No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١۴
۔
ابراھیم کے جانے کے بعد وہ ناجانے کتنی ہی دیر ہنستی رہی تھی۔ کھلکھلا کر ہنستی وہ اوپر ٹیرس پر کھڑے شخص کو مبہوت کر گئی تھی جو آنکھوں میں محبت کے دئے لئے محویت سے اسے تک رہا تھا۔۔ وہ سر کو گرائے بےتحاشا ہنس رہی تھی۔۔ تھوڑی کا وہ گڑھا بھی اسکے ساتھ مسکرا رہا تھا۔۔
“غربت کی چلتی پھرتی مشین “
ہنستے ہنستے اس نے زیر لب کہا تھا۔۔ اوپر کھڑے شخص کے لبوں پر تبسّم بکھرا۔
“خوش رہنا بہت جلد سیکھ جائینگی آپ “
وہ زیر لب بولتا ایک نظر اسکے ہنستے چہرے پر ڈال کر اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔۔
اون سے تیار شدہ کیک نکالنے کے بعد اس میں خالص کریم کی فروسٹنگ کر کے خوبصورتی سے سجا کر ٹرے میں سیٹ کرتی وہ زوار کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔
یہ اسکا خوشی سلیبریٹ کرنے کا مخصوص انداز تھا۔۔ اپنی خوشی وہ شیریں اور زوار کے ساتھ اسی طرح سیلیبریٹ کیا کرتی تھی۔۔
دروازے کو ہلکا سا دکھیلنے پر وہ کھلتا چلا گیا۔۔
کمرے میں اندر داخل ہونے پر سگریٹ کے دھوئیں نے اس کا استقبال کیا وہ بری طرح کھانستی منہ پر ہاتھ رکھے آگے بڑھی۔۔
کھڑکی کے پردے سركا کر اس نے سب سے پہلے لائٹ آن کی۔۔ لائٹ آن کرتے ہی اسکی آنکھوں میں بےیقینی در آئ تھی۔۔ وہ بیڈ کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں موندے بیٹھا تھا ہاتھ میں اب بھی ادھ جلی سگریٹ موجود تھی۔۔ اچانک لائٹ آن ہونے پر بامشکل آنکھیں کھولے اسے دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔۔ سامنے کھڑی بیلا کو دیکھ کر اسکی حالت بھی کچھ مختلف نہیں تھی جو آنکھوں میں بےیقینی لئے اسے تک رہی تھی۔۔
“تم نے سموکنگ کب سے شروع کر دی زاوی۔۔ بتاؤ مجھے۔۔
کمرے میں سگریٹ کا پھیلتا دھواں مزید سانس لینے میں دشواری پیدا کر رہا تھا۔۔ اسکے آس پاس موجود ناجانے کتنی ہی ادھ جلی سگریٹ کو تکتی وہ بامشکل بولی تھی۔۔
“بولو۔۔ بتاؤ مجھے۔۔ سموکنگ شروع کر دی تم نے۔۔
پیروں سے ادھ جلی سگریٹ کو بجھاتی وہ اب بھی بے یقینی کی کفیت میں اسے تک رہی تھی۔۔
“بیلا کیا کر رہی ہو۔۔ تلوے جل جائینگے تمہارے بیٹا۔۔
وہ اچانک جیسے ہوش میں آیا تھا۔۔
“تم کیا کر رہے ہو۔۔ مجھے بتاؤ کب سے کر رہے ہو تم سموکنگ۔۔
حیرانگی ، بے یقینی ، دکھ کیا کچھ نہیں تھا اسکی نگاہوں میں، وہ نظریں چرا گیا۔۔
“زاوی۔۔ بہن ہوں نا میں تمہاری پلیز مجھے بتاؤ کیا بات ہے۔۔
اسکی حالت کے پیش نظر وہ کچھ نرم پڑی۔۔
“شیریں۔۔
وہ زیر لب بول رہا تھا۔۔ بیلا نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔ وہ یونہی نہیں پکار رہا تھا شیریں کو، اسکے لہجے میں واضح کرب محسوس ہو رہا تھا۔۔ آنکھوں کے گلابی کنارے چیخ چیخ کر اندرونی کیفیت بتا رہے تھے۔۔
“شیریں کی بات پکّی کر دی امّاں جان نے۔۔
نظریں کسی غیر مرعی نقطے پر جمائے وہ زخمی مسکراہٹ لبوں پر لئے بول رہا تھا۔۔
“مجھے پتہ ہے بابا نے بتایا تھا لیکن یہ تو خوشی کی بات ہے نا زاوی۔۔
پیر میں ہونے والی جلن کو نظر انداز کرتی وہ اسکے سامنے آ بیٹھی ۔۔
“میری شیریں۔۔ وہ اتنی پیاری لگ رہی تھیں آج بیلا۔۔ میں نے انہیں نظر بھر کر نہیں دیکھا، مجھے تو حق ہی نہیں ہے نا۔۔ وہ اسکے سامنے گئیں تھیں۔۔ وہ انہیں دیکھ رہا تھا بیلا۔۔ اپنا پورا حق سمجھ کر دیکھ رہا تھا۔۔ میں نے سب سے کہا ان لوگوں کو منع کر دیں۔۔ میں ہوں شیریں کے قابل۔۔ میں انہیں خوش رکھونگا۔۔
اسکی جانب دیکھے بغیر وہ کرب سے کہ رہا تھا۔ بیلا نے ٹھٹھک کر اسکی جانب دیکھا۔۔
“یا میرے اللہ تم شیریں سے۔۔ زوار شیریں تم سے۔۔
۔
“دو سال بڑی ہیں۔۔ تو کیا یہ اتنی بڑی بات ہے جسکو جواز بنا کر میں اپنے جذبات کا قتل کر دوں۔۔ وہ دس سال بھی مجھ سے بڑی ہوں تو بھی وہ میری ہیں بیلا۔۔
میں محبت کرتا ہوں ان سے ۔۔ وہ رنگ بیلا۔۔ انکی انگلی میں کسی اور کے نام کی رنگ دیکھ کر میری سانسیں تھم گئیں تھیں۔۔ وہ کیوں نہیں سمجھ رہی بیلا۔۔ انہیں کیوں نظر نہیں آ رہا۔۔
وہ تو بس حیران سی اسے سن رہی تھی۔۔ محبت یہ لفظ تو بس کتابوں میں پڑھا تھا، افسانوی کرداروں میں دیکھا تھا۔۔ یہ سچ بھی ہوتا ہے ایسا تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔۔ سامنے بکھری حالت میں بیٹھے زوار ملک کو دیکھ کر پہلی بار احساس ہوا تھا ہاں محبت کا کوئی وجود بھی ہو سکتا ہے۔۔
“مرد بھی محبت کرتے ہیں “۔۔
اپنی آواز وہ خود بھی بامشکل سن پائی تھی۔۔ سامنے بیٹھا مرد اسے یہ یقیں کرنے پر مجبور کر رہا تھا کے محبت کا وجود باقی ہے۔۔
مشینی انداز میں زندگی گزارتی سینے میں دھڑکتے جس گوشت کے ٹکرے کو وہ پتھر سمجھ بیٹھی تھی وہ آج زوروں سے دھڑکتا اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا تھا۔۔
“انہوں نے آج پہلی بار مجھ سے اپنی خواہش کا اظہار کیا بیلا اور خواہش بھی کیا کی کے میں اپنی ضد سے پیچھے ہٹ جاؤں۔۔ پہلی بار کچھ مانگا بھی تو جدائی۔۔
مجھے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کہ رہی ہوں،
“زوار ملک تم جینا چھوڑ دو “
ان کی خواہش کرنا چھوڑ دوں اسکا تو یہی مطلب ہوا نا کے میں جینا چھوڑ دوں۔۔
وہ اب بھی بول رہا تھا۔۔ وہ تو نم آنکھوں سے بس اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“میں کرونگا انکی خواہش پوری بیلا۔۔
وہ زخمی سا مسکرایا۔۔
“تم اسے کسی اور کا ہونے دو گے۔۔
اسے اپنی آواز کسی گہری کھائی سے آتی محسوس ہوئی تھی۔۔ اپنے حصّے کی محبت کسی اور کی جھولی میں گرتے دیکھنے کا احساس اس سے بہتر کون محسوس کر سکتا تھا۔۔ اسکی تو زندگی اسی احساس تلے گزری تھی۔۔
“میں انہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔۔ اگر میرے پیچھے ہٹنے سے وہ خوش ہیں تو میری زندگی کی ساری خوشياں انکے نام۔۔
اس نے سہم کر اسکی جانب دیکھا۔۔ وہ محبت پر اسکا یقین مضبوط کر رہا تھا۔۔
وہ سرعت سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ نہیں وہ نہیں یقین کرنا چاہتی تھی۔۔
پیچھے کی جانب قدم لیتی وہ نفی میں گردن ہلاتی لان کی جانب بھاگی تھی۔۔
دل میں اٹھنے والی تکلیف، پیروں میں ہوتی جلن، جلتی آنکھوں سے بہتے آنسوں وہ ناریل کے اس بوڑھے پیڑ تلے بینچ پر بیٹھی زار و قطار رو رہی تھی۔۔
زوار کے درد پر یا اپنی تکلیف پر وہ نہیں جانتی تھی۔۔
اسے زوار کا کرب رلا رہا تھا یا اپنی محرومی اس وقت شدّت سے کسی سہارے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔۔
“تم نوازی گئی ہو شیریں “۔۔
آسمان کی جانب دیکھتی وہ زیر لب بولی تھی۔۔
رات کی تاریکی میں بیڈ پر چت لیٹی وہ چھت کو گھور رہی تھی۔۔ آنسوں ناجانے کیوں آنکھوں سے بےمول ہوتے گر رہے تھے۔۔
“آپ میرے ساتھ اچھا نہیں کر رہیں شیریں۔۔
کتنا کرب تھا اسکی آواز میں، بچوں جیسی تڑپ تھی۔ وہ جو اسکی زبان سے الفاظ نکلتے ہی اسکی خواہش پوری کر دی کرتی تھی آج کس دوراہے پر آ کھڑی ہوئی تھی۔۔
“آپ کی بے رخی میری جان لے لیگی شیریں۔۔
اس نے بے دردی سے اپنی آنکھیں رگڑیں۔۔ کیوں رو رہی تھی وہ۔۔
“میری خواہشات پوری کر کے آپ میری سانسیں لے گئیں شیریں۔۔
وہ سرعت سے اٹھ بیٹھی۔۔ کمرے میں یکدم ہی گھٹن کا احساس بڑھتا جا رہا تھا۔۔
“میں جینا چھوڑ دونگا۔۔
مسلسل بہتی آنکھوں سے وہ دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے بلک رہی تھی۔۔
“مم میں کچھ نہیں کر سکتی۔۔ کک کچھ بھی نہیں کر سکتی۔۔
اسکی آنکھوں سے تواتر سے آنسوں بہ رہے تھے۔۔
“خواہشیں جب اپنی دسترس سے باہر کی جائیں تو یونہی تکلیف دیتی ہیں زوار “۔۔
اس جملے سے تو خود بھی مطمئن نہیں ہو پا رہی تھی اسے کیا اطمینان دلاتی۔۔
۔
“مم میرے لئے مم ممکن نہیں ہے۔۔
ہچکیوں کے درمیان کہتی وہ خود کو یقین دلا رہی تھی۔۔
“تم ایک عیب زدہ لڑکی ڈیزرو نہیں کرتے۔۔
مضبوط لہجے میں کہتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔ دھیرے دھیرے چلتی وہ آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔۔ سانسیں سینے میں اٹکتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔ دل میں بڑھتے درد کے ساتھ سانس لینے میں مزید دشواری ہو رہی تھی۔۔
“صرف عمروں کا فرق ہوتا تو نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔۔ شہزادوں سی آن بان رکھنے والا شخص ایک عیب زدہ لڑکی ڈیزرو نہیں کرتا اور وہ بھی جج جو اس سے عمر میں بھی دو سال بڑی ہو۔۔ عام سے نقوش کی ایک سادہ سی لڑکی۔۔
“تم تو کوئی شہزادی۔۔ شہزادی ڈیزرو کرتے ہو زوار۔۔
آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھتی وہ زخمی مسکراہٹ لبوں پر لئے بولتی گہری سانسیں لے رہی تھی۔۔
کمر پر پھیلے لمبے بال، مٹے مٹے میک اپ کے ساتھ اپنی قاتل آنکھوں سے بھی وہ اپنا وہ حسن نہیں دیکھ پا رہی تھی جو زوار ملک اس میں دیکھتا تھا۔۔
اگلے ہی پل وہ لہرا کر کارپیٹ پر گری تھی۔۔ رات کے اس پہر کسی کو خبر تک نہیں ہوئی تھی وہ گہری سانسیں لیتی ہوش و حواس سے بیگانہ ہو رہی تھی۔۔
“مم مجھے معاف۔۔ معاف کر دو زوار۔۔
بند ہوتی آنکھوں کے سامنے زوار ملک کا عکس لہرایا تھا۔۔
اور پھر اندھیرا تھا۔۔ گہری تاریکی۔۔
“بیلا اس طرح یہاں۔۔
وہ جو ابھی نماز پڑھ کر لوٹا تھا بیلا کو یوں درخت کے نیچے بینچ پر سمٹ کر سوتے دیکھ تشویش سے کہتا اسکی جانب آیا۔۔
وہ دونوں پیروں کو سمیٹے بازوں پر سر رکھے سو رہی تھی۔۔ گال پر آنسوں کے نشانات واضح نظر آ رہے تھے۔۔ وہ بےچین سا ہوتا نیچے گھاس پر آ بیٹھا۔۔
“بیلا۔۔ آنکھیں کھولیں۔۔ بیلا ہنی اس طرح کیوں سو رہی ہیں ؟
ہاتھ کی پشت سے اسکے گال سہلاتا وہ نرمی سے اسے پکار رہا تھا۔۔ جو ہوش میں ہوتی اس انداز پر اچھی طرح باز پرس کرتی۔۔
وہ دھیرے سے آنکھیں کھولتی گلال بھری نظروں سے ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔ ارد گرد دیکھنے پر اسے یاد آیا رات وہ روتے ہوئے یہاں آ گئی تھی۔۔
تو کیا وہ یہیں سو گئی تھی۔۔ یاد آتے ہی وہ سرعت سے اٹھ بیٹھی۔۔
“اس طرح یہاں کیوں سو رہی ہیں آپ، کوئی بات ہوئی ہے بتائیں مجھے۔۔ اور آپ روتی رہی ہیں؟
اسکے گالوں پر آنسوں کے نشانات دیکھتا وہ متفکر سا پوچھ رہا تھا۔۔
بیلا نے باغور اسے دیکھا۔۔ کہیں کوئی دکھاوا کوئی ملاوٹ نہیں تھا وہ واقعی فکر مند تھا۔۔ وہ جھنجھلا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
کھڑے ہوتے ہی تکلیف سے چیخ نکل گئی تھی۔۔ کل بروقت کچھ نا لگانے کی وجہ سے پیر کے تلوؤں میں آبلے پڑھ گئے تھے۔۔ جو گھاس پر رکھتے ہی پھٹنے کی وجہ سے وہ تکلیف سے سسک اٹھی تھی۔۔
“یہ۔۔ آپ نے پھر سے خود کو نقصان پہنچایا ہے۔۔ آپ کیوں دیتی ہیں اتنی اذیت مجھے بیلا۔۔ سکون ملتا ہے آپ کو مجھے اذیت میں مبتلا کر کے۔
اسکی پیر پر جھکتا وہ غصّے سے بول رہا تھا۔۔
۔
“میری تکلیف پر آپ کیوں اذیت میں مبتلا ہونے لگے۔۔ خیر یہ میں نے جان کر نہیں کیا۔۔ یہ غلطی سے ہوا ہے میرا دھیان نہیں رہا تھا۔۔
چاہ کر بھی وہ زیادہ سخت الفاظ میں بات نہیں کر سکی تھی اس سے۔۔
“کیسے ہوا یہ۔۔ اتنی بری طرح کیسے جل گیا۔۔ یہ تو لگ رہا ہے کوئی سلگتی ہوئی چیز مسلی گئی ان پر۔۔ کیا کیا ہے آپ نے کل رات اپنے ساتھ۔
اسکے پیر پر پڑے آبلوں کا جائزہ لیتا وہ سختی سے پوچھ رہا تھا۔۔
وہ تو اسکے اس قدر صحیح اندازے پر ٹھٹھک کر رہ گئی۔۔
“میں نے جان کر نہیں کیا۔ یہ غلطی سے ہوا ہے۔۔ میں ٹھیک ہوں، برنال لگا لونگی تو بلکل ٹھیک ہو جائے گا آپ کو ہلکان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔
تنک کر کہتی وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
ابراھیم کی یہ فکر ہی تو اس سے ہضم نہیں ہوتی تھی۔۔
“مجھے یہ بار بار بتانے کی ضرورت نہیں ہے کے آپ میری بیوی ہیں۔۔ آپ کی ہر تکلیف مجھے تکلیف دیتی ہے کیوں کے میں محبت کرتا ہوں اپنی بیوی سے۔۔
لیکن یہ معاملات دلوں کے ہیں بیلا بی بی ۔۔ دل کب کسی کی سنتا ہے۔۔ اسکی نا آنکھیں ہیں۔۔ نا اسکے پاس زمانے کی طرح حسن تولنے کے لئے پیمانہ۔۔ یہ ایک بار کسی کو بسا لے تو اس مکین کو بےگھر نہیں کرتا۔۔ لیکن آپ کے چھوٹے سے دماغ میں یہ گہری باتیں نہیں آنے والی آپ اسے زحمت نہیں دیں خدارا۔۔
اسکی مزاہمت ہو نظر انداز کرتے وہ اسے بازو سے تھام چکا تھا۔۔
۔
“چھوڑیں مجھے بےہودہ انسان۔۔ کوئی بیوی نہیں ہوں میں آپ کی۔۔
ناخن اسکی گردن میں گاڑھتی وہ بری طرح مچلتی اسکی گرفت سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ وہ پر سکون سا گھر کے اندر داخل ہو رہا تھا یوں بھی اس وقت اسکے علاوہ کوئی نہیں جاگتا تھا۔۔
“سسس جنگلی بلی۔۔ کیا کر رہی ہیں۔۔
اپنا چہرہ بامشکل دور ہٹاتے وہ آنکھیں دکھاتے اسے ڈرانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
وہ تو اس وقت بھی اس سے نہیں ڈرتی تھی جب اسکا رویہ اسکے ساتھ برا ہوا کرتا تھا۔۔ اب تو جانتی تھی کے وہ اسکی محبت ہے اب تو اسے تمام حقوق حاصل تھے اسے زچ کرنے کے۔۔
“سکون سے رہیں ورنہ اپنے کمرے میں لے جاؤنگا میں آپ کو۔۔
اسکی کمر کے گرد حصار مضبوط کرتا وہ دھمکا رہا تھا۔۔ وہ شاید بھول گیا تھا اسکی بیوی کا شرمانے لجانے سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔۔
“مجھے دھمکا رہے ہیں آپ ؟
آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھتی وہ سنگین انداز میں پوچھ رہی تھی۔۔
“اگر آپ کی یہی حرکتیں رہیں تو واقعی میں یہی کرونگا۔۔ پھر استعمال کیجیے گا اپنے ان ہتھیاروں کا۔۔
شرارت سے نچلا لب دانتوں تلے دباتے وہ اسکی جانب قدرے جھک کر گھمبیر لہجے میں بولا۔۔
“بیہودہ انسان۔۔ کہا ہے نا میرے ساتھ فلمی ہیرو بننے کی کوشش نا کیا کریں۔۔
سلگ کر کہتے پورا زور لگا کر وہ اپنا سر اسکی تھوڑی پر مار چکی تھی۔۔
“یار کن جنگجوؤں کے ساتھ رہتی ہیں آپ۔۔
اسے لاؤنچ کے صوفے پر بیٹھا کر وہ اپنی تھوڑی سہلاتا افسوس سے اسے دیکھتا ہوا بول رہا تھا جو خود بھی اپنا ماتھا سہلاتی خونخوار نگاہوں سے اسے گھور رہی تھی۔۔
“کیا ہوا چوٹ لگی ہے دکھائیں مجھے۔۔
اسے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے دیکھ وہ سنجیدہ ہوتا اسکی جانب آیا۔۔
“اگر میرے قریب آئے تو میں قتل کر دونگی آپکا ابراھیم ملک۔۔
بدک کر پیچھے ہوتی وہ وارننگ دیتے انداز میں بولی۔۔
“ہر وقت مرنے مارنے پر نہیں تلی رہا کریں۔۔ دیکھنے دیں مجھے۔۔
ایک ہاتھ سے اسکی دونوں کلائی گرفت میں لیتا وہ باغور اسے دیکھتا اسکی جانب جھکا۔۔
وہ آنکھیں میچ گئی۔۔
“یار میں کھا تو نہیں جاتا آپ کو جو آپ یوں میری قربت سے بھاگتی ہیں۔۔
اسکی پیشانی پر لب رکھتے وہ اسکی حالت سے محظوظ ہوتا بول رہا تھا۔۔
“مجھے نہیں پسند اس طرح کی بےہودہ حرکتیں۔۔
وہ سرخ ہوتی منہ پھیر گئی۔۔
وہ مسکراہٹ دبا کر اسے دیکھنے لگا جو نجانے غصّے کی وجہ سے سرخ پڑھ رہی تھی یا حیا کی تمازت تھی۔۔
“ہاتھ چھوڑ رہا ہوں۔۔ خبردار جو کوئی فضول حرکت کی۔۔
آہستہ سے اسکی کلائی آزاد کرتے وہ سنجیدگی سے کہتا اسکے آگے بیٹھ کر اسکے پیر اپنے گھٹنے پر رکھ چکا تھا۔۔
“کیا کر رہے ہیں چھوڑیں۔۔ میں لگا لونگی اس میں کچھ۔۔
وہ جلدی سے پیر پیچھے کھینچ کر بولی۔۔ جو بھی تھا ابراھیم کا یوں اسکے پیروں کو ہاتھ لگانا اسے اچھا نہیں لگا تھا۔۔ وہ شخص جو اپنے کپڑوں پر ہلکی سی دھول نہیں برداشت کرتا تھا وہ یوں اسکے سامنے اپنے گھٹنے پر اسکے پیر رکھے اسکے زخم کا جائزہ لے رہا تھا اصولاً تو اسے خوش ہونا چاہئیے تھا لیکن وہ بےچین سی ہوتی اسکی گرفت سے اپنے پیر آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
۔
“مجھے مجبور نہیں کریں کے میں آپ کے ہاتھ باندھ کر آپ کے زخم کا جائزہ لوں۔۔ سکون سے بیٹھی رہیں ورنہ مجبوراً مجھے یہی حربہ استعمال کرنا ہوگا۔۔
سنجیدگی سے اسے گھرکتا ٹراؤزر کے پائینچے تخنوں سے اوپر کرنے کے بعد اسکا پیروں تک آتا گاؤن بھی کچھ اوپر کر چکا تھا۔۔
۔
“اب مجھے بتائیں یہ کس چیز سے جلا ہے۔۔ رات تو آپ ٹھیک تھیں۔۔
گلابی تلؤوں میں جگہ جگہ پڑے چھالے کو دیکھتا وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“سگریٹ سے۔۔
وہ آہستگی سے بولی۔۔ وہ جھوٹ کبھی نہیں بولتی تھی۔۔ انتہائی ضرورت کے وقت بھی نہیں۔۔ یہ اسکی ایک خوبی تھی جو بعض اوقات اسے خامیوں سے زیادہ مہنگی پڑھتی تھی۔۔
“آپ سموکنگ کرتی ہیں۔۔
بیلا نے آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھا جو آنکھیں چھوٹی کئے مشکوک انداز میں اسے گھور رہا تھا۔۔ اسکی آنکھوں میں صاف لکھا تھا کے وہ یہی سمجھ رہا ہے۔۔
“جی کر سکتی ہوں۔۔
زچ کر دینے والی مسکان لبوں پر لئے وہ جلدی سے بولی۔۔ ابراھیم ملک کو سلگانے کا کوئی موقع وہ ہاتھ سے کیسے جانے دے سکتی تھی۔۔
“آپ نہیں سدھر سکتیں۔۔
وہ کچن سے ٹپ میں پانی لاتا افسوس سے اسے دیکھتا ہوا بولا وہ جانتا تھا وہ نہیں بتائے گی۔۔
“آپ پانی میں میرے پیر ڈالیں گے۔۔ اس طرح تو زخم خراب ہو جائے گا۔۔
وہ جلدی سے اپنے پیر اوپر کرتی ہوئی بولی۔۔تو کیا وہ اس طرح اس سے بدلہ لے گا۔۔
“میں جو کر رہا ہوں مجھے کرنے دیں۔۔ بےفکر رہیں غریب صحیح جاہل ہرگز نہیں ہوں۔۔
سنجیدگی سے کہتے وہ اب فرسٹ ایڈ باکس سے کوئی محلول نکال رہا تھا۔۔
“جلن برداشت کر لینگی آپ ؟”
اسکا داياں پیر تھامتے اس نے نرم لہجے میں کہا۔۔
محلول اس کے پیروں پر ڈالتے وہ اسکے پیر ٹپ میں ڈال چکا تھا۔۔
وہ آنکھیں سختی سے میچے تکلیف برداشت کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
نرم ہاتھوں سے زخم صاف کرتا وہ پوری کوشش کر رہا تھا کے اسے کم سے کم تکلیف ہو۔۔
“سسسی۔۔
وہ سسکی تھی تکلیف سے۔۔
“آئ ایم سوری۔۔ زیادہ درد ہے۔۔
وہ متفکر سا اسکی جانب دیکھتا اب اسکے پیروں میں دوائی لگا رہا تھا۔۔ وہ لب بھینچے اسے دوائی لگاتے دیکھ رہی تھی۔۔
لمبا قد۔۔ مضبوط کسرتی بدن۔۔ چوڑے شانے۔۔ وہ ایک رعب دار شخصیت کا مالک تھا۔۔ آستین ہمیشہ کی طرح کہنی تک فولڈ کئے وہ پوری توجہ سے اس کے پیر میں مرہم لگا رہا تھا۔۔
اسکی نظریں بھٹک کر اسکے چہرے پر ٹک گئ تھیں۔۔ اسکا رنگ بہت صاف نہیں تھا۔۔ لیکن گندمی رنگت اسکی شخصیت پر جچتی تھی۔۔ کھڑی مغرور ناک اور ہمیشہ کی طرح بھینچے لب۔۔
وہ ہلکا سا مسکرائی، ہاں وہ اتنا برا نہیں تھا۔۔
“بس غریب نا ہوتا “۔۔
وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی۔۔
۔
“میں اتنا غریب نہیں ہوں جتنا آپ مجھے سمجھتی ہیں “۔۔
وہ اسکے دوسرے پیر پر مرہم لگاتا مسکراہٹ دبا کر بول رہا تھا۔ بیلا نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔
“انتہائی خطرناک انسان ہے یہ۔۔
وہ جل بھن کر سوچ کر رہ گئی۔۔
“آپکا نہیں خیال کے چاکو اور ناخن سے حملہ کرنے والے لوگ زیادہ خطر ناک ہوتے ہیں۔۔
وہ نچلا لب دبا کر کہتا اسکے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔۔ اسکا اشارہ کچھ دیر پہلے کی اسکی حرکت کی جانب تھا۔۔
وہ اب واقعی پریشان ہوئی تھی۔۔ یہ شخص اسکی سوچ تک جان لیتا تھا۔۔
“آپ اور میں الگ نہیں ہیں بیلا۔۔ تسلیم کر لیں اس بات کو۔ یقین کریں جس دن آپ نے میری محبت کو اعتبار سونپ دیا نا میں آپ کو اپنی محبت سے آپ کا اپنا آپ بھلا دوں گا۔۔
ہولے سے اسکی پیشانی چھوتا وہ مسکرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“ابھی پیر نیچے نہیں رکھیے گا۔۔ کچھ دیر تک بہتر ہو جائے تو میں آپ کو کمرے تک چھوڑ آؤنگا۔۔
اسکے گال کو ایک انگلی سے چھوتے وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا۔۔
“ہاتھ توڑ دونگی۔۔
اسکی انگلی کو پوری طاقت سے مروڑتی وہ سلگ ہی تو گئی تھی۔
وہ اطمینان سے کھڑا اسکا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔۔
جاری ہے
