Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٢٦


شام کے ڈھلتے سائے میں افق پر گلال سی ابھر رہی تھی۔۔ پرندے اپنی منزل کی جانب گامزن تھے۔۔ کھڑکی کھلی ہونے کی وجہ سے سرد ہوا کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔۔ وہ کھڑکی کے اس پار کھڑی آسمان کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔ نیلے آسمان پر جگہ جگہ ہلکورے لیتے سرمئی بادل اور سورج کی اختتامی سرخی قدرت کا یہ حسن اسے مسمرائز کر رہا تھا۔۔ ایک اور دن ختم ہونے کو تھا۔۔ کتنی تیزی سے دن گزر رہے تھے۔۔ اور اتنے ہی بےکیف سے۔۔ چار ماہ ہو گئے تھے انکی شادی کو چار ماہ میں زوار نے اسے اتنی محبت دی تھی کے وہ خود اپنی قسمت پر حیران تھی۔۔ وہ اسکا ہر کام خود کرتا تھا۔۔ اسکے معاملے میں اسے سدرہ بیگم پر بھی بھروسہ نہیں تھا۔۔ اسکی میڈیسنز۔۔ مساج۔۔ ڈاکٹر کا وزٹ۔۔ اپنی ٹف شیڈول کے باوجود بھی وہ اسکی جانب سے لاپرواہی نہیں برتتا تھا۔۔۔ کسی چھوٹے بچے کی مانند وہ اسکا خیال رکھتا وہ ہر کام کے لئے اسے اپنا عادی کر چکا تھا۔۔
۔
سرخ اور سیاہ کے امتیزاج کا گرم سوٹ پہنے سرخ رنگ کی شال اپنے گرد ڈالے وہ سوچوں میں گم بےخبر سی کھڑی تھی۔۔ وہ شاید کچھ دیر پہلے ہی نہا کر نکلی تھی۔۔ ہلکے نم بال کمر پر بکھرے ہوئے تھے۔۔
۔۔
“کب کبھی چھوڑ کر نہیں گیا۔۔ عادی بنایا اور اب دو دن سے شکل بھی نہیں دکھائی۔۔ نوکری کو بیوی بنا لیا ہے۔۔ اور یہاں بیوی انکے انتظار میں مر رہی ہے۔۔
۔
وہ نم آنکھوں سے بڑبڑائی۔۔ دو دن پہلے رات کو ایمرجنسی کال پر زوار گیا تھا۔۔ وہ سو رہی تھی تو وہ سدرہ بیگم کو اسکے پاس چھوڑ گیا تھا۔۔ اسکے جاگنے پر سدرہ بیگم نے بتایا کے کسی ایمرجنسی میں ضرورت ہونے کی صورت اسے جانا پڑا تھا۔۔ وہ دل مسوس کر رہ گئی۔۔ کل ہی اس نے ابراھیم کو کال کی تھی کے ایک دن مزید وہ گھر نہیں آسکے گا۔۔
وہ اپنی حالت خود بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی۔۔ چار ماہ وہ پاس تھا تو احساس ہی نہیں ہوا۔۔ دو دن سے وہ نہیں تھا تو کمرہ کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔۔
چار مہینوں وہ اسکی عادی ہو گئی تھی۔۔ اسکی نرمی کا ہی اثر تھا کے وہ اسے اپنے مسائل بتانے لگی تھی۔۔ بنا ڈرے اس سے باتیں کرنے لگی تھی۔۔ انکے رشتے میں پہلے جیسی بےتکلفی نا صحیح لیکن کافی حد تک تکلف کی دیوار گر چکی تھی۔۔ اس نے کہا تھا وہ اسے وقت دیگا تو پچھلے چار مہینوں سے خود پر ضبط کئے وہ اسکی دلی آمادگی کا منتظر تھا۔۔
۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو سب سے پہلی نظر اس دشمنِ جاں پر گئی۔۔ ساتھ ہی معصوم سا شکوہ بھی سماعت کی نذر ہوا۔۔ موبائل۔۔ گن۔۔ گاڑی کی چابی سائیڈ ٹیبل پر رکھتا وہ تکلیف کے باوجود اسکے شکوے پر مسکرا اٹھا۔۔
اسکی آنکھیں مسکرا اٹھیں۔۔ تمام تھکان کہیں دور جا سوئی تھی۔۔
۔
“بات بھی نہیں کرونگی میں۔۔ دو دن ہو گئے۔۔ سب کو کال کرتا ہے۔۔ مم مجھے کال نہیں کی۔۔ مجھ سے بات نہیں کی۔۔ ایسے محبت نہیں ختم ہوتی۔۔ زبردستی اپنے سینے پر سلا کر عادت خراب کر دی میری۔۔ نیندیں حرام کر دی ہیں “۔۔
وہ اب کھڑکی سے باہر دیکھتی اپنی بھراس نکال رہی تھی۔۔
لب دبائے قہقہا روکتا وہ اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا۔۔ یہ انداز۔۔ یہ لاڈ۔۔ اسکی شیریں کے اسکے ہی آگے تو کھلتے تھے۔۔
۔
“شوہر کی برائی کرنے والی بیویوں سے اللہ‎ ناراض ہو جاتا ہے وائفی”۔۔
اسکے بالوں کی خوشبو نتھوں میں اتارتے وہ خمار آلود لہجے میں بولا۔۔
وہ اچھل ہی پڑی۔۔
۔
“مم مجھے کوئی بات نہیں کرنی اپنے شوہر سے “۔۔
وہ جھنجھلا کر بولی۔۔ ساتھ ہی اس سے دور ہوتی خفگی سے اسے دیکھنے لگی۔۔
۔
“بات تو آپ ویسے بھی کوئی نہیں کرتیں اپنے شوہر سے۔۔ دو دنوں میں اتنے شکوے جمع کر لئے میرے خلاف ؟”۔۔
محبت سے اسکے نکھرے نکھرے چہرے کو دیکھتے اسکی ناک کو سہلایا جو ٹھنڈ کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی۔۔ سلونے سے چہرے پر کھڑکی کے درزوں سے پڑھتی سورج کی الوداعی دھوپ اسے سنہرہ سا روپ بخش رہی تھی۔۔
آنکھوں میں نمی چمکتے دیکھ اس نے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے اپنے قریب کیا۔۔
کسی قیمتی متاع کی مانند اسے بھینچتا وہ ہولے ہولے اسکے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔۔ صرف دو ہی دن تو اسے دیکھے بغیر گزارے تھے۔۔ وہ اسے کیا بتاتا کے یہ دو دن کتنے بھاری گزرے اس پر۔۔
وہ بنا کسی مزاہمت کے اسکے سینے سے لگی کھڑی تھی۔۔ یہی شدّت۔۔ یہی محبت تو دو دنوں سے اسے تڑپا رہی تھی۔۔
“مس کیا مجھے ؟”
ناک کی نوک پر پیار کرتے اس نے مسکاتے لہجے میں پوچھا۔۔
زور شور سے نفی میں گردن ہلاتی وہ دوبارہ اسکے سینے پر رکھ گئی۔۔ سختی سے دونوں ہاتھ اسکے گرد باندھ رکھے تو گویا گرفت نرم کی تو وہ پھر کہیں چلا جائیگا۔۔ وہ بھرپور انداز میں قہقہا لگا کر ہنس پڑا اسکا ہر ہر عمل ظاہر کر رہا تھا کے وہ دو دنوں میں ہر لمحے اسے یاد کرتی رہی ہے۔۔
۔
“میڈیسنز لیتی رہیں ہے نا وقت پر۔۔ اور مساج لیا ؟ امّاں جان سے کہ کر گیا تھا میں۔۔ کتنی کمزور لگ رہی ہیں، ڈائٹ صحیح نہیں لی نا میرے پیچھے ؟”
نرمی سے اسکے نازک وجود کو تھامے بیڈ تک آتے وہ ایک ایک چیز کا حساب لے رہا تھا۔۔ وہ خاموشی سے اسکے ساتھ لگی سن رہی تھی۔۔ اسے محسوس ہو رہا تھا وہ کتنا ضروری ہو گیا تھا اسکی زندگی میں۔۔
۔
“تم نے مجھے کال بھی نہیں کی۔۔ رات سب سے بات کی مم مجھ سے نہیں کی۔۔ میں اکیلی سو رہی تھی روم میں، مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔۔ مم مجھ سے مل کر نہیں گئے۔۔ میں سو رہی تھی تو مجھے جگا کر مجھ سے مل کر جا سکتے تھے نا۔۔
وہ لبوں پر مسکراہٹ لئے اسکے تمام شکوے سن رہا تھا۔۔
آہستہ سے اسکا چہرہ اٹھاتے چمکتی لونگ پر لب رکھتے گویا اسکے لبوں پر قفل لگا گیا تھا۔۔ وہ لرزتی ہوئی لب بھینچ گئی۔۔
۔
“اور بھی کوئی شکایت ہے ؟”۔۔
نرمی سے گال سہلاتے اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔
“کک کوئی شکایت نہیں ہے “
لرزتی آواز پر وہ مسکراتا ہوا پیچھے ہٹا۔۔
۔
“چلیں۔۔ اپنے ہاتھوں کی مزے دار سی کافی پلا دیں مجھے۔۔
اسکے گریز پر وہ نرمی سے بولا۔۔
“نیوز دیکھی آپ نے ؟”۔۔
اسکی بات پر اس نے نفی میں گردن ہلائی۔۔ نیوز دیکھنے میں اسے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔۔
“چلیں پھر کل رات آپ کے لئے ایک سرپرائز ہے “۔۔
وہ مسکراتا ہوا بولا۔۔
۔
“مم میرے لئے ؟”۔۔
وہ آنکھیں پھیلائے اسے دیکھنے لگی۔۔ وہ جو وارڈراپ سے کپڑے نکال رہا تھا۔۔ اسکی بڑی بڑی آنکھوں کو مزید بڑی ہوتے دیکھ قریب آیا۔۔
۔
“یوں تو ضبط کا امتحان نا بنا کریں”۔۔
آنکھوں اور لب رکھتے وہ اسے لرزتا چھوڑ کر وہ باتھ روم میں گھس گیا۔۔


شام کا اندھیرا پھیلتے۔۔ سفید چاندنی میں ڈوبا وہ کیفے چاندنی کی مانند کی دمک رہا تھا۔۔ دوسری جانب کیفے کے دوسرے حصّے کا کام بھی زوروں پر تھا۔۔ یہ نیا کنٹریکٹر واحد تھا جسکا کام بیلا باجی کو بھا گیا تھا۔۔ وہ کیفے بلکل اسکی امیجینیشن کے مطابق تیار ہو رہا تھا۔۔ باہر درختوں پر سفید اور سنہری رنگت کی فینسی لائٹز سے چمک رہی تھیں۔۔ شیشے کے دروازے پر کالے کارڈ پر سنہری رنگت سے لکھا۔۔
” وی آر اوپن “۔۔
چمک رہا تھا۔۔
آس پاس لڑکے۔۔ لڑکیاں کام میں لگے ہوئے تھے۔۔ لکڑی کے میزوں کے بیچو بیچ رکھے “بیلا کے پھولوں کی خوشبو پورے کیفے میں بسی ہوئی تھی۔۔
۔۔
“فیھا۔۔ کل کچھ جلدی آ کر کپ کیکس تیار کر لینا۔۔ میں بھی آنے کی کوشش کرونگی۔۔ لیکن کل مجھے یونی جانا ہے۔۔ کل ہفتہ ہے تم جانتی ہو نا میری کلاسز ویک اینڈز پر ہوتی ہیں۔۔
وہ بیٹر سے مہارت سے انڈے پھینٹتی فیھا سے مخاطب تھی۔۔
۔
“میں آجاؤنگی تم بےفکر رہو۔۔ ابھی ذرا یہ ڈو بنا دوگی۔۔
وہ مصروف سے انداز میں سر ہلا گئی۔۔
۔
“ویسے بیلا ابراھیم بھائی آج نہیں آئے ابھی تک تمہیں لینے “۔۔
وہ مصروف انداز میں بول رہی تھی انداز میں واضح شرارت تھی۔۔
چار مہینے کے اس عرصے میں رات کے وقت اسکے کیفے آنا انکے معمول میں شمار ہو گیا تھا۔۔ شروع کے دنوں میں اس نے بہت احتجاج کیا لیکن اب اسکی موجودگی پر وہ خاموش رہتی تھی۔۔ وہ روز کیفے آتا تھا۔۔ اس وجہ سے فیھا اور پوگو سے بھی اسکی خاصی دوستی ہو گئی تھی۔۔
۔
“پوگو۔۔ ٹیبل نمبر چھ۔۔ دو کلب سینڈوچز۔۔ چار بلیک فارسٹ کیک۔۔ جلدی کرو۔۔
اسکی بات کو نظر انداز کرتی بیلا نے کوکنگ ایریا سے ہی آواز لگائی۔۔ اسکی کمی تو وہ تو آج خود بھی محسوس کر رہی تھی۔۔ ان چار ماہ میں وہ عادی ہو گئی تھی واپس سنسان سڑک پر ابراھیم ملک کے ہاتھوں میں قید اپنے ہاتھ دیکھنے کی۔۔ وہ روز واپسی پر اسکا ہاتھ تھام لیا کرتا تھا۔۔ اسکے قدم سے قدم ملا کر چلتا خاموشی سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتا تھا۔۔ کبھی اپنی قاتل مسکراہٹ سے اسے پہلو بدلنے پر مجبور کر دیتا۔۔ کبھی اسکی کسی ادا پر خود پہلو بدل لیتا۔۔
۔
“نیستی پوگو۔۔ جلدی آرڈر لے جاؤ۔۔ تیار پڑا ہے۔۔
ٹیبل پر چڑھی فیھا نے بھی ہانک لگائی۔۔
۔
“باجی یہ ٹیبل نمبر چار پر کون لوگ ہیں۔۔
پوگو روہانسا سا اندر آیا تھا۔۔ بیلا کے ساتھ فیھا نے بھی ٹھٹھک کر اسے دیکھا۔۔
اسکے ایپرن پر کافی گری ہوئی تھی۔۔ چہرے پر پاستا لگا ہوا تھا۔۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے بھری پلیٹ اسکے منہ پر ماری ہے۔۔
۔
“کیا ہوا؟” یہاں میرے پاس آؤ۔۔ کوئی بات ہوئی ہے ؟”۔۔
ہاتھ صاف کرتی وہ اسکی جانب آئی۔۔ وہ آنسوں پیتا اسکے بیگ میں چہرہ رگڑنے لگا۔۔
“پوگو۔۔ میرے بچے بتاؤ مجھے۔۔ بلکے چلو میرے ساتھ۔۔ کس نے کیا ہے یہ ؟”
وہ سنجیدگی سے کہتی ایپرن اتارنے لگی۔۔ سٹال اس وقت اس نے اتار رکھا تھا۔۔
پوگو کا ہاتھ تھامے وہ تیش میں باہر آئی۔۔
۔
“کس نے کیا یہ ؟”
اس ٹیبل کے قریب آتی وہ سنجیدگی سے بولی۔۔ جہاں ایک الٹرا ماڈرن لڑکی کے ساتھ ایک سوٹ بوٹ میں ملبوس مرد بیٹھا تھا۔۔
آس پاس ٹیبلز کے لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔ اسکے ریگولر وزٹرز اسکے غصّے سے اچھی طرح واقف تھے۔۔
۔
“اچھا ہوا آپ آ گئیں بیلا صاحبہ۔۔ کیسے بندے رکھے ہیں آپ نے۔۔ انہیں پتہ ہی نہیں چیزیں کس طرح پیش کی جاتی ہیں۔۔ آپ کے اس جاہل پنڈو ملازم نے میرا اتنا ایکسپینسو ڈریس خراب کر دیا۔۔ یہ جانتا نہیں کتنی کوسٹ ہے اسکی۔۔
اسے دیکھتے ہی وہ لڑکی آپے سے باہر ہوتی اس پر برس پڑی تھی۔۔
۔
“کیا آپ جانتی ہیں کے عزت انمول ہوتی ہے۔۔ یہ ملازم نہیں اس کیفے کی اونر کا بیٹا ہے۔۔ آپ کو ہماری سروسز سے پرابلم تھی آپ نے مجھے کہنا تھا۔۔ آپ ہمارے فیڈ بیک پر کمپلین کرتیں۔۔ یہ میرے بچے کے ساتھ جو حرکت آپ نے کی ہیں اس سے تو آپ کی جہالت واضح ہو رہی ہے۔۔
وہ اطمینان سے کہتی ٹیبل پر جھکی تھی۔۔
اگلے ہی لمحے اس لڑکی کے کچھ سمجھنے سے پہلے وہ سامنے رکھا سلیش اسکے چہرے پر الٹ چکی تھی۔۔ ٹھنڈا سلیش چہرے پر پڑتے ہی وہ بلبلا اٹھی۔۔
۔
“یو بلڈی بچ۔۔ ہاؤ ڈائر یو۔۔
وہ چیختی ہوئی اس پر جھپٹنے لگی تھی۔۔
۔
“نا نا !! یہ غلطی نہیں کرنا۔۔ یہ بیلا افضل ملک کا کیفے ہے۔۔ یہاں گیو اینڈ ٹیک کا اصول ہے۔۔ ابھی تو میں نے کافی کا ہی بدلہ لیا ہے جو تم نے میرے بچے پر ڈالی ہے۔۔ مزید یہاں اپنی سستی ادائیں تم نے دکھائی تو پاستا کا بدلہ میں تمہیں نہاری میں نہلا کر لونگی۔۔
اسکے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام کر مڑورتی وہ مسکرا کر بولی۔۔
حیران کن بات سامنے بیٹھے شخص کی خاموشی تھی۔۔ وہ اطمینان سے اسے یہ کرتے دیکھ رہا تھا۔۔ دوسرے لفظوں میں کافی لطف اندوز ہو رہا تھا۔۔ اس شخص نے بالوں سے اپنے ایک جانب کا چہرہ چھپایا ہوا تھا۔۔ دوسری جانب جلا ہوا نشان تھا۔۔ بیلا نے تو غور نہیں کیا لیکن دوسری جانب کھڑی فیھا اس پورے معاملے کے دوران اس شخص کا ہی جائزہ لے رہی تھی۔۔ جو مسکراتی نظروں سے بیلا کو دیکھ رہا تھا۔۔ چہرہ بھلے ہی چھپا ہوا تھا لیکن آنکھوں کی یہ چمک اسے خاصی جانی پہچانی سی لگی تھی۔۔
۔
“اوہ ہیرو صاحب۔۔ اب یہاں بیٹھے پوری فلم فری میں دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہو کیا۔۔؟ لے کر جاؤ اس سستے آئٹم کو۔۔
لڑکی کو جھٹکے سے سامنے بیٹھے شخص پر تقریباً پھینکتی ہوئی وہ پوگو کا ہاتھ تھامے اسے واش بیسن کی جانب لے گئی۔۔
۔
“یو ول پے فار اٹ۔۔
وہ چیختی ہوئی بولی تھی۔۔
۔
“نوٹ ایون ا سنگل روپی۔۔
وہ رخ موڑے بنا ہی بول کر جا چکی تھی۔۔
وہ شخص اس بکتی جھکتی لڑکی کو تقریباً گھسیٹ کر وہاں سے لے کر جا رہا تھا۔۔ فیھا کی ڈیٹیکٹیو نظروں نے اسکا دور تک پیچھا کیا۔۔


وہ فرسٹ ایڈ باکس ٹیبل پر رکھتے شیشے میں زخم کا جائزہ لینے لگا۔۔ کل آپریشن کے دوران گولی کندھے کو چھو کر گزری تھی۔۔ بروقت ٹریٹمنٹ کی وجہ سے کوئی نقصان تو نہیں ہوا تھا۔۔ لیکن اس حالت میں وہ شیریں کے آگے نہیں جا سکتا تھا۔۔
اسے کافی کے بہانے نیچے بھیج کر اب وہ شرٹ اتارے بنیان میں ملبوس بینڈج تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
“زاوی وہ مما کہ رہی ہیں نیچے آجاؤ پہلے ڈنر کر۔۔
وہ جو اپنے ہی دھن میں بولتی ہوئی اندر آئی تھی۔۔ آئینے کے سامنے اسے یوں کھڑا دیکھ وہ سرعت سے اسکے قریب آئی۔۔
۔
“یہ کک کیا۔۔ کیا ہوا ؟”۔۔
وہ لرزتی آواز میں کہتی قریب آئی تھی۔۔ کندھے پر لگا گہرا گھاؤ وہ دیکھ چکی تھی۔۔
“شیریں۔۔ آپ کیوں آ گئیں یار۔۔ یہ بس چھوٹا سا زخم ہے میری جان۔۔ وہ تو ابھی باتھ لیا تو بینڈیج گیلی ہو گئی۔۔
وہ نرمی سے اسے سمجھاتا ٹاول ڈال گیا۔۔
۔
“یہ چھوٹا سا زخم ہے۔۔
اسکے کندھے سے ٹاول ہٹاتی وہ غصّے سے بولی۔۔ آنسوں لڑیوں کی صورت اسکا چہرہ بھگو رہے تھے۔۔
۔
“شیریں میری جان۔۔ کچھ نہیں ہوا۔۔ یار آپ روئیں تو نہیں کچھ بھی نہیں ہوا دیکھیں آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔۔
وہ نرمی سے بولتا اسے قریب کرنے آگے آیا۔۔
۔
“ہٹو۔۔ نن نہیں آؤ میرے قریب۔۔ کیوں نہیں بتایا مجھے۔۔
وہ روتی ہوئی پیچھے ہوئی۔۔ پتہ نہیں نہیں کونسا احساس رلا رہا تھا اسے۔۔ اسکا لمحہ با لمحہ خیال کرنے والا شوہر تکلیف میں رہا تھا اور اسے خبر بھی نہیں ہوئی۔۔
“آجائیں شیریں _ وہ بیڈ پر اسکی جانب پشت کئے اسکا منتظر تھا۔۔ اسے ہنوز وہیں کھڑی دیکھ کر وہ روئی میں میڈیسن لئے زخم صاف کرنے لگا۔۔ وہ روتی ہوئی کچھ دیر اسے دیکھتی رہنے کے بعد آگے آئی۔۔ اسکے ہاتھ سے کاٹن لیکر زخم صاف کرنے لگی۔۔ کانپتے ہاتھوں سے زخم صاف کرتی مرہم لگانے لگی۔۔ ۔ “شیریں_
اسے خاموشی سے جاتے دیکھ اسے کلائی سے تھام کر ساتھ لگایا۔۔
“اتنی زیادہ لگی ہے۔۔
وہ سسکتی ہوئی بولی۔۔
“میں ٹھیک ہوں یار۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا میری شیریں مجھ سے اتنی محبت کرتی ہیں “۔۔
اسکا چہرہ ہاتھوں میں بھرے وہ نرمی سے بولا۔۔
۔
“میں کھانا لے آتی ہوں۔۔ پھر کافی پی لینا۔۔
ہاتھوں کی پشت سے آنسوں صاف کرتے وہ سوں سوں کرتی ہوئی بولی۔۔
وہ سر کو خم دیتا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھ گیا۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ ٹرے میں کھانا سجائے کمرے میں داخل ہوئی۔۔
“یہ کھا لو۔۔ پھر یہ گرم دودھ بھی پی لو۔۔ اور میڈیسن بھی۔۔
وہ دھیرے سے بولتی اسکے سامنے آ بیٹھی۔۔
“آپ کھلا دیں نا “۔۔
وہ چہرے پر تکلیف دہ تاثر لئے بولا۔۔
“درد ہو رہا ہے۔۔
اسکی آنکھیں ایک بار بھیگنے لگی۔۔ اس نے خاموشی سے نوالہ اسکی جانب بڑھایا۔۔ وہ مسکراتا ہوا آنکھوں میں محبت لئے اسکے ہاتھ سے کھانے لگا۔۔


جاری ہے۔۔