No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
“” دل کرائے کے لئے خالی نہیں ہے “”
از قلم لائبہ ناصر
قسط نمبر ١٠
۔
“ابراھیم۔۔ تم بھی گھر چلے جاؤ بیٹا۔۔ فریش ہو جاؤ۔۔
اطہر ملک نے اسکی جانب دیکھتے نرمی سے کہا۔۔ جو پچھلے تین گھنٹے سے اسی طرح کرسی پر اسکا ہاتھ تھامے بیٹھا ہوا تھا۔۔ اسکے چہرے پر خوف کی لکیریں رقم تھیں۔۔ وہ جانتے تھے کے وہ بیلا کو پسند کرتا ہے۔۔ اس تک حد یہ انھیں اندازہ نہیں تھا۔۔
۔
“انہوں نے زوار سے کہا ہے اگر میں نے انھیں آزاد نہیں کیا تو یہ بار بار اسی طرح کرینگی۔۔
اسکے چہرے پر نظریں جمائے وہ کھوئے کھوئے انداز میں بول رہا تھا۔۔
وہ تاسف سے اسے دیکھ کر رہ گئے۔۔
پچھلے دو گھنٹوں سے بیلا دواؤں کے زیر اثر سو رہی تھی وہ اسی انداز میں اس نظریں ٹکائے ہاتھوں میں اسکا ہاتھ تھامے بیٹھا ہوا تھا۔۔
۔
“میں ڈاکٹر سے مل کر آتا ہوں۔۔ کہ رہے تھے شام تک ڈسچارج کر دینگے۔۔
وہ کہتے ہوئے روم سے نکل گئے۔۔ وہ ایک بار پھر اسے دیکھنے لگا۔۔
بند آنکھوں پر سیافگن لانبی پلکیں۔۔ ادھ کھلے لب۔۔ وہ اب بھی اپنے نائٹ گاؤن میں ہی بلبوس تھی۔۔ چہرے کی رنگت زردی مائل ہو گئی تھی۔۔
وہ بار بار اپنے سوکھتے لبوں پر زبان پھیر رہی تھی۔۔
۔
“بیلا۔۔ کیا ہوا کچھ چاہئیے۔۔ ؟
اسے آہستہ سے آنکھیں کھولتے دیکھ اس نے نرمی سے سوال کیا۔۔
“کوئی بھی نہیں آیا۔۔
اپنے گرد دیکھتی وہ بامشکل اٹھ بیٹھی۔۔ کمرے میں صرف ابراھیم کو موجود دیکھ کر اس نے لب بھينچے۔۔
۔
“شیریں ابھی کچھ دیر پہلے گئی ہے۔۔ بابا بھی یہیں تھے ابھی ڈاکٹر سے بات کرنے کے لئے گئے ہیں۔۔
پانی کا گلاس اسکی جانب بڑھاتے اس نے سنجیدگی سے کہا۔۔
وہ حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔ اس نے تو پانی نہیں مانگا تھا ۔۔
لیکن یہ سچ تھا کے اسے پانی کی طلب ہو رہی تھی۔۔
۔
“مجھے کیفے جانا ہے۔۔
ہاتھ کی پشت سے کینولا ہٹاتے وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔ لیکن نقاہت کے باعث اسے کھڑے ہونے میں مشکل ہو رہی تھی۔۔
۔
“بیلا آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ابھی۔۔ کیفے پر پوگو کے ساتھ زوار بھی ہے۔۔ وہ دیکھ لیگا۔۔
وہ پریشانی سے کہتا اسکے قریب آیا۔۔ سرعت سے اسکا ہاتھ تھام اسے ڈرپ ہٹانے سے روکا۔۔
۔
“مجھے اپنے کیفے جانے کے لئے آپ کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔۔ مجھے جانا ہے ابھی کیفے۔۔
وہ غصّے سے بپھری اپنا ہاتھ آزاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
۔
“اس حالت میں باہر جائینگی آپ۔۔
گہری نظر اس پر ڈالتے اس نے گھمبیر لہجے میں کہا۔۔
اسکی نظروں اور باتوں کا مفہوم سمجھتے اس نے خود پر نظر ڈالی۔۔ اگلے ہی پل سرخ سی ہوتی پیچھے ہٹی۔۔
۔
“میں آپ کو اپنی اجازت کا پابند نہیں کر رہا ۔۔ صرف اس وقت جانے سے روک رہا ہوں۔۔ آپ اپنی حالت دیکھیں کھڑی نہیں ہو پا رہی ہیں آپ۔۔ ٹھیک ہو جائیں پھر چلی جائیگا۔۔
وہ آہستہ سے اسکے ہاتھ کی پشت سہلاتا نرمی سے کہ رہا تھا۔۔
۔
“کیوں کر رہے آپ یہ سب۔۔ ایک دن میں میری اتنی فکر کیوں ہونے لگی آپ کو۔۔
اسکی نرمی پر وہ مزید جھنجھلائی۔۔ آنسوں بلا وجہ ہی آنکھوں میں امڈ آئے تھے۔۔
وہ خاموشی سے اسکے قریب کھڑا اسے آنسوں روکنے کی کوشش کرتے دیکھ رہا تھا۔۔ جو سرخ چہرے کے ساتھ آنکھوں کو بےدردی سے رگڑتی خود کو رونے سے بعض رکھنے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔۔
“محبت کرتا ہوں آپ سے۔۔
وہ سادہ سے لہجے میں بولا تھا۔۔ لیکن کچھ خاص تھا اسکے الفاظ میں وہ ٹھٹھک کر اسے دیکھنے لگی۔۔
“بیوی ہیں آپ میری۔۔ آپ انجان تھیں۔۔ میں تو نہیں تھا نا۔۔ میں شروع سے جانتا تھا کے آپ میرے روح سے جڑی ہیں بیلا۔۔ اپنی بیوی سے محبت کرتا ہوں اور اظہار کرنے میں بھی مجھے کوئی عار نہیں ہے۔۔ آپ پر سختی میں نے کبھی اپنی تسکین کے لئے نہیں کی بیلا۔۔ نا اسکا مقصد آپ کو تکلیف دینا ہوتا تھا۔۔ آپ نکاح میں ہیں میرے۔۔ میرے وجود کا حصّہ ہیں آپ۔۔ آپ پر بری نگاہ پڑے تو میں برداشت نہیں کر سکتا۔۔ میں نہیں جانتا میرے لئے آپ کے دل میں اتنی بدگمانی اتنی نفرت کی وجہ میری سختیاں ہیں یا کوئی اور وجہ ہے۔۔
نرمی سے اسکے ہاتھوں کو تھام کر وہ اسکے آگے بیٹھا اسکے دل سے اپنے لئے بدگمانی کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
۔
“لیکن آپ کو کسی غلط کام سے روکنا میرا حق بھی ہے اور فرض بھی۔۔ یہ حق مجھے اللہ کی ذات نے دیا ہے بیلا۔۔ اس کے لئے میں نے آپ پر سختی کی ہے میں مانتا ہوں۔۔ اور آئندہ بھی کبھی مجھے سختی سے پیش آنا پڑا تو میں آؤنگا۔۔ لیکن اسکا مقصد آپ کو تکلیف دینا نہیں آپ کی حفاظت ہے۔۔ آپ کی بھلائی ہے۔۔
ناجانے وہ سمجھ بھی رہی تھی یا نہیں۔۔ لیکن وہ اس پر واضح کر دینا چاہتا تھا۔۔
۔
“مجھ پر سختی کرنا آپکا حق نہیں ہے۔۔
نقاہت کے باعث وہ زیادہ دیر ہوش میں بھی نہیں رہ پا رہی تھی لیکن اس حالت میں بھی وہ پھنکاری تھی۔۔
وہ مسکراہٹ دبا کر اس ضدی لڑکی کو دیکھ کر رہ گیا۔۔
“یہ سوپ شیریں لے کر آئی تھی آپ کے لئے۔۔ آپ اس وقت سو رہی تھیں اس لئے اس نے آپ کو ڈسٹرب نہیں کیا۔۔
شیشے کے پیالے میں سوپ ڈال کر وہ کرسی اس سے کچھ قریب کر کے آ بیٹھا۔۔
“مجھے نہیں پینا۔۔ سو رہی تھی مر تو نہیں گئی تھی میں۔۔ تھوڑی دیر انتظار نہیں کر سکتی تھی وہ میرا۔۔
ناجانے کس کا غصّہ وہ بےچاری شیریں پر اتار رہی تھی۔۔
“بیلا۔۔ اس طرح کے الفاظ استعمال کر کے مجھے سختی پر مجبور نہیں کریں۔۔ کل سے وہ مسلسل رو رہی ہے آپ کو دیکھ کر۔۔ میں نے اسے بھیجا ہے گھر۔۔ آپ تو اپنی ضد دکھا کر نیند آور دواؤں کے زیر اثر آرام کر رہی تھیں۔۔ آپ کو اس حالت میں دیکھ کر کس کے دل پر کیا گزری ہے اسکا اندازہ ہے آپ کو۔۔
سنجیدگی سے کہتے اس نے چمچہ سوپ پلانے کی غرض سے اسکی جانب بڑھایا۔۔
“ان چونچلوں کی عادی نہیں ہوں میں۔۔
وہ بھرائی آواز میں کہتی رخ موڑھ گئی۔
۔
“تو کر لیں خود کو عادی۔۔
پیالہ ٹیبل پر رکھ کر اس نے ایک ہاتھ سے اسکا رخ زبردستی اپنی جانب کرتے اسکے لبوں سے چمچہ لگایا۔۔
وہ سختی سے لب بھینچ گئی۔۔
اس بچکانی حرکت پر ابراھیم کو اس پر بیک وقت غصّہ اور پیار دونوں آرہا تھا۔۔
دونوں میں سے کسی کا بھی اس وقت وہ اظہار نہیں کر سکتا تھا۔۔ گہری سانس لے کر اس نے اسکی جانب دیکھا۔۔ جو دونوں لب سختی سے بھینچے آنکھوں میں آنسوں بھرے غصّے سے اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔۔
کچھ پل اسے اسی طرح دیکھتے رہنے کے بعد وہ سوپ کا پیالہ ٹیبل پر رکھ کر کھڑا ہوا۔۔
وہ بھنویں سکیڑ کر اسے دیکھ رہی تھی جیسے سمجھنا چاہ رہی ہو کے وہ کیا کرنے والا ہے۔۔ اسکے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی ایک ہاتھ سے اسکی ناک دبا کر اس نے اسے لب واں کرنے کا اشارہ کیا۔۔
“آپ نے خود مجھے یہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔۔ جلدی سے منہ کھولیں شاباش۔۔
سنجیدگی سے کہتے اس نے ایک بار پھر سوپ کا چمچہ اسکی جانب بڑھایا۔۔
ضبط کی کوشش میں سرخ ہوتی وہ لب بھینچ کر اسکی جانب دیکھ رہی تھی۔۔
چند منٹ مزید اسی طرح رہنے کے بعد وہ بےحال سی ہوتی لب کھولے سانس لینے لگی۔۔ اس نے سرعت سے سوپ سے بھرا چمچہ اسکے منہ میں ڈالا۔۔
“شرافت سے اسے پی لیں بیلا۔۔
اس لڑکی کو واقعی نرمی زیادہ راس نہیں آتی تھی۔۔
“خود پی لونگی میں۔۔
اسکے ہاتھ سے پیالہ لے کر وہ وہ خود ہی لمبے لمبے گھونٹ بھرتی سارا سوپ پی کر اسکے ہاتھ میں تھما گئی۔۔
اسکے انداز اور وہ بےاختیار ہنس پڑا۔۔
۔
شام تک وہ ڈسچارج ہو کر گھر آ گئی تھی۔۔ اس وقت کے بعد سے اس نے ابراھیم کو نہیں دیکھا تھا۔۔ ہسپتال سے وہ افضل ملک اور شیریں کے ساتھ آئی تھی۔۔ شیریں نے زبردستی اسے اپنے روم میں شفٹ کروایا تھا۔۔ لیکن وہ اس سے بات نہیں کر رہی تھی۔۔ اسکی اس قدر سوجی آنکھیں دیکھ کر بیلا کو اندازہ ہوا کے ابراھیم اتنا بھی کچھ غلط نہیں کہ رہا تھا۔۔
۔
“یہ کھا لو بیلا پھر میڈیسن لے کر جلدی سو جانا۔۔
ٹرے میں کھانا سجائے وہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔ اسکی جانب دیکھے بغیر بیڈ پر اپنے اور اسکے درمیان ٹرے رکھ کر اس نے سنجیدگی سے کہا۔۔
۔
“ادھر میری بات سنو۔۔ جب مجھ سے منہ پھولائے رکھنا تھا تمہیں۔۔ تو مجھے میرے کمرے میں کیوں جانے نہیں دیا۔۔
ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر بیلا نے نرمی سے اسکا ہاتھ تھام کر اپنے ساتھ بیٹھایا۔۔
“تم میری جان نکال دو۔۔ اور میرا ناراضگی کا بھی کوئی حق نہیں۔۔
وہ بھرائے لہجے میں خفگی سے بولی۔۔
“اوہ میرا شیرو۔۔ ناراض ہے۔۔
پیار سے اسے بھینج کر گلے لگاتے وہ بےساختہ ہنس پڑی۔۔
اسکے گلے لگاتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔۔ اسکی کلائی سے بھل بھل بہتا خون ایک بار پھر نظروں کے سامنے گھوم رہا تھا۔۔
۔
“اوہ ہو۔۔ شیریں میں ٹھیک ہوں یار۔۔
بیلا نے بےبسی سے اسکی جانب دیکھا وہی تو تھی جسکا رونا اسکے برداشت سے باہر تھا۔۔
۔
“تت تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ شیریں۔۔ تم نہیں جانتی مجھے کیا محسوس ہو رہا تھا تمہیں اس طرح دیکھ کر۔۔ تت تم نے ایک بار بھی ہمارے بارے میں نہیں سوچا۔
وہ ہچکیوں کے درمیان کہتی بری طرح رو رہی تھی۔۔ وہ اپنی بیلا کے سینے سے لگی ہوئی تھی یہ بات جہاں روح کو تسکین بخش رہی تھی وہیں دل میں ایک خوف سا بیٹھ گیا تھا بیلا کی اس حرکت کے بعد سے۔۔
۔
“آئی ایم سوری۔۔ تم پلیز اس طرح نہیں روؤ۔۔ تمہیں پتہ ہے نا مجھے کتنی تکلیف ہوتی ہے جب تم روتی ہو۔۔
نرمی سے اسے خود سے الگ کرتے وہ پیار سے اسکے آنسوں صاف کر کے بولی۔۔ دروازے پر اطہر ملک کے ساتھ کھڑا زوار بھی ہنس پڑا۔۔
“تایا جان کو اجازت ہے۔۔؟
انہوں نے ہلکے سے گلا کھنکھار اندر آنے کی اجازت چاہی۔۔
“بہن کو منا رہی ہیں آپ۔۔
سنجیدگی سے بیلا کی جانب دیکھتے انہوں نے دونوں کے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔
۔
“آپ نے میرے ساتھ ناانصافی کی ہے تایا جان۔۔ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔
وہ بھی خفگی سے بولی۔۔
۔
“تایا جان کی چڑیا۔۔ میری رانی بیٹی۔۔ تایا کر سکتے ہیں اپنے بچے کے ساتھ ناانصافی۔۔
آہستہ سے اسے ساتھ لگاتے انہوں نے محبت سے اسے پکارا۔۔ وہ انکے ساتھ لگی منہ پھولائے بیٹھی تھی۔۔
“آ آپ کو مجھے بتانا چاہئیے تھا تایا جان۔۔ میری مرضی پوچھنی چاہئیے تھی۔۔ اس وقت میری عمر اتنی نہیں ہوگی اب تو آپ بتا سکتے تھے۔۔ آپ مجھے جواب دہ ہیں تایا جان میری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کیوں کیا آپ نے۔۔ بابا بھی مجھے جواب دہ ہیں۔۔
انکے سینے سے لگی وہ گھٹی گھٹی آواز میں کہ رہی تھی۔۔
“آپ کے تمام سوالوں کے جواب تایا آپ کو دینگے میرے بچے۔۔ تھوڑا سا انتظار کر لیں میری جان۔۔ ابھی آپ کی طبیعت بھی پوری طرح نہیں سنبھلی۔۔
انہوں نے نرمی سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے جواب دیا۔۔
۔
“مم مجھے وجہ بتائیں۔۔
وہ بضد تھی۔۔
“یہاں دیکھیں بیلا۔۔
اسکے بھیگے چہرے کو اوپر اٹھاتے انہوں نے نرمی سے کہا۔۔
“وہ فیصلہ سراسر میرا تھا میرے بچے۔۔ اس میں قصور نا آپ کے بابا کا ہے نا سدرہ کا۔۔ سدرہ تو واقف بھی نہیں تھیں۔۔ وجہ مجھ سے نہیں پوچھیں بیلا۔۔ میں مجبور ہوں میرے بچے۔۔ کسی کے عہد نے باندھ رکھا ہے مجھے۔۔ آپ مجھ پر بھروسہ کریں میری جان۔۔ آپ کے حق میں بہترین فیصلہ کیا ہے میں نے۔۔ ابراھیم بہت چاہتا ہے آپ کو میرے بچے۔۔ یہ میں اسکا باپ نہیں۔۔ اپنی چڑیا کا تایا جان بن کر کہ رہا ہوں۔۔ آپ کچھ وقت دیں اسے میری جان۔۔ سمجھیں اسے میرے بچے۔۔ تایا جان پر بھروسہ کر کے اسے ایک موقع دے دیں۔۔ اور اگر پھر بھی وہ آپ کو اپنے لائق نہیں لگا۔۔ پھر بھی آپ کو اس سے آزادی چاہیئے ہوئی تو میں آپ کا ساتھ دونگا۔۔ لیکن ایک موقع تو دیں اسے میری جان۔۔
اسکا چہرہ ہاتھوں میں لئے وہ اپنے مخصوص انداز میں اسے سمجھا رہے تھے۔۔
۔
“میں رخصتی نہیں چاہتی۔۔
وہ دھیرے سے بولی۔۔
“میں آپ کے ساتھ ہوں میرے بچے۔۔ کوئی میری چڑیا سے زبردستی نہیں کرے گا۔۔ آپ کو جتنا وقت چاہئیے لے سکتی ہیں۔۔ لیکن اس حرکت کے متعلق آئندہ سوچنا بھی نہیں۔۔
“کبھی بھی نہیں چاہتی۔۔
وہ جلدی سے بولی۔۔
“کوئی بات نہیں ویسے بھی تو اس نے اسی گھر پر رہنا ہے۔۔ کبھی نہیں کرینگے ہم اسکی رخصتی۔۔
اسکے بال بگاڑتے زوار نے شرارت سے کہا۔۔
وہ بھی ہنس پڑے۔۔ وہ طلاق کی ضد سے پیچھے ہٹ گئی تھی ابھی یہی بہت تھا۔۔ اتنا بھروسہ تو تھا انھیں اپنے بیٹے پر وہ کبھی نا کبھی اسے قائل کر ہی لیگا ۔۔ یہ معاملہ انہوں نے ان دونوں پر ہی چھوڑ دیا تھا۔۔ وہ زبردستی بیلا کی رخصتی کر کے اسے گھر والوں سے مزید بدذن نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔
۔
“چلیں بھئی بوڑھی عوام ذرا کمرے سے چلے جائیں۔۔ ہم نے اپنی باتیں کرنی ہے۔۔
اطہر ملک کو ہنستے ہوئے کہ کر اس نے شیریں کو کھانا درمیان میں رکھنے کا اشارہ کیا۔۔
۔
“میرے تایا جان تو ابھی ینگ ہیں۔۔ انکے لئے تو میں ابھی کوئی بیوٹیفل سی لیڈی ڈھونڈھ رہی ہوں۔۔ تم نکلو یہاں سے 1965 کی تخلیق۔۔
زوار کی جانب خفگی سے دیکھتی وہ اطہر ملک کے ساتھ لگتی فخر سے بولی۔۔
زوار کا چھت پھاڑ قہقہا گونج اٹھا۔۔
“1965 کی تخلیق۔۔ انکے دماغ میں یہ الفاظ آتے کون سے چیمبر سے ہیں۔۔
اپنے کمرے میں داخل ہوتا ابراھیم سوچ کر رہ گیا۔۔ اسکا کمرہ شیریں کے کمرے کے سامنے ہونے کی وجہ سے انکی باتوں کی آواز باآسانی اسے آ رہی تھی۔۔
“بابا مجھ سے نہیں ملے۔۔
اس نے جیسے اطہر ملک سے شکوہ کیا تھا۔۔
“بابا کو آپ کی حرکت نے ڈسٹرب کر دیا ہے۔۔
انہوں نے نرمی سے اسے بتایا۔۔ وہ پہلی بار شرمندہ ہوئی۔۔
۔
“چلو کوئی نہیں جلدی سے آ کر یہ کھا لو۔۔ پھر منا لینا بابا کو بھی۔۔
اسے پلیٹ تھما کر شیریں نے اسکی توجہ کھانے کی جانب کروائی۔۔
صبح اسکی آنکھ شیریں سے پہلے ہی کھل گئی تھی۔۔ اپنے برابر میں بےخبر سوئی شیریں پر ایک نظر ڈال کر وہ بالوں کو سمیٹتی لان میں آ گئی۔۔
ٹھنڈی گھاس پر ننگے پیر چلتی چہرہ اوپر کی جانب اٹھائے وہ صبح کی تازہ ہوا سانسوں کے ذریعے اندر اتار رہی تھی۔۔
لان کے آخری حصّہ میں موجود ناریل کے اس پرانے درخت کے نیچے رکھے بینچ پر باکس نما کسی چیز کی موجودگی محسوس کرتی وہ سرعت سے اسی جانب چلی آئی۔۔
قریب آتے اسکی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے پھٹنے کے قریب ہو رہی تھیں۔۔ یہ وہی باکس تھا جو اسے موصول ہوتا تھا۔۔ اور اس میں رکھے بیلا کے تازہ پھول۔۔
وہ خوشی سے کھلکھلا اٹھی۔۔
اسکی کھنکتی ہنسی کی جلترنگ درخت کے پیچھے کھڑے اس شخص کے سماعتوں میں رس گھول گئی تھی۔۔
“مجھے پتہ تھا تم یہاں بھی آؤ گے۔۔
کتنا یقیں تھا اسکے لہجے میں۔۔ اس شخص کے لبوں پر حسرت بھری مسکان ابھری۔۔
“پھولوں کو احتیاط سے اٹھا کر اس نے چہرے کے قریب کر کے گہری سانس لی۔۔
۔
“پھول کے ساتھ رکھے کارڈ کو اٹھاتی وہ بینچ پر آ بیٹھی۔۔
درخت کے پیچھے کھڑا شخص سانس روکے کچھ اور سمٹ کر کھڑا ہو گیا۔۔
کارڈ کھولتے ہی سیاہ موتی جیسے خوبصورت الفاظ سامنے تھے۔۔ اسکے لبوں پر معصوم سی مسکراہٹ ابھر آئی۔۔
“آلا بذکر اللہ لتطمئن القلوب”
“بےشک اللہ ہی کے ذکر سے دل سکون پاتے ہیں”
۔
اس نے مزید پڑھنا شروع کیا۔۔
۔
جب دل لوگوں کے رویوں سے تھکنے لگے، حالات اور مشکلات سے دل گھبرانے لگے ،تو اللہ کو یاد کرلیا کریں اس سے بات کرلیا کریں اس سے کہہ لیا کریں وہ رب تو سب کی سنتا ہے۔۔ وہ آپ سے بہت محبت کرتا ہے بیلا۔۔ وہ آپ کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔۔ اسکی ذات سے ناامید نا ہوا کریں۔۔
اسے اپنی تکلیفیں بتا دیں بیلا۔۔ وہ درد کم کردے گا،
وہ دل کو سکون دے دے گا،
کیونکہ اسکے ذکر سے ہی سکون ملتا ہے۔۔
۔
وہ جیسے جیسے پڑھتی جا رہی تھی اسے محسوس ہو رہا تھا کوئی اسکے بہت قریب کھڑا اسکے کانوں میں سر دھن رہا ہے۔۔ اپنی میٹھی نرم آواز میں اسے اسکی دل کی اصل آواز سنا رہا ہے۔۔ دل کے اصل مکین سے ملوا رہا ہے۔۔
اسے محویت سے وہ کارڈ دیکھتے دیکھ کر پیچھے کھڑا وہ شخص کھل کر مسکرا اٹھا۔۔
“میری محبت آپ کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔۔ آپ مجھے جیسا بھی سمجھیں بیلا۔۔ آپ کے دل کا درد دراب کی باتوں سے ختم ہوتا ہے تو اس درد کا مداوا اور خاتمہ دراب ہی کرے گا۔۔ مگر محبت آپ کو ابراھیم ملک سے کرنی ہوگی۔۔ صرف ابراھیم ملک سے۔۔ میں اپنی پہچان آپ کو اس وقت تک نہیں بتاؤنگا جب تک آپ مجھ سے محبت کا خود اظہار نہیں کرینگی۔۔ جب تک آپ مجھے اس قابل نہیں سمجھ لیتیں کے دراب کے متعلق مجھے بتا سکیں۔۔ جب تک ۔۔ آپ ایک شخص کو دو پہلوؤں سے دیکھینگی۔۔
لیکن ایک بات تو اٹل ہے میری جان ان دونوں شخص کا عشق آپ ہیں۔۔ ایک کی عقیدت کی حد تک۔۔ اور ایک کی محبت کی انتہا تک۔۔
اسکے معصوم چہرے پر نظریں جمائے اس نے اپنا عہد فضا کے سپرد کیا تھا۔۔ درخت کی ہلتی شاخیں۔۔ فضا کو معطر کرتی پھولوں کی خوشبو سب اس دیوانے کے عہد پر ہولے سے مسکرا کر جیسے آمین کہ رہے تھے۔۔
جاری ہے۔
آپ کی تعریف یا تنقید قابل احترام ہوگی۔
