No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
”” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۳۵
۔
دور دھندلکے آسمان پر چاند بادلوں تلے چھپ رہا تھا۔۔ ننھی بوندیں سبزے پر چمک رہی تھی۔۔ اوس کی ننھی قطرے سبزے پر محوئے رقص تھی۔۔ فضاء میں پھولوں کی خوشبوں رچی بسی تھی۔۔ رنگ برنگے پھولوں سے سماں سجا ہوا تھا۔۔ اس مہکتی فضاء میں وہ شبنمی قطروں پر قدم رکھتے سرخ گلاب ہاتھوں میں لئے وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔ سامنے ہی ہلکے گلابی رنگت کے شب خوابی کے لباس میں ملبوس وہ پری پیکر محوئے خواب تھی۔۔
وہ دیوانہ وار اسکا ہر ہر نقش آنکھوں کے ذریعے دل میں اتار رہا تھا۔۔ اس نے اسے اعتبار سونپ دیا تھا وہ اب بھی بے یقین تھا۔۔ بند آنکھوں پر سایہ فگن لمبی خم دار پلکیں اس کی تمام تر توجہ اپنی مبزول کر رہی تھیں۔۔
“آپ بہت خوبصورت ہیں “_ وہ دھیرے سے بولتا اسکی جانب جھکا تھا۔۔ ان پلکوں کی نرمی اپنی انگلیوں کی پوروں پر محسوس کرتے اس لبوں سے چھوا۔۔ گلابی رنگت میں دوڑتی سرخیاں اس کے لئے امتحان ثابت ہو رہا تھیں۔۔ “میری جنگلی بلی “_
اسکے گال پر چٹکی بھرتے اسکی تھوڑی پر پیار کیا۔۔
وہ صرف نقوش و نگار کی ہی خوبصورت نہیں تھی۔۔ اسکے پاس دل کی خوبصورتی تھی۔۔ اسکا قلب خوبصورت تھا۔۔ جو اسے منفرد بناتا تھا۔۔
“بیلا”_ اسنے نرمی سے پکارتے چھوٹی سی گستاخی کی۔۔ “نماز کا وقت ہو رہا ہے ہنی۔۔ اسکی اگلی پکار پر وہ آنکھیں بند کئے ہی اٹھ بیٹھی تھی۔۔ “نماز پڑھ لیں۔۔ اسکے ماتھے کو چومتے وہ گال تھپتهپا کر بولا۔۔ “جی “_
وہ نظریں چراتی لرزتے پیروں میں سلیپر اڑستی باتھ روم کی جانب بڑھ گئی۔۔
“جی ؟؟”
وہ اسکے انداز پر بےیقین سا زیر لب کہتا باتھ روم کا بند دروازہ دیکھ رہا تھا۔۔
کافی دیر کے بعد وہ نم نم سا وجود لئے کمرے میں داخل ہوئی تو صوفے پر بیٹھا زیر لب کچھ پڑھ رہا تھا۔۔ اس نے کن انکھیوں سے اسکی جانب دیکھا۔۔ ابراھیم نے بامشکل اپنا قہقہا ضبط کیا تھا۔۔ اس قدر نروس وہ کبھی نہیں نظر آئی تھی جتنی اس وقت محسوس ہو رہی تھی۔۔
وہ آنکھوں میں محبت لئے اسے نماز ادا کرتے دیکھ رہا تھا۔۔ جائے نماز فولڈ کر کے رکھتے دیکھ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔
اسکے نزدیک آ کر اسکی نم پیشانی کو چوم کر زیر لب کچھ پڑھ کر اس پر حصار باندھا۔۔ آرام سے اسکا دوپٹہ سر سے ہٹا کر بھیگی زلفوں میں انگلیاں پھیرتا وہ نرمی سے بولا۔۔
“ایک خواھش پوری کر سکتی ہیں میری ؟”۔۔
وہ اسکی آنکهوں میں نمودار ہونے والی خوبصورت چمک دیکھتی نظریں چرا گئی۔۔
“کہیں۔۔
کوشش کے باوجود بھی وہ اپنے لہجے کی لرزش پر قابو نہیں پا سکی تھی۔۔
“یہ ڈریس پہن سکتی ہیں آج ؟”
ایک شوپنگ بیگ اسکے ہاتھوں میں تھماتے وہ محبت سے بولا۔۔ وہ ہلکا سا سر کو خم دیتی تھام گئی۔۔ جب اسکی ذات کو قبول کر چکی تھی تو اسکی خواھش بھی پوری کر سکتی تھی۔۔ وہ کھل کر مسکرایا۔۔
اپنی شال کا ایک سرا اس پر پھیلاتا اسے ساتھ لگا گیا۔۔
“شکریہ “_ اسکے بالوں پر لب رکھے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔ وہ اسکے سینے پر سر ٹکائے مسکرائی۔۔ بولی کچھ نہیں۔۔ “مجھے صرف آپ چاہئیے ہیں بیلا۔۔ صرف آپ کی ذات مجھے میسر ہوں تو میں یہ سارا جہاں چھوڑ دوں۔۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کے عشق کی بارگاه میں جا کر عشق خود کو بھی بھول جاتا ہے۔۔ میری زبان صرف ایک ہی ورد کرتی ہے بیلا۔۔ میرا دل صرف ایک ہی نام پکارتا ہے۔۔ آپ کا نام۔۔ آپ کی محبت کی طلب نہیں ہے مجھے کیوں کے میں آپ سے عشق کرتا ہوں۔۔ لیکن اعتبار کا طالب ہوں۔۔ کیوں کے اپنا عشق آپ کے حوالے کر رہا ہوں۔۔ اسکے لفظوں کی صداقت کی گواہی اسکا دل دے رہا تھا۔۔ “ہر بار ٹوٹ کر جڑنا بہت مشکل ہوتا ہے ابراھیم۔۔ بہت اذیت ناک۔۔ بہت تکلیف دہ۔۔ اب کی بار کسی بھی وجہ سے میرا اعتبار ٹوٹا تو ٹوٹ جاؤنگی۔۔ میں مر جاؤنگی ابراھیم”
۔
“نہیں ٹوٹنے دونگا میں آپ کا اعتبار۔۔ لیکن بہت سی باتیں ایسی ہیں بیلا۔۔ جو ویسی بلکل نہیں ہیں جیسی نظر آتی ہے۔۔ آپ کا اعتبار مجھ پر مضبوط ہونا چاہئیے”_
اسے خود میں بھینچتا سنجیدگی سے بولتا وہ کسی گہری سوچ میں مبتلا تھا۔۔
اسکا اعتبار قائم رکھنا چاہتا تھا لیکن ان رازوں کا کیا کرتا جو اس سے پوشیدہ تھے۔۔
“شیریں یہ پورا ختم کریں۔۔ اس طرح نہیں چلے گا “۔۔
وہ ایک اور بوئلڈ ایگ اسکی جانب بڑھاتے سختی سے بول رہا تھا۔۔
“تم زبردستی کر رہے ہو “۔۔
وہ جھنجھلا کر بولی۔۔
“جی میں زبردستی کر رہا ہوں اور فلحال بہت طریقے سے کر رہا ہوں شیریں۔۔ مجھے مجبور نہیں کریں کے کوئی اور طریقہ آزماؤں۔۔
وہ سنجیدگی سے کہتا اس کے لبوں سے دودھ کا گلاس لگا گیا۔۔
“چلیں اٹھ جائیں۔۔ واک خود کر لیں۔۔ میں لیٹ ہو رہا ہوں نا “۔۔
اسے آہستہ سے کھڑا کرتے وہ عجلت میں تھا۔۔
“میں کر لونگی۔۔
وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔۔
“اماں جان انہیں میڈیسن دے دیجیے گا۔۔
وہ گاڑی کی چابیاں اٹھاتا سدرہ بیگم سے مخاطب ہوا۔۔ جو خاموشی سے بیلا کے آگے ناشتہ رکھ رہی تھیں۔۔
کھلی کھلی سی رنگت لئے بیلا اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی۔۔ اس نے دل سے اسکی خوشیوں کے دائمی ہونے کی دعا کی تھی۔۔ وہ اسے صرف ابراھیم کے حوالے سے ہی عزیز نہیں تھی۔۔ بھابی سے پہلے وہ اسکی چھوٹی بہن تھی۔۔
۔
“تمہاری بیوی کا خیال میں رکھ لونگی۔۔ اب چلے بھی جاؤ تم “۔۔
اسکی بار بار کی یاد دہانی کروانے پر بیلا چڑ کر بولی۔
ابراھیم نفی میں گردن ہلاتا مسکرایا۔۔
“بابا۔۔ اپنے ہاتھوں سے کھلا دیں پلیز “۔۔
ناشتے کی پلیٹ افضل ملک کی جانب کھسکاتی وہ لاڈ سے بولتی ابراھیم ملک کو امتحان میں ڈال رہی تھی۔۔
“بابا کی چڑیا۔۔ آجائیں نا میرا بچہ۔۔
وہ محبت سے اسکی جانب دیکھتے مسکرائے..
لاڈ سے فرمائشیں کر کے ایک ایک چیز افضل ملک کے ہاتھوں سے کھاتی وہ کھلکھلا کر ہنستی کوئی چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی۔۔
کچن کاؤنٹر پر کھڑی سدرہ بیگم اسکی جانب دیکھتی مسکرائیں۔۔ ان سے اس نے کبھی کوئی فرمائش نہیں کی تھی یا شاید انکے رویہ۔۔ انکے انداز نے کرنے نہیں دیا تھا۔۔
آج وہ کیفے نہیں گئی تھی۔۔ سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کر رہے تھے۔۔ شام آہستہ آہستہ ڈھل رہی تھی۔۔وہ کمرے میں ادھر ادھر ٹہل رہی تھی جب اسکی نظریں بیڈ پر رکھے اس شاپنگ بیگ پر گئی۔۔ لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ ابھری۔۔ باکس کے ساتھ ایک کارڈ بھی تھا۔۔
“یہ آپ صرف میرے سامنے پہن سکتی ہیں۔۔ آج پہنينگی تو مجھے اچھا لگے گا “۔۔
کارڈ پڑھ کر وہ کچھ الجھ سی گئی۔۔ وہ رائٹنگ اسے الجھا رہی تھی۔۔ پر وہ بلکل ویسی نہیں تھی جیسی وہ سوچ رہی تھی۔۔
باکس میں موجود نیوی بلیو کلر کی میکسی دیکھ کر اسکی آنکھیں حیرت اور خوشی سے چمکی۔۔ ساتھ نازک سی جیولری باکس بھی موجود تھی۔۔
“آف شولڈرز ؟”
نیوی بلیو کلر کی سلور نگوں والی وہ میکسی اپنی قیمت آپ بتا رہی تھی۔۔ جسکے صرف گلے پر کام تھا۔۔ نیٹ کی آستین کے اوپری جانب کام تھا جب کے باقی آستین سادی تھی۔۔
وہ چاہ کر بھی اپنی خوشی نہیں چھپا پائی تھی۔۔
اس نے کبھی آف شولڈر کپڑے نہیں پہنے تھے لیکن اسکی سب سے بڑی خواھش تھی آف شولڈر پہننا۔۔
تو کیا اب وہ اسکی خواہشوں کو بھی جاننے لگا تھا۔۔
وہ کچھ سوچ کر ڈریسنگ روم کی جانب بڑھی۔۔ کچھ دیر کے بعد وہ اس میکسی میں ملبوس نکلی تھی۔۔ نیوی بلیو کلر پر اسکی گلابی رنگت کھل رہی تھی۔۔ بنا کسی میک اپ کے بھی وہ گلابی صورت اپنا اسیر کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔۔
آئینے کے آگے کھڑی وہ اپنا آپ دیکھتی خود ہی شرما گئی تھی۔۔ اسکے سامنے یوں جانے کا تو تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔
“بہت خوبصورت لگ رہی ہیں “_
وہ جو میکسی تبدیل کرنے سے متعلق سوچ رہی تھی مردانہ گھمبیر آواز پر آنکھیں میچ گئی۔۔
وہ مبہوت سا سامنے کھڑی اس پری وش کو دیکھ رہا تھا۔۔
“کہاں جا رہی ہیں ؟”
اس سے پہلے کے وہ ڈریسنگ روم میں داخل ہوتی وہ شانوں سے تھام کر اسکا رخ اپنی جانب کر چکا تھا۔۔
“مجھ سے چھپ رہی ہیں آپ ؟”
اسکے ماتھے پر لب رکھتے وہ نرمی سے بولا۔۔
“میں نے کچھ چرایا ہے آپ کا۔۔ میں کیوں چھپنے لگی آپ سے۔۔
وہ لہجے کی لرزش پر قابو پاتی دھیرے سے بولی۔۔
“آپ نہیں جانتیں آپ نے کیا کیا چرایا ہے۔۔
اسکے گلے میں موجود اس ہرے پتھر کو لبوں سے چھوتے وہ دھیرے سے بولا۔۔ اسکی گردن میں چمکتا وہ پتھر بھی اسکی توجہ کھینچتا تھا۔۔
۔
“رنگا رنگ لفظوں کی آڑھ میں
میں ایک دھن تخلیق کرتا ہوں ۔۔
ہر چیز تمہارا عکس لیے گنگناتی ہے
بکھرے ورق، دھیمی روشنی اور یہ در و دیوار
قدم تمھارے لیے جھومتے ہیں اور
میں ایک دھن تخلیق کرتا ہوں ۔۔۔
۔
وصل قرب، ہجر جدائی سب ایک سا لگتا ہے
آنکھیں بند میں بھی دل سنگ ہی رہتا ہے
غم آنکھوں سے نہیں بہتا،خوشی لبوں سے نہیں چھلکتی
میں تمہیں موسیقی میں امر کرتا ہوں
میں ایک دھن تخلیق کرتا ہوں !
(منقول)
اسکے لفظوں سے وہ مومی گڑیا دھیرے دھیرے پگھل رہی تھی۔۔
“آپ نہیں جانتیں آپ کس کس طرح مجھے گهائل کرتی ہیں بیلا۔۔ آپ کی یہ آنکھیں۔۔ یہ پلکیں۔۔
وہ کہتا ہوا اسکی مڑی مڑی پلکوں کو انگلیوں سے سہلا رہا تھا۔۔
“یہ رخسار جو اس وقت میرے نام کی سرخی لئے میرا ضبط آزما رہے ہیں۔۔ یہ گڑھا جس میں میرا دل ڈوبتا جا رہا ہے۔۔
ہولے سے اسکی تھوڑی چومتے وہ مزید بولا۔۔
“آپ کے وجود پر سج کر تو پتھر بھی ہیرا بن جاتا ہے بیلا۔۔
اسکی گردن میں سجے ہرے پتھر کو لبوں سے چھوتے وہ مخمور لہجے میں بولا۔۔
“آف شولڈرز پہننا چاہتی تھی نا آپ۔۔
مسکراہٹ دبائے وہ آنکھوں میں محبت لئے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔ بیلا نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔۔
لیکن اسکے ہاتھوں میں موجود سیاہ جلد والی ڈائری نے اسے ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔ یہ اسکی وہی ڈائری تھی جو سال بھر پہلے اسکے کمرے سے غائب ہوئی تھی۔۔ تو کیا یہ ابراھیم کے پاس تھی۔۔
“سستے انسان۔۔ حد ہے مطلب غریب ہی نہیں چور بھی ہے”۔۔
منہ ہی منہ بڑبڑاتی وہ اپنی ڈائری الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی۔۔
“سستے تو آپ تھے ہی چور کب سے ہو گئے۔۔
دوسری جانب موجود ابراھیم نے مصنوعی خفگی سے اسے گھورا۔۔
۔
“میری ڈائری میرے کمرے سے آپ نے چوری کی تھی ؟”
اسکے جواب دینے سے پہلے ہی وہ سخت تیور لئے بولی تھی۔۔
“استغفار بیلا۔۔ وہ تو میں نے یونہی۔۔
وہ تو چور کہلائے جانے پر ہی حیران تھا۔۔
۔
“کیوں چوری کی آپ نے میری ڈائری۔۔
اس کے ہاتھوں سے ڈائری لیتی وہ خفگی سے بولی۔۔
“میں نے چوری نہیں کی تھی بیلا۔۔ میں آپ کی خواھشیں جاننا چاہتا تھا۔۔
۔
“اور پھر۔۔
وہ آنکھیں چھوٹی کئے اسے دیکھتی ہوئی بولی۔۔
“پھر انہیں پوری کرنا چاہتا ہوں۔۔
وہ بھی اسی کے انداز میں بولا۔۔
“اگر میں کہوں میری خواہش آپ بن گئے ہیں تو۔۔
وہ اسکے شانے سے چادر اپنے ہاتھوں میں لیتی اسکے گرد پھیلا کر اسکے سینے سے لگتی اپنے گرد بھی پھیلا چکی تھی۔۔ وہ دلنشین مسکراہٹ لبوں پر لئے اسے دیکھنے لگا۔۔
“تو ابراھیم ملک آپ پر سو جان سے صدقے میری جان “_
اسے خود میں بھینچتا وہ محبت سے بولا۔۔
۔
“ڈاکٹرز نے شیریں کی سرجری کی ڈیٹ دی ہے۔۔ پندرہ دن بعد کی۔۔
اس وقت وہ اطہر ملک اور افضل کے ہمراہ اسٹڈی میں موجود تھا۔۔
“شیریں کو معلوم ہے اس سے متعلق ؟”
سوال افضل ملک کی جانب سے آیا تھا۔۔
“نہیں۔۔ چاچو ابھی نہیں بتایا شیریں کو۔۔
اس نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“میں بتا دونگا انھیں چاچو۔۔ اس وقت ڈری ہوئیں تھیں کچھ۔۔
اسے یاد تھا اس دن ہسپتال سے واپسی پر وہ اچھی خاصی سہمی ہوئی تھیں۔۔
“ڈاکٹرز نے کیا کہا ہے زوار ؟
اطہر ملک نے اسکی جانب دیکھتے پوچھا۔۔ اسکے چہرے پر لکھی تحریر وہ اچھی طرح پڑھ سکتے تھے۔۔
“وہ کہتے ہیں سرجری کے لئے شیریں کا فزیکلی سٹرونگ ہونا ضروری ہے۔۔ شیریں ویک ہیں بابا بہت۔۔ آج کل یوں بھی انھیں وومیٹنگ رہتی ہے۔۔ سانس لینے میں پروبلم رہ رہی ہے۔۔
وہ آہستہ سے بولا۔۔
“وہ ٹھیک ہو جائينگی نا بابا ؟”
اسکے لہجے میں اذیت تھی۔۔ خوف تھا۔۔
“اللّه بہتر کرے گا بیٹا۔۔
افضل ملک نے ضبط سے سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھتے کہا تھا۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو کافی دیر ہو چکی تھی۔۔
وہ جائے نماز پر بیٹھی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے بیٹھی تھی۔۔
وہ خاموشی سے چلتا اسکے پیچھے آ بیٹھا۔۔
۔
“آپ کے سوا کون ہے جو اس بیماری کو جان سکے جو مجھے دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔۔ مجھے مرنے سے ڈر نہیں لگتا اللّه پاک۔۔ اسکی آنکھوں میں بےموت مرتی زندگی کو دیکھنے سے ڈرتی ہوں۔۔ میں جانتی ہوں میری سانسیں تھم گئیں تو اسکی بھی سانسیں تھم جائينگی۔۔ محبت کے جو بیچ وہ مجھ میں بو چکا ہے وہ تو تناور درخت بن گیا ہے اللّه جی۔۔ عشق کا وہ جادوئی منتر پهونکا ہے کے وہ تو دنوں میں پروان چڑھ گیا ہے۔۔۔ اسکی محبت کی جڑیں میرے اندر پهیل چکی ہیں۔۔ کبھی سوچوں کے اپنے سامنے کیسے اسے ٹوٹتے۔۔ بکھرتے دیکھونگی تو یہی محبت کی جڑیں چبهنے لگتی ہیں اور بعض اوقات تو چبهن اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ سہی نہیں جاتی۔۔ یا مجھے شفا عطاء کر دیں یا اسے صبر اللّه پاک۔۔
۔
اسکی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔۔ ہولے ہولے لرزتی وہ ایک ہی جملہ دوہرا رہی تھی۔۔
“یا مجھے شفا عطاء کر دیں یا اسے صبر۔۔
۔
“شیریں۔۔
وہ ضبط سے لب بھینچتے اسکا رخ اپنے جانب کرتے اسکا نام پکار بیٹھا۔۔ اس سے زیادہ وہ اسے نہیں سن سکتا تھا۔۔
وہ اسکے سینے سے لگتی چہرہ چھپا گئی تھی۔۔
“میری شیریں بہت بہادر ہیں۔۔
وہ ضبط سے اسکا سر سینے سے لگائے محبت سے بولا۔۔
“میں جانتی ہوں پندرہ دنوں بعد میری سرجری ہے۔۔
وہ اسکے سینے پر چہرہ رگڑتی چہرہ اٹھائے مسکرا کر بولی۔۔
“کیسے جانتی ہیں آپ ؟”
زوار نے آہستہ سے اسکے ماتھے پر لب رکھے۔۔
“رپورٹس دیکھی تھیں نا میں نے۔۔ تو اسکے ساتھ سرجری کی ڈیٹ بھی۔۔
وہ معصومیت سے بولی۔۔
“ڈر تو نہیں رہیں آپ۔۔
اسکی ناک پر چٹکی بھرتے وہ دھیرے سے بولا تو وہ مسکراتی ہوئی نفی میں گردن ہلا گئی۔۔
“تمہارے ہوتے ہوئے مجھے ڈرنا چاہئیے۔۔
وہ مان سے اسکی جانب دیکھتی ہوئی بولی۔۔
جاری ہے۔۔
