Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١١
۔
“ڈونٹ ٹیل می پوگو کے یہ بھی بھاگ گیا کوئی ٹکتا ہی نہیں۔۔ میں کوئی چڑیل ہوں۔۔ پانی کی جگہ خون پیتی ہوں۔۔ ڈریکولا کی بیوی ہوں جو مجھ سے ڈر کر مینیجرز بھاگ جاتے ہیں۔۔ ‘ غربت کی وہ مشین کبھی کبھی بن جاتا ہے ڈریکولا بھی ‘
جھنجھلا کر کہتے آخری جملہ وہ زیرلب بڑبڑائی تھی۔۔ اسکے یہ جملے فریج سے پانی نکالتے ابراھیم کی سماعت تک باآسانی پہنچ چکے تھے۔۔
اس رخ پھیر کر ڈریکولا کی بیوی کو دیکھا۔۔
سرخ رنگ کی کرتی میں غصّے میں سرخ ہوتی وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر پوگو سے فون پر بات کر رہی تھی۔۔
اس نے رخ پھیر پر اپنے سابقہ کام پر دھیان دینے کی کوشش کی لیکن نظریں اس کے سراپے سے الجھ الجھ جا رہی تھیں۔۔
اس نے سرخ رنگ بہت سی لڑکیوں کو پہننتے دیکھا تھا۔۔ لیکن کسی پر اتنا کیسا جچ سکتا تھا۔۔
کالے بالوں کی اونچی پونی جو اسکے سر جھٹکنے سے ہل رہی تھی۔۔
خفگی بھری نگاہیں اور ان پر استداء لانبی نوک دار پلکیں جو ابراھیم ملک کی سانسوں سے الجھ پڑھتی تھیں۔۔
وہ بے خود سا چلتا اس تک آیا تھا۔۔
اسے دیکھ کر اسکی تیزی سے چلتی زبان کو جیسے بریک لگی۔۔
“اچھا سنو ایک لڑکی آئیگی آج۔۔ اسے روک کر رکھنا میرے آنے تک۔۔
ہاں پوگو میں آؤنگی آج۔۔
اس سے بےنیاز بنی اس نے اسکے برابر سے گزر جانا چاہا۔۔
اگلے ہی پل وہ ٹھٹھکی۔۔ اسکی کلائی ابراھیم کی زد میں تھی۔۔
۔
“ہاں اسے کہنا بیلا باجی کا انتظار کر لے کچھ دیر۔۔ میرے باپ نہیں بنو پوگو۔۔ ٹھیک ہوں جبھی آ رہی ہوں نا۔۔
اسکے درشتگی سے کہنے پر وہ مسکراہٹ دبا گیا۔۔ اسے اچھی طرح انداز تھا وہ کس کا غصّہ معصوم پوگو پر اتار رہی ہے۔۔
آج چار دن بعد وہ کیفے جانے کے لئے تیار کھڑی تھی۔۔ پچھلے چار دنوں سے وہ گھر پر ہی تھی۔۔
فون رکھ بیلا نے اسکی جانب دیکھا جو بہت احتیاط سے اسکی کلائی سے کچھ اوپر سے اسکا ہاتھ تھامے کھڑا زخم کا جائزہ لے رہا تھا۔۔
۔
“آپ زیادہ فری نہیں ہو رہے نکاح والی بات کے بعد سے۔۔
اس نے تنک کر کہا۔۔ ہاتھ آزاد کروانے کی کوشش نہیں کی کیوں کے یوں بھی اسکا کوئی فائدہ نہیں تھا۔۔
“کیا مجھے نہیں ہونا چاہئیے؟ “
ایک قدم مزید اسکے قریب ہوتے وہ اطمینان سے بولا۔۔ جب کے اسکے یوں قریب ہونے سے اسکے کپڑوں سے اٹھتی کلون کی خوشبو اسے گڑبڑانے پر مجبور کر رہی تھی۔۔ آج کل ابراھیم کی حرکتیں یوں بھی اسے کافی مشکوک لگ رہی تھیں۔۔
۔
“بب بلکل بھی نہیں۔۔ فری تو پوری بیوی سے ہوتے ہیں۔۔ مم میں تو ابھی آپ کی پوری بیوی تھوڑی بنی ہوں۔۔ میرا مطلب بیوی تھوڑی بن گئی ہوں۔۔
وہ ایک قدم پیچھے ہوتی جلدی جلدی بولی۔۔
پسینے کی ننھی بوندیں اسکی پیشانی پر ابھرتی اسکی گھبراہٹ کا صاف پتہ دے رہی تھیں۔۔ وہ کب اس سے اس طرح بات کرتا تھا۔۔ اسکا حیران ہونا فطری تھا۔۔
۔
“آہاں۔۔۔ تو آپ ھی بتا دیں پوری بیوی بنانے کے لئے کیا کرنا ہوگا مجھے۔۔
نچلا لب دانتوں تلے دبائے وہ آنکھوں میں شرارت لئے اسے تکتا ہوا بولا۔۔
بیلا کے دل نے ایک بٹ مس کی۔۔ اس طرح کرنے سے وہ پیارا لگتا تھا۔۔
۔
“کیا دیکھ رہی ہیں۔۔
وہ محبت سے اسکی محویت دیکھتا مسکرایا۔۔ اپنی دلکشی سے شاید وہ بھی واقف تھا..
وہ غصّے سے جھنجھلا سی گئی۔۔ چہرہ سرخیوں میں ڈھلنے لگا۔۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کے سامنے کھڑا شخص اس وقت اسے کس روپ میں دیکھ رہا ہے۔۔
“زخم ابھی کچا ہے آپکا۔۔ احتیاط کریں پوری طرح ٹھیک نہیں ہوا۔۔ اور آج یہ سٹیچز کھلوانے ہیں میرے ساتھ ہسپتال چلنا ہے آپ نے۔۔
انگوٹھا نرمی سے اسکی کلائی پر پھیرتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
“آگے سے ہٹیں مجھے کیفے جانا ہے۔۔
وہ ادھر ادھر دیکھتی ہوئی بولی۔۔ وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔ جب سے نکاح والی بات پتہ چلی تھی اسے اسکے قریب آنے سے غصّہ آتا تھا۔۔ جھنجھلاہٹ ہوتی تھی لیکن نفرت۔۔ نہیں نفرت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔۔
جو اسکی جھنجھلاہٹ میں مزید اضافہ کا باعث بن رہا تھا۔۔
۔
“پہلے ہسپتال چلیں۔۔ پھر کیفے چلے جائیگا۔۔
وہ نرمی سے بولا۔۔
“میں کہ رہی ہوں دور ہٹیں۔۔ کیوں ہر وقت میرے قریب آجاتے ہیں آپ۔۔
وہ سخت جھنجھلائی ہوئی تھی۔۔
“آپ کیوں ہر وقت مجھ سے دور ہوتی رہتی ہیں۔۔
اسکی خفگی پر بھی وہ محبت سے بول رہا تھا۔۔
اسکا غصّہ۔۔ اسکی خفگی۔۔ اسکی اندرونی کیفیت کا واضح اظہار تھے۔۔
اور کچھ سمجھ نہیں آیا تو اس نے سرعت سے کاؤنٹر پر رکھی تیز دھار چھوری ہاتھ میں اٹھاتے اسی تیزی سے عین اسکے سینے پر گھونپ دیا۔۔ وہ پیچھے نہیں ہٹتا تو یقیناً وہ اسے بڑا گھاؤ دے چکی ہوتی۔۔
“سسسس بیلا_ کیا کر رہی ہیں ؟
وہ بےیقینی سے اسکی جانب دیکھتے جھٹکے سے پیچھے ہٹا۔۔ سینے پر خون کی ننھی بوندیں ابھرنے لگی تھیں۔۔
“آئندہ میرے ساتھ فلمی ہیرو بننے کی کوشش نہیں کیجیے گا۔۔ اور ہسپتال چلنا ہے تو جلدی چلیں میں نے کیفے بھی جانا ہے۔۔
اطمینان سے چھوری واش بیسن میں دھونے کے بعد وہ سنجیدگی سے بولتی کچن سے باہر نکلی۔۔
وہ افسوس سے اسکی پشت دیکھتا رہ گیا جو ہر وقت مرنے مارنے پر تلی رہتی تھی۔۔


وہ صبح سے گھن چکر بنا ہوا تھا۔۔ کیفے کے ایک جانب کنسٹرکشن کا کام پچھلے سال سے جاری تھا اور ماشاءالله سے آج تک مکمّل سے ہو سکا تھا وجہ کچھ لوگ بیلا کو پسند نہیں آتے تھے۔۔ اور کچھ کو بیلا۔۔ اس کیفے میں کام کرنے والے خواں وہ معمولی ویٹر ہو یہ کوئی کک کوئی ٹک نہیں سکتا تھا۔۔ سو سارے کام گھوم پھر کر آخر پوگو کے نازک کندھوں پر ہی آتے تھے۔۔
چار دن سے بیلا کیفے نہیں آئی تھی۔۔ زوار اسکی مدد کے لئے آجاتا تھا لیکن اسکے اپنے بھی کام تھے۔۔ صبح سے اسے اکیلے ہی سنبھالنا پڑھتا تھا۔۔
اس وقت بھی وہ ایک ٹمپریری کک کی تلاش میں لوگوں کا انٹرویو لے رہا تھا۔۔ کیوں کے پرمیننٹ تو بیلا کسی کو ٹکنے نہیں دیتی تھی۔۔
جن لوگوں کو بیلا کے پاس بھیجنا تھا انھیں اس نے سلیکٹ کرنا تھا۔۔
ہر ایرے غیرے کو وہ اپنی باجی کے پاس نہیں بھیجتا تھا۔۔
“سنو لڑکے۔۔ بیلا کون ہیں یہاں۔۔
ایک باریک سی آواز پر اس نے بھنویں سکیڑ کر آواز کی جانب دیکھا۔۔
“بیلا باجی بولو بیلا باجی۔۔
سامنے کھڑی بامشکل پانچ فٹ کی لڑکی کا پوری طرح جائزہ لیتے وہ باجی پر پورا زور دے کر بولا۔۔ وہ لڑکی تقریباً اسکی ہم عمر ہی لگ رہی تھی۔۔ بلیک ٹی شرٹ اور بلیک ٹراؤزر میں ملبوس۔۔ چھوٹے سے سکارف کو سر پر نماز کے سٹائل میں باندھے جو بامشکل اسکے بالوں کو ہی چھپا پا رہا تھا۔۔ وہ لڑکی پہلی نظر میں اسے ذرا اچھی نہیں لگی۔۔ کیا تھا جو ٹی شرٹ کی جگہ ڈھنگ کے کپڑے پہن لیتی۔۔ یہ بات وہ فقط سوچ ہی سکا تھا۔۔
۔
“میری کوئی بہن نہیں ہے۔۔ سب کو باجی نہیں بناتی میں۔۔ اب مجھے بتاؤگے بیلا کہاں ملے گی۔۔
وہ کاؤنٹر پر جھکتے ایک بار پھر بولی۔۔ وہ بھی ایک طرح سے اسکا جائزہ ہی لے رہی تھی۔۔
“کیا کام ہے تمہیں باجی سے۔۔ ہمیں ویٹیرز کی ضرورت نہیں ہے ابھی۔۔ ہمارا اوپن ایریا میں ہی سیٹ اپ ہے فلحال جو میں سنبھال لیتا ہوں۔۔
وہ گردن اکڑا کر اپنی تعریف کرتے تنک کر بولا۔۔ اسکے منع کرنے کے باوجود وہ لڑکی بعض نہیں آئی تھی اسکی باجی کا نام لینے سے۔۔
۔
“مجھے بیلا سے ہی ملنا ہے۔۔ اور اس نے مجھے بلایا ہے تو کام بھی میں اسے ہی بتاؤنگی تم جیسے گدھے کو نہیں۔۔
اب سامنے والی کی بھی برداشت کی حد ہو گئی تھی۔۔
“تم نے گدھا کس کو بولا۔۔
کچھ سمجھ آنے پر پوگو کا سفید چہرہ سرخ میں تبدیل ہو گیا تھا۔۔
ایک ہی جست میں اندر کاؤنٹر سے باہر چھلانگ لگاتے وہ اسکے مقابل آ کھڑا ہوا۔۔
اسکا قد خاصا لمبا تھا۔۔ وہ اسکے سامنے چھپ سی گئی تھی۔۔
“پاگل تو ہوں نہیں میں۔۔ اکیلے بات کرنے کی عادت نہیں میری۔۔ ظاہر ہے تمہیں ہی بولا ہے۔۔
وہ مزے سے بول رہی تھی۔
“میں کیا تمہیں ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا نظر آ رہا ہوں جو تم نے مجھے گدھا کہا ہے۔۔ اگر باجی نے مجھے لڑکیوں کی عزت کرنے نہیں سیکھایا ہوتا تو پھر تمہیں بتاتا ٹیڈی کہیں کی۔۔
اپنے لئے گدھے کا لفظ سن کر معصوم پوگو کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا تھا۔۔
اسکی باجی کو تو وہ بہت سوہنا بہت معصوم لگتا تھا اور یہ لڑکی گدھا کہ رہی تھی اسے۔۔
“ابھی نکلو تم۔۔ ابھی ابھی نکلو میرے اور میری باجی کے کیفے سے۔۔ پوگو سے پنگا لیتی ہے۔۔ کوئی کام نہیں ہمارے پاس تم غریبوں کے لئے چلو ابھی نکلو۔۔
وہ اونچا لمبا پٹھان تھا۔۔ اپنے رعب دار آواز میں غصّے سے لال ہوتا اسے باہر کا رستہ دکھایا۔۔
“اپنی باجی کے سامنے شریف کیا بن جاتا ہوں میں۔۔ دنیا ہی مجھ سے بدمعاشی پر اتر آئی ہے۔۔
اسے خوب سارا غصّہ آ رہا تھا۔۔ بیلا اکثر اسے بتاتی رہتی تھی کے کتنا سوہنا ہے اسکا پوگو۔۔ وہ گدھا کیسے ہو سکتا تھا بھلا۔۔
“میں کہیں نہیں جا رہی۔۔ اور کیا غریبوں ہاں۔۔ کام کے لئے آئی ہوں بھیک کے لئے نہیں۔۔ بیلا نے کھانا ٹیسٹ کرنے کے لئے بلایا ہے مجھے۔۔
وہ بھی اچک کر کاؤنٹر کی سلیب پر چڑھ بیٹھی۔۔
وہ تو اسکے ڈھیٹ پن پر حیران تھا۔۔
“تم کھانا بناؤگی۔۔ ہمارے کیفے کے لئے۔۔ ارے بی بی بچوں کے نوڈلز۔۔ سریلکس نہیں بناتے ہم۔۔
وہ حیرانی سے سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ مطلب بیلا نے جس لڑکی کا کہا وہ یہ تھی۔۔
“اتنی چھوٹی کک۔۔
وہ زیر لب بولا۔۔
“مجھ سے کچھ کہا۔۔
وہ آنکھیں سکیڑے اسی کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔
“نہیں۔۔ . آس پاس موجود شیطانوں سے
وہ جل کر بولتا دوسری جانب چلا گیا۔۔ اس بلا کو تو اب بیلا نے ہی ہینڈل کرنا تھا۔۔


وہ خاموشی سے لب بھینچے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔ وہ اسکے ساتھ بیٹھی موبائل میں لگی تھی۔۔ چار دن میں اچھا خاصا کام جمع ہو گیا تھا۔۔ وقفے وقفے سے ایک نظر اس پر بھی ڈال لے رہی تھی۔۔
وہ اس وقت کپڑے چینج کر چکا تھا۔۔ کالی شلوار قمیض پر اپنی مخصوص چادر کندھوں پر ڈالے سنجیدگی سے بنا اسے مخاطب کئے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا۔۔
ہسپتال کے پارکنگ میں گاڑی روک کر اسکی جانب دیکھے بنا ہی وہ باہر نکلا۔۔
وہ بھی اپنی جانب کا دروازہ کھول کر اسکی تقلید میں آگے بڑھنے لگی۔۔
وہ آہستگی سے اسکا ہاتھ تھام چکا تھا۔۔ بیلا نے حیرانی سے اسکے جانب دیکھا۔۔
کیا تھا وہ۔۔ کچھ اثر نہیں ہوا تھا اسکے عمل کا اس پر __
۔
“اگر آپ کا کسی اور ہتھیار سے مجھے زخمی کرنے کا ارادہ ہے تو کر لیں کیوں کے آگے جو میں کہنے جا رہا ہوں آپ نے یہی کرنا ہے۔۔
کچھ آگے چل کر اس کی سنجیدہ آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی۔۔
اس نے سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔۔ اسکی نظروں کا مفہوم سمجھ کر وہ ٹھہر اسکے آگے آ کھڑا ہوا۔۔ اس طرح کے وہ اسکے کسرتی بدن کے آگے چھپ سی گئی تھی۔۔
“اسے خود پر ڈال لیں۔۔ اپنی بیوی جسے دیکھنے کا مجھے اب تک حق نہیں ملا۔۔
کسی اور کی اس پر نظر پڑے مجھے گوارا نہیں ہے۔۔
اپنے کندھوں سے چادر اتار کر نرمی سے اسکے گرد ڈالتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
ایک نظر اسکے بھینچے لب پر ڈالتی وہ چادر اپنے گرد پھیلا گئی۔۔
ناجانے کیوں اس واقت اسے منع کرنا اسے اچھا نہیں لگا۔۔ خود پر لوگوں کی نظریں وہ خود بھی محسوس کر رہی تھی۔۔ وہ اتنی کوئی غلط بات بھی نہیں کر رہا تھا۔۔
چادر ہٹنے پر کھلے گریبان سے اسکے سینے پر لگا وہ گھاؤ واضح نظر آنے لگا جو کچھ دیر پہلے اس نے دیا تھا۔۔ کٹ زیادہ بڑا نہیں تھا لیکن خاصا گہرا تھا۔۔ جس پر ابراھیم نے کچھ لگایا بھی نہیں تھا۔۔
“چلیں۔۔
اسکی سنجیدہ آواز پر وہ ہوش میں آئی۔۔
ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہونے پر وہ جو وہ اس سے کچھ دوری پر کھڑا تھا غیر محسوس انداز میں اسکے قریب آ کھڑا ہوا۔۔
ڈاکٹر سے دعا سلام کے بعد اسے بیلا کی جانب متوجہ ہوتے دیکھ وہ بھی اسکی جانب رخ موڑھ گیا۔۔
“بیلا ہاتھ دیں۔۔
ڈاکٹر کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ اسکا ہاتھ تھام چکا تھا۔۔ بہت احتیاط سے بازو سے اسکا ہاتھ تھام کر اس نے کلائی ڈاکٹر کی جانب کی۔۔
وہ اسکے یوں قریب ہونے پر اپنی دھڑکنوں کے شور سے پریشان ہوتی اسے دیکھ رہی تھی۔۔ جو لب بھینچے اسکے ہاتھ کا معائنہ کرتے ڈاکٹر کو دیکھ رہا تھا۔۔
“سسسس۔۔
ٹانکے کھلنے پر وہ ہوش میں آئی۔۔ درد کی ایک ٹس اٹھی تھی۔۔
“کیا ہوا درد ہو رہا ہے۔۔
وہ متفکر سا پوچھ رہا تھا۔۔ ڈھونڈنے سے بھی اسکے لہجے۔۔ اسکے انداز میں وہ کوئی ملاوٹ نہیں ڈھونڈ پا رہی تھی۔۔
پھر وہ کیوں کر رہا تھا اسکے لئے یہ سب۔۔ اسکی آج کی حرکت کے بعد بھی اسکی فکر میں کمی نہیں آئی تھی۔۔ ہاں وہ پہلے کی طرح خاموش ضرور ہو گیا تھا۔۔
“بیلا کیا ہوا رو رہی کیوں ہیں۔۔ درد ہو رہا ہے۔۔
ابراھیم کی آواز پر اس نے ہاتھ اپنے گالوں پر پھیرے۔۔ آنسوں۔۔ تو کیا وہ رو رہی تھی۔۔ اس نے نفی میں گردن ہلائی۔۔
“آپ آرام سے کریں پلیز۔۔
اسکا ہاتھ مزید مظبوطی سے تھامتا وہ ڈاکٹر سے بولا جسے وہ بیلا کی سسکی پر روک چکا تھا۔۔
“یہ کریم انہیں لگا دیں۔۔
اپنا کام کر کے ڈاکٹر مرہم اسکے حوالے کر کے جا چکا تھا۔۔
انگلیوں میں کریم لے کر نرمی سے کلائی پر لگاتے وہ بہت احتیاط سے اسے چھو رہا تھا۔۔
“چلیں بس ہو گیا۔۔
وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔
“لیکن احتیاط کیجیے گا کیفے میں۔۔ اس پر چوٹ نا لگے۔۔
وہ اسکی جانب دیکھنے سے گریز برت رہا تھا۔۔ وہ جب بھی کچھ نا بولی تو ابراھیم سے استہفامیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔۔
اسکے سپاٹ چہرے پر نظر پڑھتے مسکرا اٹھا۔۔
وہ تیزی سے باہر نکلنے لگی۔۔ تو وہ خود بھی اسی آہستگی سے اسکا ہاتھ تھام کر گاڑی تک آ گیا۔۔
باقی کے پورے راستے بھی وہ دونوں کے درمیان معنی خیز خاموشی تھی۔۔
دونوں ہی اپنی اپنی سوچوں میں الجھے ہوئے تھے۔۔
۔
“آگیا آپکا کیفے۔۔
کیفے کے آگے گاڑی روک کر اس نے اسکی جانب دیکھا جو کھوئی کھوئی سی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔۔
تیزی سے دروازہ کھولنے کی کوشش کو ناکام بناتے اسکا ہاتھ تھام کر اسکا رخ اپنی جانب کیا۔۔

“حصار مسکراہٹ کا ہو، گہری آنکھوں کا ہو ، مضبوط بانہوں کا ہو یا دل سے نکلی دعا کا ہو. خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جو کسی ایسے حصار میں ہوتے ہیں۔۔ اور آپ ہر پل ہر لمحہ میرے حصار میں ہوتی ہیں۔۔ چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو۔۔ ابھی قربت آپ سے برداشت نہیں ہو رہی تو دعاؤں کے ہی حصار میں صحیح۔۔
آہستہ سے جھک کر اسکی کلائی پر لب رکھتے وہ سرگوشی کی سی آواز میں کہتا وہ آخر میں شرارت سے بولا۔۔
اسکا استحقاق بھرا لمس محسوس کرتے ہی وہ تڑپ کر ہاتھ آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی۔۔ لیکن نرم ہونے کے باوجود بھی اسکی گرفت اتنی ڈھیلی نہیں تھی کے وہ آسانی سے اپنا ہاتھ آزاد کروا لیتی۔۔
“سینہ تو زخمی کر چکی ہیں آپ۔۔ دل پہلے ہی گھائل ہے۔۔ اب کیا جان لینگی۔۔
بوجھل ہوتی آواز میں کہتے وہ اسکی جانب جھکا تھا۔۔
“نہیں۔۔ قریب نہیں آ۔۔
وہ تو اسکی گرفت میں پھرپھرا رہی تھی۔۔ پیشانی پر عقیدت بھرا لمس محسوس کرتی ساکت ہو گئی۔۔
“اپنی حدود سے آگے اپنا حق بھی استعمال نہیں کرتا ابراھیم ملک بے فکر رہیں۔۔
پوری شدّت سے اسکی پیشانی پر اپنا لمس چھوڑ کر آہستہ سے ایک بار پھر پیار کرتے وہ اسے اپنا وقار باور کروا گیا تھا۔۔
“اب جائیں۔۔
اسکی سرخیوں میں گھلتی صورت سے بامشکل نظریں چراتے وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
وہ تیزی سے دروازہ کھولتی نکل گئی تھی۔۔ تیز تیز قدموں سے آگے بڑھتی وہ دروازے کے قریب رکھا باکس چیک کرنا نہیں بھولی تھی۔۔


جاری ہے۔❤❤