No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٣٢
۔
اگلی صبح روشن اور چمک دار تھی یا اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا۔۔ اسکا نرم و نازک وجود اپنے حصار میں لئے وہ ناجانے کتنی ہی دیر سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ جو اسکی نظروں سے بےخبر روز کی طرح کمبل میں دبکی اسکے سینے سر رکھے سو رہی تھی۔۔ اسکے بکھرے بالوں کو نرمی سے سہلاتے وہ اسکے ریشمی بالوں کی نرمی محسوس کر رہا تھا۔۔ اس نے کبھی اسے بتایا نہیں تھا کے اسکے لمبے بال اسے کتنے پسند ہیں۔۔ اسکے لمس سے نکھری اسکی خوشبو میں بسی وہ اسکے حصار میں موجود اسے سرشار کر رہی تھی۔۔
نرمی سے اسکی پیشانی پر لب رکھتے قریب کیا۔۔
“مارننگ ڈئیر وائفی “_
اسکے ہر نقش کو اپنے لمس سے معتبر کرتے وہ سرگوشی میں بولا۔۔ پلکوں کی لرزش دیکھتے اسکے لبوں پر مسکراہٹ ابھری۔۔ وہ سانس روکے لیٹی ہوئی تھی۔۔
“اتنی خوفزدہ کیوں ہیں ؟”
چہرے پر آئی لٹوں پر پھونک مارتا وہ نرم لہجے میں بولا۔۔ وہ اب بھی کچھ نہیں بولی۔۔ مزید سختی سے آنکھیں میچتی لب بھینچ گئی۔۔
“میں جانتا ہوں آپ جاگ رہی ہیں “۔۔
اسکے مسکاتے لہجے پر ہولے سے لرزتی پلکیں واں کئے۔۔ اسے دیکھنے کی غلطی اب بھی نہیں کی تھی۔۔
“تت تم نے وعدہ توڑا ہے “۔۔
دھیمی آواز میں معصومیت سے کہتی وہ اسے مزید گستاخیوں پر اکسا رہی تھی۔۔
“کونسا وعدہ توڑا میں نے وائفی ؟”
وہ سنجیدہ سا بولا۔۔
“تم نے کہا تھا میری اجازت کے بغیر تت تم کک کچھ ننن نہیں کرو گے “۔۔
لہجے کی لرزش میں قابو پانے کی کوشش کرتے وہ خفگی سے بولی۔۔
“تو کچھ کیا کیا میں نے ؟”
آنکھوں میں شرارت لئے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“تم نے۔۔
وہ آنکھیں پھیلائے اسے دیکھتی جواب سوچ رہی تھی۔۔
“تم مجھے تنگ کر رہے ہو “۔۔
اسکی آنکھوں میں ناچتی شرارت دیکھ کر وہ روہانسی ہوتی بھرائے لہجے میں بولی۔۔ آنکھوں میں چمکتی نمی دیکھتا وہ سنجیدہ ہوا۔۔
“نہیں کر رہا تنگ آپ کو۔۔ رونے کا سیشن سٹارٹ نہیں ہو رہا”۔
انگوٹھے سے اسکی آنکھیں صاف کرتا وہ نرم لہجے میں بولا۔۔
“جانتی ہیں کتنا انتظار کیا میں نے اس حسین چہرے پر اپنے نام کی سرخی دیکھنے کے لئے۔۔
مبہوت سا اسکے چہرے پر حیا کی لالی دیکھتا وہ مخمور لہجے میں بولا۔۔
“زاوی۔۔
وہ دبا دبا سا چیختی اسکے سینے میں چہرہ چھپا گئی۔۔ وہ اسکے نازک وجود کو خود میں سموئے سرشار سا ہنس پڑا۔۔ اسکی گرفت بہت نرم تھی۔۔ وہ اسے چھوتے ہوئے کافی احتیاط برتتا تھا۔۔ لیکن اسکی سختی بھی وہ محسوس کر چکی تھی۔۔
“زاوی “
سوچوں میں گم وہ اسے پکار بیٹھی۔۔
“جی “_ اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتا وہ جی جان سے متوجہ ہوا۔۔ “تم مم مجھ پر غصّہ نہیں کیا کرو نا “۔۔ وہ سہمی ہوئی بول رہی تھی۔۔ “میں نے کبھی کیا ہے آپ پر غصہ ؟” وہ سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ چھوئی موئی سی اسکی بیوی اسکا غصّہ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی تھی۔۔ جو زور شور سے اثبات میں سر ہلاتی اپنی بات کی تصدیق کر رہی تھی۔۔ “کک کل بال پکڑے تھے۔۔ بب بہت زور سے۔۔ اس دن فیس بھی پکڑا تھا۔۔ نکاح کے دن بھی بہت غصہ کیا تھا۔۔ اس سے پہلے مم میرے روم کا ٹیبل بھی توڑا تھا “۔۔ وہ اسکے سینے پر انگلیاں پھیرتی اول روز سے اسکی تمام تر سختیاں ایک ایک کر کے یاد دلا رہی تھی۔۔ وہ پوری توجہ سے سن رہا تھا۔۔ اسکے بال پکڑنے کا ذکر سن کر اسے یاد آیا۔۔ کل غصے میں وہ واقعی سختی کر گیا تھا۔۔ بنا کچھ کہے نرمی سے کمر کے گرد بازو حائل کر کے اسکا رخ اپنی جانب کرتے بالوں کو سہلاتے دونوں گالوں پر بوسہ دیا۔۔ گویا تمام تر سختیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی تھی۔۔ “اور بھی کبھی سختی کی ہے کیا ؟ ناک کی نوک کو سہلاتے نرمی سے سوال کیا۔۔ “کک کل میری طرف دیکھا بھی نہیں۔۔ میں نے پکارا بھی تھا”
وہ اپنے تمام تر شکوے آج ہی کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔
“اپنی شیریں کو نالیوں میں جکڑا نہیں دیکھ سکتا میں”۔۔
اسے خود میں بھینچے دھیرے سے بولا۔۔ وہ آنکھیں میچیں آنسوں اندر اتار گئی۔۔
“اوہ غربت کی مشین اٹھ جاؤ۔۔
وہ فجر پڑھنے کے بعد اسکے سر پر کھڑی بڑبڑا رہی تھی۔۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کے وہ نماز ک لئے نا اٹھا ہو۔۔
“ابراھیم “_ اسے پھر نہیں جاگتے دیکھ وہ تشویش سے آگے آئی۔۔ کل صبح اسکی سائیڈ پر آنے کے بعد سے وہ کافی احتیاط برت رہی تھی۔۔ “یا اللہ کہیں سچ میں ایکسپائیر تو نہیں ہو گئی غربت کی مشین ؟”۔۔ اسکے وجود میں کوئی جنبش محسوس نہیں کر کے وہ آگے آئی۔۔ وہ ہوش میں ہوتا تو ضرور کہتا اسے واقعی بیوہ ہونے سے خوف نہیں آتا تھا۔۔ “ابراھیم اٹھ جائیں۔۔ نماز کا وقت ختم ہو رہا ہے۔۔ اس نے اسے شانے پر ہاتھ رکھا تو چونک اٹھی۔۔ وہ بری طرح بخار میں تپ رہا تھا۔۔ وہ اسکے چہرے سے چادر ہٹاتی ماتھے پر ہاتھ رکھے دیکھنے لگی۔۔ “ابراھیم۔۔ اتنا تیز بخار ہو رہا ہے۔۔ میں مما کو بتا دیتی ہوں۔۔ ماتھے پر ہاتھ رکھے ہی وہ فکر مندی سے بولی۔۔ “نہیں بیلا۔۔ امّاں جان کو پریشان نہیں کریں۔۔ رات دیر سے سوئیں ہیں وہ “۔۔ وہ جو اسکے نرم لمس پر جاگا تھا۔۔ بخار سے بھاری ہوتی آواز پر بیلا نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔ بخار بہت تیز تھا وہ سدرہ بیگم کو بلانے سے بھی منع کر رہا تھا۔۔ “بخار بہت تیز ہے”۔۔ وہ دھیرے سے بولی۔۔ “ٹھیک ہو جائے گا۔۔ اماں جان کو نہیں جگائیں “۔۔ وہ ماتھے پر انگلیاں مسلتا اٹھ بیٹھا۔۔ “میں کچھ کر سکتی ہوں۔۔؟ ابراھیم نے سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔۔ “مطلب انسانیت کے رشتے سے۔۔ وہ جلدی سے بولی مبادہ وہ کچھ اور ہی نا سمجھ بیٹھے۔۔ وہ پھیکا سا مسکرایا۔۔ پھر اٹھ کھڑا ہوا۔۔ وہ صوفے پر بیٹھی اسکی تمام کروائی دیکھ رہی تھی۔۔ اطمینان سے نماز ادا کر کے وہ اپنی جگہ پر لیٹ گیا تھا۔۔ نا اس نے اسے کچھ کہا نا بیلا نے خود اسے چھیڑا۔۔ کن آنکھیوں سے اسکی جانب دیکھتی وہ بھی دوسری جانب آ بیٹھی۔۔ کیفے جانا آج ضروری تھا لیکن نجانے کیوں دل اسکے پاس سے اٹھ کر جانے پر راضی نہیں تھا۔۔ کچھ ہی دیر میں اسکی بھاری سانسیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔۔ وہ آہستہ سے اسکے نزدیک ہوئی۔۔ چہرے سے کمفرٹر ہٹا کر ماتھے کو چھوا۔۔ بخار مزید شدّت اختیار کر رہا تھا۔۔ بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔۔کچھ سوچ کر وہ اٹھی۔۔ “ابراھیم کچھ چاہئیے ؟” اسکی کراہنے کی آواز پر وہ سرعت سے قریب آئی۔۔ وہ سرخ ہوتی آنکھوں کو کھولتا نفی میں گردن ہلانے لگا۔۔ “ناشتہ لے آ رہی ہوں۔۔ اسکے بعد میڈیسن لے لیں “۔۔ وہ اسکی سنے بغیر ہی کمرے سے نکل گئی تھی۔۔ ابراھیم نے حیرانی سے اسکی پشت کی جانب دیکھا۔۔ کچھ ہی دیر بعد وہ ٹرے میں ناشتہ سجائے کمرے میں موجود تھی۔۔ اسکے ناشتہ کر لینے کے بعد میڈیسن اسکی جانب بڑھائی۔۔ “بیلا “_
وہ بخار کی شدّت سے نڈھال ہوتا اسے پکار بیٹھا۔۔
“جی”__
وہ مدهم لہجے میں بولتی قریب آئی۔۔
“سر دبا سکتی ہیں۔۔ کچھ دیر پلیز “۔۔
وہ آنکھیں موندے ہی بولا۔۔ اگلے ہی لمحے ماتھے پر اسکا نرم لمس محسوس کرتا وہ مسکرا اٹھا۔۔
وہ سرہانے بیٹھی نرمی سے اسکا سر دبا رہی تھی۔۔ وہ بخار کی وجہ سے ایک بار پھر غنودگی میں جا رہا تھا۔۔ بیلا کی نظریں بےاختیاری میں اسکے نقوش سے الجھ رہی تھیں۔۔۔ کشادہ پیشانی پر گھنے بال بکھرے ہوئے تھے۔۔ کھڑی مغرور ناک۔۔ گھنی مونچهوں تلے بھینچے لب۔۔ وہ آہستہ آہستہ کراہ رہا تھا۔۔
“کیا ہوا کہیں تکلیف ہے ؟”
وہ نرمی سے بولی۔۔
وہ ہولے سے اسکی گود میں سر رکھتا دوبارہ اسکے ہاتھ اپنے سر پر رکھ گیا۔۔
وہ ایک لمحے کو ساکت سی ہو گئی۔۔
“شیریں طبیعت کیسی ہے میری بچی کی ؟”
اطہر ملک نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نرم لہجے میں دریافت کیا۔۔
“ٹھیک ہوں تایا ابو”_ وہ دھیرے سے بولی۔۔
“میڈیسن لی تھی شیریں ؟”
سدرہ بیگم کے سوال کرنے پر وہ سر ہلا گئی۔۔
“جی اماں جان ایک ڈوذ دی ہے رات کو “۔۔
وہ ناشتہ کرتا سنجیدگی سے بولا۔۔ شیریں کو بری طرح پھندا لگا۔۔
“آرام سے شیریں۔۔
اسکی کمر سہلاتے انہوں نے نرمی سے کہا۔۔ وہ سرخ چہرہ لئے خفگی سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔۔ جو انجان بنا ناشتہ کر رہا تھا۔۔
“شیریں کمرے میں آئیں۔۔ میری فائل نکال دیں”۔۔
وہ چہرہ صاف کرتا اسکی جانب دیکھ کر بولا جو الجھن بھری نظروں سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔۔
کافی دیر بعد بخار میں کمی آنے پر وہ آنکھیں واں کئے اسے دیکھتا اٹھ بیٹھا۔۔
“ڈاکٹر کے پاس چلے جائیں۔۔ بخار اب بھی ہے۔۔
وہ نظریں چراتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
“اب بلکل ٹھیک ہوں۔۔
وہ نرم مسکراہٹ اسکی جانب اچھال کر بولا۔۔
“زیادہ کچھ فضول سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔
وہ نروٹھے پن سے بولتی کمفرٹر منہ تک تانتی لیٹ گئی۔۔ کیفے سے وہ ویسے بھی لیٹ ہو چکی تھی۔۔
وہ ہولے سے اسکی پیشانی پر لب رکھتے مسکرا اٹھا۔۔ بولا کچھ نہیں۔۔
۔
“کک کیا ہوا ؟”
وہ دروازے پر ہی کھڑی دھیرے سے بولی۔۔
“خیال رکھنا ہے اپنا بہت زیادہ۔۔ دوبارہ اپنی بیوی کو اس حالت میں نہیں دیکھنا چاہتا میں۔۔۔
ماتھے پر لب رکھتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“تت تم نے نہیں رکھا تھا۔۔
وہ سینے سے لگتی شکوہ كناں لہجے میں بولی تھی۔۔
“میں بھی رکھ لونگا۔۔ ابھی میری بیوی آپکے پاس میری امانت ہے۔۔
وہ دھیرے سے سر ہلا گئی۔۔
جاری ہے۔۔
