Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١
۔
“بیلا۔۔ بیلا۔۔ بیلااااا۔۔
وہ پریشانی سے دبی دبی آواز میں چیختی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔
آئینے کے سامنے کھڑی خود سے چار سال چھوٹی اس آفت کو دیکھ رہی تھی جسکی وجہ سے تقریباً روز ہی گھر میں ایک قیامت برپا ہوتی تھی۔۔
۔
“کیوں پاکستانی عدالت کی وکیلوں کی طرح گلہ پھاڑ کر ان جیسے تاریخ پر تاریخ۔۔ تاریخ پر تاریخ بولنے کی پریکٹس کر رہی ہو۔۔ “مس شیریں افضل ملک “۔۔
وہ اپنے شانوں تک آتے سلکی بالوں کی روز کی طرح پونی ٹیل بناتی اطمینان سے بول رہی تھی۔۔
۔
“کیوں اپنی جان کی دشمن بنی رہتی ہو۔۔ کیا کیا ہے تم نے یہ۔۔ پھر سے رشتہ۔۔
اسکے صدمے سے کہنے پر سامنے کھڑی بیلا نے شان سے فرضی کالر جھاڑے ۔۔
“جاؤ اب نیچے تم۔۔ ماما تمہاری ذلالت پے ذلالت اور اسکا سو آن کرینگی تو سمجھ آئیگی۔۔
۔
شیریں نے روہانسی ہو کر اسے دیکھا جو مطمئن سی اب لبوں کو نیچرل کلر کی لپسٹک سے رنگ رہی تھی۔۔
سفید رنگت پر کالی گھور سیاہ آنکھیں۔۔ اور ان پر مڑی مڑی پلکیں جو دیکھنے والوں کو اپنے پیچ و خم میں ایک پل کے لئے الجھا دیتی تھیں۔۔ بھرے بھرے گلابی لب۔۔ وہ درمیانے قد کی ایک خوبصورت لڑکی تھی۔۔
جینس اور کرتی پہنے دوپٹہ سے بےنیاز اپنی پونی کو دونوں جانب سے کھینچتی وہ آئینے پر ایک آخری نظر ڈال کر کمرے سے نکل گئی تھی۔۔
۔
“بیلا دوپٹہ تو اوڑھتے جاؤ۔۔
پیچھے وہ آوازیں دیتی رہ گئی ۔۔
“میں تھان کے تھان لپیٹ لوں جب بھی مسز افضل کو میں پسند نہیں آؤنگی۔۔ تم آجاؤ نیچے۔۔ رائتا بھی تو سمیٹنا ہے۔۔ وہ الگ بات ہے کے پھیلایا بھی خود ہی ہے۔۔
وہ مزے سے کہتی سیڑھیاں اتر رہی تھی۔۔
۔
“ماں ہیں وہ تمہاری۔۔
وہ ہزار بار کہا ہوا جملہ ایک بار دوہراتی اسکی جھولتی پونی دیکھ رہی تھی۔۔
چیونگم چباتی وہ اپنے مخصوص لاپرواہ انداز میں ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی سامنے ہی دو قدرے موٹی عورتیں بیٹھیں ناشتے سے بھرپور انصاف کر رہی تھی۔۔
اسنے کن انکھیوں سے سامنے کھڑیں سدرہ بیگم کو دیکھا جو آنکھوں میں سرد تاثر لئے اسے دیکھ رہیں تھیں۔۔
وہ مطمئن سی چلتی ان دو عورتوں کے سامنے آ بیٹھی۔۔
۔
“ذرا شرم نہیں آنٹی آپ کو۔۔ یہ تیسرا سموسہ اٹھا رہیں ہیں آپ۔۔
سامنے بیٹھی خاتون کے ہاتھ سے سموسہ لے کر واپس پلیٹ میں رکھتی وہ خفگی سے بول رہی تھی۔۔ خاتون کے ساتھ بیٹھے لڑکے نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔
“بیلا تم نے خود ہی تو۔۔
اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن اسکی بات مکمّل ہونے سے پہلے ہی سدرہ بیگم نے سخت آواز ابھری تھی۔۔
۔
“بیلا کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔ بڑوں سے بات کرنے کی یہ تمیز سیکھائی ہے ہم نے تمہیں۔۔
تنبیہ کرتی نگاہوں سے اسے دیکھتی انہوں نے لہجہ قدرے سخت لہجے میں کہا۔۔
“تم نے ہی گھر بلایا ہے نا انہیں۔۔ انکے بیٹے کا کہنا ہے تم نے اسے کہا ہے کے وہ رشتہ لے کر آئے۔۔
۔
“بیچ راستے میں سستے عاشقوں کی طرح پرپوز کر رہا تھا مجھے۔۔ آپ نے باہر لڑنے منع کیا تھا اس لئے میں نے سوچا گھر بلا کر عزت سے رخصت کر دوں۔۔ مجھے کیا پتہ تھا یہ اپنے پورے ٹبڑ کے ساتھ میرے باپ کا خرچہ بڑھانے چلا آئے گا۔۔
انکی پلیٹ سے چپس اٹھا کر منہ میں ڈالتی بولی تھی۔۔ اطمینان میں ذرا فرق نہیں آیا تھا۔۔
۔
“تمیز سے بات کرو ہونے والی ساس ہیں تمہاری۔۔
وہ لڑکا اپنی ماں کے کڑے تیور دیکھتا التجائیہ انداز میں بولا تھا۔۔ اسکے الفاظ جتنے سخت معلوم ہو رہے تھے۔۔ لہجہ اتنا ہی نرم تھا۔۔
“ارے چپ کرو۔۔ اتنی بھوکی ساس مجھے نہیں چاہئیے۔۔
خاتون کے لال بھبو ہوتی شکل کی پرواہ کئے بغیر ہی بلند آواز میں بڑبڑائی۔۔
۔
دروازے کے باہر کھڑی شیریں نے روہانسے ہوتے اسے خاموش ہونے کا اشارہ کیا۔۔
۔” عزت سے رشتہ لے کر آئے تھے ہم تو۔۔ ہمیں کیا معلوم تھا اتنی منہ زور لڑکی ہے۔۔ اٹھو چلو یا مزید عزت کا جنازہ نکلوانا ہے ابھی۔۔
وہ تن فن کرتی اپنے بیٹے کو گھورتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔
“جی بلکل شکر اللہ‎ کا ہمارا پورا ناشتہ ڈکارنے سے پہلے آپ کو عقل آ گئی۔۔
۔
“بیلا چپ کر جاؤ۔۔
سدرہ بیگم کی گھوریوں کے باوجود وہ جلدی سے ان خاتون کے پیچھے گئی۔۔
“جلدی جائیں۔۔ ورنہ اتنا کچھ جو آپ نے کھایا نا اسکا بل آپ کے گھر بھیج دونگی۔۔
۔
“توبہ اتنی منہ زور لڑکی سے شادی کرنا چاہتے تھے تم۔۔ پڑھ گئی ٹھنڈ تمہیں اپنی ماں کی بےعزتی کروا کے۔۔
وہ خاتوں مسلسل بلند آواز میں بڑبڑاتی اپنی گاڑی کی جانب بڑھ رہی تھیں۔۔
وہ جو پارکنگ سے کچھ دوری پر اپنی بائیک کھڑی کر کے اب دروازے کی جانب ہی بڑھ رہا تھا۔۔ گھر سے نکلتی بھپری ہوئی خاتون اور انکے ساتھ نکلتے لڑکے کو دیکھ کر وہ مٹھیاں بھینج کر رہ گیا۔۔
“آپ باتوں سے ماننے والی ہیں ہی نہیں بیلا “۔۔
وہ زیرلب بڑبڑاتا دروازے کی جانب آیا۔۔
جتنے غصّے وہ خاتون باہر آ رہی تھیں اسے اچھی طرح انداز ہو چکا تھا کے آج پھر بیلا نے کوئی تماشا لگایا ہوگا۔۔
“تم بتا ہی دو آخر چاہتی کیا ہو۔۔ ہر دو دن بعد کوئی کوئی تمہارا رشتہ آ جاتا ہے۔۔ جنہیں بلانے والی بھی تم خود ہی ہوتی ہو۔۔ یہ کیا طریقہ ہے بیلا کسی کو سبق سکھانے کا۔۔ اب اگر تم نے اس طرح کی کوئی حرکت کی تو میں سچ میں تمہیں اسی کے ساتھ رخصت کر دونگی جسکا تم اب رشتہ لاؤ گی۔۔
لاؤنچ میں داخل ہوا تو حسب توقع وہاں عدالت سجی ہوئی تھی۔۔ وہ سامنے اطمینان سے بیٹھی سدرہ بیگم کی باتیں سن رہی تھی۔۔ اسکے انداز سے لاپرواہی واضح ہو رہی تھی۔۔ جو سدرہ بیگم کے غصّے مزید اضافہ کا باعث بن رہی تھی۔۔
۔
“مما اس نے خود بدتمیزی کی تھی۔۔
شیریں ہمیشہ کی طرح آج بھی اسے بچانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی۔۔
۔
“اس کے دو مقاصد ہیں۔۔
اطمینان سے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھنے کے بعد وہ ان سب کی جانب ایک نظر ڈال کر بولی۔۔
۔
“ایک تو یہ کے اس نے جو میری بےعزتی کی بیچ راستے میں پرپوز کر کے میں نے اسے گھر بلا کر سموسے کھلا کر عزت سے رخصت کیا ہے۔۔ تو میں تو اچھی ہوں۔۔
اس نے آنکھیں پٹپٹا کر انھیں دیکھا۔۔ اپنے پیچھے کھڑے ابراھیم کو نہیں دیکھ سکی۔۔ جو سدرہ بیگم کے ساتھ اسے خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
۔
“اور دوسرا یہ کے آپ کو پتہ چل جائے مسز افضل کے بیلا افضل ملک کسی سے کم نہیں ہے۔۔ دیکھ لیں میرے قدر دانوں کی لمبی فہرست۔۔
لمبی پر پورا زور لگا کر کہتی وہ سکون سے انکا اطمینان غارت کر کے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔
“دیکھ رہے ہو تم۔۔ یہ سب تمہارے بابا اور افضل صاحب کے لاڈ پیار کا نتیجہ ہے۔۔ اب اس طرح اپنی اہمیت جتائے گی یہ۔۔
سیڑھیاں چڑھتی بیلا کو دیکھ کر وہ غصّے سے بولی تھیں۔۔ وہ انہیں تسلی دیتا ضبط سے تنی رگوں کے ساتھ خود بھی اسکے کمرے کی جانب بڑھا۔۔



کراچی کے اس پوش علاقہ میں بنے اس چھوٹے مگر خوبصورت گھر میں اطہر ملک اور افضل ملک اپنے گھرانوں کے ساتھ مکین تھے۔۔ دونوں بھائیوں میں عمروں کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا۔۔ اطہر ملک نے اپنی پسند سے نگینہ بیگم سے شادی کی تھی جو کے انکی خالہ زاد بھی تھی۔۔ اطہر ملک اپنی بیوی سے بےانتہا محبت کرنے والے ثابت ہوئے تھے۔۔ شادی کے ایک سال بعد ابراھیم اطہر ملک انکی گود میں آیا۔۔ بھوری آنکھوں والا یہ بچہ گھر میں سب کو ہی بہت پیارہ تھا۔۔ نگینہ بیگم ابراھیم کی پیدائش کے بعد سے ہی کچھ بیمار رہنے لگی تھیں۔۔ تین سال بعد اللہ‎ نے ایک بار انھیں نعمت سے نوازہ۔۔ “زوار ملک ” جو گھر والوں کے ساتھ ابراھیم کا بھی کافی لاڈلا تھا۔۔ جبکہ افضل ملک کی شادی والدین کی پسند سے سدرہ بیگم سے ہوئی تھی۔۔ میاں بیوی ہونے کے باوجود بھی شروعات سے سدرہ بیگم اور افضل ملک میں ان دیکھی سی ایک دیوار تھی جسے انہوں نے دور کرنے کی کوشش کی نا سدرہ بیگم نے اپنی محبت سے اس دیوار کو گرانے کے بارے میں کچھ سوچا۔۔ بظاہر تو وہ دونوں ٹھیک ہی تھے لیکن ایک خلش سی تھی جسے شاید کسی نے محسوس ہی نہیں کیا۔۔ شیریں جو ابراھیم سے ایک سال چھوٹی جبکہ زوار سے دو سال بڑی تھی۔۔ اور شیریں سے چار سال چھوٹی “بیلا افضل ملک “۔۔
دونوں بہنیں شکل صورت کے ساتھ ساتھ عادات اطوار میں بھی ایک دوسرے کے بلکل متضاد تھیں۔۔ شیریں گندمی رنگت اور مناسب نقوش کی مالک۔۔ کم گو سیدھی سی لڑکی تھی اسکی رنگت بیلا جیسی شفاف نہیں تھی لیکن اسکی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں۔۔
نگینہ بیگم زوار کی پیدائش کے وقت انتقال کر گئیں۔۔انکے انتقال کے بعد اطہر ملک کو خود اپنا بھی ہوش نہیں رہا تھا۔۔ ایسے میں سدرہ بیگم نے ہی ابراھیم اور زوار کی بھی ذمہ داری لے لی تھی جسے وہ آج تک بہت احسن طریقے سے نبھا رہی تھیں انکی امّاں جان بن کے۔۔
بیلا سدرہ بیگم سے زیادہ قریب نہیں تھی وجہ اسکی ضدی اور اکھڑ طبیعت تھی یا کچھ اور یہ کوئی نہیں جان سکا تھا۔۔
حد درجہ منہ پھٹ اور قدرے بدتمیز بیلا پسند تو ابراھیم کو بھی نہیں تھی۔۔



“کاش یہ بات آپ مجھے محبت سے کہ دیتی ماما۔۔ اسی شفقت بھرے انداز سے کہ دیتیں جیسے شیریں سے کہتی ہیں۔۔ باخدا میں بلکل ویسی ہی بن جاتی مما جیسی آپ کو پسند آتی۔۔ لیکن آپ۔۔
اپنی سوچوں میں گم وہ اپنی پونی ٹیل جھلاتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی جب اسے بازوؤں سے تھام کر کسی نے جھٹکے سے کھینچا۔۔ غصّے سے اپنی جانب تکتے ابراھیم کو دیکھ کر اسکا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا۔۔
۔
“سمجھتی کیا ہیں آپ خود کو۔۔ بہت مزہ آتا ہے آپ کو ہم سب کو پریشان کر کے “۔۔
سختی سے اسکے بازوؤں پر گرفت بڑھاتے وہ سلگتے لہجے میں بول رہا تھا۔۔
۔
“میں آپ کو جواب دہ نہیں ہوں چھوڑیں میرا ہاتھ “
اسکی گرفت میں پھرپھراتی وہ بھی اسی لہجے میں اس سے بات کر رہی تھی۔۔
یہ تو بیلا ملک کا اصول تھا۔۔ گیو اینڈ ٹیک کا اصول۔۔ جو دو گے واپس آ لوٹ کر وہی آئیگا۔۔
۔
“آپ ہیں جواب دہ مجھے۔۔ سمجھ رہی ہیں۔۔ میری امّاں جان کی آنکھوں میں آپ کی وجہ سے آنسوں آئے ہیں ۔۔ اسکی جواب دہی بھی میں آپ سے ہی کرونگا۔۔
ایک ہاتھ پیچھے لے جا کر وہ اسکے دونوں بازو سختی سے جکڑ چکا تھا۔۔
۔
“بہت شوق ہے آپ کو لوگوں کے سامنے آ کر اپنی قدر دانی ظاہر کرنے کا۔۔
دوسرے ہاتھ سے اسکا چہرہ جکڑ کر اسکی آنکھوں میں دیکھتے وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کر رہا تھا۔۔ تکلیف کے باعث چمکتی نمی وہ باآسانی دیکھ سکتا تھا۔۔ لیکن وہ اب بھی ڈھیٹ بنی اسی طرح خود بھی اسکی آنکھوں میں دیکھتی اسکے آہنی گرفت سے نکلنے کی سعی کر رہی تھی۔۔
۔
“دوپٹہ لے لینے سے شان گھٹ جائے گی آپ کی۔۔ بہت شوق ہے آپ کو اپنی نمائش کرنے کا۔۔
اسکی آنکھوں میں چمکتے آنسوں کو دیکھ کر اسکی گرفت میں کچھ نرمی در آئی تھی۔۔ لہجہ ہنوز آگ برساتا ہوا تھا ۔۔
۔
“میں کہ رہی ہوں چھوڑیں مجھے۔۔ میں کیا کر رہی ہوں کیا نہیں اسکے لئے میں نا آپ کی امّاں جان کو جواب دہ ہوں اور نا انکے لاڈلے بیٹے کو۔۔ زیادہ باپ نہیں بنے میرے۔۔
غصّے اور درد کی شدّت سے اسکی آواز روندھ گئی تھی۔۔ اسکی گرفت سے اپنے بازو آزاد کرواتی وہ سرد لہجے میں بول کر آگے بڑھنے لگی تھی جب ایک بار پھر اس نے کلائی سے تھام کر اپنے مقابل کھڑا کیا ۔۔
۔
“آئندہ میں آپ کو بغیر دوپٹہ کے نا دیکھوں بیلا۔۔
وارننگ دیتے انداز میں کہتا وہ اپنی شال اس پر ڈال کر آگے بڑھا۔۔ لیکن اگلے ہی پل وہ شال اسکے قدموں میں آ گری تھی۔۔
۔
“یہ حق اپنی بیوی پر جتائیگا مجھ پر نہیں۔۔ مجھ پر حق صرف میرے باپ کا ہے۔۔
اسکی شال اسکے قدموں کی جانب اچھال کر وہ تن فن کرتی اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر جا چکی تھی۔۔
وہ ضبط سے مٹھیاں بھینجتا اپنے غصّہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
“تیار رہیں بیلا افضل ملک بہت جلد آپ کے تمام حقوق میرے نام ہونگے “۔۔
سرخ ہوتی نگاہوں سے اسکے کمرے کے بند دروازے کو تکتا وہ زیر لب بول رہا تھا۔۔



۔
“آج پھر بیلا کے رشتے والے آئے تھے۔۔
وہ جو چاۓ کے لئے پانی چولہے پر رکھ رہی تھی۔۔ اپنے پیچھے بھاری مردانہ آواز سن کر اچھل پڑی۔۔
“اس طرح سہم کیوں جاتی ہیں آپ شیریں۔۔ میں ہوں۔۔
زوار کی آواز پر وہ گہری سانس لیتی اثبات میں سر ہلا گئی۔۔ وہ بھی ہمم کہ کر سر ہلا کر رہ گیا۔
“اس طرح اچانک سے آ گئے تم تو اس لئے۔۔ اور یہ شیریں کیا ہوتا ہے۔۔ آپی کہا کرو۔۔
کڑے تیوروں سے اسے گھورتی وہ مصنوعی خفگی سے بولی۔۔
۔
“میں آپی باجی نہیں کہ سکتا آپ کو شیریں میرا موڈ خراب نہیں کیا کریں یہ سب کہ کر۔۔
وہ سخت بد مزہ ہوا تھا۔۔
“کیوں بھئی بڑی ہوں تم سے۔۔
باقی چیزیں بھی نکال کر کاؤنٹر پر رکھتی وہ سادہ سے لہجے میں بولی۔۔
“بیلا سے بھی تو بڑی ہیں آپ پورے چار سال اس نے کب آپ کو آپی کہا ہے۔۔
وہ تنک کر بولا۔۔ نظریں اسکی پشت پر لاپرواہ سی بکھری لمبی چوٹی سے الجھ رہی تھیں۔۔
۔
“بیلا کو جانتے ہو تم۔۔ میری بیلا بہت الگ ہے۔۔
بیلا کا ذکر آتے ہی اسکے لبوں پر شیرنی سی گھلی تھی جو زوار کو بلکل پسند نہیں آئی۔۔
وہ خود بھی بیلا کو بہنوں کی طرح چاہتا تھا لیکن شیریں کا اسکے لئے یہ پیار اس سے مشکل سے ہی ہضم ہوتا تھا۔۔


جاری ہے۔۔