No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١٨
” پورے آدھے گھنٹے لگا کر وہ بھیگا چہرہ لئے کمرے میں داخل ہوئی۔۔ گھمبیر خاموشی میں ڈوبے کمرے کا نقشہ ہی بدل چکا تھا۔۔نیم اندھیرے میں وہ بامشکل ہی چیزوں کو دیکھ پا رہی تھی۔۔ اسکے تمام زیورات سائیڈ ٹیبل پر رکھے گئے تھے۔۔ بیڈ شیٹ سلیقے سے بیڈ پر سیٹ تھی۔۔ گلاب کی جن پتیوں کو وہ نوچ کر اتار چکی تھی انکا مکمّل طور پر صفایا ہو چکا تھا۔۔مگر کمرہ اب بھی گلاب کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔۔ وہ خود بھی چینج کر چکا تھا، بازو آنکھوں پر رکھے بیڈ پر دراز تھا۔۔
وہ شش و پنج میں مبتلا بیڈ پر دراز اسکے لمبے چوڑے وجود پر نظریں جمائے کمرے کے درمیان میں کھڑی تھی۔۔
وہ پوری طرح ماحول پر قابض ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔۔ بیڈ کے درمیان میں وہ اس طرح لیٹا ہوا تھا کے وہ کسی بھی طرح اسے جگائے بغیر نہیں لیٹ سکتی تھی۔۔ بےبس سی ہوتی وہ ایک بار پھر بےآواز رونے لگی۔۔ کچھ سوچ کر دبے پاؤں بیڈ کے قریب آتی سائیڈ سے تکیہ نکالنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“یہاں کوئی فلم نہیں چل رہی کے آپ صوفہ صوفہ کھیلنا شروع کر دیں۔۔
اسکی بھاری آواز پر وہ اچھل پڑی۔۔ وہ تو اسے سوتا ہوا سمجھ کر قریب آئی تھی۔۔ وہ آنکھوں سے بازو ہٹائے باغور اسکا جائزہ لے رہا تھا۔۔ لیمن کلر کی ڈھیلی سی شرٹ کے ساتھ ہم رنگ ٹراؤزر میں ملبوس بھیگے بھیگے سرخ چہرے کے ساتھ وہ اسے حسین ترین لڑکی لگی تھی۔۔ بہتی آنکھوں کے ساتھ لب کاٹتی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
“اب یونہی کھڑی رہینگی ؟”
اسکے وجود سے نظریں چراتا وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
تکیہ دوبارہ جگہ پر رکھ کر وہ بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی۔۔ اتنی فرمانبرداری پر زوار نے مسکراہٹ دبا کر اسکی جانب دیکھا جو اسکی جانب پشت کئے بیڈ کے بلکل کنارے پر لیٹی ہوئی تھی۔۔ نظریں اسکی پشت پر بکھرے لمبے بالوں سے الجھ سی گئیں۔۔اسکے بال وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا وہ کبھی پورے بال نہیں کھولتی تھی۔۔ نازک سی پشت پر پھیلے کالے لمبے بال اسکی تمام تر توجہ اپنی جانب کھینچ رہے تھے۔۔
اسکے ہولے ہولے لرزتے سراپے پر نظریں ڈالتا وہ گہری سانس لیتا ہنکارہ بھر کر رہ گیا۔۔ وہ کچھ دیر پہلے کے اسکے رویے پر اچھی خاصی سہم چکی تھی۔۔
ایک ہاتھ بڑھا کر اس نے دھیرے سے اسے کچھ قریب کیا جو پوری طرح بیڈ سے گرنے کا انتظام کئے لیٹی تھی۔۔
وہ جو پہلے ہی الرٹ ہو کر لیٹی ہوئی تھی اس اچانک پیش قدمی پر گہری سانسیں لیتی زور زور سے رونے لگی۔۔
“شیریں ریلیکس۔۔ کیا ہوا ؟”۔۔
اسکے یوں رونے پر وہ پریشان سا ہوتا اسکی جانب جھکا۔۔
“شیریں خاموش ہو جائیں۔۔ کیوں اس طرح رو کر میری ذات کو مشکوک بنا رہی ہیں۔۔
وہ بےبس سے کہتا اس سے کچھ دوری پر بیٹھ گیا۔۔
وہ اب لبوں پر ہاتھ جمائے گہری سانسیں لے رہی تھی۔۔
وہ لب بھینچ کر اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“رات کی میڈیسن لی تھی ؟
کافی دیر بعد اسے کچھ نارمل ہوتے دیکھ وہ سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھتے پوچھنے لگا۔۔ زیادہ رونے کی وجہ سے اسے سانس لینے میں اب دشواری ہو رہی تھی۔۔ وہ سر دائیں بائیں ہلاتی ہنوز وقفہ وقفہ سے سسک رہی تھی۔۔
“ہممم ۔۔
وہ ہنکارہ بھرتا پیروں میں سلیپر اڑستا اٹھ کھڑا ہوا۔۔
کچھ دیر کے بعد وہ واپس کمرے میں آیا تو اسکی میڈیسنز کا پورا باکس اسکے ہاتھوں میں تھا۔۔ وہ آنکھیں پھیلائے اسے دیکھنے لگی جو اطمینان سے ٹیبلیٹس نکال رہا تھا۔۔
پانی کے گلاس کے ساتھ اس نے گولياں اسکی جانب بڑھائی۔۔
“مم میں یہ اس طرح نہیں لے سکتی۔۔ مم مجھے ونڈ پائپ میں تکلیف ہوتی ہے۔۔
اپنے سامنے پھیلی اسکی چوڑی ہتھیلی میں موجود میڈیسنز سے دو بڑی گولیاں الگ کرتی وہ آنکھیں میچ کر جیسے کسی جرم کا اعتراف کر رہی تھی۔۔
” اس میں شرمندہ ہونے والی کوئی بات نہیں ہے۔۔ میں پاؤڈر کر دیتا ہوں انہیں جب تک آپ یہ میڈیسنز لیں۔۔
اسے باقی کی میڈیسن دیتا وہ رسانیت سے بولا۔۔
تمام میڈیسنز اسے کھلانے کے بعد اس نے لیٹنے کا اشارہ کیا۔۔ وہ کچھ جھجھک کر لیٹتی سر تک کمفرٹر تان گئی۔۔ کچھ دیر کے بعد اپنے برابر میں اسکی موجودگی محسوس کرتی وہ غیر محسوس انداز میں سمٹ کر ایک بار پھر کنارے سے لگنے کی تیاری میں تھی وہ اطمینان سے اسکی تمام کاروائی ملاحظہ کر رہا تھا۔۔
“مجھ سے یوں دور ہو کر آپ مجھے مجبور کر رہی ہیں کے میں قریب آؤں۔۔
نرمی سے اسے قریب کرتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
کمفرٹر اسکے چہرے سے ہٹانے پر وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی۔۔
اسکے لبوں پر دلکش مسکراہٹ بکھری ۔۔
۔
وہ سحر زادی فلک سے کہیں اُترتی ہوئی،
وہ زُلف ہے کہ کوئی شام سی بکھرتی ہوئی !!
۔
یوں ڈری سہمی ہرنی جیسی صورت دیکھتے اسے بےاختیار کہیں پڑھا گیا وہ شعر یاد آیا تھا۔۔ اسکی تیکھی ناک سے اپنی پیشانی میس کرتے وہ اسے مزید سہما چکا تھا۔۔ نرمی سے اسے ساتھ لگائے وہ آنکھیں موند گیا۔۔
“زاوی۔۔
کانپتے لبوں سے اسکا نام پکارتی وہ سسکی ۔۔۔
“میری بات غور سے سنیں شیریں میں جانتا ہوں آپ کے لئے اچانک یہ سب اکسیپٹ کرنا بہت مشکل ہے۔۔ لیکن جتنی جلدی ہو سکے یہ حقیقت تسلیم کر لیں کے میں آپکا محرم ہوں۔۔ روح کا رشتہ ہے آپکا میرے ساتھ۔۔ میرے قریب آنے پر ، میرے چھونے پر آپ اس طرح خوف محسوس کرینگی، سہم جایا کرینگی۔۔ یا روئینگی تو مجھے اچھا نہیں لگے گا۔۔ سمجھ رہی ہیں نا میں کیا کہ رہا ہوں۔۔
اپنی شرٹ اسکے آنسوں سے بھیگتی محسوس کر کے وہ نرمی سے بولا لیکن انداز قطیعت لئے ہوئے تھا۔۔
“مم میں نہیں کک کر سکتی۔۔
وہ اب بھی خود کو آزاد کروانے کی کمزور سی کوشش کرتی بول رہی تھی۔۔
“آپ کر سکتی ہیں۔۔ اور مجھے اچھا لگے گا اگر آپ نرمی سے کر لیں۔۔
اسکے بالوں کی لٹ کو ہلکا سا کھینچتے وہ سرگوشی میں بولا۔۔
“نن نرمی سے نہیں کیا تت تو کک کیا ہوگا ؟”
وہ سہم کر جلدی سے بولی۔۔ وہ تو اسے ابھی تک بچہ سمجھتی آئی تھی۔۔ آج اپنی حالت پر اسے رونا آ رہا تھا۔۔ وہ ہر ہر انداز سے اسے باور کروا رہا تھا کے عمر کے دو سال کے فرق سے وہ چھوٹا نہیں ہو گیا۔۔ کچھ اسکی حساس طبیعت کا بھی اثر تھا کے وہ تو شروع سے ہی اچانک اسکی آواز سے بھی سہم جایا کرتی تھی۔۔ کجا یہ کے اسکا یہ انداز یہ لہجہ۔۔ دل اسے اس رشتے سے تسلیم نہیں کر پا رہا تھا اور ایک وہ تھا جو سیدھا دھمکیاں دے رہا تھا۔۔
۔
“آپ چاہتی ہیں میں آپ سے سختی سے پیش آؤں ؟”
بےساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ کا صفائی سے گلا گھونٹتے اس نے بھنویں سکیڑ کر اسکی جانب دیکھا۔۔
“مم میں بڑی ہوں تم سے۔۔
وہ دبے دبے غصّے سے تڑپ کر کہتی اسے یاد دلا رہی تھی۔۔ وہ بڑی تھی اس سے وہ کیسے سختی سے پیش آ سکتا تھا اسکے ساتھ۔۔ ڈرنے کے باوجود بھی اس پر اپنا رعب قائم رکھنا چاہتی تھی۔۔
وہ اپنی بیوی کی معصوم سی دلیل پر سر دھنتا ہنس پڑا۔۔
“میں سچ کہ رہی ہوں۔۔
اسے ہنستے دیکھ وہ اپنی بات پر زور دیتے بولی۔۔ غصّے کی وجہ سے آواز روندھ گئی تھی۔۔ وہ کسی بھی طرح اس سے اقرار کروانا چاہتی تھی کے وہ بڑی ہے اس سے۔۔ غیر محسوس سا تحفظ محسوس ہو رہا تھا اس ایک جملے سے۔۔
“ٹھیک ہے۔۔ آپ کی بات صحیح ہے۔۔
وہ مسکراہٹ دبا کر سنجیدگی سے گویا اقرار کر گیا۔۔
وہ آنکھوں میں آنسوں بھرے اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔۔ رہ رہ کر وہ دن یاد آ رہے تھے جب وہ ریزلٹ اچھا نہیں آنے پر اسکے کان کھینچا کرتی تھی۔ کتنا رعب تھا اسکا یا شاید اس وقت بھی وہ اسے خوش کرنے کے لئے اس سے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا تھا۔۔ ان سہانے دنوں کی یاد آتے ہی آنسوں گال پر لڑھک آئے۔۔
“تت تو تم سختی کیسے کر سکتے ہو مجھ پر ؟”
وہ اپنے موقف پر آئی۔۔ سختی والی بات ہضم ہی کہاں ہو رہی تھی۔۔
“کیا دوبارہ دیکھنا ہے ؟”
کمر کے گرد گرفت مضبوط کرتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
وہ جلدی سے نفی میں گردن ہلاتی آنکھیں میچ گئی۔۔
“سو جائیں بےفکر ہو کر۔۔
اسکی مسکراتی آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی۔۔ وہ اسکا سر اپنے کندھے سے لگائے نرمی سے تھپک رہا تھا۔۔ وہ آنکھیں سختی سے میچے اسکی باتوں کے متعلق سوچ رہی تھی۔۔ کچھ دواؤں کا بھی اثر تھا جلد ہی اسکی بھاری ہوتی سانسیں اسکی سماعت سے ٹکرائیں۔۔
وہ دلکشی سے مسکراتا اسے خود میں بھینچ کر خود بھی آنکھیں موند گیا۔۔
“مم میں بڑی ہوں تم سے۔۔
کچھ دیر پہلے اسکے بچاؤ کا طریقہ یاد آتے ہی وہ ایک بار پھر ہنس پڑا۔۔
“آپ خوش ہیں ؟”
وہ مٹھی میں کوئی شہ دبائے بیڈ کی پشت پر سر ٹکائے کسی گہری سوچ میں مبتلا تھے جب انکی آواز پر آنکھیں کھولتے باغور انکی جانب دیکھنے لگے۔۔ وہ ہاتھوں سے کنگن اتارتی مسکراتی ہوئی پوچھ رہی تھیں۔۔
“ہمم خوش ہوں۔۔ شکر ہے اللہ کا ایک فرض سے سبکدوش کر دیا اس نے۔۔ مجھے پورا یقین ہے زوار خود کو بہترین انتخاب ثابت کرے گا۔۔
وہ پر یقین انداز میں کہتے مسکرائے۔
پلنگ کے دوسرے کنارے پر بیٹھتی سدرہ بیگم نے حسرت سے انکی جانب دیکھا۔۔ یہ مسکراہٹ صرف بیٹیوں کے ذکر پر ہی دیکھنے کو ملتی تھی انہیں۔۔
“میری شیریں بہت معصوم ہے۔۔ میں تو خود سے شرمندہ ہوں کے میں نے کیسے مسز تنویر جیسے لوگوں کا انتخاب کر لیا اپنی شیریں کے لئے۔۔ وہ تو اللہ نے حفاظت کی میری بچی کی۔۔ شہزادہ ہے ہمارا زوار۔۔
انکی بات پر انہوں نے سر کو خم دیتے انہیں دیکھا۔۔ انکے لہجے میں مامتا بول رہی تھی۔۔ آنکھوں سے سچی خوشی جھلک رہی تھی۔۔
“بچیاں تو ہوتی ہی معصوم ہیں سدرہ۔۔ پھولوں کی نازک کلیوں جیسی۔۔ سینچ سینچ کر نا رکھیں تو ٹوٹ جاتی ہیں۔۔
وہ ٹھنڈی سانس بھرتے بولے۔۔ سالوں پہلے یہ جملہ کسی نے بہت میٹھاس سے انکی سماعت میں انڈیلا تھا۔۔ اس لہجے کی مٹھاس آج تک نہیں بھولی تھی۔۔
“آپ سو جائیں میں بیلا کو دیکھ لوں۔۔
انہوں نے بامشکل مسکرانے کی کوشش کی۔۔ وہ سر ہلا گئیں۔ . جانتی تھیں رات وہ بیلا سے ملے بغیر ۔۔ اسے دیکھے بغیر نہیں سوتے۔۔
“بیلا__
وہ آنکھوں کی نمی اندر اتارتی لیٹ گئیں۔۔
اسکا حسین روپ آنکھوں کے سامنے آ سمایا تھا۔۔ کتنی حسین لگ رہی تھی وہ۔۔
نہیں وہ تھی ہی بہت حسین۔۔
“اللہ تمہارے نصیب بھی اتنا ہی خوبصورت کرے جتنی حسین تم خود ہو”۔۔
اسکے عکس سے مخاطب ہوتے وہ دل سے بولیں۔۔
“بیلا افضل ملک ” انکی دعاؤں میں سب سے زیادہ شامل تھی۔۔ اسکا ذکر انکی تنہائی میں سب سے زیادہ ہوتا تھا۔۔ جسے بھیڑ میں وہ دیکھنے سے بھی کتراتی تھیں تنہائی میں اسکے حسین روپ کی بلائیں لیتی نہیں تھکتی تھیں۔۔ بہت الگ سا رشتہ تھا انکے ساتھ نفرت تو کبھی اس سے کر ہی نہیں سکتی تھیں۔۔
اور محبت کبھی ظاہر کر بھی سکیں گی یا نہیں۔۔
“بیلا۔۔ رات کے دو بجے ہیں بیٹی۔۔ میرا بیٹا اس وقت کافی بنا رہا ہے ؟”
وہ بیلا کو اسکے کمرے میں ڈھونڈنے کے بعد کچن میں آئے تھے جہاں کھڑی وہ کافی بنا رہی تھی۔۔ رات اسکی کافی پینے کی عادت سے وہ واقف تھے۔۔
۔
“ہاہاہا۔۔ آپ کی معصوم سی جو بیٹی رخصت ہوئی ہے آدھے گھنٹے پہلے۔۔ اس نے رو رو کر میرے سر میں درد کر دیا تھا۔۔ ہمارے ہی گھر میں ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک رخصت ہونے میں جھیل۔۔ نہریں بہا دیں اس نے تو بابا۔۔
وہ انکے لئے بھی کافی بنانے لگی۔۔ ساتھ ہنستی ہوئی ان سے باتیں کر رہی تھی۔۔
انہوں نے محبت سے اسے دیکھا۔۔ ہنستے ہوئے تھوڑی کا وہ گڑھا اندر کی جانب ہوتا بھنور جیسا معلوم ہوتا تھا۔۔ آنکھوں میں ستاروں سی چمک تھی۔۔
اسکی ہنسی بہت خوبصورت تھی۔۔
اوپر ٹیرس پر کھڑے شخص نے اعتراف کیا تھا۔۔ وہ جب تک نہیں سوتی وہ کیسے سو سکتا تھا۔۔
وہ انہیں شیریں کی باتیں بتاتی مزید ہنس رہی تھی۔۔ ہاتھوں کو گھما گھما کر ایکشن کرتی کبھی شیریں کی طرح منہ بسور کر دکھاتی اپنی صورت کی حسین چھاپ میں وہ انہیں شدّت سے ماضی یاد دلا گئی تھی۔۔
“بیلا__ میرے پاس آئیں بیٹی۔۔ میری جان۔۔
انہوں نے محبت سے پکارا۔۔ دل میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی۔۔
وہ ہنسی روکتی انکے پاس آ گئی۔۔
“بابا ایک تحفہ آپ کے حوالے کریں تو بابا کا بچہ قبول کرے گا “۔۔
اسکی پیشانی چوم کر انہوں نے اجازت طلب کی۔۔ اسکے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی اسے کچھ دینے سے پہلے یوں ہی اجازت طلب کیا کرتے تھے۔۔
اسکے سر ہلانے پر انہوں نے اسکے آگے مٹھی کھولی۔۔
وہ پر اشتیاق سی دیکھنے لگی۔۔
وہ ایک عام سی زنجیر نما چین تھی۔۔ لیکن اسے خاص اس میں موجود لاکٹ بنا رہا تھا۔۔ وہ بہت چھوٹی سی کوئی پینٹنگ نما لاکٹ تھی۔۔ سونے کی وہ لاکٹ جو دیکھنے میں کوئی سکیچ جیسی لگ رہی تھی۔۔
“میری زندگی کا سرمایا۔۔ آج میں اپنی زندگی کے نام کر رہا ہوں “۔۔
اسکے بالوں پر لب رکھتے وہ آنکھوں کی نمی اندر اتار گئے تھے۔۔
“میں ہمیشہ پہنے رکھونگی بابا۔۔
وہ جلدی سے اپنی گردن میں سجاتے عزم سے بولی۔۔
وہ مسکرا اٹھے۔۔
“ہاں بابا کی جان ہمیشہ پہنے رکھنا اسے “۔۔
وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولے۔۔ درد کی شدّت مزید بڑھتی جا رہی تھی۔۔
“کہاں جا رہے ہیں بابا۔۔
وہ انہیں اسٹڈی کی جانب بڑھتے دیکھ کر بولی۔۔
“کچھ کتابیں پڑھنی ہیں میری جان۔۔ کچھ اوراق پلٹنے ہیں۔۔ آپ یہیں رہیں۔۔
وہ ناسمجھی سے انکی پشت دیکھتی رہ گئی۔۔
پھر ہاتھ لگا کر گلے میں موجود اس شہ کو چھوا۔۔
کافی کا مگ لیتی وہ لان کی جانب چلی گئی۔۔
“بیلا_ اتنی بار منع کیا ہے یوں رات میں نہیں جایا کریں لان میں۔۔ وہ زیر لب بڑبڑاتا تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا۔۔ اسے دیکھ کر ایک پل کو وہ ٹھٹھک سا گیا۔۔ ۔۔ گرے کلر کی سٹائلش سی کام دار کرتی اور ٹراؤزر میں ملبوس۔۔ ہمیشہ کی طرح دوپٹے سے بےنیاز۔۔ لبوں کو نیچرل کلر کی لپسٹک سے رنگے۔۔ شانوں تک آتے گھنے سلکی بالوں کو کھلا چھوڑے چاندنی رات میں وہ اسے اس چاندنی کا ہی عکس لگی تھی۔۔ مڑی مڑی پلکیں جو آج آنکھوں کے ساتھ ہی مسکرا رہی تھیں۔۔ ہوا سے اسکے بال اڑتے چہرے کے گرد اٹھکلياں کر رہے تھے۔۔ اسکی نظریں تو تھوڑی کے اس گڑھے پر ٹک گئیں تھیں۔۔ جو آج مسکراتا ہوا اسکی خوشی ظاہر کر رہا تھا۔۔ دل اس بھنور میں ڈوب کر ابھرتا محسوس ہو رہا تھا۔۔ “آپ۔۔ اسکی آواز پر وہ ہوش میں آیا۔۔ وہ اسے دیکھ چکی تھی۔۔ وہ شال درست کرتا اسکے ساتھ ہی بینچ پر آ بیٹھا۔۔ “آپ سے کتنی بار کہا ہے بیلا یوں رات کو باہر نا آیا کریں۔۔ دل کی حالت پر قابو پاتا وہ نرمی سے بولا۔۔ “اور میں نے آپ سے کتنی بار کہا ہے ابراھیم ملک کے میرے معاملات سے دور رہا کریں۔۔ وہ بھی دو بدو بولی۔۔ “میں محبت میں بدتمیزی کا قائل بلکل نہیں ہوں بیلا۔۔ اور آپ کے معاملات میں بولنے کا حق اپنے پاس محفوظ رکھتا ہوں میں۔۔ وہ نرم مگر سنجیدہ لہجے میں بولا۔۔ “میں نہیں مانتی اس حق کو۔۔ وہ لاپرواہی سے بولی۔۔ “آپ کے نا ماننے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی۔۔ وہ دکھ سے بولا۔۔ یہ لڑکی کبھی اس سے تمیز سے بات نہیں کر سکتی تھی۔۔ “یہی تو افسوس ہے۔۔ وہ گہری سانس لیتی کافی پینے لگی۔۔ ایک گھونٹ بھر کر اس نے مگ بینچ پر رکھا۔۔ نظریں شفاف آسمان پر نظر آتے تاروں پر ٹکی تھیں۔۔ “آپ کب سے راتوں کو جاگنے لگے۔۔ طنزیہ ہنسی سے کہتی اس نے مگ اٹھانا چاہا۔۔ مگ وہاں ہوتا تو اسکے ہاتھ آتا۔۔ اس نے حیرانی سے اسے دیکھا وہ اطمینان سے اسکے مگ سے کافی کا گھونٹ بھر رہا تھا۔۔ “آپ نے میری کافی پی لی۔۔ وہ بےیقینی سے اسکی جانب دیکھتی بولی جو چند منٹوں میں اسکا اچھا خاصا بڑا مگ خالی کر گیا تھا۔۔ وہ کندھے اچکا گیا۔۔ “آپ تو سچ میں پاکستانی حکومت بن گئے ہیں۔۔ لیکن دیکھیں میاں مجھے کوئی آئ ایم ایف سمجھنے کی غلطی نہیں کیجیے گا۔۔ میں اب سے اپنی کوئی چیز آپ کو نہیں دونگی۔۔ ایک گھونٹ کافی بھی نہیں۔۔ وہ وارننگ دیتے انداز میں بولی۔۔ اپنی کافی ختم ہونے کا دکھ ختم ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔۔ “میری کافی کے بوند بوند کا بدلہ لونگی میں آپ سے غریب انسان۔۔ وہ جل کر کہتی وہاں سے واک آوٹ کر گئی۔۔ “کل آپ آدھی کافی لے گئیں تھیں۔۔ پیچھے سے وہ ہنستے ہوئے بولا۔۔ اسکی بات سن کر اسکے بڑھتے قدم تھمے تھے۔۔ وہ آنکھیں چھوٹی کر کے اسے گھورتی اسکے مقابل آ کھڑی ہوئی۔۔ وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔ “اییییی۔۔ دانت پیس پر عجیب و غریب آواز نکالتی وہ دونوں ہاتھوں کی مٹھی اسکے گال نوچتی اسکے داڑھی کے بال کھینچ رہی تھی۔۔ “بیلا
اسکے نرم ہاتھ مضبوطی سے تھام کر اپنے چہرے سے دور کرتے وہ بےیقینی سے اسے دیکھنے لگا۔۔مطلب سچ میں ؟ کوئی ایسے بھی بدلہ لیتا ہے۔۔
وہ آنکھیں چھوٹی کئے نتھے پھلائے اب بھی اسے گھور رہی تھی۔۔
“جنگلی بلی۔۔
اسکے ہاتھوں کو سختی سے تھام کر جھٹکا دیتے اس نے آنکھوں میں خفگی لئے اسے گھورا۔۔ جو کلائی آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ لیکن اسکی مضبوط گرفت کی وجہ سے ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھی۔۔ جس شخص کے مقابل کھڑے ہو کر بولنے سے پہلے لوگ سوچتے تھے۔۔ اسکی بیوی ہر بار اسے مارنے پر تلی رہتی تھی۔۔
“یہ کیا طریقہ تھا۔۔
وہ سنجیدگی سے بولا۔۔ وہ مزید نتھے پھلا گئی۔۔
“سوری کہیں۔۔
ایک ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرتا وہ دوسرے ہاتھ کی گرفت مزید مضبوط کرتے اسکے قریب ہوا۔۔ وہ آنکھوں میں غصّہ لئے اب بھی اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“سوری کہیں ورنہ۔۔
“ورنہ کیا۔۔
وہ بھی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔۔
اسکے انداز پر محظوظ ہوتا وہ مسکرایا۔۔ اگلے ہی لمحے وہ پورے حق سے ان مڑی مڑی پلکوں کو لبوں سے چھو گیا تھا۔۔
وہ اسکی گرفت میں پھرپھرا کر رہ گئی۔۔
“آئندہ یہ دہشت ناک حرکتیں کرنے پہلے خود کو بھی تیار کر آئیگا مسز ابراھیم “۔۔
اسکی کلائی پر اپنی گرفت کے نشانات کو لبوں سے چھوتا وہ فاتحانہ نظروں سے اسکا دیکھتا اپنی شال درست کرتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔
“بیہودہ۔۔ سستا ہیرو۔۔
وہ نتھے پھلاِئے غصّے سے بولی۔۔
مقابل قہقہا لگاتا مزید سلگا گیا۔۔
جاری ہے
