No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٣٠
۔
وہ حیران سی روشنیوں میں ڈوبی اس رنگا رنگ تقریب کو دیکھ رہی تھی۔۔ اس نے اس طرح کے ایونٹس پہلے کبھی اٹینڈ نہیں کئے تھے۔۔ اسکی پریشان صورت دیکھ کر زوار نے نرمی سے اسے اپنے حصار میں لیا۔۔
“کیا ہوا ؟”
نرم لہجے میں سوال کرتا وہ لبوں پر مسکراہٹ لئے اسے لئے ہی آگے بڑھا تھا۔۔
شیریں نے ایک سہمی ہوئی نظر اطراف میں ڈالی۔۔ اگلی نظر زوار پر ڈالی جو آنکھوں میں محبت لئے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ نظروں ہی نظروں میں اسے اطمینان دلاتے اس نے بڑھنے کا اشارہ کیا۔۔ وہ آہستہ سے سر ہلاتی مسکرا اٹھی۔۔
پہلی بار اسکی آنکھیں محبت سے چمکی تھیں۔۔ لبوں پر مسکان آ ٹھہری تھی۔۔
زوار نے محبت سے یہ منظر دیکھا۔۔ سلونی سی یہ مسکراہٹ اسے کس قدر اپیل کر رہی تھی وہ اس وقت بتانے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔۔
وہ اسے لئے فخر سے اپنے سینئرز سے انٹروڈیوز کروا رہا تھا۔۔ وہ اسکے ساتھ کھڑی کتنے ہی لوگوں کے نظروں حصار میں تھی۔۔ بھورے بال اوپر کی جانب سیٹ کئے۔۔ لبوں پر دلکش مسکراہٹ لئے۔۔ سرخ و سفید رنگت کا حامل وہ شہزادوں سا شخص۔۔ بھوری آنکھوں میں محبتوں کا جہاں آباد کئے اسے بےخودی سے تک رہا تھا۔۔ یہ منظر بہت سے دلوں پر اوس کی مانند گر رہا تھا۔۔
اسٹیج پر اسکے نام کی پکار ہونے پر وہ سب سے ایکسیوز کرتا کوٹ درست کرتا ایک مسکراہٹ شیریں کی جانب اچھال کر پر اعتماد چال چلتا اسٹیج پر گیا۔۔
ڈائس پر کھڑا وہ نجانے کیا کچھ کہ رہا تھا۔۔ وہ تو آنکھوں میں نمی لئے بس اسے تک رہی تھی۔۔ لوگ اسکے لئے تالياں بجاتے اسے داد دے رہے تھے۔۔
۔
“بہت سے لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کے سی ایس ایس میں ٹاپ کرنے کے بعد میں نے سول سروس ہی کیوں جوائن کی۔۔ اور بھی آپشنس تھے میرے پاس۔۔ بےشک تھے۔۔ لیکن مجھے وردی میں دیکھنا کسی کی سب سے بڑی خواہش تھی۔۔ جنکی ہر خواہش پوری کرنا میری سب سے بڑی خواہش ہے۔۔
ہال میں ہلکا سا قہقہا گونجا۔۔
اس نے نظروں کا رخ سامنے بیٹھی شیریں کی جانب کیا۔۔ اسکی نظروں کے ساتھ ساتھ کتنی ہی نظریں اسکی جانب اٹھی تھیں۔۔ وہ تو بس نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔اسکے نام پکارنے پر ہوش میں آئی۔۔
لرزتی قدموں سے کھڑی ہوئی تھی۔۔ وہ سر کو خم دیتا اسکی جانب آیا۔۔
وہاں موجود کتنے ہی لوگ اس عام سی صورت کی لڑکی کو دیکھ رہے تھے۔۔ جو اس شہزادے کی نظروں میں سب سے خاص تھی۔۔ اس محفل میں سب سے خاص تھی۔۔ وہ تو اسے کائنات کی سب سے خوبصورت شہ لگتی تھی۔۔
“یہ ہے آپکا آج کا سرپرائز۔۔ یہ پارٹی آپ کے شوہر کے اعزاز میں رکھی گئی ہے۔۔
یعنی میری شیریں کے لئے۔۔ جو ہوں آپ کے لئے ہوں۔۔
وہ اسکی جانب جھکتا دلکشی سے سرگوشی میں بولا۔۔
وہ ارد گرد سے بےخبر اسکی جانب دیکھی گئی۔۔ وہ اسے آس پاس کے تمام لوگوں سے بےنیاز کر گیا تھا۔۔
“انعام اب تو پسند کا ملے گا نا وائفی۔۔
اسے حصار میں لئے اپنے پہلو میں بیٹھاتا وہ بولا تو لہجے کی شرارت پر وہ سمٹ سی گئی۔۔
“ددد دے دیا میں نے انعام۔۔
وہ لڑکھڑاتے لہجے میں بولی۔۔
“مجھے میری پسند کا چاہئیے۔۔ آج کوئی بہت پیارا لگ رہا ہے۔۔ اسکی مسکراہٹ بہت حسین لگ رہی ہے۔۔ میں محسوس کرنا چاہتا ہوں اس مسکراہٹ کو۔۔ کسی کی آنکھوں میں ستاروں سی چمک تھی آج مجھے اسٹیج پر دیکھ کر۔۔ ان ستاروں کو چننا چاہتا ہوں۔۔ انعام میں یہ حق چاہئیے مجھے “_ وہ لبوں پر مسکراہٹ لئے سرگوشی میں بولتا ارد گرد سے گزرتے لوگوں کی مبارک باد سر کو خم دیتے وصول کرتے اسے مزید سمٹنے پر مجبور کر رہا تھا۔۔ ۔ “بب بس اب چلتے ہیں نا زاوی۔۔ وہ دھیرے سے بولی۔۔ “بلکل۔۔ آپ کو دیکھنے کے بعد میں تو آنا ہی نہیں چاہتا تھا”۔ اسکی آنکھوں میں ناچتی شرارت دیکھ کر اسے اندازہ ہوا تھا کے وہ غلط وقت پر غلط بات کر گئی ہے۔۔ “ننن نہیں۔۔ یہاں بہت اچھا لگ رہا ہے۔۔ وہ جلدی سے بولی۔۔ وہ اسکی چالاکی پر مسکرا اٹھا۔۔ “کیا واقعی ؟”۔۔ وہ اسکی جانب جھکتا دھیرے سے بولا۔۔ شیریں کو اپنی ساری تاویلیں آج دم توڑتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔ “اچھا آپ کچھ دیر رکیں میں سر کو انفارم کر کے آتا ہوں۔۔ یہاں کا کھانا آپ نے ویسے بھی نہیں کھانا۔۔ ہم ڈنر گھر پر ہی کرینگے “
وہ سنجیدہ سا ہوتا نرمی سے بولا تو وہ سر ہلا گئی۔۔ اچھی طرح جانتی تھی وہ کھانا اسے باہر نہیں کھانے دیتا تھا۔۔
وہ اسکی دور ہوتی پشت کو مسکراتی ہوئی دیکھ رہی تھی جب ایک درمیانی عمر کی خاتون کے ساتھ ایک ماڈرن سی لڑکی اسکے ساتھ آ بیٹھی۔۔
“تو آپ وائف ہیں زوار ملک کی “۔۔
انجان آواز پر اس نے الجھ کر اس جانب دیکھا۔۔ بلیک سٹائلش سی سلیولیس شرٹ میں ملبوس وہ خوبصورت سی لڑکی سر سے پیر تک اسکا ناقدرانہ جائزہ لیتی عجیب سی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“ججج جی۔۔
وہ دھیرے سے بولی۔۔
“تم وہی کزن ہو نا زوار ملک کی جسکی منگنی ٹوٹ گئی تھی۔۔ کیوں ٹوٹ گئی تھی تمہاری منگنی۔۔؟
اس لڑکی کے ساتھ آئی خاتون نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔ وہ پلکیں جھپک کر آنسوں ضبط کرتی بامشکل خود کو سنبھالے وہاں بیٹھی تھی۔۔
وہ کتنے آرام سے ایک شادی شدہ لڑکی سے سوال کر رہی تھیں کے شادی سے پہلے اسکی منگنی کیوں ٹوٹ گئی تھی۔۔
“زوار تو شاید چھوٹے بھی ہیں نا آپ سے۔۔
وہ لڑکی پھر بولی۔۔
“جی۔۔
وہ آنسوں ضبط کرتی دھیرے سے بولی۔۔
“شیریں۔۔۔
زوار جو دور سے ہی اسکی پریشان صورت دیکھ چکا تھا۔۔ اسکی جانب آتا نرمی سے اسے پکارا۔۔ اسے آنسوں ضبط کرتے دیکھ وہ تھوڑا بہت تو سمجھ ہی گیا تھا۔۔
“جی فرحین میری وائف سے ملیں آپ۔۔ یہ شیریں ہیں میری بچپن کی محبت۔۔ اور اب الحمداللہ میری بیوی بھی۔۔
دھیرے سے اسے اپنے حصار میں لیئے وہ جتاتے لہجے میں بولا تھا۔۔
“اجازت دیں اب ہمیں۔۔
اسے یونہی حصار میں لئے وہ آسانی سے انکے درمیان سے نکل گیا۔۔
۔
“اب آئیگا مزہ غربت کی اس مشین کو۔۔ مجھے کسی پارسل کی طرح گاڑی میں بھیجا تھا نا۔۔
وہ کمرے میں ادھر ادھر چکر لگاتی مزے سے ابراھیم کا رد عمل سوچ رہی تھی۔۔
جو انداز وہ آج اسکے دیکھ آئی تھی زیادہ نہیں بھی تو تھوڑا بہت بھی خوف تو دل میں بیٹھ گیا تھا۔۔
کمرے کا دروازہ جھٹکے سے کھلنے پر اس نے حیرت سے اس جانب دیکھا۔۔ وہ غصّے میں اسکی جانب بڑھتا اسے بازو سے تھام چکا تھا۔۔
۔
“کیا حرکت تھی یہ ؟”
اسکے سلگتے لہجے پر بیلا نے حیرانی سے اسکی جانب دیکھا۔۔
“کیا حرکت تھی ؟”
وہ کندھے اچکاتی انجان بنی۔۔
“آپ جانتی ہیں میں کس حرکت کی بات کر رہا ہوں بیلا۔۔ عقل نام کی کوئی چیز ہے اوپر کے خانے میں یا غیر ضروری سمجھ کر ڈونیٹ کر دیا ہے”۔۔
دو انگلی اسکے سر پر بجاتا وہ غصّے سے بول رہا تھا۔۔۔ گرفت میں مزید سختی آئی۔۔
۔
“میں آپ کو جواب دہ نہیں ہوں “۔۔
اپنا ہمیشہ کہے جانے والا جملہ اسکے منہ پر مارتے اس نے جان چھڑانی چاہی۔۔
۔
“ہیں آپ مجھے جواب دہ اور مجھے جواب چاہئیے۔۔ کیوں کی آپ نے یہ حرکت۔۔ جب کے میں نے صاف لفظوں میں کہا تھا کے آج کے بعد آپ اکیلی نہیں جائینگی۔
وہ دبے دبے غصے سے دھاڑا۔
اسکی دھاڑ پر اسکی آنکھوں میں نمی چمکی۔۔ وہ اسکے اس لہجے کی عادی نہیں تھی۔۔
“نہیں دینا چاہتی میں آپ کو جواب۔۔ چھوڑیں مجھے۔۔ مجھ پر طاقت آزمانے کی ضرورت نہیں ہے”۔۔
وہ آنسوں ضبط کرتی دانت پیس کر بولی۔۔ ابھی تو اسکا وہ انداز ہی ہضم نہیں ہوا تھا اور وہ یوں جواب دہی کرنے آ پہنچا تھا۔۔
اسکی آنکھوں میں چمکتی نمی دیکھ وہ بےبس ہوا۔۔ یہیں آ کر تو سارا غصّہ۔۔ ساری ناراضگی دم توڑ دیتی تھی۔۔
“آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا ہنی “۔۔
پلکوں پر چمکتے آنسوں لبوں سے چنتا وہ بےبس سا بولا۔۔
“دود ہٹیں۔۔ خبردار جو مجھے ان واہیات ناموں سے پکارا۔۔ میرا مان تو نہیں رکھا نا آپ نے۔۔ اتنے ظالم بن گئے آپ۔۔ میرے کہنے کے باوجود نہیں چھوڑا اسے۔۔ وہاں پر بھی مجھ سے اسی طرح بات کی آپ نے۔۔ حد تو یہ کسی پارسل کی طرح مجھے اس ٹریکٹر نما عورت کے حوالے کر دیا کے جاؤ اور گاڑی میں پھینک آؤ “۔۔
وہ پوری طاقت لگا کر اسکی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتی روندھے لہجے میں بولی۔۔ ابراھیم نے خوش گوار حیرت سے اسے دیکھا۔۔ تو کیا کنک رشتہ اس حد تک پہنچ گیا تھا کے وہ اس سے شکوے کر رہی تھی۔۔
وہ اسکی کوشش ناکام بناتا اسے ساتھ لگا گیا۔۔
” جانتی ہیں آپ کو وہاں موجود نہیں پا کر کتنا پریشان ہوا ہوں میں۔۔ کس کس طرح کے خیالات آ رہے تھے۔۔ سانسیں تھمنے لگی تھیں میری”__
وہ سختی سے اسے بھينچے اپنی حالت اسکے گوش گزار کر رہا تھا۔۔
“چھ چھوڑیں مجھے۔۔
وہ دھیرے سے بولی۔۔ وہ مسکراتا ہوا دور ہوا۔۔
“آپ شرما رہی ہیں مجھ سے ؟”
نچلا لب دبائے وہ اسکی سرخ ہوتی رنگت دیکھ کر محظوظ ہوا۔۔
“انتہائی بےہودہ انسان ہیں آپ۔۔
وہ دونوں پیروں سے اسکے پیر پر اچھلتی دانت پیس کر بولی۔۔
“تشدد کے کتنے عجیب عجیب طریقے آزماتی ہیں آپ مجھ معصوم پر۔۔
وہ اسکی بچکانی حرکت پر مزید دلکشی سے مسکرا اٹھا۔۔
“انتہائی کوئی سستے ٹھرک انسان ہیں آپ۔۔
وہ کمبل کے اندر سے ہی بڑبڑائی تھی۔۔
“” شیریں “_ “کیا ہوا اس طرح کیوں بیٹھی ہیں ؟”۔۔ وہ بیڈ کے کنارے پر بیٹھی ساکت نظروں سے اپنی چوڑیوں سے سجی کلائیوں کو گھور رہی تھی۔۔ ڈریسنگ روم۔ سے نکلتا زوار تشویش سے اسکی جانب آیا۔ تمام راستے بھی وہ خاموش رہی تھی۔۔ زوار نے چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا۔۔ اب بھی اسے یوں بیٹھے دیکھ وہ تشویش سے اسکی جانب آیا۔۔ “شیریں “
اس نے ایک بار اسے پکارا۔۔
“زاوی”__
وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتی قریب آئی۔۔
“کیا ہوا کیوں پریشان ہیں ؟”
وہ اسکا چہرہ ہاتھوں میں لئے نرم لہجے میں بولا۔۔
“مم میرا حوالہ تمہارے لئے شرمندگی کا باعث بنے گا۔۔ میں بلکل بھی تمہارے ساتھ میچ نہیں کرتی زاوی۔۔ چار مہینے ہو گئے اب بھی تمہیں سمجھ نہیں آیا۔۔ چھوڑ دو مجھے۔۔ کک کسی بہت خوبصورت اپنی عمر کی لڑکی سے شادی کر لو۔۔ جو تمہارے ساتھ چلتی اچھی لگے۔۔ تمہارے معیار کی لگے۔۔ مم مجھے طلا۔۔
اسکی بات مکمّل ہونے سے پہلے ہی وہ اسکا چہرہ جکڑ چکا تھا۔۔
“کیا بکواس کی ہے یہ ؟”
اسکے چہرے کو جکڑے وہ سنگین لہجے میں بولا۔۔ آنکھوں میں نمی کے ساتھ سرخی بھی اتر آئی تھی۔۔
“چار مہینے میری محبت۔۔ میرے دئے اعتماد کا یہ نتیجہ نکلا کے ایک دن لوگوں کی چند گھٹیا بکواس پر آپ پھر وہیں آ کھڑی ہوئیں جہاں سے ہم چلے تھے”۔۔.
وہ تکلیف سے سسکتی اسے دیکھ رہی تھی۔۔ اسکی آنکھوں میں نمی دیکھ کر اسے شدّت سے اپنے غلط ہونے کا احساس ہوا تھا۔۔
“ممم میں تم تمہارے لئے کہ رہی ہوں۔۔
وہ بامشکل بولی۔۔
“کیا میرے لئے شیریں۔۔ مجھے تکلیف دینے کے لئے کہ رہی ہیں آپ۔۔ چار ماہ۔۔ چار ماہ میری محبت آپ کو یقین نہیں دلا سکی کے آپ کوئی وقتی تسکین کا سامان نہیں میری محبت میری جینے کی وجہ ہیں۔۔
وہ اسے چھوڑتا اب دونوں ہاتھوں سے اپنے بال جکڑے پاگل سا ہو رہا تھا۔۔
“زاوی۔۔ مم میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں۔۔
“مقصد جو بھی ہو آپ مجھے ہرٹ کر چکی ہیں “۔۔
اسکی بات مکمّل ہونے سے پہلے ہی وہ بولا۔۔ وہ بلکنے لگی۔۔
لب بھینچے اسے دیکھتے رہنے کے بعد وہ ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا۔۔ واپس آیا تو ہاتھ میں سفری بیگ موجود تھا۔۔ بیڈ اور پھینکتا وہ اپنے چند جوڑے اس میں ٹھونس رہا تھا۔۔
“زاوی۔۔ کک کہاں۔۔ زاوی نہیں پلیز۔۔ مم میری بات سنو۔۔
وہ روتی ہوئی اس تک آئی۔۔
۔
“مجھ سے دور رہیں اس وقت شیریں۔۔ میں نہیں چاہتا اپنے غصّے میں آپ کو کوئی نقصان پہچاؤں۔۔
وہ سلگتے لہجے میں بولتا اب سائیڈ ٹیبل سے اپنی چابی اور موبائل اٹھا رہا تھا۔۔
۔
“نننن نہیں۔۔ زا۔۔ زا وی۔۔ نہیں پلیز۔۔ نہیں۔۔
وہ روتی ہوئی اسکے پیچھے لپکی۔۔ وہ اسکے رونے سسکنے کو نظر انڈا کئے سیڑھیاں اترتا دروازے سے باہر نکل چکا تھا۔۔
۔جاری ہے۔۔
