No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٣
رات اپنے سیاہ پر پوری طرح سے پھیلا چکی تھی۔۔ دسمبر کی ٹھٹھرا دینے والی سرد ہوائیں پوری فضا کو لپیٹ میں لے چکی تھیں۔۔ یک بستہ سرد شام میں اندھیرے میں لان کی کرسی پر بنیان پہنے بیٹھا ہوا تھا۔۔ سدرہ بیگم کی بات نے اسے ایک انجانے سے خوف میں مبتلا کر دیا تھا۔۔ شیریں کو دیکھنے۔۔ تو کیا کوئی اسکی شیریں کو دیکھنے بھی آ سکتا ہے۔۔ اس سوچ کے آتے ہی آنکھوں میں مرچیاں سی بھر گئیں تھیں۔۔ اور اس پر شیریں نے جو آج ریئکشن دیا تھا اسکی بات پر ۔۔ اسے اپنا سر درد سے پھٹتا محسوس ہو رہا تھا۔۔
شیریں ناراض نہیں ہوتی تو ابھی تک گرم چاۓ کی دوسری کپ اسکے ہاتھوں میں تھما گئی ہوتی۔۔
اس سوچ کے آتے ہی وہ پھیکا سا مسکرایا۔۔
لمبے قد اور مظبوط کسرتی بدن کے ساتھ وہ کہیں سے بھی اس سے دو سال چھوٹا نہیں لگتا تھا۔۔ سرخیاں گھلی سفید رنگت اور بادامی آنکھوں والا وہ ایک ایک بھرپورخوبصورت نوجوان تھا۔۔
اور وہ نازک من موہنی سی صورت والی لڑکی اسکے دل میں دھڑکنوں کی طرح دھڑکنے لگی لگی تھی۔۔
بچپن ہی سے وہ سدرہ بیگم کی طرح اسے بھی اپنا خیال رکھتے دیکھتا آیا تھا۔۔
خود سے بےپرواہ ہر کسی کی فکر میں گھلنے والی وہ معصوم سی لڑکی کب اسکی رگوں میں خون کی طرح گردش کرنے لگی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔ شیریں کو لے کر اسکے احساسات بچپن ہی سے کچھ الگ سے تھے جنہیں وہ کوئی نام نہیں دے سکا تھا۔۔
اسکا چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال رکھنا اسے اچھا لگتا تھا۔۔
گھر واپس آنے پر جب وہ مسکراتی ہوئی اسے پانی کا گلاس تھماتی تھی تمام دن کی تھکان جیسے کہیں دور جا سوتی تھی۔۔
وہ سوچوں میں گم ان پلوں کو پھر سے جیتا مسکرا اٹھا۔۔
۔
“زوار ۔۔
اسکی مدهر سی آواز پر اس نے جھٹ آنکھیں کھولیں۔۔ سامنے ہی وہ دشمنِ جاں ٹرے میں پانی کے گلاس اور چاۓ کے ساتھ سر درد کی گولی رکھے کھڑی تھی۔۔
اسے یوں اپنے سامنے کھڑے دیکھ کر گھنی مونچھوں تلے اسکے لب مسکرا اٹھے۔۔
۔
“کہیں شیریں۔۔
وہ جاندار مسکراہٹ لبوں پر لئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔ اسے سٹپٹا کر ارد گرد دیکھتے پا کر اس نے جلدی سے پاس رکھی شرٹ پہنی۔۔
۔
“شکریہ شیریں۔۔ بہت طلب ہو رہی تھی اسکی۔۔
اسکے ہاتھوں سے ٹرے لے کر وہ سرگوشی میں بولا تھا۔۔
وہ اچھی طرح جانتا تھا اپنی حساس طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ وہ یہ عنایت کر گئی ہے۔۔
“آج آپ میرے ساتھ نہیں پیئنگی شیریں۔۔
وہ جانے کیا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔ شیریں نے غصّے بھری ایک نظر اس پر ڈالی بولی اب بھی کچھ نہیں۔۔
“ٹھنڈ ہو رہی ہے باہر اندر جا کر سو جاؤ۔۔ ویسے ہی تمہارا دماغ ٹھیک کام نہیں کر رہا۔۔
وہ طنزیہ لہجے میں کہتی شال کو اپنے گرد ٹھیک طرح سے لپیٹتی اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔
“میری اتنی فکر کرتی ہیں شیریں تو میرے دل کی آواز کیوں نہیں سن پا رہیں آپ۔۔
چاۓ کا کپ لبوں سے لگاتے وہ بلند آواز میں بولا تھا۔۔
“یہ کہنے سے پہلے تم نے کیوں نہیں سوچا کے میرے دل پر کیا گزرے گی۔۔ میرا بھروسہ توڑا ہے تم نے۔۔ بچپن سے جو مان تھا نا مجھے اپنے زاوی پر وہ توڑ دیا ہے تم نے۔۔ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی کے ہمارا چھوٹا سا ذاوی اتنا بڑا ہو جائے گا۔۔ وہ چھوٹا بچہ جو آج تک ہر امتحان سے پہلے مجھ سے دعائیں نیک تمنائیں لینے آتا تھا وہ مجھے ان نگاہوں سے بھی دیکھ سکتا ہے۔۔ بہت دکھ دیا ہے تمہاری اس بات نے مجھے زاوی۔۔
بھیگے لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر کہتی وہ رکی نہیں تھی۔۔ زوار نے دھیرے سے اسکی کلائی گرفت میں لے کر جیسے اسے رکنے کا اشارہ کیا تھا۔۔
اسکی گرفت بہت آہستہ تھی۔۔ وہ چاہتی تو ہاتھ آزاد کروا سکتی تھی۔۔ لیکن اسکی گرفت میں ایسا کچھ تھا جو اسے ساکت کر گیا ۔۔
۔
“آپ کی قسم کبھی غلط نگاہوں سے نہیں دیکھا آپ کو شیریں۔۔ محبت کرتا ہوں آپ سے۔۔ محبت کب محب پر بری نگاہیں برداشت کرتی ہے شیریں۔۔ محبت تو نام ہی عزت اور احترام کا ہے۔۔ آپکا زاوی آج بھی آپ کی اتنی ہی عزت کرتا ہے شیریں۔۔ لیکن جس رشتے سے آپ چاہ رہی ہیں وہ رشتہ تو ہمارے بیچ ہے ہی نہیں۔۔ آپ خود بھی جانتی ہیں بہن ہونے میں اور بہن کی طرح ہونے میں فرق ہے۔۔ آپ میری بہن نہیں ہیں شیریں۔۔ لیکن آپ کے احترام کے لئے آپ کو اس حوالے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ آپ ہر لحاظ سے میرے لئے قابل احترام ہیں۔۔
” آپ کے احترام کے لئے تو یہی کافی ہے آپ میری محبت ہیں “۔۔
اپنی بات مکمّل کر کے اس نے اسی نرمی سے اسکی کلائی چھوڑ دی تھی۔۔
وہ تو ساکت سی کھڑی ان باتوں کو سن رہی تھی۔۔ وہ واقعی چھوٹا نہیں رہا تھا وہ بڑا ہو گیا تھا۔۔
ایسی باتیں زاوی تو نہیں کر سکتا تھا۔۔
لیکن وہ زاوی رہا ہی کہاں تھا۔۔ وہ تو زوار بن گیا تھا۔۔ زوار ملک۔۔
“اندر چلی جائیں ٹھنڈ لگ جائے گی شیریں “۔۔
اسکی سرگوشی نما آواز پر وہ تیزی سے تقریباً بھاگتے ہوئے اندر کی جانب بڑھی۔۔
“شیریں۔۔
وہ گہری سانس لے کر رہ گیا۔۔
۔
“تایا جان۔۔
وہ اسٹڈی سے گردن نکالے سرگوشی کی سی آواز میں انھیں پکار رہی تھی۔۔
۔
“جی تایا کی جان۔۔ آ گئی میری لاڈو رانی۔۔ تایا بیچارے تو کتنی ہی دیر سے اپنے بچے کا انتظار کر رہے تھے۔۔ آج کافی دیر نہیں کر دی میری گڑیا نے۔۔
وہ اپنی گود سے ساری چیزیں ہٹا کر مسکرا کر بازو پھیلائے اسکے استقبال میں کھڑے ہوئے۔۔
وہ جلدی سے آ کر انکے ساتھ لگی تھی۔۔
کتاب میں سر دئے بیٹھے افضل صاحب نے بھی مسکرا کر اسکی جانب دیکھا۔۔
جو چھوٹے بچے کی طرح تایا کی آغوش میں سمائی ہوئی تھی۔۔
۔
“یاد ہے نا آج کا پلان۔۔ بےایمانی تو نہیں ہوگی۔۔
وہ انکے کانوں میں گھسی سرگوشی کی سی آواز میں بول رہی تھی۔۔
“بلکل یاد ہے۔۔ آپ بتائیں کون سی مووی لائیں ہیں ساتھ بیٹھ کر دیکھنے کے لئے۔۔
وہ ہنستے ہوئے کاؤچ پر بیٹھ گئے تھے۔۔
۔
“فل ایکشن مووی ہے تایا جان۔۔ کچھ مہینوں پہلے ہی ریلیز ہوئی ہے۔۔
وہ بھی انکے ساتھ بیٹھی کشن رکھ کر اس پر لیپ ٹاپ رکھ رہی تھی۔۔
وہ پوری دلچسپی سے لیپ ٹاپ کی جانب دیکھ رہے تھے۔۔ افضل صاحب بھی کتاب بند کر کے اسکے دوسرے سائیڈ آ بیٹھے۔۔
“ایکشن مووی ہی دیکھتی ہیں میری گڑیا۔۔ کچھ اور بھی دیکھا کریں بیلا۔۔
اسکی ہلتی پونی کو ہلکے سے چھو کر وہ مسکرا کر بولے ۔۔
ہر ویک اینڈ وہ اطہر ملک کے ساتھ مووی دیکھتی تھی اور پھر وہ دونوں پورے ہفتے اس مووی کو ڈسکس کرتے تھے۔۔
۔
“ارے بابا دیکھنے والی چیز یہی ہوتی ہے یار۔۔
وہ مزے سے کہتی اب افضل صاحب کی گود میں سر رکھ کر لیٹ چکی تھی۔۔
وہ ہنس کر اسے دیکھنے لگے جو لیس کے پیکٹ سے چپس کھاتی مزے سے اطہر ملک کے ساتھ ایک ایک کریکٹر کو ڈسکس کرتی مووی دیکھ رہی تھی۔۔
“میں بھی آجاؤں۔۔
شیریں کی آواز پر ان تینوں نے اس جانب دیکھا۔۔ افضل صاحب نے بازو کھول کر اسے آنے کا اشارہ کیا۔۔ وہ آہستہ سے ان سب کے قریب آتی خود افضل صاحب کے دوسرے بازو کے حلقے میں لیٹ گئی۔۔
“میری شھزادیاں۔۔
وہ کھل کر مسکرائے تھے۔۔ بیلا کے مقابلے میں شیریں خود بہت کم ہی انکے قریب آتی تھی ۔۔
“مما سو گئیں آپ کی ؟
شیریں کے بالوں کو چوم کر انہوں نے نرمی سے سوال کیا۔۔
“نہیں کہ رہی تھیں کچھ دیر تک سو جاؤنگی۔۔ مجھے نیند نہیں آ رہی۔۔
وہ سدرہ بیگم کے ساتھ اپنی وجہ بھی بتا چکی تھی۔۔
۔
“شیریں میری گڑیا پریشان ہے کیا ؟”
وہ فورا ہی اسکی پریشانی بھانپ گئے تھے۔۔
“نن نہیں بابا۔۔
انکے اچانک پوچھنے پر وہ گڑبڑا کر نفی میں گردن ہلا گئی۔۔
انھیں پریشانی کی وجہ کیا بتاتی۔۔
۔
“امّاں جان۔۔ آپ یہاں اکیلی کیوں بیٹھیں ہیں۔۔ شیریں کہا ہیں ؟
وہ جو ابھی آفس سے لوٹا تھا سدرہ بیگم کو اکیلے لاؤنچ میں بیٹھے دیکھ کر سیدھا انکے ہی پاس آیا۔۔
“ابھی ابھی تو گئی ہے بیٹا شیریں۔۔ میں بس سونے ہی لگی تھی۔۔
انہوں نے مسکرا کر اسے پاس آنے کا اشارہ کیا۔۔
“پھر بھی اکیلی کیوں بیٹھیں ہیں آپ۔۔ اور یہ زوار کہاں ہے اسے اپنے پاس بلا لیتیں۔۔
سدرہ بیگم نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔ وہ صرف انھیں امّاں جان کہتا ہی نہیں تھا وہ اپنے ہر عمل سے ان سے اپنی محبت کا ثبوت دیتا تھا۔۔
“میرا بیٹا آ گیا ہے نا میرے پاس۔۔
پیار سے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتیں وہ محبت سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔ گندمی رنگت اور پر کالی آنکھیں۔۔ سلیقہ سے اوپری جانب سیٹ کئے کالے گھنے بال۔۔ وہ مضبوط جسامت اور رعب دار شخصیت کا مالک تھا۔۔
ہمیشہ کی طرح جھکی نظریں۔۔ اور محبت اور احترام سے بھرا لہجہ۔۔
اس نے اور زوار نے کبھی انھیں بیٹے کی کمی محسوس ہونے نہیں دی تھی۔۔
۔
“تھکے ہوئے لگ رہے ہو۔۔ فریش ہو کر آؤ کھانا گرم کرتی ہوں میں اپنے بیٹے کے لئے۔۔
ہلکی سی مسکان کے ساتھ کہتے وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔
کچھ دیر بعد وہ کالی شلوار قمیض میں ملبوس شال کاندھو پر ڈالے فریش سا ٹیبل پر آیا تھا۔۔
پہلا نوالہ اس نے ہمیشہ کی طرح انکی جانب بڑھایا۔۔
وہ مسکرا کر اسکے ہاتھ سے نوالہ لے کر کھانے لگیں۔۔
“آپ بیٹھیں چاۓ میں بناتا ہوں اپنی امّاں جان کے لئے۔۔
انہیں چاۓ بنانے کے لئے اٹھتے دیکھ اس نے نرمی سے انھیں چیئر پر بیٹھایا۔۔
ان سے دن بھر کے متعلق چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے وہ چاۓ لے کر انکے پاس آ بیٹھا ۔۔
“امّاں جان ایک بات کہنا چاہتا تھا۔۔
کچھ سوچ کر اس نے انکی جانب دیکھا۔۔
“کہو میرے بچے۔۔ تمہیں اجازت کی کیا ضرورت۔۔
“اماں جان ہم بیلا کو نرمی سے بھی ہینڈل کر سکتے ہیں نا مطلب پیار محبت سے کچھ انکی باتیں سن کر کچھ اپنی سمجھا کر۔۔
وہ باغور انکی جانب دیکھتا ٹھہر ٹھہر کر الفاظ ادا کر رہا تھا۔۔
“ہم نے کب سختی کی اسکے ساتھ ابراھیم۔۔
انکے موڈ یکلخت بدل گیا تھا۔۔
ابراھیم نے الجھ کر انھیں دیکھا۔۔ بچپن سے آج تک ایک چیز جو اس نے شدّت سے محسوس کی تھی وہ امّاں جان کی بیلا سے دوری تھی۔۔ اسے اس بات کا اچھی طرح احساس تھا کے بہت سے معاملوں میں سدرہ بیگم بیلا کے ساتھ زیادتی کر جاتی ہیں۔۔ لیکن وجہ جاننے سے وہ قاصر تھا۔
اس سوچ سے جو ہمدردی دل میں بیلا کے لئے آتی تھی وہ اگلے ہی لمحے بیلا اپنی خود سری سے ختم کر دیتی تھی۔۔
ہنسی کی تیز آواز پر وہ سوچوں سے نکلا تو سدرہ بیگم کو ٹیبل پر موجود نہیں پا کر گہری سانس لے کر رہ گیا۔۔
اسٹڈی روم سے سب جے ہنسنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔ وہ رات کے اس سناٹے میں کچھ زیادہ ہی تیز معلوم ہو رہی تھیں۔
وہ خود بھی اس جانب چلا آیا۔۔
آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو اسے خوش گوار سی حیرت ہوئی۔۔
سامنے ہی بیلا زوار پر کشنز برساتی کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔۔
ہلکے گلابی رنگ کا پیروں تک آتا چوغہ نما اپنا مخصوص نائٹ ڈریس پہنے جسکی لمبی آستین اسکی نازک انگلیوں کو ڈھانپے ہوئی تھیں۔۔ بالوں کو اونچی پونی میں قید کئے ہنسنے کی وجہ سے اسکی تھوڑی کے بیچو بیچ وہ گڑھا بھی اسکے ساتھ مسکرا رہا تھا۔۔
اطہر ملک اور افضل ملک کے ساتھ بیٹھی شیریں بھی بیلا کو یوں ہنستے دیکھ مسکرا رہی تھی۔۔
“زوار مان لو ہار گئے ہو مجھ سے۔۔
وہ اب بھی کھلکھلاتی ہوئی پیچھے کی جانب ہوتی بےتحاشا ہنس رہی تھی۔۔
زوار نے ہنستے ہوئے سر کو خم دیا۔۔ اگر اسکے ہار جانے سے بیلا خوش ہو رہی تھی تو ہارنے میں کوئی مذائقہ نہیں تھا۔۔
ابراھیم کے لب بھی بےساختہ مسکرا اٹھے۔۔
یہ لڑکی جانتی ہی نہیں کے وہ ان سب کو کتنی پیاری ہے۔۔
“کیا چل رہا ہے۔۔
اسکی بھاری آواز پر اسکی ہنسی ایک پل کو تھمی۔۔ اور دیکھتے دیکھتے اسکے لب سمٹ سے گئے۔۔ چہرے پر وہی بیزار سا عکس لہرانے لگا۔۔
ابراھیم کا دل پل کو اداس ہوا۔۔ کیا تھا جو وہ چند لمحے مزید اسے یوں ہنستے ہوئے دیکھ لیتا۔۔
اتنی انمول ہنسی کبھی کبھی ہی دیکھنے کو ملتی تھی۔۔
۔
“پنجہ لڑا رہی تھی بیلا مجھ سے۔۔ بندی نے ہرا دیا مجھے۔۔
زوار نے ہنستے ہوئے اسے بتایا۔۔ اسکی بات پر ابراھیم نے اسکے مضبوط توانا بازوؤں پر ایک نظر ڈالی اور پھر اس نازک سی کانچ کی گڑیا جیسی لڑکی کے سراپے پر نظر ڈالتا وہ محفوظ ہو کر مسکراتا بیلا کے مقابل آ بیٹھا۔۔
۔
“مجھ سے بھی جیت جائیں بیلا۔۔
آنکھوں میں الگ سا ایک احساس لئے وہ اسے گڑبڑانے پر مجبور کر رہا تھا۔۔
اطہر صاحب کے ساتھ افضل صاحب کے لبوں پر بھی مسکان بکھری۔۔
جب کے شیریں حیران سی ان دونوں کو آمنے سامنے دیکھ رہی تھی۔۔
۔
“آپکا مجھ سے کوئی مقابلہ نہیں۔۔
وہ اٹھ کر جانے لگی۔۔
“تو پھر جیت کر ثابت کرتی جائیں نا۔۔
بیچ میں رکھے کشن پر کہنی کے بل ہاتھ رکھتا وہ شرارت سے بولا۔۔ وہ سب جانتے تھے وہ اسے طیش میں لانے کے لئے کہ رہا ہے اور وہ کامیاب بھی ہو گیا تھا۔۔
وہ کالی آنکھوں سے اسے گھورتی مقابل آ بیٹھی۔۔ زوار نے اؤ کی آواز نکالتے لب سیٹی کے سے انداز میں گھمائے۔۔
خود بھی کہنی کے بل ہاتھ رکھتے وہ بیٹھ گئی۔۔
وہ محفوظ سا ہوتا مسکرا اٹھا۔۔
اسکے مضبوط گرم ہاتھوں کا لمس اسکے سرد ہاتھوں میں پڑتے ہی اسکے وجود میں کرنٹ سا دوڑ گیا تھا۔۔ اسکے ہاتھوں کا لمس تھا یا یوں مقابل بیٹھنے کا اثر وہ سرخ سی ہو رہی تھی۔۔
“چھ چھوڑیں میرا ہاتھ۔۔
جھٹکے سے اپنا ہاتھ الگ کرتی وہ کمرے سے نکلتی چلی گئی۔۔
اپنے احساسات وہ خود سمجھنے سے قاصر تھی۔۔ دل سو کی سپیڈ سے دھڑک رہا تھا۔۔
“غربت کی چلتی پھرتی مشین۔۔
اور کچھ سمجھ نہیں آیا تو اپنا مخصوص جملہ اس پر اچھال کر کمرے کا دروازہ بند کر گئی۔۔
پیچھے زوار کے ساتھ وہ ہنس پڑا۔۔
شیریں حیرت سے اطہر ملک کو دیکھ رہی تھی جنکے چہرے پر الگ سی چمک تھی۔۔ جسے وہ کوئی نام نہیں دے سکی۔۔
وہ سب بھی ہنستے ہوئے اپنے کمروں کی جانب بڑھ گئے۔۔
رات کے آخری پہر بہت آہستہ سے اسکے کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔۔ اسکے کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی جس سے کمرے ٹھنڈ میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔۔ وہ دبے قدموں چلتا بیڈ کے سامنے رکھی کرسی پر آ بیٹھا۔۔
۔
وہ اسکی موجودگی سے لاعلم بےخبری کی نیند سو رہی تھی۔۔ ایک ہاتھ بیڈ سے ڈھلک کر نیچے آ گیا تھا۔۔ ایک ہاتھ سینے پر دھرے۔۔ بالوں کی پونی اب ڈھیلی ہو گئی تھی۔۔ نیم اندھیرے میں کھڑکی سے داخل ہونے والی روشنی گلابی چہرے پر پڑتی بھلی معلوم ہو رہی تھی۔۔ نیند میں اسکے گلابی لب جنہیں وہ ہمہ وقت بھینجے رہتی تھی ہلکا سا کھلے ہوئے تھے۔۔ بند آنکھوں پر سایہ فگن اسکی لمبی خمدار پلکیں اسکی ساری توجہ اپنی جانب کھنچ رہی تھیں۔۔
اسکے دل نے شدّت سے ان پلکوں کو چھونے کی خواہش کی۔۔
دل کی خواہش پر لبیک کہتے اسنے آہستہ سے اسکی پلکوں کو انگلی کی پوروں پر محسوس کیا۔۔
“آپ کا لمس گوارا نہیں ہے مجھے۔۔
اسکے غصّے سے بھری آواز یاد آتے ہی اسکا وہ عمل بھی نظروں کے سامنے گھوم سا گیا تھا ۔۔
اس نے آہستہ سے اسکا ہاتھ ہاتھوں میں لیا۔۔ پوری آستین کی وجہ سے وہ نشانات چھپ گئے تھے۔۔
بازو سے اسکی آستین اوپر کر کے اس نے جیب سے آئنٹیمنٹ نکال کر نرمی سے ان نشانات پر لگایا۔۔
اسکی انگلیوں کے نشان اب مدھم پڑھ گئے تھے۔۔
“میرا لمس آپ کو گوارا ہونا چاہئیے۔۔
ان نشانات پر لب رکھتے وہ سرگوشی کی سی آواز میں بول رہا تھا۔۔
۔
“آپ خود مجبور کر دیتی ہیں مجھے سختی پر بیلا”۔۔
احتیاط سے اسکا ہاتھ بیڈ پر رکھ کر کمفرٹر اس پر درست کر کے اسکی خمدار پلکوں کو پورے حق سے لبوں سے چھوا۔۔
“بیوی پر حق جتانے کہا تھا آپ نے۔۔
اسکے کھلے لبوں کو انگلیوں سے بند کرتے وہ ہلکا سا ہنسا۔۔
“کاش آپ کو علم ہوتا آپ کس پر حق جتانے کی بات کر رہی تھیں “۔۔
اسکی پیشانی پر اپنا لمس چھوڑ کر انگلی سے اسکے بازو کو سہلاتے وہ وہیں بیٹھ گیا۔۔ صبح ہونے سے کچھ دیر پہلے وہ اسی خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا جاتا جتنی خاموشی سے آیا تھا۔۔
جاری ہے۔۔
