Dil Karaye Ke Liye Khali Nahin By Readelle50048 Episode 24 (part 2)
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24 (part 2)
“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٢۴ (پارٹ ٢)
Mega Episode..🎉🎉🎊
۔
وہ کمفرٹر منہ تک تانے اپنی سانسیں ہموار کر رہی تھی اسکے دوسرے جانب لیٹنے پر جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔
“شرافت سے ابھی اسی وقت بیڈ خالی کر دیں۔۔
وہ سخت جھنجھلائی ہوئی آواز میں بولی تھی۔۔ اسکی کچھ دیر پہلے کی حرکت پر دھڑکنیں اب بھی منتشر تھیں۔۔
وہ شرارت سے اسکا سرخ پڑھتا چہرہ دیکھ رہا تھا۔۔
کتنے خوبصورت رنگ تھے اس وقت اسکے چہرے پر۔۔ بلیک شب خوابی کے اپنے مخصوص لباس میں ملبوس۔۔ کالے بال شانوں پر بکھرے ہوئے تھے۔۔ کالی آنکھیں۔۔ان پر استداء مڑی مڑی پلکیں جو اس وقت جھالر کی مانند اٹھتی گرتی سامنے بیٹھے شخص کو خاصی اپیل کر رہی تھیں۔۔ گلابی لب جنہیں سختی سے بھینچ رکھے تھے۔۔ اور تھوڑی کا وہ گڑھا جو اسکی خفگی میں پورا ساتھ دیتا خفا خفا سا تھا۔۔
اسے آنکھوں میں محبت لئے اپنی جانب تکتے دیکھ وہ جھنجھلا کر بیڈ سے اٹھنے لگی۔۔
۔
“بیلا_ ایک بات ذہن نشین کر لیں۔۔ میں نے آپ سے کہا ہے کے میں آپ کی اجازت کے بغیر قریب نہیں آؤنگا تو ایسا ہی ہوگا۔۔ لیکن آپ کی یہ بےاعتباری برداشت نہیں کرونگا میں۔۔ اسکا ہاتھ تھام کر واپس بیٹھاتا وہ سنجیدگی سے کہتا اس سے کافی فاصلے پر لیٹ گیا۔۔ ۔ “میرا خیال ہے اب ہمیں اسی کمرے میں گزارا کرنا ہے تو ہمیں کچھ کنڈیشنز رکھ لینی چاہئیے اسکے بعد نا میں آپ کو تنگ کرونگی نا آپ مجھے” ۔۔ وہ چند پل آنکھیں چھوٹی کئے اسکی پشت کو گھورتے رہنے کے بعد تحمل سے بولی۔۔ “کیسی کنڈیشنز۔۔؟” اس نے رخ موڑے بغیر ہی سوال کیا۔۔ ۔ “فرعون کی ممی سے بات نہیں کر سکتی میں۔۔ اٹھ کر بیٹھیں۔۔ میری ساری کنڈیشنز اپنے غریب دماغ میں بیٹھا لیں۔۔ ورنہ چونکہ رخصتی کے بعد یہ کمرہ میرا ہو گیا ہے۔۔ تو آپ کو نکال باہر کرونگی۔۔ اسکی چوڑی پشت کی جانب دیکھتی وہ جل کر بولی۔۔ وہ اسکی جانب رخ کرتا سنجیدگی سے اپنی کچھ دیر پہلے بنی دلہن کو دیکھ رہا تھا جو پورے حق سے اسکے کمرے میں اسکے بیڈ پر بیٹھی اسے ہی کمرے سے نکالنے کی دھمکیاں دے رہی تھی۔۔ وہ محظوظ ہوتا مسکرا اٹھا۔۔ نظروں سے اسے شروع کرنے کا اشارہ کیا۔۔ ۔ “آپ مجھ پر کوئی شوہرانہ حقوق نہیں جتائینگے۔۔ مجھ سے دو فٹ کی دوری پر رہا کرینگے۔۔ میرے معملات میں دخل اندازی نہیں کرینگے۔۔ مسز افضل کے سامنے میری تعریفیں کرینگے۔۔ میری کافی پر نظریں نہیں گاڑینگے۔۔ مجھے کسی واہیات نام سے نہیں بلائینگے۔۔ میرے سامنے سستے شاہ رخ خان بننے کی کوشش نہیں کرینگے۔۔ بیڈ سینٹر تک میرا ہوگا۔۔ آپ بلکل کارنر پر سویا کرینگے۔۔ اور میرے بچوں کو یعنی پوگو اور فیھا کو اپنے بچے سمجھ کر ان پر رعب جھاڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ وہ پیور میرے بچے ہیں۔۔ انگلیوں پر گن کر اپنی تمام شرائط بتا کر وہ سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔۔ وہ جو اطمینان سے اسکی تمام شرطوں پر سر کو خم دے رہا تھا۔۔ آخری بات پر آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھنے لگا۔۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا اسکی پندرہ سالہ اولاد کو۔۔ ۔ “اطمینان رکھیں۔۔ میں صرف اپنے بچوں پر رعب رکھونگا۔۔ مسکراہٹ دبائے وہ بھرپور سنجیدگی سے بولا۔۔ ۔ “ہاں ٹھیک ہے اپنے بچوں کے ساتھ آپ کچھ بھی کریں مجھے کیا۔۔ میں تو_
وہ اپنی دھن میں زور شور سے اثبات میں سر ہلاتی بول رہی تھی۔۔ بات کی گہرائی سمجھ آنے تک گلنار ہوئی تھی۔۔ اسکے چہرے کی بدلتی رنگت پر ابراھیم بےساختہ امڈ آنے والا قہقہ دبائے سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا۔۔ آنکھوں میں واضح شرارت جھلک رہی تھی۔۔
۔
“انتہائی فضول انسان ہیں آپ۔۔ غربت کی چلتی پھرتی مشین۔۔
وہ خجل سی ہوتی سرخیوں میں گھلی اسکی جانب پشت کئے لیٹ گئی۔۔ اگلے ہی لمحے جھٹکے سے کمفرٹر بھی کھینچ چکی تھی۔۔
“اپنے لئے کمبل کا انتظام خود کر لیں۔۔ اس پر صرف میرا حق ہے”۔۔
وہ گہری سانس بھر کر اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔ جو مزے سے کمفرٹر لپیٹتی اس میں رول ہو کر سونے لگی تھی۔۔
۔
“اپنی تمام شرائط بتا دی آپ نے۔۔ اور خادم نے تسلیم بھی کر لی۔۔ مجھ غریب کی بھی سن لیں۔۔
اسکی جانب جھکتے اسکے چہرے سے کمفرٹر ہٹائے وہ دھیرے سے بولا۔۔
وہ اتنے قریب اسے دیکھتی پزل سی ہوئی تھی۔۔
“علاقہ غیر میں داخلہ ممنوع ہے “_ بیڈ پر اسکی جگہ کی جانب کی اشارہ کرتی وہ دھیمی آواز میں اسے چند لمحے پہلے کی اپنی شرط یاد دلا رہی تھی۔۔ ۔ “مکمّل جنگجؤں کے قبیلے سے تعلق لگتا ہے آپکا۔۔ اسکے ماتھے پر سے بالوں کو سائیڈ کرتے وہ نفی میں گردن ہلاتا بولا۔۔ اسے کچھ سمجھنے کا موقع دئے بغیر اسکے ماتھے پر لب رکھے اسے خاموش کروا گیا تھا۔۔ اس ایک لمس سے وہ اپنی تمام تر شدّتوں سے اسے روشناس کروا دیتا تھا۔۔ “یہ میری شرط ہے۔۔ اس سے آپ مجھے نہیں روکینگی_
ہولے سے ایک بار پھر اسکے ماتھے کو چھوتا وہ اسکی میچی آنکھوں کو دیکھتا ہلکا سا مسکرایا۔۔
۔
“سو جائیں اب نہیں آؤنگا میں علاقہ غیر میں”۔
اسکی میچی آنکھوں کو انگلیوں کی پوروں سے چھوتا وہ مسکاتے لہجے میں کہتا اپنی سائیڈ پر لیٹ گیا۔۔ جو کچھ دیر پہلے وہ مقرر کر چکی تھی۔۔
صبح کسی میٹھے سے لمس سے اسکی آنکھیں وقت سے پہلے ہی کھل گئی تھی۔۔ وہ تو فجر کی آذان کے ساتھ اٹھنے کا عادی تھا جس میں اب بھی کچھ وقت باقی تھا۔۔ اسکی نظریں اپنے کندھے سے سر ٹکائے سوتی ہوئی بیلا پر پڑیں۔۔
وہ اسکے کندھے پر سر رکھے اسکے بے حد قریب تھی۔۔ یقیناً وہ نیند میں اسکے قریب آ گئی تھی اور اسکی نیند میں خلل کی وجہ بھی یہی تھی ۔۔
۔
“علاقہ غیر تک تو آپ خود آ گئیں ہیں جاناں۔۔
اسکے ادھ کھلے لبوں کو انگلیوں سے بند کرتے اس نے محبت بھری نظریں اس پر ڈالی۔۔ گلابی چہرے کے گرد بکھری اسکی یہ زلفیں بھی اسے اپنی حریف لگ رہی تھیں جو اسکے دیدار میں خلل کی باعث بن رہی تھیں۔۔
اس نے احتیاط سے اسے کچھ دور کرتے اسکا سر تکیہ پر رکھا۔۔
وہ کسمسا کر دوبارہ اسکے قریب ہوتی اسکے سینے پر سر رکھ گئی تھی۔۔
وہ سانسیں روکے اسے اپنے قریب دیکھ رہا تھا۔۔ کچھ ملکیت کا بھی احساس تھا۔۔ بکھرے لاپروا سراپے کے ساتھ وہ اسکے لئے امتحان ثابت ہو رہی تھی۔۔
۔
“ہنی_ اتنے مشکل میں مت ڈالیں میری جان۔۔ بندہ بشر ہوں بھٹکنے میں وقت نہیں لگتا۔۔ کوئی گستاخی سرزرد ہو گئی تو اسے آپ نے گناہ بنا دینا ہے “۔۔ اسکی بھاری گرم سانسیں۔۔ نرم لمس اپنے گرد محسوس کرتے وہ بےبسی سے محو خواب وجود سے مخاطب تھا۔۔ نرمی سے اسکے نازک وجود کو تھام کر دوبارہ خود سے دور کرتے اسے ٹھیک سے لیٹایا۔۔ بند آنکھوں پر سایہ فگن مڑی مڑی پلکیں اسے شدّت سے اپنی جانب متوجہ کر رہی تھیں۔۔ آذان کی آواز پر اس بے اسے دیکھا جو اب بھی نیند میں غافل تھی۔۔ ۔ “بیلا _ اٹھ جائیں ہنی۔۔ نماز پڑھ لیں۔۔
اسنے نرم آواز میں اسے پکارا۔۔
۔
“بیلا__
وہ پھر بھی نہیں اٹھی تو اس نے دھیرے سے اسکے گال تھپتھپائے۔۔
۔
“کیوں اتنی رات میں مجھے جگا رہے ہیں۔۔ آپ کی شرط بھی تو پوری ہو گئی تھی۔۔
وہ بچوں کی طرح پیر پٹخ کر بول رہی تھی۔۔
“نماز پڑھ لیں۔۔ پھر سو جائیگا۔۔
اس نے نرمی سے کہتے اسے ڈائریکٹ کھڑا ہی کر دیا تھا۔۔
وہ آنکھیں موندے جھولتی ہوئی اس پر ہی گرنے لگی۔۔
۔
“بیلا۔۔ آنکھیں کھولیں شاباش۔۔ نماز پڑھیں پھر اپنی نیند پوری کریں”
وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
۔
“مجھے نہیں آتی نا “۔۔
وہ اس طرح اٹھائے جانے پر روہانسی ہو رہی تھی۔۔
“سیکھ لیں۔۔ چلیں آئیں شاباش۔۔ کپڑے چینج کریں۔۔ پھر وضو کریں۔۔
وہ اسے کوئی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔ کپڑے اسکے ہاتھوں میں تھماتا اسے باتھ روم میں بھیجا۔۔
“مجھے وضو کرنا بھی نہیں آتا “۔۔
کچھ دیر میں وہ لباس کئے اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔۔ نیند کے باعث آنکھوں میں گلال نمایاں تھا۔۔ وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جو کافی فریش لگ رہا تھا۔۔ شاید وہ عادی تھا اتنی صبح اٹھنے کا۔۔
۔
“آجائیں۔۔ مجھے دیکھ کر کرتی جائیں۔۔
کوئی دوپٹہ تو تھا نہیں اسکے پاس۔۔ اپنی چادر اسکے پہنا کر وہ اسے لئے اندر کی جانب بڑھا۔۔ وہ اسے دیکھ دیکھ کر مکمّل وضو کر رہی تھی۔۔
۔
“چلیں۔۔ اب میرے الفاظ دوہراتی جائیں۔۔ بعد میں سب یاد کر لیجیے گا “۔۔
اپنے پیچھے اسکے لئے جائے نماز بچھا کر اسے بنیادی فرق سمجھاتے اس نے شروع کرنے کا اشارہ کیا۔۔
وہ دھیمی آواز میں دھیرے دھیرے اطمینان سے پڑھ رہا تھا۔ وہ اسکے پیچھے اسکے الفاظ دوہرا رہی تھی۔۔ گلاس ونڈو سے نظر آتا وہ ناریل کا پیڑ اسکی شاخیں جھومتی جا رہی تھیں۔۔ فضائیں مہکی مہکی لگ رہی تھیں۔۔ ہوائیں گنگنا رہی تھیں۔۔ وہ اسکی امامت میں نماز ادا کر رہی تھی۔۔
۔
نماز ادا کر کے وہ اسکی جانب دیکھنے لگی۔۔ کتنا پرسکون تھا وہ۔۔ ایک طمانیت کا احساس تھا اسکے چہرے پر۔۔ دعا کر کے ہاتھ چہرے پر پھیرتا وہ اسکی جانب رخ کئے ہولے سے مسکرایا۔۔ وہ مسکرا بھی نہیں سکی۔۔ وہ اسکے قریب ہوتا اپنی چادر میں چھپی اسکی پیشانی پر لب رکھے کچھ پڑھ رہا تھا۔۔
اسے اسکے لب حرکت کرتے معلوم ہو رہے تھے۔۔
اس سمے اسے وہ کوئی ساحر لگا جو اسکے ارد گرد اپنی سحر کا طلسم باندھ رہا تھا۔۔ وہ چاہ کر بھی اسے دور نہیں کر پا رہی تھی۔۔ وہ اسے بےبس کر رہا تھا۔۔
وہ اسے اپنے سحر میں جکڑ رہا تھا۔۔
اپنی چادر اسکے وجود سے ہٹا کر اپنے کاندهوں پر ڈالتا وہ اسے اپنی دوسری چادر پہنا رہا تھا۔۔ گویا دوسری چادر میں بھی اسکی خوشبو بسانا چاہتا تھا۔۔
وہ آنکھوں میں حیرت لئے اسے تک رہی تھی۔۔
۔
“کوئی کسی کی خوشبو کا اتنا بھی دیوانہ ہوتا ہے کیا۔۔ ابراھیم ملک تو اسکی خوشبو سے بھی عشق کرتا تھا۔۔ ملتے ہیں جہاں میں کہیں اتنا چاہنے والے۔۔ اس قدر عشق میں ڈوبے لوگ “۔۔
اسکا روم روم چیخ چیخ کر اسے ابراھیم ملک کے عشق کی صداقت کا یقین دلا رہا تھا۔۔
“”میں محبت میں شدت کا قائل ہوں، آپ کی سانس سانس تک کا خیال رکھنے کی سعی کرتا ہوں، آپ ہنسیں تو اس کی ہنسی کا صدقہ فرض کر لیتا ہوں،
آپ محو گفتگو ہوں تو آپ کے تکلم کا صدقہ دیتا ہوں،
آپ آنکھیں بھگوئیں تو میری جان پر بن جاتی ہے،
آپ بولتے بولتے چپ کر جائیں تو اس کی چُپی سے خائف ہو جاتا ہوں،
آپ گھر سے باہر نکلیں تو میرے ہاتھ دعا کے لیے، میرے ہونٹ آیتیں پڑھ کر پھونکنے لگتے ہیں”۔۔
وہ تو ابھی اسکے عمل کے سحر سے نہیں نکلی تھی کے وہ لفظوں کا طلسم پھونک رہا تھا۔۔
۔
“آپ محبت نہیں ہیں بیلا۔۔ آپ عشق ہیں ابراھیم ملک کی۔۔ آپ سامنے ہوتی ہیں نا تو میں پلکیں بھی کم جھپکتا ہوں۔۔ مجھے ڈر ہوتا ہے کے آپ کو دیکھنے کے کسی لمحے سے محروم نا رہ جاؤں۔۔
وہ مزید بھی بول رہا۔۔ اسی طرح اسکی پیشانی سے لب ٹکرائے۔۔ وہ سن ہوتے دماغ کے ساتھ اسی طرح ساکت سی کھڑی تھی۔۔
۔
“یہ پہن لیں پلیز۔۔
سونے کی باریک چین جس میں زمرد کے کچھ پتھر جڑے تھے، وہ ہرے پتھر کا ایک پیڈنٹ تھا۔۔ یہ پتھر کس قدر بیش قیمت تھا اس وقت بیلا ابراھیم ملک کو اندازہ ہی نہیں تھا۔۔ وہ تو جانتی ہی نہیں تھی کے غربت کی اس چلتی پھرتی مشین کے پیچھے کتنے لوگ بھاگتے تھے۔۔ کتنے لوگ اسکے اشارے پر کیا کچھ کرنے پر تیار ہوتے تھے۔۔
وہ خاموش رہی۔۔ وہ اب بھی اجازت طلب نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
ہاں اسکی اجازت کے بغیر وہ کیسے پہنا سکتا تھا۔۔ اسے تو یہ امید بھی نہیں تھی کے وہ یہ حق اسے دیگی۔۔
بیلا نے خاموشی سے چادر اپنی گردن سے سرکائی تھی۔۔ وہ خوش گوار حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔۔
سر کو خم دیتے نرمی سے اسکے بال آگے کر کے وہ چین اسکی گردن کی زینت بنا گیا۔۔ دودھیا گردن پر جھولتا وہ ہرے پتھر کا پیڈنٹ الگ سی خماری پیدا کر رہا تھا۔۔
“میں اسے چھو لوں ؟”
ابراھیم نے ٹرانس کی سی کیفیت میں اجازت طلب کی۔۔ وہ ناسمجھی سے اسے دیکھتی اثبات میں سر ہلا گئی۔۔ ہوش تو آیا جب اسکے لمس کی تپش اپنی گردن میں محسوس ہوئی۔۔ وہ چین کو چھونے کی بات نہیں کر رہا تھا۔۔ وہ جھٹکے سے پیچھے ہوئی تھی۔۔ سرخ چہرہ لئے چادر سے جلدی سے اپنی گردن چھپا گئی۔۔
وہ اسکی حرکت پر خجل سا ہوتا نظریں چرا گیا۔۔
۔
“میں نے اجازت مانگی تھی۔۔
وہ دھیرے سے بولا۔۔
“میں نے آپ کو ٹھرک کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔۔ اس لاکٹ کو دیکھنے کی اجازت دی تھی۔۔
وہ خفگی سے بولی۔۔ پھر اچانک ہی غصّے سے اسکی جانب آئی۔۔ اسکے کچھ سمجھنے سے دونوں ہاتھوں سے اسکے گال پر ناخن گاڑھتی پوری طاقت سے اپنا سر اسکے تھوڑی پر مار گئی۔۔
۔
“جتنے ظلم، جتنا تشدد آپ مجھ پر کرتی ہیں۔۔ سوچیں کبھی میں حساب لینے پر آیا تو آپ کیا کرینگی؟”۔۔
اپنی تھوڑی سہلاتے وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔۔
۔
“میں آپکا قتل کر دونگی”۔۔
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی اطمینان سے بولی۔۔
وہ گہری سانس بھر کر اسے دیکھنے لگا۔۔ اس لڑکی کو بیوہ ہونے کا کوئی دکھ نہیں ہوگا۔۔
وہ خود ہی خود ہنس پڑا۔۔
رات کی تاریکی اب صبح کی لو دیتی ہوئی تپش کو گھیر لائی تھی۔۔ کھڑکی کے درزوں سے اندر آتی روشنی اسکی نیند میں خلل کا باعث بنی تھی۔۔ ہلکا سا کسمسا کر اس نے آنکھیں کھولیں۔۔ وہ بیڈ پر موجود نہیں تھی مطلب اسکے اٹھنے سے پہلے ہی وہ کمرے سے نکل چکی تھی۔۔
“شیریں __
وہ گہری سانس بھر کر اٹھ بیٹھا۔۔
نکاح کے بعد تو وہ مزید دور ہو گئی تھی۔۔ پہلے کم از کم ساتھ بیٹھتی تھی۔۔ اس کے ساتھ کافی اٹیچ بھی تھی۔۔ لیکن اب انکے درمیان ایک بےنام سی جھجھک آ گئی تھی۔۔ وہ جتنا اس جھجھک کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
وہ اتنی ہی زیادہ اس سے سہمنے لگی تھی۔۔
صوفے پر اسکے کپڑے رکھے ہوئے تھے۔۔
وائٹ شرٹ کے ساتھ بلیک ڈریس پینٹ۔۔ ساتھ ٹائی بھی موجود تھی۔۔ یعنی وہ اسکے لئے کپڑے نکال کر گئی تھی۔۔ ٹیبل پر وولیٹ۔۔ گھڑی۔۔ موبائل۔۔ سب موجود تھے۔۔ نہیں تھی تو بس وہ کمرے میں موجود نہیں تھی۔۔
وہ اسکی حرکت پر مسکرا اٹھا۔۔ اسکی بیوی اسکے لئے کپڑے نکال کر گئی تھی۔۔ یہ جانے بغیر کے اسکا شوہر آج سے اپنی ڈیوٹی پر جوائننگ دے رہا ہے۔۔ جو اس نے اپنی یونیفارم میں دینی ہے۔۔
اسکا ری-ایکشن سوچتے اسکے لبوں پر مسکراہٹ بکھری۔۔
“السلام عليكم !”۔۔
ناشتے کی ٹیبل پر پہنچتے اس کے بلند آواز میں سلام کرنے پر ان سب کی توجہ اسکی جانب گئی۔۔ جو پولیس کے یونیفارم کی وردی میں ملبوس انکے سامنے کھڑا تھا۔۔ سی ایس ایس کے امتحانات پاس کرنے کے بعد اس نے سول سروس جوائن کی تھی۔۔ ٹیبل سیٹ کرتی شیریں کی نظریں اٹھیں تھیں۔۔ وہ بےاختیار اسے دیکھنے لگی۔۔ اسکا لمبا قد وردی اور جوتوں میں اور بھی بلند لگ رہا تھا۔۔
بھورے بال۔۔ بھوری آنکھیں جو اس وقت چمک رہی تھیں۔۔ ورزشی بازو وردی کی ہالف سلیوز میں واضح ہو رہے تھے۔۔ وہ واقعی بہت پیارا تھا۔۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا انکے مقابل آ کھڑا ہوا۔۔
سدرہ بیگم نے بےساختہ اسکی بلائیں لی تھیں۔۔ اطہر ملک نے مسکراتے ہوئے فخر سے اسے پیار کرتے گلے سے لگایا۔۔ ابراھیم نے بھی گلے سے لگا کر مبارک باد دی تھی۔۔ وہ سب ہی واقف تھے کے وہ آج سے ڈیوٹی جوائن کر رہا ہے۔۔ سوائے شیریں کے۔۔ وہ اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا۔۔
سب سے دعائیں لیتا چیئر کھسکا کر بیٹھ گیا۔۔ وہ اسے نظر انداز کر گیا تھا۔۔ نجانے کیوں لیکن شیریں کا دل ایک پل کو ڈوب سا گیا۔۔
“شیریں ! چھوڑو تم یہ سب۔۔ زوار کو سرو کرو۔۔ اور بیلا تم ابراھیم کو “۔۔
وہ ایک ساتھ ہی ان دونوں سے مخاطب ہوئیں تھیں۔۔
شیریں کو انہوں نے خاصی سختی سے پکارا تھا جبکہ بیلا کے ساتھ انداز ویسا ہی تھا۔۔ ہر قسم کے احساس سے عاری۔۔
وہ نکاح کے بعد سے نوٹ کر رہی تھیں۔۔ شیریں کا زوار کو نظر انداز کرنا انہیں اچھا نہیں لگا تھا۔۔ اسکی حالت کے پیش نظر وہ اسے کافی لاڈ سے رکھتی تھیں۔۔
یہی وجہ تھی آج انکا اس طرح پکارنا اسکی آنکھیں نم کر گیا تھا۔۔
زوار کا نظر انداز کرنا اور انکا یہ انداز وہ پلکوں کو جھپک کر آنسوں ضبط کرتی زوار کے برابر میں آ بیٹھی۔۔
۔
“کک کیا لو گے ؟”۔۔
اسکے بھرائی آواز میں پوچھنے پر زوار کو بےاختیار اس پر پیار آیا۔۔ جسکا اظہار وہ اس وقت قطعی نہیں کر سکتا تھا۔۔
۔
“چاۓ سرو کر دیں پلیز “۔
وہ نرم لہجے میں کہتا بغور اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔۔ جو سر اثبات میں ہلاتی کپ اسے تھما گئی۔۔
“ڈانٹیں نہیں انہیں۔۔ سمجھ جائینگی آہستہ آہستہ۔۔ شیریں اس طرح اداس ہونے کی ضرورت نہیں ہے بچے”۔۔
سر جھکائے آنسوں ضبط کرتے دیکھ افضل ملک نے نرمی سے کہا۔۔
سدرہ بھی اسکے آنسوں دیکھ کر نرم پڑھ گئیں۔۔
زہر مار کر دو لقمے لیتی وہ چاۓ ٹھنڈی ہو گئی کا بہانہ کرتی کچن میں آ گئی تھی۔۔ سنک کے آگے کھڑی ضبط کئے آنسوں بہا رہی تھی۔۔
ناشتے کے بعد افضل ملک اور اطہر ملک ابراھیم کے ساتھ ہی آفس کے لئے نکل گئے تھے۔۔ فنکشنز کل ختم ہو گئے تھے تو آج سے سبھی اپنے معمول پر آ گئے تھے۔۔
بیلا بھی سب کے منع کرنے کے باوجود بھی آج بھی کیفے گئی تھی۔۔ یوں بھی وہ آفٹر شاکس منانے پر یقین نہیں رکھتی۔۔ جو دن گزر گیا اسکی خوشی اور غم بھی اسکے ساتھ ہی گزر گئے یہ بیلا افضل ملک کا اصول تھا۔۔
۔
وہ سدرہ بیگم سے دعائیں لیتا سیدھا کچن میں ہی آیا تھا۔۔
اسکے توقع کے مطابق وہ زور شور سے آنسوں بہا رہی تھی۔۔ چاۓ تو ابل ابل کر سوکھ گئی تھی۔۔ اس نے خود بھی بلیک جوڑا پہن رکھا تھا جسکی شرٹ پر سفید دھاگوں کی ابھری ہوئی کڑھائی تھی۔۔ گلے دامن اور آستین پر سفید موتی جڑے تھے۔۔ سفید شفون کا دوپٹہ شانوں پر پھیلائے۔۔ بالوں کی لمبی چوٹی اسکی پشت پر جھول رہی تھی۔۔
اسکا جائزہ لیتے وہ اسکے قریب آیا۔۔
“مبارک باد بھی نہیں دینگی مجھے “۔۔
نرمی سے رخ اپنی جانب کرتے وہ دھیرے سے بولا۔۔
اچانک اسکی بھاری آواز سنتی وہ سٹپٹا کر آنسوں صاف کرنے لگی۔۔
۔
“مبارک ہو “۔۔
ساتھ ہی مبارک باد گویا اسکے منہ پر ماری گئی تھی۔۔
“اتنی ٹھنڈی مبارک باد ڈیئر وائفی۔۔
ناک میں چمکتی نوز پن کو چھیڑتے وہ ہولے سے بولا۔۔
۔
“تم نے مجھے اگنور کیا “۔۔
لب چباتی وہ دھیرے سے بولی۔۔ بلآخر شکوہ لبوں پر آ ہی گیا تھا۔۔
زوار نے خوش گوار حیرت سے اسکی جانب دیکھا تو گویا اسکا نظر انداز کرنا اس نے محسوس کیا تھا۔۔ اسکے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔
“آپ بھی تو میرے ساتھ نیچے نہیں آئیں۔۔ میں تو اس وردی میں سب سے پہلے اپنی بیوی کے سامنے آنا چاہتا تھا۔۔ اچھی سی مبارک باد وصول کرنا چاہتا تھا۔۔
لیکن آپ تو میرے اٹھنے سے پہلے میرے خوف سے نیچے آ گئیں۔۔
اسکی ناک سے اپنی پیشانی ٹکراتا اسکے آنسوں صاف کرتے وہ مسکاتے لہجے میں بولا۔۔
“زز زاوی۔۔
وہ اتنی قربت پر ہی ہلکان سی ہو گئی تھی۔۔
۔
“میڈیسنز ٹائم پر لے لیجیے گا۔۔ دو دن بعد آپکی آپائٹمنٹ ہے ڈاکٹر کے پاس “۔۔
وہ لب بھینچ کر اسے دیکھتا سنجیدگی سے کہتا دروازے سے نکل گیا۔۔
۔
دیکھیں۔۔ میں آپ کو اس سے زیادہ پیکج نہیں دے سکتی۔۔ ہمارا ابھی سمال سٹارٹ اپ ہے۔۔ کنٹریکٹرز پر تو اپنا پورا ریوینیو نہیں لٹا سکتے نا ہم “۔۔
وہ اپنے سامنے بیٹھا شخص سے مخاطب تھی جسکی سی وی اسکے سامنے موجود تھی۔۔ جن اداروں سے اس نے تعلیم حاصل کی تھی اسکی بنیاد پر تو اسے بہتر سے بہترین فائیو سٹار ہوٹلز میں جاب مل جاتی۔۔ ایک سے بڑھ ایک نوکری ملتی پھر یہ شخص اسکے ساتھ ہی کام کرنے کو کیوں ترجیح دے رہا تھا اسکی سمجھ سے باہر تھا۔۔
۔
“میم اتنا پیکج ہی کافی ہے۔۔ آپ کا کیفے آنے والے سال تک انشااللہ تیار ہوگا۔۔
وہ مودبانہ انداز میں بولا۔۔ وہ کچھ سوچ کر سر ہلا گئی۔۔ اتنے کم پیکج پر اتنا اچھا کنٹریکٹر مل رہا تھا ڈیل بری تو نہیں تھی۔۔
۔
“آپ کی ڈگری جعلی تو نہیں ہے “۔۔
وہ مشکوک نظروں سے جانب دیکھتی ہوئی بولی۔۔
۔
“میم۔۔
وہ تو اس سرپھری لڑکی کو دیکھ کر رہ گیا۔۔ اب اسے کیا بتاتا کے پیکج تو اسے اپنی اہلیت سے بھی زیادہ ہی مل رہا تھا۔۔
۔
“ٹھیک ہے پھر آپ کل سے کام شروع کر دیں۔۔ میں اپنا بجٹ آپ کو بتا چکی ہوں۔۔ آپ نے اسی بجٹ میں میرا کیفے تیار کرنا ہے۔۔
وہ سنجیدگی سے کہتی فائل اسکی جانب بڑھا گئی۔۔
وہ بھی پیشہ وارانہ انداز میں مسکراتا اسکے چھوٹے سے آفس سے نکلا۔۔
۔
“توبہ یہ لڑکی دراب سر کی وائف ہے ؟”
وہ کانوں کو ہاتھ لگاتا کیفے سے باہر نکلا۔۔
۔
“ہیلو۔۔ جی سر۔۔ کام ہو گیا ہے۔۔ میم نے مجھے بیس ہزار پر منتھ پر رکھا ہے۔۔ کیفے بنانے کے لئے انکا ٹوٹل بجٹ یہی کوئی تقریباً چھ لاکھ تک ہے۔۔ لیکن جو سٹرکچر وہ بتا رہی ہیں اس پر کم از کم بھی پچاس لاکھ سے زیادہ لگیینگے۔۔
کیفے سے نکل کر اس نے اپنے باس کو کال کر کے تمام تفصیل دی تھیں۔۔
وہ اسکے کیفے سے کچھ دوری پر اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔۔ اسکے مینیجر سے بات کرنے کے بعد وہ ڈرائیور کو جانے کا حکم دیتا اپنی چادر درست کرتا کیفے میں داخل ہوا۔۔ سامنے ہی وہ ایپرن پہنے تیزی سے کاؤنٹر سمیٹ رہی تھی۔۔ وہ دروازے سے ٹیک لگاتا مسکراتا ہوا اسے دیکھنے لگا جو اب کاؤنٹر پر اکاؤنٹنٹ سے آج کے تمام سلپس لے رہی تھی۔۔ اکاؤنٹنٹ کو فارغ کرنے کے بعد تمام سلپس کو ایک فائل میں اٹیچ کر کے وہ فائل اپنے سامان میں رکھتی فیھا کی جانب ایک لفافہ بڑھا رہی تھی۔۔
اسکے گال پر پیار کرتی وہ کچھ مزید پیسے اسکی مٹھی میں دبا چکی تھی۔۔ وہ اب بھی شیشے کی اس دروازے پر کھڑا اسکا ہر عمل دیکھ رہا تھا۔۔
اس وقت اسکے چہرے پر کسی سربراہ جیسی شفقت تھی۔۔ انداز میں ماؤں جیسی نرمی۔۔ ابراھیم کو اس وقت وہ بہت معصوم لگی۔۔
سارے ٹیبلز پوگو پہلے ہی صاف کرنے کے سائیڈ کر چکا تھا۔۔ اب وہ تینوں ایک ٹیبل پر بیٹھے تھے۔۔
“یہ لو بیلا۔۔ گرما گرم چکن فجیتا۔۔ مرچیں ٹھوک کر۔۔ نمک روک کے۔۔ بلکل جیسا تمہیں پسند ہے۔۔ آج تم ٹرائ کرو تمہیں پسند آیا تو پھر ہم اسے بھی اپنے مینیو میں شامل کر دینگے۔۔ آہستہ آہستہ ہمیں اپنا مینیو بڑھانا چاہئیے۔۔ لوگ تمہارے کیفے کو پسند کرتے ہیں۔۔ اور تمہیں بھی۔۔
بیلا کے آگے چکن فجیتا کی ڈش رکھتی اپنے انداز میں اپنے کھانے کی تعریف کرتی وہ ساتھ ہی کسی سیانے کی اسے مشورہ بھی دے رہی تھی۔۔
۔
“واؤ_ تمہارے ہاتھوں میں جادو ہے فیھا۔۔ وہ فارک کی مدد سے ایک پیس منہ میں ڈالتی اسے سراہ رہی تھی۔۔ وہ ہولے سے مسکرائی۔۔ “تم بھی کھا لو۔۔ سڑو نہیں۔۔ پوگو کو خفگی سے اپنی جانب تکتے دیکھ کر وہ خود ہی ایک پیس اٹھا کر اسکے منہ میں ٹھونس چکی تھی۔۔ انکی نوک جھونک سے محفوظ ہوتی بیلا کھلکھلا کر ہنس پڑی۔۔ ۔ “بیلا باجی۔۔ یہ آپ کو مجھ سے دور کر رہی ہے “۔۔ وہ بھرے منہ کے ساتھ بامشکل بولا۔۔ ۔ “بیلا_ ہم مینیو میں ایڈ کر سکتے ہیں اسے ؟”
بیلا کے ہاتھ سے ایک نوالہ کھاتے اس نے اشتیاق سے پوچھا۔۔
۔
“ضرور۔۔ لیکن تم کیفے کے ساتھ اپنی اسٹڈیز بھی کنٹنیو کرو۔۔ پوگو کے ساتھ ہی میٹرک کے امتحان دو۔۔ اسکے بعد میں تمہارا ایڈمشن ہیلتھ اینڈ فوڈ کے کسی کالج میں کرواؤنگی۔۔ اور کوکنگ کلاسس ابھی سے لینا شروع کرو۔۔ فارم لے کر آئی ہوں میں فل اپ کر دینا میں سبمٹ کروا دونگی۔۔ اتنا اچھا ہنر ہے تمہارے پاس اسے ویسٹ نہیں کرو میری جان۔۔
وہ ان دونوں کو کھلاتی ساتھ خود بھی کھاتی سنجیدگی سے بول رہی تھی۔۔
وہ نم آنکھوں سے اسے تکتی اگلے ہی لمحے اسکے گلے سے لگی۔۔
بیلا کے ہاتھ یکدم ساکت ہو گئے۔۔ پوگو بھی حیرانی سے بیلا کے گلے سے لگی فیھا کو دیکھ رہا تھا۔۔
بیلا کی نظریں بے اختیار دروازے کی جانب اٹھیں۔۔ دروازے پر کھڑا ابراھیم بھی ہوش میں آیا تھا۔۔ وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔۔ اسے تو پتہ ہی نہیں چلا وہ کب آیا تھا۔۔ اسکے دیکھ لینے پر وہ بھی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا انکی جانب آ گیا۔۔
اسے ساکت دیکھ کر اس نے آنکھوں سے اشارہ کیا تھا۔۔ وہ اسکا اشارہ سمجھتی فیھا کو ساتھ لگائے مسکرائی۔۔
“کیا ہوا ؟”
کافی دیر بعد وہ مسکراتی ہوئی خود سے الگ کرتی پوچھنے لگی۔۔
“تم بلکل مما جیسی ہو “۔۔
وہ آنسوں صاف کرتی سوں سوں کر کے بولتی اسکی آنکھیں نم کر گئی تھی۔۔
پوگو نے حیرت سے اس لڑکی کی جانب دیکھا۔۔ جو اظہار دو سالوں میں وہ نہیں کر سکا تھا وہ اس لڑکی نے چند دنوں میں کر دیا تھا۔۔ کتنی آسانی سے وہ بیلا کو بتا چکی تھی۔۔
“تم دنوں میرے بچے ہی ہو “۔۔
وہ مسکرا ان دونوں کے دیکھتی ہوئی بولی۔۔
وہ دونوں نم آنکھوں سے اثبات میں گردن ہلا رہے تھے۔
ابراھیم نے فخر سے اسکی جانب دیکھا۔۔ جو تشنگی اسکی آنکھوں میں ہمیشہ رہتی تھی وہ اس حسرت میں دوسروں کو مبتلا ہونے سے محفوظ رکھ رہی تھی۔۔
“ابراھیم بھائی آپ کب آئے؟ “
ابراھیم کی موجودگی پر پوگو نے آنکھیں سکیڑ کر پوچھا۔۔
“جب آپ لوگ اکیلے چکن فجیتا کھا رہے تھے “۔۔
وہ مسکراتا ہوا بیلا کی پلیٹ اپنی جانب کرتا اسکے برابر میں بیٹھ چکا تھا۔۔
وہ آنکھوں میں خفگی لئے اسے دیکھتی زبردستی مسکرائی۔۔
جاری ہے۔۔
