Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

“”دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے””
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۵
۔
دھندلی آنکھوں کو بیدردی سے رگڑتی وہ تیز قدموں سے سڑک کے کنارے چل رہی تھی۔۔ بچپن سے لے کر آج تک کے کتنے ہی مناظر نظروں کے سامنے رقص کر رہے تھے۔۔
“مما ہم گر گئے۔۔ بیلا اور مجھے چوٹ لگی ہے۔۔
آٹھ سالہ وہ من موہنی سی صورت والی معصوم بچی۔۔ سرخ و سفید رنگت کی حامل پانچ سالہ صحت مند بچی کو بہت مشکل سے گود میں اٹھائے اپنی ماں کے پاس آئی تھی۔۔
“اوہ ہو شیریں میری جان۔۔ گود سے اتارو بیلا کو۔۔ تم سے زیادہ تو وزن ہے تمہاری بہن کا۔۔ کہا ہے گود میں نہیں اٹھایا کرو اسے۔۔
وہ سرعت سے انکی جانب آئیں تھیں۔۔ وہ چھوٹی سی بچی جو منتظر تھی کے اب اسکی مما اسے گود میں لے پیار کرینگی ڈبڈبائی نظروں سے انھیں دیکھتی زور زور سے رونے لگی۔۔
یہ بھی شاید طریقہ تھا اپنی جانب متوجہ کرنے کا۔۔
“بیلا چپ ہو جاؤ۔۔ اتنی چوٹ نہیں آئی۔۔
وہ اسکی سرخ و سفید بازو پر گھاؤ دیکھ کر سنجیدگی سے بولیں۔۔
وہ واقعی چپ ہو گئی تھی۔۔ شاید انکی بات مان کر انکی توجہ اپنی جانب کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
اس آس پر کے کبھی تو انکی توجہ کا مرکز وہ بنے گی۔۔
اسے گود میں اٹھا کر ٹیبل پر بیٹھاتیں وہ اب شیریں کے ہاتھ پر پڑی خراش پر مرہم لگا رہی تھیں۔۔ انکی آنکھوں سے محبت جھلک رہی تھی۔۔ چہرے پر ممتا کا نور بول رہا تھا۔
لیکن اگلے ہی لمحے بیلا کی جانب مڑنے پر انکا چہرہ سپاٹ تھا۔۔
تکلیف سے سسکتی وہ پانچ سالہ معصوم بچی اپنی ماں کے آنکھوں وہی محبت تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھی جو کچھ دیر پہلے اسکی بہن کے لئے۔۔
لیکن وہاں محبت نہیں تھی ۔۔
فرض کی ادائیگی کا عکس تھا۔۔ انداز میں ذمہ داری پوری کرنے جیسی سنجیدگی۔۔ لیکن محبت نہیں۔۔
۔
گاڑی کے مسلسل بجتے ہارن پر وہ یکدم ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔۔ وہ سڑک کے بیچو بیچ چل رہی تھی۔۔
ایک گاڑی عین اسکے سامنے کھڑی تھی یعنی اگر چلانے والا بریک نہیں لگاتا تو اسے ہٹ کر کے جا چکا ہوتا۔۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔۔
“اتنی جلدی رہائی قسمت میں ہی نہیں “۔۔
وہ زیرلب بڑبڑا کر سائیڈ سے نکلنے لگی جب دروازہ کھول کر نکلنے والے کو دیکھ کر اسکے قدم تھمے۔۔ چہرہ کا زاؤیہ مزید بگڑ گیا۔۔
۔
“دھیان کہاں ہے آپکا کن سوچوں میں گم چل رہی تھیں آپ۔۔ اس سڑک کو آپ کوئی نیشنل پارک سمجھ رہی ہیں۔۔ جانتی ہیں میری جگہ کوئی اور ہوتا تو کیا ہوتا۔۔
اسے جھٹکے سے سڑک کے کنارے کھنیچ کر وہ غصّے سے تنی رگوں کے ساتھ اسے بازوؤں سے تھامے سلگتے لہجے میں سوال کر رہا تھا۔۔ اسکی اس درجہ لاپرواہی پر دل تو کر رہا تھا اس لڑکی کو دو لگا کر اسکا دماغ درست کر دے۔۔ لیکن اسکے بعد اسکا دماغی توازن مزید بگڑ جانا تھا یہ سوچ کر ضبط کے گھونٹ بھر کر رہ گیا۔۔
۔
“آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو یقیناً مجھے ہٹ کر کے اس گھٹن زدہ زندگی سے رہائی تھما جاتا۔۔ اور اس بزی روٹ پر سڑک کے بیچ اگلے پندرہ منٹ تک کوئی میری باڈی اٹھانے بھی نہیں آتا۔۔ لیکن افسوس کے کوئی اور نہیں آپ تھے۔۔ اور آپ کبھی میرا بھلا نہیں کر سکتے۔۔
اسکی آنکھوں میں جھانک کر وہ اپنا سارا زہر اسکے اندر انڈیلنے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔۔ اس وقت وہ گھر کے کسی فرد کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اور ابراھیم کی وہاں موجودگی اسکے غصّے میں اضافہ کر رہی تھی۔۔
۔
اسکی اس ازیت پسندی پر اسکی گرفت خود ہی نرم پڑھ گئی تھی۔۔ کتنی آسانی سے وہ ثابت کر گئی تھی کے اسکے جان بچانے سے بہتر وہ مرنا خیال کرتی ہے۔۔
۔
“آپ کی شکل صبح ایک بار دیکھ لینے پر ہی میرے دن کا اچھا خاصا بیڑاغرک ہو جاتا ہے۔۔ دوبارہ یہ زحمت نا کیا کریں۔۔
ڈھیروں آنسوں حلق سے اتارتی وہ گلابی ہوتی آنکھیں اسکے چہرے پر گاڑھ کر قدرے تنفر سے بولی تھی۔۔
۔
“آپ کو اس طرح ہمیں ازیت دینے کا کوئی حق نہیں ہے بیلا۔۔ اپنا اور میرا نہیں اپنے تایا جان اور بابا کا سوچ کر ہی رحم کر دیں ہماری جانوں پر۔۔ یہ جو خود کو اذیت دے کر آپ سکون حاصل کرتی ہیں کیا لگتا ہے انھیں پتہ لگے گا تو تکلیف نہیں ہوگی انھیں۔۔ ؟
اسکی سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ کر وہ اپنا لہجہ دھیما رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔۔
۔
“میری تکلیف پر تڑپنے کے لئے میں اکیلی زندہ ہوں ابراھیم اطہر ملک۔۔ یہ مجھے تکلیف نہیں سکون دیتا ہے اور سکون کی تلاش میں تو انسان کیا کچھ نہیں کر جاتا میں بھی تو اپنی ہی تسکین کا سامان کرتی ہوں۔۔
اور موقع تھا تو آپ کے پاس کر لینا تھا نا اپنی جانوں پر رحم۔۔ چلا دیتے گاڑی مجھ پر۔۔ واللہ معاف کر دیتی میں آپ کو۔۔ پھر کبھی موقع ملے تو دیر نہیں کیجیے گا۔۔
اطمینان سے اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کر کہتی وہ اسے ساکت چھوڑ کر تیز قدموں سے آگے بڑھ گئی تھی۔۔
وہ چاہ کر بھی اسے روک نہیں سکتا تھا۔۔
اسے اپنا دل اسکے قدموں سے لپٹتا محسوس ہو رہا تھا۔۔
اگر اس وقت وہ یہاں نہیں ہوتا تو۔۔ کچھ سوچنے سے پہلے ہی کھلی فضا میں بھی اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا۔۔ اگر کبھی وہ اسکی جانب سے غفلت برت گیا تو یہ بیوقوف لڑکی تو اسکا بہت بڑا نقصان کر دیگی۔۔
اسے اپنی آنکھوں میں مرچياں سی بھرتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔
وہ قدم قدم خود سے دور ہوتی اس مغرور شھزادی کو سینے سے لگا کر اسکے تمام شکوے سمیٹ لینا چاہتا تھا۔۔ اسکی خمدار پلکوں میں چمکتی نمی اپنی پوروں میں چن لینا چاہتا تھا۔۔ اسے بتانا چاہتا تھا وہ اسکے لئے کیا ہے۔۔ لیکن یہ ساری خواہشیں فقط ایک کاش میں سما گئیں تھیں۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ اسکی نظروں سے اوجھل ہوتی چلی گئی۔۔


سورج کی نارنجی روشنی آہستہ آہستہ گلال کی صورت اختیار کرتی افق کے کنارے پھیل رہی تھی۔۔ افق کے اس پار چھپتا سورج الوداعی دھوپ میں چاند کی ٹھنڈی روشنی کا پیغام دیتے غروب ہو رہا تھا۔۔ واپسی پر کتنی ہی دیر وہ خالی سڑک پر گاڑی لئے آوارہ پھرتا رہا تھا۔۔ گھر واپسی پر اسے کافی دیر ہو گئی تھی۔۔ گھر جانے کی جلدی جسکی وجہ سے ہوتی تھی وہ تو یوں روٹھی تھی کے پھر نظر ہی نہیں آئی تھی۔۔
گھر میں داخل ہونے کے بعد اسکی نظریں اسے ہی ڈھونڈھتی رہتی تھیں۔۔ انہی سوچوں کے درمیان وہ گھر پہنچا تھا۔۔ پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرتے گھر کے باہر دو گاڑیاں کھڑی دیکھ اسکا پہلا خیال بیلا کی جانب گیا۔۔
“اوہ بیلا پھر سے کسی کی شامت آ گئی “۔۔
وہ بےاختیار ہنس پڑا۔۔ ہنستے ہوئے گھر میں داخل ہوا ۔۔ وہ سیدھا ڈرائنگ روم کی جانب ہی آیا تھا۔۔ بیلا کی چٹپٹی باتیں اسے یوں بھی بہت مزہ دیتی تھیں۔۔
۔
اندر داخل ہونے پر ایک نفیس سی خاتون کے برابر میں بیٹھی شیریں کو دیکھ کر اسکے مسکراتے لب سکڑے تھے۔۔ وہ بےیقینی سے شیریں کو دیکھ رہا تھا جیسے اسکے علاوہ یہاں کوئی موجود ہی نا ہو۔۔ جو اپنی دھیمی آواز میں ان خاتوں کے سوالوں کا جواب دے رہی تھی۔۔
ہلکے آسمانی رنگ کا خوبصورت جوڑا زیب تن کئے۔۔ اسکے لمبے بال سلیقے سے آج بھی اسکی کمر پر چوٹی کی مانند جھول رہے تھے۔۔ اسکا چہرہ اب بھی سرخ ہو رہا تھا یقیناً بخار اب بھی مکمّل طور پر نہیں اترا تھا۔۔
“زوار۔۔ اندر آؤ بیٹا۔۔
سدرہ نے اسے یوں دروازے پر کھڑا دیکھا تو محبت سے بولیں۔۔
شیریں نے سہم کر زوار کی جانب دیکھا۔۔ جو سرخیوں بھری نگاہوں سے اسے تک رہا تھا۔۔
۔
“یہ شیریں کا چھوٹا بھائی ہے۔۔ زوار۔۔ اطہر بھائی کا بیٹا۔۔ میرا بھی بیٹا ہی ہے یہ۔ آپ بتا کر نہیں آئیں ورنہ ابراھیم بھی ابھی یہیں موجود ہوتا۔۔
اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر اپنے ساتھ بیٹھاتیں سدرہ بیگم اسکی کیفیت سے بےنیاز اپنی باتیں کر رہی تھیں۔۔ اسکا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا۔۔ دو دن پہلے بات ہوئی اور آج انہوں نے بلوا بھی لیا۔۔
وہ بےبسی سے شیریں کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ اسے ان سب سے چھپا لیتا۔۔ شیریں کو اپنی ہتھیلیاں بھیگتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں ۔۔ اسکی جانب نہیں دیکھ کر بھی وہ جانتی تھی کے وہ اسے ہی دیکھ رہا ہے۔۔
“شیریں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے امّاں جان۔۔
وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا۔۔ جیسے اسے اشارہ دے رہا ہو کے اب یہاں سے اٹھ جائے۔۔
۔
“جی بیٹا۔۔ سدرہ نے بتایا شیریں کو بخار ہے۔۔ اصل میں یہاں ہوں نہیں زیادہ دنوں تک۔۔ اس لئے میں نے سوچا بس آج ہی اپنی بیٹی سے مل آؤں۔۔ سدرہ بھی نہیں جانتی تھیں میں اچانک ہی آ گئی۔۔ اگلی بار انشااللہ طلحہ کے ساتھ آؤنگی۔۔
وہ خاتون پوری طرح شیریں پر نثار ہوتیں شاید اپنے بیٹے کا ذکر کر رہی تھیں۔
“جاؤ بیٹا تم آرام کرو۔۔
اسے تو شاید اسی جملے کا انتظار تھا۔۔ ایک لمحے دیر کئے بنا وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔
“امّاں جان۔۔ میں ذرا فریش ہو لوں۔۔
اسکے جانے کے چند سیکنڈز بعد وہ بھی ایکسیوز کرتا کمرے سے نکل گیا۔۔
۔
“یہ کیا تھا شیریں۔۔
اسکے کمرے کا دروازہ کھول کر وہ غصّے سے کہتا داخل ہوا۔۔
وہ جو بیڈ پر چت لیٹی ابھی پوری طرح ریلیکس بھی نہیں ہوئی تھی۔۔ اسے یوں سامنے دیکھ کر سرعت سے اٹھ بیٹھی۔۔
۔
“کسی کے کمرے میں داخل ہونے کے مینرز بھی بھول گئے ہو تم “۔۔
اپنے لہجے کی کپکپاہٹ چھپاتے دوپٹہ اپنے گرد صحیح طرح پھیلا کر وہ سختی سے بول رہی تھی۔۔
“ابھی جو میں نے دیکھا وہ کیا تھا شیریں۔۔ آپ کیوں گئیں تھیں ان لوگوں کے سامنے “۔۔
اسکی بات کو نظر انداز کرتا وہ اسکے مقابل آ کھڑا ہوا تھا۔۔ شیریں نے ایک پل کے لئے خوفزدہ ہو کر اسے دیکھا۔
“میں آپ سے پوچھ رہا ہوں کیوں گئیں تھیں آپ ان کے سامنے۔۔ جانتی ہیں کس طرح آپ کو ایکسرے کرتی نظروں سے دیکھ رہی تھیں وہ۔۔
وہ دھیمی آواز میں غرایا۔۔
وہ آنسوں پر بند باندھتی اسے غصّے سے گھورنے کی کوشش کر رہی تھی جس میں ایک فیصد بھی کامیاب نہیں ہوئی تھی۔۔
“جواب دیں میری بات کا شیریں۔۔ کیوں آپ کسی کے آگے اس طرح گئیں کے وہ آپ کو دیکھیں ۔۔ بلکہ پرکھیں ۔۔ آپ کے ہر ہر انداز کو اپنی خواہش کے مطابق ترازو میں تولیں۔۔ جواب دیں میری بات کا۔۔
اسکی جانب جھکتے خون آشام نظروں سے اسے تکتے وہ سختی سے بول رہا تھا۔۔
۔
“مم مجھے مما نے کہا تھا تیار ہو کر نیچے آنے۔۔ مم مجھے شوق نہیں لوگوں کے آگے اپنا آپ دکھانے کا۔۔ تم مجھ سے اس طرح بات نہیں کر سکتے۔۔
وہ اب بھی اسے غصے سے گھورنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ آنسوں پھسل کر گالوں پر لڑھک آئے تھے۔۔
“تو ماما نے کہا اور آپ تیار ہو کر چلی گئیں یار۔۔
اس نے دانت پیس کر سامنے رکھے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔۔ چھناکے کے ساتھ اس پر ٹیبل کا کنارہ ٹوٹ کر ساتھ اسکا ہاتھ بھی زخمی کر گیا تھا۔۔
۔
“وہ جو پہلے خود کو نڈر ثابت کرنے کو پوری کوشش کر رہی تھی اسکے اس عمل پر چہرہ ہاتھوں میں چھپاتی زور زور سے رونے لگی۔۔
۔
“شیریں۔۔ پلیز خوفزدہ نہیں ھوں مجھ سے پلیز۔۔
اسے یوں سہم کر روتے دیکھ وہ ہوش میں آیا۔۔ بےبسی سے اسکی جانب دیکھتا وہ ملتجی انداز میں کہ رہا تھا۔۔
۔
“پپ پلیز یہاں سے جاؤ۔۔ تت تم مم میرے کمرے سے جاؤ۔۔
سہم کر پیچھے ہوتی وہ بری طرح روتے ہوئے کہ رہی تھی۔۔
۔
“اوکے۔۔ میں جا رہا ہوں۔۔ آپ بیٹھی رہیں۔۔ پلیز وہیں بیٹھی رہیں نیچے کانچ ہے۔۔ میں ملازمہ کو بھیج کر صاف کروا رہا ہوں۔۔ آپ پلیز اوپر ہی رہیں۔۔
اسے وہیں بیٹھے رہنے کا کہتے وہ اپنے انداز میں نرمی لاۓ اسے سمجھا رہا تھا۔۔
وہ ہچکیوں سے روتی اپنے کمرے میں بکھرے کانچ رہی تھی۔۔
۔
“مم میں وہیں شادی کرنا چاہتی ہوں جہاں مما چاہتی ہیں۔۔ پلیز تت تم مجھے پسند نہیں ہو۔۔ میں شادی نہیں کرنا چاہتی تم سے۔۔ میں تم سے بات ہی نہیں کرنا چاہتی۔۔ تم تمہیں دیکھنا ہی نہیں چاہتی پلیزز مجھ پر رحم کرو زوار۔۔
زوار نے تڑپ کر اسکی جانب دیکھا۔۔ آج اتنے دنوں بعد اسکا نام لے بھی رہی تو کس لئے۔۔ اسے خود سے جدا ہونے کا کہنے کے لئے۔۔
۔
“پھر کس سے شادی کرنا چاہتی ہیں آپ ہاں ۔۔
اسکی بات پر نیچے گرے کانچ کی پرواہ کئے بغیر وہ سرعت سے اسکی جانب آیا تھا۔۔

“جہاں مما چاہتی ہیں۔۔
وہ آنسوں پیتی دھیرے سے بولی۔۔
“آپ کیا چاہتی ہیں شیریں۔۔
وہ کرب سے اس لڑکی کی جانب دیکھ رہا تھا جو دوسروں کے لئے جتنی نرم دل تھی اس کے لئے اتنی ہی سنگدل بن رہی تھی۔۔

“مم میں وہی چاہتی ہوں جو مما چاہتی ہیں۔۔ پپ پر تم سے شادی نہیں کر سکتی۔۔ تم بب بھائی
اسکی بات مکمّل ہونے سے پہلے ہی وہ اسکا چہرہ جکڑ چکا تھا۔۔
“یہ آخری بار ہے شیریں۔۔ بھائی نہیں ہوں میں آپکا۔۔ آپکا کوئی بھائی نہیں ہے سمجھیں آپ۔۔
وہ بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ اس طرح کی حرکت اس نے پہلے کبھی نہیں کی تھی
“مم مجھے دد درد۔۔
اس کے انداز پر وہ ایک بار پھر سسکنے لگی تھی۔۔ زوار نے سرعت سے اس کے چہرے سے ہاتھ دور کئے۔۔
“مجھے معاف کر دیں شیریں میں یہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ لیکن یہ بات آج آپ ذہن نشین کر لیں آپکا کوئی بھائی نہیں ہے۔۔ اور آج کے بعد آپ کسی کے سامنے نہیں آئینگی اس طرح۔۔
ہولے ہولے کانپتے نازک وجود پر ایک بےبس سی نظر ڈال کر وہ کمرے سے نکل گیا تھا۔۔
اسکے جانے بعد وہ تکیہ میں سر دئے بری طرح رونے لگی۔۔ مما نے کہا تیار ہو کر آجاؤ وہ چلی گئی۔۔ یہاں زوار کہ رہا تھا کیوں گئی۔۔ وہاں ان خاتوں کی چبھتی نظریں۔۔ کسی نے اس سے تو پوچھا ہی نہیں کے شیریں تمہارا دل کیا کہتا ہے ۔۔ اسکی اپنی کوئی مرضی ہی نہیں تھی۔۔


۔
“بیلا باجی آج گھر نہیں جائینگی۔۔ اب تو ملازم بھی چلا گیا۔۔
وہ کاؤنٹر کے ٹیبل پر سر جھکائے بیٹھی تھی جب پوگو نے آہستہ سے اسے ہلا کر کہا۔۔
۔
“تمہیں کہا ہے نا آواز دے لیا کرو۔۔ ہاتھ نہیں لگایا کرو پوگو۔۔
وہ سنجیدگی سے اسے دیکھ کر بولی۔۔
بھلے ہی وہ چھوٹا تھا اس سے کافی لیکن اتنا بھی چھوٹا نہیں تھا۔۔ کچھ معاملات میں وہ بہت سخت تھی۔۔ پوگو کو اس نے اچھی طرح سمجھایا ہوا تھا کے وہ اس سے دو فٹ کی دوری پر رہ کر بات کرے گا۔۔
۔
“جی اچھا باجی۔۔ آپ گھر نہیں جائینگی باجی۔۔ کافی وقت ہو گیا ہے۔۔ آپ جاتی بھی اکیلی ہیں مجھے ڈر لگتا ہے باجی۔۔ میری صرف آپ ہی تو ہیں۔۔ آپ جانتی ہیں نا آپ نہیں ہونگی تو آپکا پوگو اکیلا ہو جائے گا۔۔
وہ معصومیت سے اپنی باجی کی شکل دیکھتا اس سے کچھ دوری پر رکھے کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔۔
“میری فکر نہیں کرو پوگو کچھ نہیں ہوگا تمہاری بیلا باجی کو۔۔ یوں تو کوئی کبھی خوش ہوا نہیں میری وجہ سے۔۔ دعا کرو کچھ ہو ہی جائے۔۔ شاید میری ذات سے خوشی مل جائے گی بہت سے لوگوں کو۔۔
وہ پھیکی سی مسکراہٹ اسکی جانب اچھال کر بولی۔۔ وہ تڑپ کر اسکے نزدیک آیا تھا۔۔
“اس طرح نہیں کہیں باجی۔۔ آپ پوگو سے پوچھیں نا آپ کیا ہیں میرے لئے۔۔ مجھے ان درندوں سے بچایا آپ نے۔۔ اگر آپ نہیں ہوتیں تو پوگو آج دسویں کے امتحان کی تیاری نہیں کر رہا ہوتا۔۔
آنکھوں میں نمی لئے وہ اسکے پیروں کے قریب بیٹھ گیا تھا۔۔
بیلا نے شفقت بھری نظر اسکی جانب ڈالی۔۔ دو سال پہلے اطہر صاحب کے ساتھ کیفے کی زمین دیکھنے آئی تھی تو کچھ لوگ اس بچے کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔ انکے ساتھ ایجنٹ اور کچھ لوگ بھی تھے۔۔ ان سب میں ایک وہی تھی جس نے آگے بڑھ کر اس بچے کو سینے سے لگایا تھا۔۔ تیرا سالہ یتیم بچہ جو دارلامان سے بھاگ کر پناہ کی تلاش میں اسے پناہ بیلا ملک نے دی تھی۔۔
ایک سال اسے خود ٹیوشن دینے کے بعد اس نے اسکا داخلہ اسکول میں کروا دیا تھا اس وقت وہ میٹرک کے امتحانات کی تیاری کر رہا تھا۔۔ پوگو کے لئے اس نے اطہر صاحب کے ایک دوست کے گھر ایک کمرہ رینٹ پر لیا تھا۔۔ جسکا رینٹ بھی وہی پے کرتی تھی۔۔ دو سال گزرنے کا بعد بھی وہ آج بھی اپنی بیلا باجی کا سایہ بن کر رہتا تھا۔۔
وہ اسکا پارٹنر تھا۔۔ اور واحد دوست بھی وہی تھا۔۔ جو اپنی باجی کی زندگی کا ہر پہلو جانتا تھا۔۔ اور دنیا کے سامنے خود سر اور بدتمیز سی بیلا کا دوسرا روپ اس نے بہت قریب سے دیکھا تھا۔۔
۔
“اے پاگل اپنی بیلا باجی کے محافظ ہو۔۔ محافظ روتے نہیں ہیں اچھا۔۔
وہ ہنستی ہوئی اسکے سر پر چپت لگاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ جو اب اسکے بیگ میں اپنا بھیگا چہرہ رگڑ رہا تھا۔۔
“پوگو اب میرا بیگ گندہ کیا تو نکال باہر کرونگی میں تمہیں۔۔
سارا سامان سمیٹتی وہ خفگی سے بولی۔۔
دور شیشے کے پار کھڑی دو نظریں سارا منظر دیکھتی ہلکا سا مسکرائیں تھیں۔۔
۔
“چلو پوگو۔۔ لاک ٹھیک سے لگانا اچھا۔۔ اور مین روٹ کے بعد تم اپنے گھر جاؤگے۔۔ تمہاری باجی کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔ تم بچے ہو میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتی۔۔
اپنا تھیلے نما بیگ لئے وہ باہر آئی تو اسے محسوس ہوا جیسے کوئی بلکل اسکے پیچھے سے گزرا ہو۔۔
اس نے سرعت سے رخ موڑا۔۔ سڑک خالی تھی۔۔ دروازے پر رکھے اس ٹیبل پر وہی باکس تھا۔۔ وہ حیرانی سے اس جانب آئی۔۔ آج صبح کیفے پر اسے پھول نہیں ملے تھے۔۔
باکس میں رکھے بیلا کے فلارز دیکھ کر اسکے لبوں پے بھرپور مسکان ابھری۔۔
پھولوں کو حق سے اٹھا کر اس نے ارد گرد دیکھا جیسے کہنا چاہ رہی ہو کے دیکھو تحفہ وصول کر لیا ہے۔۔
آج پھر ایک کارڈ رکھا ہوا تھا۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے کارڈ کھولا۔۔ پوگو کے ساتھ آہستہ آہستہ گھر کی جانب چلتی وہ اس کارڈ میں لکھی آیت پڑھنے لگی۔۔ آج کے دن کے دوسرا کارڈ تھا۔۔ اور آج کے دن کی دوسری آیت۔۔

فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ ۙ وَ نَجَّیۡنٰہُ مِنَ الۡغَمِّ ؕ وَ کَذٰلِکَ نُــۨۡجِي الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۸﴾
“تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو”
وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔ یہ ایک اشارہ تھا غم سے نجات پانے کا۔۔ پیچھے اس سے کافی دوری پر چلتا وہ شخص بھی مسکرایا۔۔ اندھیرے میں گم وہ اسکے ساتھ ساتھ چل رہا تھا جو اب بھی پوگو کو غصے سے مختلف ھدایت کر رہی تھی۔۔


جاری ہے۔۔