Deewana Kar Gaya Roop Sunehra By Hina Asad Readelle50307 (Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 4
Rate this Novel
(Deewana Kar Gaya Roop Sunehra) Episode 4
“ہاں بتاؤ کیا بات ہے “جلال الدین اپنے بستر پر نیم دراز سا لیٹے ہوئے بولے ۔۔۔
شہرام ان کے پاس بستر پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
“دادا سائیں میری خواہش پوری کریں گے ؟؟؟وہ ان کا جھریوں زدہ ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے محبت بھرے انداز میں بولا۔
“میرے بس میں ہو تو دنیا کی ہر چیز اپنے لاڈلے پوتے کے قدموں میں رکھ دوں “
“تو بس پھر دادا سائیں مجھے دلنشین دے دیں…. ہمیشہ کے لیے “
“کیا کہہ رہے ہو شہرام ہوش میں تو ہو ؟؟؟
“کہیں کوئی نشہ وشہ تو نہیں کیا نا ؟؟؟
“جی دادا سائیں ٹھیک پہچانا آپ نے ۔۔۔میں اس وقت دلنشین کے نشے میں چور ہوں۔۔۔۔مجھے دل چاہیے
“میں بہت محبت کرتا ہوں اس سے ۔”
“شہرام میں نے تمہیں یہ عہدہ دے کر دماغ سے کام لینے کی تلقین کی تھی ۔۔۔۔دل کا استعمال کرنے کی نہیں “
“دادا سائیں اگر دل کی من مرضی پوری ہوگی وہ سکون میں ہوگا تبھی دماغ بھی کام کرے گا نا باقی کاموں میں “
“شہرام تم دونوں کی عمر ….اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتے شہرام ان کی بات درمیان میں کاٹ گیا ۔۔۔۔اور یہ ہمت صرف اسی میں تھی ۔۔۔۔
“محبت میں عمر مذہب،ذات پات …..کوئی معنی نہیں رکھتی ۔۔۔
“میں سچ کہہ رہا ہوں اگر اس صائم سے دلنشین کی شادی ہوئی تو میں اس کی جان لے لوں گا ۔۔۔
وہ طیش کے عالم میں بولا
“شہرام !!!
انہوں نے گھور کر دیکھا ۔۔۔
“وہ میری محبت ہے دادا سائیں صرف میری اور آپ مجھ سے وعدہ کر چکے ہیں مجھے دنیا کی ہر خوشی دینے کا ۔۔۔میری خوشی دل میں ہے مجھے وہی چاہیے “
“شہرام پر دلنشین کا رشتہ صائم سے طے ہوچکا ہے ۔۔۔
“تو کیا ہوا رشتہ ہی طے ہوا ۔۔۔ٹوٹ بھی سکتا ہے ۔دل سے صرف میری شادی ہوگی ۔۔اور وہ بھی آپ کروائیں گے ۔۔۔اور یہ رشتہ کیسے ختم کرنا ہے وہ بھی آپ ہی جانیں ۔۔۔مجھے بس کسی بھی طرح دلنشین چاہیے تو بس چاہیے ۔۔۔۔
انہیں شہرام کی ضد کے سامنے سب بیکار لگا ۔۔۔۔
“دلنشین نہیں مانے گی ۔۔۔۔انہوں نے آخری کوشش کی ۔
“آپ کے فیصلے کے آگے کس کی چلی ہے آج تک ۔۔۔ایک بار شادی ہو جائے اسے میں اپنے طریقے سے منا لوں گا “
“یہ تم میں کس مجنوں کی روح آگئی ہے “ان کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ پھیلی ۔۔۔۔
“تو پھر ڈن “شہرام نے انکی طرف دیکھ کر پوچھا۔
انہوں نے ہلکے سے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔
“چلیں پھر آرام کریں کل سے آپ کو یہ سب پھیلا ہوا رائتہ بھی سمیٹنا ہے ۔وہ مسکراتے ہوئے کہہ کر باہر نکل گیا ۔۔۔۔
*********
ماہ سوئی ہوئی تھی کہ سارے کمرے میں سنہری روشنی پھیلی۔۔۔۔۔آنے والے کے وجود پر آگ کے شعلے کا نشان ویسے ہی تھا جیسا ماہ کا تھا ۔دونوں کے نشانوں میں سے سنہری روشنی پھوٹ رہی تھی ۔۔۔۔۔
“تم صرف میری ہو “
اس کی آواز اتنی مدھم تھی کہ وہ ماہ کے کانوں تک رسائی حاصل نا کرسکی ۔۔۔۔
“میں بہت جلد تمہیں اس بے رحم دنیا سے دور لے جاؤں گا اپنی دنیا میں ۔”
**********
وہ اذلان کے بیڈ کے ایک کنارے پر بیٹھی رہی اپنی زندگی کے بارے میں سوچتی رہی ۔۔اجنبی اور نئی جگہ تھی نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔اسکی نظر بار بار پاس گہری نیند میں سوئے ہوئے اذلان پر پڑ رہی تھی ۔۔۔
سرخ و سفید رنگت براؤن گھنی مونچھوں تلے عنابی لب باہم پیوست،کھڑی ستواں ناک،بڑی بڑی آنکھیں جو اس وقت بند تھیں ۔پیشانی پر بکھرے ہوئے بھورے بال ،وہ سویا ہوا کتنا معصوم دکھائی دے رہا تھا ۔اور اب تک اس نے جتنی باتیں فجر سے کیں تھیں وہ بھی معصومیت بھری ہی تھیں ۔۔۔۔
“پتہ نہیں یہ ایسے کیوں ہیں “؟
اس کے من میں سوال آیا ۔۔۔۔
دور سے فجر کی اذان سنائی دی تو وہ اٹھ کر وضو کرنے چلی گئی۔۔۔
صبح ساڑھے پانچ بجے کا وقت تھا۔ وہ مصلہ بچھائے نماز پڑھ رہی تھی۔ کافی دیر بھیگی پلکوں سے وہ دعا مانگتی رہی تھی۔ اس نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے حق میں بہتری مانگی تھی۔ جانے انجانے میں اپنے شوہر کی تندرستی کی دعا بھی کر لی۔۔۔۔پھر اپنی بے ساختگی پر خود بھی حیران تھی ۔۔۔۔اتنی جلدی وہ اس رشتے کو قبول کر گئی ۔۔۔شاید نکاح کا پاکیزہ بندھن ہی ایسا ہوتا ہے۔
********
ابھی وہ قرآن پاک کی تلاوت کیے اسے غلاف میں لپیٹ کر الماری میں رکھ ہی رہی تھی کہ دروازے پر کسی نے دستک دی۔۔۔
فجر نے دروازہ کھولا تو دلنشین تھی ۔۔۔۔
“اسلام و علیکم!!!
“صبح بخیر بھابھی “!
وہ خوشدلی سے بولی ۔
جوابا فجر دو منٹ تو خاموش رہی پھر گہرا سانس لیتے ہوئے سلام کا جواب دے گئی ۔۔۔
“آپ کا آج حویلی میں پہلا دن ہے تھوڑی دیر تک ناشتہ لگے گا باہر میز پر آپ کو میٹھا بنانا ہے ۔۔اماں سائیں نے حکم دیا ہے ۔آجائیں میرے ساتھ ۔۔۔۔
وہ دلنشین کے تعاقب میں پیچھے پیچھے چلتے ہوئے کچن میں آئی ۔۔۔۔
“میں سب کے ساتھ ملکر ناشتہ بناتی ہوں آپ میٹھا بنالیں ۔۔۔۔دلنشن کہتے ہوئے اپنے کاموں میں لگ گئی کچھ دیر بعد اچانک پیچھے مڑ کر دیکھا تو ابھی تک وہیں کھڑی ہوئی انگلیاں چٹخا رہی تھی ۔۔۔
“کیا ہوا بھابھی ؟؟؟اس نے اچنبھے سے پوچھا ۔
“مجھے کچھ بھی بنانا نہیں آتا ۔۔۔۔۔
“اوووو۔۔۔۔اچھا کوئی بات نہیں ایسا کرتے ہیں میں آپ کو بتاتی جاتی ہوں اور آپ بس چمچ ہلاتی جائیں “اس نے فجر کی مدد کی ۔۔۔تھوڑی دیر میں وہ سب کچھ تیار کر چکی تھی ۔۔۔۔
“بھابھی ایسا کریں آپ کا کر باتھ لیں اور اچھے سے تیار ہو جائیں ۔۔۔
فجر سر ہلا کر جانے لگی ۔۔۔
“ایک منٹ۔۔۔۔ایک منٹ ۔۔۔رکیے ۔۔۔وہ واش روم میں تو بھائی کا جینٹس شیمپو ہے ۔آپ یہ دوسرا لیتی جائیں ۔
اس نے ایک کیبنٹ کھول کر اندر سے شیمپو کی بوتل نکال کر اسکی طرف بڑھائی ۔۔۔
“وہ راشن یہاں موجود ہوتا ہے نا سارا اسی لیے “دلنشین نے مسکرا کر صفائی پیش کی ۔۔۔
فجر اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی ۔۔۔۔دلنشین کی خوشدلی اور خلوص سے بہت متاثر ہوئی تھی وہ ۔۔۔
************
اذلان کی آنکھ کھلی تو وہ اسے سامنے دیکھ کر ٹھٹھکا۔۔۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے بالوں میں برش پھیر رہی تھی ۔۔اسکی نازک کمر پر پھیلے بھیگے بالوں نے واضح کیا کہ وہ کچھ دیر پہلے ہی نہاکر نکلی تھی سیاہ اور پنک کلر کی شلوار قمیض پہنے بےترتیبی سے دوپٹہ شانے کی ایک طرف لٹکائے وہ اسکی موجودگی سے بےخبر بلکل مصروف تھی اپنے کام میں بغور اس کا جائزہ لیتے اذلان آہستگی سے قدم اٹھاتا ہوا عین اس کے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا ۔۔۔
اس کے گیلے بالوں میں سے ٹپکتی موتیوں کی مانند بوندیں اسے اپیل کر رہی تھیں ۔۔۔وہ مسمرائز ہوا ۔۔۔اور چہرہ اس کے بھیگے بالوں کے قریب لے جاتے ہوئے ان میں سے آتی شیمپو کی بھینی بھینی مہک کو اپنی سانسوں میں اتارنے لگا ۔۔۔۔
فجر کا بالوں میں پھیرتا ہوا برش والا ہاتھ وہیں ساکت رہ گیا ۔۔۔وہ حیرت انگیز نظروں سے اسے آئینے میں اپنے پیچھے کھڑے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔۔وہ بمشکل اس کے شانوں تک پہنچ رہی تھی ۔
اذلان نے اپنا ہاتھ اس کی کمر پر رکھا ۔۔۔۔وہ بری طرح لرزنے لگی کمر پر جب اذلان کا رینگتا ہوا ہاتھ محسوس ہوا۔۔۔
وہ تمام فاصلہ مٹائے اپنا سینہ آہستہ سے اس کی پشت سے لگاگیا ۔۔۔
فجر اپنی آنکھیں میچ گئی ۔۔۔
“گڑیا کونسا شیمپو لگایا ہے ۔۔۔مجھے بھی دو نا میں بھی آج سے یہی لگاؤں گا “
وہ بچوں کے سے لہجے میں بولا ۔۔۔۔
فجر جو اپنی تیز رفتار دھڑکنوں پر قابو پانے کی کوشش میں تھی ۔۔۔اس کی بات سن کر واپس ہوش کی دنیا میں لوٹ آئی ۔۔۔
اس نے پلٹ کر دیکھا ۔۔۔
جو سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
“جی و۔۔۔وہ ۔۔۔واش روم میں ہی ہے آپ وہ استعمال کر لیں ۔۔۔۔وہ لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔۔
پہلی بار کوئی اس کے اتنے قریب آیا تھا ۔۔۔پہلی بار کچھ نیا احساس ہوا ۔۔۔مگر یہ احساس دلانے والا خود کتنا بے خبر تھا ۔۔۔۔
کیا ساری زندگی وہ یونہی بے خبر ہی رہے گا ؟؟؟وہ اپنی سوچوں میں گم تھی ۔۔۔۔
“گڑیا میرا ٹاول دو “واش روم میں سے اپنے مجازی خدا کی آواز سن کر وہ سر جھٹک کر اسے ٹاول پکڑانے لگی ۔۔۔
پھر کبرڈ سے اس کے لیے کپڑے نکالے ۔۔۔
اور وہ بھی اسکے باہر ہاتھ بڑھانے پر اسے تھما گئی ۔۔۔
“ٹھک۔۔ ٹھک۔۔۔ ٹھک پھر سے باہر دروازے پر دستک ہوئی تو فجر نے دروازہ کھولا ۔۔۔۔
“بی بی جی اذلان سائیں کو باہر ناشتے پر بلایا گیا ہے “ایک عورت نے مؤدب انداز میں کہا اور واپس مڑ گئی ۔۔۔۔
وہ اپنے سر پہ دوپٹہ درست کیے اذلان کے ساتھ باہر نکل آئی ۔۔۔سب نے ان دونوں کو ساتھ آتے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔
حویلی کے تمام مرد حضرات ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے مگر عورتیں پاس کھڑی ہوئی تھیں ۔۔۔۔کوئی بھی وہاں نہیں بیٹھا تھا ۔۔۔
اذلان چئیر گھسیٹ کر اس پہ بیٹھ گیا ۔۔۔
فجر نے دلنشین کی طرف دیکھا ۔۔۔کیونکہ اس گھر میں وہ صرف اسی سے فرینک ہوئی تھی ۔۔۔
“یہاں صرف مرد حضرات ہی کھانا کھاتے ہیں۔ان کے کھانا ختم کرنے کے بعد عورتوں کی باری آتی ہے “دل نے اسے آہستہ آواز میں اس حویلی کا اصول بتایا ۔۔۔۔
“غلام مجھے کھانا دو “اذلان نے اپنے مخصوص ملازم سے کہا جو روزانہ اس کا ہر کام کرتا تھا ۔۔۔مگر آج وہ سر جھکائے پیچھے ہو کر کھڑا تھا ۔۔۔کیونکہ جلال الدین کا حکم تھا ۔۔۔۔
“جلال الدین نے پاس کھڑی ہوئی فجر کی طرف ابرو اچکا کر دیکھا ۔۔۔
وہ جلدی سے اذلان کے پاس آئی اور اس کی پلیٹ میں ناشتہ نکالنے لگی ۔۔۔۔
“میں یہ گاجر کا حلوہ کھاؤں گا “اس نے سامنے باؤل میں موجود حلوہ دیکھ کر کہا ۔۔۔
“بھائی یہ بھابھی نے بنایا ہے “
دلنشین نے خوشی سے چہک کر بتایا ۔۔۔
“کون بھابھی ؟؟؟اس نے حیرت انگیز انداز میں پوچھا ۔۔۔
“تمہاری گڑیا اذلان “سبرینہ نے جواب دیا ۔۔۔۔
“او اچھا اماں سائیں ۔۔۔۔میری گڑیا نے بنایا ہے ۔۔۔تو پھر میری گڑیا ہی مجھے کھلائے گی ۔۔۔
آؤ بیٹھو نا ۔۔۔
وہ سب کے سامنے فجر کا ہاتھ کھینچ کر اسے اپنی گود میں بٹھانا چاہتا تھا ۔۔۔۔
فجر اس افتاد کے لیے کہاں تیار تھی ۔۔۔اس سے پہلے کہ سب کے سامنے وہ اس کی گود میں گر کہ شرمندگی اٹھاتی ۔۔۔فورا اس کی چئیر کو پشت سے تھام گئی ۔۔۔۔
“اذلان !!!!
جلال الدین کی بارعب آواز سن کر اذلان نے فورا اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔۔۔
“ایسا کرو فجر تم اذلان کو روم میں لے جاؤ اور وہاں جا کر اسے ناشتہ کروا دو “
سبرینہ نے عین موقع پر بات سنبھالی ۔۔۔۔
شہرام کے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ پھیلی ۔۔۔۔
دلنشین ناشتہ پلیٹ میں ڈال کر انکے جاتے ہی اذلان اور فجر کے روم میں دینے کے لیے چلی گئی ۔۔۔
“بھابھی یہ کھانا لے لیں آپ دونوں ایک ساتھ یہیں ناشتہ کرلیں “وہ کہتے ہوئے ٹرے وہاں رکھ کر خود باہر نکل گئی ۔۔۔۔
فجر اور اذلان دونوں بستر پر آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔
فجر مخمصے کا شکار تھی کیا کرے ۔۔۔۔وہ اپنی انگلیوں کو چٹخاتے ہوئے سوچ رہی تھی ۔۔۔
“کھلاؤ نا گڑیا “اذلان نے کہا ۔۔۔
فجر نے آلو کے پراٹھے کی ایک بائیٹ توڑ کر اسے دہی میں ڈپ کیا اور اس کے منہ میں ڈالنے کے لیے ہاتھ اوپر اٹھایا ہی تھا کہ اذلان کو خود کو محویت سے تکتا ہوا پایا ۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اذلان کے منہ میں لقمہ ڈالتی ۔۔۔۔
اذلان کے بھاری ہاتھ کا سنسناتا ہوا تھپڑ اس کے گال پر پڑا ۔۔۔۔
اس کا گال درد سے جھنجھنا اٹھا ۔۔۔۔دماغ سائیں سائیں کرنے لگا ۔۔۔۔
لقمہ اس کے ہاتھ سے گرا ۔۔۔
اس نے اپنے گال پر ہاتھ رکھتے
ہوئے اسے بے یقین نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔
*********
مجھے پتہ ہے کہ بہت شارٹ ہے اتنی ہی لکھی تھی تو پوسٹ کردی ۔سوچا آپ کو چھوٹا سا سرپرائز دے دوں ۔نیکسٹ قسط کل شام کو پوسٹ ہو گی ![]()
