No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۳۷
۔
وہ غائب دماغی کی سی حالت میں اپنے کمرے میں آئی تھی۔۔ بےیقینی سی بےیقینی تھی۔۔
“مجھے مما نا کہا کرو بیلا “_
انکی آواز ایک بار پھر اسکی سماعت سے ٹکرائی۔۔
“مما نا کہوں ؟”
وہ منہ ہی منہ بڑبڑائی۔۔ آنسوں ٹوٹ کر گالوں پر پھسلے۔۔
“ماں کو ماں نا کہوں ؟”۔۔
کمرے کی خاموشی میں اسکی سسکی گونجی تھی۔۔
“ککک کیسے۔۔
گھٹی گھٹی سسکیاں اب رونے کے بلند آواز میں تبدیل ہو رہی تھیں۔۔
“بیلا۔۔ ہنی کیا ہوا۔۔ بیلا کیا بات ہے ؟”
اندھیرے کمرے میں گونجتی اسکی سسکیاں ابراھیم کا دل دہلا رہی تھیں۔۔ اسکی اس حالت کی وجہ وہ سمجھ گیا تھا۔۔ کچھ دیر پہلے وہ اس قدر خوش تھی۔۔
“بیلا کیا ہوا مجھے بتائیں ؟ اماں جان سے کوئی بات ہوئی ہے ؟”
اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھرے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“ککک کوئی ماں کیسے کہ سکتی ہے کے اسے ماں کہ کر نا پکارا جائے ؟”
وہ خالی خالی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھتی بھرائی آواز میں بولی۔۔ ابراھیم ملک کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے اسکا دل مٹھیوں میں مسل دیا ہو۔۔
“ابراھیم آآپ کو تو کبھی منع نہیں کیا مما نے کے انھیں ماں نا کہیں۔۔ ممم مجھے کیوں۔۔
بہتی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھتی وہ اسے تڑپا گئی تھی۔۔
“بتائیں نا مجھے کک کیوں۔۔ مجھے کیوں ابراھیم ؟”۔۔
وہ تڑپ کر روتی اسکے سینے پر سر مار رہی تھی۔۔
“ممم مجھے کہا مما نا کہوں۔۔ کک کیا کہوں ؟”
بےبسی سے اپنی گرفت میں تڑپتی اپنی زندگی کو دیکھتا وہ لب بھینچ گیا تھا۔۔ وہ جو اسکی ہر خواہش پوری کرنے کی چاہ رکھتا تھا اسکے دل میں پنپتی سب سے بڑی حسرت جان کر پوری نہیں کر سکتا تھا۔۔
۔
“بیلا “__
ضبط سے بھاری ہوتی آواز میں اس نے دھیرے سے اسے پکارا۔۔
“ککک کیوں ؟”
وہ اسکی سن ہی کب رہی تھی۔۔
وہ خود سے لگائے بےبسی سے اسے یوں تڑپتے سسکتے دیکھ رہا تھا۔۔ کافی دیر بعد اسکی سانسیں بھاری ہوتی محسوس ہونے پر اسے بیڈ پر صحیح سے لیٹا کر کمفرٹر اس پر درست کیا۔۔
“ممم مجھے کہا مما نہیں کہوں۔۔
وہ نیند میں بھی انکی کہی باتیں نہیں بھولی تھی۔۔ واحد رشتہ جہاں بیلا افضل ملک اپنی عزت نفس۔۔ اپنی انا بھول کر صرف محبت کی چاہ میں قدم بڑھاتی تھی وہاں بہت بےدردی سے اسکی عزت نفس روند دی جاتی تھی۔۔ صحیح کہتا تھا ابراھیم انسان اپنی انا ہر شخص کے آگے نہیں ہارتا۔۔
وہ انا زادی جسے ابراھیم ملک نے سینچ سینچ کر سینے سے لگائے رکھا تھا اسکی انا پر ضرب نہیں لگنے دی تھی۔۔ وہ اسکے سامنے بکھر رہی تھی۔۔ ٹوٹ رہی تھی اور وہ بےبس تھا۔۔
۔
رَبَّنَاۤ اِنَّکَ تَعۡلَمُ مَا نُخۡفِیۡ وَ مَا نُعۡلِنُ ؕ وَ مَا یَخۡفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ﴿۳۸﴾
“اے ہمارے رب ! ہم جو کام چھپ کر کرتے ہیں ، وہ بھی آپ کے علم میں ہیں ، اور جو کام علانیہ کرتے ہیں ، وہ بھی ۔ اور اللہ سے نہ زمین کی کوئی چیز چھپی ہوئی ہے ، نہ آسمان کی کوئی چیز “
(سورة إبراهيم – آیت نمبر ۳۸)
۔
“تو تو جانتا ہے نا اللّه۔۔ تو تو سب رازوں سے واقف ہے۔۔ ان سے بھی جو ہم نے ڈهانپ رکھے ہیں۔۔ تو ہر راز سے واقف ہے یارب۔۔ میری زندگی تیرے حوالے۔۔ اسکی تکلیف تو کم کر سکتا ہے۔۔ میں تو بےبس ہوں۔۔ دیکھ کر تڑپ سکتا ہوں۔۔ تجھ سے مانگ سکتا ہوں۔۔ عطاء کرنے والا تو تو ہے۔۔ جو بنا مانگے بھی عطاء کرتا ہے۔۔
ایک نگاہ نیند میں سسکتی اپنی بیوی پر ڈال کر وہ کھڑکی کی کھلی درزوں سے نظر آتے آسمان کی جانب دیکھتے بےبسی سے بولا تھا۔۔
“وہ انسان تھا بےبس ہو سکتا تھا۔۔ لیکن وہ تو اللّه ہے۔۔ وہ تو رب ہے۔۔ اسکے لئے تو کچھ مشکل نہیں۔۔ وہ تو سب پر قادر ہے۔۔ قدرت رکھتا ہے۔۔ دلوں میں چھپے بھید بھی جانتا ہے اور درد بھی۔۔ اس درد کا مداوا بھی اسی کے پاس ہے۔۔
۔
ساری رات وہ اسکے سرہانے بیٹھا اسے سسکتے تڑپتے دیکھتا رہا تھا۔۔ ٹھکرائے جانے کا درد بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔۔ چاہے کسی بھی رشتے کی جانب سے ہو۔۔ اور وہ اس تکلیف سے گزشتہ اکيس سال سے گزر رہی تھی۔۔
اسکی روح کا حصّہ تھی وہ۔۔ وہ تڑپتی تھی تو پرسکون وہ بھی نہیں رہتا تھا۔۔
اذان کی آواز پر وہ ہوش میں آیا۔۔
“بیلا۔۔ اٹھیں نماز ادا کریں۔۔
نرمی سے اسکے گال تهپتهپاتے اس نے سنجیدگی سے اسے پکارا۔۔ وہ پہلی پکار پر ہی اٹھ بیٹھی تھی۔۔ اسکی آنکھوں میں دوڑتی سرخی کو دیکھتی وہ ایک پل کو خوفزدہ سی ہوئی تھی۔۔
“اٹھ جائیں۔۔
وہ وضو کر کے آیا تو اسے ہنوز بیڈ پر بیٹھے دیکھ کچھ سختی سے بولا۔۔ اس نے نگاہیں اٹھا کر اسکی جانب دیکھا جو آستین کہنیوں سے نیچے کرتے جائے نماز بچھا رہا تھا۔۔
وہ خود بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ یکدم ہی چکرا کر گرنے لگی تھی کے سائیڈ ٹیبل تھام گئی۔۔
وضو کر کے آئ تو اب بھی نماز ادا کر رہا تھا۔۔ وہ جانتی تھی وہ نماز بہت اطمینان سے ادا کرنے کا عادی تھا۔۔
سلام پھیر کر ابراھیم نے اسکی جانب دیکھا جو اسکی چادر کو اپنے گرد لپیٹے اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔۔ اسے اپنی جگہ پر آنے کا اشارہ کرتا وہ خود ایک کنارے ہوا۔۔
زیر لب کچھ پڑھتا وہ بغور اسکی جانب دیکھ رہا تھا جو دعا کئے بغیر ہی جائے نماز فولڈ کر چکی تھی۔۔
“بدنصیب ہوتے ہیں وہ جو اپنے رب سے نہیں مانگتے “_
اسکے ماتھے کو روز کی طرح چومتا وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“ایک کی خواہش ہے۔۔ وہ پوری نہیں ہو رہی مزید کچھ مانگنے کی چاہ نہیں ہے “_
وہ سرد انداز میں بولتی اسکے حصار سے نکل گئی تھی۔۔
“اللّه سے مانگتے رہا کریں بیلا۔۔ خود کو اس سے مانگنے کا عادی بنا لیں۔۔ زندگی بعض اوقات ایسے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ساتھ نہیں ہوتا۔۔ دنیا روٹھ جاتی جاتی۔۔ وہاں اللّه ساتھ ہوتا ہے۔۔ ہمیشہ رہنے والی اسکی موجودگی اس وقت انسان محسوس کرتا ہے۔۔ بہت شدّتوں سے کرتا ہے۔۔ لیکن اس وقت جب اپنی کوئی بہت قیمتی چیز ہاتھوں سے ریت کی مانند پهسل رہی ہوتی ہے۔۔ اللّه سے تڑپ کر مانگنے کا دل چاہتا ہے۔۔ اسکے آگے رونے کو دل کہتا ہے۔۔ خود کو عادی بنا لیں بیلا۔۔
پیچھے وہ اپنے خالی ہاتھ دیکھتے بےبسی سے بولا۔۔
“میری زندگی میں اور کچھ قیمتی نہیں ہے ابراھیم جسے کھونے کا مجھے خوف ہو”۔۔
وہ دروازے پر رک کر بےبسی سے بولی تھی۔۔ درد کی انتہا پر پہنچتی وہ خود بھی ظالم ہی تو بن گئی تھی۔۔
“قیمتی چیزیں ہوں یا انسان جب تک پاس ہوں انکی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا بیلا۔۔ کھونے سے پہلے انسان جان لے کے قیمتی کیا تھا تو کبھی کھونے ہی نہیں دے”۔۔
وہ دھیرے سے مسکرا کر بولا۔۔ وہ تو عادی تھا اس درد کا جو ناکردہ گناہ کی سزا کے طور پر وہ اسے دے جاتی تھی۔۔
۔
“محبت کرتا تھا گناہ گار ہی تو تھا۔۔ محبت تو وہ بھی کرتی تھی اس سے۔۔ لیکن کیا کرتی اس محبت کا جو سدرہ افضل ملک سے کرتی تھی۔۔ اس محبت کے آگے وہ اکثر ابراھیم ملک کی محبت فراموش کر جاتی تھی۔۔ جس طرح وہ اسکے آگے اپنی ذات فراموش کر دیتا تھا۔۔ان میں سے ہر کسی کی محبت اپنی محبت پر مقدم تھی۔۔ نہیں تھی تو وہ جسکا حق تھا۔۔
“اللّه کی محبت “
پھر بھلا کیونکر انھیں محبت ملتی ؟۔۔ دل کیسے سکوں پاتا،
جبکے اس میں بسنے والا اسکا اصل مکین نہیں تھا۔۔
۔
“بیلا۔۔ ناشتہ تو کرتی جاؤ۔۔
لاؤنچ سے گزرتی بیلا کو دیکھ کر وہ بےساختہ اسے پکار بیٹھی تھیں۔۔ ٹیبل پر اس وقت ابراھیم کے علاوہ سب ہی موجود تھے۔۔
۔
“آپ نے بنایا ہے ناشتہ میرے لئے ؟”
اسکے لہجے میں کچھ ایسا تھا کے وہ سب ہی ہاتھ روک کر اسے دیکھنے لگے تھے۔۔
انہوں نے ایک نظر اس پر ڈالی جسکی سوجی ہوئی گلابی آنکھوں نے انھیں تمام تر کہانی کہ سنائی تھی۔۔
۔
“بتائیں نا مسز افضل آپ نے بنایا ہے ناشتہ میرے لئے ؟
لبوں پر زخمی مسکراہٹ لئے وہ انکے سامنے آ کھڑی ہوئی۔۔
۔
“بیلا۔۔ بچے یہ کیا طریقہ ہے ماں سے مخاطب ہونے کا “_
اطہر ملک نے سنجیدگی سے اسے ٹوکا۔۔
“کچھ دیر تایا جان۔۔ بس کچھ دیر مجھے صرف میری ماں سے پوچھنا چاہتی ہوں میں۔۔
وہ آنسوں پیتی اب بھی سدرہ بیگم کی جانب ہی دیکھ رہی تھی۔۔ سیڑھیوں سے اترتے ابراھیم نے بےبسی سے اسکی جانب دیکھا۔۔
“سب کے لئے میں نے بنایا ہے بیلا “
انہوں نے سنجیدگی سے کہا تھا۔۔
“کس رشتے سے ؟”
وہ بےتاثر سے انداز میں بولی۔۔
انہوں نے زخمی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا جو سراپا سوال بنی کھڑی تھی۔۔ اسکی نگاہیں جواب طلب کر رہی تھیں۔۔
“جاؤ بیلا”_
زخمی نظروں سے افضل ملک کی جانب دیکھتیں وہ قطیعت سے بولیں۔۔
“کیوں جاؤں میں مما مجھے بتائیں۔۔
ناچاہتے ہوئے بھی آنسوں پلکوں کی باڑھ توڑتے رخسار پر بہ نکلے تھے۔۔
“بیلا میری جان۔۔
شیریں نے تڑپ کر اسے ساتھ لگانا چاہا۔۔
“نہیں شیریں۔۔ اس وقت کوئی نہیں چاہئیے مجھے۔۔ صرف مما سے جواب چاہتی ہوں میں۔۔
اسکا حصار توڑتی وہ تڑپ کر بولی تھی۔۔
“مجھے بتائیں مما کیا کیا میں نے ایسا کے آج تک آپ کے لمس کے لئے تڑپ رہی ہوں میں۔۔ بچپن سے مما کہنے کے لئے ترستی رہی ہوں۔۔ کیوں مما۔۔ کیا غلطی ہے میری ؟ کیوں آپ مجھے اسی طرح پیار نہیں کر سکتیں جس طرح شیریں سے کرتی ہیں۔۔ کب کبھی میرے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا آپ نے جس طرح آپ ابراھیم اور زوار کے سروں پر پھیرتی ہیں۔۔ محبت بھرے آپ کے لمس کے لئے ہر طریقہ آزمایا میں نے۔۔ آپ کی بات مان کر۔۔ آپ کی بات کی نفی کر کے۔۔ کسی طرح تو آپ میری جانب متوجہ ہونگی۔۔ کبھی تو آپ مجھے پیار کرینگی۔۔ ممم مجھے بتائیں کیوں نہیں کہوں میں مما آپ کو۔۔ ماں کو ماں نہیں کہوں تو کیا کیا کہوں مما۔۔
وہ بری طرح تڑپ کر روتی ہر سوال کی جواب دہی کر رہی تھی۔۔ اپنے ساتھ ہوئی ہر زیادتی اسے یاد تھی۔۔
۔
“بیلا بس کرو۔۔ پلیز جاؤ۔۔ میرا ضبط نہیں آزماؤ۔۔ خدارا چلے جاؤ۔۔
وہ آنسوں پیتی بےبسی سے بولیں۔۔
۔
“ایک بار۔۔ صص صرف ایک بار کہ دیں میں آپ کی بیٹی ہوں۔۔ ایک بار مجھے سینے سے لگا لیں مما۔۔ آپ جان لے لیں میری۔۔ پپ پر اپنے لمس کے لئے نہیں تڑپائیں مجھے۔۔ مم مجھ سے نہیں ہوتا مما۔۔
وہ تڑپ کر روتی انکے قریب ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
۔
“بیلا جاؤ یہاں سے۔۔ ابراھیم اسے کمرے میں لے کر جاؤ۔۔
وہ اسکی بکھرتی حالت سے نگاہیں چراتیں ابراھیم سے بولیں۔۔
۔
“آپ کے ساتھ ہوئی زیادتی میں اس معصوم کا کیا قصور اماں جان ؟_
اسے ساتھ لگاتے وہ پہلی بار انکے آگے بولا تھا۔۔ اور بولا بھی تو کیا۔۔ ضبط سے آنکھوں کے کنارے سوج گئے تھے۔۔ سرخ ڈورے واضح نظر آ رہے تھے۔۔
۔
“قصور کسی کا نہیں تھا لیکن سزا ہر ایک کا مقدر بنی ہے ابراھیم۔۔
وہ خود ہی جانے لگی تھیں۔۔ اس سے زیادہ سکت نہیں تھی ان میں اسے روتے بلکتے دیکھنے کی۔۔
“بیلا۔۔ بابا کے پاس آئیں میری جان۔۔ آپ بابا کی سانسیں ہیں۔۔ بابا آپ سے پیار کرتے ہیں نا۔۔
وہ بےبسی سے تڑپتی ہوئی اپنی اس بیٹی کو دیکھ رہے تھے۔۔ وہ واقعی انکی سانسیں تھی۔۔ وہ نہیں ہوتی تو جینے کی تو کوئی وجہ ہی نہیں بچی تھی۔۔
۔
“نہیں۔۔ میں انکی بیٹی ہوں۔۔ انہیں کہیں بابا۔۔ ممم میں مما کہونگی۔۔ مم مجھے ان سے پیار چاہئیے۔۔ انہی سے چاہئیے۔۔
وہ روتی ہوئی ضدی انداز میں کہتی سدرہ بیگم کا ہاتھ تھام چکی تھی۔۔
“نہیں ہو میری بیٹی تم۔۔ افروز احمد کی بیٹی ہو تم۔۔ نہیں کہ سکتی تمہیں اپنی بیٹی میں۔۔ کبھی اپنا ظرف اتنا بڑا نہیں کر سکتی میں بیلا۔۔ تم صرف میری ذمہ داری تھی جسے میں نبھا چکی ہوں۔۔ سوکن کی بیٹی کو قبول کر سکتی تھی میں لیکن اپنے شوہر کی ناجائز اولاد کوئی عورت قبول نہیں کرسکتی بیلا۔۔ کم از کم مجھ میں تو یہ ظرف نہیں ہے۔۔ تمہاری صورت ہر پل ہر لمحے مجھے میری بےبسی۔۔ میری تڑپ یاد دلاتی ہے بیلا۔۔ جب مجھے لگتا ہے تمہارے ساتھ زیادتی کر گئی ہوں جب مجھے میری تڑپ یاد آتی ہے۔۔ تم ہو بہو ویسی ہی ہو۔۔ تمہاری صورت میں افروز احمد دکھتی ہے بیلا۔۔ میں چاہ کر بھی تمہیں سینے سے نہیں لگا پاتی۔۔
۔
وہ اور بھی نجانے کیا کچھ کہ رہی تھیں۔۔ لیکن بیلا تو انکے ایک لفظ پر ہی ٹھہر گئی تھی۔۔ اس ایک لفظ نے بیلا ابراھیم ملک کی شخصیت کی عمارت کو پوری اونچائی سے پستی میں دھکیلا تھا۔۔ اسکی سماعتوں میں تو بس وہ ایک لفظ گونج رہا تھا۔۔
۔
“نن نا جائز۔۔ مم میں نا جائز۔۔
وہ زیرلب بڑبڑآئی تھی۔۔
۔
“امّاں جان خدارا بس کریں۔۔
وہ بےبسی سے بولا تھا۔۔ یہ حقیقت اس طرح بیلا کے سامنے آئیگی اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔۔ شیریں بےیقینی سے افضل ملک کی جانب دیکھتی بیلا کو تک رہی تھی۔۔ جسکا رنگ زرد ہو رہا تھا۔۔ زوار کی حالت بھی مختلف نہیں تھی۔۔
۔
“ماضی میں جو بھی ہوا اس میں بیلا کی تو کوئی غلطی نہیں تھی۔۔ آپ کے ساتھ ہوئی زیادتی میں بیلا کا کردار کہاں ہے اماں جان۔۔
وہ بےبسی سے بولا تھا۔۔
“آپ جانتے تھے۔۔ آپ بھی سب جانتے تھے۔۔
وہ بےیقینی سے نفی میں گردن ہلاتی بہتی آنکھوں سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔۔
۔
“بیلا۔۔ میری بات سنیں۔۔ بیلا ایسا کچھ نہیں ہے۔۔ بیلا میری جان۔۔
وہ بےبسی سے بولتا اسکی جانب بڑھ رہا تھا۔۔
“خب خبردار۔۔ کک کوئی نہیں۔۔ کوئی میرے قریب نہیں آئیگا۔۔ ممم میرا وجود گندہ ہے۔۔ ککک کوئی۔۔ کوئی نہی قریب۔۔
وہ قدم قدم پیچھے ہوتی بےربط سے جملے ادا کر رہی تھی۔۔
“بیلا۔۔ بابا کو کچھ کہنے کا موقع تو دیں میری جان۔۔ ایک بار بابا کی بات سن لیں میرے بچے۔۔ آپ کے بابا گناہ گار ہیں آپ کے میری بچی۔۔
لمحہ لمحہ پیچھے اس کے پیر انکے دل پر پڑ رہے تھے۔۔
۔
“ننن نہیں۔۔ آآپ نہیں گناہ گار بابا۔۔ میں گناہ ہوں۔۔ ممم میری ذات۔۔ میں گناہ ہوں۔۔
وہ کسی کی نہیں سن رہی تھی۔۔
“ککک کوئی نہیں۔۔ کک کسی سے رشتہ نہیں میرا۔۔ کوئی نہیں آئیگا”_
اسکے لہجے میں ٹوٹے کانچ کی کرچیوں جیسی چبھن تھی۔۔ وہاں موجود ہر شخص تڑپ اٹھا تھا۔۔
ابراھیم تیزی سے اسکے پیچھے بھاگا۔۔
اسکے دروازہ بند کرنے سے پہلے ہی وہ کمرے میں داخل ہو چکا تھا۔۔
سامنے کا منظر دیکھتے وہ سرعت سے اسکے قریب آیا تھا۔۔ اسکے ہاتھ میں آج بھی وہی نائف موجود تھی۔۔
“بیلا پاگل ہو گئیں ہیں۔۔ چھوڑیں اسے۔۔
۔
“میرے قریب نہیں آنا۔۔ سب جانتے تھے۔۔ آآپ بھی سب جانتے تھے۔۔ ہمدردی میں اپنایا مجھے۔۔ ترس کھا کر نکاح کیا نا مجھ سے۔۔ کسی کے گناہ کی نشانی کو کون اپنا نام دیتا۔۔ تت تو آپ نے دے دیا ہاں۔۔ اس لئے ممم مجھے نہیں بتایا نا ککک کے کیوں ہوا آپ سے نکاح۔۔ ممم مجھے ضرورت نہیں ہے کسی کی ہمدردی کی ابراھیم ملک۔۔
وہ ہذیانی انداز میں چیختی اپنا ہاتھ آزاد کروانے کی کوشش کر رہی جو ابراھیم کی گرفت میں تھا۔۔
۔
“بیلا۔۔ میں کہ رہا ہوں چھوڑیں نائف “_
وہ اس کے ہاتھ کو جھٹکتا دهاڑا۔۔ وہ بلند آواز میں روتی بےقابو ہوتی چھوری اپنے جسم کے مختلف حصّوں پر مارنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ ابراھیم پوری طاقت لگا کر اسے ضرب لگنے سے محفوظ رکھے ہوئے تھا۔۔
۔
“بیلا خدا کے لئے ہوش میں آئیں۔۔
۔
“چھوڑیں مجھے۔۔ دور ہٹیں۔۔ ننن نہیں چاہ
پوری طاقت لگا کر اپنی کلائی آزاد کروانے کی کوشش کرتی وہ اپنی گردن زخمی کر چکی تھی۔۔ خون فوارے کی صورت ابلتا ابراھیم ملک کے ضبط کا پیمانہ لبریز کر گیا تھا۔۔ یہی لمحہ تھا جب ابراھیم کا ہاتھ اٹھا تھا۔۔ لگاتار تین تھپڑ کی گونج سے ماحول میں یکدم ہی سناٹا طاری ہو گیا تھا۔۔
وہ گال پر ہاتھ رکھے بےیقینی سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔۔ بھاری مردانہ ہاتھوں کے اس قدر شدید تھپڑ پر وہ کچھ دور زمین پر جا گری آنسوں ٹوٹ کر گال پر بکھرنے لگے تھے۔۔ لبوں پر قفل لگ گیا تھا۔۔ اس تھپڑ کا جواب آنسوں کے سوا اور ہو بھی کیا سکتا تھا۔۔
“خودکشی کرنے جا رہی تھیں۔۔ حرام موت کو گلے لگانے جا رہی تھیں آپ ؟ اپنے ہاتھوں سے گلا گھونٹ دونگا آپ کا میں۔۔
۔
غصّے سے دیوار پر گھونسا جڑتے اس جھٹکے سے اسے کھڑا کیا۔۔ گردن پر سختی سے انگلیاں جمائے خون روکنے کی کوشش کرنے لگا۔۔ وہ کب اسکی سخت گرفت کی عادی تھی۔۔ اس تو بات بھی سختی سے نہیں کرتا تھا۔۔ بھلا کب ابراھیم ملک کا غصّہ برداشت کرنے کی سکت رکھتی تھی۔۔ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی لہرا کر اسکے بازوؤں میں گری تھی۔۔
جاری ہے
