Dil Karaye Ke Liye Khali Nahin By Readelle50048 Last updated: 9 July 2025
Rate this Novel
Dil Karaye Ke Liye Khali Nahin By Laiba Nasir
رات اپنے سیاہ پر پوری طرح سے پھیلا چکی تھی۔۔ دسمبر کی ٹھٹھرا دینے والی سرد ہوائیں پوری فضا کو لپیٹ میں لے چکی تھیں۔۔ یک بستہ سرد شام میں اندھیرے میں لان کی کرسی پر بنیان پہنے بیٹھا ہوا تھا۔۔ سدرہ بیگم کی بات نے اسے ایک انجانے سے خوف میں مبتلا کر دیا تھا۔۔ شیریں کو دیکھنے۔۔ تو کیا کوئی اسکی شیریں کو دیکھنے بھی آ سکتا ہے۔۔ اس سوچ کے آتے ہی آنکھوں میں مرچیاں سی بھر گئیں تھیں۔۔ اور اس پر شیریں نے جو آج ریئکشن دیا تھا اسکی بات پر ۔۔ اسے اپنا سر درد سے پھٹتا محسوس ہو رہا تھا۔۔ شیریں ناراض نہیں ہوتی تو ابھی تک گرم چاۓ کی دوسری کپ اسکے ہاتھوں میں تھما گئی ہوتی۔۔ اس سوچ کے آتے ہی وہ پھیکا سا مسکرایا۔۔ لمبے قد اور مظبوط کسرتی بدن کے ساتھ وہ کہیں سے بھی اس سے دو سال چھوٹا نہیں لگتا تھا۔۔ سرخیاں گھلی سفید رنگت اور بادامی آنکھوں والا وہ ایک ایک بھرپورخوبصورت نوجوان تھا۔۔ اور وہ نازک من موہنی سی صورت والی لڑکی اسکے دل میں دھڑکنوں کی طرح دھڑکنے لگی لگی تھی۔۔ بچپن ہی سے وہ سدرہ بیگم کی طرح اسے بھی اپنا خیال رکھتے دیکھتا آیا تھا۔۔ خود سے بےپرواہ ہر کسی کی فکر میں گھلنے والی وہ معصوم سی لڑکی کب اسکی رگوں میں خون کی طرح گردش کرنے لگی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔ شیریں کو لے کر اسکے احساسات بچپن ہی سے کچھ الگ سے تھے جنہیں وہ کوئی نام نہیں دے سکا تھا۔۔ اسکا چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال رکھنا اسے اچھا لگتا تھا۔۔ گھر واپس آنے پر جب وہ مسکراتی ہوئی اسے پانی کا گلاس تھماتی تھی تمام دن کی تھکان جیسے کہیں دور جا سوتی تھی۔۔ وہ سوچوں میں گم ان پلوں کو پھر سے جیتا مسکرا اٹھا۔۔ ۔ "زوار ۔۔ اسکی مدهر سی آواز پر اس نے جھٹ آنکھیں کھولیں۔۔ سامنے ہی وہ دشمنِ جاں ٹرے میں پانی کے گلاس اور چاۓ کے ساتھ سر درد کی گولی رکھے کھڑی تھی۔۔ اسے یوں اپنے سامنے کھڑے دیکھ کر گھنی مونچھوں تلے اسکے لب مسکرا اٹھے۔۔ ۔ "کہیں شیریں۔۔ وہ جاندار مسکراہٹ لبوں پر لئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ اسے سٹپٹا کر ارد گرد دیکھتے پا کر اس نے جلدی سے پاس رکھی شرٹ پہنی۔۔ ۔ "شکریہ شیریں۔۔ بہت طلب ہو رہی تھی اسکی۔۔ اسکے ہاتھوں سے ٹرے لے کر وہ سرگوشی میں بولا تھا۔۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا اپنی حساس طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ وہ یہ عنایت کر گئی ہے۔۔ "آج آپ میرے ساتھ نہیں پیئنگی شیریں۔۔ وہ جانے کیا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔ شیریں نے غصّے بھری ایک نظر اس پر ڈالی بولی اب بھی کچھ نہیں۔۔ "ٹھنڈ ہو رہی ہے باہر اندر جا کر سو جاؤ۔۔ ویسے ہی تمہارا دماغ ٹھیک کام نہیں کر رہا۔۔ وہ طنزیہ لہجے میں کہتی شال کو اپنے گرد ٹھیک طرح سے لپیٹتی اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔ "میری اتنی فکر کرتی ہیں شیریں تو میرے دل کی آواز کیوں نہیں سن پا رہیں آپ۔۔ چاۓ کا کپ لبوں سے لگاتے وہ بلند آواز میں بولا تھا۔۔ "یہ کہنے سے پہلے تم نے کیوں نہیں سوچا کے میرے دل پر کیا گزرے گی۔۔ میرا بھروسہ توڑا ہے تم نے۔۔ بچپن سے جو مان تھا نا مجھے اپنے زاوی پر وہ توڑ دیا ہے تم نے۔۔ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی کے ہمارا چھوٹا سا ذاوی اتنا بڑا ہو جائے گا۔۔ وہ چھوٹا بچہ جو آج تک ہر امتحان سے پہلے مجھ سے دعائیں نیک تمنائیں لینے آتا تھا وہ مجھے ان نگاہوں سے بھی دیکھ سکتا ہے۔۔ بہت دکھ دیا ہے تمہاری اس بات نے مجھے زاوی۔۔
