No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١٣
۔
قہقہوں کے شور کے پہلو میں
اِک مرگھٹ ہے اُداسی کا
ڈھونڈنا!
وہیں کہیں پہ میرا دل ملے گا!
(ماہم ارشد)
۔
اسکے کمرے کے باہر کھڑا وہ اسے پکار رہا تھا۔۔ آوازیں دے رہا تھا۔۔ آج وہ سن ہی نہیں رہی تھی۔۔
“شیریں پلیز۔۔ شیریں آپ میرا یقین کیوں نہیں کر رہیں۔۔
وہ بےبس سا ہوتا اسے پکار رہا تھا۔۔ وہ تو اسکی پہلی پکار پر ہی اسکی بات سن لیا کرتی تھی۔۔ اسکی جانب متوجہ ہو جایا کرتی تھی۔۔ آج وہ اتنا پکار رہا تھا اور وہ بےنیاز بنی کمرے کے دروازے کے ساتھ بیٹھی سسک رہی تھی۔۔
۔
“شیریں آپ کیوں نہیں سمجھ رہیں۔۔ آپ کی بےرخی میری جان لے لیگی۔۔
دروازے سے سر ٹکائے وہ بھیگے لہجے میں بول رہا تھا۔۔
اندر بیٹھی شیریں کانپ اٹھی۔۔ اسکے لہجے میں کچھ تھا جو اسے تڑپا رہا تھا۔۔
آنسوں صاف کر کے دروازہ کھولتی وہ اسکے مقابل آ کھڑی ہوئی۔۔
۔
“شیریں بس ایک التجا۔۔ یہ بس آخری التجا ہے شیریں آپ نہیں جائیں اسکے سامنے۔۔ آ آپ کسی کے سامنے نہیں جائیں۔۔ وو وہ آپ کو دیکھے گا تو میری سانسیں رک جائینگی شیریں۔۔ مم میں نہیں برداشت کر سکتا آپ پر کسی کی نظریں۔۔
اسے سامنے دیکھتے ہی وہ ایک بار پھر اپنی التجاؤں پر اتر آیا تھا۔۔
“اسکے سامنے نہیں آ ربی میں۔۔ پھر کیا کروں تم بتاؤ۔۔ کس کس کے سامنے نہیں آؤں۔۔ مما سے۔۔ تایا جان سے کیا کہوں۔۔ بھیج دیں انھیں واپس کیوں کے زوار ملک کا مجھ پر دل آ گیا ہے ؟ زوار ملک مجھے اپنی ملکیت سمجھنے لگا ہے ۔۔
میرے جذبات۔۔ میرے احساسات کی پرواہ کئے بغیر زوار ملک کو اپنے جذبوں کے مجروح ہونے کا بہت دکھ ہے۔۔ یہ سوچا تم نے بچپن سے جس بچے کو میں بھائی کہتی بلکے دل سے مانتی آئی ہوں اچانک وہ مجھ سے شادی کا خواہاں ہو گیا ہے تو مجھ پر کیا گزر رہی ہے۔۔ شیریں میں مر جاؤنگا۔۔ کیوں مرو گے تم زوار۔۔ کوئی نہیں مرتا کسی کے بغیر۔۔ سب زندہ رہتے ہیں۔۔ میرے بس میں نہیں ہے تمہیں اس رشتے سے قبول کرنا زاوی پلیز۔۔
اپنے مخصوص نرم لہجے میں سنجیدگی کہتی وہ اسے دیکھنے سے گریز برت رہی تھی۔۔ جو بےتابانہ انداز میں اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“کیوں مجھے اور خود کو اذیت دے رہے ہو۔۔ جو تم چاہ رہے ہو وہ ممکن نہیں ہے زوار۔۔ کبھی کچھ نہیں مانگا میں نے تم سے آج کہ رہی ہوں پیچھے ہٹ جاؤ اپنی ضد سے پلیز ۔۔
بےبسی سے کہتے اسکی جانب دیکھنے لگی۔۔ اسکی نظریں خود پر محسوس کر کے وہ جلدی سے رخ پھیر چکی تھی۔۔
۔
“وہ دیکھے گا آپ کو۔۔ آپ اتنی پیاری لگ رہی ہیں شیریں۔۔ وو وہ آپ کو اس طرح دیکھے گا۔۔
وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتا بڑبڑایا۔۔
“ٹھیک ہے۔۔ میں نہیں آؤنگا آپ کے راستے میں۔۔ جائیں آپ شوق سے اسکے سامنے۔۔
سلگتی نگاہیں اس پر ڈال کر وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔
دروازہ بند کرنے کی زور دار آواز پر وہ اچھل پڑی۔۔
وہ سہمی نگاہوں سے اسکے کمرے کا بند دروازہ دیکھ رہی تھی۔۔
اسکے کمرے میں جانے کے بعد وہ اندر آئی۔۔
ملازمہ نے آ کر خبر دی کے نیچے مہمان آ چکے ہیں۔۔ آنکھوں میں مزید آنسوں امڈ آئے۔۔ خوب سارا رو لینے کے بعد چہرے پر پانی کے چھپاکے مار کر اس نے رگڑ رگڑ کر باقی ماندہ میک اپ بھی صاف کیا۔۔
کھلے بالوں کو ڈھیلی سی چوٹی کی شکل دے دی۔۔
“وو وہ آپ کو دیکھے گا شیریں۔۔
اسکے الفاظ مسلسل کانوں میں گونج رہے تھے۔۔
“کسی کے سامنے تو جانا ہے زوار۔۔ بار بار کی اذیت سے یہی بہتر ہے۔۔
آنسوں صاف کر کے خود کو کمپوز کرتی دوپٹہ سلیقے سے سر پر جما کر وہ ڈرائینگ روم کی جانب بڑھ گئی۔۔
سدرہ بیگم اسکا سادہ رویا رویا چہرہ دیکھ کر ٹھٹھکی ضرور تھیں۔۔ مہمانوں کی موجودگی کی وجہ سے وہ کچھ کہ نہیں سکیں۔۔
“السلام عليكم۔۔
دھیرے سے سلام کرتی وہ سدرہ بیگم کے پاس آ کھڑی ہوئی۔۔
سلام کا جواب ان دو خواتین کے ساتھ بھاری مردانہ آواز میں بھی آیا تھا۔۔
“شیریں آج بھی طبیعت ٹھیک نہیں ہے بیٹا۔۔
مسز تنویر نے اسکے ماتھے پر پیار کرتے ہنستے ہوئے کہا۔۔ وہ زبردستی بھی مسکرا نہیں سکی ۔۔
دوسری جانب بیٹھے مرد کی موجودگی محسوس کرتے ٹانگیں ویسے ہی کانپنے لگی تھیں۔۔
“جج جی ٹھیک نہیں ہے طبیعت۔۔
وہ بامشکل بولتی انکے برابر بیٹھ گئی۔۔
“بھئی سدرہ آج تو میں اپنی بیٹی کو اپنے حارث کے نام قید کرنے آئی ہوں۔۔ اتنی پسند آئی ہے مجھے شیریں میں نے تو اسے پہلے ہی بتا دیا تھا۔۔ صاحب زادے بھی تصویر ہی پر راضی ہو گئے تھے۔۔
وہ مسلسل اسے ساتھ لگائے اس پر واری صدقے ہوتیں ساتھ لگا لگا کر پیار کر رہی تھیں۔۔
خود پر مسلسل نظروں کی تپش محسوس کر رہی تھی۔۔ ہتھیلیاں بھیگتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔۔ زوار کے کہے جملے بار بار سماعت میں رقص کر رہے تھے۔۔
“وہ آپ کو دیکھے گا۔۔ آپ پر اپنا حق سمجھ کر دیکھے گا شیریں۔۔
اسکی تڑپتی آواز یاد آنے پر اسے اپنا سانس رکتا محسوس ہو رہا تھا۔۔ لیکن وہ کمزور نہیں پڑھنا چاہتی تھی۔۔ وہ اسکی یہ ضد پوری نہیں کر سکتی تھی۔۔
۔
“بھائی صاحب میں تو اپنے بچی کو اپنے نام کر کے ہی جانا چاہتی ہوں اگر آپ کی اجازت ہو تو۔۔
وہ تو جیسے تمام تیاری آج ہی کر آئیں تھیں۔۔
“بسمہ اللہ کریں۔۔ اللہ بچوں کے حق میں مبارک کرے۔۔ یہ اب آپ کی امانت ہے۔۔
اطہر ملک نے اپنی رضا مندی دی۔۔
اسکی انگلی میں اپنے بیٹے کے نام کی انگوٹھی پہنانے کے بعد وہ اسے چٹا چٹ چومنے لگی تھیں۔۔
اس نے ذرا کی ذرا پلکیں اٹھا کر اوپر کی جانب دیکھا جہاں سیڑھیوں سے اوپر کھڑا آنکھوں میں شکوہ لئے وہ بےبسی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اطہر ملک کی نظریں بھی اسکے تعاقب میں اوپر کی جانب اٹھی تھیں۔۔ وہ دیوانہ وار شیریں کو دیکھ رہا تھا۔۔
اسکے لب ساکن تھے۔۔ آنکھیں چیخ چیخ کر اندر کا کرب بیاں کر رہی تھیں۔۔
وہ کسی اور کے نام کی انگوٹھی پہن چکی تھی۔۔
“آپ نے اچھا نہیں کیا شیریں “۔۔
اسکے لبوں سے شکوہ خارج ہوا تھا۔۔
وہ جو اسکی جانب دیکھ رہی تھی اسکے لبوں کی حرکت سے پہچان گئی تھی کے وہ اس سے شکوہ کر رہا تھا۔۔
زندگی میں پہلی بار شیریں نے اس سے کچھ مانگا تھا۔۔ اور اس نے اسکی خواہش پر لبیک کہا تھا۔۔
مہمانوں کے جانے کے بعد وہ مردہ قدموں سے وہاں اٹھتی اپنے کمرے میں آ گئی تھی۔۔ دروازے پر ھی وہ کھڑا ملا تھا۔۔
“پہن آئیں اسکے نام کی انگوٹھی۔۔
حد سے زیادہ سرخ ہوتی نگاہیں اسکے چہرے پر گاڑے وہ کرب سے بول رہا تھا۔۔
وہ نظریں چراتی اندر آ گئی۔۔ نازک مرمریں انگلی میں چمکتی ہیرے کی وہ انگوٹھی اسکی نگاہوں میں اسکی چمک چبھ رہی تھی۔۔
” میری محبت سے اس حد تک فرار چاہ رہی ہیں آپ کے سامنے جو راہ نظر آئی اسے ھی اپنی منزل سمجھ کر چل پڑیں”۔۔
دیوانگی سے اسکی جانب تکتے وہ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔
“آج تک آپ میری ہر خواہش پوری کرتی آئیں تھیں۔۔ کبھی میری کوئی بات رد نہیں کی آپ نے۔۔ اور آج۔۔ آج ایک سوال سے آپ نے حساب چکتا کر لیا شیریں۔۔
میری خواہشات پوری کر کے میری سانسیں لے گئیں آپ۔۔
آہستگی سے اسکا ہاتھ تھام کر اسکی انگلی آگے کرتا وہ بوجھل لہجے میں بول رہا تھا۔۔
“یہ یہ انگوٹھی۔۔ آ آپ کی انگلی میں دیکھ کر میری سانسیں بند ہو رہی ہیں۔۔ آپ کو نظر نہیں آ رہا نا شیریں۔۔ لیکن یقیں کریں مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔۔ مم مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے شیریں۔۔
وہ کرب سے کہتا اسکے نازک ہاتھ پر سر رکھے بول رہا تھا۔۔
وہ نا بھی بولتا تو اسکی نگاہیں چیخ چیخ کر کہ رہی تھیں۔۔ اپنے نقصان کا علان کر رہی تھیں۔۔
۔
“تت تم نے وعدہ کیا ہے تم اس ضد کو چھوڑ دو گے۔۔
اس نے سسکتے ہوئے اسے دیکھا۔۔
“میں جینا چھوڑ دونگا۔۔
انگوٹھی پر لب رکھتے وہ کرب سے بولا۔۔
وہ سو جان سے کانپ اٹھی۔۔
“آخری غلطی سمجھ کر معاف کر دیں۔۔ آج انگوٹھی پہن آئیں ہیں۔۔لیکن جس دن آپکا وجود اسکے نام ہوا نا شیریں افضل ملک اس سے پہلے میری سانسیں آپ کے ہاتھوں میں ھی دم توڑینگی۔۔
شکوہ کناں نظریں سے اسے دیکھتا اسے ساکت چھوڑ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔۔
وہ رات میں واپس آیا تو اچھا خاصا لیٹ ہو چکا تھا۔۔ کچن میں لائٹ جلتی دیکھ کر وہ اسی جانب چلا آیا۔۔ سامنے ہی بیلا کو دیکھ کر اسے خوش گوار حیرت ہوئی تھی۔۔ جو کالے رنگ کے اپنے مخصوص نائٹ ڈریس میں ملبوس ایپرن پہنے پوری دل جمعی سے کچھ بنا رہی تھی۔۔ اس نے بائیں ہاتھ کی کلائی پر بندھی گھڑی پر نظریں ڈالیں جو بارہ بجا رہی تھی۔۔
وہ دبے قدموں چلتا کاؤنٹر پر آ کھڑا ہوا۔۔
نظریں اسکے چہرے کا طواف کر رہی تھیں جو اون میں سے بیک شدہ کیک نکال رہی تھی۔۔ اس نے کاؤنٹر پر نظریں دوڑائیں جہاں پہلے ہی پھولوں کے ایک بوکے کے ساتھ کیک کے سجاوٹ کی ساری چیزیں سلیقہ سے رکھی ہوئیں تھیں۔۔
جیلی۔۔ کریم۔۔ چاکلیٹ چپس۔۔ ملک چپس۔۔ اور بھی ناجانے کیا کیا۔۔
تمام چیزیں سرخ اور سفید رنگت کی سجی تھیں۔۔ شاید وہ فروسٹنگ سرخ اور سفید کی رنگت کی کرنے والی تھی۔۔
۔
“آپ نے دیدے پھاڑ کر میرے معصوم کیک کو نظر لگا لی ہو تو یہاں سے چلتے بنیں۔۔
فرج سے پائن ایپل کا ٹن پیک نکالتی وہ اطمینان سے بولی۔۔
وہ خجل سا ہوتا سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔ مطلب وہ اسکی موجودگی سے واقف تھی۔۔
۔
“کیک پر تو نہیں البتہ اپنی بیوی کو ضرور دیکھ رہا تھا میں۔۔ لیکن بےفکر رہیں نظر نہیں لگے گی آپ کو۔۔
وہ ہنستے ہوئے اندر آ گیا۔۔ اب جب اس نے دیکھ ہی لیا تھا تو دور سے دیکھنے کی کیا ضرورت تھی۔۔
“اتنی رات میں آپ کو بیکنگ کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ویسے۔۔
وہ دوستانہ انداز میں بولا جیسے ہمیشہ سے انکے درمیان اتنے ہی خوش گوار تعلقات رہے ہوں۔۔۔
“یہ آپکا ہیڈیک نہیں ہے۔۔ میں کچھ بھی کرتی ہوں اپنی خواہش کے تحت کرتی ہوں نا کے ضرورت کے تحت۔۔
ایک ترچھی نگاہ اس پر ڈالنے کے بعد وہ دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو چکی تھی۔۔
اسکی نظریں بےساختہ اسکی انگلیوں پر ٹھہر سی گئیں تھیں۔۔ نازک مخروطی انگلیاں جن کی پوریں حد سے زیادہ سرخ تھیں۔۔ گلابی ہتھیلياں۔۔ دل میں بےساختہ انکی نرمی محسوس کرنے کی خواہش اٹھی تھی۔۔
وہ اسے بتا نہیں سکا کے اسکی انگلیاں بہت خوبصورت ہیں۔۔
۔
“آپ یہاں سے جائیں۔۔ آپ کی موجودگی مجھے ڈسٹرب کر رہی ہے۔۔
اسے یوں اپنی جانب تکتا دیکھ کر اس نے غصّے سے اسکی جانب دیکھا۔۔
۔
“یہ پھول بہت خوبصورت ہیں۔۔ “بیلا کے پھول “۔۔ کہاں سے لئے آپ نے۔۔
مسکراہٹ دبا کر اسکی جانب دیکھتے اس نے سوال کیا۔۔ وہ تیزی سے اسکی جانب آئی تھی۔۔
“خبردار۔۔ چھونا نہیں انہیں۔۔
اسکے ہاتھوں سے پھول جھپٹ کر قیمتی متاع کی طرح انھیں خود سے لگائے اسے غصّے سے دیکھ رہی تھی۔۔
ابراھیم کے لبوں پر مسکراہٹ مچلنے کو بےتاب ہو رہی تھی۔۔
۔
“یہ آپ نے صرف اپنے لئے بنایا ہے ؟
ابراھیم نے اسکی جانب دیکھتے سوال کیا۔۔
۔
“بلکل نہیں آپ کے ساتھ شیئر کر کے کھاؤنگی۔۔ آپ چینج کر کے آجائیں۔۔
اس نے آنکھیں پٹپٹا کر کہا تھا۔۔ ناجانے اسکے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔۔ ابراھیم نے حیرانی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ اسکی تھوڑی کا گڑھا اسکے ساتھ مسکرا رہا تھا۔۔
۔
وہ حیران سا ہوتا چینج کرنے چل دیا تھا۔۔ اپنی خوشی میں اسکے لبوں پر پھیلی مسکراہٹ پر غور نہیں کر سکا تھا۔۔
شلوار قمیض پر اپنی شال کندھے پر ڈالے وہ نکھرا نکھرا سا آیا تو وہ ٹیبل پر کیک رکھے بیٹھی ہوئی تھی۔۔ ابراھیم نے بےیقینی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ وہ اسکے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔
“یہ لیں کھائیں۔۔
اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتی وہ دونوں ہاتھوں سے پلیٹ اسکی جانب کر کے مسکرا کر بولی۔۔
وہ تو ابھی پہلے ہی جھٹکے سے نہیں سنبھالا تھا اس پر اسکا یوں مسکرا کر دیکھنا۔۔ اس نے مشکوک نظروں سے اسکی جانب دیکھا وہ مسکراتی ہوئی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔ اس پل وہ اتنی سادہ اتنی معصوم لگ رہی تھی کے اپنے ہاتھوں سے زہر بھی دیتی تو شاید وہ انکار نہیں کرتا۔۔
سر کو خم دیتے اس نے کیک کا ٹکڑا منہ میں ڈالا۔۔ آنکھیں بند کئے کیک کا مزے دار ذائقہ محسوس کرنے کی کوشش کرتے اگلے ہی پل وہ بری طرح کھانس رہا تھا۔۔ کیک کے درمیان میں بیلا نے بھر بھر کر سرخ مرچیں ڈالی تھیں۔۔
اسکا چہرہ بری طرح سرخ ہونے لگا تھا۔۔ جب کے آنکھوں سے مسلسل پانی بہ رہا تھا۔۔
بیلا جو پہلے اسکی حالت دیکھ کر مزے سے ہنس رہی تھی۔۔ اسکی یہ حالت ہوتی دیکھ پانی کا گلاس لئے اسکے جانب آئی جسے تھام کر وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
جو ہنسی ضبط کرنے کی کوشش میں سرخ ہو رہی تھی۔۔
اسکی جانب دیکھتے اس نے باقی بچا ہوا کیک بھی منہ میں ڈالا۔۔
اسکی یہ حالت دیکھ کر اگر وہ خوش ہو رہی تھی تو یہی صحیح۔۔
کافی دیر کے بعد حالت سنبھلنے پر اس نے اسکی جانب دیکھا۔۔
‘ بیلا آ آپ نے۔۔ کیک میں مرچیں ڈال کر مجھے کھلایا ہے۔۔
وہ بےیقینی سے اسکی جانب دیکھتے پوچھا رہا تھا۔۔ اسکے اتنے پیار سے بلانے کی وجہ تو اب سمجھ آ رہی تھی۔۔ جو اسے یوں بےحال ہوتے دیکھ کر مسکراہٹ دبانے کی کوشش میں سرخ ہو رہی تھی۔۔
۔
“یہ جو پچھلے کچھ دنوں سے آپ انتہائی چھچھوڑی حرکتیں میرے ساتھ کر رہے ہیں نا آئندہ سو بار سوچئے گا مجھ سے پنگا لینے سے پہلے۔۔
ہاتھ میں پکڑا نائف اسکی جانب کرتی وہ وارننگ دیتے انداز میں بولی۔۔
۔
“اسے تو پیچھے رکھیں لگ گئی تو میرا ہی نقصان ہے۔۔ مجھے پورا بھروسہ ہے آپ کو بیوہ ہونے کا ذرا ملال نہیں ہوگا۔۔
وہ جلدی سے پیچھے ہوا۔۔ اسکی دہشت گرد بیوی کا کوئی بھروسہ نہیں تھا وہ اسکی گردن پر ہی پھیر دیتی۔۔
۔
“آئندہ میرے ساتھ کرائے کے شاہ رخ خان بننے کی کوشش سے گریز کیجیے گا ورنہ مجھے واقعی کوئی ملال نہیں ہوگا بیوہ ہونے پر۔۔
وہ پر سکون انداز میں کہتی کاؤنٹر سے پانی بوتل بھی لیتی ہوئی نکل گئی تھی۔۔
“بیلا۔۔ پانی تو دے جائیں ظالم۔۔
وہ جلتے لبوں پر زبان پھیرتے اسے پکارتا ہوا پیچھے گیا۔۔
“رکیں۔۔
اسکی کلائی اپنی گرفت میں لیتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
وہ ٹھہر کر اسے دیکھنے لگی۔۔
“اگر مجھے یوں دیکھ کر آپ ہنستی ہیں۔۔آپ کو خوشی ہوتی ہے۔۔ تو میں روز آپ کے ہاتھ سے بنا یہ مرچوں والا کیک کھانے پر تیار ہوں۔۔
اسکی آنکھوں میں دیکھتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
۔
“آپ کو محبت میری روح کی غذا ہے۔۔ بس اسکا حق کبھی مجھ سے نہیں لیجیے گا۔۔
دھیرے سے جلتے لبوں سے اسکی پیشانی پر پیار کرتے وہ مسکراتا ہوا کچن سے نکلنے لگا۔۔
“بےہودہ۔۔ غربت کی مشین۔۔ سستا شاہ رخ خان۔۔
وہ جلتی بھنتی چاکو اسکی جانب اچھال کر کتنے ہی القابات سے نوازتی ہاتھ سے اپنی پیشانی رگڑ کر جیسے اسکا لمس مٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
“آپ سستی کاجول۔۔
بروقت چاکو کیچ کرتے وہ مسکراتے لہجے میں بولا۔۔
جاری ہے۔۔
آپ کی تعریف یا تنقید قابل احترام ہوگی۔۔
خوش رہیں پیارے لوگوں۔۔♥
