No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٢٩
۔
وہ لان میں اپنی مخصوص جگہ ناریل کے اس بوڑھے پیڑ کے نیچے بیٹھی تھی۔۔
جب سورج ڈوبے سانجھ بہئےاور پھیل رہا اندھیارا ہو
کسی ساز کی لے پر چھنن چھنن
کسی گیت کا مکھڑا جاگا ہو۔۔
وہ پیر جھلاتی ابن انشاء کی نظم گنگنا رہی تھی۔۔ آنکھیں موندے دھیمی آواز میں۔
وہ جو غصّے کو کنٹرول کرتے گھر کے داخلی دروازے سے داخل ہو رہا تھا۔۔ اسے یوں دیکھ کر سارا غصّہ کہیں دور جا سویا تھا۔۔
“کوئی مجھ سے میری آخری خواہش کی بابت سوال کرے تو میں کہوں،، آخری دیدار بھی آپکا کرنا چاہتا ہوں۔۔ آنکھوں میں آپ کی صورت لئے چین سے موند لینا چاہتا ہوں، بیلا “_ اسکا سندر مکھڑا آنکھوں میں بسائے وہ خود ہی خود بڑبڑایا۔۔ ۔ جب سورج ڈوبے سانجھ بہئےاور پھیل رہا اندھیارا ہو کسی ساز کی لے پر چھنن چھنن کسی گیت کا مکھڑا جاگا ہو۔۔ ہو چاروں اوٹ سوگھند بسی یوں منظر پہنا گجرا ہو یہ عنبر کے مکھ کا آنچل ,اس آنچل کا رنگ اودا ہو۔۔ ایک گوٹ دو پیلے تاروں کی اور بیچ سنہرا چندا ہو۔۔ پاس آنے پر اسکی مدهر سرگوشی نما آواز سماعت میں رس گھولتی محسوس ہو رہی تھی۔۔ اسکے چہرے پر خوشی کے یہ رنگ وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا۔۔ اور پھر وہ نظم۔۔ اسکی میٹھی آواز۔۔ وہ گنگناتی بھی تھی۔۔ وہ ہلکا سا ہنسا۔۔ ۔ اس سندر شیتل شام سمے,ہاں بولو بولو پھر کیا ہو؟ اسکی سرگوشی کچھ بلند ہوئی۔۔ پاس کھڑے ابراھیم کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔۔ “اس سندر شیتل شام سمے,ہاں بولو بولو پھر کیا ہو؟” وہ اسکی جانب جھکتا گھمبیر لہجے میں بولا۔۔ بھاری مردانہ آواز پر وہ جھٹکے سے سیدھی ہوئی۔۔ ۔ “ہٹیں۔۔ مجھے جانا ہے۔۔ سپاٹ لہجے میں بولتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ وہ اب بھی اسی طرح کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔ پیچھے سے اسکی کلائی تھامتا دھیرے سے بولا۔۔ اس سندر شیتل شام سمے,ہاں بولو۔۔ بولو پھر کیا ہو؟ اس نظم کا آخری مصرع بولتے وہ سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔۔ “ابراھیم “۔۔ بیلا نے کچھ کہنا چاہا۔۔ پیشانی پر لب رکھتے وہ اسے کہنے سے روک چکا تھا۔۔ “وہ جس کا ملنا ناممکن، وہ مل جائے تو کیسا ہو ؟” اسکی بھاری آواز میں واضح کرب تھا۔۔ وہ ہل بھی نہیں سکی۔۔ “چادر لے لیں۔۔ اور میرے ساتھ آئیں۔۔ کچھ لمحے بعد وہ خود ہی پیچھے ہوا۔۔ اسکا دایاں گال نرمی سے سہلاتا وہ سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھتے بولا۔۔ “کہاں ؟” بیلا نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔ “کوئی کام بنا سوال کئے بھی کر لیا کریں بیلا”۔۔ وہ اس وقت واقعی سنجیدہ تھا۔۔ ۔ “چادر نہیں ہے میرے پاس۔۔ سب تو آپ واپس لے لیتے ہیں “۔۔ وہ مزے سے سارا الزام اسکے سر دے چکی تھی۔۔ وہ اسے یہ نہیں بتا پائی کے اسکا اپنی چادر اپنے ہاتھوں سے پہنانا اسکی عادت بن چکا ہے اور شاید پسند بھی “_
ابراھیم نے آنکھیں چھوٹی کئے اسے گھورا جو شرارت سے مسکراہٹ دبائے کھڑی تھی۔۔ تھوڑی وہ گڑھا اسکی اٹھتی تھوڑی پر مزید گہرا ہوئے سنگ مسکرا رہا تھا۔۔
بلآخر وہ خود بھی مسکرا اٹھا۔۔
“کبھی کبھی اظہار کر کے مقابل کو بھی خوشی محسوس ہونے دیتے ہیں مسز ابراھیم ملک “۔۔
اپنے کاندھوں سے چادر اتارتے اسکے سر پر سجا کر شانوں کو ڈھکتے وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا سنجیدگی سے بولا تھا۔۔
وہ اسکی خوشبو کے حصار میں گھری نظریں چرا گئی۔۔
ایسا کیسے ہو سکتا تھا کے ابراھیم ملک اسکی آنکھوں کی زبان نہیں سمجھ سکتا۔۔ وہ تو اسکی دل کی خواہش زبان پر لانے سے پہلے پوری کر دینا جانتا تھا۔۔
۔
وہ اسے بتانا چاہتی تھی کے اسکی خوشبو کی عادی ہو گئی ہے۔۔ اسکی خوشبو میں اسے تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔۔ اسکے آس پاس ہونے کا احساس ہوتا ہے۔۔
لیکن بتا نہیں سکی۔۔ اسے بتانے کی شاید ضرورت بھی نہیں تھی۔۔
اسکے چہرے کی کھلتی رنگت میں دوڑتی سرخیاں۔۔ تھوڑی کے اس گڑھے کا اسکے لبوں کے ساتھ مسکرانا۔۔ اٹھتی گرتی پلکوں کی چلمن سب واضح کر رہی تھی۔۔
وہ نچلا لب دبائے مسکرایا۔۔ جیسے اسکی دل کی حالت سے محظوظ ہوا ہو۔۔
اسکی جانب دیکھتی بیلا رخ پھیر گئی۔۔
“غربت کی مشین۔۔ مسکراتا اتنا پیارا ہے۔۔ سستا آدمی۔۔
وہ بڑبڑاتی ہوئی تیز قدموں سے آگے بڑھی تھی۔۔
وہ مزید دلکشی سے مسکراتا اسکے تعاقب میں بڑھا۔۔
وہ پوری توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کئے گاڑی سنسان سڑک پر گامزن تھی۔۔ انجان رستے دیکھتی بیلا کن آنکھیوں سے اسے دیکھ رہی تھی جسکے چہرے کے تاثرات یکسر مختلف تھے۔۔ گاڑی ایک انڈر کنسٹرکشن فیکٹری کے باہر رکی تھی۔۔
“ابراھیم یہ کون سی جگہ ہے ؟”
وہ مسلسل الجھتی سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی جو اسکا ہاتھ تھامے پر سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔۔
سیڑھیاں ختم ہوتے وہ اب ایک زیر تعمیر کمرے میں موجود تھے۔۔ جہاں ہینڈ کف کے ذریعے بندھے دیوار کے ساتھ کھڑے وہ دو لڑکے تھے۔۔ بیلا کو پہچاننے میں وقت نہیں لگا یہ وہی دو لڑکے تھے جنہوں نے کل رات اس سے بدتمیزی کی تھی۔۔
انکی حالت سے اندازہ ہو رہا تھا کے ان پر خاصا تشدد ہوا ہے۔۔
ساتھ ہی ایک لمبے قد کا مضبوط جسامت والا آدمی ان سے کچھ دوری پر کھڑا تھا۔۔ ابراھیم کی جانب دیکھتا ہلکا سا جھک کر سر کو خم دیا۔۔۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے منع کرنے لگا۔۔ بیلا کا دھیان اس وقت ان دو لڑکوں پر تھا۔۔ انکی حالت دیکھ لینے کے بعد اسے تھوڑا بہت تو اندازہ ہو گیا تھا۔۔
“ان میں سے کس نے ہاتھ اٹھایا تھا بیلا “۔۔
نرمی سے اسکا ہاتھ تھامے وہ انکے آگے آ کھڑا ہوا۔۔ بیلا نے ایک نظر ان پر ڈالی جنکی حالت اس وقت قابل رحم لگ رہی تھی۔۔
“ہاتھ کس نے اٹھایا تھا بیلا “۔۔
وہ ایک بار پھر اپنا سوال دوہرا رہا تھا۔۔ اسکی آواز خاصی بلند تھی۔۔
وہ بولی پھر بھی کچھ نہیں۔۔ اسکی نظریں بےاختیار اس لڑکے کی جانب اٹھیں۔۔ اسکی نظر کے تعاقب میں دیکھتا ابراھیم لب بھینچ گیا۔۔ اسکی آنکھوں میں خون اتر آیا۔۔
بیلا کو پیچھے ہٹاتے وہ اس لڑکے پر پل پڑا۔۔ اسے یوں مارتے دیکھ بیلا کی آنکھوں پہلی بار خوف کی لہر دوڑی۔۔ ابراھیم کا یہ روپ اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔
“میری بیوی کو ہاتھ لگایا۔۔ جسکو میں نے آج تک سخت نظروں سے نہیں دیکھا اس پر ہاتھ اٹھایا۔۔
وہ اسکے زخمی ہاتھ پر مسلسل مکے برسا رہا تھا۔۔ وہ لڑکا درد کی شدّت سے بلبلا رہا تھا۔۔ لیکن اسکا جنون کم ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔۔ دیوار پر بندھے اسکے ہاتھوں میں مارنے کی وجہ سے اسکے اپنے ہاتھ بھی زخمی ہو رہے تھے۔۔ بیلا نے اس لمبے قد والے آدمی کی جانب دیکھا جو سر جھکائے یوں کھڑا تھا جیسے موجود ہی نا ہو۔۔
۔
“ابراھیم وہ مر جائے گا۔۔ چھوڑ دیں اسے “۔۔
اسکے شانے پر ہاتھ رکھتے وہ خوفزدہ سی بولی۔۔ لیکن وہ تو جیسے اسے سن ہی نہیں رہا تھا۔۔ اسکے چہرے پر ان انگلیوں کے نشان وہ کل سے آج تک کیسے برداشت کر رہا تھا وہی جانتا تھا۔۔ اسکا غصّہ کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا۔۔
۔
“پیچھے ہٹیں بیلا۔۔ گاڑی میں بیٹھیں میں آ رہا ہوں۔۔
وہ سنجیدگی سے بولتا اب ڈرل مشین کی جانب بڑھا تھا۔۔ اسکے ہاتھ میں موجود مشین دیکھ کر اس لڑکے کے ساتھ بیلا کی آنکھوں میں بھی خوف اترا۔۔
“ابراھیم نہیں۔۔ یہ نہیں کریں۔۔ پلیز۔۔
وہ جلدی سے آگے آتی اسکے ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔۔
۔
“سمجھ نہیں آ رہی آپ کو گاڑی میں بیٹھیں جا کر۔۔
اسکی دھاڑ پر وہ دو قدم پیچھے ہوئی۔۔ وہ کب اس انداز میں اس سے مخاطب ہوتا تھا۔۔ آنکھوں میں ضبط کے باوجود بھی نمی چمکی۔۔
۔
“نہیں ہو رہی میں پیچھے۔۔ ماریں مجھے بھی۔۔
روندھی آواز میں بولتی وہ ڈٹ کر کھڑی ہو گئی۔۔ سر جھکائے شخص نے حیرت سے اس لڑکی کی جانب دیکھا جو ابراھیم ملک کے آگے چڑیا سی دکھتی تھی۔۔
“بیلا __
اسکی آنکھوں میں نمی چمکتی دیکھ وہ لب بھینچ کر غصّہ ضبط کر گیا۔۔
“بیلا جائیں ہنی۔۔
اب کی بار نرمی سے بولا۔۔
“نہیں۔۔۔ چھوڑ دیں اسے۔۔ اس طرح نہیں کریں۔۔ سزا دے دی ہے آپ نے وہی کافی ہے”۔۔
وہ سنجیدگی سے بولتی آنکھوں میں مان لئے اسے دیکھنے لگی۔۔ اسکا کہا کہاں ٹالتا تھا وہ۔
“اب تک صرف آپ کو ہاتھ لگانے کی سزا ملی ہے انہیں۔۔ ابراھیم ملک کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی۔۔ میری محبت پر ہاتھ اٹھانے کی اتنی سزا کافی نہیں ہے۔۔ اب آپ جائیں گاڑی میں بیٹھیں۔۔ مجھے مجبور نہیں کریں کے میں دوسرا طریقہ اپناؤں۔۔
اسکی آنکھوں میں آئی نمی سے نظریں چراتے اس نے سنجیدگی سے کہا ۔۔
۔
“نہیں جا رہی میں۔۔ جو کرنا ہے میرے سامنے کریں۔۔ میں بھی یہی کھڑی دیکھونگی۔۔
وہ بھی ضدی انداز میں بولتی اسکے قریب آ کھڑی ہوئی۔۔ ابراھیم اسے انکار رہا تھا۔۔ شاید یہ پہلی بار تھا کے ابراھیم ملک اسے انکار رہا تھا۔۔ وہ تو اسے اپنے آگے سر تسلیم خم کرتے دیکھتی آئی تھی۔۔ اسکا انکار برداشت کہاں ہو رہا تھا۔۔
۔
“عقیلہ میڈم کو گاڑی تک لے جاؤ”۔۔۔
وہ بلند آواز میں پکارتا اس لڑکے کی جانب جھکا۔۔
بیلا نے اسکے تعاقب میں دوسری جانب دیکھا جہاں سے طاقتور سی قدرے کرخت چہرہ لئے عورت آئی تھی۔۔ وہ اسکی جانب آتی اسے کسی چیز کی طرح اٹھا کر کندھے پر ڈالتی سیڑهیوں کی جانب بڑھ گئی۔۔
۔
“ابراھیم۔۔۔ چھوڑو مجھے موٹی عورت۔۔ ابراھیم اسے کہے مجھے چھوڑے۔۔
وہ بےیقینی سے ابراھیم کو دیکھتی اپنے ہاتھ پیر مار رہی تھی۔۔
“ابراھیم ملک میں آپ کی جان لے لونگی۔۔ اس کو کہیں مجھے چھوڑے۔۔
اسکی آوازیں اب بھی آ رہی تھی۔۔
وہ عورت کان لپیٹے اسے لئے گاڑی تک آئی تھی۔۔
“آپ یہاں رہیں میڈم “۔۔
اسے گاڑی میں بیٹھا کر وہ عورت گاڑی لاک کئے چلی گئی تھی۔۔
“میں چھوڑونگی نہیں غربت کی اس مشین کو۔۔
وہ غصّے سے آنسوں پی کر رہ گئی۔۔ اسے اب بھی یقین نہیں آ رہا تھا کے ابراھیم نے اسے اس طرح بھیجا ہے۔۔
انگریشن میں موجود چابی موجود دیکھ کر اسکی آنکھیں چمکی۔۔
“اب آنا پیدل۔۔ سستا ولن۔۔ ہیرو تو ہے ہی نہیں یہ۔۔ غریب آدمی۔۔
اسے صلواتے سناتی وہ گاڑی سٹارٹ کرتی نکل چکی تھی۔۔
نیلگوں آسمان سُرخیوں کی زد میں ہے
آخر ہو بھی کیوں نا ,
دھرتی پر موجود ایک خوبرو دوشیزہ گُل احمرین نے
سُرخ پوشاک کو زیب تن کیا ہے
جس کی تابناکی نے دھرتی تو دھرتی آسماں پر موجود
بادلوں تک کو اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے
فضائیں لال رنگ کے خلیوں میں رچی بسی ہوئی ہیں
دور پار مندروں میں پوجا کرتے ذی روح
سندور کے لیے لائے لال رنگ سے محروم ہو چکے ہیں
کیونکہ وہ لال رنگ ہواؤں میں خوشی سے دیوانہ وار
جھوم رہے ہیں
باغات میں لال گلاب جلن اور حسد کے مارے مرجھانا
شروع ہو چکے ہیں
سرخ رنگ رکھنے والی تتلیاں اپنے جمال سے محروم
ہو کر بطور احتجاج سینہ کوبی کر رہی ہیں
کوقاف کی پریاں سرخ پوشاک میں زیب تن دیکھ کر
اس کے لیے خوشی سے جھوم رہی ہیں
اور پکار رہی ہیں دیکھو دیکھو آج دھرتی محبت سے
سرشار ہو گئی ہے
آج اس حسینا نے دھرتی کو دلہن کی طرح خوبصورت
بنا دیا ہے..
(منقول )
۔
“مما یہ میں نہیں کر سکتی کیری۔۔ دیکھیں ایک قدم نہیں چل پا رہی ہوں میں۔۔ میں کچھ اور پہن لیتی ہوں نا۔۔ آپ زاوی سے بات کر لیں نا۔۔
وہ آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھتی روہانسی ہوتی اپنا جائزہ لے رہی تھی۔۔
“کچھ نہیں ہوا مما کی جان۔۔ دیکھو کتنی پیاری لگ رہی ہو۔۔ اب اپنی شکل سدھارو۔۔ اس طرح روتی بسورتی نہیں رہا کرو۔۔ شوہر ہے تمہارا۔۔ ایک چیز اس نے اپنی پسند سے تمہارے لئے لی ہے تو اسکا مطلب یہی ہے نا کے وہ تمہیں اس میں دیکھنا چاہتا ہے۔۔ ہر طرح سے تمہارا خیال کرتا ہے زوار۔۔ اب یہ تمہارا بھی فرض ہے شیریں کے تم اسکی خواہشات کا احترام کرو۔۔ عمر کے فرق سے باہر نکلو۔۔ اسکا رتبہ اللہ نے تم سے اونچا رکھا ہے میری جان۔۔ تمہارا سائبان ہے وہ۔۔
وہ ساڑھی سیٹ کرتیں سنجیدگی سے اسے سمجھا رہی تھیں۔۔
۔
“چلو اب باقی کی تیاری کر لو تم۔۔ تمہارے بابا آنے والے ہیں میں ذرا ڈنر کی تیاری دیکھ لوں “۔۔
وہ اسکا ماتھا چومتی اسے ھدایت کر کے کمرے سے نکل گئیں۔۔
انکے جانے کے بعد اس نے آئینے میں نظر آتا اپنا عکس دیکھا۔۔ اس نے کبھی اس طرح کی ڈریسنگ نہیں کی تھی۔۔ آج زوار کا پہلا آفیشل ڈنر تھا۔۔ اس نے اس سے پہلے اس طرح کے ایونٹس اٹینڈ نہیں کئے تھے۔۔ وہ نروس سی لب کاٹتی ڈریسنگ مرر میں نظر آتے اپنے عکس کو گھور رہی تھی۔۔
یکدم ہی آئینے میں دروازہ کھول کر اندر آتے زوار کا عکس بھی ابھرا۔۔ وہ بےاختیار رخ موڑے اسے دیکھنے لگی۔۔
بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس وہ عجلت میں داخل ہوا تھا۔۔ لیکن اسے دیکھنے کے بعد پرسکون سی سانس فضا کے سپرد کرتے مسکراتا ہوا اسکی جانب آیا۔۔
اسکی پسند کی ساڑھی میں ملبوس اسکا نازک سراپا اسکی تمام تر توجہ اپنی جانب مبذول کر رہا تھا۔۔ سلونی سی رنگت کی حامل وہ نازک لڑکی زوار ملک کو چارو شانے چت کر گئی تھی۔۔ لمبے بال کمر پر بکھرے ہوئے تھے۔۔ تیکھی ناک میں چمکتی لونگ۔۔
اسکے لئے تو یہ دو سنگھار ہی کافی تھے۔۔
اسکی نظروں کی تپش سے وہ سرخیوں میں گھلتی کانپتے ہاتھوں سے جلدی جلدی بال سلجھانے لگی۔۔
“بب بس ہو گئی ہوں میں ریڈی۔۔
اسے خود کو یوں تکتے دیکھ وہ دھیرے سے بولی۔۔ بالوں کو کمر پر ڈالتی نیچرل شیڈ کی لپسٹک لگانے لگی۔۔
“یہ لگا لیں “۔۔
اسکے قریب ہوتا وہ سنجیدگی سے اسکی جانب ڈارک شیڈ کی لپسٹک بڑھا کر بولا۔۔ وہ اسکے ہاتھوں سے لیتی اسکی بات پر عمل کر گئی۔۔۔
۔
“بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ۔۔ سموکنگ آج سے ہی چھوڑنے کا ارادہ کر لیا میں نے۔۔ انعام کے بارے میں کیا خیال ہے وائفی”۔۔
وہ گھمبیر لہجے میں بولتا اسکے قریب ہوا۔۔ نرمی سے اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔
۔
“زز زاوی۔۔
وہ کانپتے لہجے میں اسکا نام پکارتی خود بھی لرز رہی تھی۔۔
مگر آج وہ دور نہیں ہوا تھا۔۔
۔
“بالوں کو کھلا نہیں چھوڑیں۔۔
سنجیدگی سے کہتا وہ ڈریسنگ ٹیبل سے جیولری باکس اٹھا چکا تھا۔۔
“یہ میں نے آپ کے لئے ہی لیا ہے “۔۔
وہ لب کاٹتی اسکے ہاتھ سے باکس لیتی جیولری پہننے لگی۔۔
بالوں کو جوڑے کی شکل دے کر اس نے اسکی جانب ایسے دیکھا جیسے کہ رہی ہو اور کوئی حکم۔۔
اسکی ناک کی نوک پر لب رکھتے مسکراہٹ دبائے اسے دیکھنے لگا جو ہولے ہولے لرزتی آنکھیں بند کئے کھڑی تھی۔۔
“آجائیں “۔۔
اپنی پرفیوم اس پر سپرے کرتے اسے اپنی خوشبو میں مہکانے کے بعد وہ گاڑی کی چابی اٹھاتا نرمی سے بولا۔۔
“زز زاوی۔۔
وہ ہاتھوں میں ایک باکس لئے دھیمے لہجے میں اسے پکار رہی تھی۔۔
“جی “۔۔
وہ اسکی جانب متوجہ ہوا۔۔
وہ خوبصورت پیکنگ میں لپٹا کوئی باکس اسکی جانب بڑھا رہی تھی۔۔ زوار نے بھنویں اچکا کر اسکی جانب دیکھا۔۔
“تمہارا گفٹ ہے۔۔ تت تم نے کہا تھا تمہیں انعام چاہئیے “۔۔
اسکی جانب دیکھتی وہ دھیرے سے بولی۔۔
وہ محظوظ ہوتا مسکرا اٹھا۔۔
“میں نے یہ بھی تو کہا تھا کہ انعام مجھے اپنی پسند کا چاہئیے “__
آ تجھے لمس کی حدت سے, مکمل کر دوں
میں نے اِک عمر, اِسی فن کی ریاضت کی ہے۔۔
اسکی لونگ کو چھیڑتے وہ مسکراہٹ دبا گیا۔۔ اسکی شیریں آج بھی اسے بچہ سمجھ رہی تھیں۔۔
“تم تمہاری پسند کک کا ہی ہے “۔۔
وہ ادھر ادھر دیکھتی اب بھی اسکی جانب وہ باکس بڑھائے کھڑی تھی۔۔
“آپ کچھ بھی دینگی مجھے پسند آئیگا “۔۔
اسے قریب کرتے وہ کھولنے کا اشارہ کرنے لگا۔۔ اپنی پسند کا پرفیوم دیکھ کر اسکے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔ وہ اسکی پسند نا پسند سے اچھی طرح واقف تھی۔۔
“تت تمہیں پسند آیا ؟”
وہ اس کی جانب دیکھتی پوچھنے لگی۔۔
“ہمم بہت۔۔
وہ ہولے سے مسکراتا آنکھوں میں شرارت لئے اسے تک رہا تھا۔۔
اسکی نظروں میں مخفی مطلب سمجھتے وہ ناظریں چرا گئی۔۔
جاری ہے۔۔
