No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
“”دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٢٢
۔
دو دن مزید کیسے گزرے اسے کچھ خبر نہیں ہوئی تھی۔۔ اس رات سدرہ بیگم اسے رضا مند کر گئیں تھیں۔۔ اسکی رضا مندی پر کوئی حیران نہیں تھا سب ہی جانتے تھے کے وہ سدرہ بیگم کو انکار نہیں کر سکتی۔۔ اگر وہ خود اس سے بات کرنے گئیں تھیں تو جواب ہاں میں ہی آنا تھا اور ایسا ہی ہوا تھا۔۔ لیکن وہ مزید خاموش ہو گئی تھی۔ اسکی یہ خاموشی ابراھیم کو بے چین کر گئی تھی۔۔ تمام دن وہ کیفے پر ہوتی۔۔۔ گھر رات گئے لوٹتی اور اپنی پسندیدہ جگہ بیٹھ کر ڈنر کرنے کے بعد اپنے کمرے میں گم ہو جاتی۔۔ وہ دور دور سے ہی اسکا ہر عمل۔۔ ہر انداز دیکھتا تھا۔۔ محسوس کرتا تھا۔۔ لیکن اسکا درد بانٹ نہیں سکتا تھا۔۔ اس نے حق ہی کب دیا تھا۔۔
سدرہ بیگم اگلے روز سے ہی زور شور سے شادی کی تیاریاں شروع کر چکی تھیں۔۔ وہ اسکے اور شیریں دونوں کے لئے ہر چیز ایک جیسی لے رہی تھیں۔۔ زیور۔۔ کپڑے۔۔ اور نجانے کیا کیا۔۔ انکے چہرے سے سچی خوشی جھلک رہی تھی۔۔ لیکن اسکے ذہن میں تو ایک بات بیٹھ چکی تھی۔۔
وہ اپنی بیٹی کے ساتھ بہو کی تیاری کر رہی تھیں۔۔ وہ ابراھیم ملک کے حوالے سے اسکے لئے چیزیں لا رہی تھیں۔۔ اور یہ ایک حوالہ اسکا دل ابراھیم ملک کے لئے مزید تنگ کر چکا تھا۔۔
اس وقت وہ لاؤنچ میں ٹیبل پر تمام زیورات پھیلائے بیٹھی تھیں۔۔
اطہر ملک اور افضل ملک انکی خوشی میں خوش تھے۔۔
۔
“مما یہ تو بہت بھاری ہے۔۔ میں نہیں کیری کر پاؤنگی۔۔
بھاری جڑاؤ سیٹ اپنے ہاتھوں میں تھامے شیریں دھیمی آواز میں کہ رہی تھی۔
۔
“آپ یہی پہنینگی۔۔
خاموش بیٹھے زوار نے سنجیدگی سے کہا۔۔ شیریں نے چونک کر اسکی جانب دیکھا۔۔ دو دنوں سے وہ اسے مخاطب نہیں کر رہا تھا۔۔ اسکے جھجھک کے پیش نظر وہ کمرے میں بھی اسے کافی سپیس دے رہا تھا۔۔
یوں سب کے سامنے مخاطب کرنے پر وہ جزبذ سی ہو گئی تھی۔۔
وہ بغور اسکے تاثرات دیکھتا اسکے مقابل آ کھڑا ہوا تھا۔۔
۔
“امّاں جان۔۔ نکاح تو جلدی جلدی میں یونہی ہو گیا۔۔ ریسیپشن پر مجھے میری دلہن پوری طرح میری لئے سجی سنوری چاہئیے۔۔ مکمّل سنگھار کے ساتھ۔۔
اسکے ہاتھوں سے وہ سیٹ لے کر دیکھتا وہ سنجیدہ سا بول رہا تھا۔۔
وہ سدرہ بیگم سے مخاطب تھا۔۔ لیکن اسکے الفاظ اور انداز سے وہ اچھی خاصی سہم چکی تھی۔۔
“مم مما میں۔۔ یہ کک کیسے۔۔
اس نے روہانسی ہو کر مدد طلب نظروں سے سدرہ بیگم کی جانب دیکھا۔۔
“دلہن ہو تم۔۔ اپنی شادی پر نہیں پہنوگی تو کب پہنو گی۔۔
اسکی آنکھوں ہی آنکھوں میں امڈتی التجا نظر انداز کرتیں وہ کچھ سخت لہجے میں بولیں۔۔
اسکا زوار کو نظر انداز کرنا۔۔ اس سے دور دور رہنا ان کی نظروں سے مخفی نہیں تھا۔۔
“بیلا۔۔ یہاں آؤ۔۔
اسے خاموشی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھتے دیکھ کر وہ نرمی سے بولیں تھیں۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی خاموشی سے انکے پاس آ گئی تھی۔۔
ابراھیم خاموش بیٹھا اسکے تاثرات دیکھ رہا تھا جو سپاٹ چہرہ لئے سامنے پھیلی چیزیں دیکھ رہی تھی۔۔ جیسے اسے کوئی سروکار ہی نا ہو۔۔
۔
“یہ سیٹ میں نے اپنی بیٹیوں کے لئے بنوایا تھا۔۔ ایک شیریں کے لئے اور ایک تمہارے لئے بلکل ایک جیسے۔۔ کل کے فنکشن میں۔۔ میں چاہتی ہوں تم یہی پہنو۔۔
بھاری کندن کا ہار اسکے گلے سے لگا کر دیکھتیں وہ بہت خوش نظر آ رہی تھیں۔۔
وہ زخمی مسکراہٹ لبوں پر لئے انہیں خوش دیکھ رہی تھی۔۔
“ان ساری چیزوں سے مجھے دور رکھیں مسز افضل۔۔ شام میں مہندی ہے۔۔ آپ کے حکم کے مطابق مجھے وہاں بیٹھنا ہے۔۔ اس سے پہلے کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہوں میں۔۔
سپاٹ لہجے میں کہتی وہ اپنا بیگ لئے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔
وہ ہاتھ میں پکڑے ہار کو دیکھتی رہ گئیں۔۔ یہ دوری انکی ہی پیدا کردہ تھی۔۔
ابراھیم نامحسوس انداز میں ان سب کے درمیان سے اٹھتا اسکے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔
“بیلا۔۔
بیگ بیڈ پر پھینکتی ابھی لیٹی ہی تھی اسکی آواز پر سرعت سے اٹھ بیٹھی۔۔
“اب آپ کس لئے آئے ہیں۔۔ آپ کو بھی کوئی حکم صادر کرنا ہے۔۔ ارے نہیں میں تو بھول ہی گئی یہ عادت آپ کو وراثت میں اپنی امّاں جان سے ہی تو ملی ہے۔۔
کہیں کونسا نیا حکم نامہ لائے ہیں آپ۔۔
سینے پر ہاتھ باندھے وہ اسکے آگے آ کھڑی ہوئی۔۔
وہ خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔۔
اگلے ہی لمحے ہاتھ بڑھا کر دھیرے سے اسے قریب کرتے ساتھ لگایا تھا۔۔
“کوئی نیا حکم نہیں ہے۔۔ بس ایک التجا ہے۔۔ میری زندگی میں شامل ہو ہی رہی ہیں تو بخوشی اپنی رضا سے ہوجائیں بیلا۔۔ میرا بھروسہ کر کے۔۔ صرف میرے لئے میری بن کر آجائیں۔۔ ایک بار میری محبت کو اعتبار سونپ دیں۔۔
اسکے بالوں پر لب رکھے وہ تھکے تھکے انداز میں بول رہا تھا۔۔
“دور ہٹیں۔۔ آپ کی جاگیر نہیں ہوں جو آپ کی ماں نے خرید کر آپ کے نام کر دی ہو۔۔
وہ تڑپ کر دور ہوئی۔۔
“بیلا_ ضبط سے تنی رگوں کے ساتھ وہ دبا دبا سا چیخا تھا۔۔ “میری ماں کے متعلق بات کرنے سے گریز کیا کریں۔۔ میری ذات تک آپ کی ہر بات برداشت کر لیتا ہوں میں۔۔ امّاں جان اور میری ماں کا ذکر ضروری نہیں ہے بیلا۔۔ اسکی تنی ہوئی رگوں کو دیکھ کر اسے بھی اپنے الفاظ کی سختی کا احساس ہوا تھا۔۔ “آپ جائیں پلیز۔۔ وہ بےبسی سے بولی۔۔ “یہاں دیکھیں۔۔ میری طرف دیکھیں بیلا۔۔ مجھے بتائیں کیوں اتنی نفرت کرتی ہیں آپ مجھ سے۔۔ اسے زبردستی اپنی حصار میں لئے وہ بےبسی سے بول رہا تھا۔۔ “کیوں میری ماں آپ سے مجھ سے زیادہ محبت کرتی ہیں۔۔ وہ روتی ہوئی اس سے دور ہونے کی کوشش کرتی ہوئی بولی تھی۔۔ “میری آنکھوں کے رنگ وہ آج تک نہیں پڑھ پائیں۔۔ لیکن آپ کی آنکھوں کے ایک ایک رنگ سے واقف ہیں۔۔ میری خوشی کس چیز میں ہے اسکا انہیں علم نہیں ہے۔۔ لیکن آپ کی خوشی مجھ میں ہے یہ بات وہ جانتی ہیں۔۔ وو وہ آج تک میری آنکھوں میں اپنے لئے محبت نہیں دیکھ پائیں ابراھیم۔۔ لیکن وو وہ آپ کی آنکھوں میں میرے لئے محبت دیکھ سکتی ہیں۔۔ مم میری سانسیں رکتی ہیں آپ کے لئے انکی آنکھوں میں محبت دیکھ کر۔۔ مم مجھ سے کیوں نہیں ہے۔۔ مم میں نے کیا کیا ہے۔۔ مم مجھے بتائیں نا۔۔ مم مجھ سے کیوں نہیں کرتیں وہ پیار۔۔ اسکے سینے پر سر مارتی وہ بلند آواز میں روتی ہوئی بول رہی تھی۔۔ ۔ “میں کرتا ہوں آپ سے محبت۔۔ آپ میری رگوں میں دوڑتے خون میں بستی ہیں بیلا۔۔ آپ محبت کا امرت ہیں میرے لئے۔۔ اب آپ سے دستبرداری میری سانسیں تھمنے کا سبب ہوگی۔۔ میرے دل کی تمام رگوں میں خون منجمد کر دے گی بیلا !! اسکے نازک وجود کو سختی سے بھینچے وہ ضبط سے کہ رہا تھا۔۔ ایک لمحے کو بیلا کو اپنی سانسیں تھمتی محسوس ہوئیں۔۔ اسکے لمس کی شدّت تھی یا الفاظ کی حدت وہ کانپ سی گئی تھی۔۔ “ابراھیم_
وہ دھیرے سے بولی۔۔
اسے اپنی پشت بھیگتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔ اسکی گرفت میں مزید مظبوط ہو رہی تھی۔
“ابراھیم_ اس نے ایک بار پھر اسے پکارا۔۔ وہ مزید مظبوطی سے اسے خود میں بھینچ رہا تھا۔۔ بیلا کو اپنی ہڈیاں چٹختی محسوس ہو رہی تھیں۔۔ “آپ کی صورت میری آنکھوں کی پتلیوں میں جم چکی ہے، آپکا عکس ہر شے میں واضح محسوس کر سکتا ہوں، میری نظریں جس جانب جاتی ہیں آپ کی شبیہ ہر صورت میں بھرپور نظر آتی ہے آپ میرے وجود کا ایک لافانی حصہ ہیں۔۔ آپ کی یادیں وہ آسیب ہیں جو میرے وجود کی آہنی دیواروں سے چمٹی بیٹھی ہیں، ان کو کُھرچنے کی کوشش میں مجھے جان سے جانا ہوگا بیلا۔۔ ۔ اسکے بھیگے الفاظ بیلا کے اعصاب شل کر رہے تھے۔۔ وہ اسکی گرفت میں اسکے سینے سے لگی ساکت سی اپنی پشت بھیگتی ہوئی محسوس کر رہی تھی۔۔ اپنی گردن پر نمی محسوس کرتے اسکے احساسات جامد سے ہو گئے تھے۔۔ ۔ “ابراھیم
کافی دیر بعد اس نے سرسراتی آواز میں اسکا نام پکارا۔۔
وہ اب بھی اسے بھینچ کر یونہی کھڑا تھا۔۔
“بن گئے آپ شاہ رخ خان۔۔ اب جان چھوڑیں مجھے سانس نہیں آ رہی۔۔
اپنی سانسیں ہموار کرتی وہ پورا زور دیتے اسے پیچھے ہٹاتی ہوئی بولی۔۔
سرخ چہرہ لئے اسے گھور بھی نہیں پائی تھی۔۔
وہ لب بھینچ کر چند پل اسے تکتا کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔
مہندی کی رسم لان میں ہی منعقد کی گئی تھی۔۔ پورے گھر کو پیلی لائٹس سے سجایا گیا تھا۔۔ کچھ شیریں کی طبیعت اور بیلا کی ضد کی وجہ سے آج کے فنکشن میں صرف قریبی رشتے دار اور کچھ فیملی فرینڈز ہی مدعو تھے۔۔
پوری ذمہ داری زوار اور ابراھیم نے ہی اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی تھی۔۔
ایک گھنٹے میں مہندی کا فنکشن شروع ہونے والا تھا۔۔
شیریں کے ساتھ وہ بھی تیار سدرہ بیگم کے کمرے میں بیٹھیں تھیں۔۔
وہ آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھ رہی تھی۔۔
مہندی رنگ کی قمیض کے ساتھ آتشی غرارے میں ملبوس آتشی دوپٹہ سر پر سجائے اپنے تیکھے نقوش کے ساتھ سادہ سی بھی وہ حسین تر لگ رہی تھی۔۔
سرخ آنچل کے سائے تلے ان دونوں کو لان تک لایا گیا تھا۔۔
سامنے نظریں اٹھائے وہ اسٹیج پر کھڑے شہزادوں سی آن بان والے شخص کو دیکھنے لگی جو سفید کاٹن کی شلوار قمیض پہنے۔۔ بھورے مائل کالے بالوں کو پیچھے کی جانب جمائے۔۔ بھوری آنکھوں میں محبتوں کا جہاں آباد کئے اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔۔
اسکے قریب آنے پر وہ اسٹیج سے اتر آیا تھا۔۔
۔
تو نے دیکھی ہے وللہ ایسی رعنائی کبھی
تو اس سانولی کے چہرے کی کشش دیکھ۔۔
۔
پورے استحقاق سے اسے اپنے حصار میں لئے جھک کر اسکا غرارہ اٹھائے وہ کتنی ہی نظروں کو اپنی جانب متوجہ کر چکا تھا۔۔
شیریں نے پلکیں جھپک کر آنسوں اندر اتارے۔۔ اسکے ہاتھ نرمی سے تھامے اسے اپنے پہلو میں بیٹھاتا وہ پوری شان سے اسکے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔۔ اسکے دائیں ہاتھ کی پشت پر اب بھی برنولا لگا ہوا تھا۔۔ جسے وہ بہت احتیاط سے تھامے ہوا تھا۔۔
دوسری جانب مہندی کلر کی کامدار کرتی کے ساتھ ہم رنگ ٹراؤزر میں ملبوس سوگوار سا حسن لئے بیلا حسین ترین لگ رہی تھی۔۔
تھوڑی کا وہ گڑھا جو اسکے ساتھ ہی آج اداس اداس سا لگ رہا تھا۔۔
سرخ ہوتی آنکھیں۔۔ گلابی کنارے بہت سا رو لینے کی چغلی کرتے محسوس ہو رہے تھے۔۔
لیکن وہ آج بھی دوپٹہ سے بےنیاز تھی۔۔ انکا تعلق جس کلاس سے تھا وہاں یہ کوئی اتنی معیوب بات بھی نہیں تھی۔۔ لیکن ابراھیم ملک کے لئے یہ بہت بڑی بات تھی۔۔ وہ لب بھینچ گیا۔۔
وہ اپنی چادر درست کرتا شان سے چلتا اسکے نزدیک آیا تھا۔۔
آس پاس کھڑی عورتیں اس پر نظریں گاڑے باتیں بنا رہی تھیں۔۔ وہ سب سے بے نیاز اسکی جانب بڑھ رہی تھی۔۔ لیکن وہ جانتا تھا وہ کتنے آنسوں اپنے اندر اتار رہی ہے۔۔
ان دونوں کو یوں روبرو کھڑے دیکھ بیلا کو اسٹیج کی جانب لے جاتی لڑکیاں سائیڈ ہوتی پرشوخ نگاہوں سے انہیں تکتی شرارتی جملے کہ رہی تھیں۔۔
وہ اطمینان سے اسکے مزید آتا بلکل اسکے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔۔
بیلا نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔۔
اگلے ہی لمحے اسکا پر حدّت لمس اپنے ماتھے پر محسوس کرتی وہ ساکت سی ہو گئی تھی۔۔ آنکھوں میں ڈھیروں نمی آ ٹھہری تھیں۔۔
وہ ساکت سی نظروں سے اس شخص کو تک رہی تھی۔۔ جو اب بھی اسکے ماتھے پر لب رکھے کھڑا تھا۔۔
محبت۔۔ شدّت۔۔ عقیدت۔۔ اس ایک لمس سے وہ اسے کیا کچھ محسوس نہیں کروا رہا تھا۔۔
“آپ جو ہیں۔۔ جیسی ہیں۔۔ ابراھیم ملک کی ہیں۔۔ مسز بیلا ابراھیم ملک “
اسکے کانوں میں سرگوشی کرتے اپنی چادر پورے شان سے اسکے سر پر سجاتا وہ اسکا ہاتھ تھامے اسٹیج تک لایا تھا۔۔
وہ مہندی کے لباس میں اسکی کالی چادر میں لپٹی اسکی محبت کے بارش میں بھیگی۔۔ نم آنکھوں سے اسے تکتی وہ ارد گرد سے بےخبر ہو چکی تھی۔۔
سرگوشیاں مسکراہٹوں اور قہقہوں میں بدل چکی تھیں۔۔
کتنی ہی نگاہیں اٹھی تھیں بیلا ابراھیم ملک پر۔۔ حسرت بھری۔۔ رشک بھری۔۔
وہ اسے معتبر کر گیا تھا۔۔ اسکی ذات کا مان بڑھا کر۔۔۔
۔
“آج میں نے پوری زمانے کو بتا دیا کے یہ حسین جولا مکھی ابراھیم ملک کی ہے “۔
اسکی نظروں کا ارتکاز محسوس کرتا وہ نچلا لب دبائے مسکرایا۔۔
“نہیں بیلا نہیں دیکھ اسکی طرف۔۔ سستا ہیرو۔۔
وہ دل کی حالت سے پریشان ہوتی زیر لب بڑبڑائی۔۔
جاری ہے
پیارے لوگوں، ہمیں بلکل کوئی شوق نہیں ہوتا اپنی تکلیف کا اشتہار لگوانے کا۔۔ بتانے کا مقصد صرف آپ کو اطلاع دینی ہوتی ہے تاکے آپ کو یہ شکایت نا ہو کے بنا اطلاع کے رائیٹر غائب ہے۔۔
میں کچھ سٹیبل ہوتی ہوں تو میری سب سے پہلی ترجیح قسط کی ٹائپنگ ہی ہوتی ہے۔۔ لیکن پھر بھی اگر یہ سننے کے لئے ملے کے رائیٹر ڈرامے کرتی ہیں تو یقین کریں بہت دکھ ہوتا ہے۔۔ خیر یہ رہی قسط۔۔ اگلی قسط بھی کوشش کرونگی کل پوسٹ ہو جائے۔۔
