Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١٢
۔
“بیلا باجی۔۔ باجی۔۔
وہ ایپرن پہنے اب تیزی سے اپنے کام میں لگی ہوئی تھی ابراھیم کی چادر وہ پہلے ہی اتار کر رکھ چکی تھی۔۔ پوگو کی مسلسل پکار پر خفگی سے اسکی جانب گھومی۔۔
“کیا ہے۔۔ پوگو۔۔ ٹیبل نمبر 4 پر دیکھو ابھی تک کوئی آرڈر لینے نہیں پہنچا وہاں۔۔
کام کے وقت یوں بھی وہ کسی قسم کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔
“باجی یہ جو نئی مصیبت آج میرے سر پر مسلط ہوئی ہے مجھے ذرا پسند نہیں آئی۔۔
وہ معصومیت سے بولتا اسکے آگے آ کھڑا ہوا ۔۔ کالی شلوار قمیض پر کتھی رنگت کی ایپرن پہنے سرخ و سفید رنگت کا مالک پندرہ سالہ پوگو جو اپنی باجی کے سامنے دنیا کا سب سے معصوم بچہ تھا۔۔
“پوگو ہمیں اسے موقع دینا چاہئے وہ واقعی بہت اچھی کک ہے۔۔ میں نے ٹیسٹ کی ہیں اسکی بنائی چیزیں۔۔ اور تم جانتے ہو ابھی کوئی پروفیشنل کک ہم آفرڈ نہیں کر سکتے۔۔ اسے رکھنے سے ہمارا بھی فائدہ ہے۔۔
ریڈی کئے ہوئے آرڈرز ترتیب سے کاؤنٹر پر سجاتی وہ سنجیدگی سے اسے سمجھاتی ہوئی بولی۔۔
“باجی اس نے مجھے گدھا بولا ہے۔۔
وہ غم و غصّے سے چیخ پڑا۔۔
“تو میرے بچے تم نے خود کو گدھا سمجھ لیا ہے کیا ؟”
ایک ابرو اچکا کر وہ اسکی جانب دیکھتی پوچھ رہی تھی۔۔
“میں کیا ڈھینچوں۔۔ ڈھینچوں کرتا ہوں۔۔ پھر اس نے مجھے گدھا کیوں بولا۔۔ میں سینئر ہوں یہاں کا۔۔ پوگو ماسٹر۔۔ کہنا چاہئیے مجھے۔۔
وہ سینہ پھلائے کاؤنٹر کے آگے آ کھڑا ہوا۔۔
“سینئر ہو تو سینئر والے کام بھی کرو۔۔ جاؤ اندر کوکنگ ایریا میں دیکھو اسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے۔۔ اور ویٹیر کو بھیجو ممزید آرڈر کلیکٹ کرے۔۔
سامنے کھڑی لڑکی کو تیار آرڈرز ایک ایک کر کے دینے کے ساتھ وہ اس سے مخاطب تھی۔۔
ایک کنال پر موجود یہ ایک چھوٹا سا کیفے تھا۔۔ سامنے شیشے کی دیوار کے ساتھ ڈھیروں پھولوں کے گملے سجے تھے ۔۔
شیشے کی اس دیوار پر بڑے بڑے حرفوں میں اسکا نام لکھا تھا۔
“بیلا افضل ملک “
اور نیچے فرانسسیسی زبان میں وہ ایک جملہ لکھا تھا۔۔
“Tu Me Manques”
“میں اپنے وجود میں تمہاری کمی محسوس کر رہا ہوں”
۔
حیرت تھی اس نے اپنے کیفے کا آج تک کوئی سائن بورڈ نہیں لگایا تھا یا یوں کہ لیں اسکے کیفے کا کوئی نام ہی نہیں تھا۔۔ لیکن حیرت انگیز طور پر وہ خاصی جانی جاتی تھی۔۔ یہ نام اس نے پچھلے دو سالوں سے اپنی محنت کی بنا پر بنایا تھا۔۔ اسکے کیفے میں بہت ساری چیزیں نہیں ملتی تھیں لیکن جو آئیٹمز ملتے تھے وہ بےمثال ہوا کرتے تھے۔۔
اس نے اپنا کیفے مغربی طرز پر سیٹ اپ کیا ہوا تھا۔۔ شاید جگہ کی کمی کی وجہ سے۔۔ لکڑی کا بنا وہ کیفے جسکا مشرقی دیوار شیشے کا تھا۔۔ جسکے در و دیوار پر سفید باریک پردے لگے ہوئے تھے۔۔ لکڑی کی ہر ٹیبل کے درمیان میں سفید رنگ کا چھوٹا سا گلدستہ رکھا تھا جس میں سفید تازہ گلاب سجے ہوئے تھے۔۔
پیچھے کوکنگ ایریا تھا۔۔ جبکہ دوسرا حصّہ جب سے اس نے یہ زمین لی تھی جب سے ہی کنسٹرکشن پر لگا ہوا تھا۔۔ اسکے مطابق وہ اسے بلکل مختلف طرز کا بنانا چاہتی تھی اور کوئی بھی اسکی امیجینیشن کے مطابق وہ کام نہیں کر رہا تھا۔۔
اوپن ایریا سے ہی اسکے پاس ان دو سالوں میں اچھے خاصے پیسے جمع ہو گئے تھے۔۔ یونیورسٹی وہ ویک اینڈز پر جایا کرتی تھی۔ . اسکی بیچلرز کی ڈگری مکمّل ہونے میں ابھی بھی سال باقی تھا۔۔
پوگو کے تمام اخراجات وہ کیفے کے ہی پیسوں سے اٹھاتی تھی۔۔
وہ ابھی میٹرک کے امتحانات کی تیاری کر رہا تھا۔۔ اسکا ارادہ اسے اچھے پرائیویٹ کالج میں ایڈمشن دلوانے کا تھا۔۔
وہ مکمّل نہیں بھی تو کافی حد تک خود مختار تھی کیوں کے کیفے اور پوگو کے علاوہ اسکے کوئی اخراجات نہیں تھے۔۔
وہ خود پر خرچ کرنے والوں میں سے نہیں تھی۔۔اور دوسروں کو خود پر خرچہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھی پھر چاہے وہ افضل ملک ہی کیوں نا ہوں۔۔ اطہر ملک اسکی بہت سی ضروریات اموشنل بلیک میل کر کے پوری کر دیتے تھے۔۔
جس میں سرفہرست اسکی سیمسٹر فیس تھی۔۔
ویک اینڈز کلاسس کی وجہ سے وہ پرائیویٹ یونیورسٹی میں تھی جسکی سیمسٹر فیس کافی زیادہ تھی ۔۔
اطہر ملک ہر مہینے اسے بنا بتائے اسکے اکاؤنٹ میں خاصی رقم ٹرانسفر کرتے تھے۔۔ جسکو آج تک اس نے استعمال نہیں کیا تھا۔۔
ابھی اسے اپنے کیفے کے لئے بہت کچھ کرنا تھا یہی وجہ تھی کے وہ خود پر ایک روپے بھی اضافی خرچ کرنا گناہ سمجھتی تھی۔۔


“شیریں۔۔ ایک کپ سٹرونگ سی کافی بنا دیں پلیز۔۔ سر درد سے پھٹ رہا ہے۔۔
وہ اپنے دھن میں بولتا کچن میں داخل ہوا تھا۔۔ افرا تفری دیکھ کر حیران ہو گیا۔۔ کچن میں شیریں تو نہیں تھی البتہ ملازمہ بہت تیزی سے تمام کام کر رہی تھی۔۔
۔
“آپ کو کچھ چاہئیے سر۔۔ شیریں میم تو اپنے روم میں ہیں سدرہ میم تیار کر رہی ہیں انھیں۔۔
ملازمہ نے احترام سے اس سے پوچھ کر اسے مطلع کیا۔۔
“تیار ہو رہی ہیں۔۔ کیوں۔۔
اس نے غائب دماغی سے سوال کیا۔۔ بیلا اور ابراھیم کے معاملے میں الجھ کر وہ اس قصّہ کو تو بھول ہی گیا تھا۔۔
“وہ کچھ دن پہلے مسز تنویر شیریں میم کو دیکھ کر گئیں تھیں نا انھیں بہت پسند آ گئیں ہیں شیریں میم۔۔ آج وہ اپنے بیٹے کے ساتھ رشتہ فائنل کرنے آ رہی ہیں۔۔ اطہر صاحب اور افضل صاحب بھی آنے ہی والے ہونگے۔۔
اسکی حالت سے بےخبر ملازمہ اسے تمام معلومات دے رہی تھی۔۔
اپنے انٹرویو کی تیاری میں وہ اتنا بے خبر ہو گیا تھا کے اسے پتہ بھی نہیں چلا کے اماں جان نے افضل ملک سے اس رشتے سے متعلق بات کب کی۔۔
چند مہینوں پہلے ہی اس نے سی ایس ایس کے امتحانات پاس کئے تھے اور اب وہ انٹرویو کی تیاری کر رہا تھا۔۔
خود کو شیریں کے قابل کرنے کے لئے اس نے پچھلے دو سالوں میں بہت محنت کی تھی۔۔ اسکے بعد ہی شیریں سے اظہار کیا تھا۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا کے اس میں کوئی بھی ایسی کمی ہو جسکو جواز بنا کر اطہر ملک یا افضل ملک اسے شیریں کے قابل نا سمجھیں۔۔
۔
اس دن شیریں کے انکار کے بعد اس نے پورا ارادہ کر لیا تھا کے اب وہ اپنے انٹرویو کے بعد ہی اطہر ملک اور سدرہ بیگم سے بات کرے گا۔۔
اس سے پہلے یہ سب ہو جائے گا اسے کب اندازہ تھا۔۔
“اتنی دیر نہیں کی میں نے۔۔ آپ یہ نہیں کر سکتیں میرے ساتھ شیریں۔۔
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے دبے دبے انداز میں چیخا تھا۔۔
آنکھوں میں انجانے میں ہی نمی امڈ آئی تھی۔۔ وہ جانتا تھا شیریں اسکے رشتے کے لئے خود بھی راضی نہیں ہوگی۔۔ یہی وجہ تھی خود کو مکمّل طور پر مضبوط کرنے کے بعد اب اسکے آگے آنا چاہتا تھا۔۔
ملازمہ نے کندھے اچکا کر اسے دیکھا۔۔
“انہیں کیا ہو گیا۔۔
۔
خود کو کافی حد تک کمپوز کرنے کے بعد وہ لاؤنچ میں آیا تو اطہر ملک اور افضل ملک آفس سے آ چکے تھے۔۔ سدرہ بیگم شکل سے کافی خوش لگ رہی تھیں۔۔ اسکی نظریں تو سامنے کھڑی اس دشمنِ جاں پر ٹھہر گئیں تھیں۔۔ جو بادامی رنگ کے خوبصورت جوڑے میں ملبوس سجی سنوری کھڑی تھی۔۔
“آپ نے ذکر نہیں کیا امّاں جان کے شیریں کے رشتے کے لئے لوگ آ رہے ہیں۔۔
گہری نظریں اس پر گاڑے اسکا لہجہ کافی عجیب سا تھا۔۔ جسے اور کسی نے محسوس کیا ہوا یا نہیں شیریں نے باخوبی محسوس کیا تھا۔۔
۔
“بتایا تھا میرا بچہ پھر بیلا کی طبیعت کی وجہ سے انھیں آنے سے روک دیا۔۔ ورنہ وہ تو کافی دن سے آنا چاہتے تھے۔۔ اب ما شاء اللہ‎ سب ٹھیک ہے تو میں نے سوچا آج ہی بلا لوں۔۔
انہوں نے مسکرا کر کہا۔۔
وہ سر ہلا کر انھیں دیکھ کر رہ گیا۔۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا ایسا کیا کرے کے یہ سب روک سکے۔۔ وہ بھی ان حالات میں جب شیریں خود بھی اسکے لئے راضی نہیں تھی۔۔
۔
“امّاں جان۔۔ آپ ان لوگوں کو منع کر دیں۔۔
سر جھکائے وہ دھیمے مگر مضبوط انداز میں بول رہا تھا۔۔
شیریں نے سہم کر اسکی جانب دیکھا۔۔ وہ تو سمجھ رہی تھی اس رات اسکے انکار کے بعد وہ اسکی بات سمجھ گیا ہے۔۔ یوں سب کے سامنے وہ اس بات کی توقع نہیں کر رہی تھی اس سے۔۔
“بیٹا بہت اچھے لوگ ہیں وہ۔۔ حارث ایک ہی بیٹا ہے انکا۔۔ پڑھا لکھا ہے۔۔ ما شاء اللہ‎ اچھی نوکری ہے اسکی۔۔
سدرہ بیگم نے اسے سمجھانا چاہا۔۔
“امّاں جان ہوگا وہ بہت اچھا۔۔ لیکن پلیز آپ منع کے دیں انھیں۔۔
وہ بےبسی سے بولا۔۔
“زوار یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا۔۔ صاف اور سیدھے طرح بتاؤ کیا کہنا چاہ رہے ہو تم۔۔
اطہر ملک نے سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھا۔۔
“بابا صاف اور سیدھی بات یہی ہے۔۔ میں کرنا چاہتا ہوں شیریں سے شادی۔۔ آپ منع کر دیں انھیں۔۔
وہ سہمی ہوئی سر جھکائے آنسوں ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ اسے کب خبر تھی کے زوار یوں سب کی عدالت میں اسے بھی اپنے ساتھ کھڑا کر دیگا۔۔ شرمندگی کے باعث اسے اپنا آپ زمین میں دھنستا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔
“شیریں کمرے میں جاؤ بیٹا۔۔
اطہر صاحب کی آواز پر وہ تقریباً بھاگتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب گئی تھی۔۔
۔
“زوار۔۔ شیریں بڑی ہے تم سے بیٹا۔۔
وہ حیرانگی سے اسکی جانب دیکھتی بولیں۔۔
۔
“زوار کمرے میں جاؤ اپنے۔۔
اطہر ملک نے سنجیدگی سے کہا۔۔
“میں نے کچھ غلط نہیں کہا بابا۔۔ پسند کرتا ہوں میں شیریں کو شادی کرنا چاہتا ہوں ان سے۔۔ اور دو سال کوئی عمر نہیں ہوتی۔۔ دس سال بھی اگر مجھ سے بڑی ہیں شیریں تو بھی مجھے ان سے ہی شادی کرنی ہے۔۔ یہ عمروں کے فرق۔۔ سٹیٹس کے فرق یہ ہم نے بنائے ہیں بابا۔۔
وہ ضدی انداز میں کہتا سدرہ بیگم کے پاس آ بیٹھا۔۔
۔
“اماں جان میرا یقین کریں میں وقتی جذبے کے تحت نہیں کہ رہا یہ بات۔۔ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں شیریں سے۔۔ پسند کرتا ہوں انہیں۔۔ میں خوش رکھونگا انھیں۔۔
وہ بےبسی سے کہتا انھیں یقین دلا رہا تھا۔۔
“زوار۔۔۔ یہ کہنا آسان ہے بیٹا۔۔ وقتی جذبات ہیں میرے بچے۔۔ حقیقت ہے یہ شیریں تم سے دو سال بڑی ہے۔۔ اور ہمارے معاشرے میں شادی کے لئے لڑکی کا بڑا ہونا کتنا معیوب سمجھا جاتا ہے تم جانتے ہو۔۔
انھیں سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ اسے کیا جواب دیں۔۔
“اور پھر شیریں بہن ہے تمہاری میرے بچے۔۔ کس کس کی زبان بند کرینگے ہم میرے بچے۔۔
۔
“ہم معاشرے کو جواب دہ نہیں ہیں امّاں جان۔. کیا برائی ہے مجھ میں۔۔ کیا میں شیریں کے قابل نہیں ہوں۔۔ آپ پلیز انھیں منع کر دیں امّاں جان۔۔ میں نہیں رہ سکتا شیریں کے بغیر۔۔
اطہر ملک تو بیٹے کے جذبات پر حیران تھے جو پوری طرح سدرہ بیگم کو رام کرنے میں لگا ہوا تھا۔
“شیریں میں بھی کوئی برائی نہیں ہے زوار کے ہم اسے اس بےجوڑ رشتے میں باندھ دیں۔۔ یہ جو بھی ہے تمہاری طرف سے شیریں کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔۔ بہتر ہے تم اپنے جذبات کو لگام ڈالو۔۔ ہر لڑکی کے کچھ خواب ہوتے ہیں شادی کے حوالے سے۔۔ شیریں کچھ کہتی نہیں اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کے تمہاری ضد میں آ کر اسکے خوابوں کی کرچیاں بکھیر دی جائیں۔۔ اٹھو یہاں سے اور اپنے کمرے میں جاؤ۔۔ اور سدرہ آپ بلکل منع نہیں کرینگی مہمانوں کو۔۔ آنے دیں انھیں۔۔ اسے خبر نہیں ہے یہ کیا کہ رہا ہے۔۔ شادی کوئی کھیل نہیں ہے۔
سنجیدگی سے اپنی بات مکمّل کر کے وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔
“بابا میں مذاق نہیں کر رہا۔۔ میں کسی وقتی جذبات کے تحت نہیں کہ رہا یہ بات بابا۔۔ میں محبت کرتا ہوں شیریں سے۔۔
وہ بےبسی سے چیخ اٹھا تھا۔۔ کوئی اسکی بات سننے پر ہی تیار نہیں تھا۔۔
“زوار۔۔ میں مزید ایک لفظ نہیں سننا چاہتا۔۔میں ہرگز ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی اولاد کی خوشی کے لئے دوسروں کے جذبات مجروح کر دیتے ہوں۔۔
شیریں کا رشتہ جہاں ہو رہا ہے اسکی رضا مندی سے ہو رہا ہے۔۔ وہ تم سے رشتہ جوڑنے پر تیار نہیں ہے تو بہتر ہے اب یہ بات ہم دوبارہ نا کریں۔۔
۔
“ایسا شیریں نے کہا ہے امّاں جان۔۔
وہ بےیقینی سے سدرہ بیگم کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔
“یہ رشتہ اسکی رضا مندی سے ہوا ہے زوار ۔۔
وہ افسوس سے اسے دیکھتی ہوئی بولیں۔۔ اسکی حالت انھیں تکلیف دے رہی تھی۔۔ وہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے انکا کافی لاڈلا تھا۔۔
“میں ایک بار شیریں سے بات کرنا چاہتا ہوں امّاں جان۔۔
وہ لب بھینچے لمبے ڈگ بھرتا اسکے کمرے کی جانب بڑھا۔۔
دروازہ کھول کر اندر داخل ہونے پر ہی اسکی سسکیوں نے اسکا استقبال کیا تھا۔۔
وہ اوندھے منہ بیڈ پی لیٹی زار و قطار رو رہی تھی۔۔
“شیریں۔۔
اسکی پکار پر وہ سرعت سے سیدھی ہوئی۔۔
۔
“تم یہاں کیوں آئے ہو اب۔۔ مما اور تایا جان کے سامنے مجھے ذلیل کر کے سکون نہیں ملا تمہیں۔۔
بھرائی آواز میں وہ غصّے سے بولی تھی۔۔
“شیریں آپ اسکے سامنے نہیں جائینگی۔۔
وہ ضدی انداز میں بولا۔۔
“آپ نہیں جائینگی حارث کے سامنے شیریں۔۔ وو وہ آپ کو دیکھے گا۔۔ آپ نہیں جانتی وہ آپ کو اپنی ہونے والی بیوی کی نظر سے دیکھے گا شیریں۔۔
وہ بےبسی سے چیختا اپنے ہی بال نوچ رہا تھا۔۔
اسے تو کچھ نہیں کر سکتا تھا۔۔
“زوار یہاں سے جاؤ پلیز تم پہلے ہی بہت تماشا بنا چکے ہو۔۔
وہ اس کی بلند آواز سے سہم رہی تھی۔۔ جو اطہر ملک کے ہری جھنڈی دکھانے کے بعد پاگل سا ہو رہا تھا۔۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ شیری کو کہیں گم کر دے۔۔ اسے خود میں چھپا لے۔۔ اسے یہاں رہنے ہی نہیں دے کے کوئی آئے اور اسکی شیریں کو دیکھے۔۔
۔
“کیوں کر رہی ہیں آپ میرے ساتھ اس طرح۔۔ میں آپ کو خوش رکھونگا شیریں۔۔ میرا یقین کریں۔۔ میں بہت خوش رکھونگا آپ کو۔۔ میری سانسیں رک رہی ہیں یہ سوچ کر کے اگلے چند منٹوں میں آپ یوں سجی سنوری کسی کے سامنے جائینگی ۔۔ کوئی آپ کو دیکھے گا اپنا حق سمجھ کر دیکھے گا شیریں۔۔ آپ کیوں نہیں سمجھ رہیں۔۔
بے بسی سے کہتا وہ اسکے گھٹنے پر ہاتھ رکھے نیچے بیٹھ گیا تھا۔۔
وہ تڑپ اٹھی۔۔
“زوار پلیز۔۔ میں نہیں کر سکتی تمہیں اس رشتے سے ایکسیپٹ۔۔ تم کیوں نہیں سمجھ رہے۔۔ میں نے کبھی تمہیں بھائی کے علاوہ کچھ نہیں سمجھا۔۔
وہ روتی ہوئی پیچھے ہٹنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“تو آپ کسی اور کے لئے ہاں کیسے بول سکتی ہیں یار۔۔ آپ نہیں کہ سکتیں شیریں۔۔ آآ آپ کیسے کسی کے سامنے جا سکتی ہیں۔۔ میرے ساتھ یہ نہیں کریں شیریں۔۔ میں مر جاؤنگا۔۔ یہ خیال میری جان لے لیگا کے کوئی آپ کو اس نظر سے دیکھ رہا ہے۔۔
وہ بےبسی سے کہتا اسکی گود میں سر چھپا رہا تھا۔۔ شیریں کو اپنے ہاتھ بھیگتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔۔
“زوار پلیز۔۔
بےبسی سی بےبسی تھی۔۔ وہ کتنا لاڈلا تھا اسکا۔۔ اسکی کوئی خواہش رد نہیں کرتی تھی وہ۔۔ یہ کیسے دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا اس نے۔۔ آج اسے افسوس کے ساتھ صرف غصّہ آ رہا تھا۔۔
“شیریں۔۔ آپ آپ پلیز نہیں کہیں۔ . اس رشتے سے انکار کر دیں پلیز۔۔ امّاں جان نے کہا کے آپ کی رضا مندی سے ہوا ہے یہ رشتہ۔۔ آپ کیسے کسی اور کے لئے ہاں کہ سکتی ہیں شیریں۔۔ پلیز انکار کر دیں۔۔ میں مر جاؤنگا شیریں۔۔
وہ بےبسی سے تڑپ رہا تھا۔۔
“زوار اٹھو۔۔ زوار اٹھو اور جاؤ یہاں سے۔۔
اپنا لہجہ مضبوط بناتی پوری طاقت لگا کر اسکا سر اٹھاتی وہ سختی سے بولی۔۔
۔
“شیریں آپ اچھا نہیں کر رہیں میرے ساتھ۔۔
وہ بےبسی سے چیخا۔۔
“تم بھی اچھا نہیں کر رہے میرے ساتھ۔۔ رحم کرو مجھ پر۔۔
زبردستی اسے کمرے سے باہر کرتی وہ اندر سے دروازہ بند کرتی بیٹھتی چلی گئی۔۔


جاری ہے
آپ کی تعریف یا تنقید قابل احترام ہوگی۔۔
خوش رہیں پیارے لوگوں۔۔❤