیم نے مسکرا کر اسے اپنے کمرے میں اسکی موجودگی دیکھی۔۔ پورے حق سے اپنے کمرے میں گھومتی وہ کتنی حسین لگی تھی اسے۔۔
پرستان کا عکس تھا یا اس سے کہیں خوبصورت، دید سے با وضو دل کی حکایتیں ، جو محبت کی دلیلیں بن کر افق سے ٹکرائی تھیں۔۔
وہ اس سے نمودار ہونے والی روشنی میں محبت تلاش رہا تھا۔۔ دل نے حکایتیں بدل دی تھیں۔۔
“بیلا ابراھیم ملک”_ اسکی آواز پر وہ اسکی جانب گھومی۔۔ وہ آنکھوں میں محبتوں کا جہاں آباد کئے اسے تک رہا تھا۔۔ دلہن کے روپ میں پور پور سجی وہ اسکا ضبط آزما رہی تھی۔۔ وہ خاموش تھی۔۔ “”آپ جب سامنے ہوتی ہیں ،تو لفظ چپ اور دل ساکن بلکل اچھے نہیں لگتے آپ خدارا رحم کیجیے !! لبوں کی جنبش سے لفظوں کی مالا بُن کر دل کی دھڑکن سے ساز بنائیے تا کہ لب اور دل ملکر ایک سُر تال قائم کر سکیں جس سے تمہاری میری دُھن ترتیب پا کر امر ہو سکے””_
محبت پاش نظروں سے اسکی جانب دیکھتا وہ مخمور لہجے میں بول رہا تھا۔۔
۔
“مجھ سے یہ فلمی باتیں نہیں کیا کریں۔۔ زیادہ خوش فہم ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔
وہ خجل سی ہو کر کہتی اسکے پاس سے گزرنے لگی تھی۔۔
وہ شانوں سے اسے تھامتا اپنے مقابل کھڑا کر چکا تھا۔۔
“اب سے آپ کے جب بھی قریب آؤنگا آپ کے مکمّل ہوش حواس میں آؤنگا۔۔ ایک بار کی غلطی کی سزا آپ آج تک مجھے دے رہی ہیں۔۔
پوری شدّت سے اسکے ماتھے پر سجے جھومر پر لب رکھتے وہ سنجیدہ سا بولا۔۔
۔
“چھوڑیں مجھے۔۔
وہ سرخ ہوتی طلملائی تھی۔۔
۔
“بہت خوبصورت لگ رہی ہیں آپ۔۔
نتھلی کو ہولے سے چھوتا وہ مسکرا کر بولا۔۔
۔
“بابا نے نہیں کہا۔۔
وہ پل بھر کو اداس سی ہوئی تھی۔۔ ابراھیم نے لب بھینچ کر اسکے اداس چہرے کی جانب دیکھا۔۔ اس وقت اس کے چہرے پر بچوں جیسی اداسی تھی۔۔
۔
“آئیں میرے ساتھ۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔۔
۔
“اتنی رات میں کہاں۔۔
وہ الجھ کر اسکی جانب دیکھنے لگی۔۔
۔
“آجائیں۔۔ آپ کے چہرے کی اداسی دور کرنے۔۔
وہ سنجیدہ سا بولتا اسکا ہاتھ تھامے کمرے سے نکلا۔۔
۔
چاندنی رات کی دودھیا روشنی نے رات کی بڑھتی تاریکی پر دودھیا چادر تانی ہوئی تھی۔۔ کمرے میں موجود وہ دونوں فریق اپنی اپنی سوچوں میں گم گہرے کرب میں مبتلا تھے۔۔ وہ دونوں جو زندگی کے ہمسفر تھے۔۔ لیکن سمندر کے دو کناروں کی مانند۔۔ جو ساتھ چلتے ہیں ازل سے۔۔ لیکن ملاپ سے بہت پرے۔۔
بیلا افضل ملک کا سجا سنوارہ وہ روپ ان دو فریقوں کے دلوں پر اوس کی مانند پڑا تھا۔۔
بیلا افضل ملک۔۔ انکی زندگی کی وہ سچائی تھی جسے وہ دونوں ہی بہت چاہتے تھے۔۔
سدرہ بیگم نے گہری سانس لے کر کھڑکی کے پاس کھڑے افضل ملک کی جانب دیکھا۔۔ وہ دونوں ہی واقف تھے کے آج کی رات ان پر بہت بھاری گزرنے والی تھی۔۔ کرب مختلف تھے۔۔ لیکن وجہ ایک ہی تھی۔۔
“افروز احمد_ افروز احمد کا چاند سا سراپا جو آج ہو بہو بیلا افضل ملک میں نظر آیا تھا۔۔ ۔ “بابا_
بیلا کی آواز نے ان دونوں کو حال میں لا پٹخا تھا۔۔ چوٹ بہت گہری لگی تھی۔۔
افضل ملک نے سرعت سے اپنی آنکھیں صاف کیں۔۔
۔
“بابا کی جان۔۔ میری چڑیا۔۔ یہاں کیا کر رہا ہے میرا بچہ۔۔
وہ مسکراتے ہوئے اسکی جانب گھومے۔۔ سدرہ نے حسرت سے انکی مسکراہٹ دیکھی۔۔
دوسری نظر دروازے پر کھڑی دلہن بنی بیلا کی جانب ڈالی۔۔
آج انہیں احساس ہوا تھا وہ تو ہو بہو ویسی ہی تھی۔۔ اتنی ہی خوبصورت۔۔ اتنی ہی حسین۔۔ ویسی ہی کالی آنکھیں۔۔ کالے بال۔۔ ویسے ہی چاند سا چہرہ۔۔
اور تھوڑی کا وہ گڑھا۔۔
فرق تھا تو آنکھوں کی چمک کا۔۔ افروز کی آنکھیں شرارت سے چمکتی تھیں۔۔
لیکن بیلا _ اسکی آنکھیں میں تشنگی تھی۔۔ حسرت تھی جو واضح نظر آتی تھی۔۔ فرق تھا لبوں کی مسکراہٹ کا۔۔ افروز کی مسکراہٹ میں کرب نہیں ہوتا تھا۔۔ ۔ “افروز_
ان دونوں کے ہی لبوں سے بے آواز پکار نکلی تھی۔۔
وہ دونوں ہی ٹرانس کی سی کیفیت میں دروازے پر کھڑی دلہن بنی بیلا کو دیکھ رہے تھے۔۔
آج سے پہلے وہ کبھی اتنا تیار نہیں ہوئی تھی۔۔ کبھی اس طرح کے کپڑے نہیں پہنے تھے اس نے۔۔ شاید اس لئے آج سے پہلے انہیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا تھا کے وہ ہو بہو افروز احمد کا عکس تھی۔۔
۔
“بابا_ ان دونوں کو یوں اپنی جانب تکتے پا کر اس نے الجھ کر ایک بار انہیں پکارا۔۔ “جی_ جی میرا بچہ۔۔
وہ جیسے ہوش میں آئے تھے وہیں سدرہ نے اپنی سسکی دبائی تھی۔۔ وہ افروز نہیں وہ تو بیلا تھی۔۔
۔
“بیلا، ابراھیم۔۔ کیا ہوا سب ٹھیک ہے نا بچوں۔۔؟”
وہ کافی حد تک خود کو سنبھال چکے تھے۔ اس پہر بیلا کو اپنے کمرے میں دیکھ کر دل کو ہزار خدشوں نے گھیر لیا تھا۔۔
۔
“بابا_ آپ یاد آ رہے ہیں۔۔ وہ بچوں جیسے منہ بسورتے بولی تھی۔۔ نظریں سدرہ بیگم پر ہی ٹکی تھیں۔۔ ابراھیم نے بغور اسکی جانب دیکھا۔۔ اسکی آنکھیں اسکے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہی تھیں۔۔ انوکھی دلہن تھی وہ۔۔ شادی کی رات بابا کی یاد آ رہی تھی اسے۔۔ ۔ “بابا کی جان_
وہ نم آنکھوں سے ہنس پڑے تھے۔۔ وہ انکا عشق تھی۔۔ انکی زندگی کا سرمایا تھی۔۔ انکے عشق کی نشانی تھی۔۔
۔
“دیکھ لیں انکے ظلم چاچو۔۔
ابراھیم اسکا ہاتھ تھامے ہنستے ہوئے افضل صاحب کے قریب آیا۔۔
انہوں نے آگے بڑھ کر اسکے ماتھے پر پیار کرتے اسے سینے سے لگایا۔۔ جلتے دل کو قرار سا آ گیا تھا۔۔
” اتنے پریشان لگ رہے ہیں آپ مجھے۔۔ آپ نے پیار بھی نہیں کیا۔۔ اتنا تیار ہوئی ہوں میں آج۔۔ میری تعریف بھی نہیں کی آپ نے۔۔ آپ کے کہنے پر یہ ڈریس پہنا میں نے بابا۔۔ ورنہ میں اپنی جینس ہی پہنتی۔۔
وہ انکے سینے سے لگی لاڈ سے بولی۔۔ ابراھیم کی آنکھیں مسکرا اٹھی تھیں۔۔
۔
“نہیں میرے بچے پریشان نہیں ہیں بابا۔۔ آج میری بیٹی کی زندگی کا سب سے اہم موقع ہے میرے بچے۔۔ اپنی زندگی کی خوبصورت شروعات کریں۔۔ بابا اپنی شہزادیوں کو خوش مطمئن دیکھنا چاہتے ہیں۔۔ آپ اور شیریں تو بابا کا سکون ہیں۔۔
انکی بات پر وہ مطمئن سی مسکرائی۔۔
“اب اپنے کمرے میں جائے گی بابا کی چڑیا۔۔ اور شوہر کی بلکل اسی طرح عزت کرنی ہے جس طرح بابا کی کرتی ہیں۔۔
ماتھے پر پیار دیتے انہوں نے محبت سے کہا تھا۔۔
وہ ایک نظر اپنی جانب شرارت سے تکتے ابراھیم کی جانب دیکھ کر سر ہلا گئی۔۔
اگلی نظر بےاختیار سدرہ بیگم۔ کی جانب اٹھی تھی۔۔ جو بیڈ پر نیم دراز آنکھیں موندے بیٹھی تھیں۔۔
ابراھیم نے بغور اسکی جانب دیکھا وہ آج بھی آنکھوں میں تشنگی لئے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔
“مم میں جاؤں بابا_ وہ بامشکل مسکراتی ہوئی بولی۔۔ “بیلا _ یہاں میرے ساتھ آئیں۔ ۔
اسکے گرد اپنا مضبوط حصار کرتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔ بیلا نے الجھ کر اسکی جانب دیکھا۔۔ وہ اسے لئے سدرہ بیگم کے قریب آ کھڑا ہوا تھا۔۔
۔
“امّاں جان۔۔
ابراھیم کی آواز پر انہوں نے آنکھیں کھولیں۔۔ انکی آنکھوں میں نمی دیکھتی بیلا تڑپ اٹھی تھی۔۔
۔
“کیا ہوا مسز افضل۔۔؟ آپ کی طبیعت خراب ہے ؟” آنکھیں ریڈ ہو رہی ہیں آپ کی “۔۔
وہ ساری خفگی بھلائے انکے برابر آ بیٹھی تھی۔۔ انہوں نے بےبسی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ اتنے قریب بیٹھی تھی وہ۔۔ اسکا ایک ایک نقش انہیں از بر ہو رہا تھا۔۔
یہ وہ لڑکی تھی جو بچپن سے آنکھوں میں تشنگی لئے انہیں یونہی تکتی تھی۔۔
آج اسکی زندگی کا سب سے نازک دن تھا۔۔ نئی زندگی کی شروعات کا۔۔
ایک لمحے کے لئے تمام یادیں بھلاتیں چیختے چلاتے دل کو تھپکی دے کر سلاتیں وہ آگے بڑھی تھیں۔۔ اسکے ماتھے پر لب رکھتی سسکی تھیں۔۔
وہ تو سن سی یہ لمس محسوس کر رہی تھی۔۔ اس لمس کے لئے وہ آج تک ترستی رہی تھی۔۔ آج مل رہا تھا تو یوں۔۔
“میں ٹھیک ہوں رات بہت ہو گئی ہے بیلا۔۔ ابراھیم تم لوگوں کو اب کمرے میں جانا چاہیے۔۔
آنسوں کو ضبط کرتیں وہ مضبوط لہجے میں بولیں۔۔
۔
“یہ عنایت بیٹی کے لئے تھی یا بہو کے لئے مسز افضل ؟”۔۔
وہ ضبط کے باوجود بھی آنسوں روک نہیں سکی تھی۔۔ آنسوں جھرنوں کی صورت بہ نکلے تھے۔۔
۔
“یہ بیلا ابراھیم ملک کے لئے ہے۔۔
وہ سنجیدگی سے بولیں۔۔
۔
“بیلا ابراھیم ملک کو اس عنایت کی ضرورت نہیں ہے۔۔ اس لمس کی ضرورت بیلا افضل ملک کو ہے۔۔ جسکو آپ آج تک نہیں دے سکیں۔۔
کہ کر وہ رکی نہیں تھی۔۔ ابراھیم نے لب بھینچ کر انکی جانب دیکھا۔۔
“آج انہیں ساس کی نہیں ماں کی ضرورت تھی امّاں جان۔۔
اسکا انداز بہت کچھ جتلاتا ہوا تھا۔۔ وہ اسکے پیچھے ہی کمرے سے نکل گیا تھا۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ زیور اتار رہی تھی۔۔ اسکا چہرہ سپاٹ تھا۔۔ وہ کوئی احساس نہیں ڈھونڈھ پایا تھا۔۔ وہ خاموشی سے اسکا ہر عمل دیکھ رہا تھا۔۔ تمام زیور اتار کر رکھتی وہ اپنی مخصوص نائٹی لئے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔
کچھ دیر کے بعد وہ نائٹی میں ملبوس دھلے چہرے کے ساتھ باہر نکلی تھی۔۔
سوجی ہوئی سرخ آنکھیں اندر کا حال خوب بیاں کر گئیں تھیں۔۔
وہ اب بھی خاموش ہی رہا۔۔ خاموشی سے صوفے کی جانب جاتی بیلا کی کلائی زد میں لے چکا تھا۔۔
“آپ جب تک خود رضا مندی سے اپنا آپ نہیں سونپینگی میں اپنے جائز حق کا بھی آپ سے سوال نہیں کرونگا۔۔ جتنا وقت چاہیں لے لیں۔۔
اسکے چہرے سے گرتی پانی کی قطروں کو انگلی کی پوروں پر چنتا وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا۔۔ اسکے اس قدر واضح انداز پر وہ سرخ سی ہو گئی تھی۔۔
“اپنے آنسوں مجھ سے نہیں چھپایا کریں بیلا۔۔ آپ میری روح کا حصّہ ہیں۔۔ آپ کو تکلیف ہوتی ہے تو کرب سے میں گزرتا ہوں۔۔ آپ یقین کریں نہیں کریں۔۔ لیکن آپ کی آنکھوں کے یہ گلابی کنارے میرے دل کا سکون اپنے ساتھ لے جاتی ہیں۔۔
سارے آنسوں۔۔ سارے درد مجھے دے دیں ہنی۔۔
اسے بغیر چھوئے وہ اسکے قریب تر ہوا تھا۔۔ اسکی بوجھل سانسیں اسے اپنے چہرے پر محسوس کرتی وہ بےچین سی ہو گئی تھی۔۔
۔
“ان واہیات ناموں سے مجھے نا پکارا کریں۔۔
وہ تنک کر بولی تھی۔۔
۔
“بیوی ہیں آپ میری۔۔ واہیات نام کیا واہیات حرکتیں کرنے کا بھی حق رکھتا ہوں۔۔
بندہ شریف ہوں آپ کی اجازت کے بغیر قریب کم ہی آتا ہوں۔۔
وہ نچلا لب دبائے مسکرایا۔۔
“انتہائی واہیات انسان ہیں آپ۔۔ سستے ترین۔۔ آعلیٰ درجے کے ٹھرکی۔۔
اسکی مسکراہٹ پر آنکھیں چھوٹی کئے غصّے سے گھورتی وہ پوری طاقت سے اپنا سر اسکے تھوڑی پر مارتی ہوئی بولی تھی۔۔
اسکا قد اسکے سینے تک ہی آتا تھا۔۔ اپنے سر کا استعمال وہ اسکے چہرے پر پورے زور سے کرتی تھی۔۔
“یہ جو القابات آپ مجھے دیتی ہیں نا مسز ابراھیم کبھی میں ان پر پورا اترنے پر آیا تو آپ کیا کرینگی۔۔
جھک کر اپنی تھوڑی اسکے لب کے قریب کرتے وہ آنچ دیتے لہجے میں بولا۔۔
یہ سب اتنے اچانک ہوا تھا کے وہ سمجھ ہی نہیں سکی کے کیا ہوا۔۔ اپنے لبوں پر اسکی شیو کی چبھن محسوس کرتے اسے سو واٹ کا کرنٹ لگا تھا۔۔
۔
“سستے ہیرو۔۔ واہیات انسان۔۔ جہنم میں جائیں۔۔
وہ اس چار حرف بھیجتی بیڈ پر لیٹتی چادر سر تک تان گئی تھی۔۔ اس سے اس حرکت کی امید نہیں کر رہی تھی وہ۔۔
لبوں پر اب چبھن سی محسوس ہو رہی تھی۔۔
۔
“ہیرو تو مانتی ہیں نا “
اسکی مسکراتی آواز سماعت سے ٹکرائی تھی۔۔ بنا دیکھے بھی وہ جانتی تھی وہ لب دبائے مسکرا رہا ہوگا۔۔
۔
“ٹھرکی۔۔ خبیث آدمی۔۔
وہ جل کر بڑبڑائی۔۔
جاری ہے۔۔
