No Download Link
Rate this Novel
Episode 36
“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ۳۶
۔
رات کے آخری پہر ہونے کو تھا وہ اب تک کمرے میں نہیں آئے تھے۔۔ ایسا اکثر ہی ہوتا تھا کے انکی راتیں اسٹڈی میں گزرتی تھی یہ انکے لئے کوئی نئی بات نہیں تھی۔۔ لیکن دل کا کیا کرتیں جو ہر بار اسی طرح تڑپتا تھا۔۔
۔
“زندگی ایک داستان بن گئی ہے سدرہ افضل ملک کی۔۔ جس میں درد اور ہجر کے سارے قصّے میرے ہی حصّے میں آئے ہیں۔۔ تم تو کل بھی خوش بخت تھی آج بھی سرخرو ہو افروز احمد۔۔ افضل ملک کی محبت کا ہر باب تم سے شروع ہو کر تمہارے عشق پر ختم ہوا ہے۔۔”_
وہ آنکھوں کے گیلے گوشے صاف کرتیں اسٹڈی کا دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئیں۔۔ وہ ہمیشہ کی طرح آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگائے ایزی چیئر پر آنکھیں موندے بیٹھے تھے۔۔ سینے پر دھری کتاب سے واضح ہو رہا تھا کے پڑھتے پڑھتے نیند کی وادیوں میں گم ہو چکے تھے۔۔
انہوں نے آہستگی سے انکے ہاتھوں سے کتاب لے کر رکھنے لگیں تھیں کے نظریں بےاختیار اس کتاب کے ورق کے درمیان میں رکھی تصویر پر گئی تھیں۔۔
سمندر جیسی آنکھوں میں محبت لئے افضل ملک کی جانب دیکھتی افروز احمد تھی۔۔ وہ دونوں مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے۔۔ ایک مکمّل منظر تھا جو نجانے کتنی کی زندگیوں کو نامکمّل کر گیا تھا۔۔
۔
یہ کتاب وہ ہمیشہ افضل ملک کے ہاتھوں میں دیکھتی آئی تھیں۔۔ وہ کتاب نہیں پڑھتے تھے۔۔
“وہ تو روز ماضی کے اس داستان کی ورق گردانی کرتے تھے جو انہوں نے اپنے سینے میں دفن کیا ہوا تھا”۔۔
دل میں درد کا ایک طوفان اٹھا تھا۔۔ کتاب انکے ہاتھ سے گری تھی۔۔ آہٹ پر افضل ملک بھی اٹھ بیٹھے تھے۔۔
لبوں پر دونوں ہاتھ رکھے سسکتی ہوئی سدرہ اور زمین پر گری کتاب کے درمیان افروز کی تصویر انھیں تمام معملہ سمجھا گئی تھی۔۔
“فقط کچھ لمحے زندگی کے اپنے لئے نکالتا ہوں میں۔۔ جب یہاں اس اسٹڈی میں آتا ہوں۔۔ ان لمحوں میں اپنی زندگی جیتا ہوں میں سدرہ بیگم۔۔ آپ سے گزارش کی ہے ان پلوں کے درمیان نا آیا کریں۔۔ میری اذیت بڑھ جاتی ہے۔۔ تکلیف حد سے سوا ہوجاتی ہے۔۔ میں نہیں چاہتا آپ کو اپنے لفظوں یا عمل سے کوئی تکلیف دوں۔۔ خدارا دور رہا کریں۔۔ رات کا یہ پہر میرا اور ان لمحوں کا ہے جن میں میں نے اپنی زندگی جی ہے۔۔ انکے درمیان آ کر بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا سدرہ “_
وہ بےبسی سے بولتے زمین پر پڑھی کتاب ہاتھوں میں اٹھاتے اسٹڈی سے نکل گئے تھے۔۔
پیچھے شل سی کھڑی انکی کہی باتوں میں چھپے مطلب کو سمجھتی لبوں پر ہاتھ جمائے اپنی سسکیاں دبا رہی تھیں۔۔
۔
۔
“زاوی تم ہمیشہ لیٹ کرتے ہو۔۔ سب انتظار کر رہے ہیں جلدی۔۔
وہ اپنے دھن میں بولتی ہوئی اندر داخل ہوئی تھی۔۔ اندر کا منظر دیکھ کر سرخ ہوتی رخ پھیر گئی۔۔
“زاوی۔۔ تت تم بےشرم ہو۔۔
وہ جو ابھی باتھ لے کر آیا تھا ٹاول سے پانی کے قطرے خشک کر رہا تھا اسکی گھبرائی ہوئی آواز پر ہنس پڑا۔۔
“کیوں میں نے کیا کیا وائفی ؟”
وہ معصوم بنتا اسکا رخ اپنی جانب کر گیا۔۔
“تت تم شرٹ لیس ہو۔۔
وہ سر جھکائے معصوم سے لہجے میں بولی۔۔
“اچھا پھر۔۔
وہ سمجھنے کے سے انداز میں سر ہلا کر اسے بولنے کا اشارہ کر رہا تھا جو سرخ ہوتی نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔
“آپ شرما رہی ہیں شیریں۔۔
وہ مسکراہٹ دبائے اسکی نوز پن کو چھیڑتے سنجیدگی سے بولا۔۔
” نن نہیں میں تو نہیں شرما رہی۔۔
وہ آنکھیں میچ کر جلدی سے بولی۔۔
“اچھا۔۔
وہ سنجیدگی سے بولتا قریب ہوا۔۔
“زاوی پلیز نہیں۔۔
وہ لرزتی ہوئی آنکھیں میچ گئی تھی۔۔
“کھول لیں آنکھیں یار پہن لی ہے شرٹ۔۔
اسکی مسکراتی آواز پر وہ آنکھیں کھولتی خفگی سے اسے گھورنے لگی۔۔ جو اب اسکے ہاتھ تھامتا بٹن بند کرنے کی جانب اشارہ کر رہا تھا۔۔
وہ اسکا اشارہ سمجھتی دھیمے سے مسکراتی بٹن بند کرتی اسے اپنی جانب متوجہ کر رہی تھی۔۔
محبتوں کے سفر میں رفاقتوں کی راہوں پہ چلتے وہ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و مظلوم ہو گئے تھے اور اس بات کا دونوں کو ہی باخوبی اندازہ تھا۔۔
وہ محبت سے اسے تکتا کانوں میں سجے جھمکوں کو چھیڑ رہا تھا۔۔
وہ ہمّت کرتی بامشکل اسکے مقابل کھڑی تھی۔۔
“یہ جھمکے بھی اب صرف میری محبتوں کی سرگوشیاں کریں گے”۔۔
اسکی سرگوشی پر خود میں سمٹتی ادھ موئی سی ہونے لگی۔۔ آواز حلق میں ہی کہیں دب سی گئی تھی۔۔
“جلدی آ جانا نا پلیز۔۔
کافی دیر بعد وہ دھیرے سے بولی تھی۔۔
“میں جانتا ہوں میری بیوی میرا انتظار کرتی ہیں۔۔
وہ اسکے ہاتھوں میں ہیئر برش تهماتا دلکشی سے مسکرایا تو وہ چھینپ گئی۔۔
“نہیں وہ تو ویسے ہی۔۔
پنجوں کے بل اونچی ہوتی اسکے بالوں کو اسکے مخصوص سیٹ کرتی وہ منمنائی۔۔
“کوشش کرونگا اپنی شیریں کو انتظار کی کوفت میں مبتلا ہونے سے بچا لوں۔۔
پرفیوم اس پر سپرے کر کے اسے خود میں بھینچتا وہ سنجیدگی سے بولا۔۔ وہ مسکرا دی جیسے جانتی ہو اسکا کہا لفظ لفظ سچ ہے۔۔
“باجی۔۔ باجی۔۔ چھوڑیں سب ادھر دیکھیں نا۔۔
وہ جو تیزی سے آرڈرز پلیس کر رہی تھی پوگو کے اس طرح اندر داخل ہونے پر آنکھوں میں الجھن لئے اسے دیکھتی اندر کی جانب بڑھی۔۔
چند مہینے پہلے ہی پوگو اور فیھا نے میٹرک کے امتحانات دئے تھے۔۔ بیلا کو انکے ریزلٹ کا انتظار تھا تاکے وہ کسی اچھے کالج میں دونوں کا داخلہ کروا سکے۔۔
۔
“پوگو۔۔ باجی کا بچہ بولو کیا بات ہے ؟”
وہ ہاتھ صاف کرتی اسکی جانب متوجہ ہوئی جو موبائل ہاتھوں میں لئے منتظر کھڑا تھا۔۔
“باجی۔۔ یہ دیکھیں مم میری پوزیشن بنی ہے بورڈ میں۔۔ نام دیکھ دیکھیں۔۔
فرط جذبات سے اسکی آواز بھرا سی گئی تھی۔۔ بیلا نے نم آنکھوں سے موبائل کی جانب دیکھا جہاں نیوز پر پوزیشنز ہولڈرز کے نام آناؤس ہو رہے تھے۔۔
“مم میں نے کر لیا باجی۔۔ میں آپ کا پوگو ہوں۔۔ میں فخر سے لوگوں کو بتا سکتا ہوں میں اپنی باجی کا پوگو ہوں۔۔
وہ اسکے چہرے پر بکھری شفقت بھری مسکراہٹ دیکھتا خوشی سے پر لہجے میں بولا تھا۔۔ وہ نم آنکھوں سے مسکراتی اثبات میں سر ہلا گئی۔۔
“پر بیلا پوزیشن تو کسی پرویز کوثر کی بنی ہے۔۔
فیها نے ناسمجھی سے بیلا کی جانب دیکھا۔۔ اسکا بھی آج ریزلٹ اوٹ ہوا تھا۔۔ اسکے تمام سبجیکٹس کلیئر تھے اور وہ اسی میں خوش اور مطمئن تھی۔۔
“وہ پرویز کوثر میں ہی ہوں۔۔
وہ فخر سے سینہ تانے اسکے آگے آ کھڑا ہوا۔۔
“ہاہاہا۔۔ پرویز کوثر۔۔ یہ یہ کیسا زنانہ نام ہے۔۔
وہ تو اصل نام سن کر ہی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔۔
“نام بھی مردوں والا ہے اور کام بھی۔۔ تم تو جلتی ہی رہنا مجھ سے ٹیڈی۔۔
وہ منہ بگاڑ کر بولا۔۔
“بیلا تمہارا یہ معصوم سوہنا چھوٹا سا پوگو نا کسی دن قتل ہو جائے گا میرے ہاتھوں۔۔
“بیلا باجی بولو۔۔ میری باجی کا نام نا لیا کرو۔۔
بیلا کے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ بول اٹھا۔۔
“بس کرو دونوں۔۔ آج کا کام ختم کرو۔۔ رات ہم اپنے پوگو کی کامیابی سیلبریٹ کرینگے۔۔
وہ مسکراتی ہوئی بولی۔۔
“اور پوگو میرے بچے۔۔ یہ پہلی کامیابی ہے۔۔ یہ منزل نہیں ہے۔۔ منزل ابھی بہت دور ہے۔۔ آج کی کامیابی کی خوشی آج ہی منا لو میرے بچے۔۔ کل یہ ماضی ہوجائے گا اسکے بعد تم نے اس سے متعلق سوچنا بھی نہیں ہے۔۔ اسکے بعد مستقبل کی کامیابیوں کے لئے محنت شروع کرنی ہے۔۔
پوگو کو پیار کرتے وہ سنجیدگی سے بولی۔۔
“خوش ہیں آپ ؟”
کیفے سے واپسی پر اسکا ہاتھ تھامے سڑک پر چلتے وہ محبت سے اسکی جانب دیکھتے ہوئے بولا۔۔ معمول کی بنسبت آج اچھی خاصی رات ہو چکی تھی۔۔ پوگو کی خوشی سیلبریٹ کرتے رات کافی ہو گئی تھی۔۔
ہمیشہ کی طرح وہ آج بھی اسکی چادر کے حصار میں تھی۔۔
“بہت زیادہ خوش ہوں۔۔ خوشی بہت چھوٹا لفظ ہے ان احساسات کے لئے جو میں محسوس کر رہی ہوں۔۔ میرا بچہ۔۔ میرا چھوٹا سا سوہنا بچہ آج پورے اعتماد کے ساتھ میڈیا سے بات کر رہا تھا۔۔ اپنے سٹرگلز کے متعلق بتا رہا تھا۔۔ اپنی باجی کا سر فخر سے بلند کر کے کتنا خوش تھا وہ ابراھیم۔۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا میرا پوگو اپنی باجی کے لئے اتنی محنت کرتا ہے۔۔
وہ اسکے ساتھ قدم قدم سے ملا کر چلتی محبت سے بول رہی تھی۔۔
دروازہ کھولتا وہ مسکرا دیا۔۔ یہی تو اسکی خوبی تھی وہ اپنی ذات سے زیادہ محبت اپنے رشتوں سے کرتی تھی۔۔ خود سے منسلک لوگوں سے کرتی تھی۔۔
“پوگو کی باجی بھی تو اتنی محبت کرتی ہیں اس سے۔۔
اسکا ماتھا چومتا وہ نرمی سے بولا۔۔
بات کرتے ہوئے وہ لاؤنچ میں داخل ہوئے تو سدرہ بیگم کو منتظر پایا۔۔
“کھانا ہم نے کھا لیا ہے اماں جان۔۔ بیلا کافی بنا لیں ہم سب کے لئے۔۔
سدرہ بیگم سے پیار لیتا وہ کمرے کی جانب بڑھا۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ کافی تیار کر چکی تھی۔۔ کافی کا مگ انکی جانب بڑھاتی وہ انکے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔۔
“مما جانتی ہیں آج میں بہت۔۔
۔
“مما نہیں کہا کرو مجھے بیلا۔۔
وہ جو اپنی خوشی ان سے شیئر کرنے جا رہی تھی انکی بات پر الجھ کر انھیں دیکھنے لگی۔۔ جو اسکی سنے بغیر ہی اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں۔۔
۔
“بیلا۔۔ اماں جان کہاں گئیں۔۔؟”
وہ کپڑے تبدیل کرنے کے بعد واپس آیا تو اسے غائب دماغی سے کھڑے دیکھ کر تشویش سے پوچھا۔۔
“کک کچھ نہیں۔۔
وہ آنسوں چھپاتی تیزی سے سیڑھیاں پهلانگتی کمرے میں بند ہوئی۔۔
۔
جاری ہے۔۔
