Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١٦
۔
ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں موجود وہ آٹھ گھنٹوں سے یونہی بےسدھ سی پڑی تھی۔۔ بیلا نے رو رو کر اپنی حالت خراب کر لی تھی۔۔ زوار خاموشی سے لب بھینچے اسے تک رہا تھا۔۔ کمرے کے تھری سیٹر صوفے پر بیٹھا ابراھیم بےبسی ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔ شیریں کے بیماری کے متعلق جاننے کے بعد ان دونوں میں سے کوئی اسکی جانب دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔۔ حد تو یہ تھی کے ان دونوں نے غصّے کا اظہار بھی نہیں کیا تھا۔۔ سدرہ بیگم بھی اسکے ساتھ ہی بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔۔
اس وقت ڈاکٹر اسے چیک کر رہے تھے۔۔ اسکی پراگریس پہلے سے کافی بہتر تھی۔۔
بازوؤں پر ڈرپس لگی ہوئیں تھیں۔۔ آکسیجن ماسک کے ذریعے مصنوعی سانس لیتی اس لڑکی سے کتنی ہی زندگی جڑی تھی۔۔
وہ سانسیں تھی زوار ملک کی۔۔ وہ ہمت تھی بیلا افضل ملک کی۔۔
“بیلا__
ابراھیم نے ہمّت کر کے ایک بار پھر اسے پکارا۔۔ جو شیریں کے بازو سہلاتی بہتی آنکھوں سے یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“جب تک میری بہن ہوش میں نہیں آجاتی۔۔ میں آپ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی ابراھیم ملک۔۔
بری طرح اسکا ہاتھ جھٹکتی وہ دبی آواز میں پھنکاری تھی۔۔
“ابھی ڈاکٹر نے آپ کے سامنے کہا ہے وہ کچھ دیر میں ہوش میں آ جائے گی۔۔ ہمیں آپ کے لئے بہتر لگا اس لئے ہم نے آپ سے یہ بات چھپائی بیلا۔۔
اسکی سوجی آنکھوں کو دیکھتے وہ آرزردگی سے بول رہا تھا۔۔
“میرے لئے کیا بہتر ہے یہ طہ کرنے والے آپ میرے باپ لگتے تھے ؟” مجھے تو کبھی اتنا اہم سمجھا ہی نہیں آپ لوگوں نے۔۔ میں شکایت بھی نہیں کرنا چاہتی آپ سے۔۔ کیوں کے میرا کوئی رشتہ ہی نہیں آپ سے۔۔ شکایت تو مجھ اس سے ہے۔۔ میری اپنی بہن نے اپنی تکلیف سے لا علم رکھا مجھے۔۔ میں آپ سے کیا شکوہ کروں۔۔
ابراھیم نے کرب سے اسے دیکھا کتنی آسانی سے وہ انکے درمیان موجود اتنے مضبوط رشتے کی نفی کر چکی تھی۔۔ وہ اسے اچھی طرح جتا گئی تھی کے وہ اور یہ رشتہ اسکے لئے کیا حیثیت رکھتے ہیں۔۔
وہ لب بھینچ کر اسے دیکھنے لگا جو ایک بار شیریں کی جانب متوجہ ہو چکی تھی۔۔
“زوار۔۔
زوار کے سر پر ہاتھ پھیرتے اس نے اسکے مضبوط کندھے تھپتھپاتے جیسے اسے حوصلہ دیا تھا۔۔
شکوہ کناں نظر اس پر ڈال کر وہ نرمی سے اپنے بازو سے اسکا ہاتھ ہٹا گیا۔۔ ابراھیم نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔ وہ اس حد تک خفا تھا اس سے۔۔
“شیریں کی تمام فائلز دیں مجھے۔۔
ایک نظر شیریں کے بےسدھ وجود پر ڈال کر وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔۔
سدرہ بیگم نے تمام فائلز اسکے حوالے کر دیں۔۔
“نرس۔۔۔ انکے ڈاکٹر کون ہیں مجھے ملنا ہے ان سے۔۔ اور آج کے بعد انکی تمام فائلز، میڈیسنز آپ مجھ سے ڈسکس کرینگی۔۔ میری وائف ہیں یہ۔۔
وہاں موجود لوگوں پر ایک نظر بھی ڈالے وہ جیب میں دونوں ہاتھ پھنسائے اطمینان سے بول رہا تھا۔۔
ابراھیم نے کچھ بولنا چاہا لیکن سدرہ بیگم کے ہاتھوں پر دباؤ دینے پر وہیں تھم گیا۔۔
“السلام عليكم۔۔
بھاری رعب دار آواز میں سلام کرتے وہ اگلے چند لمحوں میں وہ اسکے ڈاکٹر کے روبرو بیٹھا تھا۔۔ یہاں بھی اس نے خود کو شیریں کا شوہر ظاہر کیا تھا۔۔
“آج سے شیریں سے متعلق تمام معاملات آپ مجھ سے ڈیل کرینگے۔۔ میں ہسبنڈ ہوں انکا۔۔ آپ سے تمام تر باتیں جاننا چاہتا ہوں۔۔کینسر کب ڈائیگنوس ہوا۔۔ اتنے دنوں سے آپ کیا ٹریٹمنٹ دے رہے ہیں میری وائف کو۔۔ آگے علاج کا کیا پروسیجر ہوگا۔۔ آئ وانٹ ایچ اینڈ ایوری ڈیٹیل۔۔
ڈاکٹر نے باغور اسے دیکھا۔۔ ٹھہر ٹھہر کر وقار کے ساتھ بات کرتا وہ اپنی دھاک بیٹھا چکا تھا۔۔ دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے وہ اپنی نگاہیں ان پر ٹکائے انکے بولنے کا منتظر تھا۔۔
“آپ جانتے ہیں انہیں لنگس کینسر ہے۔۔ شیریں کو کینسر ایک سال پہلے ڈائیگنوس ہو چکا ہے۔۔ وہ ایک سال سے ہماری پیشنٹ ہیں۔۔
انیشیل اسٹیج پر تھا تو ہم میڈیسنز سے ہی پریکیور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔ مگر اب مرض بڑھتا جا رہا ہے ۔۔ اور یہ اس طرح بےہوش ہو جانا۔۔ ناک منہ سے خون آنا یہ ان پیشنٹس کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ ہیوی سٹریسڈ آوٹ ہوں یا بہت زیادہ بےاحتیاطی ہوئی ہو۔۔
شیریں ماشاءالله ریکوور کر رہی ہیں۔۔ اللہ‎ نے چاہا تو ہمیں سرجری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔
پیشہ وارانہ انداز میں تسلی بخش جواب دیا تھا۔۔
“پر وہ تو ہوش میں ہی نہیں آ رہیں۔۔
وہ بےچینی سے بولا۔۔ وہ مسکرا اٹھے۔۔
“آپ کی وائف کافی ویک ہیں ینگ مین۔۔ اور پھر انہوں نے کسی بات کی بہت زیادہ سٹریس لی ہے۔۔ آپ کوشش کریں انہیں خوش رکھیں۔۔ پروپر کیئر کریں۔۔
شیریں کے ساتھ ڈائٹ کی بھی پرابلم ہے۔۔
انکی باتوں سے محسوس ہو رہا تھا شیریں سے اچھی طرح واقف ہیں۔۔
“گھر کب تک لے کر جا سکتے ہیں ہم انہیں۔۔
وہ انکی بات سے مطمئن تو نہیں ہوا تھا اسکے چہرے سے ظاہر تھا۔۔
“وہ تو ان شاء اللہ‎۔۔ آج ہی ڈسچارج کر دینگے۔۔
ڈاکٹر کی بات پر سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔


“یہ کیا حالت بنا لی ہے میرے بچے نے۔۔ شیریں تو میرا بہادر بچہ ہے۔۔
وہ کچھ دیر پہلے ہی ہوش میں آئی تھی۔۔ اس وقت افضل ملک کے سینے سے لگی آنکھیں موندے انکی باتیں سن رہی تھی۔۔
“ٹھیک تھی میں بابا۔۔ پتہ نہیں کیسے۔۔
نقاہت کے باعث اسکی آواز مزید دھیمی ہو گئی تھی۔۔
“بابا کی جان۔۔ ڈاکٹر بتا رہے تھے آپ نے سٹریس لی ہے۔۔ کوئی پریشانی ہے میری گڑیا کو تو بتائیں مجھے بیٹا۔۔
سدرہ بیگم کے ہاتھوں سے سوپ لے کر اسے پلاتے وہ محبت سے بولے۔۔
“نہیں بابا۔۔ کک کوئی پریشانی نن نہیں ہے۔۔
وہ جلدی سے بولی۔۔ اطہر ملک ڈیل کی وجہ سے واپس نہیں آ سکے تھے۔۔
“بیلا_ خاموشی سے خود کو تکتی بیلا کو دیکھ کر اس نے نرمی سے اسے پکارا۔۔ وہ جو کب سے خود پر ضبط کر رہی تھی اسکے یوں پکارنے پر تڑپ کر اسکے گلے لگی تھی۔۔زار و قطار روتے وہ ان سب کی آنکھیں بھی نم کر رہی تھی۔۔ “مم میں کبھی بات نہیں کرونگی تم سے۔۔ کبھی معاف نہیں کرونگی تمہیں۔۔ اپنی تکلیف مجھ سے چھپائی تم نے شیریں۔۔ کسی اور سے تو میں کوئی گلا ہی نہیں کرونگی۔۔ تم ہو میری بہن تم جواب دہ ہو مجھے۔۔ کیوں کیا تم نے یہ۔۔ اور بابا آپ۔۔ آپ تو آج بتا ہی دیں اور کیا کیا چھپایا ہے آپ نے مجھ سے۔۔ اسکی بات پر افضل ملک کے چہرے پر ایک سایا سا لہرایا۔۔ انکی زرد پڑھتی رنگت پر ابراھیم سرعت سے آگے آیا۔۔ “بیلا۔۔ بہت ہو گیا۔۔ لہجے میں کچھ سختی لئے بولتے اس نے افضل ملک کو سہارا دیا۔۔ “آپ تو کچھ بولیں ہی نہیں۔۔ یہ میرا اور میرے باپ کا معاملہ ہے غیروں کی مداخلت برداشت نہیں کرونگی میں۔۔ غصّے اور حد سے زیادہ رونے کی وجہ سے اسکی آواز بھاری ہو گئی تھی۔۔ ۔ “بیلا_ میں نے منع کیا تھا بابا کو تمہیں بتانے۔۔ میں نے تو سب کو بتانے منع کیا تھا بابا اور ماما کو لیکن ابراھیم بھیا کو میرے علاج کی وجہ سے پتہ چل گیا اور تایا جان کو بابا نے بتا دیا۔۔ تم مم میری چھوٹی بہن ہو۔۔ میں تمہیں اذیت نہیں دینا چاہتی تھی۔۔ مم میں بہت محبت کرتی ہوں تم سے بیلا۔۔
شیریں اسکا ہاتھ تھام کر خود سے لگاتی رسانیت سے بول رہی تھی۔۔
“تت تم کک کچھ نہیں ہونا چاہئیے۔۔ میں مر جاؤنگی شیریں۔۔ تم جانتی ہو نا۔۔
وہ جھاگ کی طرح بیٹھتی اسکے ساتھ لگی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔
جو فکر کچھ دیر پہلے غصّے کی صورت نکل رہی تھی وہ اب آنسوں کے ذریعے نکل رہی تھی۔۔ اسے صرف شیریں ہی سمجھ سکتی تھی۔۔
“مم مجھے کچھ نہیں ہوا۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔ یہ تت کبھی کبھی ہوتا ہے۔۔
خود کو ہشاش بشاش ظاہر کرتی وہ مسکرا کر بولی۔۔
“زوار آجاؤ بیٹا۔۔
سدرہ بیگم کی آواز پر اس نے چونک کر دروازے کی سمت دیکھا۔۔۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسکی جانب آ رہا تھا۔۔ وہ جلدی سے بیلا کے کندھے میں چہرہ چھپا گئی۔۔ اسکی اس حرکت پر روتی ہوئی بیلا کے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ ابھری۔۔
“کیسی طبیعت ہے اب انکی ؟”
اسکی بھاری آواز اپنے قریب سے آتی محسوس کر کے وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی تھی۔۔ بیلا کو پتہ چل چکا تھا اسکا مطلب تھا وہ بھی جان گیا ہے۔۔
“ما شاء اللہ‎ پہلے سے بہتر ہے میری بچی۔۔ کیا کہ رہے ہیں ڈاکٹر کب تک گھر لے جا سکتے ہیں۔۔
اسکی پیشانی چوم کر سدرہ بیگم نے تشکر آمیز لہجے میں اللہ‎ کا شکر ادا کیا۔
بیلا کو پہلی بار انکا شیریں کو زیادہ توجہ دینا برا نہیں لگا تھا۔۔ اس وقت بچپن سے روا رکھا گیا انکا رویہ سراسر اسکے دماغ سے محو ہو گیا تھا۔۔
“زیادہ باتیں نہیں کرنے دیں انہیں۔۔ ڈسچارج کر دینگے کچھ فارملیٹیس کے بعد۔۔
سنجیدگی سے کہتے وہ اسکی ڈرپ کی میڈیسن چیک کر رہا تھا۔۔
اسکی لرزتی پلکیں صاف ظاہر کر رہی تھیں کے وہ جاگ رہی تھی۔۔ وہ جس وقت کمرے میں داخل ہوا تھا اسے بیلا سے باتیں کرتا دیکھ چکا تھا۔۔


نگاہ اس کی ہمیں بولنے نہیں دیتی
تمام لفظ کسی آنکھ کے حصار میں ہیں
۔
ہسپتال سے گھر آئے اسے دو دن ہو گئے تھے۔۔ ان دو دنوں میں بیلا ایک لمحے کے لئے اس کے قریب سے نہیں ہلی تھی۔۔ اپنا سارا سامان اس نے اسکے کمرے میں ہی سیٹ کر لیا تھا۔۔ وہ تو اسکی فکر پر مسکرا کر رہ جا رہی تھی۔۔ ایک سال پہلے جب اسے اپنی بیماری کے متعلق پتہ چلا تھا تو وہ بہت روئی تھی۔۔ اسے بہت دکھ ہوا تھا۔۔ اس وقت اسے اس خوف سے نکالنے والا ابراھیم تھا جس نے اسے حوصلہ دیا تھا۔۔ اسے احساس دلایا تھا کے وہ ٹھیک ہو جائے گی۔۔ یہ بیماری قابل علاج ہے۔۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے حقیقت تسلیم کر لی تھی۔۔ لیکن بیلا کی خود سے اٹیچمنٹ دیکھ کر اس نے ان سب کو سختی سے منع کر دیا تھا کے بیلا اور زوار کو نا بتائیں۔۔ اب بھی اگر وہ یوں بےہوش نہیں ہوتی تو وہ لوگ لاعلم ہی رہتے۔۔ بیلا کو تو اس نے منا لیا تھا۔۔
زوار دو دنوں سے ایک بار بھی اسکے سامنے نہیں آیا تھا۔۔ وہ جانتی وہ ڈسٹرب ہوگا لیکن اس وقت اسکے سامنے نا آنے پر وہ شکر ادا کر رہی تھی۔۔
۔
“شیریں زاوی بہت محبت کرتا ہے تم سے۔۔ میں سچ کہ رہی ہوں میں نے دیکھا ہے۔۔
بیلا کی بات پر وہ ہوش میں آئی۔۔ اسے ایک بار پھر زوار نامہ کھولتے دیکھ اس نے بےبسی سے اسکی جانب دیکھا جو پچھلے دو دنوں سے اسے قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھی کے وہ حارث کے رشتے کو منع کر دے۔۔ اور زوار کے لئے ہاں کر دے۔۔
۔
“بیلا۔۔ اگر تم یہ کرنے کے لئے میرے کمرے میں شفٹ ہوئی تو ابھی ابھی اپنے کمرے میں جاؤ۔۔
وہ دھیرے سے کہتی دونوں ہاتھوں سے اسے بیڈ سے اتارنے لگی۔۔
۔
“کیوں کر رہی ہو تم اس سے شادی ہاں۔۔ اتنی تو کوئی عمر نہیں نکلی جا رہی تمہاری۔۔ تم نے صرف زاوی کی ضد کی وجہ سے اس نان سینس فیملی سے آئے رشتے کے لئے حامی بھری ہے شیریں میں جانتی ہوں۔۔
وہ غصے سے بھنا کر بولی تھی۔۔ اسے مسز تنویر اور انکا بیٹا بلکل پسند نہیں آئے تھے۔۔
“تو اور کیا آپشن تھا میرے پاس تم بتاؤ۔۔ یوں تو میرے انکار کو وہ کوئی اہمیت دینے پر تیار نہیں تھا۔۔
وہ بےبسی سے بولی۔
“تم کر کیوں رہی ہو اسے انکار شیریں۔۔
بیلا نے خفگی سے اسکی جانب دیکھا۔۔
“میں نہیں چاہتی میری وجہ سے اسکی زندگی برباد ہو بیلا۔۔ وہ تو بیوقوف ہے۔۔ خود سے دو سال بڑی لڑکی سے شادی کرنے پر تیار ہے۔۔ وہ بھی جسکی آتی جاتی سانسیں بھی دواؤں کے مرہون منت ہیں۔۔ تم نہیں جانتی وہ کس قدر جنونی ہو رہا ہے۔۔ اگر میں حارث کے لئے ہاں نہیں کرتی تو وہ کسی بھی طرح سب کو راضی کر لیتا۔۔ میں نہیں چاہتی بیلا کے لوگ کہیں افضل ملک نے اپنی بیمار بیٹی اپنے بھتیجے کے گلے باندھ دی۔۔ میں اسکے پاس کوئی امید ہی نہیں چھوڑنا چاہتی۔۔ حارث سے شادی ہو جائے گی تو اسکی آخری امید بھی ختم ہو جائے گی۔۔
دروازے پر کھڑے زوار نے کرب سے اس سنگ دل لڑکی کو دیکھا۔۔
“بیلا۔۔ تم بابا کے پاس جاؤگی کچھ دیر کے لئے۔۔
کمرے میں بھاری مردانا آواز کی گونج پر جہاں بیلا چونکی وہیں شیریں نے سہم کر دروازے پر استداء زوار کو دیکھا جسکی آنکھوں کی سرخی ظاہر کر رہی تھی کے وہ لفظ با لفظ اسکی بات سن چکا تھا۔۔
۔
“بیلا۔۔ نن نہیں۔۔
اس نے آنکھیں میچ کر بیلا کو پکارا۔۔ وہ ہوتی تو کوئی جواب دیتی۔۔
“کیوں کیا آپ نے میرے ساتھ اس طرح۔۔
ضبط سے سرخ ہوتی آنکھوں سے باغور اسکی جانب دیکھتے وہ رنج سے بول رہا تھا۔۔
“مم میں نے کچھ بھی نہیں کیا تم تمہارے ساتھ”۔
وہ سہم کر پیچھے ہوتی نظریں چرا گئی۔۔ اسکی حالت صاف پتہ دے رہی تھی کے وہ سب جان گیا ہے۔۔
“صرف مجھ سے شادی نا کرنے کی وجہ سے آپ نے اس کے لئے حامی بھری ہے نا۔۔ اپنی بیماری مجھ سے چھپائی آپ نے ؟۔۔ کیوں کیا آپ نے یہ؟” . کیا لگا تھا آپ کو چھوڑ دونگا میں آپ کو اس سے متعلق جان کر؟”۔۔ کیا حق پہنچتا تھا آپ کو میرے جذبات کو یوں مجروح کرنے کا شیریں۔۔
اسکی بات پر وہ سلگ ہی گیا۔۔ بازوؤں سے اسے تھامتے وہ جرح پر اتر آیا تھا۔۔
“مجھے انکار کرنے کی وجہ کیا تھی بتائیں مجھے۔۔ صرف سچ سننا چاہتا ہوں میں۔۔
اسکے روانی سے گرتے آنسوں سے نظریں چراتا وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔۔
“مم میں نہیں چاہتی تم وقتی جذبات میں آ کر مم مجھ سے شادی کرو۔۔
وہ روتی ہوئی بولی۔۔
“میں نے کہا ہے میں سچ سننا چاہتا ہوں شیریں۔۔
چہرہ اسکے قریب کرتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“زوار۔۔
وہ سر بیڈ کی پشت سے لگائے سسک اٹھی۔۔
“میں آپ سے محبت کرتا ہوں آپ جانتی ہیں شیریں۔۔ کوئی جانے نہیں جانے آپ یہ بات اچھی طرح جانتی ہیں کے آپ کے لئے میرے جذبات وقتی نہیں ہیں۔۔ بچہ نہیں ہوں میں۔۔ یہ بہلاوے نہیں دیں مجھے۔۔ سچ پوچھا ہے آپ سے۔۔
وہ ہنوز اسی لہجے میں بول رہا تھا۔۔
۔
“تت تو نہیں کرو مجھ سے محبت۔۔ یہی وجہ ہے انکار کی۔۔
وہ کرب سے چیخ اٹھی تھی۔۔
“میں قابل نہیں ہوں اس محبت کے زوار۔۔ مم میں مکمّل نہیں ہوں۔ کچھ حاصل نہیں ہوگا تمہیں اس محبت سے۔۔ مم میری تو سانسیں بھی مصنوعی ہیں۔۔ کک کسی بھی لمحے تھم جائینگی۔۔انسان جتنا آگے اس راہ پر جاتا ہے تکلیف کی شدّت اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔۔ تم ابھی پیچھے ہٹ جاؤ پلیز۔۔ میں تمہیں، بیلا یا کسی کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔۔ پپ پھر بھی سس سب کو میری وجہ سے تکلیف ہوتی ہے۔۔ بیلا بھی کتنی تکلیف میں ہے میں جانتی ہوں۔۔ اور تت تم_ سینے میں بڑھتے درد کی شدّت کو نظر انداز کرتے وہ بہتی آنکھوں کے ساتھ بول رہی تھی۔۔ وہ پل بھر کو رکی۔۔ وہ لب بھینچ کر کھڑا اسے سن رہا تھا۔۔ دو دن میں ہی وہ کملا کر رہ گئی تھی۔۔ زرد پڑھتی رنگت۔۔ کانپتا سراپا۔۔ وہ بہت مشکل سے بول رہی تھی لیکن آج بول لینا چاہتی تھی۔۔ “تم تو میرے شہزادے تھے۔۔ میرے لاڈلے۔۔ تم تمہارے ساتھ کوئی شہز۔۔ شہزادی اچھی لگے گی نا۔۔ بہت حسین۔۔ سب سے منفرد۔۔ جو زوار ملک کے لئے اتاری گئی ہو گی۔۔ مجھ جیسی عام صورت کی عام سی لڑکی۔۔ جسکی۔۔ سانسیں بھی پوری نہیں ہیں۔۔ پپ پتہ نہیں کک کتنا وقت ہے میرے پاس۔۔ تم کیوں اپنے حصّے میں یہ درد سمیٹنا چاہتے ہو زوار۔۔ مم تو کسی بھی وقت۔۔ وہ زخمی مسکراہٹ لبوں ناجانے اور بھی کیا کچھ بولتی وہ تڑپ کر اسے بھینچ گیا۔۔ “رحم کریں مجھ پر۔۔ اسکی بھیگی سرگوشی نما آواز ابھری تھی۔۔ شیریں کو اپنی پسلیاں ٹوٹتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔ “زاوی۔۔ اسکی گھٹی گھٹی آواز پر وہ ہوش میں آیا۔۔ “شیریں۔۔ پلیز مجھ پر بھروسہ کریں۔۔ آپ کی یہ حالت تکلیف دے رہی ہے مجھے۔۔ مجھے تو آپ نے اتنا حق بھی نہیں دیا کے سینے سے لگا کر آپ کے درد خود میں سمیٹ لوں میں۔۔ کیوں مجھے اتنا بے بس کر رہی ہیں۔۔ آپ کیا ہیں آپ مجھ سے پوچھیں نا۔۔ زوار ملک کی سانسیں جڑی ہیں آپ سے۔۔ آپ کے بنا ادھورا ہوں میں شیریں۔۔ پلیز مجھ پر بھروسہ کریں۔۔ اسکی پیشانی سے سر جوڑے وہ ٹوٹے لہجے میں بول رہا تھا۔۔ اسے اپنی سانسیں اکھڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔۔ سینے میں درد کی شدّت بڑھتی ہی جا رہی تھی۔۔ “نن نہیں۔۔ تم نے وعدہ کیا تھا تم اپنی ضد سے پیچھے ہٹ جاؤ گے۔۔ وہ کانپتی آواز میں بولتی گہری سانسیں لے رہی تھی۔۔ “شیریں۔۔ کیا ہوا۔۔ اسکی مدھم ہوتی سانسوں پر زوار نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھرا۔۔ “پپ پلیز۔۔ وہ آنکھیں موندے گہری سانسیں لے رہی تھی۔۔ وہ لب بھینچ کر اسے دیکھنے لگا۔۔ اسے سانس لینے میں مشکل ہو رہی تھی۔۔ “آپ ٹھیک ہیں ؟ چند لمحے اسے یونہی تکتے رہنے کے بعد وہ کچھ دور کھڑا ہوتا نرمی سے بولا۔۔ “ٹھیک_ ہوں۔۔
وہ ٹھہر ٹھہر کر بولی۔۔
وہ دونوں ہاتھوں میں بال پھنسائے اس سے کچھ دوری پر بیٹھ گیا۔۔ اطہر ملک نے اسے صاف کہ دیا تھا کے اگر شیریں راضی ہو جاتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔۔ سدرہ بیگم کو منانا مشکل نہیں تھا
۔۔ نرمی سے وہ مان نہیں رہی تھی۔۔ ذرا ذرا سی سختی پر اسکی سانسیں تھمنے لگ رہی تھیں۔۔
وہ لب بھینچے باغور اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔۔ جو وقفہ وقفہ سے سسکتی دوپٹہ مڑوڑ رہی تھی۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں اسکی موجودگی کا مقصد نہیں سمجھ پا رہی تھی۔۔
“میں نے کچھ کہا ہے ابھی آپ سے؟” یوں رو رہی کیوں ہیں آپ ؟”
اسکے کہنے کی دیر تھی وہ پورے زور شور سے رونے لگی تھی۔۔
“شیریں۔۔ رونا بند کریں۔۔ آپ جانتی ہے آپ کی حالت کیا ہے۔۔ اس طرح رونے سے مزید تکلیف ہوگی۔۔
وہ محسوس کر رہا تھا اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔۔
“پانی چاہئیے۔۔
اس نے ہنوز روتے ہوئے کہا تھا۔۔
” آپ مجھ سے یوں بھی پانی مانگیں گی تو میں دے دونگا۔۔ اس طرح رونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔
خفگی سے کہتے اس نے پانی کا گلاس اسکی جانب بڑھایا جسے وہ گھونٹ میں خالی کر کے دوبارہ اپنے مشغلے میں مصروف ہو چکی تھی۔۔
“بابا اور امّاں جان کو کوئی اعتراض نہیں ہے ہماری شادی پر۔۔ اور آپ کو ہر صورت حامی بھرنی ہوگی کیوں کے میں آپ کی اس فضول سی دلیل سے بلکل امپریس نہیں ہوا ہوں۔۔
وہ اطمینان سے کھڑا اسکے سر پر دھماکے کر رہا تھا یوں تو اسے ماننا نہیں تھا۔۔
“مما نن نے کہا یہ۔۔
وہ بےیقینی سے اسکی جانب دیکھنے لگی۔۔
“ابھی اپنے دماغ پر اتنا زور بلکل نہیں ڈالیں۔۔
اسکا کینولہ لگا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں تھامتے وہ اسے لیٹنے کا اشارہ کر رہا تھا۔۔ وہ ہمیشہ کی طرح احتیاط سے اسکا ہاتھ تھامے اسکی انگلی میں چمکتی وہ انگوٹھی دیکھ رہا تھا۔۔
“میں راضی نہیں ہوں۔۔
وہ بےبسی سے چیخ رہی تھی۔۔ کمزوری کے باعث آواز حلق میں ہی کہیں دب گئی تھی۔۔
“فلحال اپنی طبیعت ٹھیک کریں۔۔ راضی آپ ہو جائینگی۔۔
اسکے سکون میں ذرا برابر فرق نہیں آیا تھا۔۔ اسی احتیاط سے اسکی انگلی سے انگوٹھی نکال کر اس نے پرسکون سانس فضا کے سپرد کی۔۔
“زوار کیا کر رہے ہو۔۔ میری رنگ واپس کرو۔۔
وہ تڑپ کر اسکی جانب لپکی تھی۔۔
“آپ میری ہیں شیریں۔۔ زوار ملک کی ۔۔ آپ کے تن پر سجی ہر چیز میری کمائی کی اور میرے نام کی ہوگی۔۔ کاش آپ سمجھ سکتیں جتنی دیر یہ رنگ آپ کے وجود سے جڑی رہی ہے میں کس اذیت میں مبتلا رہا ہوں۔۔
اطمینان سے رنگ جیب میں ڈال کر وہ دروازے کی جانب بڑھنے لگا۔۔
کچھ یاد آنے پر ایک بار پھر اسکی جانب آیا جو بےبسی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“زندگی کی چند سانسیں باقی ہوں یا ساری عمر۔۔ آپ پر صرف زوار ملک کا حق ہے۔۔ اور زوار ملک کی ہر سانس پر آپکا حق۔۔ یہ چند سانسیں جنہیں آپ اہمیت نہیں دے رہیں یہ میری مکمّل حیات ہے شیریں افضل ملک۔۔ کیوں کے آپ کی سانسیں نہیں رہیں نا تو زندگی کتاب میں میرا بھی وہ آخری ورق ہوگا۔۔ آئندہ اتنی ظالم بننے سے پہلے ایک بار میری چلتی سانسوں کے بارے میں بھی سوچ لیجیے گا جو میں آپ کو دیکھ کر بھرتا ہوں۔۔
اسکی کلائی تھام کر اسکی نبض آنکھوں سے لگائے وہ اس پر صور پھونک گیا تھا۔۔ اسے اپنی دھڑکنیں کلائی میں دھڑکتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔ آج پہلی بار اس نے یوں پکارا تھا۔۔
آنکھیں موندے اپنی سانسیں ہموار کرنے کی کوشش کرنے لگی۔۔