No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
“دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٧
۔
وہ رات کے کھانے کے برتن دھو رہی تھی جب وہ ہلکا سا کھنکھار کر کچن میں داخل ہوا۔۔ اس واقعہ کو دو دن گزر گئے تھے۔۔ اسکی طبیعت بھی اب کافی بہتر تھی۔۔ لیکن وہ اسکے سامنے آنے سے مکمّل گریز کر رہی تھی۔۔ صبح ناشتے کی ٹیبل سے وہ منٹوں میں اٹھ جاتی تھی اور اسکے بعد اسے نظر ہی نہیں آتی تھی۔۔ رات کا کھانا وہ اسکے آنے سے پہلے کھا کر کمرے میں بند ہو جا رہی تھی۔۔ آج اسے کچن میں دیکھ کر وہ لمحے بھر کی دیری کئے بنا خود بھی اس جانب آ گیا تھا۔۔
“کیسی طبیعت ہے اب شیریں ؟۔۔
اسکی بھاری آواز پر اس نے سہم کر پیچھے دیکھا۔۔
وہ کاؤنٹر پر دروازے پر پیر رکھے بیٹھا ہوا تھا۔۔
۔
“ٹھیک۔۔ ٹھیک ہوں۔۔
جلدی جلدی برتن خشک کر کے اسٹینڈ پر سجاتے وہ اپنا لہجہ نارمل رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
۔
“اتنی خوفزدہ کیوں ہو گئیں شیریں۔۔ میں زاوی ہی ہوں۔۔جسے آپ مار بھی دیا کرتی تھیں۔۔ پھر کیوں اس طرح سہم جا رہی ہیں آپ مجھ سے۔۔
وہ پیر نیچے رکھتا کاؤنٹر سے اتر کر اسکے مقابل آ کھڑا ہوا
۔
“تم نے میرے روم میں اس دن ٹیبل توڑ دیا۔۔
وہ نامحسوس انداز میں کچھ پیچھے ہوتی ہوئی بولی۔۔
۔
“تو اس وجہ سے آپ مجھ سے خوفزدہ ہو گئیں ہیں۔۔
زوار نے مسکراہٹ دبا کر اسکی جانب دیکھا۔۔
۔
“میں خوفزدہ نہیں ہوں تم سے۔۔ میں بڑی ہوں تم سے تم بدتمیزی نہیں کر سکتے مجھ سے۔۔
اپنے لہجے کو مضبوط بنائے وہ آنکھیں دکھا کر بولی۔۔ وہ سر کو خم دیتا مسکرا اٹھا۔۔
۔
“آپ خود کو بڑی نا بھی کہیں تو بھی میں آپ کی عزت کرتا ہوں شیریں۔۔ اور وہ بات اب میں ڈائریکٹ اماں جان سے کرونگا۔۔
اس پر ایک نظر ڈال کر وہ کچن سے نکل گیا۔۔
سائیڈ لیمپ کی روشنی میں اس نے وہ کالے جلد والی ڈائری کھولی۔۔ آج ابھی تک وہ اسکے کمرے میں نہیں گیا تھا وجہ صرف یہ ڈائری ہی تھی۔۔ خود میں سمٹی وہ لڑکی ڈائری بھی رکھتی ہے۔۔
وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔
حیرت انگیز طور پر نا کوئی نام درج تھا نا تعارف نا کوئی ڈیٹ۔۔
وہ ڈائری کم اور فوٹو البم زیادہ لگ رہا تھا۔۔ اس پوری ڈائری میں اسکے بچپن کے مختلف مواقعوں پر لی گئیں سدرہ بیگم کی تصویریں تھیں۔۔ جنکے نیچے کلر پنسل سے انھیں اپنی خواہش کے مطابق بنایا گیا تھا۔۔
ابراھیم کو بےاختیار اس پر پیار آیا۔۔
اس نے صفحہ مزید آگے کئے۔۔
کالی سیاہی سے لکھے الفاظ نے اسکی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔۔
۔
“میں تلاش میں ہوں کسی ایسے شخص کے جسے بیلا افضل ملک سے محبت ہو۔۔
جسے کوئی فرق نہیں پڑھتا ہو کے میں دوپٹہ لیتی ہوں یا نہیں۔۔
میں آہستہ آواز میں بات کرتی ہوں یا تیز آواز میں۔۔
جو میرے پاس آئے میرا ہاتھ تھامے اور مجھے دور
کہیں نیلے آسمان کے بار اس الہامی دنیا میں لے جائے۔۔
جہاں جسموں نہیں روحوں کا ملاپ ہوتا ہو۔۔
جو مجھے مسکراتا ہوا دیکھے اور میری آنکھوں سے نمی چن لے۔۔
جو نا بتائے۔۔ اور نا جتائے بس محبت کرے۔۔
جو کہیں۔۔
“آف شولڈز پہننا چاہتی ہو۔۔ ضرور پہنو “۔۔
۔
“آف شولڈز۔۔ پہننا چاہتی ہیں آپ۔۔
گھنی مونچھوں تلے اسکے لبوں پر مسکراہٹ ابھری۔۔ اور پھر مسکراہٹ قہقہے میں بدل گئی۔۔ وہ ہنسا اور پھر ہنستا چلا گیا۔۔کیا تھی وہ لڑکی۔۔ رات کے اس پہر چاندنی کی حسین روشنی میں وہ اس لڑکی کی انوکھی خواہش پر ہنس رہا تھا اور بےتحاشا ہنس رہا تھا۔۔
۔
“آف شولڈز۔۔
وہ ایک بار زیر لب بڑبڑایا۔
“آپ کی خواہشیں بھی آپ کی طرح ہیں انوکھی اور معصوم۔۔
آف شولڈز۔۔ ہاہاہاہا۔۔
وہ زیر لب کہتا ایک بار پھر ہنس رہا تھا۔۔
اس نے مزید پڑھنا شروع کیا۔۔
۔
جسکے کے ہاتھ چھو لینے سے من میں پاکیزگی
اُتر آئے۔۔
جس کے ہونٹوں سے ادا ہوئے لفظ عقیدت کی
طرح کاغذوں پر لکھ کر محفوظ کیے جانے
کے قابل ہوں ۔۔
جسکی آنکھیں اسکی پاکیزہ سوچ کی گواہی
دیتی ہوں۔۔
۔وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔۔ وہ لڑکی واقعی بہت گہری سوچ رکھتی تھی۔۔
اس نے چند صفحے مزید پلٹے۔۔
۔
“کوئی ہے جو مجھے روز پھولوں کے ذریعے احساس دلاتا ہے کے میں کتنی خاص ہوں۔۔ اتنی خاص کے وہ مجھ سے دوستی کا طلب گار ہے۔۔
“بیلا کے پھول “۔۔
دوستی کی علامت ہوتے ہیں نا۔۔ وہ مجھے روز بھیجتا ہے۔۔ ایک دن بھی نہیں چھوڑتا۔۔ روز میرے لئے وقت نکالتا ہے۔۔ دو سال کتنے سارے دن ہوتے ہیں دو سالوں میں۔۔ ہر دن کے پھول۔۔ ہر دن ایک نیا احساس۔۔
اس نے مجھے مجبور کر دیا ہے کے میں اسکے بارے مو سوچوں۔۔ وہ میرے حواسوں پر سوار ہونے لگا ہے۔۔ میں روز اسکا انتظار کرتی ہوں۔۔
میں اسے دیکھنا چاہتی۔۔ اپنے سامنے بیٹھا کر اس سے پوچھنا چاہتی ہوں کے ایسا کیا خاص ہے مجھ میں کے وہ میری دوستی کا طلب گار ہے۔۔
میں اسے بتانا چاہتی ہوں کے میں اسکی محبت کی طلب گار ہوں۔۔
“بیلا افضل ملک ایک انجان ان دیکھے شخص کے محبت کی طلب گار ہے۔۔
مجھے یقیں ہے وہ مجھ سے محبت کرے گا۔۔ اور میں اس سے عشق کرونگی۔۔
اپنی ذات کی ساری محبتیں اس ایک شخص کے حوالے کر دونگی۔۔
“جو میرے اصل سے محبت کرتا ہے ۔۔ مجھ سے محبت کرتا ہے “۔۔
۔
وہ جیسے پڑھتا جا رہا تھا اسکے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔۔ جو اس سے محبت کرتی ہے۔۔ آنکھوں میں ایک چمک سی ابھری۔۔
“میری بیوی مجھے دیکھے بغیر ہی مجھ سے محبت نہیں عشق کرتی ہیں “۔۔
دلکش مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا۔۔
میری بیوی ایک ان دیکھے انسان سے محبت کرتی ہے۔۔ جو اسکی فکر کرتا ہے۔۔ اسکے دن کو خاص بناتا ہے۔۔
وہ “دراب ابراھیم ملک” سے محبت کرتی ہے “ابراھیم ملک ” کی تو وہ شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔۔
وہ کرب سے بول رہا تھا۔۔ آنکھوں کی چمک اور لبوں کی مسکراہٹ اس سوچ کے آتے ہی ختم ہو گئی تھی۔۔
ڈائری بند کر کے۔۔ اس نے گہری سانس لی۔۔
اب اسکا رخ بیلا کے کمرے کی جانب تھا۔۔
ہلکے سے دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔۔ حسب توقع وہ سو رہی تھی۔۔ وہ آہستہ سے اسکے سرہانے بیٹھتے جی بھر کر اسکے دیدار کرتے اپنے پیاسے دل کی تشنگی دور کی۔۔
“بہت مشکل ہوتا ہے آپ کو یوں تھوڑی دیر کے لئے دیکھ کر خود پر بند باندھ لینا۔۔ نا آنکھیں تھکتی ہیں۔۔ نا دل بھرتا ہے۔۔ کچھ انتظام کرنا ہوگا بیلا صاحبہ۔۔
اسکی تھوڑی کے گڑھے پر شدّت سے اپنا لمس چھوڑتے وہ زیر لب بولا۔۔ اسکے شیو کی چبھن محسوس کر کے وہ ہلکا سا کسمسائی رخ پھیر کر پھر سے بےخبر ہو گئی۔۔
اسکے ادھ کھلے لب۔۔ بےخبر وجود۔۔ دل میں جذبات کا جیسے سمندر امڈ آیا تھا۔۔
اس نے دھیرے سے اسکی آنکھوں پر لب رکھے۔۔ پھر اسکے چہرے کے ایک ایک نقش پر بےاختیاری میں اپنا لمس چھوڑتا چلا گیا۔۔ خود پر بھاری وجود کا جھکاؤ محسوس کرتی وہ نیند میں خود کو آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی۔
وہ ہوش میں ہوتا تو محسوس کرتا کے اسکی نیند میں خلل پڑھ چکا ہے۔۔
نیم واں آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کی۔۔ اگلے ہی لمحے اسکے حواس پل بھر میں لوٹ آئے تھے۔۔
۔
“ہٹیں۔۔ پیچھے ہٹیں۔۔ جنگلی وحشی انسان۔۔ اس وقت اتنی رات میں میرے کمرے میں کیا کر رہے ہیں آپ
رات کے اس پہر ابراھیم کو خود پر جھکے دیکھ کر وہ غصّے سے پاگل ہونے والی ہو رہی تھی۔۔ ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کرتی وہ بلند آواز میں چیخ رہی تھی۔۔
وہ پل بھر میں ہوش میں آیا تھا۔۔ اسے یوں اپنے مقابل کھڑے دیکھ سارا خمار اتر گیا تھا۔۔ اسے اپنی غلطی کا شدّت سے احساس ہوا لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔۔
۔
“بتائیں مجھے۔۔ کیا کر رہے ہیں آپ اس وقت میرے کمرے میں۔۔
وہ بلند آواز میں چیختی آنکھوں سے شولے برساتی اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“کیا ہوا بیلا اس طرح کیوں چیخ رہی ہو۔۔ ابراھیم ۔۔ تم یہاں۔۔ بیلا کے کمرے میں کیا کر رہے ہو۔
سدرہ بیگم۔ جو بیلا کی آواز پر اسکے کمرے میں داخل ہوئیں تھیں۔۔ سامنے کھڑے ابراھیم کو دیکھ کر بری طرح چونک اٹھیں۔۔ اپنے مخصوص لباس اور بکھرے بالوں میں موجود بیلا۔۔ انہوں نے دہل کر ابراھیم کی جانب دیکھا۔۔
شور کی آواز پر باقی لوگ بھی آ گئے تھے۔۔
شیریں آنکھیں نکالے دیکھتی معملہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ شیریں کے پیچھے کھڑے زوار کا بھی یہی حال تھا۔۔ افضل صاحب البتہ خاموش کھڑے تھے۔۔
۔
“تم کیوں آئے تھے بیلا کے کمرے میں ابراھیم۔۔
اطہر ملک کی آواز پر اس نے تڑپ کر انکی جانب دیکھا۔۔ وہ تو جانتے تھے سب پھر وہ کیوں اس طرح کہ رہے تھے۔۔
۔
“ابراھیم میرے بچے بھائی صاحب پوچھ رہے ہیں کچھ جواب دو بیٹا۔۔ تم کیوں آئے تھے بیلا کے کمرے میں۔۔
سدرہ بیگم اب بھی بےیقینی سے اسکی جانب دیکھ رہی تھیں۔۔
کوئی جرم نا ہوتے ہوئے بھی وہ مجرم بن گیا تھا۔۔
۔
“پوچھیں امّاں جان اپنے لاڈلے سپوت سے رات کے اس پہر کیوں آئے یہ میرے کمرے میں اور کس کی اجازت سے چھو رہے تھے مجھے یہ۔۔
وہ بلند آواز میں کہ رہی تھی۔۔ ابراھیم نے ضبط سے آنکھیں میچ لیں۔۔ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے بھرے مجمعے میں اسے بےلباس کر دیا گیا ہو۔۔ اور کرنے والی بھی کون تھی۔۔ اسکی محبت۔۔ اسکا لباس۔۔
۔
“بیلا بیٹا۔۔ ہم بیٹھ کر بات کر رہیں ہیں بیٹا۔۔
افضل صاحب نے اسے سمجھانا چاہا۔۔ شاید اب وقت آ گیا تھا کے اسے انکے رشتے کی بابت آگاہ کر دیا جائے۔۔
۔
“بیٹھ کر۔۔ کیا بات کریں بیٹھ کر بابا اس شخص نے اس قدر گھٹیا حرکت کی ہے آپ بیٹھ کر اس سے اکیسپلینیشن مانگے گے۔۔
وہ بے یقینی سے انھیں دیکھتی چیختی ہوئی بولی۔۔
۔
“بیلا۔۔ لیٹ می ایکسپلین دس۔۔ میرا طریقہ غلط تھا۔۔ کک کچھ غلط نہیں ہوا۔۔ ہم جائز۔۔
ضبط سے سرخ ہوتی آنکھوں سے اسے تکتے اسکی آنکھوں میں التجا تھی۔۔ ایک خاموش التجاء کے وہ بھرم رکھ لے اسکا۔۔
اسکا جملہ مکمّل ہونے سے پہلے ہی رات کے سناٹے کو تھپڑ کی گونج نے توڑا تھا۔۔ اپنی پوری طاقت لگا کر وہ اسکے گال پر پوری شدّت سے تھپڑ مار چکی تھی۔۔
“بیلا۔۔
شیریں نے بےاختیار لبوں پر ہاتھ رکھے۔۔ زوار بھی بےیقینی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“میں تو آپ کو صرف ایک بد دماغ شخص سمجھتی تھی۔۔ لیکن آپ تو انتہائی گھٹیا شخصیت کے مالک ایک بدکردار۔۔
۔”بس کریں۔۔
ایک جھٹکے اسکے بازو میں پنجے گاڑھتے وہ دھاڑا تھا۔۔ آنکھیں آگ اگلتی معلوم ہو رہی تھیں۔۔ آنکھوں کے گوشے ضبط کی حد پار کرتے سوج گئے تھے۔۔
اسکی تنی ہوئی رگیں اسکے ضبط کی گواہ تھیں۔۔
۔
“بدکردار نہیں ہوں میں ۔۔ بدکردار ہوتا تو آپ یوں سر بلند کئے میرے چہرے پر تھپڑ رسید نہیں کر رہی ہوتیں۔۔ جائز رشتے میں ہونے کے باوجود بھی میں نے کبھی اپنی حدود پار نہیں کی ۔۔ سچ سنیں اور اب اسے برداشت کریں۔۔ کچھ غلط نہیں کیا میں نے۔۔ اپنی بیوی کے کمرے میں آیا ہوں میں “بیلا ابراھیم ملک “۔۔
اپنی بیوی کو چھوا ہے میں نے۔۔ اور جائز اور شرعی حق رکھتے ہوئے چھوا ہے۔۔
۔
اسکے بازو پر بےدردی سے اپنی گرفت بڑھاتے اس نے خون آشام نگاہوں سے بیلا کو تکتے ہوئے کہا تھا۔۔ اس خبر نے جتنا بڑا جھٹکا بیلا کو دیا تھا۔۔ اس سے کہی زیادہ بڑا جھٹکا سدرہ بیگم کو بھی دیا تھا۔۔
۔
“بہت خوب صلہ ملا ہے مجھے میرے صبر اور برداشت کا بابا۔۔ محبت کے بجائے تھپڑ۔۔ اور بدکرداری کا الزام۔۔
حد سے زیادہ سرخ ہوتی آنکھوں سے اطہر صاحب کی جانب دیکھتے شکوہ کناں لہجے میں کہا۔۔
اسکے لہجے کی تڑپ نے انھیں بھی تڑپا دیا تھا۔۔
۔
” تیاری کریں رخصتی کی۔۔ اگلے ایک ہفتے میں مجھے میری بیوی میرے کمرے میں چاہئیے۔۔
ایک جھٹکے سے اسے بیڈ پر پھینکنے کے سے انداز میں چھوڑتے وہ لمبے لمبے ڈگ بڑھتا کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔
۔
“بیوی۔۔ بیلا ابراھیم ملک۔۔
وہ بےیقینی سے بڑبڑا رہی تھی۔۔
۔
“بابا۔۔ تایا جان۔۔ یہ کک کیا۔ . کیا کہ کر گئے ہیں یہ۔۔
روانی سے بہتے آنسوں کے درمیان کہتی وہ اطہر صاحب کے روبرو آ کھڑی ہوئی۔۔
۔
“یہ کیا کہ کر گئے ہیں تایا جان۔۔
وہ ٹوٹے لہجے میں کرب سے انھیں دیکھتی پوچھ رہی تھی۔۔ اتنی ارزاں تھی اسکی ذات کے وہ شخص پورا حق رکھتا تھا اس پر جس کا لمس بھی اسے آگ کی مانند لگتا تھا۔۔ اپنی بدگمانی میں وہ اسکی نگاہیں بھول گئی تھی۔۔ اسکا ٹوٹ کر بکھرتا لہجہ اسے یاد نہیں تھا۔۔
جاری ہے۔۔
خوش رہیں پیارے لوگوں۔۔❤
