Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٣١
Mega Episode….🎉🎉🎊
۔
“زاوی “_ اسکے لبوں سے سسکی خارج ہوئی تھی۔۔ دروازے کے بیچو بیچ کھڑی وہ یقینی سے خالی کمرے کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔ وہ اسے یوں چھوڑ گیا تھا اسے اب بھی یقین نہیں آ رہا تھا۔۔ سینے میں درد کی لہر اٹھی تھی۔۔ وہ نفی میں گردن ہلاتی بہتی آنکھوں سے اپنے سجے سنورے روپ کو دیکھتی گہری سانسیں لے رہی تھی۔۔ “مم مجھے چھوڑ گگ گیا وہ “_
لبوں سے سسکی خارج ہوئی۔۔
ناک سے خون کی لکیر بہتی اسکے لبوں تک آ گئی تھی۔۔
“زاوی نے مم میری پکار نہیں سنی۔۔
وہ اب بھی بےیقین تھی۔۔ بچپن سے آج تک اسکی بانڈنگ سب سے زیادہ زوار کے ساتھ ہی اچھی تھی اور اس میں پورا ہاتھ زوار کا تھا۔۔ وہ اسے ہمیشہ سے عزیز تھا۔۔ رشتے کی نوعیت بدل جانے سے کیا وہ اتنی بےحس ہو گئی تھی کے اسکے بارہاں یقین دلانے پر بھی وہ اسکے بجائے ان عورتوں پر یقین کر بیٹھی۔۔
“آئی ایم سوری۔۔
وہ سسکی ۔۔
“مم میں بہت بری ہوں زاوی “۔۔
“پپ پر۔۔ تت تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاتے “۔۔
بےدردی سے خون رگڑتی وہ خود اذیتی سے بولی۔۔ اس طرح کر کے وہ خود کو سزا دے رہی تھی۔۔ انجانے میں اب بھی وہ اسکی تکلیف کا سامان کر رہی تھی۔۔ چار مہینوں سے اسکی یہ حالت نہیں ہوئی تھی۔۔ چار مہینے میں ایک دن بھی ایسا نہیں تھا جب وہ اسے میڈیسن اور مساج دئے بغیر سویا ہو۔۔ وہ ہمیشہ اسکے سو جانے کے بعد سویا کرتا تھا۔۔ بیڈ پر بیٹھتے اسے شدّت سے احساس ہوا۔۔
وہ اسکے حصار کی عادی ہو گئی تھی۔۔ روز رات میں زبردستی اسکا سر اپنے سینے سے لگائے اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتے اسے سلاتا تھا۔۔ وہ نہیں جانتی تھی وہ کب سوتا تھا وہ تو اسکے حصار میں پر سکون سی نیند کی وادیوں میں کھو جاتی تھی۔۔
رونے میں مزید شدّت آ گئی تھی۔۔
ناک سے خون اب تیزی سے بہ رہا تھا جسے محسوس کرتی وہ واش روم تک آئی۔۔ واش بیسن پر جھکی وہ گہری سانسیں لینے لگی۔۔ کافی دیر بعد خون رکنے پر وہ بدحال سی وہیں بیٹھتی چلی گئی۔۔
وہ ہوتا تو اس حالت میں اسے سنبھال لیتا۔۔ لیکن وہ ہوتا تو اسکی یہ حالت ہوتی ہی کیوں۔۔؟
آنکھوں سے روانی سے سیل رواں تھے۔۔
“زاوی “__
لبوں سے سسکی خارج ہوئی۔۔ اگلے ہی لمحے دماغ تاریکیوں میں ڈوبتا چلا گیا۔۔
۔


خود پر کسی بھاری چیز کا دباؤ محسوس کرتے اسکی آنکھ کھلی۔۔ وہ نیند میں خود کو آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ بھاری گرم سانسیں چہرے پر محسوس کرتے آنکھیں پوری طرح کھل گئی تھیں۔۔
وہ ایک ہاتھ اس پر رکھے اسکے بہت قریب تھا۔۔ اس نے غصّے سے اسکی جانب دیکھا۔
“ٹھرکی۔۔۔ نیند میں بھی ٹھرک سے باز نہیں آتے۔۔
آنکھیں چھوٹی کئے اسے گھورتی وہ بڑبڑائی۔۔
“چھوڑیں مجھے “_
کسمساتے ہوئے اسکا بھاری ہاتھ خود پر سے ہٹانا چاہا۔۔ گھیرا مزید تنگ ہو گیا تھا۔۔
“لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ابراھیم ملک”۔۔
لب سکیڑ کر اسکی جانب دیکھتی وہ خطرناک لہجے میں بولی۔۔
اگلے ہی لمحے ابراھیم کے بال اسکے ہاتھوں میں تھے۔۔ پوری طاقت سے دونوں ہاتھوں کا استعمال کرتی اسکے گھنے بال کھینچ رہی تھی۔۔
“بیلا “_ کیا ہوا ؟” وہ جو گہری نیند میں تھا اس افتداء پر سرخ ہوتی آنکھیں کھولتا ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔۔ صبح صبح اس سے کونسی غلطی سرزرد ہو گئی تھی کے اسکی بیوی اسکے بال پکڑے اسے خونخوار نظروں سے تک رہی تھی اسکی سمجھ سے باہر تھا۔۔ اسکی بات کا جواب دینے کی بجائے وہ اپنا مخصوص ہتھیار استعمال کرتی سر اسکی تھوڑی پر مارنے لگی۔۔ “یار کیوں صبح صبح جنگلی بلی بنی ہوئیں ہیں ؟” وہ چہرہ پیچھے کی جانب کرتا مسکین شکل لئے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ “آپ سے کہا تھا نا علاقہ غیر میں داخلہ ممنوع ہے۔۔ آپ نے رول کی خلاف ورزی کی ہے۔۔ اسکی سزا ملتی ہے “۔۔ وہ آنکھیں سکیڑتی دانت پیس کر بولی۔۔ “رولز توڑنے والے کو سزا ملے گی ؟” وہ سنجیدگی سے بولا۔۔ وہ زور سے اثبات میں گردن ہلا گئی۔۔ “تو جاناں ذرا پیچھے دیکھیں علاقہ غیر تک کون آیا ہے ؟”۔۔ سنجیدگی میں اب بھی ذرا فرق نہیں آیا تھا۔۔ بیلا نے دھیرے سے پیچھے کی جانب دیکھا۔۔ اگلے ہی لمحے وہ خجل سی ہوتی پیچھے ہوئی۔۔ وہ پوری طرح اسکی سائیڈ پر موجود تھی۔۔ “مم میں نیند میں آ گئی”_
وہ جلدی سے کہتی اپنی سائیڈ پر ہوئی۔۔
“سزا تو ملے گی ہنی۔۔ آپ نے رول توڑا ہے”۔۔
وہ نچلا لب دبائے مسکراتا ہوا اسکی جانب جھکا۔۔
پلکوں کی چلمن پر لب رکھتے چند لمحے اسکی میچی آنکھیں دیکھتے وہ اطمینان سے نماز کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
“سستا ہیرو “__
پیچھے وہ سرخ چہرہ لئے اسکی پشت کو دیکھتی خود بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔


صبح کافی دیر سے اسکی آنکھ کھلی۔۔ دکھتے سر کے ساتھ وہ ارد گرد دیکھتی اٹھ بیٹھی۔۔ وہ واش روم میں ہی موجود تھی۔۔ یعنی رات بھر زوار نہیں آیا تھا۔۔
پلکیں ایک بار پھر بھیگنے لگیں۔۔ آنسوں صاف کرتی چہرے پر پانی مارتی وہ ڈریسنگ روم کی جانب بڑھ گئی۔۔ وہ ابھی تک کل رات والی ساڑھی میں ملبوس تھی۔۔ اس حالت میں اگر سدرہ بیگم یا بیلا اسے دیکھ لیتیں تو پریشان ہوتیں۔۔ اب اپنی وجہ سے وہ کسی کو پریشانی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔ جسکی فکر کی اسے عادت ہو چکی تھی وہ تو اس حد تک ناراض ہو گیا تھا کے اسکی حالت کے متعلق بھی نہیں سوچا۔۔
فریش ہونے کے بعد لباس تبدیل کرتی وہ نیچے آئی تو ابراھیم اور افضل ملک کے علاوہ سب موجود تھے۔۔ بیلا حسںب معمول جلدی جلدی میں ناشتہ کر رہی تھی۔۔
“زوار نہیں آیا ناشتے پر ؟”
زوار کو اسکے ساتھ نہیں پا کر سدرہ بیگم نے سوال کیا۔۔
“وہ آفیشل کام کی وجہ سے اسلام آباد گیا ہے کال کی تھی اس نے “۔۔
اسکے کچھ کہنے سے پہلے ہی اطہر ملک بول اٹھے۔۔ اس نے ساختہ گہری سانس خارج کی۔۔
“تمہاری طبیعت ٹھیک ہے شیریں ؟”
اسکی زرد ہوتی رنگت پر بیلا نے تشویش سے سوال کیا۔۔
وہ سر ہلا کر رہ گئی۔۔ پلکوں کے کنارے بھیگنے لگے تھے۔۔


دن گزر رہے تھے۔۔ اسے گئے ایک ہفتہ ہونے کو آ گیا تھا۔۔ وہ روز اسے کال کرتی تھی۔۔ سینکڑوں میسجز کر ڈالے تھے۔۔ تمام میسجز سین ہوئے تھے یعنی وہ دیکھ کر اسے نظر انداز کر رہا تھا۔۔ ایک ہفتے میں وہ روز ہی سدرہ بیگم سے بات کرتا تھا۔۔ بیلا سے بھی وہ رابطے میں تھا۔۔ ایک ہفتے میں ہر لمحے دل نے شدّت سے اسے دیکھنے کی خواہش کی تھی۔۔ وہ تسلیم کر رہی تھی کے وہ زوار ملک کی عادی ہو گئی ہے۔۔ ایک دن بھی وہ پرسکون نیند نہیں سو پائی تھی۔۔
آج شام سے ہی اسکی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔۔ ایک ہفتے سے اس نے کوئی میڈیسن استعمال نہیں کی تھی نا مساج لیا تھا۔۔ اندھیرے کمرے میں وہ بیڈ پر بیٹھی خالی خالی نظروں سے موبائل کی سکرین کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔ جو بلکل تاریک ہو رہی تھی۔۔
دو آنسوں ٹوٹ کر موبائل کی سکرین پر گرے۔۔
“زاوی۔۔ پلیز ٹالک ٹو می”_
کتنی ہی بار سینڈ کیا گیا میسج ایک بار بھر سینڈ کیا۔۔ حسبِ معمول میسج سین ہو گیا تھا۔۔ لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔۔
کچھ سوچ کر اس نے ایک بار پھر کال کی۔۔


وہ ہوٹل روم کے ٹیرس پر شفاف آسمان پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔۔ ایک ہفتہ ہو گیا تھا اس دشمنِ جاں کو دیکھے ہوئے۔۔ بیلا سے روز وہ اسکی خیریت معلوم کرتا تھا۔۔ اسلام آباد ہیڈ کواٹر میٹنگ سے متعلق جب اسے مطلع کیا گیا تھا تو اسکا ارادہ شیریں کو ساتھ لانے کا ہی تھا۔۔ لیکن اس رات واپس آنے کے بعد وہ اسے مزید ایک سرپرائز دینا چاہتا تھا لیکن اسکی ایک بار پھر سے بے تکی بار پر اسکا خون کھول اٹھا تھا۔۔ غصّے میں جو ہاتھ آیا وہ سامان پیک کر کے وہ چلا آیا تھا۔۔ اسے یوں روتے سسکتے چھوڑ کر آنے پر دل راضی نہیں تھا لیکن جو بات اس نے کی تھی اس نے بہت مشکل سے خود ہاتھ اٹھانے سے بعض رکھا تھا۔۔ اگر چند پل وہ مزید ٹھہرتا تو اپنے غصّے میں اسے نقصان پہنچا دیتا۔۔ یہی وجہ تھی کے وہ رات ہی نکل گیا تھا۔۔
وہ اسے کالز، میسجز کر رہی تھی۔۔ وہ جانتا تھا وہ رو رہی ہوگی لیکن اس بار وہ اسے اتنی جلدی معاف نہیں کر سکتا تھا ورنہ وہ ہر بار وہ لوگوں کی باتوں میں آ کر اس سے طلاق کا مطالبہ کرتی رہتی۔۔ ایک بار پھر موبائل پر بپ ہوئی۔۔
“زاوی پلیز ٹالک ٹو می “_
ایک سادہ سا جملہ تھا لیکن نجانے کیوں اسکا دل دھڑکا گیا تھا۔۔ یہ ایک میسج وہ کتنی ہی بار کر چکی تھی اسے۔۔ دل تو کر رہا تھا ابھی جا کر اسے سینے سے لگا لے۔۔ لیکن دل کو ڈپٹ کر سلاتا وہ بےحس بنا اسکے پیغامات اگنور کر رہا تھا۔۔
ایک بار پھر سکرین بلنک ہوئی۔۔ سکرین پر اسکی دلہن بنی تصویر جگمگا رہی تھی۔۔ جو رسیپشن پر لی گئی تھی۔۔ گہری سانس لے کر اس نے موبائل کی جانب دیکھا۔۔
“زز زاوی۔۔
اسکی سسکی ابھری تھی۔۔ اس نے آنکھیں میچیں۔۔ یہیں تو وہ کمزور پڑتا تھا۔۔
“زاوی۔۔ پلیز مم میں نہیں رہ پا رہی۔۔
وہ سسکتی ہوئی بولی تھی۔۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔
“زاوی۔۔ پلیز مجھ سے بات کرو۔۔
وہ کمرے کے اندھیرے میں سسکتی ہوئی بول رہی تھی۔۔ اگلی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔۔
“زاوی۔۔ میں مر جاؤنگی “۔۔
وہ گھٹی گھٹی آواز میں چیخی۔۔
دوسری جانب موجود زوار تڑپ اٹھا۔۔ بولا اب بھی کچھ نہیں۔۔
وہ گھٹی گھٹی سی رو رہی تھی۔۔
“شیریں۔۔ اس طرح کیوں رو رہی ہو ؟”
بیلا کی آواز پر اس نے سرعت سے کال ڈسکنیکٹ کی۔۔
“شیریں بتاؤ مجھے کیوں رو رہی ہو “۔۔
وہ اسکے چہرے کو ہاتھوں میں بھرے تشویش سے پوچھنے لگی۔۔ شام سے وہ کمرے میں بند تھی۔۔ وہ کیفے سے آنے کے بعد سیدھی اسکے کمرے میں ہی آئی تھی۔۔
اسکا سہارا پاتے ہی وہ اسکے ساتھ لگتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔۔ ایک ہفتے سے خود پر ضبط کئے ہوئے آنسوں جھرنے کی صورت بہنے لگے تھے۔۔
۔
“زاوی۔۔ ممم مجھ سے خفا ہو گیا ہے۔۔ وو مم مجھے چھوڑ کر چلا گیا ہے بیلا۔۔ زاوی مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔۔
وہ بری طرح سسکتی ایک ہی بات دوہرا رہی تھی۔۔
“شیریں۔۔ میری جان چھوڑ کر نہیں گیا وہ۔۔ آفیشل کام کی وجہ سے جانا پڑا ہے اسے۔۔
“ننن نہیں بیلا وہ مم مجھ سے ناراض ہو کر گیا ہے۔۔ اس اس نے کہا میں اسکے قریب نہیں آؤں۔۔ وو وہ مجھ سے دور چلا گیا۔۔ بب بیلا۔۔ مم میں نہیں رہ سکتی۔۔ اسے کہو نا آ جائے۔۔
وہ بری طرح بلکتی ایک ہی بات دوہرا رہی تھی۔۔ بیلا پریشان سی اسے یوں ہلکان ہوتے دیکھ رہی تھی۔۔
“شیریں مجھے پوری طرح بتاؤ۔۔ کیا بات ہے۔۔ کوئی بات ہوئی ہے تم دونوں کے درمیان۔۔ کیوں کے زاوی تو تمہیں بھی لے کر جانا چاہ رہا تھا ساتھ۔۔
اسکا چہرہ اوپر کی جانب کرتے وہ سنجیدگی سے بولی۔۔ اتنے دنوں سے زوار کی غیر موجودگی اور شیریں کی حالت سے اسے تھوڑا بہت تو اندازہ ہو ہی گیا تھا۔۔
جوابا اس نے روتے ہوئے تمام بات اسکے گوش گزار کر دی۔۔
“اسکے ساتھ لگی وہ بلکتی ہوئی گہری سانسیں لے رہی تھی۔۔
“شیریں۔۔
اسکی سانسیں تھمتی محسوس کر کے بیلا نے سرعت سے اسے خود سے الگ کیا۔۔ وہ آنکھیں موندے گہری سانسیں لے رہی تھی۔۔ ناک اور منہ سے خون فوارے کی صورت باہر آتے دیکھ بیلا نے بےیقینی سے اسے دیکھا۔۔
“شیریں۔۔ شیریں آنکھیں کھولو۔۔ مما۔۔ ابراھیم۔۔ اب ابراھیم۔۔
اسکا سر گود میں رکھے وہ روتی ہوئی چیخ رہی تھی۔۔
“کیا ہوا۔۔ بیلا۔۔
اسکی چیخ سن کر ابراھیم بھی کمرے میں آ گیا تھا۔۔ شیریں کی حالت دیکھ کر سرعت سے انکے قریب آیا۔۔
“بیلا ہنی۔۔ رونے کا وقت نہیں ہے آپ جانتی ہیں نا طبیعت زیادہ بگڑنے سے پہلے ہمیں اسے ہسپتال لے کر جانا ہے۔۔ اٹھیں شاباش یہ چادر پہنیں۔۔
اپنی چادر اسکی جانب بڑھا کر وہ شیریں کو بازوؤں میں لئے باہر کی جانب بڑھا۔۔
“اماں جان پلیز۔۔ رونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ آپ دعا کریں بس۔۔ میں لے کر جا رہا ہوں اسے ہسپتال۔۔ آپ بابا کے ساتھ آجائیں۔
سدرہ بیگم کو روتے ہوئے اپنی جانب بڑھتے دیکھ وہ نرمی سے بولا۔۔
۔
پچھلی سیٹ پر بیٹھی بیلا کی گود میں اسے لیٹاتے وہ خود تیزی سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔۔ اسکی یہ حالت چار مہینے بعد اب ہو رہی تھی۔۔ زوار باقائدگی سے اسے ریگولر چیک اپ کے لئے لے جاتا تھا۔۔ ڈاکٹرز کے مطابق اسکی پراگریس بہت اچھی تھی۔۔ اس طرح اچانک اسکی حالت بگڑ جانا ان سب کو تشویش میں مبتلا کر رہی تھی۔۔
“زز زا وی۔۔ زاوی۔۔
خون آلود لبوں سے سسکی خارج ہوئی تھی۔۔ بیلا کے ساتھ گاڑی ڈرائیو کرتا ابراھیم بھی چونک اٹھا۔۔ اسکی یہ حالت ہیوی سٹریس کے ہی نتیجے میں ہوتی تھی۔۔ اسے معملہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی۔۔


۔
وہ رات کے اس پہر بھی ٹریس پر کھڑا سگریٹ پھونک رہا تھا۔۔ اسکی سسکیاں اسکی سماعتوں میں گونج رہی تھی۔۔ اسے اپنی سانسیں تھمتی ہوئیں محسوس ہو رہی تھیں۔۔
“زاوی میں مر جاؤنگی”__
زوار نے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔
اندر کمرے میں موجود موبائل چیخ چیخ کر اب خاموش ہو گیا تھا۔۔


۔
“ابراھیم۔۔ وہ کچھ نہیں بول رہی۔۔ دد دیکھیں نا۔۔ سانس۔۔ سانس بھی نہیں آرہی اسے۔۔
وہ شیشے کے پار اسکے بےسدھ پڑے وجود کو دیکھتی سسک رہی تھی۔۔
ہر دکھ۔۔ ہر تکلیف پر آنسوں ضبط کر لینے والی بیلا اسکی ایسی حالت پر ٹوٹ جاتی تھی۔۔
“کچھ نہیں ہوا۔۔ صبح تک ہوش آ جائے گا اسے۔۔ آپ یوں نہیں روئیں پلیز۔۔
اسے ساتھ لگائے وہ نرمی سے بولا۔۔
شیریں کی حالت کے پیش نظر اسے ایمرجینسی میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔۔ ابراھیم پچھلے دو گھنٹوں سے زوار سے کنٹیکٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔۔
سدرہ بیگم کو اس نے کچھ دیر پہلے زبردستی افضل ملک کے ساتھ گھر بھیجا تھا۔۔
“مم میں نہیں دیکھ سکتی اسے اس طرح۔۔
وہ نفی میں گردن ہلاتی بنا پلکیں جھپکے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ جو آکسیجن ماسک کے ذریعے مصنوعی سانسیں لیتی بےخبر سی پڑی تھی۔۔
فون پر زوار کا نمبر بلنک ہوتے دیکھ اس نے نرمی سے بیلا کو خود سے الگ کیا۔۔
۔
“کیا کر کے گئے ہو تم شیریں کے ساتھ ؟”
چھوٹتے ہی وہ دبے دبے غصّے سے چیخا تھا۔۔
“بھائی کیا ہوا شیریں کو ؟”
اسکی پریشان سی آواز ابھری تھی۔۔
“طبیعت بگڑ گئی ہے اسکی۔۔ ایمرجینسی میں موجود ہیں اس وقت ہم۔۔
ایک نظر شیشے سے سر ٹکائے کھڑی بیلا پر ڈال کر وہ کچھ دور ہوتا سنجیدگی سے بولا۔۔
دوسری جانب موجود زوار کو لگا جیسے سانسیں تھم گئیں ہوں۔۔
ٹوں ٹوں کی آواز پر ابراھیم نے فون کی جانب دیکھا۔۔


۔
رات بھر وہ اسکے پاس موجود تھے۔۔ تقریباً آٹھ گھنٹے بعد اسے ہوش آیا تھا۔۔
دھیرے سے آنکھیں کھولتی اسکی جانب دیکھتی وہ کچھ بولنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
“وہ آ جائے گا کچھ دیر میں۔۔
اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتی بیلا نرمی سے بولی۔۔ وہ جانتی تھی وہ کس کے متعلق پوچھ رہی ہے۔۔
ابراھیم صوفے پر بیٹھا دونوں بہنوں کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔ اسکی بیوی سب سے اتنی ہی محبت کرتی تھی۔۔ جبکے اسکی ذات ابھی تک سوالیہ نشان تھی۔۔ وہ پھیکا سا مسکرا اٹھا۔۔
کچھ دیر میں ڈاکٹر اسے چیک کرنے کے بعد آکسیجن ماسک نکال گئیں تھیں۔۔
“تم مجھے اتنے غصے میں کیوں دیکھ رہی ہو ؟”
بیلا کو اپنی جانب خفگی سے دیکھتے پا کر وہ دھیرے سے بولی۔۔
وہ آنکھوں میں آنسوں لئے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔ وہ ہلکا سا مسکراتی اسکا ہاتھ تھام کر ساتھ لگا گئی۔۔
“تت تم ہمیشہ میرے ساتھ یہی کرتی ہو۔۔ تم جانتی ہو مم میری جان جاتی ہے تمہیں اس طرح دیکھ کر۔۔
وہ اسکے سینے سے لگی کسی چھوٹے بچے کی مانند بول رہی تھی۔۔
“کچھ نہیں ہوتا مجھے۔۔ تم ہو نا میرے پاس۔۔
وہ نقاہت کے باعث بہت آہستہ بول رہی تھی۔۔
“اٹھو اب سوپ پی لو۔۔ مما دے کر گئیں ہیں۔۔
سہارا دے کر اسے بیٹھا کر وہ اسے سوپ پلانے لگی۔۔
بیلا کے ہاتھوں سے سوپ پیتی یونہی اسکی نظریں دروازے کے پار گئیں تھی۔۔ سامنے ہی سے وہ پولیس کی وردی میں سنجیدہ سا لب بھینچے اسکے کمرے کی جانب آتا دکھائی دیا تھا۔۔ اسکی آنکھیں بےاختیار چھلک پڑی تھیں۔۔ ساتھ ہی تین افسر سر جھکائے دروازے کے باہر کھڑے تھے۔۔ اس طرح پورے پروٹوکول میں وہ اسے پہلی بار دیکھ رہی تھی۔۔
وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔ اسے دیکھ ابراھیم بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ وہ اب بھی یک ٹک اسے دیکھتی نگاہوں کی پیاس بجھا رہی تھی۔۔ آنکھوں سے آنسوں روانی سے جاری تھے۔۔
ابراھیم کے اشارہ کرنے پر بیلا بھی اسکے ساتھ ہی کمرے سے نکل گئی۔۔
اس نے اب بھی اسکی جانب نہیں دیکھا تھا۔۔ نظریں اسکے ہاتھوں پر ٹکی تھیں۔۔ دونوں بازوؤں میں نالياں جکڑی ہوئی تھیں۔۔
نرس کے اندر داخل ہونے پر زوار کچھ دور ہوا۔۔ وہ بنا پلکیں جھپکے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ ایک لمحے کے لئے نگاہیں اس پر سے نہیں ہٹی تھیں۔۔ وہ تو انتظار میں تھی کے وہ اسے ساتھ لگائے گا۔۔ اسکی جانب دیکھے گا۔۔
وہ جو چار ماہ سے اسکے لاڈ اٹھاتے نہیں تھکتا تھا آج اسے اس حالت میں دیکھ کر اسکے آنسوں صاف کرنے نہیں بڑھا تھا۔۔
وہ اسکے لمس کے لئے تڑپ رہی تھی اور وہ انجان بنا کھڑا تھا۔۔
“سسسسی”__
وہ تکلیف سے سسکی۔۔ اسکی جانب دیکھتی وہ بازو ہلا گئی تھی جسکی وجہ سے انجکشن لگاتی نرس کا ہاتھ بھی ہلا تھا۔۔ نتیجتاً انجکشن غلط سائیڈ انجکٹ ہو گیا تھا۔۔
“کیا کر رہی ہیں آپ میری بیوی کے ساتھ۔۔ اس طرح ڈیل کرتے ہیں آپ پیشنٹس کو۔۔ کس طرح انجیکٹ کیا ہے آپ نے۔۔
اسکے بازو سے ابھرتے خون دیکھ کر وہ سرعت سے اسکی جانب جھکا غصے سے نرس کو ڈانٹ رہا تھا۔۔
“سر میم نے ہاتھ موو کیا اسکی وجہ سے۔۔
وہ شرمندہ سی ہوتی خون صاف کرتی دوسری سائیڈ انجکشن دینے لگی۔۔ شیریں نے بےاختیار دوسرے ہاتھ سے اسکا ہاتھ تھاما۔۔
“زا وی۔۔
وہ دھیرے سے اسے پکارتی اٹھنے لگی۔۔
“لیٹی رہیں۔۔
سنجیدگی سے کہتا وہ اسکی جانب دیکھنے سے گریز برت رہا تھا۔۔
وہ سسکتی ہوئی لیٹ گئی۔۔
“رونا بند کریں شیریں۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“تت تم مجھے گھر لے جاؤ۔۔ مم مجھے تمہارے پاس رہنا ہے۔۔
وہ روتی ہوئی بولی۔۔
“لے جاؤنگا گھر آپ کو۔۔ پر میرے ساتھ رہنا کہاں چاہتی ہیں آپ۔۔
وہ کرب زدہ سی مسکراہٹ لبوں پر لئے آرزدگی سے بولا۔۔ وہ لبوں پر ہاتھ رکھتی بری طرح سسکنے لگی۔۔
“شیریں خدا کے لئے رحم کریں مجھ پر “۔۔
اسکے لبوں سے ہتھیلیاں ہٹاتا وہ بےبسی سے بولا۔۔ رونے سے اسکی سانسیں مزید اکھڑنے لگتی تھیں۔۔ اور یہ لڑکی رونے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی تھی۔۔


شام تک اسے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔۔ تمام گھر والے اسکے پاس ہی موجود تھے۔۔ سب کے جانے کے بعد بھی بیلا کافی دیر اسکے ساتھ بیٹھی رہی تھی۔ ۔ زوار اس وقت تک کمرے میں نہیں آیا تھا۔۔
“شیریں یہ میڈیسن لے لو۔۔ پرابلم کیا ہے میڈیسن کیوں نہیں لے رہی تم۔۔
سدرہ بیگم نے بالآخر سختی سے کہا۔۔ وہ کافی دیر سے اسے میڈیسن دینے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔ بیلا نے زبردستی بھی دینا چاہا لیکن وہ کسی صورت میڈیسن لینے پر تیار نہیں تھی۔۔
“آپ جائیں اماں جان میں دیکھتا ہوں انہیں۔۔
زوار کی آواز پر سدرہ بیگم ایک نظر اسکے لرزتے سراپے پر ڈال کر چلی گئیں۔۔
“خیال رکھنا۔۔ زیادہ سختی نہیں کرنا میری بہن کے ساتھ پہلے ہی بہت رو چکی ہے تمہاری جدائی میں وہ۔۔
بیلا اسکے کانوں کے پاس سرگوشی کرتی ہوئی باہر نکل گئی۔۔ شیریں اسے تمام تر بات بتا چکی تھی۔۔
“اٹھیں میڈیسن لیں۔۔
تمام دوائیں ہاتھوں میں لئے وہ اسکے نزدیک آیا۔۔ انداز کسی بھی قسم کے جذبات سے عاری تھا۔۔
وہ خاموشی سے اٹھ بیٹھی۔۔ اسکے ہاتھ سے تمام میڈیسنز لینے کے بعد اسے دیکھنے لگی۔۔ وہ نرمی سے اسے لیٹاتا لب بھینچے اب مساج دے رہا تھا۔۔
اپنے کام سے فارغ ہو کر اس پر کمفرٹر درست کرتے وہ کمرے سے مہلک اسٹڈی کی جانب بڑھ گیا۔۔
وہ لب بھینچے سسکی دبا گئی۔۔
کافی دیر بیڈ پر لیٹی چھت کو گھورتی رہی۔۔ بالآخر ہمّت کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
ڈرتے ڈرتے اسٹڈی کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔۔ وہ کاؤچ پر بےترتیب سے لیٹا سگریٹ سلگا رہا تھا۔۔ اسکی موجودگی محسوس کرتے وہ ایش ٹرے میں سگریٹ مسلتا آنکھیں موند گیا۔۔
“کیوں آئی ہیں ؟”
اسکی بھاری آواز پر وہ ایک پل کو سہم کر ساکت ہو گئی۔۔ پھر ہمّت کر کے قریب آتی دھیرے سے اسکے سینے پر سر ٹکا گئی۔۔
ایک لمحے کے لئے زوار ساکت سا ہو گیا۔۔ وہ پہلی بار خود اسکے قریب آئی تھی۔۔ اسکے لرزتے وجود سے صاف ظاہر تھا کے کتنی ہمّت کا مظاہرہ کر کے وہ اسکے قریب آئی تھی۔
” منع کیا تھا یہ الفاظ کہنے سے ؟”۔۔
اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑتے وہ سرخ ہوتی آنکھوں سے اسکی جانب دیکھتے بولا۔۔
وہ آنکھیں سختی سے میچیں تکلیف برداشت کرنے کی کوشش میں لب بھینچ گئی تھی۔۔
“کیا تھا منع کے یہ الفاظ آپ کے ذہن گماں میں بھی نہیں آنا چاہئیے” __
بالوں پر گرفت مزید سخت کرتے وہ سلگتے لہجے میں بولا۔۔
“زز زاوی۔۔
گرفت میں مزید سختی محسوس کرتی وہ سسکی تھی۔۔ آنسوں لڑیوں کی صورت اسکے چہرے پر گر رہے تھے۔۔
“جائیں یہاں سے شیریں۔۔
اسکی سسکی پر شدّت سے اسکی پیشانی پر لب رکھتے وہ گہری سنجیدگی سے بولا۔۔ ساتھ ہی اسے خود سے کچھ دور کیا۔۔
“آئی ایم سوری۔۔ زاوی۔۔ پپ پلیز اس طرح ننن نہیں کرو۔۔
وہ اسکے سینے سے لگتی سسکی تھی۔۔ زوار نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔۔ وہ جو سوچ رہا تھا وہ صرف شرمندہ ہے۔۔ وہ صرف شرمندہ نہیں تھی۔۔ معاملہ کچھ اور تھا۔۔ وہ تنہا مسافر نہیں تھا محبت کی ان گلیوں کا۔۔ اسکے سینے سے لگی اس لڑکی کی تڑپ۔۔ اسکی سسکیاں گواہ تھیں کے وہ بھی اس راہ پر چل پڑی ہے۔۔
اس نے نرمی سے اسے تھامتے ساتھ لگایا۔۔
روم میں چلیں۔۔
نرمی سے اسے حصار میں لئے وہ بیڈ تک آیا تھا۔۔ اسکی گرفت میں نرمی محسوس کرتی وہ بری طرح سسکنے لگی۔۔ آنسوں تمام بند توڑتے اسکا سینہ بھگو رہے تھے۔۔
“بسسس طبیعت ٹھیک نہیں ہے نا۔۔ مزید تکلیف ہوگی۔۔ بس کریں۔۔
نرمی سے بال سہلاتا وہ سنجیدہ سا بولا۔۔
“ایک ہفتے میں میری بیوی کی کیا حالت بنا دی آپ نے شیریں “۔۔
اسکی سسکیاں کچھ تھمیں تو دھیرے سے ناک کی نوک پر لب رکھتے وہ مخمور لہجے میں بولا۔۔
وہ پرسکون سی آنکھیں موندے اسکا لمس محسوس کر رہی تھی۔۔یہی لمس۔۔ یہی مسیحائی تو تھی جسکے لئے وہ تڑپ رہی تھی۔۔
“تم مم مجھ سے خفا ہو گئے ہو”۔۔
گھٹی گھٹی آواز میں وہ نجانے اس سے پوچھ رہی تھی یا اسے بتا رہی تھی۔۔
“تو کیا مجھے نہیں ہونا چاہیے ؟”۔۔
تھوڑی سے چہرہ اونچا کرتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“ایسے نہیں ہوتے۔۔ مم مجھے چھوڑ کر چلے گئے تم۔۔ مم میرے پاس نہیں تھے۔۔ مجھے میڈیسن نہیں دی۔۔ مساج بھی نہیں کیا۔۔ سب سے بات کی۔۔ مم مجھے اگنور رہے تھے۔۔ مم میں نے نہیں لی میڈیسن۔۔ کسی سے بھی نہیں لی۔۔
وہ نظریں جھکائے دھیمی آواز میں شکوہ کر رہی تھی۔۔ اس قدر لاڈ کی عادی اس نے ہی بنایا تھا۔۔ اب اسکی تھوڑی سی بھی بے اعتنائی وہ کب برداشت کر سکتی تھی۔۔
“آئندہ مجھ سے دور ہونے کی بات کرنے سے پہلے میری جان اپنی ہاتھوں سے لے لیجیے گا آپ۔۔
اسکی کمر کے گرد گرفت مضبوط کرتا وہ شدّت سے بولا۔۔
“زاوی۔۔
وہ اسکی گرفت میں ادھ موئی سی ہو رہی تھی۔۔ اسکا جھکاؤ محسوس کرتی ہلکان سی ہوتی اسے پکارنے لگی۔۔
“زا وی پلیز۔۔
کانوں کی لو پر گرم سانسیں محسوس کرتی وہ تڑپ اٹھی تھی۔۔
“تت تم نے کہا تھا میری اجازت کے بغیر۔۔۔
وہ کانپتی ہوئی بات ادھوری چھوڑ گئی۔۔
“آپ کے دماغ میں پلتے خرافات نکالنے کے لئے یہ اب ضروری ہو گیا ہے۔۔
وہ اسکی سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔ اسے تمام تر مذاہمت دم توڑتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔


جاری ہے۔۔