No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١۵
۔
“مام آپ ایک بیمار لڑکی سے میری شادی کیسے کروا سکتی ہیں یار۔۔ وہ لڑکی اس میں نا شکل ہے اور نا عقل۔۔ صرف آپ کی وجہ سے برداشت کر رہا تھا میں اسے وہاں۔۔ آپ نے دیکھا کیسے کانپ رہی تھی وہ۔۔
وہ سر پر ہاتھ پھیرتا اضطراب کی کیفیت میں سامنے کھڑی اپنی ماں سے مخاطب تھا۔۔
“حارث وہ بیمار لڑکی افضل ملک کے پراپرٹی کی وارث ہے۔۔ افضل ملک کی تمام تر پراپرٹی شیریں کے نام ہے۔۔ میں ماں ہوں تمہاری کوئی غلط فیصلہ تو نہیں کرونگی تمہارے لئے۔۔
مسز تنویر نے اسے سمجھانے کے سے انداز میں کہ رہی تھیں۔۔
“آپ شاید بھول رہی ہیں کے اسکی ایک بہن بھی ہے جسکے چرچے دور دور تک ہیں۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے اسکے ہوتے ہوئے تمام پراپرٹی صرف شیریں کے نام ہوگی۔۔
اور اگر ہو بھی تو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑھتا آپ جانتی ہیں مجھے نور پسند ہے۔۔ میں پراپرٹی کے لئے اس بیماری لڑکی کو اپنے گلے کا طوق نہیں بنا سکتا۔۔
وہ سخت جھنجھلائے انداز میں اپنی یونی فیلو کا نام لے رہا تھا۔۔
وہ ایک سٹریٹ فورورڈ انسان تھا۔۔ لاکھ برا صحیح اپنی ماں کی طرح لالچی ہرگز نہیں تھا۔۔ یوں بھی وہ خاصا حسن پرست انسان تھا اور حسن کا معیار اسکا بھی وہی تھا جو زیادہ تر مشرقی مردوں کے لئے ہوا کرتا تھا۔۔
“چٹا سفید رنگ “
سانولی سی رنگت کی شیریں اسے یوں بھی پسند نہیں آئی تھی اور اس پر متضاد اسکی بیماری۔۔
“ماں ہوں تمہاری یونہی تو نہیں تمہاری شادی کروانا چاہ رہی ہوں اس سے۔۔ سدرہ سے میری کافی پرانی دوستی ہے۔۔ جانتی ہوں میں تمام تر جائیداد شیریں کے نام ہے۔۔ ورنہ میں بیلا کے لئے تمہارا رشتہ نہیں لے جاتی۔۔ اور تمہیں کون کہ رہا ہے تم اسے تمام زندگی اپنے گلے کا طوق بنا کر رکھو۔۔ بھلی مانس سی تو ہے وہ۔۔ کر لینا نور سے بھی شادی۔۔
انہوں نے اپنے طور حل پیش کیا۔۔ شیریں کی صورت ہاتھ آئی سونے کی چڑیا وہ یونہی نہیں جانے دینا چاہتی تھیں۔۔
خدا کا دیا انکے پاس بھی کم نہیں تھا لیکن زیادہ سے زیادہ کی لالچ نے انہیں اندھا کر دیا تھا۔۔ شیریں کو انہوں نے کسی دعوت میں دیکھا تھا۔۔ سدرہ بیگم سے تو یوں بھی انکے تعلقات خاصے اچھے تھے۔۔ معصوم من موہنی سی شیریں انہیں کافی پسند آئی تھی۔۔ وہ حارث کی شادی ایسی ہی کسی سادہ سی لڑکی سے کروانا چاہتی تھیں۔۔
رشتہ ہونے سے پہلے سدرہ نے انہیں شیریں سے متعلق تمام تر باتیں بتا دی تھیں۔۔
شروع میں تو وہ خود بھی تذذب کا شکار ہوئیں لیکن پھر شیریں کے نام جائیداد کا خیال آتے ہی انکے سارے خدشات دور جا سوئے تھے۔۔ یہی بات وہ حارث کو بھی سمجھانے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن وہ سننے پر تیار ہی نہیں تھا۔۔
وہ لاؤنچ کے صوفے پر ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔ پیر میں ہوتی جلن کے باعث اس نے ملازمہ سے اپنا لیپ ٹاپ وہیں منگوا لیا تھا۔۔ اس وقت دونوں پیر پھیلائے بیٹھی تیزی سے انگلیاں چلا رہی تھی۔۔ دھیان سارا کچن میں داخل ہوتی سدرہ بیگم کی ہی جانب تھا۔۔ خود پر انکی نظریں وہ اچھی طرح محسوس کر رہی تھی۔۔
“بیلا۔۔ پیر میں کیا ہوا۔۔
انکی آواز پر اس نے خوش گوار حیرت سے انہیں دیکھا۔۔ اسے امید نہیں تھی کے وہ اس سے دریافت کرینگی۔۔ افضل ملک اور اطہر ملک کل رات ہی کاروبار کے سلسلے میں اندرونی شہر گئے تھے۔۔ ان دونوں کے علاوہ وہ سدرہ بیگم سے یہ امید ہرگز نہیں کر رہی تھی۔۔
“سگریٹ سے جل گیا تھا۔۔
وہ مسکراتی ہوئی مزے سے بولی۔۔
“سگریٹ سے۔۔ تم نے پھر خود کو نقصان پہنچایا ہے۔۔
وہ افسوس سے کہتیں اسکے قریب آ کھڑی ہوئیں تھیں۔۔ جیسے زخم کی شدّت دیکھنا چاہ رہی ہوں۔۔
“یہ تو کافی جل گیا ہے۔۔
انکے لہجے میں واضح فکر تھی۔۔ جسے محسوس کر کے اسکی آنکھوں میں نمی سی ابھری۔۔ وہ جانتی تھی وہ اسکی فکر کرتی ہیں۔۔وہ اسکے لئے کھانے کی چھوٹی سے چھوٹی چیز رکھا کرتی تھیں۔۔ اسکی ضرورتوں کو بہت احتیاط سے غیر محسوس انداز میں پورا کر دیا کرتی تھیں۔۔ لیکن سب سے بڑی ضرورت۔۔ سب سے بڑی خواہش۔۔ “ماں کے لمس ” سے وہ محروم تھی اور وہ وہ جان کر بھی انجان بنی رہتی تھیں۔۔
۔
“جی جانتی ہوں۔۔ زخم ہے بھر جائے گا۔۔ زندگی بھر تو کوئی زخم نہیں رہتا مسز افضل سوائے روح پر لگے زخموں کے۔۔ ان زخموں کی مسیحائی کسی نے نہیں کی۔۔ انکا کیا ہے یہ تو بھر ہی جائینگے۔۔
زخمی مسکان لبوں پر لئے کہتی وہ تکلیف کے باوجود اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
۔
“پاگل ہو گئیں ہیں۔۔ ابھی میں نے کیا بکواس کی تھی کے پیر نیچے نہیں رکھنا ہے۔۔ پھر کیوں آپ کو اتنی جلدی ہے۔۔ کہاں جانا ہے۔۔
اسے بازوؤں سے تھامتے وہ سرد آواز میں بولا۔۔ غصّے کے باعث اسکی آواز خاصی بلند ہو گئی تھی۔۔ بیلا نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔ وہ آج بہت دنوں کے بعد اس سے اس طرح مخاطب ہوا تھا۔۔ لیکن یہ پہلی بار تو نہیں تھا پھر آج کیوں اسے برا لگ رہا تھا۔۔
۔
“چل سکتی ہوں میں۔۔ معذور نہیں ہو گئی جو آپ مجھے اس طرح ٹریٹ کر رہے ہیں۔۔ کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہے چھوڑیں مجھے۔۔
ضبط کے باوجود اسکی آواز رندھ سی گئی تھی۔۔ سدرہ بیگم کا پیرا غصّہ وہ اس پر نکال کر خود کو آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
“جانتا ہوں آپ کو سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ میں اپنا فرض پورا کر رہا ہوں سمجھیں آپ۔۔ اب یہاں سکون سے بیٹھیں۔۔
اسکے بازو پر دباؤ ڈالتا وہ اسے چیئر پر بیٹھا چکا تھا۔۔
۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے اپنا فرض پورا کرنے کی سمجھے آپ۔۔ بچپن سے ہر کسی کے لئے فرض اور ذمہ داری ہی بن کر رہ گئیں ہوں میں۔۔
اسکی بات پر جہاں ابراھیم کو اپنے لفظوں کی سختی کا احساس ہوا وہیں سدرہ بیگم آنکھوں کے کنارے صاف کرتی شیریں کے کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔۔
۔
“بیلا آئی ایم سوری۔۔ میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔
اسکی جانب جھکتے اس نے معذرت خواہنہ انداز میں کہا۔۔ خم دار پلکوں پر جھل مل کرتے آنسوں اسے تکلیف دے رہے تھے۔۔ وہ پہلے تو اسکی بات پر یوں نہیں روتی تھی۔۔
“میرے ساتھ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ آپ کی امّاں جان کے لئے میں ذمہ داری ہوں۔۔ آپ کے لئے فرض۔۔ کبھی انسان سمجھا ہے مجھے۔۔
وہ تو پھٹ ہی پڑی تھی۔۔
آنسوں تمام بند توڑتے چہرے کو بھگو گئے تھے۔۔
“بیلا_
نرمی سے اسکے آنسوں صاف کرتے اس نے دھیرے سے اسے پکارا۔۔ جو بغیر کسی مزاہمت کے اسکے سامنے بیٹھی آنسوں بہا رہی تھی۔۔ یہ اسکا الگ روپ تھا وہ کسی کے سامنے کبھی نہیں روتی تھی۔۔
“اپنی زندگی سمجھا ہے آپ کو۔۔ آپ کی تکلیف مجھے اذیت دیتی ہے۔۔ آپ روتی ہیں تو یہ دل بے چین ہوتا ہے۔۔ آپ کے یہ آنسوں یہاں گرتے ہیں۔۔
انگلی کی پوروں پر اسکے آنسوں چنتا وہ اسکا ایک ہاتھ اپنے سینے پر رکھتا بولا۔۔
اپنی ہتھیلی پر اسکی دھڑکنیں محسوس کرتی وہ سرعت سے ہاتھ کھنچ گئی۔
“چلیں آجائیں کہاں جانا ہے آپ نے۔۔ میں لے چلتا ہوں۔۔
وہ اسکا گریز سمجھتا گہری سانس لے کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
ہاتھوں کی پشت سے آنسوں صاف کرتے اس نے سامنے پھیلی مضبوط ہتھیلی پر نظر ڈالی۔۔ پھر اسکے چہرے پر۔۔ اسکی آنکھوں کی جلتی لو سے نظریں چراتی وہ اسکا ہاتھ تھام کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“شیریں۔۔ نہیں آئی ابھی تک نیچے۔۔ امّاں جان بھی نہیں ہیں خیریت ہے۔۔
بیلا کو صوفے پر بیٹھا کر اس کے پیروں کو کشن پر رکھتے وہ ملاذمہ سے مخاطب تھا۔۔
شیریں کے ذکر پر بیلا کو رات زوار کی حالت یاد آئی۔۔
“زوار۔۔
وہ زیر لب بولی تھی۔۔
“کیا ہوا زوار کو۔۔
ابراھیم نے چونک کر اسے دیکھا۔۔
“وہ کل رات۔۔
اسکی بات مکمّل ہونے سے پہلے ہی اوپر کمرے سے سدرہ بیگم کی چیخ کی آواز آئی تھی۔۔
“مسز افضل تو شیریں کے کمرے میں گئیں تھیں۔۔
بیلا نے پریشانی سے ابراھیم کی جانب دیکھا۔۔
“آپ پریشان نہیں ہوں میں دیکھتا ہوں۔۔ آپ یہیں رہیں۔۔
نرمی سے اسکے گال تھپتھپاتے وہ خود بھی فکر مندی سے کہتا شیریں کے کمرے کی جانب بڑھا۔۔
کارپیٹ پر اوندھے منہ گری شیریں کو دیکھ کر ابراھیم کے ساتھ کھڑے زوار کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا تھا۔۔
وہ کچھ دیر پہلے نماز سے فارغ ہوا تھا۔۔ رات بھر جاگتے رہنے کے باوجود ایک بےچینی سی تھی۔۔ سدرہ بیگم کے رونے کی آواز پر وہ بھی اس جانب آیا تھا۔۔
لیکن یہاں شیریں کو یوں دیکھ کر اسکے حواس ساتھ چھوڑ رہے تھے۔۔
۔
“شیریں۔۔ کیا ہوا آپ کو۔۔ شیری۔۔
وہ سرعت سے اسکی جانب بڑھا۔۔ اسے سیدھا کرتے اسکا سر گود میں رکھ کر وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکے ناک اور منہ سے بہتا خون دیکھ رہا تھا۔۔
وہ کل والے ہی لباس میں ملبوس تھی۔۔ اسے یوں بکھری حالت میں موجود دیکھ کر وہ پاگل سا ہو رہا تھا۔۔
۔
“زوار۔۔ ہٹو۔۔ زوار پیچھے ہٹو بیٹا۔۔ ہسپتال لے کر جانا ہوگا اسے۔۔
سب سے پہلے ہوش ابراھیم کو ہی آیا تھا۔۔ بےسدھ پڑی شیریں کو اٹھاتے وہ زوار سے بولا۔۔
“ہاں ہوسپٹل۔۔ ہوسپٹل لے کر جانا ہے۔۔ کک کیا ہو گیا۔۔ میری شیریں کو بھائی۔۔
میری شیریں پر ابراھیم نے ٹھٹھک کر اسکی جانب دیکھا۔۔ لیکن یہ وقت استفار کرنے کا نہیں تھا۔۔
۔
اسے بازو میں اٹھاتا ابراھیم تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا داخلی دروازے کی جانب بڑھا تھا۔۔
“شیریں۔۔ کیا ہوا شیریں کو۔۔ زوار۔۔
لاؤنچ میں بیٹھی بیلا نے پریشانی سے ابراھیم کے پیچھے جاتے زوار سے کہا۔۔
وہ اپنے ہوش میں ہوتا تو کوئی جواب دیتا۔۔
“شیریں میم اپنے کمرے میں بےہوش تھیں۔۔ انکے ناک اور منہ سے بلڈنگ ہو رہی ہے میم۔۔
ملازمہ کے بتانے پر اس نے سسکی روک کر زار و قطار روتیں سدرہ بیگم کی جانب دیکھا۔۔
وہ لڑکھڑاتی ہوئی بامشکل چلتی انکی جانب آئی۔۔
“مم مجھے جانا ہے۔۔ کہاں لے کر گئے ہیں اسے۔۔ ہسپتال کا نام بتائیں۔۔
اس نے کانپتی آواز میں ان سے پوچھا۔۔
انہوں نے بہتی آنکھوں سے اسکی جانب دیکھا۔۔
“ٹھیک ہو جائے گی وہ۔۔
اسکے آنسوں نرمی سے صاف کرتے انہوں نے جیسے اسے دلاسہ دیا تھا۔۔ وہ جانتی تھیں شیریں اس کے لئے کیا حیثیت رکھتی ہے۔۔
“تمہارا پیر ٹھیک نہیں ہے ابھی۔۔
انہوں نے نرمی سے کہا تھا۔۔
“میں ٹھیک ہوں پلیز ہسپتال کا نام بتائیں۔۔
آنسوں ضبط کرتی وہ التجائیہ لہجے میں بول رہی تھی۔۔
“کپڑے بدل لو ڈرائیور چھوڑ آئیگا۔۔ تمہارے بابا کو کال کی ہے میں نے میں کچھ دیر میں انکے ساتھ پہنچتی ہوں۔۔
نرمی سے اسکے کپڑوں کی جانب اشارہ کرتیں وہ ساتھ ہی ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کا کہ چکی تھیں۔۔
وہ شیشے سے سر ٹکائے نم آنکھوں سے نالیوں سے متصل اسکے نازک وجود کو تک رہا تھا۔۔ کل والے ہی لباس ملبوس بکھرے بالوں کے ساتھ بےسدھ پڑی تھی۔۔ بازو سے ڈرپ کی سوئی جڑی تھی۔۔
۔
“کیا کہ رہے ہیں ڈاکٹر۔۔ کیا ہوا شیریں کو بھائی۔۔ دیکھیں کیسے لیٹی ہوئی ہیں۔۔ آنکھیں بھی نہیں کھول رہیں۔۔
وہ بےچین سا ابراھیم کی جانب بڑھا۔۔
“زوار ریلکس۔۔ ٹھیک ہو جائے گی وہ۔۔
وہ نظریں چراتا ہوا بولا۔۔ اسکے لہجے سے صاف ظاہر تھا کے وہ کچھ چھپا رہا تھا۔۔
اسکے بھائی کی حالت اسے بہت کچھ سمجھا گئی تھی۔۔
“زوار میرے بچے ٹھیک ہو جائے گی وہ۔۔
“انہوں نے مجھے کہا میں اپنی ضد سے پیچھے ہٹ جاؤں۔۔ میں ہٹ گیا نا بھیا۔۔ پھر کیوں۔۔ پھر اس حالت میں کیوں ہے وہ۔۔
وہ تڑپ اٹھا تھا۔۔
“زوار۔۔ میرے بچے۔۔
اس نے کب اپنے بھائی کو اس طرح دیکھا تھا۔۔
“میں شیریں کے پاس جانا چاہتا ہوں۔۔
اپنی حالت پر قابو پاتے وہ دھیرے سے بولا۔۔
اندر جانے کی اجازت صرف ایک ہی کو تھی۔۔ اسکی حالت کے پیش نظر ابراھیم نے ڈاکٹر سے بات کر کے اسے روم میں بیٹھا دیا تھا۔۔ صرف اس شرط پر وہ پیشنٹ کو ڈسٹرب نہیں کرے گا۔۔
وہ خاموشی سے اسکے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھا اسے تک رہا تھا۔۔ ناک پر دو نالیاں جڑی تھیں۔۔ بازو میں لگی سوئیں۔۔ یہ نارمل حالت میں تو نہیں ہوتا تھا۔۔ ابراھیم اسے صحیح طرح بتا نہیں رہا تھا۔۔
“کیا ہو گیا شیریں۔۔
نرمی سے اسکے ہاتھ کی پشت کو چھوتا وہ زیر لب بول رہا تھا۔۔ نظریں تو اسکے زرد ہوتے چہرے سے ہٹنے سے انکاری تھیں۔۔
وہ سر ہاتھوں پر گرائے بینچ پر بیٹھا تھا۔۔ زوار کی حالت دیکھ کر اسے اچھی طرح اندازہ ہو گیا تھا کے ضرور کل کوئی بات ہوئی تھی۔۔ شیریں کی یہ حالت یونہی تو نہیں ہوئی تھی۔۔ اور نا زوار کی۔۔ اسے زیادہ دیر نہیں لگی تھی سارا معاملہ سمجھنے میں۔۔
“کک کیا ہوا اسے۔۔
بیلا کی آواز پر اس نے چونک کر سر اٹھایا۔۔ وہ روئی روئی آنکھوں سے شیشے کے پار شیریں کو دیکھ کر اس سے پوچھ رہی تھی۔۔
اس نے ضبط سے آنکھیں میچی۔۔ ابھی بیلا کو سنبھالنا باقی تھا۔۔ شیریں اسکی زندگی سے جڑے تمام لوگوں کو حد سے زیادہ عزیز تھی۔۔
بیلا۔۔ سدرہ بیگم۔۔ اور زوار۔۔ اسکی حالت آج اچھی طرح سمجھا گئی تھی کے نازک سی وہ لڑکی اسکے بھائی کی زندگی میں کیا مقام رکھتی ہے۔۔
۔
“ابراھیم_
وہ نم آواز میں اسے پکار رہی تھی۔۔ آج پہلی بار اس نے یوں پکارا تھا۔۔ اور پکارا بھی کب۔۔ وہ اسکے لبوں سے اپنا نام سننا چاہتا تھا لیکن یوں اتنے کرب میں مبتلا اسے دیکھ کر نہیں۔۔
“بیلا میری بات سنیں ہنی۔۔
اس نے نرمی سے اسے بازو سے تھام کر اپنے مقابل کھڑا کیا جو گردن پھیرے ایک ہی جانب دیکھ رہی تھی۔۔
۔
“کک کیا ہوا اسے۔۔
اسے اپنی آواز کسی گہری کھائی سے آتی محسوس ہو رہی تھی۔۔ شیشے کے پار نظر آتے اس بےسدھ وجود سے اسکی زندگی جڑی تھی۔۔ وہ صرف اسکی بہن نہیں تھی۔۔ اسکی ماں۔۔ اسکی دوست۔۔ اسکی ہمراز سب کا کردار ادا کرتی تھی۔۔
۔
“پپ پلیز بتا دیں۔۔ کیا ہوا ہے اسے۔۔
وہ روتی ہوئی اسکے دونوں ہاتھ تھام کر بولی تھی۔۔ ابراھیم نے لب بھینچ کر اسے دیکھا۔۔
“آپ بتا کیوں نہیں رہے۔۔ اسے اس طرح کیوں رکھا ہے ان لوگوں نے۔۔ آ آپ نے تو کہا تھا ابھی ٹھیک ہو جائے گی۔۔ بتائیں مجھے کیا ہوا میری بہن کو۔۔
وہ بری طرح روتی اسکے سینے پر مکے برساتی تڑپ رہی تھی۔۔ وہ ایک ہی تو رشتہ تھا اسکے پاس۔۔ اسکی بہن کا۔۔ جسکے سامنے وہ اپنے خول سے باہر آتی تھی۔۔
“بیلا میں آپ کو سب بتاؤنگا۔۔ ابھی پلیز خود کو سمبھالیں میری جان۔۔
اسکا ٹوٹتا لہجہ۔۔ بکھرتا وجود اسے تکلیف میں مبتلا کر رہا تھا۔۔
وہ اسکے کندھے سے لگی بری طرح بلک رہی تھی۔۔
“اس اسے ٹھیک۔۔ ٹھیک کر دیں ابراھیم۔۔ مم میرے پاس یہی سب کچھ ہے۔۔ پپ پلیز اسے ٹھیک کر دیں۔۔ آ آپ نے فون پر کہا تھا کچھ نہیں ہوا۔۔ دیکھیں نا یہاں یہ کس طرح لیٹی ہوئی ہے۔۔ پپ پلیز اسے ٹھیک کر دیں۔۔ میرے پاس بہت سارے لوگ نہیں ہیں۔۔ آ آپ جانتے ہیں نا۔۔
وہ اپنے ہوش میں نہیں تھی۔۔ اپنے ہوش میں ہوتی تو یوں اسکے آگے نہیں بکھر رہی ہوتی۔۔
جاری ہے۔۔
