Deewana Kar Gaya Roop Sunehra By Hina Asad Readelle50307

Deewana Kar Gaya Roop Sunehra By Hina Asad Readelle50307 (Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Last Episode Pt.1

953.7K
24

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Last Episode Pt.1

سمندر کی سطح سورج کی کرنوں سے چمک رہی تھی۔ ٹھنڈی ہوا لہروں سے کھیلتی ٹورنٹو میں داخل ہو رہی تھی۔ ہوا میں خنکی نے سردی کو مزید بڑھا دیا تھا۔۔

وہ سب لوگ کل شام ہی یہاں پہنچے تھے۔پیرس کے ایک مشہور ہوٹل میں پہلے سے ہی بکنگ کروا چکے تھے۔

اس نے ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوتے ہی سارے کمرے میں تفصیلی نگاہ دوڑائی۔۔۔۔اورحیرت بھری نگاہوں سے یہ سجا سنورا کمرہ دیکھا جو انتہائی نفاست سے قدرتی پھولوں سے سجایا گیا تھا۔

۔اس کا چہرہ بےساختہ سرخی مائل دکھائی دینے لگا۔۔۔لزدیدہ پلکوں کی چلمن سرخ عارض پہ سایہ فگن ہوئیں۔

“معاذ نہیں پلیز “اس نے معاذ کے اپنی طرف بڑھتے ہوئے قدم دیکھ کر نفی میں سر ہلایا ۔۔۔

“ڈئیر وائف ہم ہنی مون پہ آئیں ہیں۔اور ہنی مون کا مطلب ہی آپکو پتہ نہیں”جہاں نا کا نہیں صرف ہاں کا تصور پایا جاتا ہے۔”وہ ذومعنی انداز میں بولا۔۔۔اور دعا کو اپنے حصار میں لیا ۔۔۔

وہ شرم سے سمٹ کر رہ گئی ۔۔۔

دعا کو سمجھ نہیں آرہا تھا. کے اس سحر انگیز ماحول میں معاذ کےبڑھتے ہوئے جذبات پہ کیسے بندھ باندھے.وہ اس کی شال اتار کر دور پھینک چکا تھا ۔اور ذومعنی نظریں جمائے ہوئے تھا ۔۔۔وہ یہ سب کرنے کا حق رکھتا تھا. لیکن اُسکی بڑھتی جسارتیں دعا کے لیے قیامت کی طرح تھیں .

جبکہ دوسری جانب معاذ دعاکو آج اپنے ہر عمل سے بتا دینا چاہتا تھا.کہ دعا کا لمس محسوس کرنا اُس کے لیے کس قدر اہم ہے۔

” معاذ پلیز “. وہ بہت حوصلہ پیدا کرتے وہ بہت آرام سے بولی تھی. مگر اُس کا ہر انداز ہی معاذ جعفری کے دل پر بجلیاں گرانے کے لیے کافی تھا۔

. جیسے ابھی دعا کے نرم الفاظ معاذ کے دل کو مزید اپیل کر گئے تھے.

معاذ نے جھکتے دعا کو اپنی بازوؤں میں اُٹھا لیا تھا. دعا کا دل اُس کی اِس حرکت پر اُچھل کر حلق میں آن پہنچا تھا. اُس نے گرنے کے ڈر سے معاذ کا گریبان مُٹھی میں دبوچ لیا تھا.

اس نے آرام سے دعا کو بیڈ پہ لٹا کر اسکے چہرے پر مسکان بھری نگاہیں جمائیں ۔۔۔

دعا اس کی ہوشربا قربت پہ پگھلتے ہوئے آنکھیں موند گئی اس کی سانسوں کے ساتھ ساتھ دھڑکن بھی بے قابو اور تیز ہو رہی تھی کہ اسے وہ خود بھی بخوبی سن سکتی تھی اور اسے لگ رہا تھا اسکے دل کی تیز آواز کو معاذ بھی بخوبی سن پا رہا ہے۔۔

اسے بیڈ پہ لٹا کر معاذ اس کے اوپر جھکا۔۔ سب سے پہلے اس کے ماتھے پہ اس نے اپنی محبت کی مہر ثبت کی اور پھر آنکھوں اور گالوں سے ہوتا ہوا اس کے ہونٹوں پہ رک کر اسے دیکھنے لگا ۔۔

اجازت ہے؟.. اس کے ہونٹوں کو اپنی پوروں سے سہلاتے ہوئے وہ اس سے اجازت مانگ رہا تھا۔۔ تمام حقوق ہونے کے باوجود وہ اس کی مرضی جاننے کا خواہاں تھا۔۔کیونکہ زور زبردستی کرنا اسکے سرشت میں شامل نہیں تھی ۔۔۔

جبکہ دوسری طرف دعا خود اپنے جزبات سمجھنے سے قاصر تھی۔

دل و دماغ دونوں ہی رضامند تھے پر شرم و حیا اور جھجھک ایسی تھی کہ اس نے دعا کے منہ پہ قفل لگا دیے تھے۔۔

اس کے سوال پہ اس نے اپنی نظریں جھکا لی۔۔ ہونٹوں سے اقرار مشکل تھا۔۔ جبکہ اگلی طرف شاید ہونٹوں سے سننے کی ہی خواہش ہی ٹھاٹھیں مار رہی تھی۔۔

کیا یہ جھجھک ہے یا انکار؟؟.. اس کے خاموشی سے آنکھیں جھکانے پہ معاذ نے اس کے گال پہ ہاتھ رکھ کر اس سے استفسار کیا۔۔

دعا شرم سے لرزتے ہوئے ابھی بھی خاموش تھی۔۔ اس سے کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا۔۔ دھڑکنوں نے الگ کھلبلی مچا رکھی تھی ۔۔ ایسے میں وہ کیسے بولتی اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔شادی کے بعد پہلی بار وہ اس کے اتنے قریب آیا تھا۔۔۔

دل کی دھڑکنوں کی رفتار نے بھی تیزی پکڑی ہوئی تھی ایسے لگ رہا تھا اس کی اتنی قربت پر ابھی سینے سے باہر نکل آئے گا۔۔۔۔

دعا کی خاموشی کو دیکھتے ہوئے وہ اوپر سے اٹھ گیا۔۔

“ٹھیک ہے اگر تم نہیں چاہتی تو میں تمہارے پاس نہیں آؤں گا۔۔ تم پہ بے شک میرا حق ہے۔۔ بے شک الله نے تمہیں میرے لیے حلال کیا ہے لیکن تمہاری مرضی کے بغیر میں تمہیں نہیں چھووں گا۔۔اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ پیار سے مسکرایا۔۔ جب تک تمہاری دلی آمادگی ظاہر نہیں ہوجاتی ۔میں انتظار کروں گا “

“م۔۔می۔ میں نے ایسا کب کہا۔۔؟؟ اس کی بات پہ بے اختیار دعا کے منہ سے نکلا۔۔معا کہیں وہ پھر سے ناراض نا ہوجائے۔۔۔

لیکن پھر فورا اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی اس نے اپنی زبان دانتوں تلے دبا لی ۔۔اور آنکھیں میچ لیں۔۔۔جانے وہ اسے کیا سمجھے ۔۔۔

جبکہ اس کی بات پہ معاذ کے چہرے پہ جاندار مسکراہٹ ابھری۔۔ وہ جانتا تھا وہ شرما رہی ہے۔۔ لیکن وہ بھی معاذ تھا جو عشق کے گُروں سے بخوبی واقف تھا ۔ ۔۔۔اسے اچھی طرح آتا تھا کے اپنی نازک سی بیوی کے منہ سے اقرار کیسے نکلوانا ہے۔

“واقعی تو پھر میری بیوی راضی ہے ؟؟

“تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں !وہ دھیرے سے سرگوشی نما آواز میں بولا ۔۔۔

دعا نے جھکی ہوئی پلکوں کو اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔

“میں نے اتنے دن تمہیں تمہارے حق سے دور رکھا..۔۔۔۔کیا میری وہ خطا معاف سمجھوں۔؟؟؟؟

اس کے اوپر دوبارہ جھکتے وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔۔ جبکہ وہ چاہ کر بھی اس کی کسی بات کا جواب نہیں دے پا رہی تھی۔۔اور آنکھیں بند کیے ہوئے تھی ۔۔۔

“بولیں محترمہ !وہ تھوڑی کو اپنی پور سے ہلکا سا اٹھا کر پوچھ رہا تھا ۔۔۔

دعا نے ہلکی سی پلکوں کی باڑ اٹھا کر اس نے کی طرف دیکھا جس کی آنکھوں میں جذبوں کا جہان آباد تھا پھر اس کی نظروں کی تاب نہ لا کر اپنی نظریں جھکا گئی۔۔۔

اس کی اٹھتی گرتی پلکوں کا رقص دیکھتے معاذ کے لب اپنے آپ مسکرا اٹھے۔۔ اس کے ہونٹوں کے دیکھتے اب ساری سوچیں خودبخود دم توڑ گئیں۔۔ اور وہ اس کے لبوں پہ جھک گیا۔۔

اس کی جذبات کی شدت کو اس کے ہونٹوں سے محسوس کرتے دعا نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لی۔۔ اور وہ جانتی تھی ابھی تو یہ ابتدا ہے۔۔ معاذ کی مزید گستاخیوں نے اسے تو ساری رات ہی آنکھیں کو بند کرنے پہ مجبور کر دیا تھا ۔۔

*****…….*****…..*****

فجر کا دماغ بالکل گھوم چکا تھا. وہ چاہے غصے سے بولے یا نرمی سے اذلان جیسا انسان جو ہمیشہ صرف اپنی مرضی کرتا تھا ایسے والے اُلٹے دماغ کہ شخص کو سنبھالنا اور سمجھنا واقعی بہت مشکل تھا اس کے لیے ۔۔۔۔

” چھوڑو مجھے یہ کیا بے ہودگی ہے.”

فجر دانت پیستے ہوئے چلائی تھی. مگر دوسری جانب اثر کس کو تھا. اذلان اُس کی ہر بات کا جواب اب باتوں سے نہیں عمل سے دے رہا تھا.

” پہلے تو بے ہودگی نہیں دیکھائی مگر اب دیکھانے کا ارادہ ہے.”

اذلان نے جھک کر فجر کے غصے سے تمتماتے ہوئے گال پر ہلکے سے دانت گاڑھے۔۔۔ جبکہ فجر اُس کی گستاخی پر جی جان سے سُلگ اُٹھی تھی.

“۔۔م۔۔۔م۔۔میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔پہلے مجھے سب سچ جاننا ہے جو ابھی تک تم مجھ سے چھپائے ہوئے ہو “

اذلان شاہ کی لمحہ با لمحہ بڑھتی ہوئی گستاخیوں پر فجر کا سارا خون نچڑ کر چہرے پر آگیا تھا. اور دل زور زور سے دھڑکتا اگلے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ رہا تھا.اس نے فجر کی صراحی دار نازک سی گردن پر اپنے دانتوں سے لو بائیٹ بنائی تو وہ جی جان سے تڑپ کر رہ گئی۔۔۔

اذلان کا ہر لمس اِس قدر استحقاق اور شدت بھرا تھا. کہ فجر کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی.

اذلان بہت ہی نرمی سے فجر کو وہاں پہ موجود بیڈ پر بیٹھاتے خود اُس کے سامنے گھٹنوں کے بل قالین پر بیٹھ چکا تھا.

جبکہ فجر اُس کو اِس طرح اپنے قدموں میں بیٹھتا دیکھ بوکھلا سی گئی تھی..

“مجھے کبھی غلط نا سمجھنا میں کوئی آوارہ بادل نہیں جسے جب چاہے تیز ہوا کا جھونکا اپنے ساتھ اڑا لے جائے ۔۔۔میں وہ بادل ہوں جو ہمیشہ تمہارا سایہ بن کر تمہاری حفاظت کرے گا “وہ کچھ لمحے توقف کیے رکا پھر سانس لیتے ہوئے بولا۔

“پہلے میں تمہیں جانتا نہیں تھا اس لیے تمہارے سامنے اس وقت اپنی کوئی بھی بات کھولنا نہیں چاہتا تھا. مگر آہستہ آہستہ جب تمہیں جاننے لگا تو تمہارے ہر انداز سے پیار ہونے لگا ۔ تمہیں میں ہر وقت اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا ۔۔۔

” یہی ڈر تھا کہ تم سچ جان کر مجھے چھوڑ کر نا چلی جاؤ .”

اذلان فجر کے نازک مومی ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھامتا بہت ہی ضبط سے بولا تھا.

“تمہارا میرے قریب رہنا میری سانس لینے کی طرح ضروری ہوگیا .”

“میرے دل کی دیواروں پہ صرف تمہارا نام لکھا ہے۔فجر !!!وہ فسوں خیز آواز میں بولا۔۔۔

“”میں بس اتنا جاننا چاہتی ہوں آپ نے ایسا کیوں کیا ؟؟؟

“اذلان جی کیا آپ مجھے اس قابل نہیں سمجھتے کہ مجھ سے اپنا دکھ شئیر کریں “

فجر نے اذلان کی آنکھوں میں جھانک کر سوال کرتے اُس کی پیشانی پہ محبت بھرا لمس چھوڑا۔۔۔اذلان اسکی پہلی دفعہ کی گئی پیش رفت پہ دل سے مسکرایا ۔۔۔

“میں نہیں جانتا کہ کب سے اماں سائیں میرے لیے اپنے دل میں رقابت پالنے لگیں ۔۔۔

ایک دن میں سویا ہوا تھا ۔۔وہ لوگ مجھے اندھیرے کمرے میں لے گئے اور مجھے بہت ٹارچر کیا مارا پیٹا ۔۔۔

مجھے بہت درد ہوا ۔۔۔

مگر میں اتنی مار کھانے کے باوجود بھی زندہ رہا ۔۔۔

میرے سر پہ شدید چوٹ آئی تھی ۔۔۔اور جب بابا سائیں نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو انہیں بتایا گیا کہ مجھے سیڑھیوں سے گرتے ہوئے چوٹ لگی ۔۔۔۔ بابا سائیں ان سے بہت پیار کرتے تھے ۔میں خاموش رہا اپنی ایک ماں کھو چکا تھا مگر دوسری نہیں کھونا چاہتا تھا ۔وہ جیسی بھی تھیں ۔۔۔تھیں تو میری ماں ہی نا ۔۔۔انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ وہ مجھے پاگل بنا دیں گی ۔۔۔۔میں نے انکی باتیں سن لیں تھیں۔جب انہوں نے مجھے ٹارچر کیا اسکے بعد میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں وہی بن جاؤں گا جیسا وہ چاہتی ہیں۔شاید اسی سے گھر میں سکون ہو جائے ۔۔۔

جب میرا سر ان لوگوں نے دیوار سے مارا کچھ پل کے لیے تو میری آنکھوں کے سامنے درد کی شدت سے اندھیرا چھا گیا ۔۔۔میں بیہوش گیا ۔۔۔اور جب ہوش میں آیا تو میں نے جان بوجھ کر الٹی سیدھی حرکتیں کرنا شروع کردیں ۔۔۔۔

وہ لوگ خوش ہوگئے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔۔۔۔اسکے بعد انہوں نے مجھے ٹارچر کرنا بند کردیا ۔۔۔

لیکن مجھے نجانے کونسی ادویات پہ لگا دیا کہ کچھ پل کے لیے میرا دماغ ماؤف ہو جاتا ۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی ۔۔۔۔

کافی دیر میں وہ ادویات لیتا رہا مگر جوں جوں ذہن نے شعور کی منازل طے کیں ۔۔۔

میں ان دوائیوں کو ان کے سامنے تو منہ میں رکھ لیتا مگر ان کے جانے کہ بعد پھینک دیا کرتا ۔۔۔

میں نے بدلے میں کبھی ان کے ساتھ برا نہیں کیا ۔انہیں اپنی ماں سمجھا ۔

ایک دن تم نے ارحام کے لیپ ٹاپ سے میڈیسن کے بارے میں سرچ کیا تھا ۔۔۔۔

ارحام کو پتہ چل گیا تھا ۔وہ بہانے بہانے سے مجھ سے سچائی اگلوا رہا تھا ۔میں سب سمجھ گیا ۔۔۔۔کہ وہ کیا جاننا چاہتا تھا ۔۔۔۔

اور جس ڈاکٹر کے پاس تم مجھے شہر میں ٹیسٹ کے لیے لے کر گئی تھی وہ ارحام کا دوست تھا ۔اس نے ارحام کو سب بتا دیا ۔۔۔

اسی لیے میں ارحام سے سچ چھپا نہیں سکا اور اسے بتا دیا کہ مجھے کوئی بیماری نہیں میں ٹھیک ہوں ۔اور اسے سبرینہ بیگم کی سچائی بھی بتائی ۔۔۔۔وہ سمجھدار ہے۔اس نے میری باتوں کو سمجھا اور مجھ پہ یقین رکھا ۔۔۔پھر میرا ساتھ دینے کا وعدہ بھی کیا تاکہ ہم دونوں مل کر سبرینہ بیگم کی سچائی سب کے سامنے لا سکیں ۔

مگر میں نے انکار کردیا ۔۔۔

میں نے ارحام سے کہا کہ میں اماں سائیں اور بابا سائیں کا گھر اپنی وجہ سے خراب نہیں کرنا چاہتا۔

میں نے ارحام سے کہا کہ میں تمہیں یہاں سے لے کر کہیں دور چلا جاؤں گا اور اپنی نئی دنیا بساؤں گا ۔جہاں صرف تم ہو اور میں ۔۔۔۔

“ارحام نے کہا کہ گھر والے ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے ۔

اس لیے میں تمہارے ساتھ شہر آگیا آپریشن کروانے ۔۔۔۔

وہاں آنے سے پہلے میری اور ارحام کی بات ہوگئی تھی ۔۔۔اور ہمارا یہ پلان بنا تھا کہ سب کے سامنے میری موت کا ڈرامہ کریں گے ۔۔۔۔

ہسپتال سے ایک مردے کو ساتھ لائے تھے جسکے آگے پیچھے کوئی نہیں تھا اسے اذلان بنا کر دفنا دیا گیا ۔۔۔۔

ارحام تمہارے اور میرے پیپرز تیار کروا رہا تھا ۔۔۔

ہم دونوں خاموشی سے بیرون ملک جانے والے تھے ۔مگر سبرینہ بیگم نے تم پہ ظلم کے پہاڑ توڑ کر میرے اندر چھپے حیوان کو جگا دیا ۔۔۔۔جسے میں نے کب سے سلائے رکھا تھا ۔۔۔

تب میں نے ارحام کے کہنے پہ اپنا فیصلہ بدل لیا اور سبرینہ بیگم کا سچ سب کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔

اس کے آگے تو تم سب جانتی ہو ۔۔۔

“اور کچھ رہ گیا تو وہ بھی پوچھ لیں جان اذلان ۔۔۔۔

“تم نے میری زندگی میں آکر اسے خوشیوں سے بھر دیا ۔۔کسی روشن ستارے کی طرح میری دنیا کو روشنیوں سے بھر دیا ۔۔۔

اذلان کے پر شدت لمس پر فجر کا دل جی جان سے کانپ اُٹھا تھا.

اِس شخص کا لمس برداشت کرنا تو فجر کے لیے مشکل تھا ہی مگر اُس سے بھی زیادہ مشکل تھا اس کی گہری جان لیوا نگاہوں کا ارتکاز برداشت کرنا۔

اذلان نے جس طرح اُس کے قدموں میں بیٹھ کر اُسے اپنی زندگی میں اُس کے مقام کی اہمیت واضح کی تھی یہ بات فجر کے دل پر بہت گہرا اثر کر گئی تھی…کچھ دیر بعد

فجر اٹھ کر سامان کی طرف بڑھی اور اپنا آرام دہ سوٹ نکالنے لگی ۔۔۔

“کیا مجھے اپنا سچ چھپانے اور جھوٹ بولنے کی معافی نہیں مل سکتی؟۔”

وہ اس کے کندھے پہ سے شرٹ کھسکا کر لب رکھتے خمار زدہ لہجے میں بولا فجر نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لی۔

“معافی مانگی جاتی ہے تبھی ملتی ہے۔”

اس نے اپنے کپکپاتے ہوئے لہجے پہ قابو پاکر اسے بے رخی سے باور کروانا چاہا ۔۔۔مگر چاہ کر بھی ناراضگی ظاہر نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔

“مانگ تو رہا ہوں۔”

وہ اس کے شانے سے ہوتا ہوا اب لبوں سے گردن کا سفر طے کرتے ہوئے جذبات سے لبریز انداز میں بولا تو فجر اس کے جابجا سلگتے لمس پہ تڑپ کر رہ گئی اس کی گرم سانسیں اسے اپنی گردن پہ محسوس ہورہی تھی۔فجر کا سانس لینا دوبھر ہونے لگا ۔

“ایسے کون معافی مانگتا ہے ۔”

وہ حیرت ذدہ لہجے میں پلٹ کر بولی ۔

“میرے معافی مانگنے کا یہی انداز ہے ۔۔کہو تو اور شدت سے معافی مانگ سکتا ہوں بشرطیکہ تم بھی اس معافی تلافی کے سلسلے میں میرا برابر ساتھ دو ۔”

اس کی ذومعنی بات سن کر فجر کے اعصاب سلب ہونے لگے ۔۔۔۔

“میں تمہاری طرح بے شرم نہیں “

وہ دانت کچکچا کر بولی ۔۔۔

“ہا۔۔۔ہا ۔۔ہا۔۔۔ابھی تو بے شرمی کی شروعات ہیں ۔اگے آگے دیکھیں جان اذلان آپکی کی جان نکل جائے گی “,

وہ آنکھ ونگ کیے شرارت سے بول کر واقعی فجر کی جان نکال گیا۔۔۔۔

وہ اسے کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کر گیا تو فجر نے سختی سے اس کے شانے کو اپنے ہاتھوں کو تھام لیا اور فاصلہ بنانے کی کوشش کی ۔

“یہ دوری بنانے کی فضول کوشیشیں ترک کردیں جان اذلان ۔۔۔۔وہ اسکے گرد اپنے بازوؤں کی گرفت مزید سخت کر دیا ۔۔۔فجر کو اپنی پسلیاں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔

۔وہ سختی سے اپنے لب کچل رہی تھی۔دراز پلکوں کا لرزنا جاری تھا۔۔۔

“آپ کا گریز ہماری جان لے لے گا ۔کیا سچ میں میری جان لینے کا ارادہ ہے جان اذلان ؟”

اس نے دھیمے لہجے میں بولتے سوالیہ نگاہیں اس کی جانب اٹھائیں .

فجر نے تڑپ کر سے اس کے لبوں پہ ہاتھ رکھ دیا۔

“آپ سے ہی فجر کی زندگی مشروط ہے۔آپ کے بنا یہ فجر بھی مر جائے ۔آپکے بنا میرا کوئی وجود نہیں دوبارہ ایسی بات منہ سے نکالی تو میں خود اپنی جان لے لوں گی پھر جو جی میں آیا کرتے رہیے گا ۔”

وہ رندھے لہجے میں ناراضگی سے اسے دیکھتے ہوئے بولی ۔

اذلان نے اسکی آنکھوں سے بہتے ہوئے موتیوں کو اپنے لبوں سے چنا ۔۔۔۔

“اس پیار ،بھروسے اور مان کا شکریہ جان اذلان ۔۔۔اب اپنے شوہر کے حقوق کا خیال کرتے ہوئے کچھ اس پہ بھی ترس کھائیں ۔۔۔جو کافی عرصے سے اپنی بیوی کے پاس ہوتے ہوئے بھی اپنے حق سے محروم ہے “

وہ خمارآلود نگاہوں سے اس کے لبوں کو فوکس کیے ہوئے تھا ۔۔۔۔

“آپ نا بچے ہی رہتے تو اچھا تھا ۔۔بڑا ہو کر کے آپکی فرمائشیں بھی زیادہ ہوگئیں ہیں ۔”

وہ اسکے سینے پہ مکا مار کر بولی ۔۔۔تاکہ اس کے جذبات کی آنچ سے فرار پا سکے ۔

“اچھا جی ؟؟؟

“چلیں اب ہمیں بچہ ہی سمجھ کر یہاں پیار کریں جیسے اس رات کیا “

اس کی فرمائش پہ فجر کی آنکھوں کی پتلیاں حیرت سے پھیل گئیں۔۔۔۔

“اذلان !!!!وہ زور سے چلائی۔۔۔

اذلان سائیڈ لیمپ آف کرتے ہوئے اسے اپنے حصار میں لے گیا ۔۔۔۔

“بس اب بہت باتیں ہوگئیں جان اذلان آپ نے آدھی رات برباد کردی ۔۔۔۔باقی کی رات اب میری ۔۔۔اذلان کے ہاتھ اسے اپنی کمر پہ سرکتے ہوئے محسوس ہوئے تو اس کے وجود میں سنسنی سی دوڑ گئی ۔اس کے لب اپنی پشت پہ محسوس کرتے وہ بلکل ڈھے گئی تھی۔اسکی جسارتیں اور شدتیں بڑھنے لگیں ۔۔۔

“بس اذلان جی ۔۔۔مجھے سانس نہیں آ رہا ۔”

وہ اسے اپنے لبوں سے پیچھے دھکیلتی ہوئی۔۔بمشکل بولنے کے قابل ہوئی ۔۔

” نہیں اذلان پلیز ۔”اسے گہرا سانس بھرتے دیکھ کر

اذلان نے نائٹ بلب آن کیا ۔۔۔

“تم ٹھیک ہو نا “؟اذلان نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔

“آپ ٹھیک رہنے کہاں دے رہے ہیں ؟

وہ شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے خفگی سے بولی

“کیا ہے یار ؟؟؟

“اتنے ماہ ہوگئے اب یہ شرم و حیاء بالائے طاق رکھ دو ۔۔۔یہ شرم شرم پھر کبھی کھیلیں گے ابھی میرا رومانٹک موڈ آن ہے “

اس سے پہلے کہ وہ اپنی اتھل پتھل ہوتی دھڑکنوں سمیت اسکے پہلو سے نکل کر بھاگتی اذلان نے جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچ گیا۔

“کیا تمہیں مجھ پہ ترس نہیں آ رہا ؟؟؟

اذلان نے پر شکوہ نگاہ اس پہ ڈالی جو دوسری جانب سے بیڈ سے اترنے کی کوششوں میں تھی۔

وہ شرم کے باعث اپنا نچلا لب دانتوں تلے کچلنے لگی ۔۔۔۔اذلان نے اسکی حالت پہ اپنے چہرے پہ بلا اختیار امڈ آنے والی مسکراہٹ کو مہارت سے چھپا لیا ۔۔۔۔

پھر واپس لائٹ آف کرتے ہوئے اسے اپنی شدتوں بھری قید میں لیتے ہوئے اسکی تمام مزاحمتوں کو خاطر میں لائے بغیر مکمل طور پر اپنا بنا لیا ۔۔۔۔۔

******……*****……****

۔

“شاہو تم نے مجھے ڈانٹا تھا اور میری ایک بھی بات نہیں سنی تھی ۔”

وہ ناچاہتے ہوئے بھی شکوہ کرگئی۔آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔شہرام نے اس کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسائے ہوئے اسے اپنی جانب کھینچ لیا ۔۔۔۔

“میں غصے میں کچھ زیادہ اوور ری ایکٹ کر گیا ۔۔اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں مگر غلطی آپکی بھی تھی دل سرکار جس کا آپ نے ابھی تک اعتراف نہیں کیا ۔۔۔”

“سوری شاہو ۔۔۔واقعی مجھے تمہیں بتا دینا چاہیے “,وہ شرمندگی سے سر جھکائے بولی ۔

“آپ نا یوں بھیگی بلی بنی بالکل بھی اچھی نہیں لگتی وہی گولہ باری کرتے ہوئے ہوئے ہی اچھی لگتی ہیں “

“اب یہ ہمارا دوسرا ہنی مون ہے۔تو اس حساب سے ہمارے ٹوئنز بے بی آنے چاہیے ۔۔۔آپ کیا کہتی ہیں اس بارے میں دل سرکار ؟؟؟

“تمہاری طرح تمہاری باتیں بھی واہیات ہے “وہ مصنوعی خفگی سے چہرہ پھیر کر بولی ۔۔۔۔

اس کی خفگی پہ شہرام مسکراتے ہوئے اسے اپنے سینے میں بھینچ گیا ۔

دلنشین کے وجود میں سنسنی سی دوڑ گئی۔وہ خود کیلیے اس کا جنون دیکھتی رہ گئی

۔۔۔وہ واقعی اس سے سچی محبت کرتا تھا ۔اور دلنشین اسکے روپ میں سچی محبت پا کر خود کی قسمت پہ نازاں تھی۔۔۔

“دل سرکار آپ نے ہمیں اپنا عادی بنا دیا ہے۔اور عادتیں جان لیوا ہوتی ہیں۔جو نشہ آپ کی قربت میں ہے وہ دنیا کے کسی نشے میں نہیں ۔۔”

سنو

پاس آؤ ایک التجا سن لو

پیار ہے تم سے بے پناہ سن لو

ایک تمہی کو خدا سے مانگا ہے

جب بھی مانگی کوئی دعا سن لو

ابتدا عشق کی ہوئی تم سے

تم ہو چاہت کی انتہا سن لو

بن تیرے جی نہیں سکیں گے ۔

دیکھ لو زندگی ادھوری ہے

نا رہو اور اب جدا سن لو

تم ، صرف تم ہو زندگی میری

سچ ہے سچ ہے با خدا سن لو💕

اس کی انگلیاں دلنشین کے گیسوؤں سے الجھ رہی تھیں وہ اسکے ایک ایک نقش کو اپنے لمس سے مہکا رہا تھا ۔۔۔۔ دلنشین کو اسکے ہر لمس میں سرور سا اترتا محسوس ہورہا تھا۔وہ اب خود اس کی عادی ہونے لگی تھی ۔۔۔شہرام نے اسے بھی اپنے رنگ میں رنگ لیا تھا ۔۔۔

******…..*****……*****

ارحام اٹھ جاؤ پلیز بہت دیر ہوگئی سب باہر کیا سوچیں گے “؟سوہا نے اسکو ہلایا…

جبکہ ارحام نے اسکا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ خود پر گرا لیا.. اور اسکے گیلے بالوں میں چہرہ چھپا کر اس میں سے پھوٹتی بھینی بھینی محسور کن مہک کو اپنی سانسوں میں اتارنے لگا ۔۔۔۔

اسکی محبت جلد ہی سوہا کو اس کا اسیر بنا گئی تھی ۔

“ارحام !!!

وہ اسکی بیرڈ کو اپنی پوروں سے چھو کر آہستگی سے بولی۔

“جی مسسز ارحام !

وہ فسوں خیز آواز میں بولا۔

“آپکو پتہ ہے ۔صائم بہت برا انسان تھا ۔شادی کی رات ہی ڈرنک کر کہ آیا تھا ۔اس کے باہر غیر عورتوں کے ساتھ تعلقات تھے ۔میں سب جان کر بھی خاموش رہی ۔۔۔کہتی بھی تو کس سے کہتی بابا سائیں سے کبھی اتنے فری نہیں ہوئے کہ انہیں اپنے دل کی بات شئیر کریں۔دعا بھی چلی گئی ۔تو میں خاموشی سے سب برداشت کرنے لگی سچ کہوں تو صائم کے چلے جانے سے میری زندگی سہل ہوگئی ۔۔۔میرے اللّٰہ نے مجھے میرے صبر کا انعام آپ کی صورت میں دیا ۔۔۔۔

“آپ کا بہت شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیے اور اس میں اپنی پر خلوص محبت کے رنگ بھرنے کے لیے ۔۔۔۔وہ میٹھے لہجے میں بولی ۔۔۔۔

“میں نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ تمہیں اپنی زندگی میں شامل کروں گا ۔۔۔مگر جب چچا سائیں نے کہا کہ تمہیں اپنا لوں تو ۔۔۔

میں نے کہا کہ میں تمہیں اپنی بہن سمجھتا ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ اگر میں فجر کو ایک بیوہ کے طور پر اپنانے کو تیار تھا تو تمہیں کیوں نہیں ۔۔۔۔

وہ سب تو ڈرامہ تھا ۔

میں نے بہت سوچا پھر تمہارے حق میں فیصلہ دے دیا ۔۔۔تمہارا بھی تو خوشیوں پہ حق ہے۔تو کیوں نا میں ہی تمہاری خوشیوں کا ذریعہ بن جاؤں ۔؟؟

“اچھا یہ بتاؤ اتنی جلدی کیوں اٹھ گئی ؟

“یہ جلدی صبح کے گیارہ ہو رہے ہیں ؟؟

“ہنی مون پہ کون کمبخت گھڑیاں دیکھنے میں وقت ضائع کرتا ہے ۔۔۔واپس آؤ “

وہ اسے اٹھتے دیکھ واپس اپنے حصار میں لے گیا ۔۔۔۔

“ارحام !!! یہ چھچھور پن.. کب تک چلے گا ؟؟؟

وہ اسکے مضبوط حصار کو توڑنے کی تگ و دو میں مگن تھی ۔۔۔

“تا عمر “

“بہت ہی بے قابو ہوچکے ہیں آپ۔ اب بس کریں “

“بس کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا آپ نے اپنی محبت سے ایسا قابو کیا ہے کہ کہیں اور جانے کا من ہی نہیں کرتا ” اس نے اٹھ کر جاتی ہوئی سوہا کو پیچھے سے جکڑ کے بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔

سوہا مدھم سا مسکرائی ۔۔۔

“اچھا میں فریش ہوکر آتا ہوں پھر باہر نکل کر باقی کپلز کی بھی خیریت دریافت کریں گے جو یہاں اکٹھے آکر ایسے غائب ہوئے ہیں جیسے گدھے کہ سر سے سینگ ۔۔۔وہ مسکرا کر کہتے ہوئے ٹاول لیے واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

ارحام نے اسے اصل معنوں میں زندگی جینے کا ڈھنگ سکھایا تھا تبھی وہ ہر تلخ یاد کو بھلا چکی تھی…وہ اپنی نئی زندگی سے بہت مطمئن تھی اور دل میں خدا کا کروڑوں بار شکر ادا کرتی کہ اس نے ارحام جیسا سلجھا ہوا انسان اس کا مقدر بنا دیا۔

سبرینہ بیگم کے ہاتھوں گولی لگنے کے بعد اسے بروقت ہسپتال لے جانے سے ارحام کی جان بچ گئی تھی ۔اور کچھ دنوں میں وہ صحت یاب ہو گیا تھا ۔۔۔۔

*****…..******……*****

“کل سے کوئی بھی روم سے باہر نہیں آیا اور نا ہم باہر نکلے.. فجر نے اپنے گیلے بالوں میں برش پھیر کر کہا ۔۔۔

ہنی مون کمرے میں رہ کر گزارہ جاتا ہے ۔اذلان نے اسکے بھیگے بالوں کو شانے سے ہٹاتے ہوئے اپنے لب رکھے ۔۔

“اذلان جی کمرے میں ہی رہنا تھا تو ادھر آنے کی کیا ضرورت تھی پھر حویلی میں ہی رہتے ۔۔۔۔وہ منہ پھلا کر خفگی سے بولی ۔۔۔۔

“جائیں جا کر شاور لیں پھر باہر چلیں گھومنے “

تب ہی کسی نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔۔۔

“اذلان بھائی کس صدی میں باہر نکلنے کا ارادہ ہے ؟؟؟یہ شہرام تھا جو باہر کھڑا دہائی دے رہا تھا ۔۔۔

“اذلان بھائی میں بھی کھڑا ہوں راہوں میں “ارحام نے باہر سے ہانک لگائی ۔۔۔

اذلان نے منہ پھلا کر فجر کی طرف دیکھا جو اب ہنس رہی تھی ۔۔۔کیونکہ اذلان کا صبح صبح پھر سے رومینٹک موڈ آن ہو رہا تھا جسے اس کے بھائیوں نے بریکس لگوائیں.

اذلان شرٹ لیس تھا جو ابھی بستر سے نکلا تھا اسی حالت میں ہی اس نے دروازہ کھول دیا ۔۔۔. اور کھینچ کر پنچ شہرام کے سینے پہ مارا ۔۔۔”کیا تکلیف ہے تجھے ۔۔۔خود تو دوسری بار ہنی مون منا رہا ہے اور میرا پہلا بھی بگاڑنے کا ارادہ ہے ؟؟؟”وہ کاٹ دار آواز بولا ۔۔۔

“بڑے بھائی قسمت قسمت کی بات ہے “شہرام اسے مسکرا کر کہتے ہوئے سلگا گیا ۔۔۔

فجر بھیگے بالوں سے دروازے کی طرف آئی تو سرعت سے دوپٹہ درست کیا ۔۔۔۔

“صرف پانچ منٹ ہیں بڑے بھائی ورنہ آپکے کمرے میں دھرنا دے دینا آج رات پھر مناتے رہنا ہنی مون “ارحام نے بھی دھمکی دی ۔۔۔۔

“سالو تم لوگ مجھے دھمکی دے رہے ہو “اذلان شہرام اور ارحام کی طرف کڑے تیور سے دیکھ کر بولا ۔۔۔

اپنی دونوں بہنوں کو آج رات اپنے روم میں رکھوں گا فجر کے ساتھ وقت گزاریں گی ۔پھر تم دونوں بھی اکیلے میں مناتے رہنا اچھے سے ہنی مون “اس نے ج