No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٦
۔
رات کے اس اندھیرے میں وہ بہت آہستہ سے دروازہ کھول کر گھر میں داخل ہوئی۔۔ یوں بھی اسکے انتظار میں شیریں کے علاوہ کوئی نہیں جاگتا تھا۔۔ افضل ملک اور اطہر صاحب کو پہلے ہی کال کر چکی تھی۔۔
دبے قدموں اندر داخل ہو کر اسی احتیاط سے دروازہ بند کیا۔۔ اپنا بیگ ڈائیننگ ٹیبل پر رکھ کر وہ ڈائریکٹ کچن میں آئی۔۔ سنک میں ہی ہاتھ دھو کر اپنے کھانا نکال کر وہ باہر لان کی جانب بڑھ رہی تھی جب سدرہ بیگم کی آواز پر اسکے قدم تھم سے گئے۔۔
“یہ کباب بھی ہیں۔۔ تمہارے لئے رکھے تھے۔۔
اسکی جانب کباب کا پلیٹ بڑھاتی وہ نرمی سے بول رہی تھیں۔۔ اسکی آنکھوں میں ایک پل کو چمک ابھری۔۔ اس نے بنا کچھ کہے انکے ہاتھوں سے پلیٹ لے لی تھی۔۔ دل میں خوشی سی ہوئی تھی کے اانھیں کم از کم یہ تو پتہ ہے کے وہ کھانے میں کباب ضرور لیتی ہے۔۔
“شیریں نے تمہارے ہی لئے بنائے تھے۔۔
انکے اگلے جملے نے اسکے دل میں جلنے والی خوشی کے اس واحد دئے اور اسکی آنکھوں کی چمک دونوں کو لمحے میں بجھا دیا تھا۔۔
مطلب یہ کباب آج بھی شیریں نے ہی اسکے لئے تیار کر کے رکھے تھے۔۔
وہ پھیکا سا مسکرا کر آگے بڑھ گئی۔۔
وہ کھوئے کھوئے انداز میں اسکی گلابی صورت دیکھ رہی تھیں۔۔ بلیو جینس پر آف وائٹ کرتی کالے سلکی بالوں کی اونچی پونی بنائے جو اسکے حرکت کرنے سے ہلتی ہوئی بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔ کسی بھی قسم کے آرائش سے پاک چہرہ۔۔ اور اس پر اسکی مڑی مڑی خم دار پلکیں۔۔ انکے دل میں ایک لمحے کو خوف سا محسوس ہوا۔۔ وہ واقعی بہت پیاری تھی۔۔ دل میں اٹھتے خوف کے تحت وہ بے اختیار پوچھ بیٹھی تھیں۔۔
“اتنی رات میں اکیلی آئی ہو۔۔
انکے اگلے جملے پر فریج سے پانی کی بوتل نکالتے اسکے ہاتھ پل بھر کو تھم سے گئے۔۔
۔
“تایا جان کو کال کر دی تھی۔۔ اور بھی کوئی انتظار کرتا ہے کیا میرا۔۔
آنکھوں میں ڈھیروں شکوے لئے وہ انکی جانب دیکھتی بولی تھی۔۔ دل میں حسرت سی تھی کے ایک بار اسے گلے سے لگا کر کہ دیں ہاں تمہاری مما انتظار کرتی ہیں تمہارا۔۔
۔
“میں جانتی ہوں آپ کو شریں کے بنائے کباب کی فکر ہوگی کے کہیں وہ یونہی خراب نا ہو جائیں۔۔ فکر نہیں کریں کل سے منع کر دونگی اسے یہ بنانے۔۔
کچھ لمحے وہ وہیں کھڑی انھیں دیکھتی رہی۔۔ وہ کچھ نہیں بولیں تو وہ ہنستی ہوئی ٹیبل سے کھانے کی ٹرے اور ایک ہاتھ میں پانی کی بوتل لے کر لان کی جانب بڑھ گئی۔۔
۔
نا جانے کیوں لیکن انھیں اسکی ہنسی کھوکلی لگی۔۔ ڈھیروں آنسوں اپنے اندر جذب کرتی ہوئی۔۔
۔
“مجھے معاف کر دو بیلا۔۔ میں چاہ کر بھی اپنا ظرف اتنا بڑا نہیں کر سکتی کے تمہیں ذمداری سے آگے کچھ سمجھ سکوں۔۔
اندھیرے میں گم ہوتی اسکی پشت کو تکتے اپنی آنکھوں کے نم کنارے صاف کرتیں وہ زیر لب بولیں تھی۔۔ آواز اتنی ضرور تھی کے پیچھے کھڑے افضل صاحب باآسانی سن چکے تھے۔۔
۔
وہ آنسوں ضبط کرتی کھانے کی ٹرے لئے لان کے اندھیرے گوشے میں آ بیٹھی۔۔
بینچ پر کھانے کی ٹرے رکھ کر لبوں پر مسکراہٹ لئے چہرہ اوپر کی جانب اٹھائے وہ آنسوں اندر اتارنے کی کوشش کر رہی تھی جیسے۔۔
“آپ اگر کہ دیتیں کے آپ میرا انتظار کر رہی تھیں جھوٹ ہی صحیح۔۔ میں کبھی آپ کو انتظار کی کوفت میں مبتلا ہونے نہیں دیتی۔۔
آنکھیں موند کر وہ ہلکا سا ہنسی تھی۔۔ جب اسے محسوس ہوا کے اسکے بلکل پیچھے کوئی آ کر بیٹھا ہے۔۔
“مجھے پتہ تھا تم جاگ رہی ہوگی میرے لئے۔۔ سوری شیریں آج کچھ زیادہ لیٹ ہو گئی شاید۔۔ یار میرا کونٹریکٹر پھر بھاگ گیا۔۔ میں نے کچھ کیا بھی نہیں تھا۔۔ اب پھر سے نیا مینیجر ڈھونڈھنا ہوگا۔۔ اتنی کم سیلری میں دوبارہ کیسے مینیجر ڈھونڈھونگی شیریں۔۔ تم ہمارے گھر پر پڑے غربت کی اس مشین کو بولو نا میرے پاس مینیجر لگ جائے۔۔ کرتے ہی کیا ہیں وہ سوائے خامخواہ رعب جھاڑنے کے۔۔
معصومیت سے اسے شیریں سمجھ کر اپنے مسائل بتاتی وہ آنکھیں موند کر ہی دونوں بازوؤں اسکے گرد لپیٹتی اسکی گود میں کھڑا چھپانے کی کوشش کرنے لگی۔۔
شیریں کے نرم نازک وجود کے بجائے ایک مضبوط وجود کو محسوس کرتی وہ جھٹ سے آنکھیں کھولتی بےیقینی سے اسے دیکھنے لگی۔۔
وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا۔۔ وہ اندازہ نہیں لگا سکی کے وہ کتنے غصے میں ہے۔۔
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔
وہ تقریباً چیختی ہوئی کھڑی ہونے کی کوشش کرنے لگی۔۔ لیکن مقابل شاید اب اسے اپنی گرفت سے آزاد کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔
اس پر اپنی گرفت مضبوط کرتے وہ آنکھوں میں غصّہ لئے غربت کی وہ مشین اسے ہی تک رہی تھی۔۔
“چھ چھوڑیں مجھے۔۔
وہ پہلی بار یوں جھجھک رہی تھی۔۔ وہ محفوظ ہوا لیکن چہرے سے کوئی تاثر دئے بغیر اسکی کلائی مزید مضبوطی سے تھامے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
اسکی گرفت میں ہونے کی وجہ سے وہ بھی جھٹکے سے اسکے ساتھ لگی کھڑی ہو گئی۔۔
“اتنی رات میں واپس کیوں آئیں ہیں آپ۔۔ اور کتنی بار کہا ہے آپ سے رات کے اس پہر لان میں نا آیا کریں۔۔
دھیمے سرگوشی نما لہجے میں سنجیدگی سے کہتے وہ باغور اسکا سرخ پڑھتا چہرہ دیکھ رہا تھا۔۔ جو لاعلمی میں کچھ دیر پہلے پہلے کئے عمل کا نتیجہ تھا۔۔
۔
“میں نے پہلے بھی کہا ہے میں اپنے کسی بھی عمل کے لئے آپ کو جواب دہ نہیں ہوں۔۔
وہ اسکی گرفت میں مچلتی دبی دبی آواز میں چیخی تھی۔۔
۔
“اور میں کہ رہا ہوں میں آپ سے جواب دہی کرتا رہونگا۔۔ اب بتائیں اتنی رات کو واپس کیوں آئیں ہیں۔۔ حالات کا علم نہیں ہے آپ کو۔۔ آپکا چھوٹا سا پوگو آپ کی حفاظت کے لئے کافی ہے کیا۔۔
اسکے دونوں ہاتھ پیچھے کی جانب کئے وہ مسلسل اپنی گرفت مضبوط کر رہا تھا۔۔
“چھوڑیں مجھے۔۔ میری حفاظت آپ کے ذمہ نہیں ہے۔۔
تکلیف کے باعث اسکی آواز روندھ سی گئی تھی۔۔
۔
“سوری کہیں۔۔
اسے کچھ نزدیک کرتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
۔
“آپ کے دماغ کی وائیرنگ میں کوئی خرابی ہے۔۔ میں کیوں سوری کہوں آپ سے۔۔
خود کو اسکی مضبوط گرفت سے آزاد کروانے کی سعی کرتی وہ اس وقت کو کوس رہی تھی جب بغیر دیکھے اسے شیریں سمجھ کر خود ہی مصیبت کو آواز دی تھی۔۔
۔
“بہت سی وجوہات ہیں کبھی فرصت میں بتاؤنگا۔۔ ابھی تو بس آج کی بدتمیزی کے لئے۔۔
اسکی کلائی کو ہلکا سا جھٹکا دیتے وہ اسکی سرخ ہوتی آنکھوں میں دیکھ کر اطمینان سے بول رہا تھا۔۔
اسکے لبوں سے بےساختہ سسکاری خارج ہوئی۔۔
پھر بھی وہ ڈھیٹ بنی لب بھینج کر اسے دیکھ رہی تھی جیسے علان تھا کے وہ معافی تو نہیں مانگے گی۔۔
“کمرے میں جانے کے بعد اگر آپ نے خود کو زخمی کرنے کی کوشش کی۔۔ تو آپ کے زخموں پر مرہم میں رکھونگا۔۔
آہستہ سے اسکی کلائی آزاد کرتے وہ سلگتے لہجے میں کہتا اسکی جانب جھکا۔۔
وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی ۔۔
“اور یقین کریں میرا انداز آپ کو بلکل پسند نہیں آئیگا۔۔
اسکے بازو پر عین ان نشانات کے مقام پر لب رکھتے وہ مسکراہٹ دبائے اسکا غصّے اور شرمندگی سے سرخ پڑھتا چہرہ دیکھ رہا تھا۔۔
“جنگلی وحشی انسان ہیں آپ۔۔ بلکے انسان بھی نہیں وحشی درندے ہیں۔۔
وہ خفت سے سرخ پڑھتے پوری طاقت لگا کر اسے پیچھے کرتی نم لہجے میں چیخ کر بولی۔۔ اور کچھ سمجھ نہیں آیا تو سامنے رکھے سالن کا پیالہ اسکے سر پر الٹ کر زور زور سے اسکے سینے پر وہی پیالہ مارنے لگی۔۔ وہ اطمینان سے کھڑا اسے اپنی سفید شرٹ پر سالن کا وہ پیالہ برساتے دیکھ رہا تھا۔۔ جو ہاتھوں کی پشت سے مسلسل آنسوں صاف کرتی روتی ہوئی پوری طاقت لگا کر اسے مار رہی تھی۔۔
۔
“میرے قریب نہیں آنا آئندہ ورنہ جان لے لونگی۔۔
تھک ہار کر پیالہ پھینکتے وارننگ دیتے انداز میں کہ کر وہ تقریباً بھاگتی ہوئی اندر کی جانب بڑھی۔۔
آنسوں ضبط کرتی وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی۔۔ اسے اپنا چہرہ جلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔ کلائی بازو پر انگارے سے سلگتے محسوس ہو رہے تھے۔۔ واش بیسن کے سامنے کھڑی رگڑ رگڑ کر اپنا ہاتھ دھوتی مسلسل ابراھیم کو سلواتوں سے نواز رہی تھی۔۔
“منحوس۔۔ خبیث انسان۔۔ سمجھتا کیا ہے خود کو۔۔ پبلک پراپرٹی ہوں جب چاہے ہاتھ صاف کر لے۔۔
بہتے آنسوں کے درمیان وہ بڑبڑا رہی تھی۔۔
بازوؤں سے مسلسل اتنی بیدردی سے رگڑنے کی وجہ سے خون رسنے لگا تھا۔۔ وہ ناجانے کیا صاف کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
کافی دیر بعد وہ باتھ روم سے شاور لے کر اپنے مخصوص لباس میں نکلی تھی۔۔
گیلے بالوں کو یونہی چھوڑے وہ بیڈ پر چت لیٹ گئی۔۔ بھوک تو کب کی مر چکی تھی۔۔ آج وہ شیریں سے بھی نہیں ملی تھی۔۔ پتہ نہیں وہ کیسی تھی۔۔
انہی سوچوں کے درمیان نیند کی وادیوں میں گم ہو گئی تھی۔۔ کھڑکی ہمیشہ کی طرح آج بھی کھلی ہوئی تھی۔۔ جس میں ٹھنڈی ہوا کمرے داخل ہو رہی تھی۔۔
اسکے جانے کے بعد اطمینان سے کھانے کی ٹرے اٹھائے کچن میں رکھنے کے بعد وہ خود بھی شاور لینے کی غرض سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ . سالن سے تو وہ اسے پہلے ہی نہلا چکی تھی۔۔
آج اسے اس پر غصّہ نہیں آ رہا تھا۔۔ اس نے جان بوجھ کر یہ حرکت کی تھی اسکا رد عمل دیکھنے کے لئے جو اسکے توقع کے عین مطابق تھا۔۔ اسکے ذرا سے لمس پر وہ غصے سے پاگل ہونے والی ہو گئی تھی۔۔
سائیڈ ٹیبل پر رکھی اسکی تصویر ہاتھوں میں لئے وہ ہلکا سا ہنسا۔۔
یہ تصویر بھی اس نے اسکی لاعلمی میں لی تھی۔۔ جس میں وہ شیریں کے کندھے پر سر رکھے ہنس رہی تھی۔۔
وہ خود بھی مسکرا اٹھا۔۔
“کیا ہیں آپ بیلا۔۔ آپ کی تمام تر بدتمیزیوں کے باوجود بھی دل آپ ہی کی جانب ہمکتا ہے۔۔ آپ کی اس قدر بےاعتنائی کے باوجود بھی بارہاں آپ کی دہلیز پر ہی دستک دیتا ہے۔۔ اس امید پر کے کبھی تو آپ در کھولینگی۔۔
اسکی مسکراتی تصویر کو سینے پر رکھتے وہ جذب سے کہتا رات مزید گہری ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔۔
اپنے کمرے کے بالکنی میں کھڑا وہ کوئی چوھتی سگریٹ پھونک رہا تھا۔۔
“تت تم مجھے پسند نہیں ہو۔۔ میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔
اسکی سسکتی آواز اسکے سماعتوں میں ہتھوڑا برسا رہی تھی۔۔ ان خاتوں کے انداز سے صاف لگ رہا تھا کے انھیں شیریں بہت پسند آئی ہے۔۔ اگر وہ اماں جان نے بھی ہاں کہ دی تو۔۔ اس سوچ کے آتے ہی اسے اپنی سانسیں تنگ ہوتی محسوس ہونے لگیں۔۔
شیریں تو آج اسکے عمل سے اچھی خاصی خوفزدہ ہو گئی تھی۔۔
“بخار بھی تھا انھیں۔۔ مجھے ضرورت ہی کیا تھی انکے سامنے اتنا غصّہ کرنے کی۔۔ انکی کیا غلطی اس سب میں۔۔
وہ واقعی اپنے رویہ پر شرمندہ تھا۔۔ وہ جانتا تھا وہ کتنی حساس ہے پھر بھی اس کے لحاظ سے بہت زیادہ سختی کر گیا تھا اس پر۔۔
۔
“میں کیا کروں شیریں۔۔ آپ کو وہ اپنے بیٹے کے لئے دیکھ رہی تھیں یہ خیال آتے ہی خود پر قابو نہیں رہا میرا۔۔
وہ بےبسی سے زیر لب بڑبڑایا۔۔ دل کسی طور مطمئن نہیں ہو رہا تھا۔۔
“کتنا رو رہی تھیں وہ۔۔
اسکی سسکیاں یاد آتے ہی لمحہ بھر بھی کھڑے رہنا اسے ناممکن لگ رہا تھا۔۔
۔
“مم مجھے دد درد۔۔
کتنا سہم گئی تھی وہ اسکے اس طرح پکڑنے پر۔۔ بےبسی سے ضبط کے گھونٹ بھر کر رہ گیا۔۔
“کتنا بےبس کر گئیں ہیں آپ مجھے شیریں “۔۔
وہ کرب سے کہتا آسمان کی جانب دیکھتا گہری سانس لے کر رہ گیا۔۔ صبح سے پہلے اسکا چہرہ دیکھنا ناممکن تھا۔۔ اور اتنی بڑی رات کا ایک ایک لمحہ اس پر پہاڑ بن کر گزر رہا تھا۔۔
رات کے آخری پہر اپنے مخصوص وقت پر وہ دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوا۔۔
نظریں بےاختیار اس دشمن جاں پر گئیں تھیں جو نکھری نکھری سی بےخبر سی سو رہی تھی۔۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اپنی مخصوص جگہ پر آ بیٹھا۔۔
آج بھی اسکے لب ہلکے سے کھلے ہوئے تھے۔۔
وہ بےاختیار ہنس پڑا۔۔
نظریں اسکی تھوڑی کے اس گھڑے پر جا ٹکی تھیں۔۔
“میری زندگی کا ہر در آپ پر کھلتا ہے۔۔
ہر گلی۔۔
ہر دروازہ۔۔
تمام رستے آپ تک آتے ہیں۔
آپ میری آخری منزل ہیں۔۔
آپ کے بعد نا چلنے کی خواہش ہے۔۔
نا مزید کچھ پانے کی۔۔
دل صرف آپ کو پانے کی چاہ میں دھڑکتا ہے بیلا۔۔
آنکھیں صرف آپ کو دیکھنے کی خواہش کرتی ہیں۔۔
اسکے لبوں کو انگلیوں سے بند کرتا۔۔ تھوڑی پر لب رکھتے وہ سرگوشی میں کہ رہا تھا۔۔
“اپنے لئے دھڑکنے والے اس دل کی آواز آپ سن کیوں نہیں پاتیں بیلا۔۔
میرے اتنے قریب آ کر بھی آپ میرے جذبات سے انجان کیسے ہیں۔۔
انگوٹھے سے اسکی کلائی سہلاتا وہ اپنے تمام شکوے اس سے کر رہا تھا۔۔
اسکے ہلکے ہلکے نم بالوں کی نرمی محسوس کرتے اس نے قلم نکالنے کی غرض سے اسکی سائیڈ ٹیبل کی ڈراز کھولی سامنے ہی کالے جلد والی ایک ڈائری رکھی تھی۔۔
ایک نظر سوتی ہوئی بیلا پر ڈال کر اس نے وہ ڈائری اٹھائی۔۔
پہلے صفحہ کھولتے ہی اسے اختیار اس پر پیار آیا۔۔
پہلے ہی صفحے پر ایک تصویر لگی تھی۔۔ جس میں سدرہ بیگم باہیں پھیلائے گھٹنوں کے بل شیریں کے آگے بیٹھی ہوئیں تھیں۔۔ شیریں کے ساتھ کھڑی بیلا آنکھوں میں حسرت لئے انکی جانب دونوں ہاتھ لئے رو رہی تھی۔۔ اسے یاد تھا یہ تصویر جس وقت کی تھی اس وقت بیلا تین سال کی تھی۔۔ اور شیریں چھ سال کی۔۔
اسکی آنکھوں میں آج بھی وہی حسرت وہ دیکھتا تھا وہ سترہ سال پہلے اس تصویر میں بیٹھی بچی کی آنکھوں میں تھا۔۔
نیچے کلر پنسل سے اسی تصویر کو بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔۔ لیکن ایک الگ انداز سے۔۔
نیچے بنی تصویر میں سدرہ بیگم کے دونوں سائیڈ بیلا اور شیریں تھیں۔۔ اس تصویر میں ان تینوں کو ہنستے ہوئے دکھایا گیا تھا۔۔ اور سدرہ کا رخ بیلا کی جانب دکھایا گیا تھا۔۔
وہ بے اختیار مسکرا اٹھا۔۔ اپنی خواہش کو کتنی خوبصورتی سے اس نے کاغذ پر بنا دیا تھا۔۔
“میرا وعدہ ہے آپ سے۔۔ ایک دن آپ کی یہ خواہش سچ ہوگی۔۔ اس دن آپ کو یہ منظر کلر پنسل سے بنانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔۔
دھیرے سے اسکی بند آنکھوں پر لب رکھتے وہ عزم سے بولا۔۔
کچھ سوچ کر ڈائری اپنی جیب میں رکھ کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔
۔
“شیریں۔۔ شیرو۔۔ اٹھو یار۔۔ رات بھی تم نے میرا انتظار نہیں کیا۔۔ صبح بھی مجھ سے نہیں ملو گی کیا۔۔
وہ صبح صبح کیفے جانے کے لئے تیار ہو کر نیچے گئی تو شیریں کو کچن میں موجود نہیں پا کر سیدھا اسکے کمرے میں ہی آ گئی۔۔
ایسا بہت کم ہوتا تھا کے شیریں صبح ناشتہ بنانے کے لئے نا اٹھے۔۔
۔
“شیرو۔۔ اٹھو یار۔۔
اپنے مخصوص انداز میں اسے پکار کر اس نے اسے اٹھانا چاہا۔۔ اگلے ہی لمحے وہ اسکی جانب جھکی۔۔اسکی پیشانی بخار سے تپ رہی تھی۔۔ اسکا بخار مزید شدت اختیار کر گیا تھا۔۔
۔
“شیریں کیا ہوا۔۔ اتنا تیز بخار ہو رہا ہے تمہیں تو۔۔
اسکے جلتی پیشانی پر لب رکھتے وہ پریشانی سے بول رہی تھی۔۔
“شیریں میری جان۔۔ آنکھیں کھولو یار۔۔
اسکی پکار پر اس نے بامشکل آنکھیں واں کر کے اسے دیکھا۔۔
“بیلا۔۔
اسے سامنے دیکھتے ہی اسکی آنکھیں بھیگنے لگیں تھیں۔۔
۔
“ہاں بولو۔۔ میں سن رہی ہوں میری جان۔۔
وہ اسکے ہاتھوں کو چومتی۔۔ سر پر پیار کرتی اسکی بڑی بہن معلوم ہو رہی تھی۔۔
اسکا سہارا پاتے ہی وہ اسکے گلے سے لگتی بری طرح رونے لگی۔۔
“شیریں کیا ہوا۔۔ میں مسز افضل کو بتاتی ہوں نا ابھی۔۔ ابھی ڈاکٹر کو دکھائینگے ٹھیک ہو جاؤ گی تم۔۔ اس طرح رو نہیں پلیز۔۔ رکو میں زوار کو بلا لیتی ہوں۔۔
نرمی سے اسے بہلاتی وہ اسے دلاسہ دے رہی تھی۔۔
“نن نہیں۔۔ زوار نہیں۔۔
وہ روتی ہوئی نفی میں گردن ہلانے لگی۔۔
۔
“اچھا تم لیٹو میں ابھی آتی ہوں۔۔
اسے احتیاط سے لیٹا کر وہ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی نیچے آئی۔۔
۔
“بیلا آجاؤ بیٹا آج شیریں بھی نہیں آئی ابھی تک ناشتہ پر۔۔
اطہر ملک نے اسے دیکھ کر اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا۔۔
۔
“مسز افضل وہ شیریں کو بہت تیز بخار ہو رہا ہے۔۔ کچھ بول بھی نہیں رہی۔۔ صرف رو رہی ہے۔۔
وہ اطہر ملک کے قریب آ کر سدرہ بیگم سے مخاطب ہوئی۔۔
زوار نے بےچینی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ اسے ایک بار پھر شرمندگی نے آ گھیرا تھا۔۔
“اماں جان سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتی تم آؤ میرے ساتھ۔۔
بیلا کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتے وہ خود بھی اسکے کمرے کی جانب بڑھا۔۔
بیڈ پر وہ بےسدھ سی پڑی تھی۔۔
“شیریں کیا ہوا آپ کو۔۔ یہاں دیکھیں۔۔
وہ اسکی حالت پر تڑپ کر رہ گیا تھا۔۔
۔
“تت تم جاؤ پلیز۔۔
اپنا آپ پوری طرح کمفرٹر میں چھپاتی وہ نم لہجے میں بولی۔۔
بیلا اسکے رویہ پر حیران تھی۔۔ وہ کبھی کسی سے اس طرح بات نہیں کرتی تھی ۔۔
وہ لب بھینج کر کمرے سے نکل گیا۔۔
کچھ دیر میں ابراھیم ڈاکٹر کو لے کر آ چکا تھا۔۔ بیلا کیفے جانے کا ارادہ ترک کرتی اسکے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔ جو خود بھی اسکے دونوں ہاتھ تھامے غنودگی میں تھی۔۔
“تم دونوں میں کوئی بات ہوئی ہے۔۔؟
شیریں پر کمفرٹر مزید درست کرتے اس نے بھونویں سکڑ کر زوار کی جانب دیکھا۔۔
۔
“نن نہیں کیا بات ہوگی ہمارے درمیان۔۔
اسکے اچانک پوچھنے پر وہ گڑبڑا سا گیا۔۔
۔
“یہ بات تم بھی جانتے ہو شیریں یونہی کسی سے اس طرح بات نہیں کرتی۔۔
وہ اب تفتیشی انداز میں زوار کو دیکھ کر پوچھ رہی تھی۔۔
“کوئی بات نہیں ہوئی ہے بیلا طبیعت خراب ہے انکی بس۔۔
اس نے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی۔۔
وہ مطمئن تو نہیں ہوئی لیکن اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی۔۔
“تم بیٹھو اسکے پاس۔۔ میں کچھ لے کر آتی ہوں اسکے کھانے کے لئے پھر میڈیسنز بھی دینی ہے۔۔
ہاتھوں کی پشت شیریں کی پیشانی پر پھیرتے وہ اسے اسکا خیال رکھنے کی تلقین کرتی کمرے سے نکل گئی۔۔
وہ پرسوچ انداز میں اسکا کمفرٹر میں چھپا وجود دیکھ رہا تھا۔۔
جاری ہے
آپ کی تنقید یا تعریف قابل احترام ہوگی۔۔
خوش رہیں پیارے لوگوں۔۔❤
