Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ٢۵
۔
“پوگو۔۔ پہلے فیھا کو اسکے گھر تک چھوڑو اسکے بعد اپنے گھر جانا تم”۔۔
وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے کھڑا اسے ان دونوں کے لئے ہلکان ہوتا دیکھ رہا تھا۔۔ جو نا جانے کتنی ہی بار پوگو کو یاد دہانی کروا چکی تھی کے فیھا کے ساتھ محافظ کی طرح رہے گا۔۔ سامنے پھولے سرخ گالوں والا باجی کا معصوم پوگو کسی تابعدار بچے کی طرح اثبات میں گردن ہلا رہا تھا۔۔
ان دونوں کو بھیجنے کے بعد وہ اسے صاف نظر انداز کرتی وہ دروازے کے پار رکھے اس باکس کی جانب بڑھی۔۔ وہ پھول اب بھی اسے روز ملتے تھے۔۔ روزانہ ہی ایک کارڈ۔۔ جس میں اب آیت کے علاوہ بھی کچھ الفاظ لکھے ہوتے تھے۔۔
“بیلا کے پھول ” اور پھولوں کے ساتھ ایک کارڈ۔۔اسکی توقع کے عین مطابق وہاں موجود تھے۔۔ وہ کھل کر مسکرائی۔۔
ساتھ کھڑا ابراھیم اسکی مسکراہٹ میں کھو رہا تھا۔۔ تھوڑی کا وہ گڑھا اسکے ساتھ مسکراتا اسکی تمام تر توجہ کھینچ رہا تھا۔۔
۔
“بیلا چلیں ؟”
وہ سنجیدگی سے کہتا اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا۔۔ وہ اثبات میں سر ہلاتی کارڈ ہاتھ میں لئے دوسرے ہاتھ سے پھول تھامے اسکے ہمراہ چلنے لگی۔۔
۔
“بیلا کے پھول۔۔ یعنی دوستی کی علامت “۔۔
چند پلوں کی خاموشی کے بعد ابراھیم نے اسکے ہاتھوں سے پھول لیتے ہوئے کہا۔۔
وہ خاموش رہی۔۔ جیسا بھی تھا بہر حال انکے درمیان حلال رشتہ تھا۔۔ وہ اسکا شوہر تھا اور یہ بات اسے تسلیم کرنی تھی۔۔ ایسے میں وہ دراب کے بھیجے پھول کا کیوں انتظار کرتی ہے وہ خود بھی نہیں جان پا رہی تھی۔۔ لیکن وہ ہر دن شدّت سے ان پھولوں کا انتظار کرتی تھی۔۔ تمام دن گاہے بگاہے باکس چیک کرتی رہتی تھی۔۔ دن یا رات کے کسی بھی پہر اس باکس میں اسکی لاعلمی میں وہ پھول رکھ جاتا تھا۔۔
۔
“ہاں دوستی کی علامت”۔۔
وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی۔۔
ابراھیم نے گہری نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔۔ چند پل دیکھتے رہنے کے بعد آہستہ سے اسکے گرد حصار باندھ گیا۔۔ اس نے کوئی مزاہمت نہیں کی تھی۔۔وہ اسکی جانب نہیں دیکھ رہی تھی۔۔ اسکی نظریں تو تارکول کے اس سڑک پر تھی۔۔ اس نے بھی مزید کوئی بات نہیں کی۔۔ دونوں کے درمیان خاموشی تھی۔۔ گہری گھمبیر خاموشی۔۔
یہ خاموشی بھی اسے بھلی لگ رہی تھی۔۔ آج سے پہلے تک وہ اس سے چند فیٹ کی دوری پر چلتا تھا۔۔ آج وہ اسکے حصار میں تھی۔۔ ابراھیم ملک اس وقت خود کو خوش قسمتوں کی فہرست میں سب سے اوپر دیکھ رہا تھا۔۔
۔
“آپ چاہیں تو مجھے بتا سکتی ہیں اس سے متعلق “۔۔
اس نے نرمی سے کہا۔۔
“میں نہیں چاہتی۔۔
وہ سادہ سے لہجے میں بولی تھی۔۔ ابراھیم ملک اس کے لئے اتنا اہم نہیں ہوا تھا کے وہ اپنی زندگی کے راز اس کے آگے کھول دیتی۔۔ دوسری جانب ابراھیم غیر محسوس طرح سے خود سے ہی جلن کا شکار ہو رہا تھا۔۔
گھر پہنچ کر ابراھیم تو اپنے کمرے میں چلا گیا تھا جبکے وہ کچن میں آ گئی تھی۔۔ اسکے جانے بعد وہ ٹیبل پر بیٹھتے اس نے کارڈ کھول کر دیکھا۔۔
“تمہاری مے فروش آنکھیں
مجھے گھائل کر رہی ہیں،
میں تمہاری نگاہوں سے اوجھل رہو
ساحرہ !
تمہارے خمار میں مخبوط ہو کر
میں دیوانہ بھی ہوسکتا ہوں!
(منقول)
اسکے ہاتھ بےاختیار اپنی آنکھوں تک گئے۔۔ دل عجب لے پر دھڑک رہا تھا۔۔ نجانے کیوں لیکن اسے اپنے اور ابراھیم کے رشتے کا احساس ہو رہا تھا۔۔ وہ کسی کے نکاح میں تھی اسکی بیوی تھی۔۔ انکا رشتہ جیسا بھی ہو لیکن تھا تو۔۔ وہ اس بات سے انکاری نہیں ہو سکتی تھی۔۔
“میں بے ایمانی نہیں کر سکتی “۔۔
وہ زیر لب بڑبڑائی۔۔ وہ بیلا افضل ملک تھی اپنے رشتوں کے ساتھ حد سے زیادہ مخلص۔۔ یہ الفاظ اسے پریشان کر رہے تھے۔۔ نیچے ہمیشہ کی طرح ایک نام جگمگا رہا تھا۔۔
“دراب “۔۔
وہ جو کوئی بھی تھا اسکے احساسات پڑھ لیتا تھا۔۔ اسکی روح میں اترا ہوا محسوس ہوتا تھا۔۔ غیر شناسائی کے باوجود بھی اسکی رگ سے رگ سے واقف تھا۔۔ لیکن وہ کون تھا۔۔ اتنا کچھ کیسے جانتا تھا۔۔ یہ سوالات اب اسے بےچین کر رہے تھے۔
کچھ دیر کے بعد وہ فریش ہو کر آیا تو وہ کارڈ ہاتھ میں تھامے ٹیبل پر بیٹھی تھی۔۔ وہ باغور اسکے تاثرات دیکھتا اسکے سامنے آ کھڑا ہوا۔۔
۔
“تمام رات یہاں مذاکرات کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں ؟”
وہ سنجیدہ سا کہتا اسکی جانب جھکا۔۔
اسکی آواز پر ہوش میں آئی تھی۔۔ خاموشی سے اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔ کمفرٹر میں لپٹی وہ چھت کو گھور رہی تھی۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا بیڈ کے دوسرے کنارے پر آیا۔۔
اسے خاموشی سے چت لیٹے دیکھ کر وہ ہلکا سا مسکراتے اسکی جانب جھکا۔۔
ہولے سے اسکی پیشانی پر لب رکھے۔۔ وہ آنکھیں میچ گئی۔۔
وہ مسکراتا ہوا اپنی جگہ پر اسکی جانب رخ کئے لیٹ گیا۔۔
نظروں کی تپش محسوس کرتے بیلا نے اسکی جانب دیکھا۔۔ وہ اسکی جانب رخ کئے اسے تک رہا تھا۔۔
“کیا پرابلم ہے ؟”
وہ چڑ کر بولی۔۔ یہی شخص تھا اسکی پریشانی کی وجہ۔۔ نا وہ اسکے قریب آنے کی کوشش کرتا نا اسے یہ محسوس ہوتا کے دراب کے کارڈ کا انتظار کرتی۔۔ اسکے باتوں کو سوچتی وہ انکے رشتے سے بےایمانی کر رہی ہے۔۔
۔
“میں نے کیا کیا ہے ؟
وہ مظلومیت سے بولا۔۔
“ابراھیم ملک آپ کی یہ سستی حرکتیں میری زندگی ڈسٹرب کر رہی ہیں۔۔
وہ جھنجھلا کر بولی۔۔
۔
“تو مطلب آپ میری سستی حرکتوں کے متعلق سوچتی ہیں ؟”
وہ نچلا لب دبائے مسکرایا۔۔ اسکی دلکش مسکراہٹ پر وہ پہلو بدل کر رہ گئی۔۔
۔
“اب اگر آپ مسکرائے تو میں آپ کو کمرے سے نکال دونگی “۔۔
وہ تپ کر بولی۔۔ یہ شخص کہیں نا کہیں سے اپنے مطلب کی بات نکال لیتا تھا۔۔
۔
“کیوں۔۔ آپ کو اپیل کر رہی ہے میری مسکراہٹ۔۔
مزید دلکشی سے مسکراتے اسکی جانب دیکھنے لگا۔۔ بیلا کے دل نے اعتراف کیا تھا اسکی مسکراہٹ واقعی پیاری تھی۔۔
۔
“مر جائیں میری بلا سے۔۔
وہ اسکی جانب پشت کئے سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“آپ ہر وقت میرے مرنے کے ہی بارے میں سوچتی رہتی ہیں۔۔
بیلا کو اسکی آواز میں کرب محسوس ہوا۔۔ وہ غیر محسوس سے انداز میں اسکی جانب گھومی۔۔
“اگر آپ کہ دیں کے میری موت آپ کی خوشی کا باعث ہے تو آپ کی خوشی پر میری جان صدقے۔۔ سو بار صدقے۔۔
جاں نثار ہوتی نظروں سے اسے تکتے وہ محبت سے بول رہا تھا۔۔ بیلا کا دل ایک پل کو کانپ سا گیا۔۔ نجانے کیوں لیکن وہ اسے بتانا چاہتی کے اسکی موت اسکی خوش کا باعث نہیں بنے گی۔۔ کبھی نہیں۔۔
۔
“محبتیں رسوا کر دیتی ہیں ابراھیم “۔۔
وہ تھکے تھکے لہجے میں بولی۔۔
“ابراھیم ملک محبت نہیں عشق کرتا ہے آپ سے۔۔ آپ میری سانسیں بھی چھین لیں نا تو میں آپ کو اپنی محبت کے صدقے وہ بھی دے دوں۔۔ آپ میں ہی تو سانسیں بستی ہیں میری۔۔ دل آپ کو دیکھ کر دھڑکتا۔۔ آپ ابراھیم ملک کی زندگی میں نہیں تو ابراھیم ملک کا وجود ہی نہیں “۔۔
وہ اسکی جانب نہیں دیکھ رہا تھا۔۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھتی نیند کی وادیوں میں گم ہونے لگی۔۔ گرم سانسوں کی آواز پر ابراھیم نے اسے دیکھا۔۔
اسے نیند میں بےخبر دیکھ کر مسکرا اٹھا۔۔
۔
“میری زندگی میں وہ دن بھی آئیگا جب آپ میری موت کا سوچ کر کانپ اٹھینگی۔۔ مجھے شدّت سے اس دن کا انتظار ہے “۔۔
کمفرٹر اس پر درست کرتے وہ دوبارہ اسکی جانب رخ کر کے لیٹ گیا۔۔ اسکے چہرے کا ہر نقش حفظ کرنا اسکا بہترین مشغلہ بن گاتا تھا۔۔


اگلے دن وہ شیریں کے ریگولر چیک اپ کے لئے اسے لیکر ڈاکٹر کے پاس موجود تھا۔۔ اسکے چیک اپ کے بعد وہ اب رپورٹ کے انتظار میں ڈاکٹر کے روم میں موجود تھا۔۔
۔
“کیا ہوا کیوں پریشان ہو رہی ہیں ؟”
اسکے سرد پڑھتے ہاتھوں کے ہاتھ میں لئے وہ نرمی سے پوچھ رہا تھا۔۔
وہ لب کاٹتی نفی میں گردن ہلانے لگی۔۔ ڈاکٹر کے روم میں داخل ہونے اور وہ انکی جانب متوجہ ہو گیا تھا۔۔
۔
“میڈیسنز کے ساتھ آپ کو کریم بھی دی تھی ایک شیریں۔۔ ہیوی سٹریس آوٹ ہونے کی صورت میں۔۔ یا سینے میں درد ہونے کی صورت میں استعمال کے لئے۔۔ اسکے علاوہ بھی ریگولر استعمال کے دی تھی۔۔ آپ استعمال کر رہی تھیں وہ ؟”
ڈاکٹر کی بات اور زوار نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔۔ انکے نکاح کو ایک ہفتہ ہونے کو آ گیا تھا۔۔ وہ اسکے کمرے میں تھی اس نے تو اسے کبھی کوئی میسجنگ کریم استعمال کرتے نہیں دیکھا تھا۔۔
وہ ڈاکٹر کی بات پر آنکھیں میچ گئی۔۔ زوار کے سامنے وہ اب جھوٹ بھی نہیں بول سکتی تھی۔۔
۔
“نن نہیں۔۔ اب ابھی استعمال نہیں کر رہی “
وہ آنکھیں میچ کر جلدی سے بولی۔۔ زوار نے لب بھینچ کر اسے دیکھا۔۔
“وہ استعمال کرنی تھی شیریں۔۔ وہ ضروری ہے آپ کے لئے “۔۔
ڈاکٹر نے رسانیت سے اسے سمجھایا۔۔ وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔۔
۔
“آپ مجھے دے دیں پریسکرپشن۔۔ اور انکی ڈائٹ اور تمام میڈیسنز کے متعلق بھی پوری تفصیل سے بتائیں۔۔
وہ جتاتی نظروں سے شیریں کی جانب دیکھتے بول رہا تھا۔۔ وہ نظریں جھکائے لب کاٹ رہی تھی۔۔
۔
“چلیں ابھی تو انجکشن دے دیا ہے۔۔ یہ اب باقائدگی سے استعمال کریں۔۔ نیکسٹ وزٹ میں ہم شیریں کی میڈیسنز چینج کرینگے “۔۔
وہ مکمّل تفصیل سے اسے تمام باتیں بتانے کے بعد مسکرا کر مخاطب ہوئیں۔۔
وہ بھی رسمی سا مسکراتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
فرنٹ سیٹ پر بیٹھی وہ کن آنکھیوں سے اسے دیکھ رہی تھی جو سنجیدہ سا لب بھینچے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔
گھر پہنچ کر بنا اسکی جانب دیکھے وہ مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھامے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔ اسکی تنی رگوں کو دیکھتی وہ دل ہی دل میں ڈاکٹر کو کوس رہی تھی۔۔
کمرے میں داخل ہو کر ڈور لاک کر کے اسے بیڈ پر بیٹھاتا وہ سنجیدگی سے میڈیسنز میں سے کچھ ڈھونڈھ رہا تھا۔۔
۔
“زز زاوی۔۔
اس نے ہمّت کر کے اسے پکارا۔۔
۔
“خاموشی سے لیٹیں۔۔
اسکی شال اتار کر سائیڈ پر رکھتے وہ سختی سے بولا۔۔ وہ بلک کر رونے لگی۔۔
۔
“خاموش ہو جائیں۔۔
اسکی سختی پر اسکے رونے میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔۔
۔
“فار گاڈ سیک شیریں۔۔ ایک ہفتے سے آپ یہ استعمال نہیں کر رہی ہیں۔۔ جبکے آپ اچھی طرح واقف ہیں کے یہ کتنی ضروری ہے۔۔ کیوں نہیں بتایا آپ نے مجھے پھر ؟”
وہ غصّے سے پاگل ہونے والا ہو رہا تھا۔۔ اسکی آواز کافی بلند تھی۔۔ وہ جو پہلے ہی کمرے کا دروازہ بند کئے جانے پر سہمی ہوئی تھی۔۔ اسکے اس انداز پر نفی میں گردن ہلاتی رو رہی تھی۔۔
۔
“کیوں نہیں بتایا آپ نے مجھے ؟”
وہ سرخ آنکھوں سے اسے تکتا قدرے جھک کر پوچھ رہا تھا۔۔
“جواب دیں مجھے “۔۔
اسکا انداز کسی بھی قسم کی نرمی سے عاری تھا۔۔
۔
“پپ پلیز۔۔ اس طرح نن نہیں۔۔
وہ ہچکیوں کی زد میں بامشکل بولنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
“کوئی صفائی نہیں چاہئیے مجھے۔۔ صرف جواب چاہئیے۔۔
وہ اسے رعایت دینے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔
۔
“لیٹی رہیں ایک قدم بیڈ سے نیچے نہیں رکھیں گی آپ ورنہ انجام کی ذمہ داری میری نہیں ہوگی”۔۔
اسکے سنگین لہجے پر وہ بے جان مورت کی مانند بیڈ پر ٹک سی گئی تھی۔۔
اسکے رونے سسکنے کو نظر انداز کرتے وہ ڈاکٹر کی ھدایت کے مطابق مساج کر رہا تھا۔۔ وہ لرزتی کانپتی مکمّل اسکے رحم و کرم پر تھی۔۔
تکلیف کے آثار اسکے چہرے پر واضح نظر آ رہے تھے۔۔
اپنے کام سے فارغ ہو کر ایک نگاہ اسکے لرزتے سراپے پر ڈالتا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔
وہ ہنوز اسی طرح لیٹی سسک رہی تھی۔۔
“اٹھیں پانی پی لیں۔۔
بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر اسے بیٹھاتے شال اسکے شانوں پر ڈال کر پانی کا گلاس لبوں سے لگایا۔۔ بنا کسی مزاہمت کے دو گھونٹ بھرتے اس نے نفی میں گردن ہلائی۔۔
وہ اب بھی سسک رہی تھی۔۔
“بسس۔۔
ہولے سے اسے ساتھ لگاتے وہ نرم لہجے میں بولا۔۔
وہ سینے سے لگی بری طرح رونے لگی تھی۔۔
“وو وہ کریم مم مما لگاتی تھیں۔۔ شادی کے دنوں میں مما بزی تھیں۔۔ ببب بیلا بھی کیفے میں بزی تھی۔۔ مم مما نے مجھے ڈانٹا بھی تھا۔۔ اس اس لئے مم میں نے نہیں کہا۔۔ تت تم مجھ پر شاؤٹ نہیں کرو۔۔ پپ پلیز زاوی۔۔ اس طرح نہیں ککک کرو۔۔
زوار نے خوش گواریت سے اسکی جانب دیکھا۔۔ آج وہ ڈر سہم کر خاموش نہیں ہوئی تھی۔۔ آج وہ اپنے مسائل اس سے شیئر کر رہی تھی۔۔
۔
“میری پوزیشن بھی تو سمجھیں نا میری جان۔۔ آپ کی یہ لاپرواہی میرا بڑا نقصان کر دیگی شیریں “۔۔
اسے خود میں بھینچے وہ بےبسی سے بول رہا تھا۔۔
“بس کریں۔۔
۔
“آپ ٹھیک ہیں ؟”۔۔
اسکے کسمسانے پر خود سے الگ کرتے اسکا بھیگا چہرہ صاف کرتے نرمی سے سوال کیا۔۔ وہ خاموش رہی۔۔
۔
“یار اب بس کریں نا۔۔ اپنی خفگی۔۔
سرخ ہوتی ناک کی نوک پر پیار کرتے اس نے پیار سے پوچھا۔۔ اسکی خفگی پر وہ مسکرا اٹھا۔۔ اس انداز میں اسکے ہی سامنے ہوتی تھی۔۔ دونوں ہاتھوں کی پشت سے آنسوں صاف کرتی وہ اسے بہت پیاری لگی تھی۔۔
۔
“کافی بھی نہیں ملے گی ؟”
چمکتی لونگ کو انگلی سے چھوتے وہ شرارت سے بولا۔۔
۔
“ممم میں بنا دیتی ہوں ؟”
وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
وہ قہقہا لگا کر ہنس پڑا۔۔


جاری ہے۔