Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40 (Part 1)

“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۴۰
آخری قسط (پارٹ ۱)
۔
ماضی_

۔

گہری سرد راتیں انھیں ہمیشہ خوف میں مبتلا کر دیتی تھی۔۔ آج بھی وہی سرد رات تھی۔۔ وہ منجمد نگاہیں اور بے ترتیب دھڑکن لئے اپنی باہوں میں بےسدھ پڑی اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے۔۔ یہ وہ لڑکی تھی جسے پچھلے دو برس سے انکی نگاہیں لمحہ لمحہ تلاش کرتی تھیں۔۔ جسکے ملنے کی امید معدوم ہوتی اب ختم ہو گئی تھی۔۔ کانپتے ہاتھوں سے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔ وہ تو اسکا نام تک نہیں جانتے تھے۔۔ لیکن دل اسکی اس حالت پر پھٹنے کے قریب تھا۔۔
احتیاط سے اسے بازوؤں میں اٹھاۓ وہ گاڑی کی جانب بڑھے۔۔ بارش مزید شدّت اختیار کر گئی تھی۔۔ برستی بارش میں دھندلی نگاہوں کو بار بار صاف کرتے وہ وقفے وقفے سے اسکی نبض بھی دیکھ رہے تھے۔۔
“ہم۔۔ ہمیں نن نہیں بچائیں۔۔ ہمیں نہیں بچائیں”_
وہ اکھڑتی سانسوں کے درمیان بےربط سے جملے ادا کر رہی تھی۔۔
وہ اسکے لفظوں کو کہاں سن رہے تھے۔۔ وہ تو فقط اسکے ہلتے لب دیکھ رہے تھے جس میں سے نکلتے الفاظ انکی روح کھینچ رہے تھے۔۔
۔
ہمیں نہیں بچائیں پپ پلیز “_
وہ نیم غنودگی میں بارہاں ایک ہی جملہ دوہراتی افضل ملک کی سانسیں تھمنے پر مجبور کر رہی تھی۔۔
یہ لڑکی جو چپکے سے دل کی سلطنت پر قابض ہو گئی تھی۔۔
جسکا وہ نا نام جانتے تھے۔۔ نا پتہ۔۔ لیکن انکی نگاہیں اس چہرے کو پہچانتی تھیں۔۔ یہ چہرہ جسکے بعد انھیں کوئی اور چہرہ نہیں لبها سکا۔۔
وہ اسے لئے ہسپتال آئے تھے۔۔
اسکی حالت کے پیش نظر اسے ایمرجینسی میں لے گئے تھے۔۔
وہ ہسپتال کے ٹھنڈے كاریڈور میں بینچ میں بیٹھے نجانے کیا سوچ رہے تھے۔۔
وہ شادی شدہ تھے۔۔ ایک بچی کے باپ تھے۔۔ لیکن یہ لڑکی جو آج اس حالت میں انھیں ملی تھی۔۔ ان کی روح سے جڑی تھی۔۔
کچھ دیر میں ڈاکٹر نے انکی گود میں نرم نازک سا وہ گل گوتھنا وجود دیا تھا جو انکی جینے کی وجہ بن گئی تھی۔۔
وہ گلابی گڑیا ہو بہو اس لڑکی کا عکس تھی۔۔ “افضل ملک “کا عشق۔۔
انکی محبت۔۔ انکے کرب ہر احساس کی ترجمانی وہی لڑکی ہی تو تھی۔۔
۔
چند گھنٹے بعد اسے روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔۔ وہ اس بچی کو لئے دھیرے سے دروازہ کھولتے روم میں داخل ہوئے۔۔ سامنے ہی وہ بےسدھ سی لیٹی ہوئی تھی۔۔ یہ وہ تو نہیں جسے وہ پچھلے دو برس سے جیتے چلے آ رہے تھے۔۔
اڑتی, مچلتی, اتراتی خوش رنگ تتلی کی مانند۔۔ یہ تو کوئی اور ہی تھی۔۔ گلابی رنگت کی شادابی جانے کہاں گم ہو گئی تھی۔۔
بال بکھرے ہوئے تھے۔۔ چہرے پر جگہ جگہ نشان تھے۔۔
وہ کتنے ہی لمحے اسے تکتے رہے۔۔ اسکی آنکھیں کھولنے کی کوشش انھیں ہوش میں لائی تھی۔۔
۔
وہ بغور انھیں دیکھتی اٹھ بیٹھی تھی۔۔ یکدم ہی شناسائ کی رمق اسکی نگاہوں میں ابھری تھی۔۔
اس شخص کو وہ کیسے بھول سکتی تھی۔۔ جب جب کسی مصیبت میں پھنسی تھی قسمت اسے اسی شخص کے پاس لے آئی تھی ۔۔
۔
“افضل ملک “_ وہ جانتی تھی اس شخص کو۔۔ اس شخص جیسا کوئی ہی تو وہ دعاؤں میں مانگنے لگی تھی۔۔ وہ خاموشی سے بچی اسکی گی میں دیتے اسکے قریب رکھی کرسی پر بیٹھ گئے تھے۔۔ ۔ “اس بچی کو سینے سے لگائے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔ انھیں اس سے کچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی۔۔ اسکی حالت اور اسکا رونا چیخ چیخ کر اسکی داستان بتا رہا تھا۔۔ وہ بے کل سے اسے یوں تڑپ کر روتے دیکھ رہے تھے۔۔ كانپتے ہاتھوں سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔۔ مہربان لمس پاتے ہی وہ مزید بکھرتی چلی گئی۔۔ ۔ “دو سال پہلے بھائی ہمیں جوئے میں ہار گیا۔۔ ہمارا تو کوئی تھا ہی نہیں اس کے سوا اسکی پرواہ بھی نہیں کی اس نے۔۔ ہماری جان چلی جاتی صاحب ہمیں کوئی پرواہ نہیں تھی۔۔ لیکن عزت۔۔۔ نہیں۔۔ عزت نہیں جانی چاہئے تھی۔۔ اور اس رات وہ ۔۔۔ ۔ وہ بری طرح سسک رہی تھی۔۔ وہ تڑپ کر آگے بڑھتے اسے سینے سے لگا گئے تھے۔۔ انکی آنکھوں سے آنسوں اسکے بالوں میں ضبط ہو رہے تھے۔۔ ۔ “ہماری حالت بہتر ہوتے ہی ہم وہاں سے بھاگ گئے تھے۔۔ لیکن اس غلیظ وجود نے پیچھا نہیں چھوڑا ہمارا۔۔ ہم ہمارے ساتھ اس دن جج جو ہوا اس میں اسکا کوئی قصور نہیں ہے ہم جانتے تھے۔۔ لیکن یہ دنیا میں آتی تو اسکے ساتھ بھی وہی سسس سب ہوتا۔۔ اس لئے ہم اس رات گاڑی کے آگے۔۔ وہ لب بھنیچ کر اسکی بات سن رہے تھے اس سے زیادہ سننے کی ہمّت نہیں تھی ان میں۔۔ اسکی بات ختم ہونے سے پہلے ہی وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔۔ “ہم جانتے ہیں آپ کو کوئی دلچسپی نہیں ہوگی ہماری باتوں میں۔۔ ہم بب بس ابھی ہی یہاں سے چلے جائینگے۔۔ جانے وہ اور بھی کیا کچھ کہ رہی تھی۔۔ “آپ کہیں نہیں جائينگی۔۔ ایک گھنٹے میں واپس آ رہا ہوں میں “_
حکمیہ انداز میں اسے کہتے وہ فیصلہ کر چکے تھے۔۔
۔
اس بچی کو لے کر گھر آ کر انہوں نے سدرہ سے بس ایک ہی بات کی تھی۔۔
“میں محبت کرتا ہوں اس سے “_
اور یہ ایک جملہ سدرہ افضل ملک کے دو سال کے بھرم کو چکنا چور کر گیا تھا۔۔ انہوں نے ہر کچھ تو دیا تھا اسے سوائے محبت کے۔۔
انھیں نا غصّہ آیا۔۔ نا نفرت ہوئی۔۔ بس رشک آیا تھا اس لڑکی کی قسمت پر جس سے افضل ملک نے محبت کی تھی۔۔
وہ افضل ملک کو بتا نہیں پائی کے محبت تو وہ بھی کرتی ہے۔۔ بے انتہا محبت کرتی ہے اپنے شوہر سے۔۔
افضل ملک نے اس لڑکی سے نکاح کرنے کی اجازت مانگی تھی اور وہ اجازت سدرہ افضل ملک نے اپنی محبت کا قتل کر کے دی تھی۔۔
انکی گود میں موجود بچی انھیں افضل ملک کی عشق کی نشانی لگی تھی اور افضل ملک نے انکا شک دور نہیں کیا تھا۔۔
“انھیں افروز احمد کا بھرم رکھنا تھا۔۔ اپنی محبت کو وہ بار بار ٹوٹتے نہیں دیکھ سکتے تھے اس لئے انہوں نے سدرہ افضل ملک کی محبت کا بت پاش پاش کر دیا تھا “__
محبت بھی تو عجب ہے نا۔۔ محبوب پر ایک خراش بھی برداشت نہیں ہوتی۔۔ ان دونوں نے ہی اپنی اپنی محبت کا دم بھرا تھا۔۔
۔
اطہر ملک کو انہوں نے یہی کہا تھا کے ان سے کچھ نا پوچھا جائے۔۔ انکی حالت دیکھ کر اس روز اطہر ملک نے بھی کچھ نہیں پوچھا تھا۔۔
۔
اسی رات وہ فیروز احمد کو اپنے نام کی چادر دے کر اسکے ہر راز کو اپنے اندر دفن کر گئے تھے۔۔


وہ تو اب تک قسمت کے اس کھیل پر حیران تھی۔۔ وہ اسے اسکی بیٹی کے ساتھ دو کمروں کے ایک خوبصورت آپارٹمنٹ میں کے آئے تھے۔۔ جس شخص نے دو سال پہلے اس کا نام تک پوچھنے کی زحمت نہیں کی تھی آج ایک گھنٹے میں وہ اسے اپنے نکاح میں لے چکا تھا۔۔
شاید ہمدردی میں یا ترس کھا کر _ اس سے زیادہ وہ نہیں سوچ پا رہی تھی۔۔ اس سے زیادہ وہ سوچتی بھی کیا۔۔ وہ سوچوں میں گم تھی جب افضل ملک اسکی اور بیلا کی ضرورت کی ڈھیروں چیزیں لئے داخل ہوئے تھے۔۔ وہ حیرانی سے اتنا سب کچھ دیکھ رہی تھی جسے وہ اب بیڈ پر رکھ کر بیلا کو گود میں اٹھا رہے تھے۔ یہ نام بھی انہوں نے اسکی بچی کو دیا تھا۔۔ “بیلا کے پھولوں جیسی خوبصورت بیلا افضل ملک ” انکے ساتھ ایک چھوٹی سی گندمی رنگت اور خوبصورت نقوش کی بچی کو دیکھ کر وہ مسکرائی۔۔ افضل ملک نے آج پہلی بار اسے مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔۔ تھوڑی کا وہ گڑھا اسکے ساتھ مسکراتا تھا۔۔ “شیریں بیٹا بہن سے ملو “_
انکی بات پر اسکی مسکراہٹ مزید بڑھی تھی۔۔ پچھلے دو دنوں میں انہوں نے ایک بات اسے اچھے سے باور کروا دی تھی اور وہ یہ تھی کے “بیلا ” انکی بیٹی ہے۔۔ “بیلا افضل ملک ” ہے۔۔
۔
“بب بابا یہ تو گڑیا ہے ۔۔ یہ میری ہے ؟”
وہ معصومیت سے اپنے بابا کے گود میں اس گلابی گڑیا جیسی بچی کو دیکھ رہی تھی۔۔ جو اسے دیکھتی اب آوازیں نکال رہی تھی۔۔
۔

“جی میری جان۔۔ یہ شیریں کی گڑیا ہیں۔۔ اور گڑیا کا نام بیلا ہے “_
انہوں نے نرمی سے اسکے چہرے کو دیکھتے ہوئے سمجھایا ۔ جس پر وہ سر ہلا رہی تھی۔۔
۔
افروز بنا کچھ بولے انہیں دیکھتی رہی جس پر وہ گہرا سانس لیتے اسے باہر آنے کا اشارہ کرتے باہر چلے گئے ۔
۔
“یہ میری بیٹی ہے شیریں۔۔ انہوں نے جیسے اسے مطلع کیا تھا۔۔
۔
“جانتی ہوں “_
Afroz انہیں دیکھتی رہی جس پر وہ دھیمے سے مسکرائے ۔
پھر جھکے اسکا ہاتھ ہونٹوں سے لگا کر وہ سیدھے ہوئے ۔
۔
“بلکل اسی طرح جس طرح بیلا میری بیٹی ہے۔۔ میں نے آپ کو ترس کھا کر یا ہمدردی میں نہیں اپنایا افروز۔۔ آپ میری خواھش بن گئیں تھی جسے اللّه نے پورا کر کے مجھے نوازہ ہے۔۔ جو ہوا اسے بھولنا بہت مشکل ہے لیکن اب میرے لئے۔۔ بیلا کے لئے زندگی کی جانب لوٹ آئیں افروز۔۔ یقین کریں میں آپکو جینا سیکھا دونگا “_
وہ کہتے ہوئے چلے گئے ۔
پیچھے وہ نمی لیے آنکھوں سے انکی پشت دیکھتی رہی ۔
۔


۔
اور انہوں نے اپنا کہا پورا کر دکھایا تھا۔۔ کچھ ہی عرصے میں انہوں نے اسے اتنی محبت دی تھی کے وہ زندگی کی جانب لوٹ آئی تھی۔۔ افروز احمد سے اپنا عشق انہوں نے نبھایا تھا اور کیا خوب نبھایا تھا کے وہ اپنی قسمت پر نازاں تھی۔۔۔ شیریں۔۔ ابراھیم۔۔ زوار وہ سب کو اس سے ملوانے لاتے تھے۔۔ اطہر ملک سے بھی اکثر اسکی ملاقات ہو جاتی تھی۔۔ ہاں سدرہ سے وہ ایک بار اسکی ہی خواھش پر ملوانے لے کر گئے تھے ۔۔
۔
سدرہ نے افروز کے ساتھ کوئی برا سلوک نہیں کیا تھا وہ اس طرح ملی جیسے کوئی مہمان ہو۔۔ بہت خلوص سے۔۔
لیکن اس رات انہوں سدرہ کو تڑپ کر روتے دیکھا تھا۔۔ اسکے بعد وہ افروز کو کبھی سدرہ کے سامنے نہیں لے کر گئے۔۔
۔
وہ جانتے تھے سدرہ زبان پر شکوہ نہیں لاتی لیکن اسکی اآنکھیں وہ تکلیف عیاں کر دیتی تھی۔۔
سدرہ اس دوران اس سے پوری طرح قطع تعلق ہو چکی تھیں۔۔ انکے دل میں ایک پھانس سی چبھ گئی تھی۔۔ وہ خاموشی سے انکے تمام فرائض پوری کرتیں خاموشی سے انکی زندگی سے دور ہوتی چلی جا رہی تھیں۔۔
وہ ان دونوں میں انصاف رکھتے تھے۔۔ ایک لمحہ بھی انہوں نے افروز کو سدرہ سے زیادہ نہیں دیا لیکن محبت تمام افروز کے ہی حصّے میں آئی تھی۔۔
ایسا نہیں تھا کے انکا برتاؤ سدرہ کے ساتھ غلط تھا وہ انکے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرتے تھے۔۔
لیکن محبت کے معملے میں بے بس تھے۔۔
سدرہ کو ان سے محبت کے سوا کچھ درکار نہیں تھا۔۔
۔
وہ تیار ہو کر باہر آئی تو وہ گاڑی سے ٹیک لگائے اسکی کے انتظار میں تھے ۔
وہ اسکے لیے گاڑی کا ڈور کھولتے اسے بٹھا کر آ کر گاڑی میں بیٹھے ۔
گاٰڑی کی سپیڈ بہت تیز تھی جس سے تیز ہوا گاڑی کی کھلی ونڈو سے اندر آ رہی تھی ۔
ایسی ٹھنڈی ہوا جو بندے کو کپکپا کر رکھ دیتی۔
لیکن وہ ہوا کو اپنے اندر محسوس کرتے ہوئے مسکرائی اسے اچھی لگ رہیں تھیں یہ ٹھنڈی ہوائیں ۔
انہوں نے محبت سے سے اسے دیکھا ۔
۔
وہ اسے لیے پارک میں آ گئے ۔
پارک میں صبح کے وقت رش نا ہونے کے برابر تھا ۔
“جانتی ہیں آپ میرے لئے ان ہواؤں جیسی ہیں۔۔ بہت محصور کن۔ . بہت خاص۔۔ آپ کے ساتھ ہوتا ہوں تو وقت پر لگا کر گزر جاتا ہے۔۔ لمحہ لمحہ تھام لینے کو جی چاہتا ہے۔۔
انہوں نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہا ۔
افروز نے اپنے ہاتھ کو دیکھا جو انکے ہاتھ میں چھپ سا گیا تھا اس کا دل دھڑکتا تھا انکے یوں اظہار کرنے پر۔۔
وہ اسکی نظروں کے ارتکاز پر مسکرائے۔۔
۔


۔
زندگی کے وہ حسین دن جنہیں وہ تھام لینا چاہتے تھے وہ ہوا کی سی تیزی سے گزرتے چلے گئے۔۔
افروز دن با دن کمزور ہوتی جا رہی تھی۔۔ اسے قلق تھا ۔۔ سدرہ سے اسکی محبت چھین لینے کا قلق۔۔ وہ خود کو قصوروار سمجھتی تھی۔۔ اور یہ پچھتاوا۔۔ یہ دکھ اسے اندر ہی اندر کھاتا چلا جا رہا تھا۔۔
افضل ملک کی محبت جتنی شدید ہوتی جا رہی تھی۔۔
اسکا دکھ اتنا ہی بڑھتا جا رہا تھا۔۔
نجانے کیا کہ کر اس نے اطہر ملک کو راضی کیا تھا کے وہ اسکی بیلا کا نکاح اپنے شہزادے سے کر دیں۔۔
اپنی زندگی میں وہ ابراھیم ملک کے ہاتھوں میں اپنی بیلا تهما گئی تھی۔۔
۔
اس رات وہ بہت خوش تھی۔۔ اسکی بیٹی کو اس نے محفوظ کر دیا تھا۔۔
“اب خوش ہیں آپ ۔۔ کر دیا آپ نے میری چھوٹی سی گڑیا کا نکاح “_
اس پر کمبل درست کرتے وہ اسکے بانہوں میں لئے محبت سے اسے تکتے ہوئے بولے۔۔
“بہت خوش ہیں “_
وہ انکے سینے پر سر رکھتی دھیرے سے بولی۔۔
۔
“ہمیں آپ کی یہ قربت۔۔ آپ کی مہک بہت پسند ہے افضل۔۔ ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ اس مہک کے ساتھ جینا چاہتے ہیں افضل۔۔ آپ کے بازؤں میں آپ کی یہ سانسیں خود پر محسوس کرتے دم توڑ دینا چاہتے ہیں “_ انہوں نے خفگی سے اسے دیکھا۔۔ وہ انکی جان نکال رہی تھی۔۔ ۔ “اچھا نا معاف کر دیں “
لاڈ سے کہتی وہ انکے چہرے کے ہر ہر نقش کو چومتی انھیں حیران کر رہی تھی۔۔ تین سالوں میں اس نے پہلی بار یہ جرات کی تھی__
۔
اس حسین رات کی صبح خوش گوار ہر گز نہیں تھی۔۔ فجر کی نماز اس نے انکے ساتھ ہی پڑھی تھی ۔۔ وہ بیلا کو لے کر تلاوت کرنے لگے تھے جب کے وہ اسے ڈھیر سارا پیار کرنے کے بعد آرام کی غرض سے لیٹ گئی تھی۔۔
کافی دیر بعد بیلا کے اسکے پاس آنے کی ضد پر انہوں نے اسے آواز دی۔۔
اسکے گیلے بال انکے ہاتھوں میں تھے۔۔ اسکی آنکھوں پر لب رکھتے انہوں نے دھیرے سے اسے جگانے کی کوشش کی۔۔
مگر افروز احمد کبھی نا جاگنے کے لئے ابدی نیند سو چکی تھی۔۔
اپنی محبت سے انکا وجود لبریز کر کے۔۔ اپنے تمام راز انکے سینے میں دفن کر کے۔۔ اپنی زندہ نشانی انکے حوالے کر کے وہ منوں مٹی تلے جا سوئی تھی۔۔ لیکن اس سے پہلے وہ اپنے راز میں کسی اور کو بھی شریک کر چکی تھی۔۔
۔
“دراب ابراھیم ملک ” کو ، جو گواہ تھا افروز احمد اور افضل ملک کے عشق کا۔۔ جو راز دار تھا افضل ملک کا۔۔ افروز احمد کا۔۔ اور اب “بیلا ابراھیم ملک ” کا۔۔



۔
اذان کی آواز پر اس نے آنکھیں صاف کی تھیں۔۔ افروز احمد کی وہ نشانی ان دونوں کو ہی بہت پیاری تھی۔۔ “بیلا ابراھیم ملک ” میں جان بستی تھی افضل ملک کی۔۔ اس سے سانسیں جڑی تھیں “دراب ابراھیم ” کی۔۔

صبح کسی میٹھے سے لمس سے اسکی آنکھیں کھلی۔۔ دھیرے سے پلکیں واں کرتی وہ مسکرائی۔۔ یہ لمس وہ پہچانتی تھی۔۔
۔
“نماز پڑھ لیں “_
اسے اپنی جانب دیکھتے پا کر اسکی پیشانی چومتا وہ دھیرے سے بولا۔۔
وہ اثبات میں سر ہلاتی اٹھ بیٹھی۔۔
اسے نماز پڑھتے دیکھ وہ خاموشی سے کمرے سے نکل گیا۔۔
کچھ دیر بعد وہ واپس آیا تو اسے ہنوز جائے نماز پر بیٹھی دیکھ اسکی جانب چلا آیا۔۔
آج بھی وہ دعا نہیں کر رہی تھی۔۔ اس نے کبھی اسے اللّه سے مانگتے نہیں دیکھا تھا۔۔ وہ نماز پڑھنے لگی تھی۔۔ لیکن دعا۔۔ نہیں وہ دعا نہیں مانگتی۔۔ اسکا دل اللّه سے کبھی اللّه کی طلب نہیں کرتا تھا۔۔
۔
“اللّه سے مانگنا شروع کر دیں بیلا “_
اس نے نرمی سے کہا۔۔ وہ زخمی سا مسکرائی۔۔ وہ جانتی تھی وہ ہمیشہ ہی تو اسے یہ جملہ کہتا تھا۔۔
۔
“میری ماں جسے میں سب سے زیادہ محبت کرتی ہوں وہ میری نہیں ہے۔۔ نا میرا وجود برداشت کر سکتی ہے۔۔ وہ شخص جو اتنے سالوں سے میرا باپ ہے وہ میرا باپ نہیں ہے۔۔ میری ماں نے مجھے ناجائز کہ دیا۔۔
میرا دل بلکل خالی ہو چکا ہے اللّه پاک تو جانتے ہیں۔۔ ان کی مرضی کے خلاف تو کچھ نہیں ہوتا۔۔ یہ سب بھی ان کی مرضی سے ہی میرے ساتھ ہو رہا ہے۔۔ مجھ میں سکت نہیں ہے اللّه پاک۔۔ مجھ میں مزید کی سکت نہیں ہے۔۔ ہے سانسیں چبھنے لگی ہیں مجھے۔۔ روح پر لگے زخم جسم کو بھی گهایل کر چکے ہیں “_ آنسوں تواتر سے آنکھوں سے بہ رہے تھے۔۔ وہ پیچھے سن سا کھڑا اسکی باتیں سن رہا تھا۔۔ وہ اب بھی اپنے وجود سے نالاں تھی۔۔ اللّه سے۔۔ اپنے رب سے بدگمان تھی۔۔ سکوں کیسے پا سکتی تھی۔۔ ۔ اسکی نظریں خود پر محسوس کرتی وہ آنکھیں صاف کرتی جائے نماز ٹیبل پر رکھتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ ہمیشہ کی طرح ابراھیم ملک کی چادر میں لپٹی وہ اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔ ۔ “یہاں آئیں میری بات سنیں”_
اسے شانوں سے تھامتا وہ صوفہ پر بیٹھا۔۔ وہ خاموشی سے اسکے پہلو میں آ بیٹھی۔۔
۔
“قرآن پڑھی ہے نا آپ نے ؟”
اسکے سوال پر اس نے خاموشی سے اثبات میں گردن ہلائی۔۔
“ان ربی لسمیع الدعا”۔
(سورہ ابراہیم, آیت : 39)
“بے شک میرا رب دعا سننے والا ہے۔”
اس نے دھیرے سے آیت پڑھی تھی۔۔ وہ سن سی بیٹھی اسے سن رہی تھی۔۔
“وہ تو خود کہتا ہے بیلا کے وہ دعا سننے والا ہے۔۔ وہ آپ کی باتیں۔۔ آپ کی آہیں۔۔ آپ کی آواز سنتا ہے بیلا۔۔ وہ آپ کو اپنی جانب بلا رہا ہے۔۔
۔
“نہیں سنتا وہ میری باتیں “__
وہ بھرائی آواز میں بولی۔

” اس نے مجھے میری مما نہیں دی۔۔ آپ جانتے ہیں میری محبت میری ماں نہیں دے رہا مجھے۔۔ اتنی محبت کرتا ہے مجھ سے تو کیوں نہیں دیکھ رہا میری تڑپ۔۔ آپ دیکھ رہے ہیں نا میں تڑپ رہی ہوں مما کے لئے۔۔ وہ کیوں نہیں دیکھ رہا ابراھیم۔۔ وہ کیوں نہیں دیکھتا۔۔
دعا کر رہی ہوں۔۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ دعا آسمان تک نہیں پہنچ رہی, کوئی رکاوٹ ہے یا اسے کوئی نہیں سنتا۔۔ ہاتھ تھک گئے ہیں ساتھ دل بھی تھک گیا ہے۔۔ اسے سکوں نہیں مل رہا ابراھیم “_ ۔ وہ اسے سنتا مسکرایا۔۔ جیسے کسی بچے کے معصوم سے شکوے پر مسکرا رہا ہو۔۔ ۔ “کبھی اللّه کی دی نعمتوں پر غور کیا ہے بیلا۔۔ وہ تو وہ بھی دے دیتا ہے جو آپ نہیں مانگتیں بیلا۔۔ امّاں جان کی محبت میں آپ اللّه کی محبت سے نالاں ہو گئیں ؟ آپ نے تو دل کو سرائے بنا دیا بیلا۔۔ اسکے لئے جسکا یہ مکان ہی نہیں۔۔ یہ تو اللّه کا گھر تھا بیلا۔۔ اس میں تو اللّه تو رہتا ہے۔۔ “دل کرائے کے لئے خالی کوئی مکان ” نہیں ہوتا جس میں دنیا ٹھہر جائے۔۔۔ اللّه کے گھر میں کسی اور کو ٹھہرائینگی تو سکوں کیسے حاصل ہوگا میری جان “_
۔
اس نے دھیرے سے اسکا آنسوں سے تر چہرہ اٹھایا۔۔ آنسوں تواتر سے گر رہے تھے۔۔ تھوڑی کے خم پر موجود بوند کو لبوں سے چنتے اسے ساتھ لگایا۔۔
۔
“ایسا ہوتا ہے دعا میں رکاوٹ بھی آ سکتی ہی, دیر بھی ہو سکتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ اللّہ آپ کی دعا نہیں سن رہا۔۔ وہ بس غافل دل کی دعا نہیں سنتا بیلا۔۔ ہم اپنی دعا میں غفلت پتا ہے کب کرتے ہیں ؟
۔
وہ اسکے سینے میں چہرہ چھپائے نفی میں گردن ہلا گئی۔۔
۔
“وہ جو اس مکان کا مالک ہے۔۔ دعا اس سے لاڈ سے مانگی جاتی ہے, یقین رکھ کر کیونکہ اور تو کوئی نہیں دے سکتا نا اللّہ ہی دے سکتا۔۔ وہ پیار جو آپ اماں جان سے مانگتی رہیں آپ نے اللّه سے اس محبت کا سوال کیوں نہیں کیا بیلا۔۔ ؟
اسکے سوال پر وہ مزید بری طرح رونے لگی۔۔ سچ ہی تو کہ رہا تھا وہ۔۔ اس نے اللّه سے کب مانگا۔۔ سدرہ سے انکی محبت کے لئے تڑپتی رہی۔۔ اللّه سے تو سوال ہی نہیں کیا۔۔ آج وہ اسے آئینہ دکھا رہا تھا تو اسکا دل دھڑکنے سے انکار کر رہا تھا۔۔
“اللّه سے دعا کرنا تو بہت آسان ہے۔۔ اس سے لاڈ کرنا اور بھی آسان ہے بیلا۔۔ اللّه سے دعا کریں تو پختگی اور اصرار سے سوال کرے اور بڑی رغبت کا اظہار کرے کیونکہ دینے کے لئے اللّہ کے لئے کوئی چیز بڑی نہیں ہے۔۔
یہ تو یقین کی حد ہے نا میری جان ؟ اللّہ کے لئے کیا مشکل ہے کوئی چیز دینا؟؟
اسکے سینے میں سر چھپائے وہ پھر سے نفی گردن ہلاتی مزید شدّت سے رو رہی تھی۔۔ وہ اسے خاموش نہیں کروا رہا تھا۔۔ وہ جانتا تھا یہ آنسوں ندامت کے آنسوں تھے۔۔ انھیں بہ جانا چاہئے تھا۔۔
۔
“انہوں نے تو کُن کہنا ہے اور آپکا کام ہوجانا ہے”_
وہ اثبات میں گردن ہلاتی اسکی چادر میں گھس رہی تھی۔۔ ابراھیم کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری۔۔ اسکی خوشبو کتنا خوبصورت احساس اسکے گرد بکھیر رہی تھی۔۔
۔
” اپنی پہلی فوقیت اللّہ کو رکھیں… ہر چیز میں اور ہر ایک کے سامنے…
اللّہ سنتا ہے, بے شک سنتا ہے”_
۔
“آپ نے کچھ مانگا ہے کبھی اللّه سے “_
اسکی چادر پر انگلی پھیرتی وہ دھیرے سے بولی۔۔
۔
“میں نے اللّه سے محبت مانگی ہے۔۔ اپنا ایمان مانگا ہے۔۔ اپنے ایمان کو مکمّل کرنے کی دعا مانگی اور اس نے میرا ایمان مکمّل کر دیا۔۔ آپ میرے ایمان کا حصّہ ہیں بیلا جسے میں نے راتوں کو اٹھ کر نمازوں میں اس رب سے مانگا ہے۔۔ جس وقت آپ کی گہری سیاہ آنکھوں میں سیاہ بدلیوں سا وحشت ناک کرب رقصاں تھا۔۔ تو مجھے اس کرب سے بھی محبت تھی۔۔
آپ سمجھ رہی ہیں ناں ؟
اسکی کالی آنکھوں میں جھانکتے اس نے دھیرے سے پوچھا۔۔
ان آنکھوں میں آج کرب نہیں تھا۔۔ عشق تھا۔۔ محبت تھی۔۔ ابراھیم ملک کی محبت۔۔
“اور آج جب ان آنکھوں میں میری محبت کے رنگ ہیں تو مجھے ان رنگوں سے عشق ہے “_
وہ مسکرائی۔۔
“آپ کو بیلا ابراھیم ملک سے عشق ہے “_
اس نے سر کو خم دیتے گویا تسلیم کیا تھا۔۔ وہ غلط تو نہیں کہ رہی تھی۔۔ اسے محبت تھی۔۔ بیلا سے۔۔ اسکی خوشبو سے۔۔ اسکی آنکھوں سے۔۔ اسکی مسکراہٹ سے۔۔ ان اٹھتی گرتی رقص کرتی پلکوں سے۔۔ اسکی تھوڑی کے اس خم سے۔۔
وہ مسکرایا۔۔
اور وہ اسکی مسکراہٹ میں کہیں کھو سی گئی تھی۔۔
“کمبخت مسکراتا کتنا پیارا ہے “_
اسکے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔۔ اظہار اس نے آج بھی نہیں کیا تھا۔۔ اس کے لئے ابراھیم ملک کو مزید انتظار کرنا تھا__


“شیریں _ وہ بیڈ كراون سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھی تھی۔۔ اسکی آواز پر اسے دیکھنے لگی۔۔ بلیک ٹراؤزر پر بلیک ہی شرٹ پہنے۔۔ بالوں کو اوپر کی جانب سیٹ کئے وہ اسکی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔۔ ۔ “شیریں_ طبیعت ٹھیک نہیں ہے کیا ؟”
گال پر نرمی سے ہاتھ کی پشت پھیرتے وہ نرم لہجے میں بولا۔۔
کچھ دیر پہلے ہی وہ ناشتہ کے بعد کمرے میں آئی تھی۔۔ اس واقعے کو آج چار دن ہو گئے تھے۔۔ سدرہ بیگم کمرے سے نہیں نکلی تھیں۔۔ باقی سب بھی خاموشی سے ناشتہ کر کے آفس کے لئے نکل گئے تھے۔۔ بیلا کو ابراھیم نے کمرے میں ناشتہ کروا دیا تھا۔۔
۔
“ٹھیک ہوں۔۔
وہ زبردستی مسکرائی تھی۔۔ آج صبح سے ہی اسکے سینے میں درد تھا۔۔
لیکن جو حالات گھر کے تھے وہ مزید کوئی پریشانی نہیں چاہتی تھی۔۔
۔
“میڈیسن لی آپ نے ؟”
اس کی حالت کے پیش نظر وہ نرمی سے بولا۔۔
۔
“میڈیسن لے لی ہے۔۔
وہ دھیرے سے آگے کی جانب ہوتی اسکے زانوں پر سر رکھ گئی۔۔
وہ چند لمحے ساکت سا بیٹھا رہ گیا۔۔ وہ پہلی بار یوں خود اسکے قریب آئی تھی۔۔
۔
“شیریں۔۔ کیا ہوا وائفی ؟”
اسکے نازک وجود کو بازؤں میں بھرتے بالوں پر لب رکھتے وہ محبت سے بولا۔۔بیماری کی وجہ سے اسکے بال کافی کم ہو گۓ تھے۔۔ وہ پہلے سے کافی زیادہ کمزور ہو گئی تھی۔۔
۔
“زندگی موت تت تو اللّه کے ہاتھ میں ہے۔۔ پپ پر اگر اس بیماری کے باعث میری موت لکھی ہے تو اس بیماری سے ہی آئیگی۔۔ تت تم پریشان نہیں ہو اس طرح۔۔ مم مجھے نہیں اچھا لگتا “_
وہ اسکی گود میں سر رکھے اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھرتی محبت سے بولی۔۔
۔
“شیریں “_ اس نے تنبیہ کرتی نظروں سے اسے دیکھا۔۔ جو اب بھی آنکھوں میں چمک لئے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ اسکے مزید کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ دھیرے سے ہلکا سا اٹھتی بلیک شرٹ سے جھلکتے سفید سینے پر دل کے مقام پر لب رکھتی اسے ساکت کر گئی تھی۔۔ کئی لمحے وہ کچھ کہنے کے قابل نہیں رہا تھا۔۔ جبکے وہ اپنے عمل پر خود ہی حیا سے سرخ ہوتی رخ موڑ کر تکیے میں منہ چھپا گئی تھی۔۔ زوار کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔ اس عمل کے لئے اس نے کتنی ہمّت کا مظاہرہ کیا ہے وہ جانتا تھا۔۔ “میری طرف دیکھ تو لیں “
اس نے دھیرے سے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔
۔
“زاوی۔۔ پپپ پلیز۔۔ تم تنگ کر رہے ہو مم مجھے ؟”_
۔
“میں کچھ نہیں کر رہا “_
اسکا سر دوبارہ اپنے زانوں پر رکھا ۔۔ ناک کی نوک پر لب رکھتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
۔
“زوار ملک کی سانسیں ہیں آپ “_
اسکے چہرے کو نظروں سے چھوتا وہ دھیرے سے بولا تو وہ نم آنکھوں سے مسکرا اٹھی۔۔
“ہسپتال نہیں لے کر جانا مم مجھے زاوی۔۔ پپ پلیز۔۔ کک کچھ بھی ہو جائے۔۔ اپنے پاس رکھنا۔۔ مجھے وحشت ہوتی زندگی ہارتے لوگوں کو دیکھتے۔۔ ناامید ہوتی انکی نگاہوں سے خوف آتا ہے مجھے”_
وہ واقعی خوفزدہ تھی۔۔
۔
“علاج بھی تو کروانا ہے نا آپ کا شیریں۔۔ میں آپ کے ساتھ ہوں پھر بھی وحشت زدہ ہونگی آپ ؟”
اسکی ناک کی لونگ کو انگلیوں سے چھوتا وہ نرمی سے بولا۔۔
۔
“تت تم اپنے ساتھ دد دور کسی صحرا میں بھی لے چلو۔۔ مجھے نخلستان سے زیادہ سکون ملے گا۔۔
اسکی ہاتھ سے کھیلتی وہ یقین سے بولی تھی۔۔
۔
“تو بس یقین رکھیں مجھ پر۔۔ کبھی اکیلا نہیں چھوڑونگا آپ کو۔۔ ہر مشکل میں ساتھ کھڑا پائینگی آپ مجھے “_
وہ اپنے دھن میں بول رہا تھا ہاتھوں میں گرم سیال جیسا محسوس ہونے پر حیرانی سے اپنے ہاتھ کی جانب دیکھا۔۔ اپنا ہاتھ خون سے بھرا دیکھ اسے شدید جھٹکا لگا تھا۔۔
۔
“شیریں_ شیریں آنکھیں کھولیں میری جان “
اسکے ناک سے بھل بھل خون بہتا اسکے ہاتھ سرخ کر رہا تھا۔۔
۔
“بب بہت درد۔۔ درد ہو رہا ہے “_
وہ اکھڑتی سانسوں کے درمیان بولتی اسکے سینے میں منہ چھپا رہی تھی۔۔
وہ اسے بازؤں میں بھرے تیزی سے دروازے کی جانب بڑھا تھا۔۔


۔
وہ اسکے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھا سامنے بےسدھ پڑی اپنی زندگی کو دیکھ رہا تھا۔۔ دو گھنٹوں سے وہ بےہوش تھی۔۔صبح سے رات ہو گئی تھی۔۔ ڈاکٹر نے ایک دن بعد اسکے سرجری کی ڈیٹ دی تھی۔۔
۔
اسے کچھ نہیں ہوگا نا ؟”۔
وہ بچوں کی مانند اسکے بازوں میں چہرہ چھپائے روتی ہوئی بول رہی تھی۔۔
“بیلا ابھی ہوش آجائے گا اسے میری جان۔۔
ابراھیم ساتھ لگائے کھڑا تھا۔۔ زوار کے کال کرنے پر وہ بیلا کو ساتھ لئے ہسپتال آیا تھا۔۔ پاس ہی سدرہ بیگم اور اطہر ملک بھی کھڑے تھے۔۔ افضل ملک خاموشی سے بینچ پر سر جھکائے بیٹھے تھے_
۔
“بب بیلا۔۔
نحیف سی آواز پر بیلا کے ساتھ زوار بھی اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔ بیلا لمحے میں اسکے قریب ہوئی تھی۔۔
۔
“میں بلکل ٹھیک ہو جاؤنگی”۔
بیلا کے بالوں پر لب رکھتی وہ معصومیت سے بولی۔۔ جو اسکے ہاتھ لبوں سے لگائے اسے تک رہی تھی۔۔ حقیقت چاہے کچھ بھی ہو شیریں اسکی بہن تھی سب سے بڑی حقیقت یہی تھی۔۔
۔
نرس کمرے میں داخل ہوئی تو ابراھیم بیلا کو لئے باہر چلا گیا۔۔ ڈرپ اسکے بازوؤں میں لگانے کے بعد وہ نوسٹلرز لئے اسکی جانب بڑھی تھی۔
۔
“آپ میری سانسیں ہیں شیریں “_
“آپ کی ناک بہت پیاری ہے “_
زوار کے کہے جملے اسکی سماعت میں گونج رہے تھے۔۔ میٹھا سا لمس ناک کی نوک پر محسوس ہو رہا تھا جن پر پیار کر کے وہ اکثر اسے محسوس کرواتا تھا کے اسکی ناک بہت پیاری ہے۔۔ اس نے تڑپ کر زوار کی جانب دیکھا۔۔ پھر ناک کے پاس دو نالیاں لاتی نرس کو دیکھتی وہ کچھ نا بول کر بھی اسے بہت کچھ سمجھا گئی تھی۔۔
۔
“مم مجھے اسکی نہیں۔۔ اسکی ضرورت نہیں ہے “_
نرس حیرت سے اس پاگل سرپھری لڑکی کو دیکھ رہی تھی۔۔ جیسے اسکی دماغی حالت پر شبہ ہو۔۔
۔
“میم یہ ضروری ہے۔۔
اس نے نرمی سے سمجھانا چاہا۔۔
“نن نہیں۔۔ مجھے نہیں لگوانا ہے “_
وہ ضدی لہجے میں بولتی ناک سے نالیاں کھینچ کر پھینک چکی تھی۔۔ “میم پلیز۔۔ ہمیں پلیز اپنا کام کرنے دیں۔۔
اب کی بار اس نرس نے سختی سے کہا تھا۔۔
۔
” میری بیوی سے اس طرح بات کرنے کی اجازت کسی کو نہیں ہے۔۔ نیکسٹ ٹائم پلیز بی اویئر”_
سنجیدگی سے کہتا ساتھ ہی وہ شیریں کے ہاتھ تھام چکا تھا۔۔
“کیا ہوا ؟”
نرم مگر سنجیدہ لہجے میں سوال کیا گیا تھا۔۔
۔
“میں نن نہیں لگوانا چاہتی”_
اکھڑی سانسوں کے درمیان آنسوں ضبط کرتی وہ دھیرے سے بولی۔۔ اسے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی۔۔ زوار نے گہری سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھا۔۔ وہ اس کی جانب نہیں دیکھ رہی تھی۔۔ وہ نا بھی بتاتی تو وہ جانتا تھا وہ کیوں نہیں لگوا رہی۔۔
“سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہے نا “_
اسکا رخ اپنی جانب کرتے وہ نرم لہجے میں بولا۔۔
“تت تم نے کہا تھا میں تمہاری سانسیں ہوں۔۔ پپ پھر اب کیوں یہ سب کر رہے ہو زاوی۔۔ تم بھی نہیں سمجھ رہے مجھے یہ نہیں چاہئے “_
“میم یہ ضروری “_
نرس نے کچھ کہنا چاہا۔۔
اس سے پہلے ہی زوار نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید کچھ کہنے منع کیا۔۔ نرس کے ہاتھوں سے نوسٹرلز لے کر وہ اسکی جانب آیا جو ڈبڈبائی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔۔
“مجھے میری بیوی کی ناک بہت پسند ہے۔۔ اسکا یہ مطلب بلکل نہیں کے میری بیوی ٹریٹمنٹ نا کرنے دیں “_
ہلکا سا اسکی جانب جھکتے اس نے غیر محسوس سی سرگوشی کی۔۔ اسکی بات پر شیریں نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا جو نرمی سے نوسٹرلز اسکی ناک پر لگاتا ان نالیوں کا دوسرا سرا نرس کے ہاتھ میں دے چکا تھا۔۔ جو رشک سے اس معمولی صورت کی لڑکی کو تک رہی تھی۔۔
“سسسی۔۔
وہ تکلیف سے سسکی تھی۔۔ زوار نے نرمی سے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔۔ وہ جیسے اسے اپنی موجودگی کا یقین دلا رہا تھا۔۔ تکلیف کے باوجود اسکے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔۔
۔
“زز زاوی۔۔
نرس کے جانے کے بعد اس نے دھیرے سے اسے پکارا۔۔
۔
“زاوی کی جان “_
زوار نے ضبط سے اسکی جانب دیکھا۔۔اس وقت رات کے ایک بج رہے تھے۔۔ اگلے چار گھنٹوں میں اسکی سرجری تھی۔۔ اسے اس طرح نالیوں میں جکڑے دیکھ کر اپنے دل کی حالت سے وہ ہی واقف تھا۔۔
“کچھ نہیں ہوگا آپ کو “_
اسکے ہاتھ لبوں سے لگاتے وہ اس سے زیادہ خود کو تسلی دے رہا تھا۔۔
اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔۔ زوار نے زخمی نگاہوں سے اسکی پهیكی پڑھتی مسکراہٹ دیکھی۔۔ جو مسکراتی ہوئی اثبات میں گردن ہلا رہی تھی۔۔
“میرے پاس رہو۔۔
وہ بہت مشکل سے بول رہی تھی۔۔ لیکن اس وقت اس سے بہت سی باتیں کرنا چاہتی تھی۔۔
وہ بھی سمجھتے ہوئے اسکے پاس بیٹھ گیا۔۔
“بہت درد ہے کیا ؟”
ہمیشہ کی طرح ناک کی نوک پر لب رکھتے وہ دھیرے سے بولا۔۔
“نن نہیں ہے “_
وہ بامشکل مسکرائی۔۔
“مجھے ہے “_
اس نے دھیرے سے اسکی آنکھوں پر لب رکھے۔۔ .
دھیمی سی مسکراہٹ لیے وہ اسکی مسیحائی محسوس کر رہی تھی۔۔
اس کے وجود کی حدت سے تمام تر تکالیف دور ہو گئی تھی۔۔
وہ بہت نرمی سے اپنا لمس اسکے ہر نقش پر چھوڑ رہا تھا۔۔ وہ آنکھیں میچے اسکا لمس محسوس کر رہی تھی۔۔
“زز زاوی۔۔
کافی دیر تک وہ پیچھے نہیں ہوا تو اس نے دھیرے سے پکارا۔۔
“تھوڑی دیر مجھے رہنے دیں اپنے پاس شیریں”_
اسکے سینے پر سر رکھتے وہ بچوں کی مانند بول رہا تھا۔۔
“مم میں ہوں نا تمہارے پاس “_
بھاری ہوتی سانسوں پر قابو پاتی اسکے بالوں میں انگلیاں پھیر کر بولی۔۔
“مجھے آپ چاہئے ہیں شیریں۔۔ ہر ہر لمحہ چاہئے ہیں۔۔ آپ جانتی ہیں نا شیریں آپ میری سانسیں ہیں۔۔ مجھے میری سانسیں چاہئے۔۔ میں جینا چاہتا ہوں شیریں “_
وہ شدّت سے کہتا ہوا تذبذب کا شکار تھا۔۔ گرفت غیر محسوس انداز میں اس پر سخت ہوئی تھی۔۔
وہ تکلیف کے باوجود کھل کر مسکرا اٹھی۔۔ اس راحت جاں کے دل کے مقام پر سر رکھنے پر تمام تکلیف۔۔ تذبذب تو دور جا سوئی تھی۔۔ دھڑکنیں اسکے نام کی تسبیح کر رہی تھیں۔۔
“میں ہوں میری جان۔۔ آپ کے پاس ہی ہوں “۔۔
زوار کے بالوں پر لرزتے لب رکھتی وہ محبت سے بولی۔۔
وہ ہوش میں ہوتا تو اسکے الفاظ پر خوشی سے سر دھنتا۔۔
اسکی بھاری سانسوں پر وہ ہوش میں آتا اسکے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔۔ اسکی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھ کر وہ تڑپ اٹھی تھی۔۔
“تم سے بہت پیار کرتی ہوں میں “_
وہ گہری سانس لے کر سانسیں مجتمع کرتی دھیرے سے بولی۔۔ وہ زخمی سا مسکرایا۔۔ جھک کر ماتھا چوم کر وہ اسے اپنا جواب دے چکا تھا۔۔ اسکی جانب دوبارہ دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی اس نے۔۔
۔
“زز زاوی۔۔ زاوی پپ پلیز پاس رہو مم میرے۔۔ زز زاوی۔۔
اس نے کمزور سی آواز میں اسے روکنا چاہا لیکن وہ اسکی آواز سنی ان سنی کرتا نکلتا چلا گیا۔۔


۔
صبح کے پانچ بجے سب گھر والے ہی ہسپتال میں جمع تھے۔۔ ڈاکٹرز اندر آپریشن کی تیاری کر رہے تھے۔۔ سدرہ بیگم خاموش سی بینچ پر بیٹھیں تسبیح پڑھ رہی تھیں۔۔ ویران سی آنکھیں شیشے کے پار نظر آتی ساکت لیٹی شیریں پر ٹکی تھیں۔۔ دوسری جانب کھڑی بیلا کی نظریں ان پر ٹکی تھی۔۔ دل میں آج بھی ایک پھانس سی چبھن اٹھی تھی۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ رخ موڑھ چکی تھی۔۔
۔
اسکی نظروں کا یہ لمحے بھر کا ارتکاز بھی ابراھیم کی نظروں سے مخفی نہیں رہا تھا۔۔ غیر محسوس انداز میں اسکے گرد بازو لپیٹے وہ اسکا رخ اپنی جانب کر چکا تھا۔۔ زوار نے دروازے کی جانب دیکھا جہاں سٹریچر میں اسے لے کر جایا جا رہا تھا۔۔
وہ تیزی سے شیریں کی جانب آیا۔۔ وہ بےہوش تھی۔۔ اسے دیکھ نہیں رہی تھی۔۔ ناک سے نوسٹرلز نکال لی گئی تھی۔۔
وہ اسکی شیریں تھی۔۔ جسے دیکھ کر وہ جیتا تھا۔۔ اسے یوں زندگی موت کے درمیان دیکھ اسکے دل کی حالت سے صرف اسکا رب ہی واقف تھا۔۔
۔
سورتیں پڑھ کر اس پر حصار کرتے دھیرے سے اسکی پیشانی پر لب رکھے۔۔ ابراھیم کے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھنے پر وہ پیچھے ہوا تھا۔۔


۔
آپریشن شروع ہوئے پانچ گھنٹے ہو گئے تھے۔۔ سدرہ اور بیلا کی آنکھیں مسلسل نم تھیں۔۔
لائٹ ایک دم سے بجهی تھی۔۔ سب بجھتی لائٹ کو دیکھتے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
سب سے پہلے ابراھیم ڈاکٹر کی جانب بڑھا تھا۔۔
زوار تو ساکت نگاہوں سے ڈاکٹر کے چہرے پر لکھی تحریر پڑھنے کی کوشش میں تھا۔۔ اس لمحے وہ بس اسکی سلامتی کی خبر سننا چاہتا۔۔ مزید کوئی بھی لفظ اسکی سانسیں تھمنے پر مجبور کر سکتا تھا۔۔
۔
“آپریشن کامیاب رہا ہے۔۔ چند گھنٹے انڈر ابزرویشن رکھنے کے بعد ہم شیریں کو وارڈ میں شفٹ کر دینگے۔۔
وہ الفاظ نہیں تھے زندگی کی نوید تھی جو وہاں کھڑے ہر شخص کو ملی تھی۔۔ بیلا ابراھیم کے سینے سے لگی رو دی تھی۔۔ افضل ملک نے بھیگی آنکھوں سے آسمان کی جانب دیکھا۔۔
۔
“انکے رب نے نامراد نہیں لوٹایا تھا۔۔
زوار ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر سجدے میں گرا رو پڑا تھا۔۔ آس پاس گزرتے لوگ حیرت سے پھوٹ پھوٹ کر روتے اسسٹنٹ کمشنر زوار ملک کو دیکھ رہے تھے۔۔ جسکے لبوں پر بس ایک ہی جملہ تھا۔۔
۔
” اَللّٰہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا وَّالْحَمْدُلِلّٰہِ کَثِیْرًا”

’’اللہ سب سے بڑا، بہت بڑا ہے”
۔
ابراھیم آگے بڑھ کر اسے کندھوں سے اٹھاتے سینے سے لگا چکا تھا۔۔
۔
“وہ ٹھیک ہیں۔۔ اللّه سب سے بڑا ہے۔۔ بہت بڑا ہے “_
وہ اس سے زیادہ خود کو تسلی دے رہا تھا۔۔
۔
“زوار ملک آپ کی وائف ماشاءالله بلکل ٹھیک ہیں۔۔ آپریشن کی وجہ سے چند دنوں تک بولنے میں تکلیف رہے گی۔۔ دو تین دنوں تک آپ انھیں گھر لے جا سکتے ہیں۔۔ اگلے چند گھنٹوں میں ہم انھیں وارڈ میں شفٹ کر دینگے “_
ڈاکٹر مسکراتے ہوئے اسکا کندها تهپتهپا کر بولے۔۔
۔


۔
شیریں کی بےہوشی میں آٹھ گھنٹے گزر چکے تھے۔۔ پوگو اور فیها سب کے لئے کھانا لے کر آئے تھے۔۔ سدرہ بیگم اور اطہر ملک کو ابراھیم نے گھر بھیج دیا تھا۔۔
وہ خود اس وقت زوار کے ساتھ ڈاکٹر کے کمرے میں تھا۔۔ وہ شیریں کے قریب رکھے صوفہ پر بیٹھی بےآواز رو رہی تھی۔۔ شیریں کے بال ڈاکٹرز نے ہٹا دیئے تھے۔۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی اسکی بہن کو اپنے بال کتنے پسند تھے۔۔
۔
“اسکے بال ہٹا دیئے ان لوگوں نے بابا”_
اسکے کمزور سے وجود پر نگاہیں ٹھہرائے وہ روتی ہوئی بولی۔۔
۔
“اب تو ٹھیک ہے ہماری شیریں۔۔ بال بھی کچھ دنوں میں پھر سے بڑے ہو جائینگے۔۔
انہوں نے نرم لہجے میں کہا تھا۔۔ لیکن پھر بیلا کی خاموشی انھیں الجھا گئی تھی۔۔
۔
“بیلا۔۔ بابا کی جان “_
شفیق سی آواز پر اس نے نگاہیں اٹھائیں۔۔ وہ سامنے ہی کھڑے شفقت سے اسکی جانب دیکھتے بامشکل مسکرائے۔۔
وہ نم آنکھوں سے اس عظیم شخص کو تک رہی تھی۔۔ جس نے بچپن سے آج تک اسے اپنی سگی بیٹی سے زیادہ محبت دی تھی۔۔ انہوں نے بھی تو اتنی ہی اذیت برداشت کی تھی جتنی اس نے۔۔ فرق یہ تھا کے وہ اپنی تکلیف اپنا کرب محسوس کرتی تھی۔۔ اور وہ اپنا کرب چھپا کر اسکے لئے مسکراتے آئے تھے۔۔ اور وہ اسی شخص کو تکلیف دینے کا سبب بنی تھی جو بچپن سے آج تک اسکی سب سے بڑی ڈھال بنا کھڑا رہا تھا۔۔
۔
” بابا۔۔
یہ لفظ آج بہت اجنبی سا لگ رہا تھا۔۔
۔
“بابا کی چڑیا روٹھ گئی ہے بابا سے ؟ بابا اپنی جان کی خفگی نہیں برداشت کر سکتے گڑیا “_
وہی شفقت بھرا لہجہ جو انکا مخصوص تھا۔۔
۔
وہ تڑپ کر انکے سینے سے لگی تھی۔۔
“میں نہیں قابل ہوں بابا۔۔ میں آپ کی محبت کے لائق نہیں ہوں۔۔ میں نے بہت تکلیف دی ہے آپ کو۔۔ ابراھیم کو۔۔ میں اس محبت اس پیار کے لائق نہیں ہوں بابا “_
اتنے دنوں کا غبار آج انکے سینے سے لگ کر نکلا تھا۔۔
۔
“بابا کی جان۔۔ میرے دل کا ٹکرا۔۔ آپ دونوں میں تو جان بستی ہے بابا کی۔۔ اپنی شہزادیوں کو دیکھ کر تو زندہ ہے افضل ملک۔۔ کیوں تکلیف دے رہی ہیں بابا کو اس طرح کی باتیں کر کے گڑیا “_
اسکے بالوں پر لب رکھے وہ محبت سے بولے۔۔
۔
“آپ صرف افضل ملک کی بیٹی ہیں۔۔ نا افروز افضل ملک کی اور نا سدرہ افضل ملک کی۔۔ میری بیلا صرف میری ہیں ” _
وہ انکے ساتھ لگی زور زور سے اثبات میں گردن ہلا رہی تھی۔۔ بچپن سے آج تک وہ اسکے باپ کے ساتھ ساتھ ماں کا کردار بھی تو ادا کر رہے تھے۔۔
۔
“صرف آپ کی بیلا “_
وہ بھی نم لہجے میں بولی۔۔ جواباً وہ دھیرے سے ہنسے۔۔ انکی مسکراہٹ ابراھیم ملک کی مسکراہٹ جیسی تھی۔۔ خوبصورت۔۔ نہیں بہت خوبصورت۔۔
۔
“کب سے سو رہی ہے یہ بابا اٹھ ہی نہیں رہی “_
نم آنکھوں سے شیریں کی جانب دیکھتی وہ دھیرے سے بولی۔۔
۔
“آجائے گا ہوش کچھ دیر میں ” _
ابراھیم کی آواز پر وہ دھیرے سے افضل ملک کے شانے پر سر رکھتی ان سے کچھ قریب ہوئی تھی۔۔
ابراھیم اسے یوں دیکھ کر مسکرا اٹھا تھا۔۔
۔
“زاوی کہاں ہے ابراھیم ۔۔ وہ نہیں آیا ؟”
بیلا نے زوار کو اسکے ساتھ نہیں دیکھ کر سوال کیا۔۔ شیریں کو جب سے وارڈ میں شفٹ کیا گیا تھا جب سے زوار ایک بار بھی نہیں آیا تھا۔۔
ابراھیم نے محض نفی میں گردن ہلانے پر اکتفاء کیا۔۔
۔


۔
اسے رات میں ہوش آیا تھا۔۔ سب ایک ایک کر کے اس سے مل کر جا چکے تھے۔۔ نگاہیں مسلسل جسکی تلاش میں تھیں وہ نہیں آیا تھا۔۔
۔
دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے ایک بار پھر پرامید نظروں سے آنے والے کو دیکھا۔۔ آنے والا وہ نہیں تھا۔۔ بیلا نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا جہاں سے نرس مسکراتی ہوئی داخل ہوئی تھی۔۔
۔
“وہ آجائے گا۔۔ تم نے بھی تو بہت تنگ کیا ہے نا اسے میری جان۔۔ کل رات سے وہ تمہارے پاس بیٹھا تمہیں تک رہا تھا۔۔ اب تھوڑا ٹائم تو اسے بھی دو “_
نرمی سے آنسوں صاف کرتی وہ محبت سے بولی۔۔۔ ہلکی ہلکی سسکیاں اب شدّت سے رونے میں تبدیل ہو رہی تھی۔۔ وہ تکلیف کی وجہ سے کچھ کہ نہیں پا رہی تھی۔۔
۔
“بیلا بھائی کے ساتھ گھر چلے جاؤ۔۔ میں ہوں شیریں کے پاس “_
اسکی آواز پر وہ یکدم ہی پرسکون ہو گئی تھی۔۔ بھیگی نگاہوں سے دیوانہ وار اسے تک رہی تھی۔۔ لگ رہا تھا ایک عرصے بعد دید میسر ہوئی ہو۔۔ جبکے اسے اس حالت میں دیکھ کر زوار کا دل کٹ رہا تھا۔۔ دونوں بازؤں میں ڈرپ کی سوئی لگی ہوئی تھی۔۔ گلے سے سینے تک گہرا گهاؤ تھا جس پر اس وقت پٹی کر دی گئی تھی۔۔ ناک سے جڑی نالیوں کے ذریعے سانس لے رہی تھی۔۔ اسکے بال ہٹا دیئے گئے تھے۔۔ کمزور ناتواں سا وہ وجود اسکی شیریں کا نہیں لگ رہا تھا۔۔
۔
“جانتی ہیں اس حالت میں رونا کتنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے آپ کے لئے ؟”
انگوٹھے کی مدد سے آنسوں صاف کرتا نرمی سے اسکا نازک سا وجود ساتھ لگائے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
اسکا ہاتھ جھٹکتی وہ شدتوں سے رو دی تھی۔۔
۔
“کک کہاں تھے ؟”
اسکے اس قدر بیویوں والے انداز پر زوار نے بامشکل قہقہے کا گلا گھونٹا۔۔ دوبارہ نرمی سے اسے ساتھ لگانا چاہا۔۔ اس بار بنا کسی مزاہمت کے وہ
اسکے سینے سے لگی اب وقفہ وقفہ سے سسکی لے رہی تھی۔۔
“آ گیا ہوں آپ کے پاس “
زوار نے کچھ قریب ہو کر ڈرپ لگی اسکی کلائی تهامی۔۔ وہ دھیرے دھیرے ہاتھ اسکے چہرے کی جانب لے کر جاتی اسکے چہرے کے نقوش چھو کر محسوس کر رہی تھی ۔۔
ملگجے سے کپڑے۔۔ بڑھی ہوئی شیو۔۔ تمام شب بےخوابی کی چغلی کرتی سرخ آنکھیں۔۔ اسکی حالت کا پتا دے رہی تھیں۔۔
۔
“آپ کو ان نالیوں۔۔ اور مشینوں میں گھرا دیکھنے کی ہمّت نہیں جٹا پا رہا تھا۔۔ بس اس لئے آپ کے سامنے آنے میں اتنی دیر ہو گئی۔۔ معاف کر دیں “_
اسکی انگلیوں کو چومتا وہ نرمی سے بولا۔۔
۔
وہ اسکے سینے سے ہی لگی آنکھیں موندھ گئی۔۔
ڈاکٹر کے اندر داخل ہونے پر زوار احتیاط سے اس سے کچھ دور ہوا۔۔
۔
“کیسی ہیں شیریں۔؟
مسکرا کر اسے دیکھتی وہ نرمی سے پوچھ رہی تھیں۔۔
“ٹھیک ہوں “_
وہ دھیرے سے بولی۔۔

“زندگی کا ساتھی محبت کرنے والا ہو تو بڑی سے بڑی تکلیف آدھی رہ جاتی ہے۔۔”
انکی بات پر جہاں زوار نے محبت سے اسکی جانب دیکھا وہ پل بھر میں سرخ ہوئی۔۔
“انجکشن دینا تھا انہیں زوار آپ کچھ دیر کے لئے باہر جائینگے “۔۔
وہ انجکشن تیار کرتی نرمی سے بولیں تو شیریں نے گھبرا کر اسکی جانب دیکھا۔۔
۔
“ہیوی ڈوز میڈیسن ہے شیریں بازو میں نہیں دے سکتی”_
اسکے یوں گھبرا جانے پر وہ نرم لہجے میں وجہ بتانے لگیں۔
۔
“کوئی پروبلم نہیں ہے آپ دیں انجکشن۔۔ میں کچھ میڈیسنز چیک کر کے آتا ہوں اسٹور سے “_
ایک نظر خاموش لیٹی شیریں پر ڈال کر وہ کمرے سے نکل گیا۔
۔
تقریباً بیس منٹ کے بعد وہ داخل ہوا تو آنکھیں موندے لیٹی ہوئی تھی۔۔ ڈاکٹر اب اسکی ناک سے نوسٹلرز نکال رہی تھیں۔۔
ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہ اسکے سامنے رکھی چیئر پر بیٹھ گیا۔۔ نرمی سے اسکے گال پر ہاتھ پھیرتے اسنے نرم سی مسکراہٹ اسکی جانب اچھالی۔۔
۔
“گھر کب جاؤنگی میں ؟”
اسکی انگلیوں سے کھیلتی وہ دھیرے سے بولی۔۔
۔
“لے جاؤنگا میں آپ کو گھر۔۔ ابھی آپ کو پروپر چیک اپ کی ضرورت ہے وائفی “_
سینے کے قریب سے زخم کا جائزہ لیتا وہ مصروف انداز میں بولا۔۔
وہ کسمسا کر کچھ دور ہوئی تھی۔۔
۔
“دیکھنے دیں مجھے “_
اسکا دور ہونا اسے اچھا نہیں لگا۔۔ لہجے کی سختی محسوس کرتی وہ وہ اسکی ہی انگلیاں مڑوڑتی پریشان سی ہوئی۔۔
۔


۔
ایک ہفتے ہسپتال میں رہنے کے بعد آج وہ ڈسچارج ہو رہی تھی۔۔ کچھ دیر پہلے ہی بیلا کی مدد سے اسکا لایا ہوا جوڑا پہن چکی تھی۔۔
آسمانی رنگ کا سادہ سا جوڑا تھا جسکے ساتھ اسکا ہم رنگ دوپٹہ بھی تھا۔۔
۔
“میرے بال بیلا “_ اسکی نم سی آواز پر دوپٹہ سیٹ کرتی بیلا کا ہاتھ تھم سا گیا۔۔ ۔ “کیا ہوا آپ کے بالوں کو ؟” زوار کی سنجیدہ سی آواز پر وہ بیلا کے مزید قریب ہوئی۔۔ اسے نرمی سے بازو سے تھام کر وہ بیلا کے پیچھے سے نکال چکا تھا۔۔ ۔ “کیا ہوا ہے بالوں کو جواب دیں ؟” اسکے چھوٹے چھوٹے سے بالوں کو سنجیدگی سے دیکھتے اس نے ایک لفظ زور دے کر کہا۔۔ وہ جانتا تھا وہ اپنے لكس کو لیکر احساس کمتری کا شکار ہو رہی تھی۔۔ سفید اور آسمانی رنگ کا خوبصورت سا حجاب اسکے چہرے کے گرد لپیٹتے اس نے ایک بار پھر سوال کیا۔۔ وہ اب بھی خاموش تھی۔۔ ۔ “دو دن پہلے آپ سے کہا ہے نا کے آپ اپنے شوہر کے لئے اب بھی حسین ہیں۔۔ بہت اچھی لگتی ہیں آپ مجھے۔۔ اب آپ کی آنکھوں میں اس طرح کی کسی بات کے لئے آنسوں آئے تو پھر سختی کا گلہ نا کیجیے گا شیریں “_
آخر میں اسکا لہجہ کچھ سخت ہوا تھا۔۔ وہ ایک بار پھر بیلا کے پیچھے چھپنے کی کوشش میں تھی۔۔
۔
“میرے خیال میں مجھے کباب میں ہڈی نہیں بننا چاہیے “_
بیلا نے شرارت سے شیریں کی جانب دیکھا جو آنکھوں آنکھوں میں اسے باہر نا جانے کا اشارہ کر رہی تھی۔۔
۔
“بہت دیر سے خیال آیا تمہیں “_
اسکی سنجیدگی میں اب بھی کوئی فرق نہیں آیا تھا۔۔
“تم انکی چیزیں لیکر جاؤ میں ان سے کچھ باتیں کر کے آتا ہوں “_
وہ اب تیزی سے نفی میں گردن ہلا رہی تھی۔۔
۔
“کہیں کیا کہ رہی تھیں ؟”
اسے کمر سے تھام کر اپنے مقابل کرتا وہ دهیمے لہجے میں بولا۔۔
وہ کمزوری کی وجہ سے زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ پا رہی تھی۔۔
۔
“تت تم نے کہا تھا بالوں کو کچھ نہیں ہوگا۔۔ بب بال تو نہیں ہیں۔۔ تم تمہیں بھی تو پسند تھے میرے بال پپ پھر کیوں کاٹنے دیے انھیں “۔۔
وہ سہم کر کہتی آخر میں سسک اٹھی تھی۔۔
۔
“شیریں “_ وہ گہری سانس بھر کر اسے ساتھ لگا گیا۔۔ ۔ “ششش ! بس کریں، ادھر دیکھیں میری طرف “
نرمی سے اسکا رخ اپنی جانب کرتے وہ اسے ساتھ لگائے ہی سٹریچر پر بیٹھے اسے گود میں بیٹھا چکا تھا۔۔ وہ بنا کچھ کہے اسکے سینے میں چہرہ چھپائے اپنے چھوٹے چھوٹے بالوں پر اسکے ہاتھ لگاتی بری طرح سسک رہی تھی۔۔ گویا اسے اپنی تکلیف محسوس کرنے کہ رہی ہو۔۔
۔
“اللّه نے اتنی بڑی تکلیف ختم کی ہے۔۔ اپنے بالوں کے لئے اس طرح رو کر مجھے تو تکلیف دے ہی رہیں ہیں ساتھ آپ اسے بھی ناراض نہیں کر رہیں “
اس نے نرم لہجے میں کہنے پر وہ مزید بلکتی ہوئی کچھ کہنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“اللّه سے شکوہ نہیں کر رہی۔۔ پپ پر میرے بال مم مجھے بہت پسند تھے “_
معصومیت سے کہتی وہ اسے کوئی ننها بچہ لگی تھی جو قیمتی کھلونا کھو جانے پر رو رہا ہو۔۔ اپنی سوچ پر مسکرا اٹھا۔۔
” پھر سے ہوجائینگے آپ کے بال بہت پیارے “_
اس نے نرمی سے اسکی پ